طٰسٓ ۟ تِلۡکَ اٰیٰتُ الۡقُرۡاٰنِ وَکِتَابٍ مُّبِیۡنٍ ۙ﴿۱﴾
طا ۔ سین یہ آیتیں ہیں ( حکیم ) اور روشن کی ۔
The Ant
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ ﴿١﴾
In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
طٰسٓ ۟ تِلۡکَ اٰیٰتُ الۡقُرۡاٰنِ وَکِتَابٍ مُّبِیۡنٍ ۙ﴿۱﴾
طا ۔ سین یہ آیتیں ہیں ( حکیم ) اور روشن کی ۔
ہُدًی وَّبُشۡرٰی لِلۡمُؤۡمِنِیۡنَ ۙ﴿۲﴾
۔( یہ ) سراپا اور خوشخبری ہے اہل ایمان کے لیے ۔
الَّذِیۡنَ یُقِیۡمُوۡنَ الصَّلٰوۃَ وَیُؤۡتُوۡنَ الزَّکٰوۃَ وَہُمۡ بِالۡاٰخِرَۃِ ہُمۡ یُوۡقِنُوۡنَ ﴿۳﴾
جو صحیح صحیح ادا کرتے ہیں نماز ، اور دیا کرتے ہیں زکوۃ اور وہ جو پر رکھتے ہیں ۔
اِنَّ الَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَۃِ زَیَّنَّا لَہُمۡ اَعۡمَالَہُمۡ فَہُمۡ یَعۡمَہُوۡنَ ؕ﴿۴﴾
بیشک وہ لوگ جو پر ایمان نہیں رکھتے ہم نے بنا دئیے ان ( کی نظروں ) میں ان کے ( بد ) پس وہ سرگرداں پھر رہے ہیں ۔
اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ لَہُمۡ سُوۡٓءُ الۡعَذَابِ وَہُمۡ فِی الۡاٰخِرَۃِ ہُمُ الۡاَخۡسَرُوۡنَ ﴿۵﴾
یہ وہی لوگ ہیں کے لیے بدترین ہے اور یہی میں سب سے گھاٹے میں ہوں گے ۔
وَاِنَّکَ لَتُلَقَّی الۡقُرۡاٰنَ مِنۡ لَّدُنۡ حَکِیۡمٍ عَلِیۡمٍ ﴿۶﴾ ؓ
اور بیشک آپ کو سکھایا جاتا ہے حکیم بڑے دانا سب کچھ جاننے والے کی سے ۔
اِذۡ قَالَ مُوۡسٰی لِاَہۡلِہٖۤ اِنِّیۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا ؕ سَاٰتِیۡکُمۡ مِّنۡہَا بِخَبَرٍ اَوۡ اٰتِیۡکُمۡ بِشِہَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّکُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ ﴿۷﴾
۔( فرماؤ ) جب کہا موسیٰ نے اپنی زوجہ سے کہ میں نے دیکھی ہے ۔ ابھی لے آتا ہوں تمہارے وہاں سے کوئی یا لے آؤں گا تمہارے ( اس سے ) کوئی سلگا کر تاکہ تم اسے تاپو ۔
فَلَمَّا جَآءَہَا نُوۡدِیَ اَنۡۢ بُوۡرِکَ مَنۡ فِی النَّارِ وَمَنۡ حَوۡلَہَا ؕ وَسُبۡحٰنَ اللّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۸﴾
پھر جب اس کے پہنچے تو ندا کی گئی کہ ہو جو اس میں ہے اور جو اس کے آس ہے اور ( ہر تشبیہ و تمثیل سے ) ہے اللہ جو رب العالمین ہے ۔
یٰمُوۡسٰۤی اِنَّہٗۤ اَنَا اللّٰہُ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ۙ﴿۹﴾
اے موسیٰ ! وہ میں اللہ ہی ہوں والا دانا ۔
وَاَلۡقِ عَصَاکَ ؕ فَلَمَّا رَاٰہَا تَہۡتَزُّ کَاَنَّہَا جَآنٌّ وَّلّٰی مُدۡبِرًا وَّلَمۡ یُعَقِّبۡ ؕ یٰمُوۡسٰی لَا تَخَفۡ ۟ اِنِّیۡ لَا یَخَافُ لَدَیَّ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴿٭ۖ۱۰﴾
اور ذرا پر ڈال دو اپنے سونٹے کو اب جو اسے دیکھا تو وہ ( اس طرح ) لہرا رہا تھا جیسے ہو ۔ آپ پیٹھ پھیر کر وہاں سے چل دئیے اور مڑ کر بھی نہ دیکھا ( فرمایا ) موسیٰ ڈرو نہیں ۔ میرے حضور ڈرا نہیں کرتے جنھیں رسول بنایا جاتا ہے ۔
اِلَّا مَنۡ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسۡنًۢا بَعۡدَ سُوۡٓءٍ فَاِنِّیۡ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۱﴾
مگر وہ شخص جو کرے ( وہ ڈرے ) پھر ( وہ ظالم بھی اگر ) کرنے لگے کرنے کے بعد تو میں بیشک غفور رحیم ہوں ۔
وَاَدۡخِلۡ یَدَکَ فِیۡ جَیۡبِکَ تَخۡرُجۡ بَیۡضَآءَ مِنۡ غَیۡرِ سُوۡٓءٍ ۟ فِیۡ تِسۡعِ اٰیٰتٍ اِلٰی فِرۡعَوۡنَ وَقَوۡمِہٖ ؕ اِنَّہُمۡ کَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِیۡنَ ﴿۱۲﴾
اور ذرا ڈالو اپنا اپنے گریبان میں وہ نکلے گا سفید چمکتا بغیر کسی کے ( یہ دو معجزے ) ان نو معجزات سے ہیں کے ساتھ آپ کو فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا گیا ۔ بیشک وہ بڑے سرکش لوگ ہیں ۔
فَلَمَّا جَآءَتۡہُمۡ اٰیٰتُنَا مُبۡصِرَۃً قَالُوۡا ہٰذَا سِحۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿ۚ۱۳﴾
پس جب آئیں ان کے ہماری نشانیاں بصیرت افروز بن کر تو انھوں نے کہا یہ تو جادو ہے کھلا ۔
وَجَحَدُوۡا بِہَا وَاسۡتَیۡقَنَتۡہَاۤ اَنۡفُسُہُمۡ ظُلۡمًا وَّعُلُوًّا ؕ فَانۡظُرۡ کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الۡمُفۡسِدِیۡنَ ﴿٪۱۴﴾ 16
اور انھوں نے کر دیا ان کا ، حالانکہ کر لیا تھا ان کی صداقت کا ان کے دلوں نے ، ( ان کا ) محض ظلم اور کے باعث تھا ۔ پس آپ ملاحظہ فرمائیے کیا ( ہولناک ) برپا کرنے والوں کا ۔
وَلَقَدۡ اٰتَیۡنَا دَاوٗدَ وَسُلَیۡمٰنَ عِلۡمًا ۚ وَقَالَا الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ الَّذِیۡ فَضَّلَنَا عَلٰی کَثِیۡرٍ مِّنۡ عِبَادِہِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۵﴾
اور یقیناً ہم نے عطا فرمایا داؤد اور سلیمان ( علیہ السلام ) کو علم اور انھوں نے کہا سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے جس نے برگزیدہ کیا ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر ۔
وَوَرِثَ سُلَیۡمٰنُ دَاوٗدَ وَقَالَ یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ عُلِّمۡنَا مَنۡطِقَ الطَّیۡرِ وَاُوۡتِیۡنَا مِنۡ کُلِّ شَیۡءٍ ؕ اِنَّ ہٰذَا لَہُوَ الۡفَضۡلُ الۡمُبِیۡنُ ﴿۱۶﴾
اور جانشین بنے سلیمان داؤد کے اور فرمایا اے لوگو ! ہمیں سکھائی گئی ہے پرندوں کی بولی اور ہمیں عطا کی گئی ہیں ہر کی چیزیں ۔ بیشک یہی وہ نمایاں بزرگی ہے ( جو ہمیں مرحمت ہوئی ) ۔
وَحُشِرَ لِسُلَیۡمٰنَ جُنُوۡدُہٗ مِنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ وَالطَّیۡرِ فَہُمۡ یُوۡزَعُوۡنَ ﴿۱۷﴾
اور فراہم کیے گئے سلیمان ( علیہ السلام ) کے لیے جنوں ، انسانوں اور پرندوں سے ، پس وہ نظم و ضبط کے پابند ہیں ۔
حَتّٰۤی اِذَاۤ اَتَوۡا عَلٰی وَادِ النَّمۡلِ ۙ قَالَتۡ نَمۡلَۃٌ یّٰۤاَیُّہَا النَّمۡلُ ادۡخُلُوۡا مَسٰکِنَکُمۡ ۚ لَا یَحۡطِمَنَّکُمۡ سُلَیۡمٰنُ وَجُنُوۡدُہٗ ۙ وَہُمۡ لَا یَشۡعُرُوۡنَ ﴿۱۸﴾
یہاں تک کہ جب وہ گزرے چیونٹیوں کی وادی سے تو ایک چیونٹی کہنے لگی اے چیونٹیو ! گھس جاؤ اپنی بلوں میں ، کہیں کچل کر نہ رکھ دیں تمہیں سلیمان اور ان کے اور انھیں معلوم ہی نہ ہو ( کہ تم پر کیا گزر گئی ) ۔
فَتَبَسَّمَ ضَاحِکًا مِّنۡ قَوۡلِہَا وَقَالَ رَبِّ اَوۡزِعۡنِیۡۤ اَنۡ اَشۡکُرَ نِعۡمَتَکَ الَّتِیۡۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَیَّ وَعَلٰی وَالِدَیَّ وَاَنۡ اَعۡمَلَ صَالِحًا تَرۡضٰىہُ وَاَدۡخِلۡنِیۡ بِرَحۡمَتِکَ فِیۡ عِبَادِکَ الصّٰلِحِیۡنَ ﴿۱۹﴾
تو سلیمان ہنستے ہوئے مسکرا دئیے اس کی اس سے اور عرض کرنے لگے میرے ! مجھے دے تاکہ میں شکر ادا کروں تیری ( عظمیٰ ) کا جو تو نے مجھ پر فرمائی اور میرے والدین پر نیز ( مجھے دے کہ ) میں وہ کروں جسے تو فرمائے اور شامل کر لے مجھے اپنی رحمت کے باعث اپنے بندوں میں ۔
وَتَفَقَّدَ الطَّیۡرَ فَقَالَ مَالِیَ لَاۤ اَرَی الۡہُدۡہُدَ ۫ ۖاَمۡ کَانَ مِنَ الۡغَآئِبِیۡنَ ﴿۲۰﴾
اور آپ نے ( ایک روز ) پرندوں کا جائزہ لیا تو فرمانے لگے کیا وجہ ہے کہ مجھے ( آج ) ہدہد نظر نہیں آ رہا ۔ یا وہ ہے ہی غیر ۔
لَاُعَذِّبَنَّہٗ عَذَابًا شَدِیۡدًا اَوۡ لَاَاذۡبَحَنَّہٗۤ اَوۡ لَیَاۡتِیَنِّیۡ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۲۱﴾
۔( اگر وہ غیر ہے ) تو میں ضرور اسے سزا دوں گا یا اسے ذبح ہی کر ڈالوں گا یا اسے لانا پڑے گی میرے کوئی روشن سند ۔
فَمَکَثَ غَیۡرَ بَعِیۡدٍ فَقَالَ اَحَطۡتُّ بِمَا لَمۡ تُحِطۡ بِہٖ وَجِئۡتُکَ مِنۡ سَبَاٍ ۢ بِنَبَاٍ یَّقِیۡنٍ ﴿۲۲﴾
پس کچھ دیر نہ گزری ( کہ وہ آ گیا ) اور کہنے لگا میں ایک ایسی اطلاع لے کر آیا ہوں جس کی آپ کو نہ تھی اور ( وہ یہ کہ ) میں لے آیا ہوں آپ کے ملک سبا سے ایک یقینی ۔
اِنِّیۡ وَجَدۡتُّ امۡرَاَۃً تَمۡلِکُہُمۡ وَاُوۡتِیَتۡ مِنۡ کُلِّ شَیۡءٍ وَّلَہَا عَرۡشٌ عَظِیۡمٌ ﴿۲۳﴾
میں نے پایا ایک کو جو ان کی حکمران ہے اور اسے دی گئی ہے ہر کی چیز سے اور اس کا ایک عظیم ( الشان ) ہے ۔
