اَتٰۤی اَمۡرُ اللّٰہِ فَلَا تَسۡتَعۡجِلُوۡہُ ؕ سُبۡحٰنَہٗ وَتَعٰلٰی عَمَّا یُشۡرِکُوۡنَ ﴿۱﴾
قریب آ گیا ہے الہی پس اس کے لیے عجلت نہ کرو ۔ ہے اللہ تعالیٰ اور برتر ہے اس شرک سے جو وہ کر رہے ہیں ۔
The Bee
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ ﴿١﴾
In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
اَتٰۤی اَمۡرُ اللّٰہِ فَلَا تَسۡتَعۡجِلُوۡہُ ؕ سُبۡحٰنَہٗ وَتَعٰلٰی عَمَّا یُشۡرِکُوۡنَ ﴿۱﴾
قریب آ گیا ہے الہی پس اس کے لیے عجلت نہ کرو ۔ ہے اللہ تعالیٰ اور برتر ہے اس شرک سے جو وہ کر رہے ہیں ۔
یُنَزِّلُ الۡمَلٰٓئِکَۃَ بِالرُّوۡحِ مِنۡ اَمۡرِہٖ عَلٰی مَنۡ یَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِہٖۤ اَنۡ اَنۡذِرُوۡۤا اَنَّہٗ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّاۤ اَنَا فَاتَّقُوۡنِ ﴿۲﴾
اتارتا ہے فرشتوں کو روح ( یعنی وحی ) کے ساتھ اپنے سے جس پر چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے کہ خبردار کرو ( لوگوں کو ) کہ نہیں کوئی معبود سوائے میرے پس مجھ سے ہی ڈرا کرو ۔
خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ بِالۡحَقِّ ؕ تَعٰلٰی عَمَّا یُشۡرِکُوۡنَ ﴿۳﴾
اس نے فرمایا کو اور کو حق کے ساتھ ۔ وہ برتر ہے اس شرک سے جو وہ کر رہے ہیں ۔
خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ مِنۡ نُّطۡفَۃٍ فَاِذَا ہُوَ خَصِیۡمٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۴﴾
اس نے فرمایا کو نطفہ سے پس اب وہ برملا جھگڑالو بن گیا ہے ۔
وَالۡاَنۡعَامَ خَلَقَہَا ۚ لَکُمۡ فِیۡہَا دِفۡءٌ وَّمَنَافِعُ وَمِنۡہَا تَاۡکُلُوۡنَ ﴿۪۵﴾
نیز اس نے جانوروں کو کیا تمہارے لیے ان میں گرم لباس بھی ہے اور دیگر فائدے ہیں اور انھیں ( کا گوشت ) تم کھاتے ہو ۔
وَلَکُمۡ فِیۡہَا جَمَالٌ حِیۡنَ تُرِیۡحُوۡنَ وَحِیۡنَ تَسۡرَحُوۡنَ ﴿۪۶﴾
اور تمہارے لیے ان میں زیب و بھی ہے جب تم کو ( چرا کر ) انھیں لاتے ہو اور جب تم صبح ان کو چرانے لیجاتے ہو ۔
وَتَحۡمِلُ اَثۡقَالَکُمۡ اِلٰی بَلَدٍ لَّمۡ تَکُوۡنُوۡا بٰلِغِیۡہِ اِلَّا بِشِقِّ الۡاَنۡفُسِ ؕ اِنَّ رَبَّکُمۡ لَرَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ ۙ﴿۷﴾
اور ( یہ جانور ) اٹھا لے جاتے ہیں تمہارے ان شہروں تک جہاں تم نہیں پہنچ سکتے مگر سے بیشک تمہارا رب بہت ( اور ) رحم فرمانے والا ہے ۔
وَّالۡخَیۡلَ وَالۡبِغَالَ وَالۡحَمِیۡرَ لِتَرۡکَبُوۡہَا وَزِیۡنَۃً ؕ وَیَخۡلُقُ مَالَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۸﴾
اور اس نے کیے گھوڑے اور خچر اور گدھے تاکہ تم ان پر سواری کرو اور ( تمھارے لیے ان میں ) ہے ، اور فرمائے گا ایسی سواریوں کو جو تم نہیں جانتے ۔
وَعَلَی اللّٰہِ قَصۡدُ السَّبِیۡلِ وَمِنۡہَا جَآئِرٌ ؕ وَلَوۡ شَآءَ لَہَدٰىکُمۡ اَجۡمَعِیۡنَ ﴿٪۹﴾ 7
اور اللہ تعالیٰ کے ذمہ کرم پر ہے راہ راست کو دلائل سے واضح کرنا اور ان میں غلط راہیں بھی ہیں اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو تم سب کو دے دیتا ۔
ہُوَ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً لَّکُمۡ مِّنۡہُ شَرَابٌ وَّمِنۡہُ شَجَرٌ فِیۡہِ تُسِیۡمُوۡنَ ﴿۱۰﴾
اللہ تعالیٰ وہ ہے جس نے اتارا سے تمہارے لیے اس میں سے کچھ پینے کے آتا ہے اور اس سے سبزہ اگتا ہے جس میں تم ( مویشی ) چراتے ہو ۔
یُنۡۢبِتُ لَکُمۡ بِہِ الزَّرۡعَ وَالزَّیۡتُوۡنَ وَالنَّخِیۡلَ وَالۡاَعۡنَابَ وَمِنۡ کُلِّ الثَّمَرٰتِ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوۡمٍ یَّتَفَکَّرُوۡنَ ﴿۱۱﴾
اگاتا ہے تمہارے لیے اس کے ( طرح طرح کے ) کھیت اور زیتون اور اور انگور اور ( انکے علاوہ ) ہر کے ۔ یقیناً ان تمام چیزوں میں ( قدرت الہٰی کی ) ہے اس قوم کے لیے جو و فکر کرتی ہے ۔
وَسَخَّرَ لَکُمُ الَّیۡلَ وَالنَّہَارَ ۙ وَالشَّمۡسَ وَالۡقَمَرَ ؕ وَالنُّجُوۡمُ مُسَخَّرٰتٌۢ بِاَمۡرِہٖ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یَّعۡقِلُوۡنَ ﴿ۙ۱۲﴾
اور اللہ تعالیٰ نے فرما دیا تمہارے لیے ، سورج اور کو اور تمام ستارے بھی اس کے کے پابند ہیں بیشک ان تمام چیزوں میں ( قدرت الٰہی کی ) نشانیاں ہیں اس قوم کے لیے جو دانشمند ہے ۔
وَمَا ذَرَاَ لَکُمۡ فِی الۡاَرۡضِ مُخۡتَلِفًا اَلۡوَانُہٗ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوۡمٍ یَّذَّکَّرُوۡنَ ﴿۱۳﴾
اور ( علاوہ ازیں ) جو فرمایا تمہارے لیے میں ( اسے بھی کر دیا ) الگ ہے ان کا و روپ ۔ یقیناً ان میں ( قدرت الٰہی کی ) ہے ۔ ان لوگوں کے لیے جو کرتے ہیں ۔
وَہُوَ الَّذِیۡ سَخَّرَ الۡبَحۡرَ لِتَاۡکُلُوۡا مِنۡہُ لَحۡمًا طَرِیًّا وَّتَسۡتَخۡرِجُوۡا مِنۡہُ حِلۡیَۃً تَلۡبَسُوۡنَہَا ۚ وَتَرَی الۡفُلۡکَ مَوَاخِرَ فِیۡہِ وَلِتَبۡتَغُوۡا مِنۡ فَضۡلِہٖ وَلَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَ ﴿۱۴﴾
اور وہی ہے جس نے پابند کر دیا ہے سمندر کو تاکہ تم کھاؤ اس سے گوشت اور نکالو اس سے زیور جسے تم پہنتے ہو اور تو دیکھتا ہے کشتیوں کو کہ موجوں کو چیر کر جا رہی ہوتی ہیں سمندر میں تاکہ ( ان کے ) تم تلاش کرواللہ تعالیٰ کے فضل ( رزق ) کو تاکہ تم ( اس کا ) شکر ادا کرتے رہو ۔
وَاَلۡقٰی فِی الۡاَرۡضِ رَوَاسِیَ اَنۡ تَمِیۡدَ بِکُمۡ وَاَنۡہٰرًا وَّسُبُلًا لَّعَلَّکُمۡ تَہۡتَدُوۡنَ ﴿ۙ۱۵﴾
اور اللہ تعالیٰ نے گاڑ دیے ہیں میں اونچے اونچے تاکہ لرزتی نہ رہے تمہارے ساتھ اور نہریں جاری کر دیں اور راستے بنا دیے تاکہ تم ( اپنی منزل کی ) راہ پا سکو ۔
وَعَلٰمٰتٍ ؕ وَبِالنَّجۡمِ ہُمۡ یَہۡتَدُوۡنَ ﴿۱۶﴾
اور راستوں پر علامتیں بنا دی ہیں اور ستاروں کے سے وہ راہ یاب ہوتے ہیں ۔
اَفَمَنۡ یَّخۡلُقُ کَمَنۡ لَّا یَخۡلُقُ ؕ اَفَلَا تَذَکَّرُوۡنَ ﴿۱۷﴾
کیا وہ ذات جس نے سب کچھ فرمایا اس کی مانند ہو سکتی ہے جس نے کچھ بھی نہیں بنایا ، کیا تم اتنا بھی نہیں کرتے ۔
وَاِنۡ تَعُدُّوۡا نِعۡمَۃَ اللّٰہِ لَا تُحۡصُوۡہَا ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَغَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۸﴾
اور اگر تم شمار کرنا چاہو اللہ کی نعمتوں کو تو تم انھیں گن نہیں سکو گے یقیناً اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے ۔
وَاللّٰہُ یَعۡلَمُ مَاتُسِرُّوۡنَ وَمَا تُعۡلِنُوۡنَ ﴿۱۹﴾
اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اور جو تم کرتے ہو ۔
وَالَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ لَا یَخۡلُقُوۡنَ شَیۡئًا وَّہُمۡ یُخۡلَقُوۡنَ ﴿ؕ۲۰﴾
