یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوۡا رَبَّکُمۡ ۚ اِنَّ زَلۡزَلَۃَ السَّاعَۃِ شَیۡءٌ عَظِیۡمٌ ﴿۱﴾
اے لوگو ! ڈرو اپنے پروردگار ( کی ) سے بیشک کا زلزلہ بڑی چیز ہے ۔
The Pilgrimage
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ ﴿١﴾
In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوۡا رَبَّکُمۡ ۚ اِنَّ زَلۡزَلَۃَ السَّاعَۃِ شَیۡءٌ عَظِیۡمٌ ﴿۱﴾
اے لوگو ! ڈرو اپنے پروردگار ( کی ) سے بیشک کا زلزلہ بڑی چیز ہے ۔
یَوۡمَ تَرَوۡنَہَا تَذۡہَلُ کُلُّ مُرۡضِعَۃٍ عَمَّاۤ اَرۡضَعَتۡ وَتَضَعُ کُلُّ ذَاتِ حَمۡلٍ حَمۡلَہَا وَتَرَی النَّاسَ سُکٰرٰی وَمَا ہُمۡ بِسُکٰرٰی وَلٰکِنَّ عَذَابَ اللّٰہِ شَدِیۡدٌ ﴿۲﴾
جس روز تم اس ( کی ہولناکیوں ) کو دیکھو گے تو ہو جائے گی ہر دودھ پلانے والی ( ) اس ( لخت جگر ) سے جس کو اس نے دودھ پلایا ، اور گرا دے گی ہر حاملہ اپنے حمل کو اور تجھے نظر آئیں گے لوگ جیسے وہ نشہ میں مست ہوں حالانکہ وہ نشہ میں مست نہیں ہوں گے بلکہ الہی بڑا ہو گا ( وہ اس کی ہیبت سے حواس باختہ ہوں گے ) ۔
وَمِنَ النَّاسِ مَنۡ یُّجَادِلُ فِی اللّٰہِ بِغَیۡرِ عِلۡمٍ وَّیَتَّبِعُ کُلَّ شَیۡطٰنٍ مَّرِیۡدٍ ۙ﴿۳﴾
اور بعض ایسے لوگ ہیں جو جھگڑتے ہیں اللہ تعالیٰ کے بارے میں علم کے بغیر اور پیروی کرتے ہیں سرکش شیطان کی ۔
کُتِبَ عَلَیۡہِ اَنَّہٗ مَنۡ تَوَلَّاہُ فَاَنَّہٗ یُضِلُّہٗ وَیَہۡدِیۡہِ اِلٰی عَذَابِ السَّعِیۡرِ ﴿۴﴾
جس کے مقدر میں لکھا جا چکا ہے کہ جو اس کو بنائے گا تو وہ اسے گمراہ کر کے رہے گا اور راہ دکھائے گا اسے بھڑکتی ہوئی کے کی طرف ۔
یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنۡ کُنۡتُمۡ فِیۡ رَیۡبٍ مِّنَ الۡبَعۡثِ فَاِنَّا خَلَقۡنٰکُمۡ مِّنۡ تُرَابٍ ثُمَّ مِنۡ نُّطۡفَۃٍ ثُمَّ مِنۡ عَلَقَۃٍ ثُمَّ مِنۡ مُّضۡغَۃٍ مُّخَلَّقَۃٍ وَّغَیۡرِ مُخَلَّقَۃٍ لِّنُبَیِّنَ لَکُمۡ ؕ وَنُقِرُّ فِی الۡاَرۡحَامِ مَانَشَآءُ اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی ثُمَّ نُخۡرِجُکُمۡ طِفۡلًا ثُمَّ لِتَبۡلُغُوۡۤا اَشُدَّکُمۡ ۚ وَمِنۡکُمۡ مَّنۡ یُّتَوَفّٰی وَمِنۡکُمۡ مَّنۡ یُّرَدُّ اِلٰۤی اَرۡذَلِ الۡعُمُرِ لِکَیۡلَا یَعۡلَمَ مِنۡۢ بَعۡدِ عِلۡمٍ شَیۡئًا ؕ وَتَرَی الۡاَرۡضَ ہَامِدَۃً فَاِذَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَیۡہَا الۡمَآءَ اہۡتَزَّتۡ وَرَبَتۡ وَاَنۡۢبَتَتۡ مِنۡ کُلِّ زَوۡجٍ ۢ بَہِیۡجٍ ﴿۵﴾