وَجَدۡتُّہَا وَقَوۡمَہَا یَسۡجُدُوۡنَ لِلشَّمۡسِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ وَزَیَّنَ لَہُمُ الشَّیۡطٰنُ اَعۡمَالَہُمۡ فَصَدَّہُمۡ عَنِ السَّبِیۡلِ فَہُمۡ لَا یَہۡتَدُوۡنَ ﴿ۙ۲۴﴾
میں نے پایا ہے اسے اور اس کی قوم کو کہ وہ سب سجدہ کرتے ہیں سورج کو سوائے اللہ تعالیٰ کے اور آراستہ کر دئیے ہیں ان کے لیے شیطان نے ان کے ( یہ مشرکانہ ) پس اس نے روک دیا ہے انھیں ( سیدھے ) سے ، پس وہ نہیں کرتے ۔
اَلَّا یَسۡجُدُوۡا لِلّٰہِ الَّذِیۡ یُخۡرِجُ الۡخَبۡءَ فِی السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَیَعۡلَمُ مَاتُخۡفُوۡنَ وَمَا تُعۡلِنُوۡنَ ﴿۲۵﴾
وہ کیوں نہ سجدہ کریں اللہ تعالیٰ کو جو نکالتا ہے پوشیدہ چیزوں کو آسمانوں اور سے اور وہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اور جو تم کرتے ہو ۔
اَللّٰہُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِیۡمِ ﴿ٛ۲۶﴾
اللہ تعالیٰ نہیں ہے کوئی معبود بجز اس کے ، وہ ہے عرش عظیم کا ۔
قَالَ سَنَنۡظُرُ اَصَدَقۡتَ اَمۡ کُنۡتَ مِنَ الۡکٰذِبِیۡنَ ﴿۲۷﴾
آپ نے فرمایا ہم پوری تحقیق کریں گے اس کی کہ تو نے کہا ہے یا تو بھی غلط بیانی کرنے والوں سے ہے ۔
اِذۡہَبۡ بِّکِتٰبِیۡ ہٰذَا فَاَلۡقِہۡ اِلَیۡہِمۡ ثُمَّ تَوَلَّ عَنۡہُمۡ فَانۡظُرۡ مَاذَا یَرۡجِعُوۡنَ ﴿۲۸﴾
لے جا میرا یہ مکتوب اور پہنچا دے ان کی طرف ، پھر ہٹ کر ہو جا ان سے اور دیکھ وہ ایک دوسرے سے کیا گفتگو کرتے ہیں ۔
قَالَتۡ یٰۤاَیُّہَا الۡمَلَؤُا اِنِّیۡۤ اُلۡقِیَ اِلَیَّ کِتٰبٌ کَرِیۡمٌ ﴿۲۹﴾
۔( خط پڑھ کر ) ملکہ نے کہا اے سرداران قوم ! پہنچایا گیا ہے میری طرف ایک والا خط ۔
اِنَّہٗ مِنۡ سُلَیۡمٰنَ وَاِنَّہٗ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ﴿ۙ۳۰﴾
یہ سلیمان ( علیہ السلام ) کی طرف سے ہے اور وہ یہ ہے اللہ کے سے کرتا ہوں جو رحمن ( اور ) رحیم ہے ۔
اَلَّا تَعۡلُوۡا عَلَیَّ وَاۡتُوۡنِیۡ مُسۡلِمِیۡنَ ﴿۳۱﴾٪ 17
تم لوگ غرور و نہ کرو میرے مقابلہ میں اور چلے آؤ میرے فرمانبردار بن کر ۔
قَالَتۡ یٰۤاَیُّہَا الۡمَلَؤُا اَفۡتُوۡنِیۡ فِیۡۤ اَمۡرِیۡ ۚ مَاکُنۡتُ قَاطِعَۃً اَمۡرًا حَتّٰی تَشۡہَدُوۡنِ ﴿۳۲﴾
ملکہ نے کہا اے سرداران قوم ! مجھے دو میرے اس معاملہ میں ۔ میں کوئی حتمی نہیں کیا کرتی جب تک تم موجود نہ ہو ۔
قَالُوۡا نَحۡنُ اُولُوۡا قُوَّۃٍ وَّاُولُوۡا بَاۡسٍ شَدِیۡدٍ ۬ ۙ وَّالۡاَمۡرُ اِلَیۡکِ فَانۡظُرِیۡ مَاذَا تَاۡمُرِیۡنَ ﴿۳۳﴾
وہ کہنے لگے ہم بڑے طاقتور اور جنگجو ہیں اور کرنا آپ کے میں ہے آپ کر لیں کہ آپ کیا چاہتی ہیں ۔
قَالَتۡ اِنَّ الۡمُلُوۡکَ اِذَا دَخَلُوۡا قَرۡیَۃً اَفۡسَدُوۡہَا وَجَعَلُوۡۤا اَعِزَّۃَ اَہۡلِہَاۤ اَذِلَّۃً ۚ وَکَذٰلِکَ یَفۡعَلُوۡنَ ﴿۳۴﴾
ملکہ نے کہا اس میں نہیں کہ بادشاہ جب ہوتے ہیں کسی میں تو اسے کر دیتے ہیں اور بنا دیتے ہیں وہاں کے معزز شہریوں کو ۔ اور یہی ان کا دستور ہے ( اس لیے کرنا قرین دانشمندی نہیں ) ۔
وَاِنِّیۡ مُرۡسِلَۃٌ اِلَیۡہِمۡ بِہَدِیَّۃٍ فَنٰظِرَۃٌۢ بِمَ یَرۡجِعُ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴿۳۵﴾
اور میں بھیجتی ہوں ان کی طرف ایک تحفہ پھر دیکھوں گی کہ قاصد کیا لیکر لوٹتے ہیں ۔
فَلَمَّا جَآءَ سُلَیۡمٰنَ قَالَ اَتُمِدُّوۡنَنِ بِمَالٍ ۫ فَمَاۤ اٰتٰىنِۦَ اللّٰہُ خَیۡرٌ مِّمَّاۤ اٰتٰىکُمۡ ۚ بَلۡ اَنۡتُمۡ بِہَدِیَّتِکُمۡ تَفۡرَحُوۡنَ ﴿۳۶﴾
سو جب قاصد آپ کے ( ہدیہ لے کر ) آیا تو آپ نے فرمایا کیا تم لوگ سے میری کرنا چاہتے ہو ( سنو ) جو عطا فرمایا ہے مجھے اللہ تعالیٰ نے وہ بہتر ہے اس سے جو تمہیں دیا ہے بلکہ تم تو اپنے ہدیہ پر پھولے نہیں سما رہے ( گویا کوئی بڑی نادر چیز لائے ہو ) ۔
اِرۡجِعۡ اِلَیۡہِمۡ فَلَنَاۡتِیَنَّہُمۡ بِجُنُوۡدٍ لَّا قِبَلَ لَہُمۡ بِہَا وَلَنُخۡرِجَنَّہُمۡ مِّنۡہَاۤ اَذِلَّۃً وَّہُمۡ صٰغِرُوۡنَ ﴿۳۷﴾
