قَدۡ اَفۡلَحَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ۙ﴿۱﴾
بیشک دونوں جہان میں بامراد ہو گئے ایمان والے ۔
The Believers
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ ﴿١﴾
In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
قَدۡ اَفۡلَحَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ۙ﴿۱﴾
بیشک دونوں جہان میں بامراد ہو گئے ایمان والے ۔
الَّذِیۡنَ ہُمۡ فِیۡ صَلَاتِہِمۡ خٰشِعُوۡنَ ۙ﴿۲﴾
وہ ایمان والے جو اپنی نماز میں عجز و نیاز کرتے ہیں ۔
وَالَّذِیۡنَ ہُمۡ عَنِ اللَّغۡوِ مُعۡرِضُوۡنَ ﴿ۙ۳﴾
اور وہ جو ہر بیہودہ امر سے پھیرے ہوئے ہیں ۔
وَالَّذِیۡنَ ہُمۡ لِلزَّکٰوۃِ فٰعِلُوۡنَ ۙ﴿۴﴾
اور وہ جو زکوۃ ادا کرتے ہیں ۔
وَالَّذِیۡنَ ہُمۡ لِفُرُوۡجِہِمۡ حٰفِظُوۡنَ ۙ﴿۵﴾
اور وہ جو اپنی شرمگاہوں کی کرنے والے ہیں ۔
اِلَّا عَلٰۤی اَزۡوَاجِہِمۡ اَوۡ مَامَلَکَتۡ اَیۡمَانُہُمۡ فَاِنَّہُمۡ غَیۡرُ مَلُوۡمِیۡنَ ۚ﴿۶﴾
بجز اپنی بیویوں کے اور ان کنیزوں کے جو ان کے ہاتھوں کی ملکیت ہیں تو بیشک انھیں ملامت نہ کی جائے گی ۔
فَمَنِ ابۡتَغٰی وَرَآءَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡعٰدُوۡنَ ۚ﴿۷﴾
اور جس نے کی ان دو کے ماسوا تو یہی لوگ سے بہت تجاوز کرنے والے ہیں نیز وہ ( مومن بامراد ہیں ) ۔
وَالَّذِیۡنَ ہُمۡ لِاَمٰنٰتِہِمۡ وَعَہۡدِہِمۡ رٰعُوۡنَ ۙ﴿۸﴾
جو اپنی امانتوں اور اپنے وعدوں کی پاسداری کرنے والے ہیں ۔
وَالَّذِیۡنَ ہُمۡ عَلٰی صَلَوٰتِہِمۡ یُحَافِظُوۡنَ ۘ﴿۹﴾
اور وہ جو اپنی نمازوں کی پوری کرتے ہیں ۔
اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡوٰرِثُوۡنَ ﴿ۙ۱۰﴾
یہی لوگ وارث ہیں ۔
الَّذِیۡنَ یَرِثُوۡنَ الۡفِرۡدَوۡسَ ؕ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۱۱﴾
جو وارث بنیں گے فردوس ( بریں ) کے ، وہ اس میں رہیں گے ۔
وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ مِنۡ سُلٰلَۃٍ مِّنۡ طِیۡنٍ ﴿ۚ۱۲﴾
اور بیشک ہم نے کیا کو کے جوہر سے ۔
ثُمَّ جَعَلۡنٰہُ نُطۡفَۃً فِیۡ قَرَارٍ مَّکِیۡنٍ ﴿۪۱۳﴾
پھر ہم نے رکھا اسے کی بوند بنا کر ایک محفوظ مقام میں ۔
ثُمَّ خَلَقۡنَا النُّطۡفَۃَ عَلَقَۃً فَخَلَقۡنَا الۡعَلَقَۃَ مُضۡغَۃً فَخَلَقۡنَا الۡمُضۡغَۃَ عِظٰمًا فَکَسَوۡنَا الۡعِظٰمَ لَحۡمًا ٭ ثُمَّ اَنۡشَاۡنٰہُ خَلۡقًا اٰخَرَ ؕ فَتَبٰرَکَ اللّٰہُ اَحۡسَنُ الۡخٰلِقِیۡنَ ﴿ؕ۱۴﴾
پھر ہم نے بنا دیا نطفہ کو خون کا لوتھڑا ، پھر ہم نے بنا دیا اس لوتھڑے کو گوشت کی بوٹی ، پھر ہم نے کر دیں اس بوٹی سے ہڈیاں ، پھر ہم نے پہنا دیا ان ہڈیوں کو گوشت ۔ پھر ( روح کر ) ہم نے اسے دوسری بنا دیا پس بڑا ہے اللہ جو سب سے بہتر بنانے والا ہے ۔
ثُمَّ اِنَّکُمۡ بَعۡدَ ذٰلِکَ لَمَیِّتُوۡنَ ﴿ؕ۱۵﴾
پھر یقیناً تم ان مرحلوں سے گزرنے کے بعد مرنے والے ہو ۔
ثُمَّ اِنَّکُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ تُبۡعَثُوۡنَ ﴿۱۶﴾
پھر بلاشبہ تمہیں روز ( قبروں سے ) اٹھایا جائے گا ۔
وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا فَوۡقَکُمۡ سَبۡعَ طَرَآئِقَ ٭ۖ وَمَا کُنَّا عَنِ الۡخَلۡقِ غٰفِلِیۡنَ ﴿۱۷﴾
اور بیشک ہم نے تمہارے اوپر سات راستے بنا دیے اور ہم اپنی ( کی مصلحتوں ) سے بے نہ تھے ۔
وَاَنۡزَلۡنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ فَاَسۡکَنّٰہُ فِی الۡاَرۡضِ ٭ۖ وَاِنَّا عَلٰی ذَہَابٍۢ بِہٖ لَقٰدِرُوۡنَ ﴿ۚ۱۸﴾
اور ہم نے اتارا سے کے مطابق پھر ہم نے ٹھیرا لیا اسے میں اور یقیناً ہم اسے بالکل ناپید کرنے پر پوری طرح قادر ہیں ۔
