حٰمٓ ۚ﴿۱﴾
حا ۔ میم ۔
Explained in Detail
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ ﴿١﴾
In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
حٰمٓ ۚ﴿۱﴾
حا ۔ میم ۔
تَنۡزِیۡلٌ مِّنَ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۚ﴿۲﴾
اتارا گیا ہے ( یہ ) رحمن و رحیم ( خدا ) کی طرف سے ۔
کِتٰبٌ فُصِّلَتۡ اٰیٰتُہٗ قُرۡاٰنًا عَرَبِیًّا لِّقَوۡمٍ یَّعۡلَمُوۡنَ ۙ﴿۳﴾
یہ ایسی ہے جس کی آیتیں تفصیل سے کر دی گئی ہیں ۔ یہ عربی ( زبان میں ) ہے یہ ان لوگوں کے لیے ہے جو علم ( و فہم ) رکھتے ہیں ۔
بَشِیۡرًا وَّنَذِیۡرًا ۚ فَاَعۡرَضَ اَکۡثَرُہُمۡ فَہُمۡ لَا یَسۡمَعُوۡنَ ﴿۴﴾
یہ مژدہ سنانے والا اور ( بروقت ) خبردار کرنے والا ہے ، بایں ہمہ پھیر لیا ان میں سے اکثر نے ، پس وہ اسے نہیں کرتے ۔
وَقَالُوۡا قُلُوۡبُنَا فِیۡۤ اَکِنَّۃٍ مِّمَّا تَدۡعُوۡنَاۤ اِلَیۡہِ وَفِیۡۤ اٰذَانِنَا وَقۡرٌ وَّمِنۡۢ بَیۡنِنَا وَبَیۡنِکَ حِجَابٌ فَاعۡمَلۡ اِنَّنَا عٰمِلُوۡنَ ﴿۵﴾ ؓ
اور ان ( ہٹ دھرموں ) نے کہا ہمارے غلافوں میں ( لپٹے ہوئے ) ہیں اس سے جس کی طرف آپ ہمیں بلاتے ہیں اور ہمارے کانوں میں گرانی ہے اور ہمارے اور تمہارے ایک حجاب ہے ، تم اپنا کرو ، ہم اپنے میں لگے ہوئے ہیں ۔
قُلۡ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثۡلُکُمۡ یُوۡحٰۤی اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰـہُکُمۡ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ فَاسۡتَقِیۡمُوۡۤا اِلَیۡہِ وَاسۡتَغۡفِرُوۡہُ ؕ وَوَیۡلٌ لِّلۡمُشۡرِکِیۡنَ ۙ﴿۶﴾
آپ فرمائیے میں ہی ہوں ( بظاہر ) تمہاری مانند ( البتہ ) وحی کی جاتی ہے میری طرف کہ تمہارا معبود خداوند یکتا ہی ہے پس متوجہ ہو جاؤ اس کی طرف اور مغفرت طلب کرو اس سے ۔ اور ہے مشرکوں کے لیے ۔
الَّذِیۡنَ لَا یُؤۡتُوۡنَ الزَّکٰوۃَ وَہُمۡ بِالۡاٰخِرَۃِ ہُمۡ کٰفِرُوۡنَ ﴿۷﴾
جو زکوۃ نہیں دیتے اور وہ کے منکر ہی رہتے ہیں ۔
اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَہُمۡ اَجۡرٌ غَیۡرُ مَمۡنُوۡنٍ ٪﴿۸﴾ 15
بیشک وہ لوگ جو ایمان لے آئے اور جنہوں نے کیے ان کے لیے ایسا اجر ہے جو منقطع نہ ہو گا ۔
قُلۡ اَئِنَّکُمۡ لَتَکۡفُرُوۡنَ بِالَّذِیۡ خَلَقَ الۡاَرۡضَ فِیۡ یَوۡمَیۡنِ وَتَجۡعَلُوۡنَ لَہٗۤ اَنۡدَادًا ؕ ذٰلِکَ رَبُّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۚ﴿۹﴾
آپ ( ان سے ) پوچھیے کیا تم لوگ کرتے ہو اس ذات کا جس نے فرمایا کو دو میں اور ٹھیراتے ہو اس کے لیے مد مقابل ۔ وہ تو رب العالمین ہے ( اس کا مد مقابل کون ہو سکتا ہے ) ۔
