الٓرٰ ۟ تِلۡکَ اٰیٰتُ الۡکِتٰبِ الۡحَکِیۡمِ ﴿۱﴾
الف ۔ لام ۔ را یہ آیتیں ہیں حکیم کی ۔
Jonah
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ ﴿١﴾
In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
الٓرٰ ۟ تِلۡکَ اٰیٰتُ الۡکِتٰبِ الۡحَکِیۡمِ ﴿۱﴾
الف ۔ لام ۔ را یہ آیتیں ہیں حکیم کی ۔
اَکَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنۡ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلٰی رَجُلٍ مِّنۡہُمۡ اَنۡ اَنۡذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنَّ لَہُمۡ قَدَمَ صِدۡقٍ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ ؕ ؔ قَالَ الۡکٰفِرُوۡنَ اِنَّ ہٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۲﴾
کیا ( یہ ) لوگوں کے لیے باعث تعجب ہے کہ ہم نے وحی بھیجی ایک ( کامل ) پر جو ان میں سے ہے کہ ڈراؤ لوگوں کو اور خوشخبری دو انھیں جو ایمان لائے کہ ان کے لیے مرتبہ ہے ان کے رب کے ہاں ۔ کفار نے کہا بلاشبہ یہ جادوگر ہے کھلا ۔
اِنَّ رَبَّکُمُ اللّٰہُ الَّذِیۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ فِیۡ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسۡتَوٰی عَلَی الۡعَرۡشِ یُدَبِّرُ الۡاَمۡرَ ؕ مَامِنۡ شَفِیۡعٍ اِلَّا مِنۡۢ بَعۡدِ اِذۡنِہٖ ؕ ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمۡ فَاعۡبُدُوۡہُ ؕ اَفَلَا تَذَکَّرُوۡنَ ﴿۳﴾
بیشک تمہارا رب اللہ تعالیٰ ہے جس نے فرمایا آسمانوں اور کو چھ دنوں میں ، پھر متمکن عرش پر ( جیسے اسے زیبا ہے ) ہر کی فرماتا ہے کوئی نہیں شفاعت کرنے والا مگر اس کی کے بعد یہ ہے اللہ تعالیٰ جو تمہارا پروردگار ہے سو کرو اس کی ۔ تو کیا تم و فکر نہیں کرتے ؟ ۔
اِلَیۡہِ مَرۡجِعُکُمۡ جَمِیۡعًا ؕ وَعۡدَ اللّٰہِ حَقًّا ؕ اِنَّہٗ یَبۡدَؤُا الۡخَلۡقَ ثُمَّ یُعِیۡدُہٗ لِیَجۡزِیَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ بِالۡقِسۡطِ ؕ وَالَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَہُمۡ شَرَابٌ مِّنۡ حَمِیۡمٍ وَّعَذَابٌ اَلِیۡمٌۢ بِمَا کَانُوۡا یَکۡفُرُوۡنَ ﴿۴﴾
اسی کی طرف لوٹنا ہے تم سب نے یہ اللہ تعالیٰ کا سچا وعدہ ہے بیشک وہی ابتدا کرتا ہے پیدائش کی پھر وہی دہرائے گا اسے تاکہ جزا دے انھیں جو ایمان لائے اور عمل کیے کے ساتھ ۔ اور جنھوں نے کفر کیا ان کے لیے پینے کو کھولتا اور دردناک ہو گا بوجہ اس کے کہ وہ کفر کرتے رہتے تھے ۔
ہُوَ الَّذِیۡ جَعَلَ الشَّمۡسَ ضِیَآءً وَّالۡقَمَرَ نُوۡرًا وَّقَدَّرَہٗ مَنَازِلَ لِتَعۡلَمُوۡا عَدَدَ السِّنِیۡنَ وَالۡحِسَابَ ؕ مَاخَلَقَ اللّٰہُ ذٰلِکَ اِلَّا بِالۡحَقِّ ۚ یُفَصِّلُ الۡاٰیٰتِ لِقَوۡمٍ یَّعۡلَمُوۡنَ ﴿۵﴾
وہی ہے جس نے بنایا سورج کو درخشاں اور کو نور اور کیں اس کے لیے منزلیں تاکہ تم جان لو گنتی برسوں کی اور حساب نہیں فرمایا اللہ تعالیٰ نے اسے مگر حق کے ساتھ تفصیل سے کرتا ہے ( اپنی قدرت کی ) نشانیاں ! ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں ۔
اِنَّ فِی اخۡتِلَافِ الَّیۡلِ وَالنَّہَارِ وَمَا خَلَقَ اللّٰہُ فِی السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یَّتَّقُوۡنَ ﴿۶﴾
بیشک گردش لیل و نہار میں اور جو کچھ فرمایا ہے اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور میں ( ان میں اس کی ) نشانیاں ہیں اس قوم کے لیے جو متقی ہے ۔
اِنَّ الَّذِیۡنَ لَا یَرۡجُوۡنَ لِقَآءَنَا وَرَضُوۡا بِالۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَاطۡمَاَنُّوۡا بِہَا وَالَّذِیۡنَ ہُمۡ عَنۡ اٰیٰتِنَا غٰفِلُوۡنَ ۙ﴿۷﴾
بیشک وہ لوگ جو نہیں رکھتے ہم سے ملنے کی اور و خرم ہیں دنیوی زندگی سے اور مطمئن ہو گئے ہیں اس ( کے ساز و ) سے اور وہ لوگ جو ہماری آیتوں سے غفلت برتتے ہیں ۔
اُولٰٓئِکَ مَاۡوٰىہُمُ النَّارُ بِمَا کَانُوۡا یَکۡسِبُوۡنَ ﴿۸﴾
یہی لوگ ہیں کا ٹھکانا ہے بہ سبب ان عملوں کے جو وہ کماتے رہے ۔
اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ یَہۡدِیۡہِمۡ رَبُّہُمۡ بِاِیۡمَانِہِمۡ ۚ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہِمُ الۡاَنۡہٰرُ فِیۡ جَنّٰتِ النَّعِیۡمِ ﴿۹﴾
یقیناً وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے پہنچائیگا انھیں ان کا رب ( منزل مقصود تک ) ان کے ایمان کے باعث ۔ رواں ہوں گی ان کے نہریں ( و سرور ) کے باغوں میں ۔
دَعۡوٰىہُمۡ فِیۡہَا سُبۡحٰنَکَ اللّٰہُمَّ وَتَحِیَّتُہُمۡ فِیۡہَا سَلٰمٌ ۚ وَاٰخِرُ دَعۡوٰىہُمۡ اَنِ الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿٪۱۰﴾ 6
۔( بہار کو دیکھ کر ) ان کی صدا وہاں یہ ہو گی ہے تو اے اللہ اور ان کی یہ ہو گی کہ ” سلامتی ہو “ اور ان کی آخری پکار یہ ہو گی کہ سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جو مرتبہ کمال تک پہنچانے والا ہے سارے جہانوں کو ۔
وَلَوۡ یُعَجِّلُ اللّٰہُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ اسۡتِعۡجَالَہُمۡ بِالۡخَیۡرِ لَقُضِیَ اِلَیۡہِمۡ اَجَلُہُمۡ ؕ فَنَذَرُ الَّذِیۡنَ لَا یَرۡجُوۡنَ لِقَآءَنَا فِیۡ طُغۡیَانِہِمۡ یَعۡمَہُوۡنَ ﴿۱۱﴾
اور اگر جلد بازی کرتا اللہ تعالیٰ لوگوں کو شر پہنچانے میں جیسے وہ جلد بازی کرتے ہیں بھلائی کے لیے تو پوری کر دی گئی ہوتی ان کی میعاد ۔ ( لیکن یوں نہیں بلکہ ) ہم چھوڑے رکھتے ہیں انھیں جو توقع نہیں رکھتے ہماری ملاقات کی تاکہ وہ اپنی میں بھٹکتے رہیں ۔
وَاِذَا مَسَّ الۡاِنۡسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنۡۢبِہٖۤ اَوۡ قَاعِدًا اَوۡ قَآئِمًا ۚ فَلَمَّا کَشَفۡنَا عَنۡہُ ضُرَّہٗ مَرَّ کَاَنۡ لَّمۡ یَدۡعُنَاۤ اِلٰی ضُرٍّ مَّسَّہٗ ؕ کَذٰلِکَ زُیِّنَ لِلۡمُسۡرِفِیۡنَ مَاکَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۲﴾
اور جب پہنچتی ہے کو کوئی ( تو اس ) پکارتا ہے ہمیں لیٹا ہو یا بیٹھا ہو یا ہو ۔ پھر جب ہم کر دیتے ہیں اس سے اس کی ( تو ) چل دیتا ہے جیسے اس نے ہمیں ( کبھی ) پکارا ہی نہیں تھا کسی میں جو اسے پہنچی تھی ۔ اسی طرح آراستہ کر دیے گئے سے بڑھنے والوں کے لیے وہ کرتوت جو وہ کیا کرتے تھے ۔
