الٓـمّٓ ۚ﴿۱﴾
الف ۔ لام ۔ میم
The Romans
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ ﴿١﴾
In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
الٓـمّٓ ۚ﴿۱﴾
الف ۔ لام ۔ میم
غُلِبَتِ الرُّوۡمُ ۙ﴿۲﴾
ہرا دیے گئے رومی ۔
فِیۡۤ اَدۡنَی الۡاَرۡضِ وَہُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ غَلَبِہِمۡ سَیَغۡلِبُوۡنَ ۙ﴿۳﴾
پاس کی میں اور وہ ہار جانے کے بعد ضرور آئیں گے ۔
فِیۡ بِضۡعِ سِنِیۡنَ ۬ ؕ لِلّٰہِ الۡاَمۡرُ مِنۡ قَبۡلُ وَمِنۡۢ بَعۡدُ ؕ وَیَوۡمَئِذٍ یَّفۡرَحُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ۙ﴿۴﴾
چند برس کے اللہ ہی کا ہے بھی اور بعد بھی اور اس روز ہوں گے اہل ایمان ۔
بِنَصۡرِ اللّٰہِ ؕ یَنۡصُرُ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَہُوَ الۡعَزِیۡزُ الرَّحِیۡمُ ۙ﴿۵﴾
اللہ تعالیٰ کی سے ۔ وہ فرماتا ہے جس کی چاہتا ہے اور وہی سب پر ہے رحم فرمانے والا ہے ۔
وَعۡدَ اللّٰہِ ؕ لَا یُخۡلِفُ اللّٰہُ وَعۡدَہٗ وَلٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۶﴾
یہ وعدہ اللہ نے کیا ہے اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرتا ، لیکن اکثر لوگ ( اس حقیقت کو ) نہیں جانتے ۔
یَعۡلَمُوۡنَ ظَاہِرًا مِّنَ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۚ ۖ وَہُمۡ عَنِ الۡاٰخِرَۃِ ہُمۡ غٰفِلُوۡنَ ﴿۷﴾
وہ جانتے ہیں دنیوی زندگی کے ظاہری کو اور وہ سے بالکل ہیں ۔
اَوَ لَمۡ یَتَفَکَّرُوۡا فِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ ۟ مَاخَلَقَ اللّٰہُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ وَمَا بَیۡنَہُمَاۤ اِلَّا بِالۡحَقِّ وَاَجَلٍ مُّسَمًّی ؕ وَاِنَّ کَثِیۡرًا مِّنَ النَّاسِ بِلِقَآیِٔ رَبِّہِمۡ لَکٰفِرُوۡنَ ﴿۸﴾
کیا انھوں نے کبھی نہیں کیا اپنے جی میں نہیں فرمایا اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور کو اور جو کچھ ان کے ہے مگر حق کے ساتھ اور ایک مقررہ تک کے لیے اور بلاشبہ اکثر لوگ اپنے رب کی ملاقات کے منکر ہیں ۔
اَوَ لَمۡ یَسِیۡرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ فَیَنۡظُرُوۡا کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ؕ کَانُوۡۤا اَشَدَّ مِنۡہُمۡ قُوَّۃً وَّاَثَارُوا الۡاَرۡضَ وَعَمَرُوۡہَاۤ اَکۡثَرَ مِمَّا عَمَرُوۡہَا وَجَآءَتۡہُمۡ رُسُلُہُمۡ بِالۡبَیِّنٰتِ ؕ فَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیَظۡلِمَہُمۡ وَلٰکِنۡ کَانُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ یَظۡلِمُوۡنَ ؕ﴿۹﴾
کیا انھوں نے سیر و سیاحت نہیں کی میں تاکہ وہ دیکھتے کیسا ان لوگوں کا جو ان سے تھے وہ تھے ان سے زور میں اور انھوں نے خوب ہل چلائے میں اور انھوں نے اسے کیا اس سے جتنا انھوں نے اسے کیا اور آئے ان کے ان کے رسول روشن نشانیاں لے کر ۔ پس نہ تھی اللہ کی یہ شان کہ وہ ان پر ظلم کرتا ، بلکہ وہ خود ہی اپنے آپ پر ظلم کرتے رہتے تھے ۔