تو واپس چلا جا ان کے اور ہم آ رہے ہیں ان کی طرف ایسے لے کر کے مقابلہ کی ان میں تاب نہیں اور ہم یقیناً نکال دیں گے انھیں اس سے کر کے اور وہ خوار اور رسوا ہو چکے ہوں گے ۔
قَالَ یٰۤاَیُّہَا الۡمَلَؤُا اَیُّکُمۡ یَاۡتِیۡنِیۡ بِعَرۡشِہَا قَبۡلَ اَنۡ یَّاۡتُوۡنِیۡ مُسۡلِمِیۡنَ ﴿۳۸﴾
آپ نے فرمایا اے ( میرے ) درباریو ! کون تم سے لے آئے گا میرے اس کے کو اس سے کہ وہ آ جائیں میری خدمت میں فرمانبردار بن کر ۔
قَالَ عِفۡرِیۡتٌ مِّنَ الۡجِنِّ اَنَا اٰتِیۡکَ بِہٖ قَبۡلَ اَنۡ تَقُوۡمَ مِنۡ مَّقَامِکَ ۚ وَاِنِّیۡ عَلَیۡہِ لَقَوِیٌّ اَمِیۡنٌ ﴿۳۹﴾
عرض کی ایک عفریت نے جنات میں سے ( ہو تو ) میں لے آتا ہوں آپ کے اسے ازیں کہ آپ کھڑے ہوں اپنی سے ۔
قَالَ الَّذِیۡ عِنۡدَہٗ عِلۡمٌ مِّنَ الۡکِتٰبِ اَنَا اٰتِیۡکَ بِہٖ قَبۡلَ اَنۡ یَّرۡتَدَّ اِلَیۡکَ طَرۡفُکَ ؕ فَلَمَّا رَاٰہُ مُسۡتَقِرًّا عِنۡدَہٗ قَالَ ہٰذَا مِنۡ فَضۡلِ رَبِّیۡ ۟ ۖ لِیَبۡلُوَنِیۡۤ ءَاَشۡکُرُ اَمۡ اَکۡفُرُ ؕ وَمَنۡ شَکَرَ فَاِنَّمَا یَشۡکُرُ لِنَفۡسِہٖ ۚ وَمَنۡ کَفَرَ فَاِنَّ رَبِّیۡ غَنِیٌّ کَرِیۡمٌ ﴿۴۰﴾
اور بیشک میں اس کو اٹھا لانے کی بھی رکھتا ہوں ( اور ) امین بھی ہوں ۔ عرض کی اس نے جس کے کا علم تھا ( ہو تو ) میں لے آتا ہوں اسے آپ کے اس سے کہ آپ کی جھپکے ۔ پھر جب آپ نے دیکھا کہ وہ رکھا ہے آپ کے تو فرمانے لگے یہ میرے رب کا فضل ( و کرم ) ہے تاکہ وہ آزمائے مجھے کہ آیا میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری ۔ اور جس نے شکر کیا تو وہ شکر کرتا ہے اپنے بھلے کے لیے اور جو ناشکری کرتا ہے ( وہ اپنا کرتا ہے ) بلاشبہ میرا رب غنی بھی ہے ( اور ) کریم بھی ۔
قَالَ نَـکِّرُوۡا لَہَا عَرۡشَہَا نَنۡظُرۡ اَتَہۡتَدِیۡۤ اَمۡ تَکُوۡنُ مِنَ الَّذِیۡنَ لَا یَہۡتَدُوۡنَ ﴿۴۱﴾
آپ نے دیا شکل دو اس کے لیے اس کے کی ہم دیکھتے ہیں کہ وہ حقیقت پر ہوتی ہے یا ہو جاتی ہے ان لوگوں میں سے جو حقیقت کو نہیں پہچانتے ۔
فَلَمَّا جَآءَتۡ قِیۡلَ اَہٰکَذَا عَرۡشُکِ ؕ قَالَتۡ کَاَنَّہٗ ہُوَ ۚ وَاُوۡتِیۡنَا الۡعِلۡمَ مِنۡ قَبۡلِہَا وَکُنَّا مُسۡلِمِیۡنَ ﴿۴۲﴾
سو جب وہ آئی تو اس سے پوچھا گیا کیا تیرا ایسا ہی ہے کہنے لگی یہ تو ہوبہو وہی ہے اور ہمیں اطلاع مل گئی تھی اس واقعہ کی اس سے اور ہم تو فرمانبردار بن کر ہوئے ہیں ۔
وَصَدَّہَا مَاکَانَتۡ تَّعۡبُدُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ ؕ اِنَّہَا کَانَتۡ مِنۡ قَوۡمٍ کٰفِرِیۡنَ ﴿۴۳﴾
اور روک رکھا تھا اسے ( ایمان لانے سے ) ان بتوں نے کی وہ کیا کرتی تھی اللہ تعالیٰ کے سوا ۔ بیشک وہ قوم کفار سے تھی ۔
قِیۡلَ لَہَا ادۡخُلِی الصَّرۡحَ ۚ فَلَمَّا رَاَتۡہُ حَسِبَتۡہُ لُجَّۃً وَّکَشَفَتۡ عَنۡ سَاقَیۡہَا ؕ قَالَ اِنَّہٗ صَرۡحٌ مُّمَرَّدٌ مِّنۡ قَوَارِیۡرَ ۬ ؕ قَالَتۡ رَبِّ اِنِّیۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِیۡ وَاَسۡلَمۡتُ مَعَ سُلَیۡمٰنَ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿٪۴۴﴾ 18
اسے کہا گیا کہ اس میں ہو جاؤ ۔ پس جب اس نے دیکھا اس ( کے بلوریں فرش ) کو تو اس نے خیال کیا کہ یہ گہرا ہے اور اس نے کپڑا اٹھا لیا اپنی دونوں پنڈلیوں سے ۔ آپ نے فرمایا ( یہ نہیں ) یہ چمکدار ہے بلور کا بنا ( اس کی آنکھیں کھل گئیں ) کہنے لگی اے میرے رب ! میں ( آج تک ) ظلم ڈھاتی رہی اپنی جان پر اور ( اب ) ایمان لائی ہوں سلیمان کے ساتھ اللہ پر جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے ۔
وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلٰی ثَمُوۡدَ اَخَاہُمۡ صٰلِحًا اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰہَ فَاِذَا ہُمۡ فَرِیۡقٰنِ یَخۡتَصِمُوۡنَ ﴿۴۵﴾
اور بیشک ہم نے رسول بنا کر بھیجا ثمود کی طرف ان کے صالح کو کہ کرو اللہ تعالیٰ کی ، تو وہ دو گروہ بن گئے ( اور آپس میں ) جھگڑنے لگے ۔