وَلَقَدۡ اَہۡلَکۡنَا الۡقُرُوۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ لَمَّا ظَلَمُوۡا ۙ وَجَآءَتۡہُمۡ رُسُلُہُمۡ بِالۡبَیِّنٰتِ وَمَا کَانُوۡا لِیُؤۡمِنُوۡا ؕ کَذٰلِکَ نَجۡزِی الۡقَوۡمَ الۡمُجۡرِمِیۡنَ ﴿۱۳﴾
اور بیشک ہم نے کر دیا کئی قوموں کو جو تم سے تھیں جب وہ زیادتیاں کرنے لگے اور آئے ان کے کے ان کے رسول روشن دلیلیں لے کر اور وہ ( ایسے ) نہیں تھے کہ ایمان لاتے ۔ اسی طرح ہم سزا دیتے ہیں مجرم قوم کو ۔
ثُمَّ جَعَلۡنٰکُمۡ خَلٰٓئِفَ فِی الۡاَرۡضِ مِنۡۢ بَعۡدِہِمۡ لِنَنۡظُرَ کَیۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۴﴾
پھر ہم نے بنایا تمہیں جانشین میں ان کے بعد تاکہ ہم دیکھیں کہ تم کیسے عمل کرتے ہو ۔
وَاِذَا تُتۡلٰی عَلَیۡہِمۡ اٰیَاتُنَا بَیِّنٰتٍ ۙ قَالَ الَّذِیۡنَ لَا یَرۡجُوۡنَ لِقَآءَنَا ائۡتِ بِقُرۡاٰنٍ غَیۡرِ ہٰذَاۤ اَوۡ بَدِّلۡہُ ؕ قُلۡ مَایَکُوۡنُ لِیۡۤ اَنۡ اُبَدِّلَہٗ مِنۡ تِلۡقَآیِٔ نَفۡسِیۡ ۚ اِنۡ اَتَّبِعُ اِلَّا مَایُوۡحٰۤی اِلَیَّ ۚ اِنِّیۡۤ اَخَافُ اِنۡ عَصَیۡتُ رَبِّیۡ عَذَابَ یَوۡمٍ عَظِیۡمٍ ﴿۱۵﴾
اور جب پڑھی جاتی ہیں ان پر ہماری روشن آیتیں ( تو ) کہنے لگتے ہیں وہ جو توقع نہیں رکھتے ہم سے ملنے کی کہ لے آئیے ( دوسرا ) اس ( ) کے علاوہ یا رد و کر دیجیے اسی میں ۔ فرمائیے مجھے نہیں کہ رد و کر دوں اس میں اپنی مرضی سے ، میں نہیں پیروی کرتا ( کسی چیز کی ) بجز اس کے جو وحی کی جاتی ہے میری طرف ، میں ڈرتا ہوں اگر میں اپنے رب کی کروں ، بڑے کے سے ۔
قُلۡ لَّوۡ شَآءَ اللّٰہُ مَاتَلَوۡتُہٗ عَلَیۡکُمۡ وَلَاۤ اَدۡرٰىکُمۡ بِہٖ ۫ ۖفَقَدۡ لَبِثۡتُ فِیۡکُمۡ عُمُرًا مِّنۡ قَبۡلِہٖ ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۱۶﴾
آپ فرما دیجیے اگر چاہتا اللہ تعالیٰ تو میں نہ پڑھتا اسے تم پر اور نہ ہی وہ کرتا تمہیں اس سے ۔ میں تو گزار چکا ہوں تمہارے عمر ( کا ایک ) اس سے ۔ کیا تم ( اتنا بھی ) نہیں سمجھتے ۔
فَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَوۡ کَذَّبَ بِاٰیٰتِہٖ ؕ اِنَّہٗ لَا یُفۡلِحُ الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴿۱۷﴾
پس کون ظالم ہے اس سے جو افترا باندھے اللہ تعالیٰ پر جھوٹا یا جھٹلائے اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو ۔ بیشک مجرم فلاح نہیں پاتے ۔
وَیَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مَالَا یَضُرُّہُمۡ وَلَا یَنۡفَعُہُمۡ وَیَقُوۡلُوۡنَ ہٰۤؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنۡدَ اللّٰہِ ؕ قُلۡ اَتُنَبِّئُوۡنَ اللّٰہَ بِمَا لَا یَعۡلَمُ فِی السَّمٰوٰتِ وَلَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ سُبۡحٰنَہٗ وَتَعٰلٰی عَمَّا یُشۡرِکُوۡنَ ﴿۱۸﴾
اور ( یہ مشرک ) کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کے سوا ایسی چیزوں کی جو نہ انھیں پہنچا سکتی ہیں اور نہ نفع پہنچا سکتی ہیں اور وہ کہتے ہیں یہ ( معبود ) ہمارے سفارشی ہیں اللہ تعالیٰ کے ہاں آپ فرمائیے کیا تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ کو اس سے جو وہ نہیں جانتا نہ آسمانوں میں اور نہ میں ہے وہ اور و بالا ہے اس شرک سے جو وہ کرتے ہیں ۔
وَمَا کَانَ النَّاسُ اِلَّاۤ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً فَاخۡتَلَفُوۡا ؕ وَلَوۡ لَا کَلِمَۃٌ سَبَقَتۡ مِنۡ رَّبِّکَ لَقُضِیَ بَیۡنَہُمۡ فِیۡمَا فِیۡہِ یَخۡتَلِفُوۡنَ ﴿۱۹﴾
اور نہیں تھے لوگ ( ابتدا میں ) مگر ایک ہی امت پھر ( اپنی کجروی سے ) باہم اختلاف کرنے لگے اور اگر ایک سے طے نہ ہو چکی ہوتی آپ کے رب کی طرف سے تو کر دیا جاتا ان کے ان امور میں میں وہ اختلاف کیا کرتے ہیں ۔
وَیَقُوۡلُوۡنَ لَوۡ لَاۤ اُنۡزِلَ عَلَیۡہِ اٰیَۃٌ مِّنۡ رَّبِّہٖ ۚ فَقُلۡ اِنَّمَا الۡغَیۡبُ لِلّٰہِ فَانۡتَظِرُوۡا ۚ اِنِّیۡ مَعَکُمۡ مِّنَ الۡمُنۡتَظِرِیۡنَ ﴿٪۲۰﴾ 7
اور کہتے ہیں کیوں نہ نازل کی گئی ان پر کوئی آیت ان کے رب کی طرف سے ؟ سو آپ فرمائیے غیب تو صرف اللہ کے لیے ہے ۔ پس کرو میں بھی تمہارے ساتھ کرنے والا ہوں ۔
وَاِذَاۤ اَذَقۡنَا النَّاسَ رَحۡمَۃً مِّنۡۢ بَعۡدِ ضَرَّآءَ مَسَّتۡہُمۡ اِذَا لَہُمۡ مَّکۡرٌ فِیۡۤ اٰیَاتِنَا ؕ قُلِ اللّٰہُ اَسۡرَعُ مَکۡرًا ؕ اِنَّ رُسُلَنَا یَکۡتُبُوۡنَ مَاتَمۡکُرُوۡنَ ﴿۲۱﴾
اور جب ہم لطف اندوز کرتے ہیں لوگوں کو ( اپنی ) رحمت سے اس کے بعد جو انھیں پہنچی تو فوراً وہ مکر و فریب کرنے لگتے ہیں ہماری آیتوں میں ۔ فرمائیے اللہ تیز ہے اس فریب کی سزا دینے میں بیشک ہمارے بھیجے ہوئے ( فرشتے ) قلمبند کر رہے ہیں جو فریب تم کر رہے ہو ۔
ہُوَ الَّذِیۡ یُسَیِّرُکُمۡ فِی الۡبَرِّ وَالۡبَحۡرِ ؕ حَتّٰۤی اِذَا کُنۡتُمۡ فِی الۡفُلۡکِ ۚ وَجَرَیۡنَ بِہِمۡ بِرِیۡحٍ طَیِّبَۃٍ وَّفَرِحُوۡا بِہَا جَآءَتۡہَا رِیۡحٌ عَاصِفٌ وَّجَآءَہُمُ الۡمَوۡجُ مِنۡ کُلِّ مَکَانٍ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّہُمۡ اُحِیۡطَ بِہِمۡ ۙ دَعَوُا اللّٰہَ مُخۡلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ ۬ ۚ لَئِنۡ اَنۡجَیۡتَنَا مِنۡ ہٰذِہٖ لَنَکُوۡنَنَّ مِنَ الشّٰکِرِیۡنَ ﴿۲۲﴾
وہی ہے جو سیر کراتا ہے تمہیں اور سمندر میں یہاں تک کہ جب تم ہوتے ہو کشتیوں میں اور وہ چلنے لگتی ہیں مسافروں کو لیکر موافق کی وجہ سے اور وہ مسرور ہوتے ہیں اس سے ( تو ) آ لیتی ہے انہیں تند و تیز اور آ لیتی ہیں انھیں موجیں ہر ( طرف ) سے اور وہ خیال کرنے لگتے ہیں کہ انھیں گھیر لیا گیا ( تو اس ) پکارتے ہیں اللہ تعالیٰ کو خالص اسی کی کرتے ہوئے کہتے ہیں اے کریم ! اگر تو نے بچا لیا ہمیں اس ( طوفان ) سے تو ہم یقیناً ہو جائیں گے ( تیرے ) شکر گزار ( بندوں ) سے ۔
فَلَمَّاۤ اَنۡجٰہُمۡ اِذَا ہُمۡ یَبۡغُوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ بِغَیۡرِ الۡحَقِّ ؕ یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنَّمَا بَغۡیُکُمۡ عَلٰۤی اَنۡفُسِکُمۡ ۙ مَّتَاعَ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۫ ثُمَّ اِلَیۡنَا مَرۡجِعُکُمۡ فَنُنَبِّئُکُمۡ بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۲۳﴾