ثُمَّ کَانَ عَاقِبَۃَ الَّذِیۡنَ اَسَآءُوا السُّوۡٓ اٰۤی اَنۡ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَکَانُوۡا بِہَا یَسۡتَہۡزِءُوۡنَ ﴿۱۰﴾٪ 4
آخرکار ان کا جنہوں نے کی تھی ، بہت برا کیونکہ انھوں نے جھٹلایا اللہ کی آیتوں کو اور وہ ان کے ساتھ کیا کرتے تھے ۔
اَللّٰہُ یَبۡدَؤُا الۡخَلۡقَ ثُمَّ یُعِیۡدُہٗ ثُمَّ اِلَیۡہِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴿۱۱﴾
اللہ تعالیٰ ابتدا کرتا ہے تخلیق کی پھر ( فنا کرنے کے بعد ) دوبارہ کرے گا اسے ، پھر اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے ۔
وَیَوۡمَ تَقُوۡمُ السَّاعَۃُ یُبۡلِسُ الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴿۱۲﴾
اور جس روز برپا ہو گی ، مجرموں کی آس ٹوٹ جائے گی ۔
وَلَمۡ یَکُنۡ لَّہُمۡ مِّنۡ شُرَکَآئِہِمۡ شُفَعٰٓؤُا وَکَانُوۡا بِشُرَکَآئِہِمۡ کٰفِرِیۡنَ ﴿۱۳﴾
اور نہیں ہوں گے ان کے لیے ان کے شریکوں میں سے شفاعت کرنے والے اور وہ اپنے شریکوں کے منکر ہو جائیں گے ۔
وَیَوۡمَ تَقُوۡمُ السَّاعَۃُ یَوۡمَئِذٍ یَّتَفَرَّقُوۡنَ ﴿۱۴﴾
اور جس روز برپا ہو گی اس وہ جدا جدا ہو جائیں گے ۔
فَاَمَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَہُمۡ فِیۡ رَوۡضَۃٍ یُّحۡبَرُوۡنَ ﴿۱۵﴾
تو وہ جو ایمان لائے تھے اور عمل کرتے رہے تھے وہ ( ) میں مسرور ( اور محترم ) ہوں گے ۔
وَاَمَّا الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَکَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا وَلِقَآیِٔ الۡاٰخِرَۃِ فَاُولٰٓئِکَ فِی الۡعَذَابِ مُحۡضَرُوۡنَ ﴿۱۶﴾
اور جنہوں نے کفر کیا تھا اور جھٹلایا تھا ہماری آیتوں کو اور کی ملاقات کو تو وہ میں رکھے جائیں گے ۔
فَسُبۡحٰنَ اللّٰہِ حِیۡنَ تُمۡسُوۡنَ وَحِیۡنَ تُصۡبِحُوۡنَ ﴿۱۷﴾
سو پاکی کرو اللہ تعالیٰ کی جب تم کرو اور جب تم صبح کرو ۔
وَلَہُ الۡحَمۡدُ فِی السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَعَشِیًّا وَّحِیۡنَ تُظۡہِرُوۡنَ ﴿۱۸﴾
اور اسی کے لیے ساری تعریفیں ہیں آسمانوں میں اور میں نیز ( پاکی کرو ) سہ پہر کو اور جب تم دوپہر کرتے ہو ۔
یُخۡرِجُ الۡحَیَّ مِنَ الۡمَیِّتِ وَیُخۡرِجُ الۡمَیِّتَ مِنَ الۡحَیِّ وَیُحۡیِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِہَا ؕ وَکَذٰلِکَ تُخۡرَجُوۡنَ ﴿۱۹﴾٪ 5
نکالتا ہے کو مردہ سے اور نکالتا ہے مردہ کو سے اور کرتا ہے کو اس کے مردہ ہونے کے بعد اور یونہی ( قبروں سے ) تمہیں نکالا جائے گا ۔
وَمِنۡ اٰیٰتِہٖۤ اَنۡ خَلَقَکُمۡ مِّنۡ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَاۤ اَنۡتُمۡ بَشَرٌ تَنۡتَشِرُوۡنَ ﴿۲۰﴾
