حٰمٓ ۚ﴿۱﴾
حا۔ میم .
The Crouching
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ ﴿١﴾
In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
حٰمٓ ۚ﴿۱﴾
حا۔ میم .
تَنۡزِیۡلُ الۡکِتٰبِ مِنَ اللّٰہِ الۡعَزِیۡزِ الۡحَکِیۡمِ ﴿۲﴾
اتاری گئی ہے یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو زبردست ( اور ) حکمت والا ہے ۔
اِنَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ لَاٰیٰتٍ لِّلۡمُؤۡمِنِیۡنَ ؕ﴿۳﴾
بیشک آسمانوں اور میں ( اس کی یکتائی اور قدرت کی ) نشانیاں ہیں اہل ایمان کے لیے ۔
وَفِیۡ خَلۡقِکُمۡ وَمَا یَبُثُّ مِنۡ دَآبَّۃٍ اٰیٰتٌ لِّقَوۡمٍ یُّوۡقِنُوۡنَ ۙ﴿۴﴾
اور ( خود ) تمہاری پیدائش میں اور ان حیوانات میں کو وہ پھیلا رہا ہے نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو رکھتے ہیں ۔
وَاخۡتِلَافِ الَّیۡلِ وَالنَّہَارِ وَمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ مِنَ السَّمَآءِ مِنۡ رِّزۡقٍ فَاَحۡیَا بِہِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِہَا وَتَصۡرِیۡفِ الرِّیٰحِ اٰیٰتٌ لِّقَوۡمٍ یَّعۡقِلُوۡنَ ﴿۵﴾
نیز گردش لیل و نہار میں اور جو اتارا ہے اللہ تعالیٰ نے سے رزق ( کا سبب مینہ ) پھر کر دیا اس کے کو اس کے مردہ ہونے کے بعد اور ہواؤں کے ادھر ادھر چلنے میں نشانیاں ہیں ان کے لیے جو عقلمند ہیں ۔
تِلۡکَ اٰیٰتُ اللّٰہِ نَتۡلُوۡہَا عَلَیۡکَ بِالۡحَقِّ ۚ فَبِاَیِّ حَدِیۡثٍ ۢ بَعۡدَ اللّٰہِ وَاٰیٰتِہٖ یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۶﴾
یہ سب نشانیاں ہیں اللہ کی ( قدرت کی ) ہم کرتے ہیں انھیں آپ پر حق کے ساتھ ۔ پس وہ کونسی ایسی ہے جس پر وہ اللہ اور اس کی آیتوں کے بعد ایمان لائیں گے ۔
وَیۡلٌ لِّکُلِّ اَفَّاکٍ اَثِیۡمٍ ۙ﴿۷﴾
ہلاکت ہے ہر جھوٹے بدکار کے لیے ۔
یَّسۡمَعُ اٰیٰتِ اللّٰہِ تُتۡلٰی عَلَیۡہِ ثُمَّ یُصِرُّ مُسۡتَکۡبِرًا کَاَنۡ لَّمۡ یَسۡمَعۡہَا ۚ فَبَشِّرۡہُ بِعَذَابٍ اَلِیۡمٍ ﴿۸﴾
جو سنتا ہے اللہ کی آیتوں کو جو پڑھی جاتی ہیں اس کے پھر بھی وہ ( کفر پر ) اڑا رہتا ہے غرور کرتے ہوئے گویا اس نے انھیں سنا ہی نہیں ۔ پس آپ اسے دردناک کا مژدہ سنا دیں ۔
وَاِذَا عَلِمَ مِنۡ اٰیٰتِنَا ﺷَﻴۡﺌَﺎۨ اتَّخَذَہَا ہُزُوًا ؕ اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ عَذَابٌ مُّہِیۡنٌ ؕ﴿۹﴾
اور جب وہ ہوتا ہے ہماری آیتوں میں سے کسی پر تو ان کا اڑانے لگتا ہے ۔ یہی وہ ( بدقماش ) ہیں کے لیے رسوا کن ہے ۔
مِنۡ وَّرَآئِہِمۡ جَہَنَّمُ ۚ وَلَا یُغۡنِیۡ عَنۡہُمۡ مَّا کَسَبُوۡا شَیۡئًا وَّلَا مَااتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ اَوۡلِیَآءَ ۚ وَلَہُمۡ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ ﴿ؕ۱۰﴾