پھر جب وہ بچا لیتا ہے انھیں تو وہ کرنے لگتے ہیں میں ناحق ۔ اے لوگو ! تمہاری کا وبال تمہیں پر پڑے گا لطف اٹھا لو دنیوی زندگی سے پھر ہماری طرف ہی لوٹ کر آنا ہے تمہیں پھر ہم کریں گے تمہیں جو کچھ تم کیا کرتے تھے ۔
اِنَّمَا مَثَلُ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا کَمَآءٍ اَنۡزَلۡنٰہُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخۡتَلَطَ بِہٖ نَبَاتُ الۡاَرۡضِ مِمَّا یَاۡکُلُ النَّاسُ وَالۡاَنۡعَامُ ؕ حَتّٰۤی اِذَاۤ اَخَذَتِ الۡاَرۡضُ زُخۡرُفَہَا وَازَّیَّنَتۡ وَظَنَّ اَہۡلُہَاۤ اَنَّہُمۡ قٰدِرُوۡنَ عَلَیۡہَاۤ ۙ اَتٰہَاۤ اَمۡرُنَا لَیۡلًا اَوۡ نَہَارًا فَجَعَلۡنٰہَا حَصِیۡدًا کَاَنۡ لَّمۡ تَغۡنَ بِالۡاَمۡسِ ؕ کَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الۡاٰیٰتِ لِقَوۡمٍ یَّتَفَکَّرُوۡنَ ﴿۲۴﴾
پس حیات دنیوی ( کے عروج و زوال ) کی مثال ایسی ہے جیسے ہم نے اتارا سے سو گھنی ہو کر اگی کے باعث سبزی کی جس سے بھی کھاتے ہیں اور حیوان بھی ۔ یہاں تک کہ جب لے لیا نے اپنا سنگار اور وہ خوب آراستہ ہو گئی اور کر لیا اس کے مالکوں نے کہ ( اب ) انھوں نے پا لیا ہے اس پر ( تو ) آ پڑا اس پر ہمارا ( ) یا کے پس ہم نے کاٹ کر رکھ دیا اسے گویا وہ یہاں تھی ہی نہیں ۔ یونہی ہم وضاحت سے کرتے ہیں ( اپنی قدرت کی ) نشانیوں کو اس قوم کے لیے جو و فکر کرتی ہے ۔
وَاللّٰہُ یَدۡعُوۡۤا اِلٰی دَارِ السَّلٰمِ ؕ وَیَہۡدِیۡ مَنۡ یَّشَآءُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ﴿۲۵﴾
اور اللہ تعالیٰ بلاتا ہے ( امن ) و سلامتی کے کی طرف اور دیتا ہے جسے چاہتا ہے سیدھے کی طرف ۔
لِلَّذِیۡنَ اَحۡسَنُوا الۡحُسۡنٰی وَزِیَادَۃٌ ؕ وَلَا یَرۡہَقُ وُجُوۡہَہُمۡ قَتَرٌ وَّلَا ذِلَّۃٌ ؕ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ الۡجَنَّۃِ ۚ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۲۶﴾
ان کے لیے جنھوں نے عمل کیے جزا ہے بلکہ اس سے بھی اور نہ چھائے گا ان کے چہروں پر ( رسوائی کا ) اور نہ ( کا اثر ہو گا ) یہی لوگ جنتی ہیں وہ اس میں رہیں گے ۔
وَالَّذِیۡنَ کَسَبُوا السَّیِّاٰتِ جَزَآءُ سَیِّئَۃٍ ۢ بِمِثۡلِہَا ۙ وَتَرۡہَقُہُمۡ ذِلَّۃٌ ؕ مَالَہُمۡ مِّنَ اللّٰہِ مِنۡ عَاصِمٍ ۚ کَاَنَّمَاۤ اُغۡشِیَتۡ وُجُوۡہُہُمۡ قِطَعًا مِّنَ الَّیۡلِ مُظۡلِمًا ؕ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ النَّارِ ۚ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۲۷﴾
اور جنھوں نے برے کیے تو کی سزا اس جیسی ہو گی ۔ اور چھا رہی ہو گی ان پر ۔ نہیں ہو گا ان کے لیے اللہ ( کے ) سے کوئی بچانے والا ۔ گویا ڈھانپ دیے گئے ہیں ان کے چہرے کالی کے کسی ٹکڑے سے ۔ وہی دوزخی ہیں وہ اس میں رہیں گے ۔
وَیَوۡمَ نَحۡشُرُہُمۡ جَمِیۡعًا ثُمَّ نَقُوۡلُ لِلَّذِیۡنَ اَشۡرَکُوۡا مَکَانَکُمۡ اَنۡتُمۡ وَشُرَکَآؤُکُمۡ ۚ فَزَیَّلۡنَا بَیۡنَہُمۡ وَقَالَ شُرَکَآؤُہُمۡ مَّا کُنۡتُمۡ اِیَّانَا تَعۡبُدُوۡنَ ﴿۲۸﴾
اور ( ان کی پشیمانی کا تصور کرو ) جس روز ہم جمع کریں گے ان سب کو ( میدان حشر میں ) پھر ہم دیں گے مشرکوں کو اپنی اپنی پر ٹھیر جاؤ تم اور تمہارے جھوٹے معبود ۔ پھر ہم منقطع کر دیں گے ان کے باہمی تعلقات اور کہیں گے ان کے معبود ( اے مشرکو ! ) تم ہماری تو نہیں کیا کرتے تھے ۔
فَکَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیۡدًۢا بَیۡنَنَا وَبَیۡنَکُمۡ اِنۡ کُنَّا عَنۡ عِبَادَتِکُمۡ لَغٰفِلِیۡنَ ﴿۲۹﴾
پس ہے اللہ تعالیٰ گواہ ہمارے اور تمہارے کہ ہم تمہاری پرستش سے بالکل بے تھے ۔
ہُنَالِکَ تَبۡلُوۡا کُلُّ نَفۡسٍ مَّاۤ اَسۡلَفَتۡ وَرُدُّوۡۤا اِلَی اللّٰہِ مَوۡلٰىہُمُ الۡحَقِّ وَضَلَّ عَنۡہُمۡ مَّا کَانُوۡا یَفۡتَرُوۡنَ ﴿٪۳۰﴾ ؒ 8
وہاں آزما لے گا ہر شخص جو اس نے آگے بھیجا تھا اور انھیں لوٹا دیا جائے گا اللہ تعالیٰ کی طرف جو ان کا حقیقی ہے اور ہو جائے گا ان سے جو وہ افترا باندھا کرتے تھے ۔
قُلۡ مَنۡ یَّرۡزُقُکُمۡ مِّنَ السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ اَمَّنۡ یَّمۡلِکُ السَّمۡعَ وَالۡاَبۡصَارَ وَمَنۡ یُّخۡرِجُ الۡحَیَّ مِنَ الۡمَیِّتِ وَیُخۡرِجُ الۡمَیِّتَ مِنَ الۡحَیِّ وَمَنۡ یُّدَبِّرُ الۡاَمۡرَ ؕ فَسَیَقُوۡلُوۡنَ اللّٰہُ ۚ فَقُلۡ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴿۳۱﴾
آپ پوچھیے کون رزق دیتا ہے تمہیں اور سے یا کون ہے کان اور آنکھوں کا اور کون نکالتا ہے کو مردہ سے اور ( کون ) نکالتا ہے مردہ کو سے اور کون ہے جو انتظام فرماتا ہے ہر کا ؟ تو وہ ( جواباً ) کہیں گے اللہ ! پس آپ کہیے ( جب حقیقت یہ ہے ) تو تم ( شرکِ سے ) کیوں نہیں بچتے ۔
فَذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمُ الۡحَقُّ ۚ فَمَاذَا بَعۡدَ الۡحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ ۚ ۖ فَاَنّٰی تُصۡرَفُوۡنَ ﴿۳۲﴾
یہ ہے اللہ تعالیٰ جو تمہارا حقیقی پروردگار ہے پس حق کے بعد کیا ہے بجز گمراہی کے پھر تمہیں ( حق سے ) کدھر موڑا جا رہا ہے ۔
کَذٰلِکَ حَقَّتۡ کَلِمَتُ رَبِّکَ عَلَی الَّذِیۡنَ فَسَقُوۡۤا اَنَّہُمۡ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۳۳﴾
یونہی ہو چکی ہے آپ کے رب کی ان پر جو فسق و فجور کرتے ہیں کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے ۔
قُلۡ ہَلۡ مِنۡ شُرَکَآئِکُمۡ مَّنۡ یَّبۡدَؤُا الۡخَلۡقَ ثُمَّ یُعِیۡدُہٗ ؕ قُلِ اللّٰہُ یَبۡدَؤُا الۡخَلۡقَ ثُمَّ یُعِیۡدُہٗ فَاَنّٰی تُؤۡفَکُوۡنَ ﴿۳۴﴾
۔( اے حبیب ) آپ پوچھیئے کیا تمہارے معبودوں میں کوئی ہے جو آغاز آفرنیش بھی کرے پھر ( فنا کے بعد ) اسے لوٹا بھی دے آپ ہی فرمائیے اللہ ہی آفرنیش کی ابتدا بھی کرتا ہے اور ( فنا کے بعد ) اسے لوٹاتا بھی ہے ۔ پس ( ہوش کرو ) کرو تم کدھر پھرے جاتے ہو ۔
قُلۡ ہَلۡ مِنۡ شُرَکَآئِکُمۡ مَّنۡ یَّہۡدِیۡۤ اِلَی الۡحَقِّ ؕ قُلِ اللّٰہُ یَہۡدِیۡ لِلۡحَقِّ ؕ اَفَمَنۡ یَّہۡدِیۡۤ اِلَی الۡحَقِّ اَحَقُّ اَنۡ یُّتَّبَعَ اَمَّنۡ لَّا یَہِدِّیۡۤ اِلَّاۤ اَنۡ یُّہۡدٰی ۚ فَمَا لَکُمۡ ۟ کَیۡفَ تَحۡکُمُوۡنَ ﴿۳۵﴾