فَاَنۡشَاۡنَا لَکُمۡ بِہٖ جَنّٰتٍ مِّنۡ نَّخِیۡلٍ وَّاَعۡنَابٍ ۘ لَکُمۡ فِیۡہَا فَوَاکِہُ کَثِیۡرَۃٌ وَّمِنۡہَا تَاۡکُلُوۡنَ ﴿ۙ۱۹﴾
پھر ہم نے اگائے تمہارے لیے اس سے باغات کھجوروں اور انگوروں کے ، تمہارے لیے ان میں بہت سے ہیں اور ان میں سے تم کھاتے بھی ہو ۔
وَشَجَرَۃً تَخۡرُجُ مِنۡ طُوۡرِ سَیۡنَآءَ تَنۡۢبُتُ بِالدُّہۡنِ وَصِبۡغٍ لِّلۡاٰکِلِیۡنَ ﴿۲۰﴾
نیز کیا ایک جو اگتا ہے طور سینا میں وہ اگتا ہے لیے ہوئے اور سالن لیے ہوئے کھانے والوں کے لیے ۔
وَاِنَّ لَکُمۡ فِی الۡاَنۡعَامِ لَعِبۡرَۃً ؕ نُسۡقِیۡکُمۡ مِّمَّا فِیۡ بُطُوۡنِہَا وَلَکُمۡ فِیۡہَا مَنَافِعُ کَثِیۡرَۃٌ وَّمِنۡہَا تَاۡکُلُوۡنَ ﴿ۙ۲۱﴾
اور بیشک تمہارے لیے جانوروں میں بھی و فکر کا مقام ہے ہم پلاتے ہیں تمہیں اس ( دودھ ) سے جو ان کے شکموں میں ہے اور تمہارے لیے ان میں طرح طرح کے بہت فائدے ہیں اور انھیں ( کے گوشت ) سے تم کھاتے ہو ۔
وَعَلَیۡہَا وَعَلَی الۡفُلۡکِ تُحۡمَلُوۡنَ ﴿۲۲﴾٪ 1
اور ان پر اور کشتیوں پر تمہیں کیا جاتا ہے ۔
وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا اِلٰی قَوۡمِہٖ فَقَالَ یٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰہَ مَالَکُمۡ مِّنۡ اِلٰہٍ غَیۡرُہٗ ؕ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴿۲۳﴾
اور ہم نے بھیجا نوح ( علیہ السلام ) کو ان کی قوم کی طرف تو آپ نے فرمایا اے میری قوم ! اللہ تعالیٰ کی کرو ، نہیں ہے تمہارا کوئی خدا اس کے بغیر ۔ کیا تم ( پرستی کے سے ) نہیں ڈرتے ۔
فَقَالَ الۡمَلَؤُا الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِہٖ مَاہٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثۡلُکُمۡ ۙ یُرِیۡدُ اَنۡ یَّتَفَضَّلَ عَلَیۡکُمۡ ؕ وَلَوۡ شَآءَ اللّٰہُ لَاَنۡزَلَ مَلٰٓئِکَۃً ۚ ۖ مَّا سَمِعۡنَا بِہٰذَا فِیۡۤ اٰبَآئِنَا الۡاَوَّلِیۡنَ ﴿ۚ۲۴﴾
تو کہنے لگے وہ جنھوں نے کفر کیا تھا ان کی قوم سے کہ نہیں ہے یہ مگر بشر تمہارے جیسا ۔ یہ چاہتا ہے کہ اپنی بزرگی جتلائے تم پر اور اگر اللہ تعالیٰ ( رسول ) چاہتا تو وہ اتارتا فرشتوں کو ، ہم نے نہیں سنی یہ ( جو نوح علیہ السلام کہتا ہیں ) اپنے آباؤاجداد میں ۔
اِنۡ ہُوَ اِلَّا رَجُلٌۢ بِہٖ جِنَّۃٌ فَتَرَبَّصُوۡا بِہٖ حَتّٰی حِیۡنٍ ﴿۲۵﴾
نہیں ہے یہ مگر ایسا شخص جسے جنون کا مرض ہو گیا ہے سو کرو اس کے کا کچھ عرصہ ۔
قَالَ رَبِّ انۡصُرۡنِیۡ بِمَا کَذَّبُوۡنِ ﴿۲۶﴾
آپ نے عرض کی اے رب ! ( اب ) تو ہی میری فرما کیونکہ انھوں نے مجھے جھٹلا دیا ہے ۔
فَاَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡہِ اَنِ اصۡنَعِ الۡفُلۡکَ بِاَعۡیُنِنَا وَوَحۡیِنَا فَاِذَا جَآءَ اَمۡرُنَا وَفَارَ التَّنُّوۡرُ ۙ فَاسۡلُکۡ فِیۡہَا مِنۡ کُلٍّ زَوۡجَیۡنِ اثۡنَیۡنِ وَاَہۡلَکَ اِلَّا مَنۡ سَبَقَ عَلَیۡہِ الۡقَوۡلُ مِنۡہُمۡ ۚ وَلَا تُخَاطِبۡنِیۡ فِی الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا ۚ اِنَّہُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴿۲۷﴾
تو ہم نے وحی بھیجی ان کی طرف کہ بناؤ ایک ہماری نگاہوں کے اور ہمارے کے مطابق ۔ پھر جب آ جائے ہمارا اور ( ) ابل پڑے تنور سے تو کر لو اس میں ہر جوڑے میں سے دو دو , اور اپنے والوں کو بجز ان کے کے بارے میں ہو چکا ہے ان میں سے ، اور گفتگو نہ کرنا میرے ساتھ ان کے متعلق جنھوں نے ظلم کیا ، وہ تو ضرور غرق کیے جائیں گے ۔
فَاِذَا اسۡتَوَیۡتَ اَنۡتَ وَمَنۡ مَّعَکَ عَلَی الۡفُلۡکِ فَقُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ الَّذِیۡ نَجّٰنَا مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۲۸﴾