ان کے آگے جہنم ہے ۔ اور ان کے ذرا نہ آئے گا جو انھوں نے ( عمر بھر ) کمایا اور نہ وہ کسی آئیں گے کو انھوں نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر بنایا تھا اور ان کے لیے بڑا ہو گا ۔
ہٰذَا ہُدًی ۚ وَالَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِاٰیٰتِ رَبِّہِمۡ لَہُمۡ عَذَابٌ مِّنۡ رِّجۡزٍ اَلِیۡمٌ ﴿۱۱﴾٪ 17
یہ سراپا ہے اور جنہوں نے کیا اپنے رب کی آیتوں کا ان کے لیے دردناک ہے ترین میں سے ۔
اَللّٰہُ الَّذِیۡ سَخَّرَ لَکُمُ الۡبَحۡرَ لِتَجۡرِیَ الۡفُلۡکُ فِیۡہِ بِاَمۡرِہٖ وَلِتَبۡتَغُوۡا مِنۡ فَضۡلِہٖ وَلَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَ ﴿ۚ۱۲﴾
اللہ وہ ہے جس نے کر دیا ہے تمہارے لیے سمندر کو تاکہ رواں رہیں اس میں کشتیاں اس کے سے اور تاکہ تم ( بحری تجارت سے ) تلاش کرو اس کا فضل اور تاکہ تم اس کا شکر ادا کیا کرو ۔
وَسَخَّرَ لَکُمۡ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الۡاَرۡضِ جَمِیۡعًا مِّنۡہُ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یَّتَفَکَّرُوۡنَ ﴿۱۳﴾
اور اس نے کر دیا ہے تمہارے لیے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ میں ہے سب کا سب اپنے سے بیشک اس ( نظام ) میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو و فکر کیا کرتے ہیں ۔
قُلۡ لِّلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا یَغۡفِرُوۡا لِلَّذِیۡنَ لَا یَرۡجُوۡنَ اَیَّامَ اللّٰہِ لِیَجۡزِیَ قَوۡمًۢا بِمَا کَانُوۡا یَکۡسِبُوۡنَ ﴿۱۴﴾
۔( اے حبیب ! ) فرمائیے اہل ایمان کو کہ درگزر کرتے رہیں ان لوگوں سے جو نہیں رکھتے اللہ کے دنوں کی تاکہ اللہ خود دے ہر قوم کو جو وہ کیا کرتے تھے ۔
مَنۡ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفۡسِہٖ ۚ وَمَنۡ اَسَآءَ فَعَلَیۡہَا ۫ ثُمَّ اِلٰی رَبِّکُمۡ تُرۡجَعُوۡنَ ﴿۱۵﴾
جو عمل کرتا ہے پس وہ اپنے بھلے کے لیے کرتا ہے اور جو برا کرتا ہے تو اس کا وبال اس پر ہو گا پھر اپنے رب کی طرف تمہیں لوٹایا جائے گا ۔
وَلَقَدۡ اٰتَیۡنَا بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ الۡکِتٰبَ وَالۡحُکۡمَ وَالنُّبُوَّۃَ وَرَزَقۡنٰہُمۡ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَفَضَّلۡنٰہُمۡ عَلَی الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿ۚ۱۶﴾
اور بیشک ہم نے عطا فرمائی بنی اسرائیل کو ، حکومت اور نبوت اور ہم نے ان کو پاکیزہ رزق دیا اور انھیں بزرگی دی ( اپنے زمانے کے ) اہل جہاں پر ۔