آپ پوچھیئے کیا تمہارے معبودوں میں سے کوئی حق کی طرف رہنمائی کر سکتا ہے ( خود ہی جواباً ) فرمائیے اللہ ہی حق کی طرف رہنمائی فرماتا ہے تو کیا جو راہ دکھائے حق کی وہ مستحق ہے کہ اس کی پیروی کی جائے یا وہ جو خود ہی راہ نہ پائے مگر یہ کہ اس کی رہنمائی کی جائے ۔ ( اے مشرکین ) تمہیں کیا ہو گیا ہے ؟ تم کیسے غلط فیصلے کرتے ہو ۔
وَمَا یَتَّبِعُ اَکۡثَرُہُمۡ اِلَّا ظَنًّا ؕ اِنَّ الظَّنَّ لَا یُغۡنِیۡ مِنَ الۡحَقِّ شَیۡئًا ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌۢ بِمَا یَفۡعَلُوۡنَ ﴿۳۶﴾
اور نہیں پیروی کرتے ان میں سے اکثر مگر محض وہم و کی ، بلاشبہ وہم و نہیں کر سکتا حق سے ذرہ بھر بیشک اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جو وہ کرتے ہیں ۔
وَمَا کَانَ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنُ اَنۡ یُّفۡتَرٰی مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ وَلٰکِنۡ تَصۡدِیۡقَ الَّذِیۡ بَیۡنَ یَدَیۡہِ وَتَفۡصِیۡلَ الۡکِتٰبِ لَا رَیۡبَ فِیۡہِ مِنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۟۳۷﴾
اور نہیں ہے یہ کہ گھڑ لیا گیا ہو اللہ تعالیٰ ( کی وحی آئے بغیر ) بلکہ یہ تو تصدیق کرنے والا ہے اس وحی کی جو اس سے نازل ہو چکی ہے اور الکتاب کی تفصیل ہے ، ذرہ نہیں اس میں کہ یہ رب العٰلمین کی طرف سے ( اتری ) ہے ۔
اَمۡ یَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىہُ ؕ قُلۡ فَاۡتُوۡا بِسُوۡرَۃٍ مِّثۡلِہٖ وَادۡعُوۡا مَنِ اسۡتَطَعۡتُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۳۸﴾
کیا یہ ( کافر ) کہتے ہیں کہ اس نے خود گھڑ لیا ہے اسے ۔ آپ فرمائیے پھر تم بھی لے آؤ ایک سورت اس جیسی اور ( امداد کے لیے ) بلا لو کو تم بلا سکتے ہو اللہ تعالیٰ کے علاوہ اگر تم ( اپنے الزام میں ) سچے ہو ۔
بَلۡ کَذَّبُوۡا بِمَا لَمۡ یُحِیۡطُوۡا بِعِلۡمِہٖ وَلَمَّا یَاۡتِہِمۡ تَاۡوِیۡلُہٗ ؕ کَذٰلِکَ کَذَّبَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ فَانۡظُرۡ کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۳۹﴾
بلکہ انھوں نے جھٹلایا اس چیز کو جسے وہ پوری طرح نہ جان سکے اور نہیں آیا ان کے اس کا اسی طرح ( بے علمی سے ) جھٹلایا انھوں نے جو ان سے تھے پھر دیکھ لو کیسا ظالموں کا ۔
وَمِنۡہُمۡ مَّنۡ یُّؤۡمِنُ بِہٖ وَمِنۡہُمۡ مَّنۡ لَّا یُؤۡمِنُ بِہٖ ؕ وَرَبُّکَ اَعۡلَمُ بِالۡمُفۡسِدِیۡنَ ﴿٪۴۰﴾ 9
اور ان میں سے کچھ ایمان لائیں گے اس پر اور ان میں سے کچھ ایمان نہیں لائیں گے اس پر اور آپ کا رب خوب جانتا ہے مفسدوں کو ۔
وَاِنۡ کَذَّبُوۡکَ فَقُلۡ لِّیۡ عَمَلِیۡ وَلَکُمۡ عَمَلُکُمۡ ۚ اَنۡتُمۡ بَرِیۡٓـئُوۡنَ مِمَّاۤ اَعۡمَلُ وَاَنَا بَرِیۡٓءٌ مِّمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۴۱﴾
اور اگر وہ آپ کو جھٹلائیں تو فرما دیجیے میرے لیے میرا عمل ہے اور تمہارے لیے تمہارا عمل تم بری الذمہ ہو اس سے جو میں کرتا ہوں اور میں بری الذمہ ہوں اس سے جو تم کرتے ہو ۔
وَمِنۡہُمۡ مَّنۡ یَّسۡتَمِعُوۡنَ اِلَیۡکَ ؕ اَفَاَنۡتَ تُسۡمِعُ الصُّمَّ وَلَوۡ کَانُوۡا لَا یَعۡقِلُوۡنَ ﴿۴۲﴾
اور ان میں سے کچھ ( بظاہر ) کان لگاتے ہیں آپ کی طرف تو کیا آپ سناتے ہیں بہروں کو خواہ وہ کچھ نہ سمجھتے ہوں ۔
وَمِنۡہُمۡ مَّنۡ یَّنۡظُرُ اِلَیۡکَ ؕ اَفَاَنۡتَ تَہۡدِی الۡعُمۡیَ وَلَوۡ کَانُوۡا لَا یُبۡصِرُوۡنَ ﴿۴۳﴾
اور ان میں سے کچھ ( بظاہر ) دیکھتے ہیں آپ کی طرف تو کیا آپ راہ دکھاتے ہیں اندھوں کو خواہ وہ کچھ نہ دیکھتے ہوں ۔
اِنَّ اللّٰہَ لَا یَظۡلِمُ النَّاسَ شَیۡئًا وَّلٰکِنَّ النَّاسَ اَنۡفُسَہُمۡ یَظۡلِمُوۡنَ ﴿۴۴﴾
یقیناً اللہ تعالیٰ ظلم نہیں کرتا لوگوں پر ذرہ لیکن لوگ ہی اپنے نفسوں پر ظلم کرتے ہیں ۔
وَیَوۡمَ یَحۡشُرُہُمۡ کَاَنۡ لَّمۡ یَلۡبَثُوۡۤا اِلَّا سَاعَۃً مِّنَ النَّہَارِ یَتَعَارَفُوۡنَ بَیۡنَہُمۡ ؕ قَدۡ خَسِرَ الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِلِقَآءِ اللّٰہِ وَمَا کَانُوۡا مُہۡتَدِیۡنَ ﴿۴۵﴾
اور جس روز اللہ تعالیٰ جمع کرے گا انھیں ( وہ خیال کریں گے ) گویا وہ ( میں ) نہیں ٹھیرے مگر ایک کی پہچانیں گے ایک دوسرے کو ( تب حقیقت کھلے گی کہ ) گھاٹے میں رہے وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا اللہ تعالیٰ کی ملاقات کو اور وہ یافتہ نہیں تھے ۔
وَاِمَّا نُرِیَنَّکَ بَعۡضَ الَّذِیۡ نَعِدُہُمۡ اَوۡ نَتَوَفَّیَنَّکَ فَاِلَیۡنَا مَرۡجِعُہُمۡ ثُمَّ اللّٰہُ شَہِیۡدٌ عَلٰی مَایَفۡعَلُوۡنَ ﴿۴۶﴾
اور خواہ ہم دکھا دیں آپ کو کچھ ( ) جس کا ہم نے وعدہ کیا ہے ان سے یا ( ہی ) ہم اٹھا لیں آپ کو ۔ ہر میں ہماری طرف ہی انھیں لوٹنا ہے پھر اللہ تعالیٰ گواہ ہے اس پر جو وہ کرتے ہیں ۔
وَلِکُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُوۡلٌ ۚ فَاِذَا جَآءَ رَسُوۡلُہُمۡ قُضِیَ بَیۡنَہُمۡ بِالۡقِسۡطِ وَہُمۡ لَا یُظۡلَمُوۡنَ ﴿۴۷﴾
اور ہر قوم کے لیے ایک رسول ہے پس جب آیا ان کا رسول ( اور انھوں نے اس کو جھٹلایا تو ) کر دیا گیا ان کے کے ساتھ ۔ اور ان پر ظلم نہیں کیا جاتا ۔
وَیَقُوۡلُوۡنَ مَتٰی ہٰذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۴۸﴾
اور وہ کہتے ہیں کب پورا ہو گا یہ ( کا ) وعدہ اگر تم سچے ہو ۔
قُلۡ لَّاۤ اَمۡلِکُ لِنَفۡسِیۡ ضَرًّا وَّلَا نَفۡعًا اِلَّا مَاشَآءَ اللّٰہُ ؕ لِکُلِّ اُمَّۃٍ اَجَلٌ ؕ اِذَا جَآءَ اَجَلُہُمۡ فَلَا یَسۡتَاۡخِرُوۡنَ سَاعَۃً وَّلَا یَسۡتَقۡدِمُوۡنَ ﴿۴۹﴾
آپ کہیے نہیں ہوں میں اپنے آپ کے لیے ضرر کا اور نہ نفع کا مگر جتنا چاہے اللہ تعالیٰ ہر قوم کے لیے میعاد ہے جب آئے گی ان کی میعاد تو نہ وہ رہ سکیں گے ایک لمحہ اور نہ آگے بڑھ سکیں گے ۔
قُلۡ اَرَءَیۡتُمۡ اِنۡ اَتٰىکُمۡ عَذَابُہٗ بَیَاتًا اَوۡ نَہَارًا مَّاذَا یَسۡتَعۡجِلُ مِنۡہُ الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴿۵۰﴾
آپ فرمایئے ( اے منکرو ! ) ذرا تو کرو اگر آ جائے تم پر اس کا راتوں یا دہاڑے ( تو تم کیا کر لو گے ) کس چیز کا مطالبہ کر رہے ہیں اس سے مجرم ۔