پھر جب اچھی طرح بیٹھ جائیں آپ اور آپ کے کے عرشہ پر تو کہنا سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جس نے ہمیں دی ظالم قوم ( کے جور و ستم ) سے ۔
وَقُلۡ رَّبِّ اَنۡزِلۡنِیۡ مُنۡزَلًا مُّبٰرَکًا وَّاَنۡتَ خَیۡرُ الۡمُنۡزِلِیۡنَ ﴿۲۹﴾
اور یہ بھی عرض کرنا کہ اے میرے رب ! اتار مجھے منزل پر اور تو ہی سب سے بہتر اتارنے والا ہے ۔
اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ وَّاِنۡ کُنَّا لَمُبۡتَلِیۡنَ ﴿۳۰﴾
بیشک اس قصہ میں ہماری قدرت کی نشانیاں ہیں اور ہم ضرور ( اپنے بندوں کو ) آزمانے والے ہیں ۔
ثُمَّ اَنۡشَاۡنَا مِنۡۢ بَعۡدِہِمۡ قَرۡنًا اٰخَرِیۡنَ ﴿ۚ۳۱﴾
پھر ہم نے فرما دی ان کے ( غرق ہونے کے ) بعد ایک دوسری ۔
فَاَرۡسَلۡنَا فِیۡہِمۡ رَسُوۡلًا مِّنۡہُمۡ اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰہَ مَالَکُمۡ مِّنۡ اِلٰہٍ غَیۡرُہٗ ؕ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴿٪۳۲﴾ 2
پھر ہم نے بھیجا ان میں ایک رسول ان میں سے ( اس نے انھیں کہا ) کہ کرو اللہ کی ، نہیں ہے تمہارا کوئی خدا اس کے سوا ، کیا تم ( شرک کے سے ) نہیں ڈرتے ہو ۔
وَقَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِہِ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَکَذَّبُوۡا بِلِقَآءِ الۡاٰخِرَۃِ وَاَتۡرَفۡنٰہُمۡ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۙ مَاہٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثۡلُکُمۡ ۙ یَاۡکُلُ مِمَّا تَاۡکُلُوۡنَ مِنۡہُ وَیَشۡرَبُ مِمَّا تَشۡرَبُوۡنَ ﴿۪ۙ۳۳﴾
تو بولے ان کی قوم کے جنھوں نے کفر کیا تھا اور جنھوں نے جھٹلایا تھا کی حاضری کو اور ہم نے خوشحال بنا دیا تھا انھیں دنیوی زندگی میں ۔ ( اے لوگو ! ) نہیں ہے یہ مگر ایک بشر تمہاری مانند ، یہ کھاتا ہے وہی جو تم کھاتے ہو اور پیتا ہے اس سے جو تم پیتے ہو ۔
وَلَئِنۡ اَطَعۡتُمۡ بَشَرًا مِّثۡلَکُمۡ اِنَّکُمۡ اِذًا لَّخٰسِرُوۡنَ ﴿ۙ۳۴﴾
اور اگر تم پیروی کرنے لگے اپنے جیسے بشر کی تو تم تب اٹھانے والے ہو جاؤ گے ۔
اَیَعِدُکُمۡ اَنَّکُمۡ اِذَا مِتُّمۡ وَکُنۡتُمۡ تُرَابًا وَّعِظَامًا اَنَّکُمۡ مُّخۡرَجُوۡنَ ﴿۪ۙ۳۵﴾
کیا وہ تم سے یہ وعدہ کرتا ہے کہ تم جب مر جاؤ گے اور اور ہڈیاں ہو جاؤ گے تو تمہیں ( پھر قبروں سے ) نکالا جائے گا ۔
ہَیۡہَاتَ ہَیۡہَاتَ لِمَا تُوۡعَدُوۡنَ ﴿۪ۙ۳۶﴾
یہ سے بعید ہے بالکل بعید جس کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے ۔
اِنۡ ہِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنۡیَا نَمُوۡتُ وَنَحۡیَا وَمَا نَحۡنُ بِمَبۡعُوۡثِیۡنَ ﴿۪ۙ۳۷﴾
نہیں ہے کوئی اور زندگی سوائے ہماری اس دنیوی زندگی کے ، یہی ہمارا مرنا ہے اور یہی ہمارا جینا ۔ اور ہمیں دوبارہ نہیں اٹھایا جائے گا ۔
اِنۡ ہُوَ اِلَّا رَﺟُﻞُۨ افۡتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا وَّمَا نَحۡنُ لَہٗ بِمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۳۸﴾
وہ نہیں مگر ایسا شخص جس نے لگایا ہے اللہ تعالیٰ پر جھوٹا اور ہم تو قطعاً اس پر ایمان نہیں لائیں گے ۔
قَالَ رَبِّ انۡصُرۡنِیۡ بِمَا کَذَّبُوۡنِ ﴿۳۹﴾
اس نے کہا میرے رب ! اب تو میری فرما کیونکہ انھوں نے تو مجھے جھٹلا دیا ہے ۔
قَالَ عَمَّا قَلِیۡلٍ لَّیُصۡبِحُنَّ نٰدِمِیۡنَ ﴿ۚ۴۰﴾
اللہ تعالیٰ نے فرمایا عنقریب ہی یہ لوگ اپنے کیے پر نادم ہو جائیں گے ۔
فَاَخَذَتۡہُمُ الصَّیۡحَۃُ بِالۡحَقِّ فَجَعَلۡنٰہُمۡ غُثَآءً ۚ فَبُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۴۱﴾
تو آ پکڑا انھیں حقیقی چنگھاڑ نے تو ہم نے انھیں خس و خاشاک بنا دیا تو ہو جائے وہ قوم جو ستم شعار ہے ۔