وَجَعَلَ فِیۡہَا رَوَاسِیَ مِنۡ فَوۡقِہَا وَبٰرَکَ فِیۡہَا وَقَدَّرَ فِیۡہَاۤ اَقۡوَاتَہَا فِیۡۤ اَرۡبَعَۃِ اَیَّامٍ ؕ سَوَآءً لِّلسَّآئِلِیۡنَ ﴿۱۰﴾
اور اس نے ( ہی ) بنائے ہیں میں گرے ہوئے جو اس کے اوپر ( اٹھے ہوئے ) ہیں اور اس نے بڑی برکتیں رکھی ہیں اس میں اور سے کر دی ہیں اس میں غذائیں ( ہر نوع کے لیے ) چار دنوں میں ( انکا حصول ) یکساں ہے طلبگاروں کے لیے ۔
ثُمَّ اسۡتَوٰۤی اِلَی السَّمَآءِ وَہِیَ دُخَانٌ فَقَالَ لَہَا وَلِلۡاَرۡضِ ائۡتِیَا طَوۡعًا اَوۡ کَرۡہًا ؕ قَالَتَاۤ اَتَیۡنَا طَآئِعِیۡنَ ﴿۱۱﴾
پھر اس نے توجہ فرمائی کی طرف ، وہ اس محض تھا پس فرمایا اسے اور کو کہ آ جاؤ ( تعمیل اور ادائے فرائض کے لیے ) خوشی سے یا مجبوراً دونوں نے عرض کی ہم خوشی خوشی ( دست بستہ ) ہیں ۔
فَقَضٰہُنَّ سَبۡعَ سَمٰوَاتٍ فِیۡ یَوۡمَیۡنِ وَاَوۡحٰی فِیۡ کُلِّ سَمَآءٍ اَمۡرَہَا ؕ وَزَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنۡیَا بِمَصَابِیۡحَ ٭ۖ وَحِفۡظًا ؕ ذٰلِکَ تَقۡدِیۡرُ الۡعَزِیۡزِ الۡعَلِیۡمِ ﴿۱۲﴾
پس بنا دیا انھیں سات دو دنوں میں اور وحی فرمائی ہر میں اس کے حسب حال اور ہم نے کر دیا کو چراغوں سے اور اسے خوب محفوظ کر دیا یہ ( سارا ) نظام سب سے ، سب کچھ جاننے والے ( خدا ) کا ہے ۔
فَاِنۡ اَعۡرَضُوۡا فَقُلۡ اَنۡذَرۡتُکُمۡ صٰعِقَۃً مِّثۡلَ صٰعِقَۃِ عَادٍ وَّثَمُوۡدَ ﴿ؕ۱۳﴾
پس اگر وہ ( پھر بھی ) روگردانی کریں تو آپ فرمائیے کہ میں نے ڈرایا ہے تمہیں اس کڑک سے جو عاد و ثمود کی کڑک کی مانند ( خیز ) ہو گی ۔
اِذۡ جَآءَتۡہُمُ الرُّسُلُ مِنۡۢ بَیۡنِ اَیۡدِیۡہِمۡ وَمِنۡ خَلۡفِہِمۡ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰہَ ؕ قَالُوۡا لَوۡ شَآءَ رَبُّنَا لَاَنۡزَلَ مَلٰٓئِکَۃً فَاِنَّا بِمَاۤ اُرۡسِلۡتُمۡ بِہٖ کٰفِرُوۡنَ ﴿۱۴﴾
۔( کچھ ہے ) جب آئے تھے ان کے رسول سے اور سے ( یعنی ہر طرف سے یہ سمجھانے کے لیے ) کہ اللہ کے سوا کسی کی نہ کرو انھوں نے کہا اگر ہمارے رب کی مرضی ہوتی ( کہ ہمیں کچھ سمجھائے ) تو فرشتے نازل کرتا ، پس ہم جو دے کر تمہیں بھیجا گیا ہے ( اسکا سراسر ) کرتے ہیں ۔
فَاَمَّا عَادٌ فَاسۡتَکۡبَرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ بِغَیۡرِ الۡحَقِّ وَقَالُوۡا مَنۡ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّۃً ؕ اَوَ لَمۡ یَرَوۡا اَنَّ اللّٰہَ الَّذِیۡ خَلَقَہُمۡ ہُوَ اَشَدُّ مِنۡہُمۡ قُوَّۃً ؕ وَکَانُوۡا بِاٰیٰتِنَا یَجۡحَدُوۡنَ ﴿۱۵﴾
پس قوم عاد نے تو کی میں ناحق اور کہنے لگے ہم سے طاقتور کون ہے ؟ کیا انھوں نے نہ جانا کہ اللہ تعالیٰ جس نے ان کو کیا ہے وہ ان سے قوی ہے ۔ اور وہ ( تو ) ہماری آیتوں کا کرتے تھے ۔