قَالَ یٰقَوۡمِ لِمَ تَسۡتَعۡجِلُوۡنَ بِالسَّیِّئَۃِ قَبۡلَ الۡحَسَنَۃِ ۚ لَوۡ لَا تَسۡتَغۡفِرُوۡنَ اللّٰہَ لَعَلَّکُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ ﴿۴۶﴾
صالح نے فرمایا اے میری قوم ! کیوں تیزی کرتے ہو کرنے میں کرنے سے تم کیوں نہیں بخشش طلب کرتے اللہ تعالیٰ سے شاید تم پر رحم کر دیا جائے ۔
قَالُوا اطَّیَّرۡنَا بِکَ وَبِمَنۡ مَّعَکَ ؕ قَالَ طٰٓئِرُکُمۡ عِنۡدَ اللّٰہِ بَلۡ اَنۡتُمۡ قَوۡمٌ تُفۡتَنُوۡنَ ﴿۴۷﴾
کہنے لگے ہم تو برا شگون سمجھتے ہیں تمہیں اور تمہارے ساتھیوں کو آپ نے فرمایا تمہارا برا شگون تو اللہ تعالیٰ کے ہاں ہے بلکہ تم ایسی قوم ہو جو فتنہ میں مبتلا کر دی گئی ہے ۔
وَکَانَ فِی الۡمَدِیۡنَۃِ تِسۡعَۃُ رَہۡطٍ یُّفۡسِدُوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ وَلَا یُصۡلِحُوۡنَ ﴿۴۸﴾
اور اس میں نو شخص تھے جو فتنہ و برپا کیا کرتے تھے اس علاقہ میں اور اصلاح کی نہ کرتے ۔
قَالُوۡا تَقَاسَمُوۡا بِاللّٰہِ لَنُبَیِّتَنَّہٗ وَاَہۡلَہٗ ثُمَّ لَنَقُوۡلَنَّ لِوَلِیِّہٖ مَاشَہِدۡنَا مَہۡلِکَ اَہۡلِہٖ وَاِنَّا لَصٰدِقُوۡنَ ﴿۴۹﴾
انھوں نے کہا آؤ اللہ کی کھا کر یہ کر لیں کہ شب خون مار کر صالح اور ان کے اہل خانہ کو کر دیں گے پھر کہہ دیں گے اس کے وارث سے کہ ہم تو ( سرے سے ) موجود ہی نہ تھے جب انھیں کیا گیا اور ( کرو ) ہم بالکل کہہ رہے ہیں ۔
وَمَکَرُوۡا مَکۡرًا وَّمَکَرۡنَا مَکۡرًا وَّہُمۡ لَا یَشۡعُرُوۡنَ ﴿۵۰﴾
اور انھوں نے بھی خفیہ سازش کی اور ہم نے بھی خفیہ کی اور وہ سمجھ ہی نہ سکے ( ہماری کو ) ۔
فَانۡظُرۡ کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ مَکۡرِہِمۡ ۙ اَنَّا دَمَّرۡنٰہُمۡ وَقَوۡمَہُمۡ اَجۡمَعِیۡنَ ﴿۵۱﴾
تم ( خود ہی ) دیکھ لو کیا ( ہولناک ) ان کے مکر کا ہم نے کر کے رکھ دیا انھیں اور ان کی ساری قوم کو ۔
فَتِلۡکَ بُیُوۡتُہُمۡ خَاوِیَۃًۢ بِمَا ظَلَمُوۡا ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوۡمٍ یَّعۡلَمُوۡنَ ﴿۵۲﴾
پس یہ ان کے ہیں جو اجڑے پڑے ہیں ان کے ظلم کے باعث ۔ بیشک اس میں عبرت ہے اس قوم کے لیے جو ( کچھ ) جانتی ہے ۔
وَاَنۡجَیۡنَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَکَانُوۡا یَتَّقُوۡنَ ﴿۵۳﴾
اور ہم نے بچا لیا انھیں جو ایمان لائے تھے اور ( اپنے رب سے ) ڈرتے رہتے تھے ۔
وَلُوۡطًا اِذۡ قَالَ لِقَوۡمِہٖۤ اَتَاۡتُوۡنَ الۡفَاحِشَۃَ وَاَنۡتُمۡ تُبۡصِرُوۡنَ ﴿۵۴﴾
اور کرو لوط ( علیہ السلام ) کو جب آپ نے اپنی قوم کو فرمایا کیا تم ارتکاب کرتے ہو بے حیائی کا حالانکہ تم دیکھ رہے ہوتے ہو ۔
اَئِنَّکُمۡ لَتَاۡتُوۡنَ الرِّجَالَ شَہۡوَۃً مِّنۡ دُوۡنِ النِّسَآءِ ؕ بَلۡ اَنۡتُمۡ قَوۡمٌ تَجۡہَلُوۡنَ ﴿۵۵﴾
کیا تم جاتے ہو مردوں کے شہوت رانی کے لیے ( اپنی ) بیویوں کو چھوڑ کر بلکہ تم تو بڑے لوگ ہو ۔
فَمَا کَانَ جَوَابَ قَوۡمِہٖۤ اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوۡۤا اَخۡرِجُوۡۤا اٰلَ لُوۡطٍ مِّنۡ قَرۡیَتِکُمۡ ۚ اِنَّہُمۡ اُنَاسٌ یَّتَطَہَّرُوۡنَ ﴿۵۶﴾
پس نہیں تھا آپ کی قوم کا بجز اس کے کہ انھوں نے کہا نکال دو آل لوط کو اپنی سے ، یہ لوگ تو بڑے پاکباز بنے پھرتے ہیں ۔
فَاَنۡجَیۡنٰہُ وَاَہۡلَہٗۤ اِلَّا امۡرَاَتَہٗ ۫ قَدَّرۡنٰہَا مِنَ الۡغٰبِرِیۡنَ ﴿۵۷﴾
سو ہم نے بچا لیا لوط کو اور ان کے اہل خانہ کو سوائے ان کی کے ۔ ہم نے کر دیا اس کے متعلق کہ وہ رہنے والوں میں ہو گی ۔
وَاَمۡطَرۡنَا عَلَیۡہِمۡ مَّطَرًا ۚ فَسَآءَ مَطَرُ الۡمُنۡذَرِیۡنَ ﴿۵۸﴾٪ 19
اور ہم نے ان پر خوب برسائے ۔ پس تباہ کن پتھراؤ تھا ( بارہا ) ڈرائے جانے والوں پر ۔
قُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ وَسَلٰمٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیۡنَ اصۡطَفٰی ؕ آٰللّٰہُ خَیۡرٌ اَمَّا یُشۡرِکُوۡنَ ﴿ؕ۵۹﴾