اور اس کی ( قدرت کی ) نشانیوں میں سے ( ایک یہ ) ہے کہ اس نے کیا تمہیں سے پھر تم بشر بن کر ( میں ) پھیل رہے ہو ۔
وَمِنۡ اٰیٰتِہٖۤ اَنۡ خَلَقَ لَکُمۡ مِّنۡ اَنۡفُسِکُمۡ اَزۡوَاجًا لِّتَسۡکُنُوۡۤا اِلَیۡہَا وَجَعَلَ بَیۡنَکُمۡ مَّوَدَّۃً وَّرَحۡمَۃً ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یَّتَفَکَّرُوۡنَ ﴿۲۱﴾
اور اس کی ( قدرت کی ) ایک یہ ہے کہ اس نے فرمائیں تمہارے لیے تمہاری جنس سے بیویاں تاکہ تم سکون حاصل کرو ان سے اور فرما دیے تمہارے اور رحمت ( کے جذبات ) بیشک اس میں بہت نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو و فکر کرتے ہیں ۔
وَمِنۡ اٰیٰتِہٖ خَلۡقُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَاخۡتِلَافُ اَلۡسِنَتِکُمۡ وَاَلۡوَانِکُمۡ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّلۡعٰلِمِیۡنَ ﴿۲۲﴾
اور اس کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور کی تخلیق ہے نیز تمہاری زبانوں اور رنگت کا اختلاف ۔ بیشک اس میں بھی نشانیاں ہیں اہل علم کے لیے ۔
وَمِنۡ اٰیٰتِہٖ مَنَامُکُمۡ بِالَّیۡلِ وَالنَّہَارِ وَابۡتِغَآؤُکُمۡ مِّنۡ فَضۡلِہٖ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یَّسۡمَعُوۡنَ ﴿۲۳﴾
اور اس کی نشانیوں میں سے ہے تمہارا کے اور کے اور تمہارا تلاش کرنا اس کے فضل کو بلاشبہ اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ( سے ) سنتے ہیں ۔
وَمِنۡ اٰیٰتِہٖ یُرِیۡکُمُ الۡبَرۡقَ خَوۡفًا وَّطَمَعًا وَّیُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَیُحۡیٖ بِہِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِہَا ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یَّعۡقِلُوۡنَ ﴿۲۴﴾
اور اس کی ( قدرت کی ) نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ وہ دکھاتا ہے تمہیں ڈرانے اور دلانے کے لیے اور اتارتا ہے سے اور کرتا ہے اس سے کو اس کی موت کے بعد ۔ یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقلمند ہیں ۔
وَمِنۡ اٰیٰتِہٖۤ اَنۡ تَقُوۡمَ السَّمَآءُ وَالۡاَرۡضُ بِاَمۡرِہٖ ؕ ثُمَّ اِذَا دَعَاکُمۡ دَعۡوَۃً ٭ۖ مِّنَ الۡاَرۡضِ ٭ۖ اِذَاۤ اَنۡتُمۡ تَخۡرُجُوۡنَ ﴿۲۵﴾
اور اس کی قدرت کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ قائم ہے اور اس کے سے پھر جب بلائے گا تمہیں سے تو تم فوراً باہر نکل آؤ گے ۔
وَلَہٗ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ؕ کُلٌّ لَّہٗ قٰنِتُوۡنَ ﴿۲۶﴾
اور اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور میں ہے ۔ سب اس کے تابع فرمان ہیں ۔