ثُمَّ اَنۡشَاۡنَا مِنۡۢ بَعۡدِہِمۡ قُرُوۡنًا اٰخَرِیۡنَ ﴿ؕ۴۲﴾
پھر ہم نے فرمائی ان ( کی بربادی ) کے بعد کئی قومیں ۔
مَاتَسۡبِقُ مِنۡ اُمَّۃٍ اَجَلَہَا وَمَا یَسۡتَاۡخِرُوۡنَ ﴿ؕ۴۳﴾
آگے نہیں بڑھ سکتی کوئی قوم اپنی مقررہ میعاد سے اور نہ وہ لوگ رہ سکتے ہیں ۔
ثُمَّ اَرۡسَلۡنَا رُسُلَنَا تَتۡرَا ؕ کُلَّمَا جَآءَ اُمَّۃً رَّسُوۡلُہَا کَذَّبُوۡہُ فَاَتۡبَعۡنَا بَعۡضَہُمۡ بَعۡضًا وَّجَعَلۡنٰہُمۡ اَحَادِیۡثَ ۚ فَبُعۡدًا لِّقَوۡمٍ لَّا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۴۴﴾
پھر ہم بھیجتے رہے اپنے رسول یکے بعد دیگرے جب کبھی کسی امت کے اس کا رسول آیا تو انھوں نے اسے جھٹلایا ۔ پس ہم بھی ایک کے بعد دوسرے کو کرتے گئے اور ہم نے ( ان جابر ) قوموں کو افسانے بنا دیا ۔ پس خدا کی پھٹکار ہو ایسی قوم پر جو ایمان نہیں لاتی ۔
ثُمَّ اَرۡسَلۡنَا مُوۡسٰی وَاَخَاہُ ہٰرُوۡنَ ۬ ۙ بِاٰیٰتِنَا وَسُلۡطٰنٍ مُّبِیۡنٍ ﴿ۙ۴۵﴾
پھر ہم نے بھیجا موسیٰ اور ان کے ہارون ( علیہ السلام ) کو اپنی نشانیاں اور واضح دے کر ۔
اِلٰی فِرۡعَوۡنَ وَمَلَا۠ئِہٖ فَاسۡتَکۡبَرُوۡا وَکَانُوۡا قَوۡمًا عَالِیۡنَ ﴿ۚ۴۶﴾
فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف تو انھوں نے بھی غرور و کیا اور وہ لوگ بڑے سرکش تھے ۔
فَقَالُوۡۤا اَنُؤۡمِنُ لِبَشَرَیۡنِ مِثۡلِنَا وَقَوۡمُہُمَا لَنَا عٰبِدُوۡنَ ﴿ۚ۴۷﴾
تو انھوں نے کہا کیا ہم ایمان لے آئیں ان دو آدمیوں پر جو ہماری مانند ہیں ، حالانکہ ان کی قوم ہماری ہے ۔
فَکَذَّبُوۡہُمَا فَکَانُوۡا مِنَ الۡمُہۡلَکِیۡنَ ﴿۴۸﴾
پس انھوں نے ان دونوں کو جھٹلایا ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ وہ بھی ہونے والوں میں شامل ہو گئے ۔
وَلَقَدۡ اٰتَیۡنَا مُوۡسَی الۡکِتٰبَ لَعَلَّہُمۡ یَہۡتَدُوۡنَ ﴿۴۹﴾
اور بیشک ہم نے عطا فرمائی موسیٰ ( علیہ السلام ) کو تاکہ ( ان کی قوم ) یافتہ ہو جائے ۔
وَجَعَلۡنَا ابۡنَ مَرۡیَمَ وَاُمَّہٗۤ اٰیَۃً وَّاٰوَیۡنٰہُمَاۤ اِلٰی رَبۡوَۃٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّمَعِیۡنٍ ﴿۵۰﴾٪ 3
اور ہم نے بنا دیا مریم کے فرزند اور اس کی ( مریم ) کو ( اپنی قدرت کی ) اور انھیں بسایا ایک مقام پر جو رہائش کے قابل تھا اور جہاں چشمے جاری تھے ۔
یٰۤاَیُّہَا الرُّسُلُ کُلُوۡا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَاعۡمَلُوۡا صَالِحًا ؕ اِنِّیۡ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ عَلِیۡمٌ ﴿ؕ۵۱﴾
اے ( میرے ) پیغمبرو ! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور اچھے کرو ۔ بیشک میں جو تم کر رہے ہو ان سے خوب واقف ہوں ۔
وَاِنَّ ہٰذِہٖۤ اُمَّتُکُمۡ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّاَنَا رَبُّکُمۡ فَاتَّقُوۡنِ ﴿۵۲﴾
اور یہی تمہارا ہے ( اور ) وہ ایک ہی ہے اور میں تم سب کا پروردگار ہوں سو تم ڈرا کرو مجھ سے ۔
فَتَقَطَّعُوۡۤا اَمۡرَہُمۡ بَیۡنَہُمۡ زُبُرًا ؕ کُلُّ حِزۡبٍۢ بِمَا لَدَیۡہِمۡ فَرِحُوۡنَ ﴿۵۳﴾
لیکن کاٹ کر بنا دیا انھوں نے اپنی دینی وحدت کو باہمی اختلاف سے پارہ پارہ ۔ ہر گروہ اپنے نظریات پر مسرور ہے ۔
فَذَرۡہُمۡ فِیۡ غَمۡرَتِہِمۡ حَتّٰی حِیۡنٍ ﴿۵۴﴾
پس ( اے محبوب ! ) رہنے دو انھیں اپنی مدہوشی میں کچھ تک ۔
اَیَحۡسَبُوۡنَ اَنَّمَا نُمِدُّہُمۡ بِہٖ مِنۡ مَّالٍ وَّبَنِیۡنَ ﴿ۙ۵۵﴾
کیا یہ تفرقہ خیال کرتے ہیں کہ ہم جو ان کی کر رہے ہیں و ( کی کثرت سے )
نُسَارِعُ لَہُمۡ فِی الۡخَیۡرٰتِ ؕ بَلۡ لَّا یَشۡعُرُوۡنَ ﴿۵۶﴾
تو ہم کر رہے ہیں انھیں بھلائیاں پہچانے میں ( یوں نہیں ) بلکہ وہ ( حقیقت حال سے ) بے ہیں ۔