اور جو لوگ پوجتے ہیں اللہ کے سوا ( غیروں کو ) وہ نہیں کر سکتے کوئی چیز بلکہ وہ خود کیے گئے ہیں ۔
اَمۡوَاتٌ غَیۡرُ اَحۡیَآءٍ ۚ وَمَا یَشۡعُرُوۡنَ ۙ اَیَّانَ یُبۡعَثُوۡنَ ﴿٪۲۱﴾ 8
وہ مردہ ہیں وہ نہیں ۔ اور وہ نہیں سمجھتے کہ کب انھیں اٹھایا جائے گا ۔
اِلٰـہُکُمۡ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ ۚ فَالَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَۃِ قُلُوۡبُہُمۡ مُّنۡکِرَۃٌ وَّہُمۡ مُّسۡتَکۡبِرُوۡنَ ﴿۲۲﴾
تمہارا خدا ( بس ) خدائے واحد ہے پس جو لوگ ایمان نہیں لاتے پر ان کے منکر ہیں اور وہ مغرور ہیں ۔
لَاجَرَمَ اَنَّ اللّٰہَ یَعۡلَمُ مَایُسِرُّوۡنَ وَمَا یُعۡلِنُوۡنَ ؕ اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الۡمُسۡتَکۡبِرِیۡنَ ﴿۲۳﴾
یقیناً اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیں اور جو وہ کرتے ہیں ۔ بیشک وہ نہیں کرتا غرور و کرنے والوں کو ۔
وَاِذَا قِیۡلَ لَہُمۡ مَّاذَاۤ اَنۡزَلَ رَبُّکُمۡ ۙ قَالُوۡۤا اَسَاطِیۡرُ الۡاَوَّلِیۡنَ ﴿ۙ۲۴﴾
اور جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا نازل فرمایا ہے تمہارے پروردگار نے کہتے ہیں ( کچھ نہیں ) یہ تو لوگوں کے قصے ہیں ۔
لِیَحۡمِلُوۡۤا اَوۡزَارَہُمۡ کَامِلَۃً یَّوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ۙ وَمِنۡ اَوۡزَارِ الَّذِیۡنَ یُضِلُّوۡنَہُمۡ بِغَیۡرِ عِلۡمٍ ؕ اَلَا سَآءَ مَایَزِرُوۡنَ ﴿٪۲۵﴾ 9
تاکہ ( اس ہرزہ سرائی کے باعث ) وہ اٹھائیں اپنے ( گناہوں کے ) پورے کے اور ان لوگوں کے بھی اٹھائیں جنہیں وہ گمراہ کرتے رہے ہیں جہالت سے ۔ کتنا برا ( اور گراں ) ہے یہ جسے وہ اپنے اوپر لاد رہے ہیں ۔
قَدۡ مَکَرَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ فَاَتَی اللّٰہُ بُنۡیَانَہُمۡ مِّنَ الۡقَوَاعِدِ فَخَرَّ عَلَیۡہِمُ السَّقۡفُ مِنۡ فَوۡقِہِمۡ وَاَتٰىہُمُ الۡعَذَابُ مِنۡ حَیۡثُ لَا یَشۡعُرُوۡنَ ﴿۲۶﴾
۔( دعوت حق کے خلاف ) مکر و فریب کیا کرتے تھے وہ لوگ جو ان منکرین سے گزرے پس اللہ تعالیٰ نے ان کے ( فریب ) کی عمارت جڑوں سے اکھیڑ کر رکھ دی پس گر پڑی ان پر ان کے اوپر سے اور آ گیا ان پر جہاں سے انھیں خیال و بھی نہ تھا ۔
ثُمَّ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ یُخۡزِیۡہِمۡ وَیَقُوۡلُ اَیۡنَ شُرَکَآءِیَ الَّذِیۡنَ کُنۡتُمۡ تُشَآقُّوۡنَ فِیۡہِمۡ ؕ قَالَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ اِنَّ الۡخِزۡیَ الۡیَوۡمَ وَالسُّوۡٓءَ عَلَی الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿ۙ۲۷﴾
اس کے بعد روز اللہ تعالیٰ انھیں و رسوا کرے گا اور ( ان سے ) پوچھے گا کہاں ہیں وہ میرے کے بارے میں تم جھگڑا کیا کرتے تھے ۔ کہیں گے وہ لوگ جنہیں علم دیا گیا ہے کہ بلاشبہ آج ہر کی رسوائی اور بربادی کافروں کے لیے ہے ۔
الَّذِیۡنَ تَتَوَفّٰىہُمُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ ظَالِمِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ ۪ فَاَلۡقَوُا السَّلَمَ مَاکُنَّا نَعۡمَلُ مِنۡ سُوۡٓءٍ ؕ بَلٰۤی اِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌۢ بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۲۸﴾
وہ کافر کی جانیں فرشتے قبض کرتے ہیں درآنحال کہ وہ اپنے آپ پر ظلم کر رہے ہیں تب وہ تسلیم خم کرتے ہوئے کہتے ہیں ہم تو کوئی برا نہیں کیا کرتے تھے ( اہل علم دیں گے ) نہیں نہیں ( تم بڑے بدکار تھے ) بیشک اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جو ( برے ) تم کیا کرتے تھے ۔
فَادۡخُلُوۡۤا اَبۡوَابَ جَہَنَّمَ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ؕ فَلَبِئۡسَ مَثۡوَی الۡمُتَکَبِّرِیۡنَ ﴿۲۹﴾
۔( اے کفار ) پس ہو جاؤ جہنم کے دروازوں سے تمہیں رہنا ہو گا وہاں ۔ بیشک برا ٹھکانا ہے غرور و کرنے والوں کے لیے ۔
وَقِیۡلَ لِلَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا مَاذَاۤ اَنۡزَلَ رَبُّکُمۡ ؕ قَالُوۡا خَیۡرًا ؕ لِلَّذِیۡنَ اَحۡسَنُوۡا فِیۡ ہٰذِہِ الدُّنۡیَا حَسَنَۃٌ ؕ وَلَدَارُ الۡاٰخِرَۃِ خَیۡرٌ ؕ وَلَنِعۡمَ دَارُ الۡمُتَّقِیۡنَ ﴿ۙ۳۰﴾
اور ( یونہی ) پوچھا گیا ان سے جو متقی تھے کہ وہ کیا ہے جو اتارا تمہارے رب نے ؟ انھوں نے کہا ( سراپا ) خیر ! جنھوں نے اچھے کیے اس میں بھی ان کے لیے بھلائی ہے اور کا بھی ( ان کے لیے ) بہتر ہے اور بہت ہی عمدہ ہے پرہیزگاروں کا ۔
جَنّٰتُ عَدۡنٍ یَّدۡخُلُوۡنَہَا تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ لَہُمۡ فِیۡہَا مَایَشَآءُوۡنَ ؕ کَذٰلِکَ یَجۡزِی اللّٰہُ الۡمُتَّقِیۡنَ ﴿ۙ۳۱﴾
۔( ان کے لیے ) رہنے کے ہیں میں وہ ہوں گے رواں ہوں گی ان کے نہریں ، ان کے لیے وہاں ہر وہ چیز ہو گی جس کی وہ کریں گے ۔ یوں دیتا ہے اللہ تعالیٰ پرہیزگاروں کو ۔
الَّذِیۡنَ تَتَوَفّٰىہُمُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ طَیِّبِیۡنَ ۙ یَقُوۡلُوۡنَ سَلٰمٌ عَلَیۡکُمُ ۙ ادۡخُلُوا الۡجَنَّۃَ بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۳۲﴾
وہ متقی کی روحیں فرشتے قبض کرتے ہیں اس حال میں کہ وہ ہوتے ہیں ( اس ) فرشتے کہتے ہیں ( اے بختو ) سلامتی ہو تم پر ہو جاؤ میں ان ( ) کے باعث جو تم کیا کرتے تھے ۔
ہَلۡ یَنۡظُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ تَاۡتِیَہُمُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ اَوۡ یَاۡتِیَ اَمۡرُ رَبِّکَ ؕ کَذٰلِکَ فَعَلَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ؕ وَمَا ظَلَمَہُمُ اللّٰہُ وَلٰکِنۡ کَانُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ یَظۡلِمُوۡنَ ﴿۳۳﴾
یہ مشرک کس کے منتظر ہیں بجز اس کے کہ آ جائیں ان کے ( کے ) فرشتے یا آ جائے آپ کے رب کا ( اٹل ) ۔ یونہی ان لوگوں نے بھی کیا تھا جو ان کے پیشرو تھے اور نہیں کی تھی ان پر اللہ تعالیٰ نے بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر کیا کرتے تھے ۔
فَاَصَابَہُمۡ سَیِّاٰتُ مَاعَمِلُوۡا وَحَاقَ بِہِمۡ مَّا کَانُوۡا بِہٖ یَسۡتَہۡزِءُوۡنَ ﴿۳۴﴾٪ 10
پس ملی انھیں سزا ان کے برے کی اور گھیر لیا انھیں اس نے جس کا وہ اڑایا کرتے تھے ۔
وَقَالَ الَّذِیۡنَ اَشۡرَکُوۡا لَوۡ شَآءَ اللّٰہُ مَاعَبَدۡنَا مِنۡ دُوۡنِہٖ مِنۡ شَیۡءٍ نَّحۡنُ وَلَاۤ اٰبَآؤُنَا وَلَا حَرَّمۡنَا مِنۡ دُوۡنِہٖ مِنۡ شَیۡءٍ ؕ کَذٰلِکَ فَعَلَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ۚ فَہَلۡ عَلَی الرُّسُلِ اِلَّا الۡبَلٰغُ الۡمُبِیۡنُ ﴿۳۵﴾