وَہُوَ الَّذِیۡ یَبۡدَؤُا الۡخَلۡقَ ثُمَّ یُعِیۡدُہٗ وَہُوَ اَہۡوَنُ عَلَیۡہِ ؕ وَلَہُ الۡمَثَلُ الۡاَعۡلٰی فِی السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ۚ وَہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿٪۲۷﴾ ٙ 6
اور وہی ہے جو تخلیق کی ابتدا کرتا ہے پھر ( فنا کرنے کے بعد ) اسے دوبارہ بنائے گا اور یہ تر ہے اور اسی کے لیے برتر شان ہے آسمانوں اور میں اور وہی سب پر ، حکمت والا ہے ۔
ضَرَبَ لَکُمۡ مَّثَلًا مِّنۡ اَنۡفُسِکُمۡ ؕ ہَلۡ لَّکُمۡ مِّنۡ مَّا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُکُمۡ مِّنۡ شُرَکَآءَ فِیۡ مَارَزَقۡنٰکُمۡ فَاَنۡتُمۡ فِیۡہِ سَوَآءٌ تَخَافُوۡنَہُمۡ کَخِیۡفَتِکُمۡ اَنۡفُسَکُمۡ ؕ کَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الۡاٰیٰتِ لِقَوۡمٍ یَّعۡقِلُوۡنَ ﴿۲۸﴾
اللہ تعالیٰ کرتا ہے تمہارے لیے ایک مثال تمہارے ہی حالات میں سے ( یہ بتاؤ ) کیا تمہارے تمہارے دار ہوتے ہیں اس میں جو ہم نے تم کو عطا فرمایا ہے یوں کہ تم ( اور وہ ) اس میں کے دار بن جاؤ ۔ حتی کہ تم ڈرنے لگو ان سے جیسے تم ڈرتے ہو آپس میں ایک دوسرے سے ۔ یوں ہم کھول کر کرتے ہیں ( اپنی ) نشانیاں اس قوم کے لیے جو عقلمند ہے ۔
بَلِ اتَّبَعَ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡۤا اَہۡوَآءَہُمۡ بِغَیۡرِ عِلۡمٍ ۚ فَمَنۡ یَّہۡدِیۡ مَنۡ اَضَلَّ اللّٰہُ ؕ وَمَا لَہُمۡ مِّنۡ نّٰصِرِیۡنَ ﴿۲۹﴾
بلکہ پیروی کرتے رہے ظالم اپنی ( نفسانی ) خواہشات کی بغیر کسی کے پس کون دے سکتا ہے جسے ( پیہم کے باعث ) اللہ تعالیٰ گمراہ کر دے ۔ اور ان لوگوں کا کوئی نہیں ۔
فَاَقِمۡ وَجۡہَکَ لِلدِّیۡنِ حَنِیۡفًا ؕ فِطۡرَتَ اللّٰہِ الَّتِیۡ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیۡہَا ؕ لَا تَبۡدِیۡلَ لِخَلۡقِ اللّٰہِ ؕ ذٰلِکَ الدِّیۡنُ الۡقَیِّمُ ٭ۙ وَلٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿٭ۙ۳۰﴾
پس آپ کر لیں اپنا ( اسلام ) کی طرف پوری یک سوئی سے ( مضبوطی سے پکڑ لو ) اللہ کے کو جس کے مطابق اس نے لوگوں کو فرمایا ہے کوئی رد و نہیں ہو سکتا اللہ کی تخلیق میں یہی ہے لیکن اکثر لوگ ( اس حقیقت کو ) نہیں جانتے ۔
مُنِیۡبِیۡنَ اِلَیۡہِ وَاتَّقُوۡہُ وَاَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَلَا تَکُوۡنُوۡا مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ ﴿ۙ۳۱﴾
۔( اے غلامان مصطفیٰ تم بھی اپنا اسلام کر طرف کر لو ) اللہ کی طرف کرتے ہوئے اور ڈرو اس سے اور قائم کرو نماز کو اور نہ ہو جاؤ ( ان ) مشرکوں میں سے ۔
مِنَ الَّذِیۡنَ فَرَّقُوۡا دِیۡنَہُمۡ وَکَانُوۡا شِیَعًا ؕ کُلُّ حِزۡبٍۢ بِمَا لَدَیۡہِمۡ فَرِحُوۡنَ ﴿۳۲﴾
جنہوں نے پارہ پارہ کر دیا اپنے کو اور خود گروہ گروہ ہو گئے ہر گروہ جو اس کے ہے اسی پر ہیں ۔
وَاِذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ دَعَوۡا رَبَّہُمۡ مُّنِیۡبِیۡنَ اِلَیۡہِ ثُمَّ اِذَاۤ اَذَاقَہُمۡ مِّنۡہُ رَحۡمَۃً اِذَا فَرِیۡقٌ مِّنۡہُمۡ بِرَبِّہِمۡ یُشۡرِکُوۡنَ ﴿ۙ۳۳﴾
اور جب پہنچتی ہے لوگوں کو کوئی تو پکارنے لگتے ہیں اپنے رب کو کرتے ہوئے اس کی طرف ۔ پھر جب ( ان کی کو فرما کر ) چکھاتا ہے انھیں رحمت اپنی جناب سے تو یکایک ایک گروہ ان میں سے اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے لگتا ہے ۔
لِیَکۡفُرُوۡا بِمَاۤ اٰتَیۡنٰہُمۡ ؕ فَتَمَتَّعُوۡا ٝ فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۳۴﴾
۔( ! ) ناشکری کر لیں اس کی جو ہم نے دی ہے انھیں ، پس ( اے ناشکرو ! ) لطف اٹھا لو تمھیں ( اس کا ) معلوم ہو جائے گا ۔
اَمۡ اَنۡزَلۡنَا عَلَیۡہِمۡ سُلۡطٰنًا فَہُوَ یَتَکَلَّمُ بِمَا کَانُوۡا بِہٖ یُشۡرِکُوۡنَ ﴿۳۵﴾
کیا ہم نے اتاری ہے ان پر کوئی ۔ پس وہ گواہی دیتی ہے اس شرک ( کی سچائی ) کی جو وہ کرتے ہیں ۔
وَاِذَاۤ اَذَقۡنَا النَّاسَ رَحۡمَۃً فَرِحُوۡا بِہَا ؕ وَاِنۡ تُصِبۡہُمۡ سَیِّئَۃٌۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَیۡدِیۡہِمۡ اِذَا ہُمۡ یَقۡنَطُوۡنَ ﴿۳۶﴾
اور جب ہم چکھاتے ہیں لوگوں کو رحمت ( کا مزہ ) تو وہ اس پر پھولے نہیں سماتے اور اگر پہنچتی ہے انھیں کوئی بوجہ ان کرتوتوں کے جو آگے بھیجے ہیں ان کے ہاتھوں نے تو وہ مایوس ہو جاتے ہیں ۔
اَوَ لَمۡ یَرَوۡا اَنَّ اللّٰہَ یَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ یَّشَآءُ وَیَقۡدِرُ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یُّؤۡمِنُوۡنَ ﴿۳۷﴾
کیا انھوں نے ( بارہا ) مشاہدہ نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ کشادہ کر دیتا ہے رزق کو جس کے لیے چاہتا ہے اور کر دیتا ہے ( جس کے لیے چاہتا ہے ) بلاشبہ اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لے آئے ہیں ۔
فَاٰتِ ذَاالۡقُرۡبٰی حَقَّہٗ وَالۡمِسۡکِیۡنَ وَابۡنَالسَّبِیۡلِ ؕ ذٰلِکَ خَیۡرٌ لِّلَّذِیۡنَ یُرِیۡدُوۡنَ وَجۡہَ اللّٰہِ ۫ وَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴿۳۸﴾
پس دو کو اس کا حق نیز مسکین اور کو یہ بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو رضائے الہی کے طلبگار ہیں اور وہی لوگ دونوں جہانوں میں ہوں گے ۔
وَمَاۤ اٰتَیۡتُمۡ مِّنۡ رِّبًا لِّیَرۡبُوَا۠ فِیۡۤ اَمۡوَالِ النَّاسِ فَلَا یَرۡبُوۡا عِنۡدَ اللّٰہِ ۚ وَمَاۤ اٰتَیۡتُمۡ مِّنۡ زَکٰوۃٍ تُرِیۡدُوۡنَ وَجۡہَ اللّٰہِ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُضۡعِفُوۡنَ ﴿۳۹﴾
اور جو روپیہ تم دیتے ہو بیاج پر تاکہ وہ بڑھتا رہے لوگوں کے مالوں میں ( سن لو ! ) اللہ کے یہ نہیں بڑھتا اور جو زکوۃ تم دیتے ہو رضائے الہی کے طلبگار بن کر ، پس یہی لوگ ہیں ( جو اپنے مالوں کو ) کئی گنا کر لیتے ہیں ۔
