یٰۤاَیُّہَا الۡمُدَّثِّرُ ۙ﴿۱﴾
اے لپیٹنے والے ۔
The Cloaked One
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ ﴿١﴾
In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
یٰۤاَیُّہَا الۡمُدَّثِّرُ ۙ﴿۱﴾
اے لپیٹنے والے ۔
قُمۡ فَاَنۡذِرۡ ۪ۙ﴿۲﴾
اٹھیے اور ( لوگوں کو ) ڈرائیے ۔
وَرَبَّکَ فَکَبِّرۡ ۪﴿ۙ۳﴾
اور اپنے پروردگار کی بڑائی کیجیے ۔
وَثِیَابَکَ فَطَہِّرۡ ۪﴿ۙ۴﴾
اور اپنے لباس کو رکھیے ۔
وَالرُّجۡزَ فَاہۡجُرۡ ۪﴿ۙ۵﴾
اور بتوں سے ( حسب سابق ) رہیے ۔
وَلَا تَمۡنُنۡ تَسۡتَکۡثِرُ ۪﴿ۙ۶﴾
اور کسی پر نہ کیجیے لینے کی نیت سے ۔
وَلِرَبِّکَ فَاصۡبِرۡ ؕ﴿۷﴾
اور اپنے رب ( کی رضا ) کے لیے کیجیے ۔
فَاِذَا نُقِرَ فِی النَّاقُوۡرِ ۙ﴿۸﴾
پھر جب صور پھونکا جائے گا ۔
فَذٰلِکَ یَوۡمَئِذٍ یَّوۡمٌ عَسِیۡرٌ ۙ﴿۹﴾
تو وہ بڑا ہو گا ۔
عَلَی الۡکٰفِرِیۡنَ غَیۡرُ یَسِیۡرٍ ﴿۱۰﴾
کفار پر نہ ہو گا ۔
ذَرۡنِیۡ وَمَنۡ خَلَقۡتُ وَحِیۡدًا ﴿ۙ۱۱﴾
آپ چھوڑ دیجیے مجھے اور جس کو میں نے تنہا کیا ہے ۔
وَّجَعَلۡتُ لَہٗ مَالًا مَّمۡدُوۡدًا ﴿ۙ۱۲﴾
اور دے دیا ہے اس کو کثیر ۔
وَّبَنِیۡنَ شُہُوۡدًا ﴿ۙ۱۳﴾
اور بیٹے دیے ہیں جو رہنے والے ہیں ۔
وَّمَہَّدۡتُّ لَہٗ تَمۡہِیۡدًا ﴿ۙ۱۴﴾
اور مہیا کر دیا ہے اسے ہر کا ۔
ثُمَّ یَطۡمَعُ اَنۡ اَزِیۡدَ ﴿٭ۙ۱۵﴾
پھر کرتا ہے کہ میں اسے مزید عطا کروں ۔
کَلَّا ؕ اِنَّہٗ کَانَ لِاٰیٰتِنَا عَنِیۡدًا ﴿ؕ۱۶﴾
ہرگز نہیں وہ ہماری آیتوں کا ہے ۔
سَاُرۡہِقُہٗ صَعُوۡدًا ﴿ؕ۱۷﴾
میں اسے مجبور کروں گا کہ وہ کٹھن چڑھائی چڑھے ۔
اِنَّہٗ فَکَّرَ وَقَدَّرَ ﴿ۙ۱۸﴾
اس نے کیا اور پھر ایک طے کر لی ۔
فَقُتِلَ کَیۡفَ قَدَّرَ ﴿ۙ۱۹﴾
اس پر پھٹکار اس نے کتنی بری طے کی ۔
ثُمَّ قُتِلَ کَیۡفَ قَدَّرَ ﴿ۙ۲۰﴾
اس پر پھر پھٹکار ، کیسی بری اس نے طے کی ۔
ثُمَّ نَظَرَ ﴿ۙ۲۱﴾
پھر دیکھا ۔
ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ ﴿ۙ۲۲﴾
پھر بسورا اور ترش رو ۔
ثُمَّ اَدۡبَرَ وَاسۡتَکۡبَرَ ﴿ۙ۲۳﴾
پھر پیٹھ پھیری اور غرور کیا ۔
فَقَالَ اِنۡ ہٰذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ یُّؤۡثَرُ ﴿ۙ۲۴﴾