اور کہنے لگے وہ لوگ جنھوں نے شرک کیا کہ اگر چاہتا اللہ تعالیٰ تو ہم نہ کرتے اس کے سوا کسی اور چیز کی نہ ہم اور نہ ہمارے دادا اور نہ ہم کرتے اس کے کے بغیر کسی چیز کو ، ایسی ہی ( بے و پا ) باتیں کیا کرتے تھے ان کے پیشرو ( اے سننے والے ! ) کیا رسولوں کے ذمہ اس کے علاوہ اور بھی کچھ ہے کہ وہ طور پر ( الٰہی ) پہنچا دیں ۔
وَلَقَدۡ بَعَثۡنَا فِیۡ کُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُوۡلًا اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰہَ وَاجۡتَنِبُوا الطَّاغُوۡتَ ۚ فَمِنۡہُمۡ مَّنۡ ہَدَی اللّٰہُ وَمِنۡہُمۡ مَّنۡ حَقَّتۡ عَلَیۡہِ الضَّلٰلَۃُ ؕ فَسِیۡرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ فَانۡظُرُوۡا کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الۡمُکَذِّبِیۡنَ ﴿۳۶﴾
اور ہم نے بھیجا ہر امت میں ایک رسول ( جو انھیں یہ تعلیم دے ) کہ کرو اللہ تعالیٰ کی اور رہو طاغوت سے سو ان میں سے کچھ وہ لوگ تھے جنھیں اللہ تعالیٰ نے دی اور ان میں سے کچھ ایسے بھی تھے جس پر گمراہی مسلّط ہو گئی ۔ پس سیر و سیاحت کرو میں اور ( اپنی آنکھوں سے ) دیکھو کس قدر عبرتناک تھا ( رسولوں کو ) جھٹلانے والوں کا ۔
اِنۡ تَحۡرِصۡ عَلٰی ہُدٰىہُمۡ فَاِنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِیۡ مَنۡ یُّضِلُّ وَمَا لَہُمۡ مِّنۡ نّٰصِرِیۡنَ ﴿۳۷﴾
۔( اے حبیب ) آپ خواہ کتنے ہی حریص ہوں ان کے یافتہ ہونے پر مگر اللہ تعالیٰ نہیں دیتا جنھیں وہ ( پیہم کے باعث ) گمراہ کر دیتا ہے اور نہیں ان کے لیے کوئی کرنے والا ۔
وَاَقۡسَمُوۡا بِاللّٰہِ جَہۡدَ اَیۡمَانِہِمۡ ۙ لَا یَبۡعَثُ اللّٰہُ مَنۡ یَّمُوۡتُ ؕ بَلٰی وَعۡدًا عَلَیۡہِ حَقًّا وَّلٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿ۙ۳۸﴾
اور بڑی شدّومدّ سے اللہ تعالیٰ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ ( دوبارہ ) نہیں کرے گا اللہ تعالیٰ جو ( ایکبار ) مر جاتا ہے ۔ ہاں ضرور کرے گا یہ اس کا وعدہ ہے اس پر لازم ہے اس کو پورا کرنا لیکن اکثر لوگ ( اس حقیقت کو ) نہیں جانتے ۔
لِیُبَیِّنَ لَہُمُ الَّذِیۡ یَخۡتَلِفُوۡنَ فِیۡہِ وَلِیَعۡلَمَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اَنَّہُمۡ کَانُوۡا کٰذِبِیۡنَ ﴿۳۹﴾
۔( وہ انھیں دوبارہ کریگا ) تاکہ واضح کر دے ان پر وہ جس میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے اور تاکہ خوب جان لیں کافر کہ بلاشبہ وہی جھوٹے تھے ۔
اِنَّمَا قَوۡلُنَا لِشَیۡءٍ اِذَاۤ اَرَدۡنٰہُ اَنۡ نَّقُوۡلَ لَہٗ کُنۡ فَیَکُوۡنُ ﴿۴۰﴾٪ 11
ہمارا فرمان کسی چیز کے لیے جب ہم کرتے ہیں اس ( کے کرنے کا ) صرف اتنا ہے کہ ہم اسے دیتے ہیں کہ ہو جا پس وہ ہو جاتی ہے ۔
وَالَّذِیۡنَ ہَاجَرُوۡا فِی اللّٰہِ مِنۡۢ بَعۡدِ مَاظُلِمُوۡا لَـنُبَوِّئَنَّہُمۡ فِی الدُّنۡیَا حَسَنَۃً ؕ وَلَاَجۡرُ الۡاٰخِرَۃِ اَکۡبَرُ ۘ لَوۡ کَانُوۡا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿ۙ۴۱﴾
اور جنھوں نے راہ خدا میں ہجرت کی اس کے بعد کہ ان پر ( طرح طرح کے ) ظلم توڑے گئے تو ہم ضرور ان کو میں بھی بہتر ٹھکانا دیں گے اور کا اجر تو بہت بڑا ہے کاش ! یہ جان لیتے ۔
الَّذِیۡنَ صَبَرُوۡا وَعَلٰی رَبِّہِمۡ یَتَوَکَّلُوۡنَ ﴿۴۲﴾
جنھوں نے ( مصائب میں ) کیا اور ( مشکلات میں اب بھی ) اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں ۔
وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِکَ اِلَّا رِجَالًا نُّوۡحِیۡۤ اِلَیۡہِمۡ فَسۡئَلُوۡۤا اَہۡلَ الذِّکۡرِ اِنۡ کُنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿ۙ۴۳﴾
اور ہم نے نہیں بھیجا آپ سے ( رسول بنا کر ) مگر مردوں کو ہم وحی بھیجتے ہیں ان کی طرف پس دریافت کر لو اہل علم سے اگر تم خود نہیں جانتے ۔
بِالۡبَیِّنٰتِ وَالزُّبُرِ ؕ وَاَنۡزَلۡنَاۤ اِلَیۡکَ الذِّکۡرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَانُزِّلَ اِلَیۡہِمۡ وَلَعَلَّہُمۡ یَتَفَکَّرُوۡنَ ﴿۴۴﴾ ؒ
۔( رسولوں کو بھی ہم نے ) روشن نشانیاں اور کتابیں دے کر بھیجا اور ( اسی طرح ) ہم نے نازل کیا آپ پر یہ ذکر تاکہ آپ کھول کر کریں لوگوں کے لیے ( اس ذکر کو ) جو نازل کیا گیا ہے ان کی طرف تاکہ وہ و فکر کریں ۔
اَفَاَمِنَ الَّذِیۡنَ مَکَرُوا السَّیِّاٰتِ اَنۡ یَّخۡسِفَ اللّٰہُ بِہِمُ الۡاَرۡضَ اَوۡ یَاۡتِیَہُمُ الۡعَذَابُ مِنۡ حَیۡثُ لَا یَشۡعُرُوۡنَ ﴿ۙ۴۵﴾
کیا بے خوف ( اور نڈر ) ہو گئے وہ لوگ جنہوں نے برے مکر کیے کہ مبادا گاڑ دے اللہ تعالیٰ انھیں میں یا آ جائے ان پر اس طرح کہ ( ان کو اس کی آمد کا ) شعور ہی نہ ہو ۔
اَوۡ یَاۡخُذَہُمۡ فِیۡ تَقَلُّبِہِمۡ فَمَا ہُمۡ بِمُعۡجِزِیۡنَ ﴿ۙ۴۶﴾
یا پکڑ لے انھیں جب وہ ( اپنے کاروبار میں ) دوڑ کر رہے ہوں پس نہیں وہ ( اللہ کو ) کرنے والے ۔
اَوۡ یَاۡخُذَہُمۡ عَلٰی تَخَوُّفٍ ؕ فَاِنَّ رَبَّکُمۡ لَرَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۴۷﴾
یا پکڑ لے انھیں جبکہ وہ خوف زدہ ہو چکے ہوں پس بیشک تمہارا رب بہت رحم فرمانے والا ہے ۔
اَوَ لَمۡ یَرَوۡا اِلٰی مَاخَلَقَ اللّٰہُ مِنۡ شَیۡءٍ یَّتَفَیَّؤُا ظِلٰلُہٗ عَنِ الۡیَمِیۡنِ وَالشَّمَآئِلِ سُجَّدًا لِّلّٰہِ وَہُمۡ دٰخِرُوۡنَ ﴿۴۸﴾
کیا انھوں نے نہیں دیکھا ان اشیاء کی طرف جنہیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ بدلتے رہتے ہیں ان کے سائے دائیں سے ( بائیں طرف ) اور بائیں سے ( دائیں طرف ) سجدہ کرتے ہوئے اللہ کو اس حال میں کہ وہ اظہار عجز کر رہے ہیں ۔
وَلِلّٰہِ یَسۡجُدُ مَافِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الۡاَرۡضِ مِنۡ دَآبَّۃٍ وَّالۡمَلٰٓئِکَۃُ وَہُمۡ لَا یَسۡتَکۡبِرُوۡنَ ﴿۴۹﴾
اور اللہ کے لیے سجدہ کر رہی ہے ہر چیز جو آسمانوں میں ہے اور جو میں ہے یعنی ہر کے جاندار اور فرشتے اور وہ غرور و نہیں کرتے ۔
یَخَافُوۡنَ رَبَّہُمۡ مِّنۡ فَوۡقِہِمۡ وَیَفۡعَلُوۡنَ مَایُؤۡمَرُوۡنَ ﴿٪ٛ۵۰﴾ 12
ڈرتے ہیں اپنے رب کی قدرت سے اور کرتے ہیں جو انھیں دیا جاتا ہے ۔
وَقَالَ اللّٰہُ لَا تَتَّخِذُوۡۤا اِلٰـہَیۡنِ اثۡنَیۡنِ ۚ اِنَّمَا ہُوَ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ ۚ فَاِیَّایَ فَارۡہَبُوۡنِ ﴿۵۱﴾
اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا نہ بناؤ دو خدا وہ تو صرف ایک ہی خدا ہے ( اس نے فرمایا ) پس فقط مجھ سے ہی ڈرا کرو ۔
وَلَہٗ مَافِی السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَلَہُ الدِّیۡنُ وَاصِبًا ؕ اَفَغَیۡرَ اللّٰہِ تَتَّقُوۡنَ ﴿۵۲﴾