اِنَّ الَّذِیۡنَ ہُمۡ مِّنۡ خَشۡیَۃِ رَبِّہِمۡ مُّشۡفِقُوۡنَ ﴿ۙ۵۷﴾
بیشک وہ لوگ جو اپنے رب کے خوف سے ڈر رہے ہیں ۔
وَالَّذِیۡنَ ہُمۡ بِاٰیٰتِ رَبِّہِمۡ یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿ۙ۵۸﴾
اور وہ جو اپنے رب کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں ۔
وَالَّذِیۡنَ ہُمۡ بِرَبِّہِمۡ لَا یُشۡرِکُوۡنَ ﴿ۙ۵۹﴾
اور وہ جو اپنے رب کے ساتھ ( کسی کو ) نہیں بناتے ۔
وَالَّذِیۡنَ یُؤۡتُوۡنَ مَاۤ اٰتَوۡا وَّقُلُوۡبُہُمۡ وَجِلَۃٌ اَنَّہُمۡ اِلٰی رَبِّہِمۡ رٰجِعُوۡنَ ﴿ۙ۶۰﴾
اور وہ جو دیتے ہیں جو کچھ دیتے ہیں اس حال میں کہ ان کے ڈر رہے ہیں ( اس خیال سے ) کہ وہ ( ایک ) اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں ۔
اُولٰٓئِکَ یُسٰرِعُوۡنَ فِی الۡخَیۡرٰتِ وَہُمۡ لَہَا سٰبِقُوۡنَ ﴿۶۱﴾
یہی لوگ کرتے ہیں بھلائیاں کرنے میں اور وہ بھلائیوں کی طرف سبقت لے جانے والے ہیں ۔
وَلَا نُکَلِّفُ نَفۡسًا اِلَّا وُسۡعَہَا وَلَدَیۡنَا کِتٰبٌ یَّنۡطِقُ بِالۡحَقِّ وَہُمۡ لَا یُظۡلَمُوۡنَ ﴿۶۲﴾
اور ہم نہیں دیتے کسی شخص کو مگر جتنی اس کی ہے اور ہمارے ایک ہے جو بولتی ہے اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا ۔
بَلۡ قُلُوۡبُہُمۡ فِیۡ غَمۡرَۃٍ مِّنۡ ہٰذَا وَلَہُمۡ اَعۡمَالٌ مِّنۡ دُوۡنِ ذٰلِکَ ہُمۡ لَہَا عٰمِلُوۡنَ ﴿۶۳﴾
بلکہ ان کے مدہوش ہیں اس ( خوفناک حقیقت ) سے اور ان کے مومنوں کے سے ہیں ۔ یہ ( نابکار ) ان برے کاموں کو ہی کرنے والے ہیں ۔
حَتّٰۤی اِذَاۤ اَخَذۡنَا مُتۡرَفِیۡہِمۡ بِالۡعَذَابِ اِذَا ہُمۡ یَجۡئَرُوۡنَ ﴿ؕ۶۴﴾
یہاں تک کہ جب ہم پکڑیں گے ان کے خوشحال لوگوں کو سے ، اس وہ چلائیں گے ۔
لَا تَجۡئَرُوا الۡیَوۡمَ ۟ اِنَّکُمۡ مِّنَّا لَا تُنۡصَرُوۡنَ ﴿۶۵﴾
۔( ظالمو ! ) آج نہ چلاؤ تمہاری ہماری طرف سے اب کوئی نہ کی جائے گی ۔
قَدۡ کَانَتۡ اٰیٰتِیۡ تُتۡلٰی عَلَیۡکُمۡ فَکُنۡتُمۡ عَلٰۤی اَعۡقَابِکُمۡ تَنۡکِصُوۡنَ ﴿ۙ۶۶﴾
۔( وہ کرو ) جب ہماری آیتیں تمہارے پڑھی جاتی تھیں اور تم اپنی ایڑیوں کے بل لوٹ جایا کرتے تھے ۔
مُسۡتَکۡبِرِیۡنَ ٭ۖ بِہٖ سٰمِرًا تَہۡجُرُوۡنَ ﴿۶۷﴾
غرور و کرتے ہوئے ( پھر صحن حرم میں ) تم داستان سرائی کیا کرتے تھے ۔
اَفَلَمۡ یَدَّبَّرُوا الۡقَوۡلَ اَمۡ جَآءَہُمۡ مَّا لَمۡ یَاۡتِ اٰبَآءَہُمُ الۡاَوَّلِیۡنَ ﴿۫۶۸﴾
اور کی شان میں بکواس کیا کرتے تھے کیا انھوں نے کبھی تدبر نہ کیا میں ؟ یا آئی تھی ان کے ایسی چیز جو نہ آئی تھی ان کے آباؤاجداد کے ۔
اَمۡ لَمۡ یَعۡرِفُوۡا رَسُوۡلَہُمۡ فَہُمۡ لَہٗ مُنۡکِرُوۡنَ ﴿۫۶۹﴾
یا انھوں نے اپنے رسول ( مکرم ) کو نہ پہچانا تھا اس لیے وہ اس کے منکر بنے رہے ۔
اَمۡ یَقُوۡلُوۡنَ بِہٖ جِنَّۃٌ ؕ بَلۡ جَآءَہُمۡ بِالۡحَقِّ وَاَکۡثَرُہُمۡ لِلۡحَقِّ کٰرِہُوۡنَ ﴿۷۰﴾
یا کہتے ہیں کہ اسے سودا کا مرض ہے ( یوں نہیں ) بلکہ وہ تشریف لایا ان کے حق کے ساتھ ۔ اور بہت سے لوگ ان میں سے حق کو ناپسند کرتے ہیں ۔
وَلَوِ اتَّبَعَ الۡحَقُّ اَہۡوَآءَہُمۡ لَفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَالۡاَرۡضُ وَمَنۡ فِیۡہِنَّ ؕ بَلۡ اَتَیۡنٰہُمۡ بِذِکۡرِہِمۡ فَہُمۡ عَنۡ ذِکۡرِہِمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ ﴿ؕ۷۱﴾
اور اگر پیروی کرتا حق ان کی خواہشات ( نفسانی ) کی تو درہم برہم ہو جاتے اور اور جو کچھ ان میں ہے ۔ بلکہ ہم ان کے لے آئے ان کی تو وہ اپنی سے ہی روگردانی کرنے والے ہیں ۔
اَمۡ تَسۡئَلُہُمۡ خَرۡجًا فَخَرَاجُ رَبِّکَ خَیۡرٌ ٭ۖ وَّہُوَ خَیۡرُ الرّٰزِقِیۡنَ ﴿۷۲﴾