فَاَرۡسَلۡنَا عَلَیۡہِمۡ رِیۡحًا صَرۡصَرًا فِیۡۤ اَیَّامٍ نَّحِسَاتٍ لِّنُذِیۡقَہُمۡ عَذَابَ الۡخِزۡیِ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ؕ وَلَعَذَابُ الۡاٰخِرَۃِ اَخۡزٰی وَہُمۡ لَا یُنۡصَرُوۡنَ ﴿۱۶﴾
پس ہم نے بھیج دی ان پر ٹھنڈی تند منحوس دنوں میں تاکہ ہم انھیں چکھائیں آمیز اس دنیوی زندگی میں ۔ اور کا تو بہت رسوا کن ہو گا اور ان کی ہرگز نہ کی جائے گی ۔
وَاَمَّا ثَمُوۡدُ فَہَدَیۡنٰہُمۡ فَاسۡتَحَبُّوا الۡعَمٰی عَلَی الۡہُدٰی فَاَخَذَتۡہُمۡ صٰعِقَۃُ الۡعَذَابِ الۡہُوۡنِ بِمَا کَانُوۡا یَکۡسِبُوۡنَ ﴿ۚ۱۷﴾
باقی رہے ثمود تو انھیں ہم نے سیدھی راہ دکھائی ، انھوں نے کیا اندھے پن کو پر ، تو پکڑ لیا انھیں اس کی کڑک نے جو رسوا کن ہے ان کرتوتوں کے باعث جو وہ کیا کرتے تھے ۔
وَنَجَّیۡنَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَکَانُوۡا یَتَّقُوۡنَ ﴿۱۸﴾٪ 16
اور ہم نے ان لوگوں کو دی جو ایمان لائے تھے اور ( اللہ کی سے ) ڈرتے رہتے تھے ۔
وَیَوۡمَ یُحۡشَرُ اَعۡدَآءُ اللّٰہِ اِلَی النَّارِ فَہُمۡ یُوۡزَعُوۡنَ ﴿۱۹﴾
اور ( ذرا خیال کرو ) اس کا جب جمع کیے جائیں گے اللہ کے آتش ( جہنم ) کی طرف ، پھر وہ ( گروہوں میں ) بانٹ دیے جائیں گے ۔
حَتّٰۤی اِذَا مَاجَآءُوۡہَا شَہِدَ عَلَیۡہِمۡ سَمۡعُہُمۡ وَاَبۡصَارُہُمۡ وَجُلُوۡدُہُمۡ بِمَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۲۰﴾
یہاں تک کہ جب وہ کے قریب آ جائیں گے ( تو حساب ہو گا اس ) گواہی دیں گے ان کے خلاف ان کے کان ، ان کی آنکھیں اور ان کی کھالیں اس کے بارے میں جو وہ کیا کرتے تھے ۔
وَقَالُوۡا لِجُلُوۡدِہِمۡ لِمَ شَہِدۡتُّمۡ عَلَیۡنَا ؕ قَالُوۡۤا اَنۡطَقَنَا اللّٰہُ الَّذِیۡۤ اَنۡطَقَ کُلَّ شَیۡءٍ وَّہُوَ خَلَقَکُمۡ اَوَّلَ مَرَّۃٍ وَّاِلَیۡہِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴿۲۱﴾
اور وہ کہیں گے اپنی کھالوں سے تم نے ہمارے خلاف گواہی کیوں دی ۔ وہ کہیں گے ( ہم بے بس ہیں ) ہمیں تو گویا کر دیا ہے اللہ نے جس نے گویا کیا ہے ہر شے کو اور اسی نے تمہیں کیا تھا پہلی مرتبہ اور اب اسی کی طرف تم لوٹائے جا رہے ہو ۔
وَمَا کُنۡتُمۡ تَسۡتَتِرُوۡنَ اَنۡ یَّشۡہَدَ عَلَیۡکُمۡ سَمۡعُکُمۡ وَلَاۤ اَبۡصَارُکُمۡ وَلَا جُلُوۡدُکُمۡ وَلٰکِنۡ ظَنَنۡتُمۡ اَنَّ اللّٰہَ لَا یَعۡلَمُ کَثِیۡرًا مِّمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۲۲﴾