اَللّٰہُ الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ ثُمَّ رَزَقَکُمۡ ثُمَّ یُمِیۡتُکُمۡ ثُمَّ یُحۡیِیۡکُمۡ ؕ ہَلۡ مِنۡ شُرَکَآئِکُمۡ مَّنۡ یَّفۡعَلُ مِنۡ ذٰلِکُمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ ؕ سُبۡحٰنَہٗ وَتَعٰلٰی عَمَّا یُشۡرِکُوۡنَ ﴿٪۴۰﴾ 7
اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے تمہیں فرمایا پھر تمہیں رزق دیا پھر ( مقررہ پر ) تمہیں مارے گا پھر تمہیں کرے گا کیا تمہارے ( ٹھیرائے ہوئے ) شریکوں میں بھی کوئی ہے جو کر سکتا ہو ان کاموں میں سے کوئی ۔ ہے اللہ تعالیٰ ( ہر عیب سے ) اور ہے ان سے جنہیں یہ ٹھیراتے ہیں ۔
ظَہَرَ الۡفَسَادُ فِی الۡبَرِّ وَالۡبَحۡرِ بِمَا کَسَبَتۡ اَیۡدِی النَّاسِ لِیُذِیۡقَہُمۡ بَعۡضَ الَّذِیۡ عَمِلُوۡا لَعَلَّہُمۡ یَرۡجِعُوۡنَ ﴿۴۱﴾
پھیل گیا ہے بر اور بحر میں بوجہ ان کرتوتوں کے جو لوگوں نے کیے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ چکھائے انھیں کچھ سزا ان کے ( برے ) کی شاید وہ آ جائیں ۔
قُلۡ سِیۡرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ فَانۡظُرُوۡا کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلُ ؕ کَانَ اَکۡثَرُہُمۡ مُّشۡرِکِیۡنَ ﴿۴۲﴾
۔( اے محبوب ! ) آپ ( انھیں ) فرمائیے سیر و سیاحت کرو میں اور دیکھو کیسا ان لوگوں کا جو ان سے گزرے ، ان میں سے اکثر مشرک تھے ۔
فَاَقِمۡ وَجۡہَکَ لِلدِّیۡنِ الۡقَیِّمِ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ یَّاۡتِیَ یَوۡمٌ لَّا مَرَدَّ لَہٗ مِنَ اللّٰہِ یَوۡمَئِذٍ یَّصَّدَّعُوۡنَ ﴿۴۳﴾
پس کر لو اپنا اس قیم کی طرف اس سے کہ آ جائے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جسے ٹلنا نہیں ۔ اس روز یہ لوگ جدا جدا ہو جائیں گے ۔
مَنۡ کَفَرَ فَعَلَیۡہِ کُفۡرُہٗ ۚ وَمَنۡ عَمِلَ صَالِحًا فَلِاَنۡفُسِہِمۡ یَمۡہَدُوۡنَ ﴿ۙ۴۴﴾
جس نے کفر کیا تو اس پر ہے اس کے کفر کا وبال اور جنہوں نے عمل کیے تو وہ اپنے لیے ہی راہ کر رہے ہیں ۔
لِیَجۡزِیَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنۡ فَضۡلِہٖ ؕ اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۴۵﴾
تاکہ اللہ تعالیٰ دے انھیں جو ایمان لائے اور عمل کرتے رہے اپنے فضل و کرم سے بیشک وہ نہیں کرتا کفار کو ۔
وَمِنۡ اٰیٰتِہٖۤ اَنۡ یُّرۡسِلَ الرِّیَاحَ مُبَشِّرٰتٍ وَّلِیُذِیۡقَکُمۡ مِّنۡ رَّحۡمَتِہٖ وَلِتَجۡرِیَ الۡفُلۡکُ بِاَمۡرِہٖ وَلِتَبۡتَغُوۡا مِنۡ فَضۡلِہٖ وَلَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَ ﴿۴۶﴾
اور اس کی قدرت کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ بھیجتا ہے ہواؤں کو ( کا ) مژدہ سناتے ہوئے ۔ نیز تاکہ وہ تمہیں چکھائے اپنی رحمت سے اور تاکہ چلیں کشتیاں اس کے سے اور تاکہ تم طلب کرو اس کے فضل سے اور تاکہ تم شکر ادا کرو ۔
وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِکَ رُسُلًا اِلٰی قَوۡمِہِمۡ فَجَآءُوۡہُمۡ بِالۡبَیِّنٰتِ فَانۡتَقَمۡنَا مِنَ الَّذِیۡنَ اَجۡرَمُوۡا ؕ وَکَانَ حَقًّا عَلَیۡنَا نَصۡرُ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۴۷﴾
اور بیشک ہم نے بھیجے آپ سے ان کی قوموں کی طرف ۔ پس وہ لے کر آئے ان کے روشن دلیلیں ۔ پس ہم نے لیا ان سے جنہوں نے جرم کیے اور ہمارے ذمہ کرم پر ہے اہل ایمان کی امداد فرمانا ۔
اَللّٰہُ الَّذِیۡ یُرۡسِلُ الرِّیٰحَ فَتُثِیۡرُ سَحَابًا فَیَبۡسُطُہٗ فِی السَّمَآءِ کَیۡفَ یَشَآءُ وَیَجۡعَلُہٗ کِسَفًا فَتَرَی الۡوَدۡقَ یَخۡرُجُ مِنۡ خِلٰلِہٖ ۚ فَاِذَاۤ اَصَابَ بِہٖ مَنۡ یَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِہٖۤ اِذَا ہُمۡ یَسۡتَبۡشِرُوۡنَ ﴿ۚ۴۸﴾
اللہ تعالیٰ ہی ہے جو بھیجتا ہے ہواؤں کو پس وہ اٹھاتی ہیں کو ۔ پس اللہ تعالیٰ پھیلا دیتا ہے اسے پر جس طرح چاہتا ہے اور کر دیتا ہے اسے ٹکڑے ٹکڑے ، پھر تو دیکھتا ہے کو کہ ٹپکنے لگتی ہے اس میں سے ، پھر جب پہنچاتا ہے اسے جس کو چاہتا ہے اپنے بندوں سے اس وہ خوشیاں منانے لگتے ہیں ۔
وَاِنۡ کَانُوۡا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ یُّنَزَّلَ عَلَیۡہِمۡ مِّنۡ قَبۡلِہٖ لَمُبۡلِسِیۡنَ ﴿۴۹﴾
اگرچہ وہ بندے اس سے کہ ان پر ہوتی مایوس ہو چکے تھے ۔
فَانۡظُرۡ اِلٰۤی اٰثٰرِ رَحۡمَتِ اللّٰہِ کَیۡفَ یُحۡیِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِہَا ؕ اِنَّ ذٰلِکَ لَمُحۡیِ الۡمَوۡتٰی ۚ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۵۰﴾
پس ( چشم ہوش سے ) دیکھو رحمت الہی کی علامتوں کی طرف ( تمھیں پتہ چلے گا ) کہ وہ کیسے کرتا ہے کو اس کے مردہ ہونے کے بعد ۔ بیشک وہی خدا مردوں کو کرنے والا ہے اور وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے ۔
وَلَئِنۡ اَرۡسَلۡنَا رِیۡحًا فَرَاَوۡہُ مُصۡفَرًّا لَّظَلُّوۡا مِنۡۢ بَعۡدِہٖ یَکۡفُرُوۡنَ ﴿۵۱﴾
اور اگر ہم بھیج دیتے ایسی ( جس کے اثر سے ) وہ دیکھتے اپنے سبز کھیتوں کو کہ وہ زرد ہو گئے ہیں ، تو اس کے باوجود وہ کفر پر اڑے رہتے ۔
فَاِنَّکَ لَا تُسۡمِعُ الۡمَوۡتٰی وَلَا تُسۡمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوۡا مُدۡبِرِیۡنَ ﴿۵۲﴾
پس آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے اور نہ آپ بہروں کو سنا سکتے ہیں اپنی پکار ( خصوصاً ) جب وہ پیٹھ پھیر کر جا رہے ہوں ۔
وَمَاۤ اَنۡتَ بِہٰدِ الۡعُمۡیِ عَنۡ ضَلٰلَتِہِمۡ ؕ اِنۡ تُسۡمِعُ اِلَّا مَنۡ یُّؤۡمِنُ بِاٰیٰتِنَا فَہُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ ﴿۵۳﴾٪ 8
اور نہ آپ دے سکتے ہیں اندھوں کو ان کی گمراہی سے ۔ آپ نہیں سناتے مگر انھیں جو ایمان لائے ہماری آیتوں پر پس وہ جھکائے ہوئے ہیں ۔
