تفسیر و معارف: آیت نمبر 5
مفکرِ اسلام حضرت پیر محمد کرم شاہ الازہریؒ ضیاء القرآن میں فرماتے ہیں: پچھلی آیاتِ مبارکہ میں حق جل مجدہ کی ربوبیت، بے پایاں رحمت اور روزِ جزا کی حاکمیت کا بیان تھا۔ جب بندہ عاجز ان تمام کمالات و صفات کا شعور حاصل کر لیتا ہے تو اس کی فطرت پکار اٹھتی ہے کہ وہی ذاتِ اقدس تمام اطاعت و بندگی کی مستحق ہے۔
لفظ «عبادت» نہایت تذلل، نیاز مندی اور محبت کے ساتھ اطاعت گزاری کا نام ہے۔ یہاں ضمیر «إِيَّاكَ» کو فعل پر مقدم فرمایا گیا، جس سے علمِ بلاغت کے مطابق تخصیص اور حصر پیدا ہوتا ہے؛ یعنی ہماری بندگی اور نیاز کا مرجع صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی بارگاہِ اقدس ہے۔
اس کے فوراً بعد «وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ» کا ارشاد فرمایا تا کہ انسان پر یہ حقیقت عیاں رہے کہ نیکی اور عبادت کی توفیق بھی خود اس کے اپنے بل بوتے پر نہیں، بلکہ جب تک توفیقِ الٰہی دستگیری نہ فرمائے، وہ ایک سجدہ بھی ادا نہیں کر سکتا۔
Commentary & Spiritual Reflections (Ayah 5)
In this verse, the servant directly addresses Allah with absolute exclusivity. Having contemplated Allah’s boundless Mercy and Sovereignty in the opening verses, the worshipper transitions from describing Allah in the third person to addressing Him in intimate direct presence.
In classical Arabic syntax, placing the objective pronoun ("Iyyaka") before the verb ("Na’budu") conveys exclusivity: "Only You do we worship, and Only You do we implore for help."
Immediately following worship with the request for assistance teaches humility: even our capability to turn to Him in devotion is a gift of His Divine facilitation.
Authentic Tafseer text from verified Zia ul Quran publications · Dar ul Uloom Muhammadia Ghausia