اَثُمَّ اِذَا مَاوَقَعَ اٰمَنۡتُمۡ بِہٖ ؕ آٰلۡئٰنَ وَقَدۡ کُنۡتُمۡ بِہٖ تَسۡتَعۡجِلُوۡنَ ﴿۵۱﴾
کیا جب نازل ہو جائے گا تب ایمان لاؤ گے اس پر ( فرشتے انھیں کہیں گے ) اب ( آنکھیں کھلیں ) تم تو اس کے لیے بڑی مچا رہے تھے ۔
ثُمَّ قِیۡلَ لِلَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا ذُوۡقُوۡا عَذَابَ الۡخُلۡدِ ۚ ہَلۡ تُجۡزَوۡنَ اِلَّا بِمَا کُنۡتُمۡ تَکۡسِبُوۡنَ ﴿۵۲﴾
پھر کہا جائے گا ظالموں سے کہ چکھو ( اب ) دائمی ( کا مزہ ) کیا تمہیں دیا جائے گا بجز اس کے جو تم کمایا کرتے تھے ۔
وَیَسۡتَنۡۢبِئُوۡنَکَ اَحَقٌّ ہُوَ ؕ ؔ قُلۡ اِیۡ وَرَبِّیۡۤ اِنَّہٗ لَحَقٌّ ۚ ؕ ؔ وَمَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِیۡنَ ﴿۵۳﴾٪ 10
اور وہ دریافت کرتے ہیں آپ سے کیا یہ واقعی ہے ؟ آپ فرمائیے ہاں ! بخدا یہ ہے اور تم ( اللہ تعالیٰ کو ) کرنے والے نہیں ہو ۔
وَلَوۡ اَنَّ لِکُلِّ نَفۡسٍ ظَلَمَتۡ مَافِی الۡاَرۡضِ لَافۡتَدَتۡ بِہٖ ؕ وَاَسَرُّوا النَّدَامَۃَ لَمَّا رَاَوُا الۡعَذَابَ ۚ وَقُضِیَ بَیۡنَہُمۡ بِالۡقِسۡطِ وَہُمۡ لَا یُظۡلَمُوۡنَ ﴿۵۴﴾
اور اگر ہر ظالم شخص کے لیے روئے کی دولت ہو تو بھی وہ ساری دولت بطور فدیہ دیدے ۔ اور وہ ظالم ہی میں پچھتانے لگے جب دیکھا انھوں نے کو اور کر دیا گیا ان کے سے اور اُن پر ظلم نہیں کیا جائے گا ۔
اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰہِ مَافِی السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ؕ اَلَاۤ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰہِ حَقٌّ وَّلٰکِنَّ اَکۡثَرَہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۵۵﴾
سن لو ! بیشک اللہ تعالیٰ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور میں سن لو ! یقیناً اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے لیکن اکثر لوگ ( اس حقیقت کو ) نہیں جانتے ۔
ہُوَ یُحۡیٖ وَیُمِیۡتُ وَاِلَیۡہِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴿۵۶﴾
وہی زندگی بخشتا ہے اور وہی مارتا ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے ۔
یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ قَدۡ جَآءَتۡکُمۡ مَّوۡعِظَۃٌ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ وَشِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوۡرِ ۬ ۙ وَہُدًی وَّرَحۡمَۃٌ لِّلۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۵۷﴾
اے لوگو ! آ گئی ہے تمہارے تمہارے پروردگار کی طرف سے اور ( آ گئی ہے ) شفاء ان روگوں کے لیے جو سینوں میں ہیں اور ( آ گئی ہے ) اور رحمت اہل ایمان کے لیے ۔
قُلۡ بِفَضۡلِ اللّٰہِ وَبِرَحۡمَتِہٖ فَبِذٰلِکَ فَلۡیَفۡرَحُوۡا ؕ ہُوَ خَیۡرٌ مِّمَّا یَجۡمَعُوۡنَ ﴿۵۸﴾
۔( اے حبیب ! ) آپ فرمائیے یہ محض اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت سے نازل ہوئی ہے ۔ پس چاہیے کہ اسی پر خوشی منائیں یہ بہتر ہے ان تمام چیزوں سے کو وہ جمع کرتے ہیں ۔
قُلۡ اَرَءَیۡتُمۡ مَّاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ لَکُمۡ مِّنۡ رِّزۡقٍ فَجَعَلۡتُمۡ مِّنۡہُ حَرَامًا وَّحَلٰلًا ؕ قُلۡ آٰللّٰہُ اَذِنَ لَکُمۡ اَمۡ عَلَی اللّٰہِ تَفۡتَرُوۡنَ ﴿۵۹﴾
آپ فرمائیے بھلا بتاؤ تو جو رزق اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے اتارا پس بنا لیا تم نے اس سے بعض کو اور بعض کو حلال ۔ پوچھیئے کیا اللہ تعالیٰ نے ( ایسا کرنے کی ) تمہیں دی ہے یا تم اللہ پر باندھ رہے ہو ۔
وَمَا ظَنُّ الَّذِیۡنَ یَفۡتَرُوۡنَ عَلَی اللّٰہِ الۡکَذِبَ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَذُوۡ فَضۡلٍ عَلَی النَّاسِ وَلٰکِنَّ اَکۡثَرَہُمۡ لَا یَشۡکُرُوۡنَ ﴿٪۶۰﴾ 11
اور کیا ہے ان لوگوں کا جو افترا کرتے ہیں اللہ تعالیٰ پر جھوٹا کہ کے ان کا کیا حال ہو گا ۔ بیشک اللہ تعالیٰ فضل و کرم فرماتا ہے لوگوں پر لیکن اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے ۔
وَمَا تَکُوۡنُ فِیۡ شَاۡنٍ وَّمَا تَتۡلُوۡا مِنۡہُ مِنۡ قُرۡاٰنٍ وَّلَا تَعۡمَلُوۡنَ مِنۡ عَمَلٍ اِلَّا کُنَّا عَلَیۡکُمۡ شُہُوۡدًا اِذۡ تُفِیۡضُوۡنَ فِیۡہِ ؕ وَمَا یَعۡزُبُ عَنۡ رَّبِّکَ مِنۡ مِّثۡقَالِ ذَرَّۃٍ فِی الۡاَرۡضِ وَلَا فِی السَّمَآءِ وَلَاۤ اَصۡغَرَ مِنۡ ذٰلِکَ وَلَاۤ اَکۡبَرَ اِلَّا فِیۡ کِتٰبٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۶۱﴾
اور نہیں ہوتے آپ کسی حال میں اور نہ آپ تلاوت کرتے ہیں اس حال میں کچھ اور ( اے لوگو ! ) نہ تم کچھ عمل کرتے ہو مگر ( ہر حال میں ) ہم تم پر گواہ ہوتے ہیں جب بھی تم ہوتے ہو کسی میں اور نہیں چھپا ہوتا آپ کے رب سے ذرہ بھی میں اور نہ میں اور نہیں کوئی چھوٹی چیز اس ذرہ سے اور نہ بڑی مگر وہ روشن ( ) میں ہے ۔
اَلَاۤ اِنَّ اَوۡلِیَآءَ اللّٰہِ لَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَلَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ ﴿ۚ ۖ۶۲﴾
سنو ! بیشک اولیاء اللہ کو نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے ۔
الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَکَانُوۡا یَتَّقُوۡنَ ﴿ؕ۶۳﴾
یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور ( عمر بھر ) پرہیزگاری کرتے رہے ۔
لَہُمُ الۡبُشۡرٰی فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَفِی الۡاٰخِرَۃِ ؕ لَا تَبۡدِیۡلَ لِکَلِمٰتِ اللّٰہِ ؕ ذٰلِکَ ہُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِیۡمُ ﴿ؕ۶۴﴾
انھیں کے لیے بشارت ہے دنیوی زندگی میں اور میں نہیں بدلتیں اللہ تعالیٰ کی باتیں ۔ یہی بڑی کامیابی ہے ۔
وَلَا یَحۡزُنۡکَ قَوۡلُہُمۡ ۘ اِنَّ الۡعِزَّۃَ لِلّٰہِ جَمِیۡعًا ؕ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۶۵﴾
اور نہ غمزدہ کریں آپ کو ان کی باتیں یقیناً ساری اللہ تعالیٰ کے لیے ہے ۔ وہ سب کچھ سننے والا ہر چیز جاننے والا ہے ۔
اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰہِ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَمَنۡ فِی الۡاَرۡضِ ؕ وَمَا یَتَّبِعُ الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ شُرَکَآءَ ؕ اِنۡ یَّـتَّبِعُوۡنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنۡ ہُمۡ اِلَّا یَخۡرُصُوۡنَ ﴿۶۶﴾