وَاٰتَیۡنٰہُمۡ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الۡاَمۡرِ ۚ فَمَا اخۡتَلَفُوۡۤا اِلَّا مِنۡۢ بَعۡدِ مَاجَآءَہُمُ الۡعِلۡمُ ۙ بَغۡیًۢا بَیۡنَہُمۡ ؕ اِنَّ رَبَّکَ یَقۡضِیۡ بَیۡنَہُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ فِیۡمَا کَانُوۡا فِیۡہِ یَخۡتَلِفُوۡنَ ﴿۱۷﴾
اور ہم نے انھیں کے معاملہ میں واضح دلائل دیے پس آپس میں انھوں نے نہیں کیا مگر اس کے بعد کہ انھیں ( حقائق کا ) صحیح علم آ گیا ، محض باہمی حسد و عناد کے باعث ۔ یقیناً آپ کا رب فرمائے گا ان کے کے باتوں میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے ۔
ثُمَّ جَعَلۡنٰکَ عَلٰی شَرِیۡعَۃٍ مِّنَ الۡاَمۡرِ فَاتَّبِعۡہَا وَلَا تَتَّبِعۡ اَہۡوَآءَ الَّذِیۡنَ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۸﴾
پھر ہم نے پختہ کر دیا آپ کو صحیح راہ پر کے معاملہ میں پس آپ اس کی پیروی کرتے رہیں اور ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہ کریں جو بے علم ہیں ۔
اِنَّہُمۡ لَنۡ یُّغۡنُوۡا عَنۡکَ مِنَ اللّٰہِ شَیۡئًا ؕ وَاِنَّ الظّٰلِمِیۡنَ بَعۡضُہُمۡ اَوۡلِیَآءُ بَعۡضٍ ۚ وَاللّٰہُ وَلِیُّ الۡمُتَّقِیۡنَ ﴿۱۹﴾
یہ لوگ اللہ کے مقابلے میں آپ کو قطعاً کچھ نہ پہنچا سکیں گے ۔ بلاشبہ ظالم لوگ ایک دوسرے کے ہیں اور اللہ تعالیٰ پرہیزگاروں کا ہے ۔
ہٰذَا بَصَآئِرُ لِلنَّاسِ وَہُدًی وَّرَحۡمَۃٌ لِّقَوۡمٍ یُّوۡقِنُوۡنَ ﴿۲۰﴾
یہ بصیرت افروز باتیں ہیں سب لوگوں کے لیے اور ( باعثِ ) و رحمت ہیں ان کے لیے جو رکھتے ہیں ۔
اَمۡ حَسِبَ الَّذِیۡنَ اجۡتَرَحُوا السَّیِّاٰتِ اَنۡ نَّجۡعَلَہُمۡ کَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ۙ سَوَآءً مَّحۡیَاہُمۡ وَمَمَاتُہُمۡ ؕ سَآءَ مَایَحۡکُمُوۡنَ ﴿٪۲۱﴾ 18
کیا خیال کر رکھا ہے ان لوگوں نے جو ارتکاب کرتے ہیں برائیوں کا کہ ہم بنا دیں گے انھیں ان لوگوں کی مانند جو ایمان لائے اور عمل کرتے رہے کہ یکساں ہو جائے ان ( دونوں ) کا جینا اور مرنا بڑا غلط ہے جو وہ کرتے ہیں ۔
وَخَلَقَ اللّٰہُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ بِالۡحَقِّ وَلِتُجۡزٰی کُلُّ نَفۡسٍ ۢ بِمَا کَسَبَتۡ وَہُمۡ لَا یُظۡلَمُوۡنَ ﴿۲۲﴾
اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور کو حق کے ساتھ تاکہ دیا جائے ہر شخص کو جو اس نے کمایا اور ان پر ( قطعاً ) ظلم نہیں کیا جائے گا ۔
اَفَرَءَیۡتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰـہَہٗ ہَوٰىہُ وَاَضَلَّہُ اللّٰہُ عَلٰی عِلۡمٍ وَّخَتَمَ عَلٰی سَمۡعِہٖ وَقَلۡبِہٖ وَجَعَلَ عَلٰی بَصَرِہٖ غِشٰوَۃً ؕ فَمَنۡ یَّہۡدِیۡہِ مِنۡۢ بَعۡدِ اللّٰہِ ؕ اَفَلَا تَذَکَّرُوۡنَ ﴿۲۳﴾