فرمائیے سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں اور سلام ہو اس کے ان بندوں پر جنھیں اس نے لیا ( بتاؤ ) کیا اللہ بہتر ہے یا جنھیں وہ بناتے ہیں ۔
اَمَّنۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ وَاَنۡزَلَ لَکُمۡ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً ۚ فَاَنۡۢبَتۡنَا بِہٖ حَدَآئِقَ ذَاتَ بَہۡجَۃٍ ۚ مَاکَانَ لَکُمۡ اَنۡ تُنۡۢبِتُوۡا شَجَرَہَا ؕ ءَاِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِ ؕ بَلۡ ہُمۡ قَوۡمٌ یَّعۡدِلُوۡنَ ﴿ؕ۶۰﴾
بھلا وہ کون ہے جس نے بنایا آسمانوں کو اور کو اور جس نے اتارا تمہارے لیے سے ۔ پھر ہم نے اگائے اس سے منظر باغات ۔ تمہاری نہ تھی کہ تم اگا سکتے ان کے ۔ کیا کوئی دوسرا خدا ہے اللہ کے ساتھ ؟ بلکہ وہ ایسے لوگ ہیں جو راہ راست سے پرے ہٹ رہے ہیں ۔
اَمَّنۡ جَعَلَ الۡاَرۡضَ قَرَارًا وَّجَعَلَ خِلٰلَہَاۤ اَنۡہٰرًا وَّجَعَلَ لَہَا رَوَاسِیَ وَجَعَلَ بَیۡنَ الۡبَحۡرَیۡنِ حَاجِزًا ؕ ءَاِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِ ؕ بَلۡ اَکۡثَرُہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿ؕ۶۱﴾
بھلا کس نے بنایا ہے کو ٹھہرنے کی اور جاری کر دیں اس کے نہریں اور بنا دئیے کے لیے ( پہاڑوں کے ) لنگر اور بنا دی دو سمندروں کے کیا کوئی اور خدا ہے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ؟ بلکہ ان میں سے اکثر لوگ بے علم ہیں ۔
اَمَّنۡ یُّجِیۡبُ الۡمُضۡطَرَّ اِذَا دَعَاہُ وَیَکۡشِفُ السُّوۡٓءَ وَیَجۡعَلُکُمۡ خُلَفَآءَ الۡاَرۡضِ ؕ ءَاِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِ ؕ قَلِیۡلًا مَّا تَذَکَّرُوۡنَ ﴿ؕ۶۲﴾
بھلا کون کرتا ہے ایک بیقرار کی جب وہ اسے پکارتا ہے اور ( کون ) کرتا ہے کو اور ( کس نے ) بنایا ہے تمہیں میں ( اگلوں کا ) خلیفہ ۔ کیا کوئی اور خدا ہے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ؟ تم بہت و فکر کرتے ہو ۔
اَمَّنۡ یَّہۡدِیۡکُمۡ فِیۡ ظُلُمٰتِ الۡبَرِّ وَالۡبَحۡرِ وَمَنۡ یُّرۡسِلُ الرِّیٰحَ بُشۡرًۢا بَیۡنَ یَدَیۡ رَحۡمَتِہٖ ؕ ءَاِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِ ؕ تَعٰلَی اللّٰہُ عَمَّا یُشۡرِکُوۡنَ ﴿ؕ۶۳﴾
بھلا کون راہ دکھاتا ہے تمہیں بر و بحر کے اندھیروں میں اور کون بھیجتا ہے ہواؤں کو خوشخبری دینے کے لیے اپنی ( بارانِ ) رحمت سے کیا کوئی اور خدا ہے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ۔ برتر ہے اللہ تعالیٰ ان سے جنھیں وہ بناتے ہیں ۔
اَمَّنۡ یَّبۡدَؤُا الۡخَلۡقَ ثُمَّ یُعِیۡدُہٗ وَمَنۡ یَّرۡزُقُکُمۡ مِّنَ السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ ؕ ءَاِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِ ؕ قُلۡ ہَاتُوۡا بُرۡہَانَکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۶۴﴾
بھلا کون ہے جو آغاز کرتا ہے آفرنیش کا پھر دوبارہ کرے گا اسے ، اور کون ہے جو رزق دیتا ہے تمہیں سے اور سے کیا کوئی اور خدا ہے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ؟ فرمائیے ( اے مشرکو ! ) کرو اپنی کوئی اگر تم سچے ہو ۔
قُلۡ لَّا یَعۡلَمُ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ الۡغَیۡبَ اِلَّا اللّٰہُ ؕ وَمَا یَشۡعُرُوۡنَ اَیَّانَ یُبۡعَثُوۡنَ ﴿۶۵﴾
آپ فرمائیے ( خود بخود ) نہیں جان سکتے جو آسمانوں اور میں ہیں غیب کو سوائے اللہ تعالیٰ کے اور وہ ( یہ بھی ) نہیں سمجھتے کہ انھیں کب اٹھایا جائے گا ۔
بَلِ ادّٰرَکَ عِلۡمُہُمۡ فِی الۡاٰخِرَۃِ ۟ بَلۡ ہُمۡ فِیۡ شَکٍّ مِّنۡہَا ۫ ۟ بَلۡ ہُمۡ مِّنۡہَا عَمُوۡنَ ﴿۶۶﴾٪ 1
بلکہ ہو گیا ہے ان کا علم کے متعلق بلکہ وہ تو اس کے بارے میں میں ہیں ۔ بلکہ وہ اس سے اندھے ہیں ۔
وَقَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤاءَ اِذَا کُنَّا تُرٰبًا وَّاٰبَآؤُنَاۤ اَئِنَّا لَمُخۡرَجُوۡنَ ﴿۶۷﴾