پھر بولا یہ نہیں ہے مگر جادو جو پہلوں سے چلا آتا ہے ۔
اِنۡ ہٰذَاۤ اِلَّا قَوۡلُ الۡبَشَرِ ﴿ؕ۲۵﴾
یہ نہیں مگر کا کلام ۔
سَاُصۡلِیۡہِ سَقَرَ ﴿۲۶﴾
عنقریب میں اسے جہنم میں جھونکوں گا ۔
وَمَاۤ اَدۡرٰىکَ مَاسَقَرُ ﴿ؕ۲۷﴾
اور تو کیا سمجھے کہ جہنم کیا ہے ۔
لَا تُبۡقِیۡ وَلَا تَذَرُ ﴿ۚ۲۸﴾
نہ رکھے اور نہ چھوڑے ۔
لَوَّاحَۃٌ لِّلۡبَشَرِ ﴿۲۹﴾ۚ ۖ
جھلسا دینے والی آدمی کی کو ۔
عَلَیۡہَا تِسۡعَۃَ عَشَرَ ﴿ؕ۳۰﴾
اس پر انیس فرشتے ہیں ۔
وَمَا جَعَلۡنَاۤ اَصۡحٰبَ النَّارِ اِلَّا مَلٰٓئِکَۃً ۪ وَّمَا جَعَلۡنَا عِدَّتَہُمۡ اِلَّا فِتۡنَۃً لِّلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ۙ لِیَسۡتَیۡقِنَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ وَیَزۡدَادَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِیۡمَانًا وَّلَا یَرۡتَابَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ وَالۡمُؤۡمِنُوۡنَ ۙ وَلِیَقُوۡلَ الَّذِیۡنَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ مَّرَضٌ وَّالۡکٰفِرُوۡنَ مَاذَاۤ اَرَادَ اللّٰہُ بِہٰذَا مَثَلًا ؕ کَذٰلِکَ یُضِلُّ اللّٰہُ مَنۡ یَّشَآءُ وَیَہۡدِیۡ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَمَا یَعۡلَمُ جُنُوۡدَ رَبِّکَ اِلَّا ہُوَ ؕ وَمَا ہِیَ اِلَّا ذِکۡرٰی لِلۡبَشَرِ ﴿٪۳۱﴾ 15
اور ہم نے نہیں کیے کے داروغے مگر فرشتے اور نہیں بنایا ہم نے ان کی تعداد کو مگر ان لوگوں کے لیے جنہوں نے کفر کیا ، تاکہ کر لیں اھل اور بڑھ جائے اہل ایمان کا ایمان اور نہ میں مبتلا ہوں اھل اور مومن اور تاکہ کہنے لگیں کے دلوں میں روگ ہے اور کفار ، کیا کیا ہے اللہ نے اس سے یونہی اللہ تعالیٰ ( ایک ہی سے ) گمراہ کر دیتا ہے جس کو چاہتا ہے اور بخشتا ہے جس کو چاہتا ہے اور کوئی نہیں جانتا آپ کے رب کے لشکروں کو بغیر اس کے اور نہیں ہے یہ مگر لوگوں کے لیے ۔
کَلَّا وَالۡقَمَرِ ﴿ۙ۳۲﴾
ہاں ہاں ! کی ۔
وَالَّیۡلِ اِذۡ اَدۡبَرَ ﴿ۙ۳۳﴾
اور کی جب وہ پیٹھ پھیرنے لگے ۔
وَالصُّبۡحِ اِذَاۤ اَسۡفَرَ ﴿ۙ۳۴﴾
اور صبح کی جب روشن ہو جائے ۔
اِنَّہَا لَاِحۡدَی الۡکُبَرِ ﴿ۙ۳۵﴾
یقیناً بڑی آفتوں میں سے ایک آفت ہے ۔