خبردار بیشک اللہ کے ملک میں ہے جو کوئی آسمانوں میں ہے اور جو کوئی میں ہے اور کس کی پیروی کر رہے ہیں جو لوگ پکار رہے ہیں اللہ تعالیٰ کے سوا ( دوسرے ) شریکوں کو ؟ نہیں پیروی کر رہے مگر وہم و کی اور نہیں وہ مگر اٹکلیں دوڑا رہے ہیں ۔
ہُوَ الَّذِیۡ جَعَلَ لَکُمُ الَّیۡلَ لِتَسۡکُنُوۡا فِیۡہِ وَالنَّہَارَ مُبۡصِرًا ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یَّسۡمَعُوۡنَ ﴿۶۷﴾
وہی ہے جس نے بنائی تمہارے لیے تاکہ تم کرو اس میں اور روشن بنایا بیشک اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ( سے ) سنتے ہیں ۔
قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰہُ وَلَدًا سُبۡحٰنَہٗ ؕ ہُوَ الۡغَنِیُّ ؕ لَہٗ مَافِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ اِنۡ عِنۡدَکُمۡ مِّنۡ سُلۡطٰنٍ ۢ بِہٰذَا ؕ اَتَقُوۡلُوۡنَ عَلَی اللّٰہِ مَالَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۶۸﴾
انھوں نے کہا بنا لیا ہے اللہ تعالیٰ نے کسی کو ۔ وہ ہے وہ تو ہے ۔ اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ میں ہے ۔ نہیں تمہارے کوئی اس ( بے ہودہ ) کی ۔ کیا باندھتے ہو اللہ تعالیٰ پر جس کا تمہیں علم ہی نہیں ۔
قُلۡ اِنَّ الَّذِیۡنَ یَفۡتَرُوۡنَ عَلَی اللّٰہِ الۡکَذِبَ لَا یُفۡلِحُوۡنَ ﴿ؕ۶۹﴾
آپ فرمائیے جو لوگ اللہ تعالیٰ پر جھوٹا باندھتے ہیں وہ نہیں ہو سکتے ۔
مَتَاعٌ فِی الدُّنۡیَا ثُمَّ اِلَیۡنَا مَرۡجِعُہُمۡ ثُمَّ نُذِیۡقُہُمُ الۡعَذَابَ الشَّدِیۡدَ بِمَا کَانُوۡا یَکۡفُرُوۡنَ ﴿٪۷۰﴾ ؓ 12
۔( چند روزہ ) لطف اندوزی ہے میں پھر ہماری طرف ہی انھیں لوٹنا ہے پھر ہم چکھائیں گے انھیں بوجہ اس کے کہ وہ کفر کیا کرتے تھے ۔
وَاتۡلُ عَلَیۡہِمۡ نَبَاَ نُوۡحٍ ۘ اِذۡ قَالَ لِقَوۡمِہٖ یٰقَوۡمِ اِنۡ کَانَ کَبُرَ عَلَیۡکُمۡ مَّقَامِیۡ وَتَذۡکِیۡرِیۡ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ فَعَلَی اللّٰہِ تَوَکَّلۡتُ فَاَجۡمِعُوۡۤا اَمۡرَکُمۡ وَشُرَکَآءَکُمۡ ثُمَّ لَا یَکُنۡ اَمۡرُکُمۡ عَلَیۡکُمۡ غُمَّۃً ثُمَّ اقۡضُوۡۤا اِلَیَّ وَلَا تُنۡظِرُوۡنِ ﴿۷۱﴾
اور آپ پڑھ سنائیے انھیں نوح ( علیہ السلام ) کی جب انھوں نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم ! اگر گراں ہے تم پر میرا قیام اور میرا پندو کرنا اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے پس ( سن لو ) میں نے اللہ تعالیٰ پر توکل کر لیا سو تم بھی کوئی متفقہ کر لو اپنے شریکوں سے مل کر ۔ پھر نہ ہو تمہارا یہ تم پر مخفی ، پھر کر گزرو میرے ساتھ ( جو جی میں آئے ) اور مجھے نہ دو ۔
فَاِنۡ تَوَلَّیۡتُمۡ فَمَا سَاَلۡتُکُمۡ مِّنۡ اَجۡرٍ ؕ اِنۡ اَجۡرِیَ اِلَّا عَلَی اللّٰہِ ۙوَ اُمِرۡتُ اَنۡ اَکُوۡنَ مِنَ الۡمُسۡلِمِیۡنَ ﴿۷۲﴾
بانہیمہ اگر تم موڑے رہو تو نہیں طلب کیا میں نے تم سے کچھ اجر نہیں میرا اجر مگر اللہ کے ذمہ اور مجھے دیا گیا ہے کہ میں ہو جاؤں مسلمانوں سے ۔
فَکَذَّبُوۡہُ فَنَجَّیۡنٰہُ وَمَنۡ مَّعَہٗ فِی الۡفُلۡکِ وَجَعَلۡنٰہُمۡ خَلٰٓئِفَ وَاَغۡرَقۡنَا الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا ۚ فَانۡظُرۡ کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الۡمُنۡذَرِیۡنَ ﴿۷۳﴾
تو آپ کی قوم نے آپ کو جھٹلایا پس ہم نے دی انھیں اور جو ان کے ساتھ میں تھے اور ہم نے بنا دیا انھیں ان کا جانشین اور ہم نے غرق کر دیا جنھوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ۔ ذرا دیکھو کیسا ان کا جنھیں ڈرایا گیا تھا ۔
ثُمَّ بَعَثۡنَا مِنۡۢ بَعۡدِہٖ رُسُلًا اِلٰی قَوۡمِہِمۡ فَجَآءُوۡہُمۡ بِالۡبَیِّنٰتِ فَمَا کَانُوۡا لِیُؤۡمِنُوۡا بِمَا کَذَّبُوۡا بِہٖ مِنۡ قَبۡلُ ؕ کَذٰلِکَ نَطۡبَعُ عَلٰی قُلُوۡبِ الۡمُعۡتَدِیۡنَ ﴿۷۴﴾
پھر ہم نے بھیجے نوح ( علیہ السلام ) کے بعد اور رسول ان کی قوموں کی طرف پس وہ لائے ان کے روشن دلیلیں تو وہ ایسے نہ تھے کہ ایمان لاتے اس پر جسے وہ جھٹلا چکے تھے ۔ یونہی ہم لگا دیتے ہیں سرکشوں کے دلوں پر ۔
ثُمَّ بَعَثۡنَا مِنۡۢ بَعۡدِہِمۡ مُّوۡسٰی وَہٰرُوۡنَ اِلٰی فِرۡعَوۡنَ وَمَلَا۠ئِہٖ بِاٰیٰتِنَا فَاسۡتَکۡبَرُوۡا وَکَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِیۡنَ ﴿۷۵﴾
پھر ہم نے بھیجا ان رسولوں کے بعد موسیٰ اور ہارون ( علیہم السلام ) کو فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف اپنی نشانیوں کے ساتھ ۔ تو فرعونیوں نے غرور و کیا اور وہ مجرم لوگ تھے ۔
فَلَمَّا جَآءَہُمُ الۡحَقُّ مِنۡ عِنۡدِنَا قَالُوۡۤا اِنَّ ہٰذَا لَسِحۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۷۶﴾
پھر جب آیا ان کے حق ہماری طرف سے تو انھوں نے کہہ دیا کہ یقیناً یہ کھلا جادو ہے ۔
قَالَ مُوۡسٰۤی اَتَقُوۡلُوۡنَ لِلۡحَقِّ لَمَّا جَآءَکُمۡ ؕ اَسِحۡرٌ ہٰذَا ؕ وَلَا یُفۡلِحُ السّٰحِرُوۡنَ ﴿۷۷﴾
موسیٰ ( علیہ السلام ) نے کہا ( کے اندھو ) کیا تم کہتے ہو ( ایسی ) حق کے متعلق جب وہ تمہارے آیا ( سوچو ) کیا یہ جادو ہے ؟ اور نہیں ہوتے جادوگر ۔
قَالُوۡۤا اَجِئۡتَنَا لِتَلۡفِتَنَا عَمَّا وَجَدۡنَا عَلَیۡہِ اٰبَآءَنَا وَتَکُوۡنَ لَکُمَا الۡکِبۡرِیَآءُ فِی الۡاَرۡضِ ؕ وَمَا نَحۡنُ لَکُمَا بِمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۷۸﴾
کہنے لگے کیا تم اس لیے آئے ہو ہمارے تاکہ ہٹا دو ہمیں اس ( سے ) جس پر ہم نے پایا اپنے دادا کو اور ہو جائے صرف تم دونوں کے لیے بڑائی ( مصر ) میں ۔ اور ہم لوگ تو تم کو نہیں مانیں گے ۔
وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ائۡتُوۡنِیۡ بِکُلِّ سٰحِرٍ عَلِیۡمٍ ﴿۷۹﴾
اور فرعون نے دیا ( فوراً ) لے آؤ میرے ہر ماہر جادوگر ۔
فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَۃُ قَالَ لَہُمۡ مُّوۡسٰۤی اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ ﴿۸۰﴾
پھر جب آ گئے جادوگر تو کہا انھیں موسیٰ ( علیہ السلام ) نے ، ڈالو ( میدان میں ) جو تم ڈالنے والے ہو ۔
فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا قَالَ مُوۡسٰی مَاجِئۡتُمۡ بِہِ ۙ السِّحۡرُ ؕ اِنَّ اللّٰہَ سَیُبۡطِلُہٗ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُصۡلِحُ عَمَلَ الۡمُفۡسِدِیۡنَ ﴿۸۱﴾
پھر جب ڈال دیا انھوں نے تو موسیٰ نے فرمایا یہ جو تم لائے ہو یہ جادو ہے یقیناً اللہ تعالیٰ ملیامیٹ کر دے گا اسے ، بیشک اللہ تعالیٰ نہیں سنوارتا شریروں کے کو ۔
وَیُحِقُّ اللّٰہُ الۡحَقَّ بِکَلِمٰتِہٖ وَلَوۡ کَرِہَ الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴿۸۲﴾٪ 13
اور اللہ تعالیٰ حق کو حق کر دکھاتا ہے اپنے ارشادات سے اور خواہ ناپسند ہی کریں ( اسے ) مجرم ۔
فَمَاۤ اٰمَنَ لِمُوۡسٰۤی اِلَّا ذُرِّیَّۃٌ مِّنۡ قَوۡمِہٖ عَلٰی خَوۡفٍ مِّنۡ فِرۡعَوۡنَ وَمَلَا۠ئِہِمۡ اَنۡ یَّفۡتِنَہُمۡ ؕ وَاِنَّ فِرۡعَوۡنَ لَعَالٍ فِی الۡاَرۡضِ ۚ وَاِنَّہٗ لَمِنَ الۡمُسۡرِفِیۡنَ ﴿۸۳﴾
پس نہ ایمان لائے موسیٰ پر بجز ان کی قوم کی کے ( وہ بھی ) ڈرتے ہوئے فرعون سے اور اپنے سرداروں سے کہ کہیں وہ انھیں بہکا نہ دے ۔ اور واقعی فرعون بڑا سرکش ( بادشاہ ) تھا ملک میں اور واقعی وہ سے بڑھنے والوں میں سے تھا ۔
وَقَالَ مُوۡسٰی یٰقَوۡمِ اِنۡ کُنۡتُمۡ اٰمَنۡتُمۡ بِاللّٰہِ فَعَلَیۡہِ تَوَکَّلُوۡۤا اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّسۡلِمِیۡنَ ﴿۸۴﴾
اور موسیٰ ( علیہ السلام ) نے کہا اے میری قوم ! اگر تم ایمان لائے ہو اللہ تعالیٰ پر تو اسی پر بھروسہ کرو اگر تم سچے مسلمان ہو ۔
فَقَالُوۡا عَلَی اللّٰہِ تَوَکَّلۡنَا ۚ رَبَّنَا لَا تَجۡعَلۡنَا فِتۡنَۃً لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿ۙ۸۵﴾
انھوں نے عرض کی اللہ تعالیٰ پر ہی ہم نے بھروسہ کیا ہے اے ہمارے رب ! نہ بنا ہمیں فتنہ ( کا موجب ) ظالم قوم کے لیے ۔
وَنَجِّنَا بِرَحۡمَتِکَ مِنَ الۡقَوۡمِ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۸۶﴾
اور دے ہمیں اپنی رحمت سے کافروں ( کے ظلم و ستم ) سے ۔
وَاَوۡحَیۡنَاۤ اِلٰی مُوۡسٰی وَاَخِیۡہِ اَنۡ تَبَوَّاٰ لِقَوۡمِکُمَا بِمِصۡرَ بُیُوۡتًا وَّاجۡعَلُوۡا بُیُوۡتَکُمۡ قِبۡلَۃً وَّاَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ ؕ وَبَشِّرِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۸۷﴾
اور ہم نے وحی بھیجی موسیٰ اور ان کے کی طرف کہ مہیا کرو اپنی قوم کے لیے مصر میں چند اور بناؤ اپنے ان گھروں کو قبلہ اور قائم کرو نماز اور ( اے موسیٰ ! ) خوشخبری دو مومنوں کو ۔
وَقَالَ مُوۡسٰی رَبَّنَاۤ اِنَّکَ اٰتَیۡتَ فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاَہٗ زِیۡنَۃً وَّاَمۡوَالًا فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۙ رَبَّنَا لِیُضِلُّوۡا عَنۡ سَبِیۡلِکَ ۚ رَبَّنَا اطۡمِسۡ عَلٰۤی اَمۡوَالِہِمۡ وَاشۡدُدۡ عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ فَلَا یُؤۡمِنُوۡا حَتّٰی یَرَوُا الۡعَذَابَ الۡاَلِیۡمَ ﴿۸۸﴾
اور عرض کی موسیٰ نے اے ہمارے پروردگار ! تو نے بخشا ہے فرعون اور اس کے سرداروں کو آرائش اور و دولت دنیوی زندگی میں ، اے ہمارے مولا ! کیا اس لیے کہ وہ گمراہ کرتے پھریں ( لوگوں کو ) تیری راہ سے ۔ اے ہمارے رب ! کر دے ان کے مالوں کو اور کر دے ان کے دلوں کو تاکہ وہ نہ ایمان لے آئیں جب تک نہ دیکھ لیں دردناک کو ۔
قَالَ قَدۡ اُجِیۡبَتۡ دَّعۡوَتُکُمَا فَاسۡتَقِیۡمَا وَلَا تَتَّبِعٰٓنِّ سَبِیۡلَ الَّذِیۡنَ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۸۹﴾
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کر لی گئی تمہاری پس تم رہو اور ہرگز نہ اس پر جو جاہلوں کا ( ) ہے ۔
وَجٰوَزۡنَا بِبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ الۡبَحۡرَ فَاَتۡبَعَہُمۡ فِرۡعَوۡنُ وَجُنُوۡدُہٗ بَغۡیًا وَّعَدۡوًا ؕ حَتّٰۤی اِذَاۤ اَدۡرَکَہُ الۡغَرَقُ ۙ قَالَ اٰمَنۡتُ اَنَّہٗ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا الَّذِیۡۤ اٰمَنَتۡ بِہٖ بَنُوۡۤا اِسۡرَآءِیۡلَ وَاَنَا مِنَ الۡمُسۡلِمِیۡنَ ﴿۹۰﴾
اور ہم پار لے گئے بنی اسرائیل کو سمندر سے پھر کیا ان کا فرعون اور اس کے نے اور ظلم کرتے ہوئے حتی کہ جب وہ ڈوبنے لگا تو ( بصد یاس ) کہنے لگا میں ایمان لایا کہ کوئی سچا خدا نہیں بجز اس کے جس پر ایمان لائے تھے بنی اسرائیل اور ( میں اعلان کرتا ہوں کہ ) میں مسلمانوں میں سے ہوں ۔
آٰلۡئٰنَ وَقَدۡ عَصَیۡتَ قَبۡلُ وَکُنۡتَ مِنَ الۡمُفۡسِدِیۡنَ ﴿۹۱﴾
کیا اب ؟ اور تو کرتا رہا اس سے اور تو فتنہ و برپا کرنے والوں سے تھا ۔
فَالۡیَوۡمَ نُنَجِّیۡکَ بِبَدَنِکَ لِتَکُوۡنَ لِمَنۡ خَلۡفَکَ اٰیَۃً ؕ وَاِنَّ کَثِیۡرًا مِّنَ النَّاسِ عَنۡ اٰیٰتِنَا لَغٰفِلُوۡنَ ﴿۹۲﴾٪ 14
سو آج ہم بچا لیں گے تیرے کو ( سمندر کی تند موجوں سے ) تاکہ تو ہو جائے اپنے پچھلوں کے لیے ( عبرت کی ) ۔ اور حقیقت یہ ہے کہ اکثر لوگ ہماری نشانیوں سے غفلت برتنے والے ہیں ۔
وَلَقَدۡ بَوَّاۡنَا بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ مُبَوَّاَ صِدۡقٍ وَّرَزَقۡنٰہُمۡ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ ۚ فَمَا اخۡتَلَفُوۡا حَتّٰی جَآءَہُمُ الۡعِلۡمُ ؕ اِنَّ رَبَّکَ یَقۡضِیۡ بَیۡنَہُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ فِیۡمَا کَانُوۡا فِیۡہِ یَخۡتَلِفُوۡنَ ﴿۹۳﴾
اور ہم نے عطا فرمایا بنی اسرائیل کو بہترین ٹھکانا اور ہم نے انھیں پاکیزہ رزق بخشا پس انھوں نے اختلاف نہ کیا حتی کہ آ گیا ان کے حقیقت کا علم ۔ ( اے حبیب ! ) بیشک آپ کا رب فرمائے گا ان کے روز ، باتوں میں وہ جھگڑا کیا کرتے تھے ۔
فَاِنۡ کُنۡتَ فِیۡ شَکٍّ مِّمَّاۤ اَنۡزَلۡنَاۤ اِلَیۡکَ فَسۡئَلِ الَّذِیۡنَ یَقۡرَءُوۡنَ الۡکِتٰبَ مِنۡ قَبۡلِکَ ۚ لَقَدۡ جَآءَکَ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّکَ فَلَا تَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُمۡتَرِیۡنَ ﴿ۙ۹۴﴾
اور ( اے سننے والے ! ) اگر تجھے کچھ ہو اس میں جو ہم نے ( اپنے نبی کے ) تیری طرف اتارا تو دریافت کر ان لوگوں سے جو پڑھتے ہیں تجھ سے ۔ بیشک آیا ہے تیرے حق تیرے رب کی طرف سے ، پس ہرگز نہ ہو جانا کرنے والوں سے ۔