کیا آپ طلب کرتے ہیں ان سے کچھ معاوضہ ؟ ( آپ کے لیے ) تو آپ کے رب کی عطا بہتر ہے اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے ۔
وَاِنَّکَ لَتَدۡعُوۡہُمۡ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ﴿۷۳﴾ ٙ
اور بیشک آپ تو انھیں بلاتے ہیں سیدھی راہ کی طرف ۔
وَاِنَّ الَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَۃِ عَنِ الصِّرَاطِ لَنٰکِبُوۡنَ ﴿۷۴﴾
بلاشبہ وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے پر ، وہ راہ راست سے منحرف ہونے والے ہیں ۔
وَلَوۡ رَحِمۡنٰہُمۡ وَکَشَفۡنَا مَابِہِمۡ مِّنۡ ضُرٍّ لَّلَجُّوۡا فِیۡ طُغۡیَانِہِمۡ یَعۡمَہُوۡنَ ﴿۷۵﴾
اور اگر ہم ان پر مہربانی بھی فرمائیں اور بھی کر دیں اس مصیبت کو جس میں مبتلا ہیں ، پھر بھی وہ بڑھتے جائیں گے اپنی میں اندھے بنے ہوئے ۔
وَلَقَدۡ اَخَذۡنٰہُمۡ بِالۡعَذَابِ فَمَا اسۡتَکَانُوۡا لِرَبِّہِمۡ وَمَا یَتَضَرَّعُوۡنَ ﴿۷۶﴾
اور ہم نے پکڑ لیا انھیں سے ، پھر بھی وہ نہ جھکے اپنے رب کی بارگاہ میں اور نہ وہ اب گڑگڑا کر ( توبہ کرتے ) ہیں ۔
حَتّٰۤی اِذَا فَتَحۡنَا عَلَیۡہِمۡ بَابًاذَا عَذَابٍ شَدِیۡدٍ اِذَا ہُمۡ فِیۡہِ مُبۡلِسُوۡنَ ﴿۷۷﴾٪ 4
یہاں تک کہ جب ہم کھول دیں گے ان پر دروازہ والا وہ اس بالکل مایوس ہو جائیں گے ۔
وَہُوَ الَّذِیۡۤ اَنۡشَاَ لَکُمُ السَّمۡعَ وَالۡاَبۡصَارَ وَالۡاَفۡئِدَۃَ ؕ قَلِیۡلًا مَّا تَشۡکُرُوۡنَ ﴿۷۸﴾
اور وہ وہی ہے جس نے بنائے تمہارے لیے کان اور آنکھیں اور ، لیکن ( ان عظیم نعمتوں پر بھی ) تم بہت شکر ادا کرتے ہو ۔
وَہُوَ الَّذِیۡ ذَرَاَکُمۡ فِی الۡاَرۡضِ وَاِلَیۡہِ تُحۡشَرُوۡنَ ﴿۷۹﴾
اور وہ وہی ہے جس نے پھیلا دیا تمہیں ( کے اطراف ) میں اور ( کار ) اسی کی جناب میں اکٹھے کیے جاؤ گے ۔
وَہُوَ الَّذِیۡ یُحۡیٖ وَیُمِیۡتُ وَلَہُ اخۡتِلَافُ الَّیۡلِ وَالنَّہَارِ ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۸۰﴾
اور وہ وہی ہے جو کرتا ہے اور مارتا ہے اور اسی کے میں ہے گردش لیل و نہار ۔ کیا ( اتنا بھی ) تم نہیں سمجھتے ۔
بَلۡ قَالُوۡا مِثۡلَ مَاقَالَ الۡاَوَّلُوۡنَ ﴿۸۱﴾
بلکہ انھوں نے بھی وہی کہی جو ( کفار ) کہا کرتے تھے ۔
قَالُوۡۤاءَ اِذَا مِتۡنَا وَکُنَّا تُرَابًا وَّعِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبۡعُوۡثُوۡنَ ﴿۸۲﴾
انھوں نے کہا ، کیا جب ہم مر جائیں گے اور بن جائیں گے خاک اور ہڈیاں تو کیا ہمیں پھر اٹھایا جائے گا ؟ ۔
لَقَدۡ وُعِدۡنَا نَحۡنُ وَاٰبَآؤُنَا ہٰذَا مِنۡ قَبۡلُ اِنۡ ہٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیۡرُ الۡاَوَّلِیۡنَ ﴿۸۳﴾
بلاشبہ یہ وعدہ کیا گیا ہم سے اور ہمارے دادا کے ساتھ بھی آج سے ( لیکن آج تک پورا نہ ) نہیں ہیں یہ باتیں مگر افسانے لوگوں کے ۔
قُلۡ لِّمَنِ الۡاَرۡضُ وَمَنۡ فِیۡہَاۤ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۸۴﴾
۔( اے حبیب ! ) آپ پوچھیے کس کی ملکیت ہے یہ اور جو کچھ اس میں ہے ( بتاؤ ) اگر تم جانتے ہو ۔
سَیَقُوۡلُوۡنَ لِلّٰہِ ؕ قُلۡ اَفَلَا تَذَکَّرُوۡنَ ﴿۸۵﴾
وہ کہیں گے ( یہ سب ) اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے ۔ آپ فرمائیے پھر کیا تم نہیں کرتے ۔
قُلۡ مَنۡ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ السَّبۡعِ وَرَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِیۡمِ ﴿۸۶﴾
پوچھیے کون ہے سات آسمانوں کا ، اور ( کون ہے ) عرش عظیم کا ؟ ۔
سَیَقُوۡلُوۡنَ لِلّٰہِ ؕ قُلۡ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴿۸۷﴾
وہ کہیں گے ( یہ سب ) اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے ۔ آپ فرمائیے تم اس سے کیوں نہیں ڈرتے ۔