اور اسی کے ملک میں ہے جو کچھ آسمانوں اور میں ہے اور اسی کی تابعداری اور لازمی ہے تو کیا اللہ تعالیٰ کے سوا غیروں سے ڈرئے ہو ۔
وَمَا بِکُمۡ مِّنۡ نِّعۡمَۃٍ فَمِنَ اللّٰہِ ثُمَّ اِذَا مَسَّکُمُ الضُّرُّ فَاِلَیۡہِ تَجۡئَرُوۡنَ ﴿ۚ۵۳﴾
اور تمہارے جتنی نعمتیں ہیں وہ تو اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہیں پھر جب تمہیں پہنچتی ہے تو اسی کی جناب میں گڑگڑاتے ہو ۔
ثُمَّ اِذَا کَشَفَ الضُّرَّ عَنۡکُمۡ اِذَا فَرِیۡقٌ مِّنۡکُمۡ بِرَبِّہِمۡ یُشۡرِکُوۡنَ ﴿ۙ۵۴﴾
پھر جب اللہ تعالیٰ فرما دیتا ہے کو تم سے تو فوراً ایک گروہ تم میں سے اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے لگتا ہے ۔
لِیَکۡفُرُوۡا بِمَاۤ اٰتَیۡنٰہُمۡ ؕ فَتَمَتَّعُوۡا ۟ فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۵۵﴾
اس طرح وہ ناشکری کرتے ہیں ان نعمتوں کی جو ہم نے انہیں عطا کی ہیں ۔ پس اے ( ناشکرو ! ) لطف اٹھا لو چند روز تمہیں ( اپنا ) معلوم ہو جائے گا ۔
وَیَجۡعَلُوۡنَ لِمَا لَا یَعۡلَمُوۡنَ نَصِیۡبًا مِّمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ ؕ تَاللّٰہِ لَتُسۡئَلُنَّ عَمَّا کُنۡتُمۡ تَفۡتَرُوۡنَ ﴿۵۶﴾
اور کرتے ہیں ان کے لیے جنکو یہ جانتے ہی نہیں اس سے جو ہم نے ان کو دیا ہے اللہ کی ! تم سے ضرور پرس ہو گی اس کے متعلق جو تم باندھا کرتے ہو ۔
وَیَجۡعَلُوۡنَ لِلّٰہِ الۡبَنٰتِ سُبۡحٰنَہٗ ۙ وَلَہُمۡ مَّا یَشۡتَہُوۡنَ ﴿۵۷﴾
اور تجویز کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کے لیے بیٹیاں ، سبحان اللہ ! اور ان کے لیے تو وہ ( بیٹے ) ہیں جنہیں وہ کرتے ہیں ۔
وَاِذَا بُشِّرَ اَحَدُہُمۡ بِالۡاُنۡثٰی ظَلَّ وَجۡہُہٗ مُسۡوَدًّا وَّہُوَ کَظِیۡمٌ ﴿ۚ۵۸﴾
اور جب اطلاع دی جاتی ہے ان میں سے کسی کو بیٹی ( کی پیدائش ) کی تو ( سے ) اس کا چہرہ سیاہ ہو جاتا ہے اور وہ ( رنج و اندوہ سے ) بھر جاتا ہے ۔
یَتَوَارٰی مِنَ الۡقَوۡمِ مِنۡ سُوۡٓءِ مَابُشِّرَ بِہٖ ؕ اَیُمۡسِکُہٗ عَلٰی ہُوۡنٍ اَمۡ یَدُسُّہٗ فِی التُّرَابِ ؕ اَلَا سَآءَ مَایَحۡکُمُوۡنَ ﴿۵۹﴾
چھپتا پھرتا ہے لوگوں ( کی نظروں ) سے اس بری کے باعث جو دی گئی ہے اسے ( اب یہ سوچتا ہے کہ ) کیا وہ اس بچی کو اپنے رکھے کے ساتھ یا گاڑ دے اسے میں ۔ آہ ! کتنا برا ہے وہ جو وہ کرتے ہیں ۔
لِلَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَۃِ مَثَلُ السَّوۡءِ ۚ وَلِلّٰہِ الۡمَثَلُ الۡاَعۡلٰی ؕ وَہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿٪۶۰﴾ 13
ان لوگوں کے لیے جو پر ایمان نہیں رکھتے بری صفتیں ہیں اور اللہ تعالیٰ اعلیٰ صفات کا ہے اور وہی سب پر بڑا دانا ہے ۔
وَلَوۡ یُؤَاخِذُ اللّٰہُ النَّاسَ بِظُلۡمِہِمۡ مَّا تَرَکَ عَلَیۡہَا مِنۡ دَآبَّۃٍ وَّلٰکِنۡ یُّؤَخِّرُہُمۡ اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُہُمۡ لَا یَسۡتَاۡخِرُوۡنَ سَاعَۃً وَّلَا یَسۡتَقۡدِمُوۡنَ ﴿۶۱﴾
اور اگر ( فوراً ) پکڑ لیا کرتا اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے ظلم کے باعث تو نہ چھوڑتا پر کسی جاندار کو لیکن وہ دیتا ہے انھیں ایک مقررّہ میعاد تک ، پس جب آ جاتی ہے ان کی ( مقرّرہ ) میعاد تو نہ وہ ایک لمحہ ہو سکتے ہیں اور نہ آگے ہو سکتے ہیں ۔
وَیَجۡعَلُوۡنَ لِلّٰہِ مَایَکۡرَہُوۡنَ وَتَصِفُ اَلۡسِنَتُہُمُ الۡکَذِبَ اَنَّ لَہُمُ الۡحُسۡنٰی ؕ لَا جَرَمَ اَنَّ لَہُمُ النَّارَ وَاَنَّہُمۡ مُّفۡرَطُوۡنَ ﴿۶۲﴾
اور تجویز کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کے لیے ( بیٹیاں ) جنھیں وہ ( اپنے لیے ) ناپسند کرتے ہیں اور کرتی ہیں ان کی زبانیں ( جب وہ کہتی ہیں کہ ) فقط انھیں کے لیے بھلائی ہے یقیناً ان کے لیے تو آتش ( جہنم ) ہے اور انھیں کو ( میں ) بھیجا جائے گا ۔
تَاللّٰہِ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلٰۤی اُمَمٍ مِّنۡ قَبۡلِکَ فَزَیَّنَ لَہُمُ الشَّیۡطٰنُ اَعۡمَالَہُمۡ فَہُوَ وَلِیُّہُمُ الۡیَوۡمَ وَلَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۶۳﴾
بخدا ! ہم نے بھیجا ہے ( رسولوں کو ) قوموں کی طرف آپ سے پس آراستہ کر دیا ان کے لیے شیطان نے ان کے ( برے ) کو پس وہی ان کا ہے آج بھی اور ان کے لیے الیم ہے ۔
وَمَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَیۡکَ الۡکِتٰبَ اِلَّا لِتُبَیِّنَ لَہُمُ الَّذِی اخۡتَلَفُوۡا فِیۡہِ ۙ وَہُدًی وَّرَحۡمَۃً لِّقَوۡمٍ یُّؤۡمِنُوۡنَ ﴿۶۴﴾
اور نہیں اتاری ہم نے آپ پر یہ مگر اس لیے کہ آپ صاف کر دیں ان کے لیے وہ جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں اور ( یہ ) سراپا اور رحمت ہے اس قوم کے لیے جو ایماندار ہے ۔
وَاللّٰہُ اَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَحۡیَا بِہِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِہَا ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوۡمٍ یَّسۡمَعُوۡنَ ﴿۶۵﴾٪ 14
اور اللہ تعالیٰ نے اتارا سے ، پھر کیا اس سے کو اس کے بنجر بن جانے کے بعد ۔ بیشک اس میں ( کھلی ) ہے ان لوگوں کے لیے جو ( حق کی ) سنتے ہیں ۔
وَاِنَّ لَکُمۡ فِی الۡاَنۡعَامِ لَعِبۡرَۃً ؕ نُسۡقِیۡکُمۡ مِّمَّا فِیۡ بُطُوۡنِہٖ مِنۡۢ بَیۡنِ فَرۡثٍ وَّدَمٍ لَّبَنًا خَالِصًا سَآئِغًا لِّلشّٰرِبِیۡنَ ﴿۶۶﴾
اور بیشک تمہارے لیے مویشیوں میں ایک عبرت ہے دیکھو ! ہم تمہیں پلاتے ہیں جو ان کے شکموں میں گوبر اور خون ہے ان کے سے نکال کر خالص دودھ جو بہت ذائقہ ہے پینے والوں کے لیے ۔
وَمِنۡ ثَمَرٰتِ النَّخِیۡلِ وَالۡاَعۡنَابِ تَتَّخِذُوۡنَ مِنۡہُ سَکَرًا وَّرِزۡقًا حَسَنًا ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوۡمٍ یَّعۡقِلُوۡنَ ﴿۶۷﴾
اور ( ہم پلاتے ہیں تمھیں ) اور انگور کے پھلوں سے تم بناتے ہو اس سے میٹھا رس اور رزق ۔ بلاشبہ اس میں بھی ( ہماری قدرت کی ) ہے ان لوگوں کے لیے جو سمجھدار ہیں ۔
وَاَوۡحٰی رَبُّکَ اِلَی النَّحۡلِ اَنِ اتَّخِذِیۡ مِنَ الۡجِبَالِ بُیُوۡتًا وَّمِنَ الشَّجَرِ وَمِمَّا یَعۡرِشُوۡنَ ﴿ۙ۶۸﴾
اور ڈال دی آپ کے رب نے شہد کی کے میں یہ کہ بنایا کر پہاڑوں میں ( اپنے ) چھتے اور درختوں ( کی شاخوں ) میں اور ان چھپروں میں جو لوگ بناتے ہیں ۔
ثُمَّ کُلِیۡ مِنۡ کُلِّ الثَّمَرٰتِ فَاسۡلُکِیۡ سُبُلَ رَبِّکِ ذُلُلًا ؕ یَخۡرُجُ مِنۡۢ بُطُوۡنِہَا شَرَابٌ مُّخۡتَلِفٌ اَلۡوَانُہٗ فِیۡہِ شِفَآءٌ لِّلنَّاسِ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوۡمٍ یَّتَفَکَّرُوۡنَ ﴿۶۹﴾