اور تم نہیں چھپا سکتے تھے اپنے آپ کو اس امر سے کہ گواہی نہ دیں تمہارے خلاف تمہارے کان اور نہ تمہاری آنکھیں اور نہ تمہاری کھالیں بلکہ تم تو یہ کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ جانتا ہی نہیں تمہارے اکثر کو جو تم کرتے ہو ۔
وَذٰلِکُمۡ ظَنُّکُمُ الَّذِیۡ ظَنَنۡتُمۡ بِرَبِّکُمۡ اَرۡدٰىکُمۡ فَاَصۡبَحۡتُمۡ مِّنَ الۡخٰسِرِیۡنَ ﴿۲۳﴾
اور تمہارے اسی نے جو تم اپنے رب کے بارے میں کیا کرتے تھے تمہیں کر دیا ، پس تم ہو گئے اٹھانے والوں سے ۔
فَاِنۡ یَّصۡبِرُوۡا فَالنَّارُ مَثۡوًی لَّہُمۡ ۚ وَاِنۡ یَّسۡتَعۡتِبُوۡا فَمَا ہُمۡ مِّنَ الۡمُعۡتَبِیۡنَ ﴿۲۴﴾
پس وہ کریں ( یا نہ کریں ) ہی ان کا ٹھکانا ہے اور اگر وہ ( اس ) رضائے الہی چاہیں گے تو وہ ان میں سے نہیں ہوں گے پر اللہ ۔
وَقَیَّضۡنَا لَہُمۡ قُرَنَآءَ فَزَیَّنُوۡا لَہُمۡ مَّا بَیۡنَ اَیۡدِیۡہِمۡ وَمَا خَلۡفَہُمۡ وَحَقَّ عَلَیۡہِمُ الۡقَوۡلُ فِیۡۤ اُمَمٍ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ مِّنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ ۚ اِنَّہُمۡ کَانُوۡا خٰسِرِیۡنَ ﴿٪۲۵﴾ 17
اور ہم نے کر دیے ان کے لیے کچھ ، پس انھوں نے آراستہ کر دکھایا انھیں اگلے اور پچھلے گناہوں کو اور ہو گیا ان پر فرمان ( ) ان قوموں کی طرح جو ان سے گزر چکی تھیں جنوں اور انسانوں سے ۔ وہ سب ( اگلے پچھلے ) اٹھانے والے تھے ۔
وَقَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَا تَسۡمَعُوۡا لِہٰذَا الۡقُرۡاٰنِ وَالۡغَوۡا فِیۡہِ لَعَلَّکُمۡ تَغۡلِبُوۡنَ ﴿۲۶﴾
اور کہنے لگے وہ کافر مت سنا کرو اس کو اور شور و غل مچا دیا کرو اس کی تلاوت کے شاید تم ( اس طرح ) آ جاؤ ۔
فَلَنُذِیۡقَنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا عَذَابًا شَدِیۡدًا ۙ وَّلَنَجۡزِیَنَّہُمۡ اَسۡوَاَ الَّذِیۡ کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۲۷﴾
پس ہم خوب چکھائیں گے کفار کو شدید ( کا مزہ ) اور انھیں دیں گے بہت برا اس ( ) کا جو وہ کیا کرتے تھے ۔
ذٰلِکَ جَزَآءُ اَعۡدَآءِ اللّٰہِ النَّارُ ۚ لَہُمۡ فِیۡہَا دَارُ الۡخُلۡدِ ؕ جَزَآءًۢ بِمَا کَانُوۡا بِاٰیٰتِنَا یَجۡحَدُوۡنَ ﴿۲۸﴾
یہ ہے سزا اللہ کے دشمنوں کی یعنی ۔ ان کے لیے اس میں ہی ٹھہرنے کا ہے ۔ یہ سزا ہے اس کی کہ وہ ہماری آیتوں کا کیا کرتے تھے ۔
وَقَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا رَبَّنَاۤ اَرِنَا الَّذَیۡنِ اَضَلّٰنَا مِنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ نَجۡعَلۡہُمَا تَحۡتَ اَقۡدَامِنَا لِیَکُوۡنَا مِنَ الۡاَسۡفَلِیۡنَ ﴿۲۹﴾