ذرا اس کی طرف تو دیکھو جس نے بنا لیا ہے اپنا خدا ، اپنی کو اور گمراہ کر دیا ہے اسے اللہ نے باوجود علم کے اور لگا دی ہے اس کے کانوں اور اس کے پر اور ڈال دیا ہے اس کی آنکھوں پر پس کون دے سکتا ہے اسے اللہ کے بعد ( لوگو ! ) کیا تم نہیں کرتے ۔
وَقَالُوۡا مَاہِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنۡیَا نَمُوۡتُ وَنَحۡیَا وَمَا یُہۡلِکُنَاۤ اِلَّا الدَّہۡرُ ۚ وَمَا لَہُمۡ بِذٰلِکَ مِنۡ عِلۡمٍ ۚ اِنۡ ہُمۡ اِلَّا یَظُنُّوۡنَ ﴿۲۴﴾
اور وہ کہتے ہیں نہیں ( کوئی دوسری ) زندگی بجز ہماری کی زندگی کے ( یہیں ) ہم نے مرنا اور رہنا ہے اور نہیں فنا کرتا ہمیں مگر حالانکہ انھیں اس حقیقت کا کوئی علم نہیں ۔ وہ محض ظن ( و تخمین ) سے لے رہے ہیں ۔
وَاِذَا تُتۡلٰی عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ مَّا کَانَ حُجَّتَہُمۡ اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوا ائۡتُوۡا بِاٰبَآئِنَاۤ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۲۵﴾
اور جب پڑھ کر سنائی جاتی ہیں ان کے ہماری روشن آیتیں تو ( ان کے میں ) ان کے کوئی نہیں ہوتی بجز اس کے کہ وہ کہتے ہیں کہ لے آؤ ہمارے دادا کو اگر تم سچے ہو ۔
قُلِ اللّٰہُ یُحۡیِیۡکُمۡ ثُمَّ یُمِیۡتُکُمۡ ثُمَّ یَجۡمَعُکُمۡ اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ لَا رَیۡبَ فِیۡہِ وَلٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۲۶﴾٪ 19
فرمائیے اللہ نے فرمایا ہے تمہیں ، پھر وہی مارے گا تمہیں ، پھر جمع کرے گا تمہیں روز جس میں ذرا نہیں لیکن اکثر لوگ ( اس حقیقت کو ) نہیں جانتے ۔
وَلِلّٰہِ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ؕ وَیَوۡمَ تَقُوۡمُ السَّاعَۃُ یَوۡمَئِذٍ یَّخۡسَرُ الۡمُبۡطِلُوۡنَ ﴿۲۷﴾
اور اللہ تعالیٰ کے لیے ہے آسمانوں اور کی اور جس روز برپا ہو گی اس روز اٹھائیں گے باطل پرست ۔
وَتَرٰی کُلَّ اُمَّۃٍ جَاثِیَۃً ۟ کُلُّ اُمَّۃٍ تُدۡعٰۤی اِلٰی کِتٰبِہَا ؕ اَلۡیَوۡمَ تُجۡزَوۡنَ مَاکُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۲۸﴾
اور آپ دیکھیں گے ہر گروہ کو گھٹنوں کے بل گرا اور ہر گروہ کو بلایا جائے گا اس کے صحیفہ ( عمل ) کی طرف ( انہیں کہا جائے گا ) آج تمہیں دیا جائے گا جو تم کیا کرتے تھے ۔
ہٰذَا کِتٰبُنَا یَنۡطِقُ عَلَیۡکُمۡ بِالۡحَقِّ ؕ اِنَّا کُنَّا نَسۡتَنۡسِخُ مَاکُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۲۹﴾
یہ ہمارا نوشتہ ہے جو بولتا ہے تمہارے بارے میں ہم لکھ لیا کرتے تھے جو تم ( میں ) عمل کیا کرتے تھے ۔
فَاَمَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُدۡخِلُہُمۡ رَبُّہُمۡ فِیۡ رَحۡمَتِہٖ ؕ ذٰلِکَ ہُوَ الۡفَوۡزُ الۡمُبِیۡنُ ﴿۳۰﴾