پھر رس چوسا کر ہر کے پھلوں سے ، پس چلتی رہا کر اپنے رب کی کی ہوئی راہوں پر ( یُوں ) نکلتا ہے ان کے شکموں سے ایک شربت رنگوں والا ، اس میں شفا ہے لوگوں کے لیے ۔ بیشک اس میں ( قدرت الہٰی کی ) ہے ان لوگوں کے لیے جو و فکر کرتے ہیں ۔
وَاللّٰہُ خَلَقَکُمۡ ثُمَّ یَتَوَفّٰىکُمۡ ۟ ۙ وَمِنۡکُمۡ مَّنۡ یُّرَدُّ اِلٰۤی اَرۡذَلِ الۡعُمُرِ لِکَیۡ لَا یَعۡلَمَ بَعۡدَ عِلۡمٍ شَیۡئًا ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌ قَدِیۡرٌ ﴿٪۷۰﴾ 15
اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے تمہیں پھر جان قبض کرے گا تمہاری اور تم میں سے بعض ایسے ہیں جنھیں لوٹا دیا جاتا ہے عمر کی طرف تاکہ وہ کچھ نہ جانے جان لینے کے بعد ۔ بیشک اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا ، ہر چیز پر قادر ہے ۔
وَاللّٰہُ فَضَّلَ بَعۡضَکُمۡ عَلٰی بَعۡضٍ فِی الرِّزۡقِ ۚ فَمَا الَّذِیۡنَ فُضِّلُوۡا بِرَآدِّیۡ رِزۡقِہِمۡ عَلٰی مَامَلَکَتۡ اَیۡمَانُہُمۡ فَہُمۡ فِیۡہِ سَوَآءٌ ؕ اَفَبِنِعۡمَۃِ اللّٰہِ یَجۡحَدُوۡنَ ﴿۷۱﴾
اور اللہ تعالیٰ نے برتری بخشی ہے تم میں سے بعض کو بعض پر دولت کے سے ۔ پس ( اب بتاؤ ) کیا وہ لوگ جنھیں برتری بخشی گئی ہے وہ لوٹانے والے ہیں اپنی دولت کو ان لوگوں پر جو ان کے مملوک ہیں تاکہ وہ سب اس میں ہو جائیں ؟ ( ہرگز نہیں ) تو کیا وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا کرتے ہیں ۔
وَاللّٰہُ جَعَلَ لَکُمۡ مِّنۡ اَنۡفُسِکُمۡ اَزۡوَاجًا وَّجَعَلَ لَکُمۡ مِّنۡ اَزۡوَاجِکُمۡ بَنِیۡنَ وَحَفَدَۃً وَّرَزَقَکُمۡ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ ؕ اَفَبِالۡبَاطِلِ یُؤۡمِنُوۡنَ وَبِنِعۡمَتِ اللّٰہِ ہُمۡ یَکۡفُرُوۡنَ ﴿ۙ۷۲﴾
اور اللہ تعالیٰ ہی نے فرمائیں تمہارے لیے تمہاری جنس سے عورتیں اور فرمائے تمہارے لیے تمہاری بیویوں سے بیٹے اور پوتے اور رزق عطا فرمایا تمہیں پاکیزہ تو کیا ( یہ لوگ ) باطل پر ایمان لاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی مہربانیوں کی ناشکری کرتے ہیں ۔
وَیَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مَالَا یَمۡلِکُ لَہُمۡ رِزۡقًا مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ شَیۡئًا وَّلَا یَسۡتَطِیۡعُوۡنَ ﴿ۚ۷۳﴾
اور یہ لوگ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کے سوا ان معبودوں کی جو انھیں آسمانوں اور سے رزق دینے کا کچھ نہیں رکھتے اور نہ وہ کچھ کر سکتے ہیں ۔
فَلَا تَضۡرِبُوۡا لِلّٰہِ الۡاَمۡثَالَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یَعۡلَمُ وَاَنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۷۴﴾
پس ( اے جاہلو ! ) نہ کیا کرو اللہ تعالیٰ کے لیے مثالیں بیشک اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے ۔
ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا عَبۡدًا مَّمۡلُوۡکًا لَّا یَقۡدِرُ عَلٰی شَیۡءٍ وَّمَنۡ رَّزَقۡنٰہُ مِنَّا رِزۡقًا حَسَنًا فَہُوَ یُنۡفِقُ مِنۡہُ سِرًّا وَّجَہۡرًا ؕ ہَلۡ یَسۡتَوٗنَ ؕ اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ ؕ بَلۡ اَکۡثَرُہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۷۵﴾
بیان فرمائی ہے اللہ تعالیٰ نے ایک مثال ( وہ یہ کہ ) ایک بندہ ہے جو مملوک ہے اور کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا اور ( اسکے مقابلہ میں ) ایک وہ بندہ ہے جسے ہم نے رزق دیا اپنی جناب سے رزق حسن ۔ پس وہ کرتا رہتا ہے اس سے پوشیدہ طور پر اور اعلانیہ طور پر ( اب تم ہی بتاؤ ) کیا یہ ہیں الحمدللہ ! ( حقیقت حال واضح ہو گئی ) بلکہ ان میں سے اکثر لوگ ( اس حقیقت کو ) نہیں جانتے ۔
وَضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا رَّجُلَیۡنِ اَحَدُہُمَاۤ اَبۡکَمُ لَا یَقۡدِرُ عَلٰی شَیۡءٍ وَّہُوَ کَلٌّ عَلٰی مَوۡلٰىہُ ۙ اَیۡنَمَا یُوَجِّہۡہُّ لَایَاۡتِ بِخَیۡرٍ ؕ ہَلۡ یَسۡتَوِیۡ ہُوَ ۙ وَمَنۡ یَّاۡمُرُ بِالۡعَدۡلِ ۙ وَہُوَ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ﴿٪۷۶﴾ 16
اور فرمائی اللہ تعالیٰ نے ایک اور مثال دو آدمی ہیں ان میں سے ایک تو گونگا ہے کسی چیز کی قدرت نہیں رکھتا اور وہ ہے اپنے آقا پر جہاں کہیں وہ اس ( نکمّے ) کو بھیجتا ہے تو وہ واپس نہیں آتا کسی بھلائی کے ساتھ ۔ کیا ہو سکتا ہے یہ ( نکمّا ) اور وہ شخص جو دیتا ہے عدل کے ساتھ اور وہ راہ راست پر گامزن ہے ۔
وَلِلّٰہِ غَیۡبُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ؕ وَمَاۤ اَمۡرُ السَّاعَۃِ اِلَّا کَلَمۡحِ الۡبَصَرِ اَوۡ ہُوَ اَقۡرَبُ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۷۷﴾
اور اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے آسمانوں اور کی مخفی باتوں کو اور نہیں برپا ہونے کا معاملہ مگر جیسے تیزی سے جھپکتی ہے یا اس سے بھی جلد بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے ۔
وَاللّٰہُ اَخۡرَجَکُمۡ مِّنۡۢ بُطُوۡنِ اُمَّہٰتِکُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ شَیۡئًا ۙ وَّجَعَلَ لَکُمُ السَّمۡعَ وَالۡاَبۡصَارَ وَالۡاَفۡئِدَۃَ ۙ لَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَ ﴿۷۸﴾
اور اللہ تعالیٰ نے تمہیں نکالا ہے تمہاری ماؤں کے شکموں سے اس حال میں کہ تم کچھ بھی نہیں جانتے تھے اور بنائے تمہارے لیے کان اور آنکھیں اور تاکہ تم ( ان بیش بہا نعمتوں پر ) شکر ادا کرو ۔
اَلَمۡ یَرَوۡا اِلَی الطَّیۡرِ مُسَخَّرٰتٍ فِیۡ جَوِّ السَّمَآءِ ؕ مَایُمۡسِکُہُنَّ اِلَّا اللّٰہُ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یُّؤۡمِنُوۡنَ ﴿۷۹﴾
کیا انھوں نے کبھی نہیں دیکھا پرندوں کی طرف کہ وہ مطیع اور فرمانبردار بن کر اڑ رہے ہیں فضاء آسمانی میں ، کوئی چیز انھیں تھامے ہوئے نہیں بجز اللہ تعالیٰ کے ۔ بیشک اس میں ( کھلی ) نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے ہیں ۔
وَاللّٰہُ جَعَلَ لَکُمۡ مِّنۡۢ بُیُوۡتِکُمۡ سَکَنًا وَّجَعَلَ لَکُمۡ مِّنۡ جُلُوۡدِ الۡاَنۡعَامِ بُیُوۡتًا تَسۡتَخِفُّوۡنَہَا یَوۡمَ ظَعۡنِکُمۡ وَیَوۡمَ اِقَامَتِکُمۡ ۙ وَمِنۡ اَصۡوَافِہَا وَاَوۡبَارِہَا وَاَشۡعَارِہَاۤ اَثَاثًا وَّمَتَاعًا اِلٰی حِیۡنٍ ﴿۸۰﴾
اور اللہ تعالیٰ نے ہی ( اپنے فضل و کرم سے ) بنا دیا ہے تمہارے لیے تمہارے گھروں کو و سکون کی اور بنائے ہیں تمہارے لیے جانوروں کے چمڑوں سے ( یعنی خیمے ) جنھیں تم پھلکا پاتے ہو کے اور اقامت کے اور ( اسی نے بنائے ) ہیں بھیڑوں کی صوف اور اونٹوں کی اون اور بکریوں کے بالوں سے گھریلو اور استعمال کی چیزیں ایک مقررّہ تک ۔