اور کفار کہنے لگے کیا جب ہم ہو جائیں گے اور ہمارے دادا بھی تو کیا ہمیں ( پھر ) نکالا جائے گا ۔
لَقَدۡ وُعِدۡنَا ہٰذَا نَحۡنُ وَاٰبَآؤُنَا مِنۡ قَبۡلُ ۙ اِنۡ ہٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیۡرُ الۡاَوَّلِیۡنَ ﴿۶۸﴾
بیشک کے آنے کا وعدہ ہم سے بھی کیا گیا اور ہمارے دادا سے بھی اس سے ۔ نہیں ہے یہ وعدہ مگر لوگوں کے افسانے ۔
قُلۡ سِیۡرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ فَانۡظُرُوۡا کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الۡمُجۡرِمِیۡنَ ﴿۶۹﴾
آپ فرمائیے سیر و سیاحت کرو میں ۔ پھر اپنی آنکھوں سے دیکھو کہ کیسا ہولناک مجرموں کا ۔
وَلَا تَحۡزَنۡ عَلَیۡہِمۡ وَلَا تَکُنۡ فِیۡ ضَیۡقٍ مِّمَّا یَمۡکُرُوۡنَ ﴿۷۰﴾
۔( اے محبوب ! ) آپ غمزدہ نہ ہوں ان ( کے رویہّ ) پر اور نہ کریں ان کے مکر و فریب سے ۔
وَیَقُوۡلُوۡنَ مَتٰی ہٰذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۷۱﴾
اور وہ پوچھتے ہیں کب ( پورا ہو گا ) یہ وعدہ ( بتاؤ ) اگر تم سچے ہو ۔
قُلۡ عَسٰۤی اَنۡ یَّکُوۡنَ رَدِفَ لَکُمۡ بَعۡضُ الَّذِیۡ تَسۡتَعۡجِلُوۡنَ ﴿۷۲﴾
آپ فرمائیے قریب ہے کہ تمہارے آ لگا ہو اس کا کچھ جس کے لیے تم مچا رہے ہو ۔
وَاِنَّ رَبَّکَ لَذُوۡ فَضۡلٍ عَلَی النَّاسِ وَلٰکِنَّ اَکۡثَرَہُمۡ لَا یَشۡکُرُوۡنَ ﴿۷۳﴾
اور بیشک آپ کا رب بہت فضل ( و کرم ) فرمانے والا ہے لوگوں پر ، لیکن اکثر لوگ ناشکری کرتے ہیں ۔
وَاِنَّ رَبَّکَ لَیَعۡلَمُ مَاتُکِنُّ صُدُوۡرُہُمۡ وَمَا یُعۡلِنُوۡنَ ﴿۷۴﴾
اور یقیناً آپ کا رب خوب جانتا ہے جو کچھ چھپا رکھا ہے ان کے سینوں نے اور جو وہ کرتے ہیں ۔
وَمَا مِنۡ غَآئِبَۃٍ فِی السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ اِلَّا فِیۡ کِتٰبٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۷۵﴾
اور نہیں کوئی پوشیدہ چیز اور میں مگر اس کا مبین میں موجود ہے ۔
اِنَّ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنَ یَقُصُّ عَلٰی بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ اَکۡثَرَ الَّذِیۡ ہُمۡ فِیۡہِ یَخۡتَلِفُوۡنَ ﴿۷۶﴾
بلاشبہ یہ کرتا ہے بنی اسرائیل کے اکثر ان امور ( کی حقیقت ) کو میں وہ جھگڑتے رہتے ہیں ۔
وَاِنَّہٗ لَہُدًی وَّرَحۡمَۃٌ لِّلۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۷۷﴾
اور بلاشبہ یہ سراپا اور مجسم رحمت ہے مومنین کے لیے ۔
اِنَّ رَبَّکَ یَقۡضِیۡ بَیۡنَہُمۡ بِحُکۡمِہٖ ۚ وَہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۷۸﴾ۙ ۚ
یقیناً آپ کا رب فرمائے گا ان کے اپنے سے ۔ اور وہی ہے زبردست سب کچھ جاننے والا ۔
فَتَوَکَّلۡ عَلَی اللّٰہِ ؕ اِنَّکَ عَلَی الۡحَقِّ الۡمُبِیۡنِ ﴿۷۹﴾
سو آپ بھروسہ کریں اللہ تعالیٰ پر ، بیشک آپ روشن حق پر ہیں ۔
اِنَّکَ لَا تُسۡمِعُ الۡمَوۡتٰی وَلَا تُسۡمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوۡا مُدۡبِرِیۡنَ ﴿۸۰﴾
بیشک آپ نہیں سنا سکتے مردوں کو اور نہ آپ سنا سکتے ہیں بہروں کو اپنی پکار جب وہ بھاگے جا رہے ہوں پیٹھ پھیرے ہوئے ۔
وَمَاۤ اَنۡتَ بِہٰدِی الۡعُمۡیِ عَنۡ ضَلٰلَتِہِمۡ ؕ اِنۡ تُسۡمِعُ اِلَّا مَنۡ یُّؤۡمِنُ بِاٰیٰتِنَا فَہُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ ﴿۸۱﴾
اور نہیں آپ دینے والے ( کے ) اندھوں کو ان کی گمراہی سے ۔ نہیں سناتے آپ بجز ان کے جو ایمان لاتے ہیں ہماری آیتوں پر ، پھر وہ فرمانبردار بن جاتے ہیں ۔
وَاِذَا وَقَعَ الۡقَوۡلُ عَلَیۡہِمۡ اَخۡرَجۡنَا لَہُمۡ دَآبَّۃً مِّنَ الۡاَرۡضِ تُکَلِّمُہُمۡ ۙ اَنَّ النَّاسَ کَانُوۡا بِاٰیٰتِنَا لَا یُوۡقِنُوۡنَ ﴿٪۸۲﴾ 2
اور جب ہماری کے ان پر پورا ہونے کا آ جائے گا تو ہم نکالیں گے ان کے لیے ایک چوپایہ سے جو ان سے گفتگو کریگا ، کیونکہ لوگ ہماری آیتوں پر ایمان نہیں لاتے تھے ۔
وَیَوۡمَ نَحۡشُرُ مِنۡ کُلِّ اُمَّۃٍ فَوۡجًا مِّمَّنۡ یُّکَذِّبُ بِاٰیٰتِنَا فَہُمۡ یُوۡزَعُوۡنَ ﴿۸۳﴾