اور کافر کہیں گے اے ہمارے رب ! ہمیں دکھا وہ دونوں ( شیطان ) جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا جنوں اور انسانوں سے ، ہم انھیں روند ڈالیں گے اپنے قدموں کے تاکہ وہ ہو جائیں پست ترین لوگوں سے ۔
اِنَّ الَّذِیۡنَ قَالُوۡا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسۡتَقَامُوۡا تَتَنَزَّلُ عَلَیۡہِمُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ اَلَّا تَخَافُوۡا وَلَا تَحۡزَنُوۡا وَاَبۡشِرُوۡا بِالۡجَنَّۃِ الَّتِیۡ کُنۡتُمۡ تُوۡعَدُوۡنَ ﴿۳۰﴾
بیشک وہ ( سعادت مند ) جنہوں نے کہا ہمارا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے پھر وہ اس قول پر پختگی سے قائم رہے اترتے ہیں ان پر فرشتے ( اور انھیں کہتے ہیں ) کہ نہ ڈرو اور نہ کرو تمہیں بشارت ہو کی جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا ۔
نَحۡنُ اَوۡلِیٰٓؤُکُمۡ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَفِی الۡاٰخِرَۃِ ۚ وَلَکُمۡ فِیۡہَا مَاتَشۡتَہِیۡۤ اَنۡفُسُکُمۡ وَلَکُمۡ فِیۡہَا مَاتَدَّعُوۡنَ ﴿ؕ۳۱﴾
ہم تمہارے ہیں دنیوی زندگی میں بھی اور میں بھی ۔ اور تمہارے لیے اس میں ہر وہ شے ہے جو تمہارا جی چاہے اور تمہارے لیے اس میں ہر وہ چیز ہے جو تم مانگو گے ۔
نُزُلًا مِّنۡ غَفُوۡرٍ رَّحِیۡمٍ ﴿۳۲﴾٪ 18
یہ میزبانی ہے بہت بخشنے والے رحم فرمانے والے کی طرف سے ۔
وَمَنۡ اَحۡسَنُ قَوۡلًا مِّمَّنۡ دَعَاۤ اِلَی اللّٰہِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَّقَالَ اِنَّنِیۡ مِنَ الۡمُسۡلِمِیۡنَ ﴿۳۳﴾
اور اس شخص سے بہتر کس کا کلام ہے جس نے دعوت دی اللہ کی طرف اور عمل کیے اور کہا کہ میں تو ( اپنے رب کے ) فرمانبردار بندوں میں سے ہوں ۔
وَلَا تَسۡتَوِی الۡحَسَنَۃُ وَلَا السَّیِّئَۃُ ؕ اِدۡفَعۡ بِالَّتِیۡ ہِیَ اَحۡسَنُ فَاِذَا الَّذِیۡ بَیۡنَکَ وَبَیۡنَہٗ عَدَاوَۃٌ کَاَنَّہٗ وَلِیٌّ حَمِیۡمٌ ﴿۳۴﴾
نہیں یکساں ہوتی اور ۔ کا تدارک اس ( ) سے کرو جو بہتر ہے پس ناگہاں وہ شخص تیرے اور اس کے عداوت ہے ، یوں بن جائے گا گویا تمہاری جانی ہے ۔
وَمَا یُلَقّٰہَاۤ اِلَّا الَّذِیۡنَ صَبَرُوۡا ۚ وَمَا یُلَقّٰہَاۤ اِلَّا ذُوۡحَظٍّ عَظِیۡمٍ ﴿۳۵﴾
اور نہیں دی جاتی ان ( خصائل حمیدہ ) کی بجز ان کے جو کرتے ہیں اور نہیں دی جاتی ان کی مگر بڑے نصیب کو ۔
وَاِمَّا یَنۡزَغَنَّکَ مِنَ الشَّیۡطٰنِ نَزۡغٌ فَاسۡتَعِذۡ بِاللّٰہِ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۳۶﴾
اور ( اے سننے والے ) اگر شیطان کی طرف سے تیرے میں کوئی وسوسہ ہو تو ( اس کے شر سے ) اللہ کی مانگ یقیناً وہی سب کچھ سننے والا سب کچھ جاننے والا ہے ۔