نَذِیۡرًا لِّلۡبَشَرِ ﴿ۙ۳۶﴾
ڈراوا ہے لوگوں کے لیے ۔
لِمَنۡ شَآءَ مِنۡکُمۡ اَنۡ یَّتَقَدَّمَ اَوۡ یَتَاَخَّرَ ﴿ؕ۳۷﴾
ان کے لیے جو تم میں سے آگے چاہتے ہیں یا رہنا چاہتے ہیں ۔
کُلُّ نَفۡسٍ ۢ بِمَا کَسَبَتۡ رَہِیۡنَۃٌ ﴿ۙ۳۸﴾
ہر نفس اپنے عملوں میں ہے ۔
اِلَّاۤ اَصۡحٰبَ الۡیَمِیۡنِ ﴿۳۹﴾ؕ ۛ
سوائے اصحاب یمین کے ۔
فِیۡ جَنّٰتٍ ۟ ؕ ۛ یَتَسَآءَلُوۡنَ ﴿۴۰﴾ۙ
جو جنتوں میں ہوں گے ، اہل پوچھیں گے
عَنِ الۡمُجۡرِمِیۡنَ ﴿ۙ۴۱﴾
مجرموں سے ۔
مَاسَلَکَکُمۡ فِیۡ سَقَرَ ﴿۴۲﴾
کہ کس جرم نے تم کو میں کیا ۔
قَالُوۡا لَمۡ نَکُ مِنَ الۡمُصَلِّیۡنَ ﴿ۙ۴۳﴾
وہ کہیں گے ہم نماز نہیں پڑھا کرتے تھے ۔
وَلَمۡ نَکُ نُطۡعِمُ الۡمِسۡکِیۡنَ ﴿ۙ۴۴﴾
اور مسکین کو بھی نہیں کھلایا کرتے تھے ۔
وَکُنَّا نَخُوۡضُ مَعَ الۡخَآئِضِیۡنَ ﴿ۙ۴۵﴾
اور ہم ہرزہ سرائی کرنے والوں کے ساتھ ہرزہ سرائی میں لگے رہتے ۔
وَکُنَّا نُکَذِّبُ بِیَوۡمِ الدِّیۡنِ ﴿ۙ۴۶﴾
اور ہم جھٹلایا کرتے تھے روز جزا کو ۔
حَتّٰۤی اَتٰىنَا الۡیَقِیۡنُ ﴿ؕ۴۷﴾
یہاں تک کہ ہمیں موت نے آ لیا ۔
فَمَا تَنۡفَعُہُمۡ شَفَاعَۃُ الشّٰفِعِیۡنَ ﴿ؕ۴۸﴾
پس انھیں کوئی نہ پہنچائے گی شفاعت کرنے والوں کی شفاعت ۔
فَمَا لَہُمۡ عَنِ التَّذۡکِرَۃِ مُعۡرِضِیۡنَ ﴿ۙ۴۹﴾
پس انھیں کیا ہو گیا ہے کہ وہ اس سے روگرداں ہیں ۔
کَاَنَّہُمۡ حُمُرٌ مُّسۡتَنۡفِرَۃٌ ﴿ۙ۵۰﴾
گویا وہ بھڑکے ہوئے جنگلی گدھے ہیں ۔
فَرَّتۡ مِنۡ قَسۡوَرَۃٍ ﴿ؕ۵۱﴾
جو بھاگے جا رہے ہیں شیر سے ۔
بَلۡ یُرِیۡدُ کُلُّ امۡرِئٍ مِّنۡہُمۡ اَنۡ یُّؤۡتٰی صُحُفًا مُّنَشَّرَۃً ﴿ۙ۵۲﴾
بلکہ ان میں سے ہر شخص چاہتا ہے کہ ان کو کھلے ہوئے صحیفے دیے جائیں ۔
کَلَّا ؕ بَلۡ لَّا یَخَافُوۡنَ الۡاٰخِرَۃَ ﴿ؕ۵۳﴾
ایسا ہرگز نہیں ہو گا ، دراصل وہ سے ڈرتے ہی نہیں ۔
کَلَّاۤ اِنَّہٗ تَذۡکِرَۃٌ ﴿ۚ۵۴﴾
ہاں ہاں یہ تو ہے ۔
فَمَنۡ شَآءَ ذَکَرَہٗ ﴿ؕ۵۵﴾
پس جس کا جی چاہے حاصل کرے ۔
وَمَا یَذۡکُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ یَّشَآءَ اللّٰہُ ؕ ہُوَ اَہۡلُ التَّقۡوٰی وَاَہۡلُ الۡمَغۡفِرَۃِ ﴿۵۶﴾٪ ؓ 16
اور وہ نہیں کریں گے بجز اس کے کہ اللہ تعالیٰ چاہے ۔