قُلۡ مَنۡۢ بِیَدِہٖ مَلَکُوۡتُ کُلِّ شَیۡءٍ وَّہُوَ یُجِیۡرُ وَلَا یُجَارُ عَلَیۡہِ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۸۸﴾
آپ پوچھیے وہ کون ہے جس کے دست قدرت میں ہر چیز کی کامل ملکیت ہے اور وہ دیتا ہے ( جسے چاہے ) اور نہیں دی جا سکتی اس کی مرضی کے خلاف ( بتاؤ ) اگر تم کچھ علم رکھتے ہو ۔
سَیَقُوۡلُوۡنَ لِلّٰہِ ؕ قُلۡ فَاَنّٰی تُسۡحَرُوۡنَ ﴿۸۹﴾
وہ کہیں گے یہ اللہ تعالیٰ ہی کی شان ہے ۔ فرمائیے پھر کیسے تم دھوکہ میں مبتلا ہو جاتے ہو ۔
بَلۡ اَتَیۡنٰہُمۡ بِالۡحَقِّ وَاِنَّہُمۡ لَکٰذِبُوۡنَ ﴿۹۰﴾
حقیقت یہ ہے کہ ہم نے پہنچا دیا انھیں حق اور وہ یقیناً جھوٹے ہیں ۔
مَااتَّخَذَ اللّٰہُ مِنۡ وَّلَدٍ وَّمَا کَانَ مَعَہٗ مِنۡ اِلٰہٍ اِذًا لَّذَہَبَ کُلُّ اِلٰہٍۢ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعۡضُہُمۡ عَلٰی بَعۡضٍ ؕ سُبۡحٰنَ اللّٰہِ عَمَّا یَصِفُوۡنَ ﴿ۙ۹۱﴾
نہیں بنایا اللہ نے کسی کو ( اپنا ) اور نہ ہی اس کے ساتھ کوئی اور خدا ہے ورنہ لے جاتا ہر خدا ہر اس چیز کو جو اس نے کی ہوتی اور غلبہ حاصل کرنے کی کرتے وہ خدا ایک دوسرے پر ۔ ہے اللہ تعالیٰ ان تمام ( نازیبا ) باتوں سے جو وہ کرتے ہیں ۔
عٰلِمِ الۡغَیۡبِ وَالشَّہَادَۃِ فَتَعٰلٰی عَمَّا یُشۡرِکُوۡنَ ﴿۹۲﴾٪ 5
وہ جاننے والا ہے ہر پوشیدہ اور کو ، پس وہ ہے اس شرک سے جو وہ کرتے ہیں ۔
قُلۡ رَّبِّ اِمَّا تُرِیَنِّیۡ مَایُوۡعَدُوۡنَ ﴿ۙ۹۳﴾
آپ یہ مانگیے اے میرے پروردگار ! اگر تو ضرور مجھے دکھانا چاہتا ہے وہ ( ) جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے ۔
رَبِّ فَلَا تَجۡعَلۡنِیۡ فِی الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۹۴﴾
تو میرے رب ! ( ازراہ عنایت ) مجھے ان ظالموں کے ساتھ نہ کرنا ۔
وَاِنَّا عَلٰۤی اَنۡ نُّرِیَکَ مَانَعِدُہُمۡ لَقٰدِرُوۡنَ ﴿۹۵﴾
اور ہم اس پر کہ دکھا دیں تجھے وہ جس کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے ، قادر ہیں ۔
اِدۡفَعۡ بِالَّتِیۡ ہِیَ اَحۡسَنُ السَّیِّئَۃَ ؕ نَحۡنُ اَعۡلَمُ بِمَا یَصِفُوۡنَ ﴿۹۶﴾
دور کرو اس چیز سے جو بہت بہتر ہے کو ہم خوب جانتے ہیں جو باتیں وہ کرتے ہیں ۔
وَقُلۡ رَّبِّ اَعُوۡذُ بِکَ مِنۡ ہَمَزٰتِ الشَّیٰطِیۡنِ ﴿ۙ۹۷﴾
اور کہیے میرے رب ! میں طلب کرتا ہوں تیری شیطانوں کے وسوسوں سے ۔
وَاَعُوۡذُ بِکَ رَبِّ اَنۡ یَّحۡضُرُوۡنِ ﴿۹۸﴾
اور میں تیری طلب کرتا ہوں میرے رب اس سے کہ وہ میرے آئیں ۔
حَتّٰۤی اِذَا جَآءَ اَحَدَہُمُ الۡمَوۡتُ قَالَ رَبِّ ارۡجِعُوۡنِ ﴿ۙ۹۹﴾
یہاں تک کہ جب آئے گی ان میں سے کسی کو موت تو وہ ( بصد حسرت ) کہے گا میرے ! مجھے ( میں ) واپس بھیج دے ۔
لَعَلِّیۡۤ اَعۡمَلُ صَالِحًا فِیۡمَا تَرَکۡتُ کَلَّا ؕ اِنَّہَا کَلِمَۃٌ ہُوَ قَآئِلُہَا ؕ وَمِنۡ وَّرَآئِہِمۡ بَرۡزَخٌ اِلٰی یَوۡمِ یُبۡعَثُوۡنَ ﴿۱۰۰﴾
شاید میں اچھے کروں اس میں دوبارہ جا کر جسے میں ایک بار چھوڑ آیا ہوں ۔ ایسا نہیں ہو سکتا ۔ یہ ایک ( لغو ) ہے جو وہ کہہ رہا ہے ۔ اور ان کے آگے ایک ہے اس تک جب وہ دوبارہ کیے جائیں گے ۔
فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوۡرِ فَلَاۤ اَنۡسَابَ بَیۡنَہُمۡ یَوۡمَئِذٍ وَّلَا یَتَسَآءَلُوۡنَ ﴿۱۰۱﴾
تو جب صور پھونکا جائے گا تو کوئی رشتہ داریاں نہ رہیں گی ان کے اس روز اور نہ وہ ایک دوسرے کے متعلق پوچھ سکیں گے ۔
فَمَنۡ ثَقُلَتۡ مَوَازِیۡنُہٗ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴿۱۰۲﴾
البتہ کے پلڑے بھاری ہوں گے تو وہی لوگ و کامران ہوں گے ۔
وَمَنۡ خَفَّتۡ مَوَازِیۡنُہٗ فَاُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ فِیۡ جَہَنَّمَ خٰلِدُوۡنَ ﴿۱۰۳﴾ۚ