وَمِنۡ اٰیٰتِہِ الَّیۡلُ وَالنَّہَارُ وَالشَّمۡسُ وَالۡقَمَرُ ؕ لَا تَسۡجُدُوۡا لِلشَّمۡسِ وَلَا لِلۡقَمَرِ وَاسۡجُدُوۡا لِلّٰہِ الَّذِیۡ خَلَقَہُنَّ اِنۡ کُنۡتُمۡ اِیَّاہُ تَعۡبُدُوۡنَ ﴿۳۷﴾
اور اس کی ( قدرت کی ) نشانیوں میں سے بھی ہے اور بھی ، سورج بھی ہے اور بھی مت سجدہ کرو سورج کو اور نہ کو بلکہ سجدہ کرو اللہ کو جس نے انھیں فرمایا ہے اگر تم واقعی اس کے پرستار ہو ۔
فَاِنِ اسۡتَکۡبَرُوۡا فَالَّذِیۡنَ عِنۡدَ رَبِّکَ یُسَبِّحُوۡنَ لَہٗ بِالَّیۡلِ وَالنَّہَارِ وَہُمۡ لَا یَسۡئَمُوۡنَ ﴿۳۸﴾ٛ
پھر ( بھی ) اگر وہ کرتے رہیں ( تو ان کی قسمت ) پس وہ ( فرشتے ) جو آپ کے رب کے ہیں تسبیح کرتے رہتے ہیں اس کی شب و روز اور وہ نہیں تھکتے ۔
وَمِنۡ اٰیٰتِہٖۤ اَنَّکَ تَرَی الۡاَرۡضَ خَاشِعَۃً فَاِذَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَیۡہَا الۡمَآءَ اہۡتَزَّتۡ وَرَبَتۡ ؕ اِنَّ الَّذِیۡۤ اَحۡیَاہَا لَمُحۡیِ الۡمَوۡتٰی ؕ اِنَّہٗ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۳۹﴾
اور اس کی ( قدرت کی ) نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ تو دیکھتا ہے کو کہ وہ ( کسی ) بنجر ہے ، پھر جب ہم اتارتے ہیں اس پر ( کا ) تو جھومنے لگتی ہے اور کھل اٹھتی ہے بیشک وہ ( قادر مطلق ) جس نے کر دیا ہے کو ، وہی کرنے والا ہے مردوں کو ۔ بلاشبہ وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے ۔
اِنَّ الَّذِیۡنَ یُلۡحِدُوۡنَ فِیۡۤ اٰیٰتِنَا لَا یَخۡفَوۡنَ عَلَیۡنَا ؕ اَفَمَنۡ یُّلۡقٰی فِی النَّارِ خَیۡرٌ اَمۡ مَّنۡ یَّاۡتِیۡۤ اٰمِنًا یَّوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ اِعۡمَلُوۡا مَاشِئۡتُمۡ ۙ اِنَّہٗ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِیۡرٌ ﴿۴۰﴾
بیشک وہ لوگ جو ہماری آیتوں میں اپنی طرف سے اضافے کرتے ہیں وہ ہم سے چھپے ہوئے نہیں ہیں ۔ تو کیا جو پھینکا جائے گا میں وہ بہتر ہے یا جو آئے گا امن و سلامتی کے ساتھ کے ( وہ بہتر ہے ) تم وہ کرو جو تمہاری مرضی یقیناً جو کچھ تم کرتے ہو ، وہ خوب دیکھ رہا ہے ۔
اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِالذِّکۡرِ لَمَّا جَآءَہُمۡ ۚ وَاِنَّہٗ لَکِتٰبٌ عَزِیۡزٌ ﴿ۙ۴۱﴾
بیشک وہ لوگ جنہوں نے کو ماننے سے کیا جب وہ ان کے آیا ( تو وہ ہٹ دھرم لوگ ہیں ) اور بیشک یہ بڑی ( حرمت ) والی ہے ۔
لَّا یَاۡتِیۡہِ الۡبَاطِلُ مِنۡۢ بَیۡنِ یَدَیۡہِ وَلَا مِنۡ خَلۡفِہٖ ؕ تَنۡزِیۡلٌ مِّنۡ حَکِیۡمٍ حَمِیۡدٍ ﴿۴۲﴾
اس کے نہیں آ سکتا باطل نہ اس کے سے اور نہ سے یہ اتری ہوئی ہے بڑے حکمت والے ، سب خوبیاں سراہے کی طرف سے ۔