وَلَا تَکُوۡنَنَّ مِنَ الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ فَتَکُوۡنَ مِنَ الۡخٰسِرِیۡنَ ﴿۹۵﴾
اور ہرگز نہ ہونا ان لوگوں سے جنھوں نے جھٹلایا اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو ورنہ تو ہو جائے گا اٹھانے والوں سے ۔
اِنَّ الَّذِیۡنَ حَقَّتۡ عَلَیۡہِمۡ کَلِمَتُ رَبِّکَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿ۙ۹۶﴾
بیشک وہ لوگ ہو چکی ہے پر آپ کے رب کی ، وہ ایمان نہیں لائیں گے ۔
وَلَوۡ جَآءَتۡہُمۡ کُلُّ اٰیَۃٍ حَتّٰی یَرَوُا الۡعَذَابَ الۡاَلِیۡمَ ﴿۹۷﴾
اگرچہ آ جائیں ان کے ساری نشانیاں جب تک کہ وہ نہ دیکھ لیں دردناک ۔
فَلَوۡ لَا کَانَتۡ قَرۡیَۃٌ اٰمَنَتۡ فَنَفَعَہَاۤ اِیۡمَانُہَاۤ اِلَّا قَوۡمَ یُوۡنُسَ ؕ لَمَّاۤ اٰمَنُوۡا کَشَفۡنَا عَنۡہُمۡ عَذَابَ الۡخِزۡیِ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَمَتَّعۡنٰہُمۡ اِلٰی حِیۡنٍ ﴿۹۸﴾
پس کیوں ایسا نہ کہ کوئی ایمان لاتی تو نفع دیتا اسے اس کا ایمان ( کسی سے ایسا نہ ) بجز قوم یونس کے ، جب وہ ایمان لے آئے تو ہم نے کر دیا ان سے رسوائی کا دنیوی زندگی میں اور ہم نے لطف اندوز ہونے دیا انھیں ایک تک ۔
وَلَوۡ شَآءَ رَبُّکَ لَاٰمَنَ مَنۡ فِی الۡاَرۡضِ کُلُّہُمۡ جَمِیۡعًا ؕ اَفَاَنۡتَ تُکۡرِہُ النَّاسَ حَتّٰی یَکُوۡنُوۡا مُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۹۹﴾
اور اگر چاہتا آپ کا رب تو ایمان لے آتے جتنے لوگ میں ہیں سب کے سب کیا آپ مجبور کرنا چاہتے ہیں لوگوں کو یہاں تک کہ وہ مومن بن جائیں ۔
وَمَا کَانَ لِنَفۡسٍ اَنۡ تُؤۡمِنَ اِلَّا بِاِذۡنِ اللّٰہِ ؕ وَیَجۡعَلُ الرِّجۡسَ عَلَی الَّذِیۡنَ لَا یَعۡقِلُوۡنَ ﴿۱۰۰﴾
اور کوئی بھی ایسا شخص نہیں کہ وہ ایمان لا سکے بغیر الٰہی کے ۔ اور ( سنت الٰہی یہ ہے کہ ) وہ ڈالتا ہے ( گمراہی کی ) آلودگی ان لوگوں پر جو بے سمجھ ہیں ۔
قُلِ انۡظُرُوۡا مَاذَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ؕ وَمَا تُغۡنِی الۡاٰیٰتُ وَالنُّذُرُ عَنۡ قَوۡمٍ لَّا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۱۰۱﴾
فرمائیے سے دیکھو ! کیا کیا ( عجائبات ) ہیں آسمانوں اور میں اور نہیں پہنچاتیں آیتیں اور ڈرانے والے اس قوم کو جو ایمان نہیں لانا چاہتے ۔
فَہَلۡ یَنۡتَظِرُوۡنَ اِلَّا مِثۡلَ اَیَّامِ الَّذِیۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ؕ قُلۡ فَانۡتَظِرُوۡۤا اِنِّیۡ مَعَکُمۡ مِّنَ الۡمُنۡتَظِرِیۡنَ ﴿۱۰۲﴾
پس وہ نہیں کر رہے مگر ان لوگوں جیسے حالات کا جو گزر چکے ہیں ان سے آپ فرمائیے کرو ۔ بیشک میں بھی تمہارے ساتھ کرنے والوں سے ہوں ۔
ثُمَّ نُنَجِّیۡ رُسُلَنَا وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کَذٰلِکَ ۚ حَقًّا عَلَیۡنَا نُنۡجِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۰۳﴾٪ 15
۔( جب وہ آ جائے گا ) پھر ہم بچا لیں گے اپنے رسولوں کو اور انھیں جو ایمان لائے ۔ بلاشبہ ایسا ہی ہو گا ۔ یہ ہمارے ذمہ ہے کہ ہم بچا لیں گے اہل ایمان کو ۔
قُلۡ یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنۡ کُنۡتُمۡ فِیۡ شَکٍّ مِّنۡ دِیۡنِیۡ فَلَاۤ اَعۡبُدُ الَّذِیۡنَ تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ وَلٰکِنۡ اَعۡبُدُ اللّٰہَ الَّذِیۡ یَتَوَفّٰىکُمۡ ۚ ۖ وَاُمِرۡتُ اَنۡ اَکُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۰۴﴾ۙ
فرمائیے اے لوگو اگر تمہیں کچھ ہو میرے کے بارے میں تو ( سن لو ) میں نہیں کرتا ان ( بتوں ) کی کی تم پوچا کیا کرتے ہو اللہ تعالیٰ کے سوا لیکن میں تو کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کی جو مارتا ہے تمہیں اور مجھے دیا گیا ہے کہ میں ہو جاؤں اہل ایمان سے ۔
وَاَنۡ اَقِمۡ وَجۡہَکَ لِلدِّیۡنِ حَنِیۡفًا ۚ وَلَا تَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ ﴿۱۰۵﴾
نیز ( مجھے دیا گیا ہے کہ ) اپنا کر لے اس کی طرف ہر کجی سے بچتے ہوئے اور ہرگز نہ ہو جانا شرک کرنے والوں سے ۔
وَلَا تَدۡعُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مَالَا یَنۡفَعُکَ وَلَا یَضُرُّکَ ۚ فَاِنۡ فَعَلۡتَ فَاِنَّکَ اِذًا مِّنَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۱۰۶﴾
اور نہ کر اللہ تعالیٰ کے سوا اس کی جو نہ نفع پہنچا سکتا ہے تجھے اور نہ ضرر پہنچا سکتا ہے تجھے اور اگر تو ایسا کرے گا تو پھر تیرا شمار ظالموں میں ہو گا ۔
وَاِنۡ یَّمۡسَسۡکَ اللّٰہُ بِضُرٍّ فَلَا کَاشِفَ لَہٗۤ اِلَّا ہُوَ ۚ وَاِنۡ یُّرِدۡکَ بِخَیۡرٍ فَلَا رَآدَّ لِفَضۡلِہٖ ؕ یُصِیۡبُ بِہٖ مَنۡ یَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِہٖ ؕ وَہُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِیۡمُ ﴿۱۰۷﴾
اور اگر پہنچائے تجھے اللہ تعالیٰ کوئی تو نہیں کوئی کرنے والا اسے بجز اس کے اور اگر فرمائے تیرے لیے کسی بھلائی کا تو کوئی رد کرنے والا نہیں اس کے فضل کو ۔ سرفراز فرماتا ہے اپنے فضل و کرم سے جس کو چاہتا ہے اپنے بندوں سے ۔ اور وہی بہت مغفرت فرمانے والا رحم کرنے والا ہے ۔
قُلۡ یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ قَدۡ جَآءَکُمُ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّکُمۡ ۚ فَمَنِ اہۡتَدٰی فَاِنَّمَا یَہۡتَدِیۡ لِنَفۡسِہٖ ۚ وَمَنۡ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیۡہَا ۚ وَمَاۤ اَنَا عَلَیۡکُمۡ بِوَکِیۡلٍ ﴿۱۰۸﴾ؕ
۔( اے حبیب ! ) فرمائیے اے لوگو بیشک آ گیا ہے تمہارے حق تمہارے رب کی طرف سے تو جو کرتا ہے تو وہ کرتا ہے اپنے بھلے کے لیے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو وہ گمراہ ہوتا ہے اپنی تباہی کے لیے اور میں تم پر نگران نہیں ہوں ۔
وَاتَّبِعۡ مَایُوۡحٰۤی اِلَیۡکَ وَاصۡبِرۡ حَتّٰی یَحۡکُمَ اللّٰہُ ۚ ۖ وَہُوَ خَیۡرُ الۡحٰکِمِیۡنَ ﴿۱۰۹﴾٪ 16
اور ( اے حبیب ! ) آپ پیروی کرتے رہیں جو وحی کی جاتی ہے آپ کی طرف اور ( ظلم کفار پر ) کیجیے یہاں تک کہ فرما دے اللہ اور وہ سب سے بہتر فرمانے والا ہے ۔