پس جو لوگ ایمان لائے اور عمل کرتے رہے تو انھیں ان کا رب اپنی رحمت میں فرمائے گا ۔ یہی وہ روشن کامیابی ہے ۔
وَاَمَّا الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ۟ اَفَلَمۡ تَکُنۡ اٰیٰتِیۡ تُتۡلٰی عَلَیۡکُمۡ فَاسۡتَکۡبَرۡتُمۡ وَکُنۡتُمۡ قَوۡمًا مُّجۡرِمِیۡنَ ﴿۳۱﴾
اور جو لوگ کفر کرتے رہے ( ان سے پوچھا جائے گا ) کیا میری آیتیں تمہارے تلاوت نہیں کی جاتی تھیں ، پھر تم ( سن کر ) کیا کرتے تھے اور تم لوگ ( عادی ) مجرم تھے ۔
وَاِذَا قِیۡلَ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰہِ حَقٌّ وَّالسَّاعَۃُ لَا رَیۡبَ فِیۡہَا قُلۡتُمۡ مَّا نَدۡرِیۡ مَاالسَّاعَۃُ ۙ اِنۡ نَّظُنُّ اِلَّا ظَنًّا وَّمَا نَحۡنُ بِمُسۡتَیۡقِنِیۡنَ ﴿۳۲﴾
اور جب ( تمہیں ) کہا جاتا تھا کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور ( کے آنے ) میں کوئی نہیں تو تم ( بڑے غرور سے ) کہتے ہم نہیں جانتے کیا ہے ، ہمیں تو یونہی ایک سا ہوتا ہے اور ہمیں اس پر ( قطعاً ) نہیں ۔
وَبَدَا لَہُمۡ سَیِّاٰتُ مَاعَمِلُوۡا وَحَاقَ بِہِمۡ مَّا کَانُوۡا بِہٖ یَسۡتَہۡزِءُوۡنَ ﴿۳۳﴾
اور ہو گئے ان کے لیے برے نتائج ان کے کرتوتوں کے اور ( ہر طرف سے ) گھیر لیا انھیں اس ( ) نے جس کا وہ اڑایا کرتے تھے ۔
وَقِیۡلَ الۡیَوۡمَ نَنۡسٰکُمۡ کَمَا نَسِیۡتُمۡ لِقَآءَ یَوۡمِکُمۡ ہٰذَا وَمَاۡوٰىکُمُ النَّارُ وَمَا لَکُمۡ مِّنۡ نّٰصِرِیۡنَ ﴿۳۴﴾
اور ( انہیں ) کہہ دیا گیا آج ہم تمہیں فراموش کر دیں گے جس طرح تم نے فراموش کیے رکھا اپنے اس کی ملاقات کو اور تمہارا ٹھکانا ہے اور تمہارا کوئی نہیں ۔
ذٰلِکُمۡ بِاَنَّکُمُ اتَّخَذۡتُمۡ اٰیٰتِ اللّٰہِ ہُزُوًا وَّغَرَّتۡکُمُ الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَا ۚ فَالۡیَوۡمَ لَا یُخۡرَجُوۡنَ مِنۡہَا وَلَا ہُمۡ یُسۡتَعۡتَبُوۡنَ ﴿۳۵﴾
یہ اس لیے کہ تم نے بنا رکھا تھا اللہ کی آیتوں کو اور فریب میں مبتلا کر دیا تھا تمہیں دنیوی زندگی نے ۔ پس آج وہ نہیں نکالے جائیں گے سے اور نہ انھیں توبہ کر کے اپنے رب کو کرنے کا موقع دیا جائے گا ۔
فَلِلّٰہِ الۡحَمۡدُ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَرَبِّ الۡاَرۡضِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۳۶﴾
پس اللہ کے لیے ہیں سب تعریفیں جو رب ہے آسمانوں کا اور رب ہے کا ( اور وہی ) سارے جہانوں کا پروردگار ہے ۔
وَلَہُ الۡکِبۡرِیَآءُ فِی السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ۪ وَہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۳۷﴾٪ 20
فقط اسی کے لیے بڑائی ہے آسمانوں اور میں اور وہی والا ، حکمت والا ہے ۔