مَایُقَالُ لَکَ اِلَّا مَاقَدۡ قِیۡلَ لِلرُّسُلِ مِنۡ قَبۡلِکَ ؕ اِنَّ رَبَّکَ لَذُوۡ مَغۡفِرَۃٍ وَّذُوۡ عِقَابٍ اَلِیۡمٍ ﴿۴۳﴾
۔( اے حبیب ! ) نہیں کہا جاتا آپ کو مگر وہی جو کہا گیا پیغمبروں کو آپ سے بیشک آپ کا پروردگار ( اہل ایمان کے لیے ) بہت بخشنے والا اور ( منکرین کے لیے ) دردناک دینے والا ہے ۔
وَلَوۡ جَعَلۡنٰہُ قُرۡاٰنًا اَعۡجَمِیًّا لَّقَالُوۡا لَوۡ لَا فُصِّلَتۡ اٰیٰتُہٗ ؕ ءَؔاَعۡجَمِیٌّ وَّعَرَبِیٌّ ؕ قُلۡ ہُوَ لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ہُدًی وَّشِفَآءٌ ؕ وَالَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ فِیۡۤ اٰذَانِہِمۡ وَقۡرٌ وَّہُوَ عَلَیۡہِمۡ عَمًی ؕ اُولٰٓئِکَ یُنَادَوۡنَ مِنۡ مَّکَانٍ ۢ بَعِیۡدٍ ﴿٪۴۴﴾ 19
اور بالفرض اگر ہم اسے بنا کر بھیجتے عجمی زبان میں تو کہتے کیوں نہ کھول کر کی گئیں اس کی آیتیں ۔ کیا اچنبھ ہے عجمی اور نبی عربی آپ فرمائیے یہ ایمان لانے والوں کے لیے تو اور شفاء ہے اور جو ایمان نہیں لائے ان کے کانوں میں بہرہ پن ہے اور وہ ان پر ( ہر حال میں ) مشتبہ رہتا ہے ۔ انھیں گویا بلایا جاتا ہے کی سے ۔
وَلَقَدۡ اٰتَیۡنَا مُوۡسَی الۡکِتٰبَ فَاخۡتُلِفَ فِیۡہِ ؕ وَلَوۡ لَا کَلِمَۃٌ سَبَقَتۡ مِنۡ رَّبِّکَ لَقُضِیَ بَیۡنَہُمۡ ؕ وَاِنَّہُمۡ لَفِیۡ شَکٍّ مِّنۡہُ مُرِیۡبٍ ﴿۴۵﴾
اور ہم نے عطا فرمائی موسیٰ ( علیہ السلام ) کو ، پس اس میں بھی بہت اختلاف کیا گیا ہے اور اگر ایک طے نہ ہو گئی ہوتی آپ کے رب کی طرف سے تو ( ابھی ) کر دیا جاتا ان کے ۔ اور بیشک وہ ایک میں مبتلا ہیں اس کے بارے میں جو بے چین کر دینے والا ہے ۔
مَنۡ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفۡسِہٖ وَمَنۡ اَسَآءَ فَعَلَیۡہَا ؕ وَمَا رَبُّکَ بِظَلَّامٍ لِّلۡعَبِیۡدِ ﴿۴۶﴾
جو عمل کرتا ہے تو وہ اپنے بھلے کے لیے اور جو کرتا ہے اس کا وبال اس پر ہے اور آپ کا رب تو بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ۔
اِلَیۡہِ یُرَدُّ عِلۡمُ السَّاعَۃِ ؕ وَمَا تَخۡرُجُ مِنۡ ثَمَرٰتٍ مِّنۡ اَکۡمَامِہَا وَمَا تَحۡمِلُ مِنۡ اُنۡثٰی وَلَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلۡمِہٖ ؕ وَیَوۡمَ یُنَادِیۡہِمۡ اَیۡنَ شُرَکَآءِیۡ ۙ قَالُوۡۤا اٰذَنّٰکَ ۙ مَامِنَّا مِنۡ شَہِیۡدٍ ﴿ۚ۴۷﴾
اسی اللہ کی طرف لوٹایا جاتا ہے کا علم اور نہیں نکلتا کوئی اپنے غلافوں سے اور نہ حاملہ ہوتی ہے کوئی مادہ اور نہ بچہ جنتی ہے اس کے علم کے بغیر ۔ اور جس روز وہ انھیں پکارے گا کہ کہاں ہیں میرے ؟ کہیں گے ہم ( ) عرض کر چکے ہیں ہم میں سے کوئی بھی ( اس پر ) گواہی نہ دے گا ۔