اور جس روز ہم کریں گے ہر امت سے ایک گروہ جو جھٹلایا کرتا تھا ہماری آیتوں کو تو ان کو ( اپنی اپنی پر ) روک لیا جائے گا ۔
حَتّٰۤی اِذَا جَآءُوۡ قَالَ اَکَذَّبۡتُمۡ بِاٰیٰتِیۡ وَلَمۡ تُحِیۡطُوۡا بِہَا عِلۡمًا اَمَّاذَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۸۴﴾
حتی کے جب وہ آ جائیں گے اللہ فرمائے گا کیا تم نے جھٹلایا میری آیتوں کو حالانکہ تم نے اچھی طرح انھیں جانا بھی نہ تھا یا اس کے علاوہ اور کیا تھا جو تم کیا کرتے تھے ۔
وَوَقَعَ الۡقَوۡلُ عَلَیۡہِمۡ بِمَا ظَلَمُوۡا فَہُمۡ لَا یَنۡطِقُوۡنَ ﴿۸۵﴾
اور پوری ہو گئی ( اللہ کی ) ان پر بوجہ ان کے ظلم کے تو وہ ( اس ) بولیں گے نہیں ۔
اَلَمۡ یَرَوۡا اَنَّا جَعَلۡنَا الَّیۡلَ لِیَسۡکُنُوۡا فِیۡہِ وَالنَّہَارَ مُبۡصِرًا ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یُّؤۡمِنُوۡنَ ﴿۸۶﴾
کیا انھوں نے نہ کیا کہ ہم نے بنایا ہے کو اس لیے تاکہ وہ اس میں کریں اور بنایا ہے کو بینا بیشک اس میں ( ہماری قدرت کی ) نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں ۔
وَیَوۡمَ یُنۡفَخُ فِی الصُّوۡرِ فَفَزِعَ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَمَنۡ فِی الۡاَرۡضِ اِلَّا مَنۡ شَآءَ اللّٰہُ ؕ وَکُلٌّ اَتَوۡہُ دٰخِرِیۡنَ ﴿۸۷﴾
اور جس پھونکا جائے گا صور تو گھبرا جائے گا ہر کوئی جو آسمانوں میں ہے اور جو میں ہے ۔ مگر جنھیں خدا نے چاہا ( وہ نہیں گھبرائیں گے ) اور سب ہوں گے اس کی بارگاہ میں کرتے ہوئے ۔
وَتَرَی الۡجِبَالَ تَحۡسَبُہَا جَامِدَۃً وَّہِیَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ ؕ صُنۡعَ اللّٰہِ الَّذِیۡۤ اَتۡقَنَ کُلَّ شَیۡءٍ ؕ اِنَّہٗ خَبِیۡرٌۢ بِمَا تَفۡعَلُوۡنَ ﴿۸۸﴾
اور تو جب ( اس روز ) پہاڑوں کو دیکھے گا تو کرے گا کہ یہ ٹھیرے ہوئے ہیں حالانکہ وہ چل رہے ہوں گے کی سی چال ۔ یہ کاریگری ہے اللہ کی جس نے ( اپنی حکمت سے ) بنایا ہر چیز کو بیشک وہ خوب جانتا ہے جو کچھ تم کر رہے ہو ۔
مَنۡ جَآءَ بِالۡحَسَنَۃِ فَلَہٗ خَیۡرٌ مِّنۡہَا ۚ وَہُمۡ مِّنۡ فَزَعٍ یَّوۡمَئِذٍ اٰمِنُوۡنَ ﴿۸۹﴾
جو شخص عمل لے کر آئے گا تو اسے کہیں بہتر اجر ملے گا اس عمل سے اور یہ بندے اس کی گھبراہٹ سے محفوظ ہوں گے ۔
وَمَنۡ جَآءَ بِالسَّیِّئَۃِ فَکُبَّتۡ وُجُوۡہُہُمۡ فِی النَّارِ ؕ ہَلۡ تُجۡزَوۡنَ اِلَّا مَاکُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۹۰﴾
اور جو لے کر آئے گا تو ان کو کے بل اوندھا پھینک دیا جائے گا میں ( اے بدکارو ! ) کیا تمہیں ملے گا بجز اس کے جو تم عمل کیا کرتے تھے ۔
اِنَّمَاۤ اُمِرۡتُ اَنۡ اَعۡبُدَ رَبَّ ہٰذِہِ الۡبَلۡدَۃِ الَّذِیۡ حَرَّمَہَا وَلَہٗ کُلُّ شَیۡءٍ ۫ وَّاُمِرۡتُ اَنۡ اَکُوۡنَ مِنَ الۡمُسۡلِمِیۡنَ ﴿ۙ۹۱﴾
مجھے تو صرف یہ دیا گیا ہے کہ میں کروں اس ( مقدس ) کے رب کی جس نے و حرمت والا بنایا ہے اس کو اور اسی کی ہے ہر شے اور مجھے دیا گیا ہے کہ میں شامل ہو جاؤں فرمانبرداروں کے زمرہ میں ۔
وَاَنۡ اَتۡلُوَا الۡقُرۡاٰنَ ۚ فَمَنِ اہۡتَدٰی فَاِنَّمَا یَہۡتَدِیۡ لِنَفۡسِہٖ ۚ وَمَنۡ ضَلَّ فَقُلۡ اِنَّمَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُنۡذِرِیۡنَ ﴿۹۲﴾
نیز ( یہ بھی کہ ) میں تلاوت کیا کروں کی پس جو کرتا ہے وہ اپنے ہی کے لیے کرتا ہے ۔ اور جو گمراہ ہوتا ہے ( تو اس کی قسمت ) فرماؤ میں تو صرف ڈرانے والوں سے ہوں ۔
وَقُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ سَیُرِیۡکُمۡ اٰیٰتِہٖ فَتَعۡرِفُوۡنَہَا ؕ وَمَا رَبُّکَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿٪۹۳﴾ 3
اور آپ کہیے سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں وہ ابھی دکھائے گا تمہیں اپنی نشانیاں ۔ تو تم انھیں پہچان لو گے ۔ اور نہیں ہے آپ کا رب بے بے ان کاموں سے جو ( اے لوگو ) تم کیا کرتے ہو ۔