وَاللّٰہُ جَعَلَ لَکُمۡ مِّمَّا خَلَقَ ظِلٰلًا وَّجَعَلَ لَکُمۡ مِّنَ الۡجِبَالِ اَکۡنَانًا وَّجَعَلَ لَکُمۡ سَرَابِیۡلَ تَقِیۡکُمُ الۡحَرَّ وَسَرَابِیۡلَ تَقِیۡکُمۡ بَاۡسَکُمۡ ؕ کَذٰلِکَ یُتِمُّ نِعۡمَتَہٗ عَلَیۡکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تُسۡلِمُوۡنَ ﴿۸۱﴾
اور اللہ تعالیٰ نے ہی بنائے ہیں تمہارے ( ) کے لیے ان چیزوں کے سائے کو اس نے فرمایا اور اسی نے بنائی ہیں تمہارے لیے پہاڑوں میں گاہیں اور اسی نے بنائے ہیں تمہارے لیے ایسے لباس جو بچاتے ہیں تمہیں سے اور ( کچھ ایسے آہنی ) لباس جو بچاتے ہیں تمہیں لڑائی کے ۔ اسی طرح وہ پورا فرماتا ہے اپنا تم پر تاکہ تم خم کرو ۔
فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَاِنَّمَا عَلَیۡکَ الۡبَلٰغُ الۡمُبِیۡنُ ﴿۸۲﴾
اے محبوب ! اگر ( ان روشن دلائل کے باوجود ) وہ پھیریں تو ( فکر مند نہ ہو ) آپ کے ذمہ تو صرف وضاحت سے پیغام پہنچانا ہے ۔
یَعۡرِفُوۡنَ نِعۡمَتَ اللّٰہِ ثُمَّ یُنۡکِرُوۡنَہَا وَاَکۡثَرُہُمُ الۡکٰفِرُوۡنَ ﴿۸۳﴾٪ 17
وہ پہچانتے ہیں اللہ تعالیٰ کی کو ( اسکے باوجود ) وہ کرتے ہیں اس کا اور ان میں سے اکثر لوگ کافر ہیں ۔
وَیَوۡمَ نَبۡعَثُ مِنۡ کُلِّ اُمَّۃٍ شَہِیۡدًا ثُمَّ لَا یُؤۡذَنُ لِلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَلَا ہُمۡ یُسۡتَعۡتَبُوۡنَ ﴿۸۴﴾
اور کے ہم اٹھائیں گے ہر امت سے ایک گواہ تب ان لوگوں کو نہیں ہو گی جنھوں نے کفر کیا اور نہ ان سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے گا ۔
وَاِذَا رَاَ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوا الۡعَذَابَ فَلَا یُخَفَّفُ عَنۡہُمۡ وَلَا ہُمۡ یُنۡظَرُوۡنَ ﴿۸۵﴾
اور جب دیکھ لیں گے وہ لوگ جنھوں نے ظلم کیا ( ) کو تو اس وہ ان سے نہیں کیا جائے گا اور نہ انھیں ( مزید ) دی جائے گی ۔
وَاِذَا رَاَ الَّذِیۡنَ اَشۡرَکُوۡا شُرَکَآءَہُمۡ قَالُوۡا رَبَّنَا ہٰۤؤُلَآءِ شُرَکَآؤُنَا الَّذِیۡنَ کُنَّا نَدۡعُوۡا مِنۡ دُوۡنِکَ ۚ فَاَلۡقَوۡا اِلَیۡہِمُ الۡقَوۡلَ اِنَّکُمۡ لَکٰذِبُوۡنَ ﴿ۚ۸۶﴾ ؓ
اور جب دیکھیں گے مشرک اپنے ( ٹھیرائے ہوئے ) شریکوں کو تو بول اٹھیں گے اے ہمارے رب ! یہ ہیں ہمارے بنائے ہوئے جنھیں ہم پوجا کرتے تھے تجھے چھوڑ کر تو وہ انھیں دیں گے یقیناً تم بول رہے ہو ۔
وَاَلۡقَوۡا اِلَی اللّٰہِ یَوۡمَئِذِ ۣ السَّلَمَ وَضَلَّ عَنۡہُمۡ مَّا کَانُوۡا یَفۡتَرُوۡنَ ﴿۸۷﴾
وہ کر دیں گے بارگاہ الہٰی میں اس اپنی اور فراموش ہو جائیں گے انھیں وہ جو وہ باندھا کرتے تھے ۔
اَلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ زِدۡنٰہُمۡ عَذَابًا فَوۡقَ الۡعَذَابِ بِمَا کَانُوۡا یُفۡسِدُوۡنَ ﴿۸۸﴾
جن لوگوں نے کفر کیا اور ( دوسروں کو ) روکا اللہ تعالیٰ کی راہ سے ، ہم نے بڑھا دیا اور ان کے پر اس وجہ سے کہ وہ فتنہ و برپا کیا کرتے تھے ۔
وَیَوۡمَ نَبۡعَثُ فِیۡ کُلِّ اُمَّۃٍ شَہِیۡدًا عَلَیۡہِمۡ مِّنۡ اَنۡفُسِہِمۡ وَجِئۡنَا بِکَ شَہِیۡدًا عَلٰی ہٰۤؤُلَآءِ ؕ وَنَزَّلۡنَا عَلَیۡکَ الۡکِتٰبَ تِبۡیَانًا لِّکُلِّ شَیۡءٍ وَّہُدًی وَّرَحۡمَۃً وَّبُشۡرٰی لِلۡمُسۡلِمِیۡنَ ﴿٪۸۹﴾ 18
اور وہ ( بڑا ہولناک ہو گا ) جب ہم اٹھائیں گے ہر امت سے ایک گواہ ان پر انھیں میں سے اور ہم لے آئیں گے آپ کو بطور گواہ ان سب پر اور ہم نے اتاری ہے آپ پر یہ اس میں تفصیلی ہے ہر چیز کا اور یہ سراپا و رحمت ہے اور یہ مژدہ ہے مسلمانوں کے لیے ۔
اِنَّ اللّٰہَ یَاۡمُرُ بِالۡعَدۡلِ وَالۡاِحۡسَانِ وَاِیۡتَآیِٔ ذِی الۡقُرۡبٰی وَیَنۡہٰی عَنِ الۡفَحۡشَآءِ وَالۡمُنۡکَرِ وَالۡبَغۡیِ ۚ یَعِظُکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تَذَکَّرُوۡنَ ﴿۹۰﴾
بیشک اللہ تعالیٰ دیتا ہے کہ ہر معاملہ میں کرو اور ( ہر ایک کے ساتھ ) بھلائی کرو اور سلوک کرو رشتہ داروں کے ساتھ اور منع فرماتا ہے بے حیائی سے ، برے کاموں سے اور سے ۔ اللہ تعالیٰ کرتا ہے تمہیں تاکہ تم کرو ۔
وَاَوۡفُوۡا بِعَہۡدِ اللّٰہِ اِذَا عٰہَدۡتُّمۡ وَلَا تَنۡقُضُوا الۡاَیۡمَانَ بَعۡدَ تَوۡکِیۡدِہَا وَقَدۡ جَعَلۡتُمُ اللّٰہَ عَلَیۡکُمۡ کَفِیۡلًا ؕ اِنَّ اللّٰہَ یَعۡلَمُ مَاتَفۡعَلُوۡنَ ﴿۹۱﴾
اور پورا کرو اللہ تعالیٰ کے کو جب تم نے اس سے کر لیا ہے اور نہ توڑو ( اپنی ) قسموں کو انھیں پختہ کرنے کے بعد حالانکہ تم نے کر دیا ہے اللہ تعالیٰ کو اپنے اوپر گواہ ۔ بیشک اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو تم کرتے ہو ۔
وَلَا تَکُوۡنُوۡا کَالَّتِیۡ نَقَضَتۡ غَزۡلَہَا مِنۡۢ بَعۡدِ قُوَّۃٍ اَنۡکَاثًا ؕ تَتَّخِذُوۡنَ اَیۡمَانَکُمۡ دَخَلًۢا بَیۡنَکُمۡ اَنۡ تَکُوۡنَ اُمَّۃٌ ہِیَ اَرۡبٰی مِنۡ اُمَّۃٍ ؕ اِنَّمَا یَبۡلُوۡکُمُ اللّٰہُ بِہٖ ؕ وَلَیُبَیِّنَنَّ لَکُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ مَاکُنۡتُمۡ فِیۡہِ تَخۡتَلِفُوۡنَ ﴿۹۲﴾
اور نہ ہو جاؤ اس کی مانند جس نے توڑ ڈالا اپنے سوت کو کاتنے کے بعد ( اور اسے ) پارہ پارہ کر ڈالا ۔ تم بناتے ہو اپنی قسموں کو ایک دوسرے کو فریب دینے کا تاکہ اس طرح ہو جائے ایک گروہ اٹھانے والا دوسرے گروہ سے صرف آزماتا ہے تمہیں اللہ تعالیٰ ان قسموں سے اور واضح فرما دے گا تمہارے لیے کے روز ان باتوں کو میں تم اختلاف کیا کرتے تھے ۔
وَلَوۡ شَآءَ اللّٰہُ لَجَعَلَکُمۡ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّلٰکِنۡ یُّضِلُّ مَنۡ یَّشَآءُ وَیَہۡدِیۡ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَلَتُسۡئَلُنَّ عَمَّا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۹۳﴾
اور اگر چاہتا اللہ تعالیٰ تو بنا دیتا تمہیں ایک امت ، لیکن وہ گمراہ کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور ضرور تم سے پرس کی جائے گی ان سے جو تم کیا کرتے تھے ۔
وَلَا تَتَّخِذُوۡۤا اَیۡمَانَکُمۡ دَخَلًۢا بَیۡنَکُمۡ فَتَزِلَّ قَدَمٌۢ بَعۡدَ ثُبُوۡتِہَا وَتَذُوۡقُوا السُّوۡٓءَ بِمَا صَدَدۡتُّمۡ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ۚ وَلَکُمۡ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ ﴿۹۴﴾
اور نہ بناؤ اپنی قسموں کو آپس میں فریب دینے کا ورنہ ( جاؤہ حق سے ) پھسل جائے گا ( لوگوں کا ) ( اس پر ) جم جانے کے بعد اور تمہیں چکھنا پڑے گا ( اس کا ) بُرا نتیجہ کہ تم نے ( اپنی شکنی اور فریب کاری ) کے باعث لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی راہ سے روک دیا اور تمہارے لیے بڑا دردناک ہو گا ۔