اور کے پلڑے ہلکے ہوں گے تو وہی لوگ ہیں جنھوں نے پہنچایا اپنے آپ کو ۔ وہ جہنم میں ( جلتے ) رہیں گے ۔
تَلۡفَحُ وُجُوۡہَہُمُ النَّارُ وَہُمۡ فِیۡہَا کٰلِحُوۡنَ ﴿۱۰۴﴾
بری طرح جھلس دے گی ان کے چہروں کو اور وہ اس میں دانت نکالے ہوں گے ۔
اَلَمۡ تَکُنۡ اٰیٰتِیۡ تُتۡلٰی عَلَیۡکُمۡ فَکُنۡتُمۡ بِہَا تُکَذِّبُوۡنَ ﴿۱۰۵﴾
۔( اب کیوں بسورتے ہو ؟ ) کیا ہماری آیتیں نہیں پڑھی جاتی تھیں تمہارے اور تم انھیں جھٹلایا کرتے تھے ۔
قَالُوۡا رَبَّنَا غَلَبَتۡ عَلَیۡنَا شِقۡوَتُنَا وَکُنَّا قَوۡمًا ضَآلِّیۡنَ ﴿۱۰۶﴾
۔( معذرت کرتے ہوئے ) کہیں گے اے ہمارے رب ! آ گئی تھی ہم پر ہماری اور ہم کردہ راہ لوگ تھے ۔
رَبَّنَاۤ اَخۡرِجۡنَا مِنۡہَا فَاِنۡ عُدۡنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوۡنَ ﴿۱۰۷﴾
اے ہمارے ! ( ایک بار ) ہمیں نکال اس سے پھر اگر ہم کی طرف کریں تو یقیناً پھر ہم ظالم ہوں گے ۔
قَالَ اخۡسَئُوۡا فِیۡہَا وَلَا تُکَلِّمُوۡنِ ﴿۱۰۸﴾
جواب ملے گا پھٹکارے ہوئے پڑے رہو اس میں اور مت بولو میرے ساتھ ۔
اِنَّہٗ کَانَ فَرِیۡقٌ مِّنۡ عِبَادِیۡ یَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَیۡرُ الرّٰحِمِیۡنَ ﴿۱۰۹﴾ۚۖ
۔( تمھیں ہے ) ایک گروہ میرے بندوں میں سے ایسا تھا جو عرض کیا کرتا تھا اے ہمارے رب ! ہم ایمان لے آئے ہیں ، سو تو بخش دے ہمیں اور رحم فرما ہم پر اور تو سب سے بہتر رحم فرمانے والا ہے ۔
فَاتَّخَذۡتُمُوۡہُمۡ سِخۡرِیًّا حَتّٰۤی اَنۡسَوۡکُمۡ ذِکۡرِیۡ وَکُنۡتُمۡ مِّنۡہُمۡ تَضۡحَکُوۡنَ ﴿۱۱۰﴾
تم نے ان کا اڑانا کر دیا ، حتی کہ اس مشغلہ نے کر دیا تمہیں میری سے اور تم ان پر قہقہے لگایا کرتے تھے ۔
اِنِّیۡ جَزَیۡتُہُمُ الۡیَوۡمَ بِمَا صَبَرُوۡۤا ۙ اَنَّہُمۡ ہُمُ الۡفَآئِزُوۡنَ ﴿۱۱۱﴾
میں نے دے دیا انھیں آج ان کے کا ( ذرا دیکھو ) وہی ہیں مراد کو پانے والے ۔
قٰلَ کَمۡ لَبِثۡتُمۡ فِی الۡاَرۡضِ عَدَدَ سِنِیۡنَ ﴿۱۱۲﴾
اللہ تعالیٰ فرمائے گا ( ذرا بتاؤ ) کتنے تم میں ٹھیرے رہے ؟
قَالُوۡا لَبِثۡنَا یَوۡمًا اَوۡ بَعۡضَ یَوۡمٍ فَسۡئَلِ الۡعَآدِّیۡنَ ﴿۱۱۳﴾
کہیں گے ہم ٹھیرے تھے بس ایک یا کا کچھ ۔ آپ پوچھ لیں گننے والوں سے ۔
قٰلَ اِنۡ لَّبِثۡتُمۡ اِلَّا قَلِیۡلًا لَّوۡ اَنَّکُمۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۱۴﴾
ارشاد ہو گا تم نہیں ٹھیرے مگر عرصہ ۔ کاش ! تم اس ( حقیقت ) کو ( ہی ) جان لیتے ۔
اَفَحَسِبۡتُمۡ اَنَّمَا خَلَقۡنٰکُمۡ عَبَثًا وَّاَنَّکُمۡ اِلَیۡنَا لَا تُرۡجَعُوۡنَ ﴿۱۱۵﴾
کیا تم نے یہ کر رکھا تھا کہ ہم نے تمہیں بے مقصد کیا ہے اور تم ہماری طرف نہیں لوٹائے جاؤ گے ۔
فَتَعٰلَی اللّٰہُ الۡمَلِکُ الۡحَقُّ ۚ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۚ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡکَرِیۡمِ ﴿۱۱۶﴾
پس بہت ہے اللہ جو بادشاہ حقیقی ہے ( بے مقصد تخلیق سے ) نہیں کوئی معبود بجز اس کے ۔ وہ ہے والے عرش کا ۔
وَمَنۡ یَّدۡعُ مَعَ اللّٰہِ اِلٰـہًا اٰخَرَ ۙ لَا بُرۡہَانَ لَہٗ بِہٖ ۙ فَاِنَّمَا حِسَابُہٗ عِنۡدَ رَبِّہٖ ؕ اِنَّہٗ لَا یُفۡلِحُ الۡکٰفِرُوۡنَ ﴿۱۱۷﴾
اور جو پوجتا ہے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو ، جس کی اس کے کوئی نہیں تو اس کا حساب اس کے رب کے ہے ۔ بلاشبہ نہیں ہوں گے حق کا کرنے والے ۔
وَقُلۡ رَّبِّ اغۡفِرۡ وَارۡحَمۡ وَاَنۡتَ خَیۡرُ الرّٰحِمِیۡنَ ﴿٪۱۱۸﴾ 6
اور ( اے محبوب ! ) آپ ( یوں ) عرض کرو میرے رب ! بخش دے ( میری گار امت کو ) اور رحم فرما ( ہم سب پر ) اور تو سب سے بہتر رحم فرمانے والا ہے ۔