اَللّٰہُ الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ مِّنۡ ضُؔعۡفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنۡۢ بَعۡدِ ضُؔعۡفٍ قُوَّۃً ثُمَّ جَعَلَ مِنۡۢ بَعۡدِ قُوَّۃٍ ضُؔعۡفًا وَّشَیۡبَۃً ؕ یَخۡلُقُ مَایَشَآءُ ۚ وَہُوَ الۡعَلِیۡمُ الۡقَدِیۡرُ ﴿۵۴﴾
اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے تمہیں ( ابتدا میں ) فرمایا پھر عطا کی ( تمھیں ) کمزوری کے بعد پھر ۔ پھر کے بعد کمزوری اور بڑھاپا دے دیا ۔ کرتا ہے جو چاہتا ہے اور وہی سب کچھ جاننے والا بڑی قدرت والا ہے ۔
وَیَوۡمَ تَقُوۡمُ السَّاعَۃُ یُقۡسِمُ الۡمُجۡرِمُوۡنَ ۬ ۙ مَالَبِثُوۡا غَیۡرَ سَاعَۃٍ ؕ کَذٰلِکَ کَانُوۡا یُؤۡفَکُوۡنَ ﴿۵۵﴾
اور جس روز قائم ہو گی قسمیں اٹھائیں گے مجرم کہ انھیں ٹھیرے وہ ( میں ) مگر ایک ۔ یونہی وہ ( بھی ) غلط بیانی کیا کرتے تھے ۔
وَقَالَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ وَالۡاِیۡمَانَ لَقَدۡ لَبِثۡتُمۡ فِیۡ کِتٰبِ اللّٰہِ اِلٰی یَوۡمِ الۡبَعۡثِ ۫ فَہٰذَا یَوۡمُ الۡبَعۡثِ وَلٰکِنَّکُمۡ کُنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۵۶﴾
اور کہیں گے وہ لوگ جنہیں علم اور ایمان دیا گیا ( انہیں ) کہ تم ٹھیرے رہے ہو توشتہ الہی کے مطابق روز حشر تک پس یہ ( آ گیا ) ہے یوم محشر لیکن تم نہیں جانتے تھے ۔
فَیَوۡمَئِذٍ لَّا یَنۡفَعُ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا مَعۡذِرَتُہُمۡ وَلَا ہُمۡ یُسۡتَعۡتَبُوۡنَ ﴿۵۷﴾
پس اس نہ نفع دے گی ظالموں کو ان کی عذر خواہی اور نہ انھیں ہو گی کہ توبہ کر کے اللہ کو کر لیں ۔
وَلَقَدۡ ضَرَبۡنَا لِلنَّاسِ فِیۡ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنِ مِنۡ کُلِّ مَثَلٍ ؕ وَلَئِنۡ جِئۡتَہُمۡ بِاٰیَۃٍ لَّیَقُوۡلَنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا مُبۡطِلُوۡنَ ﴿۵۸﴾
اور بیشک ہم نے فرمائی ہے لوگوں ( کے بھلے ) کے لیے اس میں ہر کی مثال اور اگر آپ لے آئیں ان کے کوئی تو ( جواباً ) یہی کہیں گے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ، نہیں ہو تم مگر باطل پرست ۔
کَذٰلِکَ یَطۡبَعُ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوۡبِ الَّذِیۡنَ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۵۹﴾
یونہی لگا دیتا ہے اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے دلوں پر جو ( حق کو ) نہیں جانتے ۔
فَاصۡبِرۡ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰہِ حَقٌّ وَّلَا یَسۡتَخِفَّنَّکَ الَّذِیۡنَ لَا یُوۡقِنُوۡنَ ﴿۶۰﴾٪ 9
سو آپ فرمائیں بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے اور آپ کو پھسلا نہ دیں ( راہ حق سے ) وہ لوگ جو نہیں رکھتے ۔