وَلَا تَشۡتَرُوۡا بِعَہۡدِ اللّٰہِ ثَمَنًا قَلِیۡلًا ؕ اِنَّمَا عِنۡدَ اللّٰہِ ہُوَ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۹۵﴾
اور مت بیچو اللہ تعالیٰ کے عہدوں کو تھوڑی سی قیمت کے عوض بیشک جو کچھ اللہ تعالیٰ کے ہے وہی بہتر ہے تمہارے لیے اگر تم ( حقیقت کو ) جانتے ہو ۔
مَاعِنۡدَکُمۡ یَنۡفَدُ وَمَا عِنۡدَ اللّٰہِ بَاقٍ ؕ وَلَنَجۡزِیَنَّ الَّذِیۡنَ صَبَرُوۡۤا اَجۡرَہُمۡ بِاَحۡسَنِ مَاکَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۹۶﴾
جو ( و زر ) تمہارے ہے وہ ہو جائے گا اور جو ( رحمت کے خزانے ) اللہ تعالیٰ کے ہیں وہ رہیں گے اور ہم ضرور عطا کریں گے انھیں جنھوں نے ( ہر مصیبت میں ) کیا اور ان کا اجر ان کے اچھے ( اور مفید ) کاموں کے عوض جو وہ کیا کرتے تھے ۔
مَنۡ عَمِلَ صَالِحًا مِّنۡ ذَکَرٍ اَوۡ اُنۡثٰی وَہُوَ مُؤۡمِنٌ فَلَنُحۡیِیَنَّہٗ حَیٰوۃً طَیِّبَۃً ۚ وَلَنَجۡزِیَنَّہُمۡ اَجۡرَہُمۡ بِاَحۡسَنِ مَاکَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۹۷﴾
جو بھی کرے ہو یا بشرطیکہ وہ مومن ہو تو ہم اسے عطا کریں گے ایک پاکیزہ زندگی اور ہم ضرور دیں گے انھیں ان کا اجر ان کے اچھے ( اور مفید ) کاموں کے عوض جو وہ کیا کرتے تھے ۔
فَاِذَا قَرَاۡتَ الۡقُرۡاٰنَ فَاسۡتَعِذۡ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیۡطٰنِ الرَّجِیۡمِ ﴿۹۸﴾
سو جب تم کی تلاوت کرنے لگو تو مانگو اللہ تعالیٰ سے اس شیطان ( کی وسوسہ اندازیوں ) سے جو مردود ہے ۔
اِنَّہٗ لَیۡسَ لَہٗ سُلۡطٰنٌ عَلَی الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَلٰی رَبِّہِمۡ یَتَوَکَّلُوۡنَ ﴿۹۹﴾
یقیناً اس کا زور نہیں چلتا ان لوگوں پر جو ( سچے سے ) ایمان لائے ہیں اور اپنے رب پر کامل بھروسہ رکھتے ہیں ۔
اِنَّمَا سُلۡطٰنُہٗ عَلَی الَّذِیۡنَ یَتَوَلَّوۡنَہٗ وَالَّذِیۡنَ ہُمۡ بِہٖ مُشۡرِکُوۡنَ ﴿۱۰۰﴾٪ 19
ان کا زور تو صرف ان پر چلتا ہے جو یارانہ گانٹھتے ہیں اس سے اور جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتے ہیں ۔
وَاِذَا بَدَّلۡنَاۤ اٰیَۃً مَّکَانَ اٰیَۃٍ ۙ وَّاللّٰہُ اَعۡلَمُ بِمَا یُنَزِّلُ قَالُوۡۤا اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُفۡتَرٍ ؕ بَلۡ اَکۡثَرُہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۰۱﴾
اور جب ہم بدلتے ہیں ایک آیت کو دوسری آیت کی اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جو وہ نازل کرتا ہے تو یہ لوگ کہتے ہیں تم صرف افترا پرداز ہو ۔ بلکہ ان میں سے اکثر ( آیت بدلنے کی حکمت کو ) نہیں جانتے ۔
قُلۡ نَزَّلَہٗ رُوۡحُ الۡقُدُسِ مِنۡ رَّبِّکَ بِالۡحَقِّ لِیُـثَبِّتَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَہُدًی وَّبُشۡرٰی لِلۡمُسۡلِمِیۡنَ ﴿۱۰۲﴾
فرمائیے نازل کیا ہے اسے روح القدس نے آپ کے رب کی طرف سے حق کے ساتھ تاکہ رکھے انھیں جو ایمان لائے ہیں اور یہ اور خوشخبری ہے مسلمانوں کے لیے ۔
وَلَقَدۡ نَعۡلَمُ اَنَّہُمۡ یَقُوۡلُوۡنَ اِنَّمَا یُعَلِّمُہٗ بَشَرٌ ؕ لِسَانُ الَّذِیۡ یُلۡحِدُوۡنَ اِلَیۡہِ اَعۡجَمِیٌّ وَّہٰذَا لِسَانٌ عَرَبِیٌّ مُّبِیۡنٌ ﴿۱۰۳﴾
اور ہم خوب جانتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں کہ انھیں تو یہ ایک سکھاتا ہے حالانکہ اس شخص کی زبان جس کی طرف یہ تعلیم کی نسبت کرتے ہیں عجمی ہے ۔ اور یہ فصیح و بلیغ عربی زبان میں ہے ۔
اِنَّ الَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ ۙ لَا یَہۡدِیۡہِمُ اللّٰہُ وَلَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۱۰۴﴾
بیشک جو لوگ ایمان نہیں لاتے اللہ تعالیٰ کی آیتوں پر اللہ تعالیٰ انھیں نہیں دیتا اور ان کے لیے دردناک ہے ۔
اِنَّمَا یَفۡتَرِی الۡکَذِبَ الَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ ۚ وَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡکٰذِبُوۡنَ ﴿۱۰۵﴾
وہی لوگ تراشا کرتے ہیں جو ایمان نہیں لاتے اللہ تعالیٰ کی آیات پر اور یہی لوگ جھوٹے ہیں ۔
مَنۡ کَفَرَ بِاللّٰہِ مِنۡۢ بَعۡدِ اِیۡمَانِہٖۤ اِلَّا مَنۡ اُکۡرِہَ وَقَلۡبُہٗ مُطۡمَئِنٌّۢ بِالۡاِیۡمَانِ وَلٰکِنۡ مَّنۡ شَرَحَ بِالۡکُفۡرِ صَدۡرًا فَعَلَیۡہِمۡ غَضَبٌ مِّنَ اللّٰہِ ۚ وَلَہُمۡ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ ﴿۱۰۶﴾
جس نے کفر کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایمان لانے کے بعد بجز اس شخص کے جسے مجبور کیا گیا اور اس کا مطمئن ہے ایمان کے ساتھ ( تو اس سے مواخذہ نہ ہو گا ) لیکن وہ ( بد نصیب ) کھل جائے کفر کے ساتھ ( جس کا سینہ ) تو ان لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہو گا اور ان کے لیے بڑا ہے ۔
ذٰلِکَ بِاَنَّہُمُ اسۡتَحَبُّوا الۡحَیٰوۃَ الدُّنۡیَا عَلَی الۡاٰخِرَۃِ ۙ وَاَنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۱۰۷﴾
اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے کر لیا کی ( فانی ) زندگی کو کی ( ابدی ) زندگی پر اور بیشک اللہ تعالیٰ نہیں دیتا اس قوم کو جو کافر ہے ۔
اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ طَبَعَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ وَسَمۡعِہِمۡ وَاَبۡصَارِہِمۡ ۚ وَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡغٰفِلُوۡنَ ﴿۱۰۸﴾
یہ وہ لوگ ہیں لگا دی ہے اللہ تعالیٰ نے کے دلوں ، کا کانوں اور کی آنکھوں پر اور یہی لوگ ( اپنے کے نتائج سے ) ہیں ۔
لَاجَرَمَ اَنَّہُمۡ فِی الۡاٰخِرَۃِ ہُمُ الۡخٰسِرُوۡنَ ﴿۱۰۹﴾
ضرور یہی لوگ میں اٹھانے والے ہیں ۔
ثُمَّ اِنَّ رَبَّکَ لِلَّذِیۡنَ ہَاجَرُوۡا مِنۡۢ بَعۡدِ مَافُتِنُوۡا ثُمَّ جٰہَدُوۡا وَصَبَرُوۡۤا ۙ اِنَّ رَبَّکَ مِنۡۢ بَعۡدِہَا لَغَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۱۰﴾٪ 20
پھر بیشک آپ کے پروردگار کا معاملہ ان کے ساتھ جنہوں نے ہجرت کی بڑی آزمائشوں سے گزرنے کے بعد پھر جہاد بھی کیا اور ( مصائب میں ) سے لیا ، بیشک آپکا رب ان آزمائشوں کے بعد ( انکے لیے ) بڑا بخشنے والا بہت رحم فرمانے والا ہے ۔
یَوۡمَ تَاۡتِیۡ کُلُّ نَفۡسٍ تُجَادِلُ عَنۡ نَّفۡسِہَا وَتُوَفّٰی کُلُّ نَفۡسٍ مَّا عَمِلَتۡ وَہُمۡ لَا یُظۡلَمُوۡنَ ﴿۱۱۱﴾
اس کو کرو جب آئے گا ہر نفس کہ جھگڑا کر رہا ہو گا ( صرف ) اپنے معتلق اور پورا پورا دیا جائے گا ہر نفس کو جو اس نے کیا ہو گا اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا ۔
وَضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا قَرۡیَۃً کَانَتۡ اٰمِنَۃً مُّطۡمَئِنَّۃً یَّاۡتِیۡہَا رِزۡقُہَا رَغَدًا مِّنۡ کُلِّ مَکَانٍ فَکَفَرَتۡ بِاَنۡعُمِ اللّٰہِ فَاَذَاقَہَا اللّٰہُ لِبَاسَ الۡجُوۡعِ وَالۡخَوۡفِ بِمَا کَانُوۡا یَصۡنَعُوۡنَ ﴿۱۱۲﴾
اور فرمائی ہے اللہ تعالیٰ نے ایک مثال وہ یہ کہ ایک تھی جو امن ( اور ) چین سے ( ) تھی ، آتا تھا اس کے اس کا رزق بکثرت ہر طرف سے پس اس ( کے باشندوں ) نے ناشکری کی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی پس چکھایا انھیں اللہ تعالیٰ نے ( یہ کہ پہنا دیا انہیں ) اور خوف کا لباس ان کارستانیوں کے باعث جو وہ کیا کرتے تھے ۔
وَلَقَدۡ جَآءَہُمۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡہُمۡ فَکَذَّبُوۡہُ فَاَخَذَہُمُ الۡعَذَابُ وَہُمۡ ظٰلِمُوۡنَ ﴿۱۱۳﴾
اور آیا ان کے رسول انہی میں سے پس انھوں نے اسے جھٹلایا ، پھر پکڑ لیا انھیں نے اس حال میں کہ وہ ظلم و ستم کیا کرتے تھے ۔
فَکُلُوۡا مِمَّا رَزَقَکُمُ اللّٰہُ حَلٰلًا طَیِّبًا ۪ وَّاشۡکُرُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰہِ اِنۡ کُنۡتُمۡ اِیَّاہُ تَعۡبُدُوۡنَ ﴿۱۱۴﴾
پس کھاؤ اس سے جو رزق دیا تمہیں اللہ تعالیٰ نے جو حلال ( اور ) طیّب ہے اور شکر کرو اللہ تعالیٰ کی کا اگر تم اس کی کرتے ہو ۔
اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیۡکُمُ الۡمَیۡتَۃَ وَالدَّمَ وَلَحۡمَ الۡخِنۡزِیۡرِ وَمَاۤ اُہِلَّ لِغَیۡرِ اللّٰہِ بِہٖ ۚ فَمَنِ اضۡطُرَّ غَیۡرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۱۵﴾
اس نے تم پر کیا ہے صرف مردار ، خون ، خنزیر کا گوشت اور وہ جس پر کیا گیا ہو غیراللہ کا ذبح کے پس جو مجبور ہو جائے ( انکے کھانے پر بشرطیکہ ) وہ لذت کا جویا نہ ہو اور نہ سے بڑھنے والا ہو ( تو کوئی حرج نہیں ) بیشک اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے ۔
وَلَا تَقُوۡلُوۡا لِمَا تَصِفُ اَلۡسِنَتُکُمُ الۡکَذِبَ ہٰذَا حَلٰلٌ وَّہٰذَا حَرَامٌ لِّتَفۡتَرُوۡا عَلَی اللّٰہِ الۡکَذِبَ ؕ اِنَّ الَّذِیۡنَ یَفۡتَرُوۡنَ عَلَی اللّٰہِ الۡکَذِبَ لَا یُفۡلِحُوۡنَ ﴿۱۱۶﴾ؕ
اور نہ بولو کے بارے میں تمہاری زبانیں کرتی ہیں ( یہ کہتے ہوئے ) کہ یہ حلال ہے اور یہ ہے اس طرح تم افتراء باندھو گے اللہ تعالیٰ پر جھوٹا ۔ بیشک جو لوگ اللہ تعالیٰ پر جھوٹے تراشتے ہیں وہ کبھی نہیں ہوتے ۔
مَتَاعٌ قَلِیۡلٌ ۪ وَّلَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۱۱۷﴾
۔( وہ ) سا اٹھا لیں ( کار ) ان کے لیے دردناک ہے ۔
وَعَلَی الَّذِیۡنَ ہَادُوۡا حَرَّمۡنَا مَاقَصَصۡنَا عَلَیۡکَ مِنۡ قَبۡلُ ۚ وَمَا ظَلَمۡنٰہُمۡ وَلٰکِنۡ کَانُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ یَظۡلِمُوۡنَ ﴿۱۱۸﴾
اور یہودیوں پر ہم نے کر دیں وہ چیزیں کا ذکر ہم آپ سے کر چکے ہیں اور ہم نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود ہی اپنے آپ پر ظلم کیا کرتے تھے ۔
ثُمَّ اِنَّ رَبَّکَ لِلَّذِیۡنَ عَمِلُوا السُّوۡٓءَ بِجَہَالَۃٍ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِکَ وَاَصۡلَحُوۡۤا ۙ اِنَّ رَبَّکَ مِنۡۢ بَعۡدِہَا لَغَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۱۹﴾٪ 21
پھر بیشک آپکا رب ان کے لیے جنھوں نے غلطی کی ( لیکن ) نادانی سے پھر انھوں نے توبہ کر لی اس کے بعد اور اپنے آپ کو سنوار لیا ، بیشک آپکا پروردگار اس کے بعد ( انکے گناہوں کو ) بہت بخشنے والا ( اور ان پر ) نہایت رحم کرنے والا ہے ۔
اِنَّ اِبۡرٰہِیۡمَ کَانَ اُمَّۃً قَانِتًا لِّلّٰہِ حَنِیۡفًا ؕ وَلَمۡ یَکُ مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ ﴿۱۲۰﴾ۙ
بلاشبہ ابراہیم ایک کامل تھے اللہ تعالیٰ کے مطیع تھے ، یکسوئی سے حق کی طرف مائل تھے اور وہ ( بالکل ) مشرکوں سے نہ تھے ۔
شَاکِرًا لِّاَنۡعُمِہٖ ؕ اِجۡتَبٰہُ وَہَدٰىہُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ﴿۱۲۱﴾
وہ ( ہر لمحہ ) شکر گزار تھے اللہ تعالیٰ کی ( پیہم نعمتوں کے لیے ) اللہ تعالیٰ نے انھیں لیا اور انھیں فرمائی سیدھے کی طرف ۔
وَاٰتَیۡنٰہُ فِی الدُّنۡیَا حَسَنَۃً ؕ وَاِنَّہٗ فِی الۡاٰخِرَۃِ لَمِنَ الصّٰلِحِیۡنَ ﴿۱۲۲﴾ؕ
اور ہم نے مرحمت فرمائی انھیں میں بھی ( ہر طرح کی ) بھلائی اور وہ میں لوگوں میں سے ہوں گے ۔
ثُمَّ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ اَنِ اتَّبِعۡ مِلَّۃَ اِبۡرٰہِیۡمَ حَنِیۡفًا ؕ وَمَا کَانَ مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ ﴿۱۲۳﴾
پھر ہم نے وحی فرمائی ( اے حبیب ) آپ کی طرف کہ پیروی کرو ملت ابراہیم کی جویکسوئی سے حق کی طرف مائل تھا اور وہ مشرکوں میں سے نہیں تھا ۔
اِنَّمَا جُعِلَ السَّبۡتُ عَلَی الَّذِیۡنَ اخۡتَلَفُوۡا فِیۡہِ ؕ وَاِنَّ رَبَّکَ لَیَحۡکُمُ بَیۡنَہُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ فِیۡمَا کَانُوۡا فِیۡہِ یَخۡتَلِفُوۡنَ ﴿۱۲۴﴾
صرف ان لوگوں پر سنیچر کی پابندی تھی جنھوں نے اختلاف کیا تھا اس میں ۔ اور بلاشبہ آپ کا رب فرمائے گا ان کے روز ان امور کے متعلق میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے ۔
اُدۡعُ اِلٰی سَبِیۡلِ رَبِّکَ بِالۡحِکۡمَۃِ وَالۡمَوۡعِظَۃِ الۡحَسَنَۃِ وَجَادِلۡہُمۡ بِالَّتِیۡ ہِیَ اَحۡسَنُ ؕ اِنَّ رَبَّکَ ہُوَ اَعۡلَمُ بِمَنۡ ضَلَّ عَنۡ سَبِیۡلِہٖ وَہُوَ اَعۡلَمُ بِالۡمُہۡتَدِیۡنَ ﴿۱۲۵﴾
۔( اے محبوب ! ) بلائیے ( لوگوں کو ) اپنے رب کی راہ کی طرف حکمت سے اور عمدہ سے اور ان سے بحث ( و مناظرہ ) اس انداز سے کیجیے جو بڑا پسندیدہ ( اور شائستہ ) ہو ۔ بیشک آپ کا رب خوب جانتا ہے اسے جو بھٹک گیا اس کے سے اور وہ خوب جانتا ہے پانے والوں کو ۔
وَاِنۡ عَاقَبۡتُمۡ فَعَاقِبُوۡا بِمِثۡلِ مَاعُوۡقِبۡتُمۡ بِہٖ ؕ وَلَئِنۡ صَبَرۡتُمۡ لَہُوَ خَیۡرٌ لِّلصّٰبِرِیۡنَ ﴿۱۲۶﴾
اور اگر تم ( انھیں ) سزا چاہو تو انھیں سزا دو ۔ لیکن اس قدر جتنی تمہیں پہنچائی گئی ہے اور اگر تم ( ان کی ستم رانیوں پر ) کرو تو یہ ہی بہتر ہے کرنے والوں کے لیے ۔
وَاصۡبِرۡ وَمَا صَبۡرُکَ اِلَّا بِاللّٰہِ وَلَا تَحۡزَنۡ عَلَیۡہِمۡ وَلَا تَکُ فِیۡ ضَیۡقٍ مِّمَّا یَمۡکُرُوۡنَ ﴿۱۲۷﴾
اور آپ فرمائیے اور نہیں ہے آپ کا مگر اللہ تعالیٰ کی سے اور رنجیدہ نہ کریں ان ( کی ہٹ دھرمی ) پر اور نہ غمزدہ کریں ان کی فریب کاریوں سے ۔
اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا وَّالَّذِیۡنَ ہُمۡ مُّحۡسِنُوۡنَ ﴿۱۲۸﴾٪ 22
یقیناً اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ہے جو ( اس سے ) ڈرتے ہیں اور جو کاموں میں سرگرم رہتے ہیں ۔