وَضَلَّ عَنۡہُمۡ مَّا کَانُوۡا یَدۡعُوۡنَ مِنۡ قَبۡلُ وَظَنُّوۡا مَالَہُمۡ مِّنۡ مَّحِیۡصٍ ﴿۴۸﴾
اور ہو جائیں گے ان سے کی وہ کیا کرتے تھے اور وہ کر لیں گے کہ اب بھاگ جانے کی کوئی نہیں ۔
لَا یَسۡئَمُ الۡاِنۡسَانُ مِنۡ دُعَآءِ الۡخَیۡرِ ۫ وَاِنۡ مَّسَّہُ الشَّرُّ فَیَئُوۡسٌ قَنُوۡطٌ ﴿۴۹﴾
نہیں اکتاتا بھلائی کی کرنے سے اور اگر اسے کوئی پہنچتی ہے تو بالکل مایوس ( اور ) ناامید ہو جاتا ہے ۔
وَلَئِنۡ اَذَقۡنٰہُ رَحۡمَۃً مِّنَّا مِنۡۢ بَعۡدِ ضَرَّآءَ مَسَّتۡہُ لَیَقُوۡلَنَّ ہٰذَا لِیۡ ۙ وَمَاۤ اَظُنُّ السَّاعَۃَ قَآئِمَۃً ۙ وَّلَئِنۡ رُّجِعۡتُ اِلٰی رَبِّیۡۤ اِنَّ لِیۡ عِنۡدَہٗ لَلۡحُسۡنٰی ۚ فَلَنُنَبِّئَنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِمَا عَمِلُوۡا ۫ وَلَنُذِیۡقَنَّہُمۡ مِّنۡ عَذَابٍ غَلِیۡظٍ ﴿۵۰﴾
اور اگر ہم چکھائیں اسے رحمت اپنی جناب سے اس کے بعد جو اسے پہنچتی ہے تو کہتا ہے میں اسی کا مستحق ہوں اور میں نہیں خیال کرتا کہ برپا ہو گی ۔ اور اگر میں لوٹایا گیا اپنے رب کی طرف تو یقیناً میرے لیے اس کے بھی اکرام ہی اکرام ہو گا ( یہ احمق کیا سوچ رہے ہیں ) ہم تو کریں گے کافروں کو جو کرتوت انھوں نے کیے ۔ اور ہم ضرور چکھائیں گے انھیں ۔
وَاِذَاۤ اَنۡعَمۡنَا عَلَی الۡاِنۡسَانِ اَعۡرَضَ وَنَاٰ بِجَانِبِہٖ ۚ وَاِذَا مَسَّہُ الشَّرُّ فَذُوۡ دُعَآءٍ عَرِیۡضٍ ﴿۵۱﴾
اور جب ہم فرماتے ہیں پر تو وہ ( سے ) پھیر لیتا ہے اور تہی کرنے لگتا ہے اور جب اسے پہنچتی ہے تو لمبی چوڑی دعائیں کرنے لگ جاتا ہے ۔
قُلۡ اَرَءَیۡتُمۡ اِنۡ کَانَ مِنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ ثُمَّ کَفَرۡتُمۡ بِہٖ مَنۡ اَضَلُّ مِمَّنۡ ہُوَ فِیۡ شِقَاقٍ ۢ بَعِیۡدٍ ﴿۵۲﴾
آپ فرمائیے ( اے کافرو ! ) تم مجھے بتاؤ اگر یہ اللہ کی طرف سے ہو پھر تم اس کا کرو تو کون گمراہ ہے اس سے جو اختلاف میں بہت نکل گیا ہو ۔
سَنُرِیۡہِمۡ اٰیٰتِنَا فِی الۡاٰفَاقِ وَفِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَہُمۡ اَنَّہُ الۡحَقُّ ؕ اَوَ لَمۡ یَکۡفِ بِرَبِّکَ اَنَّہٗ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ شَہِیۡدٌ ﴿۵۳﴾
ہم دکھائیں گے انھیں اپنی نشانیاں آفاق ( ) میں اور ان کے اپنے نفسوں میں تاکہ ان پر واضح ہو جائے کہ واقعی حق ہے کیا یہ نہیں کہ آپ کا رب ہر چیز پر گواہ ہے ۔
اَلَاۤ اِنَّہُمۡ فِیۡ مِرۡیَۃٍ مِّنۡ لِّقَآءِ رَبِّہِمۡ ؕ اَلَاۤ اِنَّہٗ بِکُلِّ شَیۡءٍ مُّحِیۡطٌ ﴿۵۴﴾٪ 1
سنو ! یہ لوگ میں مبتلا ہیں اپنے رب سے ملنے کے بارے میں رکھو وہ ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے ۔