اے لوگو ! اگر تمہیں کچھ ہو ( روز محشر ) جی اٹھنے میں تو ذرا اس امر میں کرو کہ ہم نے ہی کیا تھا تمہیں سے پھر نطفہ سے پھر خون کے لوتھڑے سے پھر گوشت کے ٹکڑے سے ۔ بعض کی تخلیق مکمل ہوتی ہے اور بعض کی نامکمل تاکہ ہم فرما دیں تمہارے لیے ( اپنی قدرت کا کمال ) اور ہم بخشتے ہیں رحموں میں جسے ہم چاہتے ہیں ایک مقررہ میعاد تک پھر ہم نکالتے ہیں تمہیں بچہ بنا کر پھر ( کرتے ہیں تمھاری ) تاکہ تم پہنچ جاؤ اپنے شباب کو اور تم میں سے کچھ ( ) فوت ہو جاتے ہیں اور تم میں سے بعض کو پہنچا دیا جاتا ہے نکمی عمر تک تاکہ وہ کچھ نہ جانے ہر چیز کو جاننے کے بعد اور تو دیکھتا ہے کہ پڑی ہے پھر جب ہم اتارتے ہیں اس پر ( کا ) تروتازہ ہو جاتی ہے اور پھولتی ہے اور اگاتی ہے ہر خوشنما جوڑے کو ۔
ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ ہُوَ الۡحَقُّ وَاَنَّہٗ یُحۡیِ الۡمَوۡتٰی وَاَنَّہٗ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ۙ﴿۶﴾
یہ ( رنگا رنگیاں اس کی ہیں ) کہ اللہ تعالیٰ ہی برحق ہے اور وہی کرتا ہے مردوں کو اور بلاشبہ وہی ہر چیز پر قادر ہے ۔
وَّاَنَّ السَّاعَۃَ اٰتِیَۃٌ لَّا رَیۡبَ فِیۡہَا ۙ وَاَنَّ اللّٰہَ یَبۡعَثُ مَنۡ فِی الۡقُبُوۡرِ ﴿۷﴾
اور یقیناً آنے والی ہے اس میں ذرا نہیں اور اللہ تعالیٰ کر کے اٹھائے گا ان ( مردوں ) کو جو قبروں میں ہیں ۔
وَمِنَ النَّاسِ مَنۡ یُّجَادِلُ فِی اللّٰہِ بِغَیۡرِ عِلۡمٍ وَّلَا ہُدًی وَّلَا کِتٰبٍ مُّنِیۡرٍ ۙ﴿۸﴾
اور انسانوں میں ایسے لوگ بھی ہیں جو جھگڑا کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کے بارے میں بغیر علم کے اور بغیر کسی کے اور بغیر کسی روشن کے ۔
ثَانِیَ عِطۡفِہٖ لِیُضِلَّ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ؕ لَہٗ فِی الدُّنۡیَا خِزۡیٌ وَّنُذِیۡقُہٗ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ عَذَابَ الۡحَرِیۡقِ ﴿۹﴾
۔( سے ) مروڑتے ہوئے تاکہ بہکا دے ( دوسروں کو بھی ) اللہ کی راہ سے ۔ اس کے لیے میں بھی رسوائی ہے اور ہم چکھائیں گے اسے کے جلانے والی کا ۔
ذٰلِکَ بِمَا قَدَّمَتۡ یَدٰکَ وَاَنَّ اللّٰہَ لَیۡسَ بِظَلَّامٍ لِّلۡعَبِیۡدِ ﴿۱۰﴾٪ 8
۔( اس روز اسے بتایا جائے گا کہ ) یہ سزا ہے اس کی جو تیرے دونوں ہاتھوں نے آگے بھیجا اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ۔
وَمِنَ النَّاسِ مَنۡ یَّعۡبُدُ اللّٰہَ عَلٰی حَرۡفٍ ۚ فَاِنۡ اَصَابَہٗ خَیۡرُ ۨ اطۡمَاَنَّ بِہٖ ۚ وَاِنۡ اَصَابَتۡہُ فِتۡنَۃُ ۨ انۡقَلَبَ عَلٰی وَجۡہِہٖ ۟ ۚ خَسِرَ الدُّنۡیَا وَالۡاٰخِرَۃَ ؕ ذٰلِکَ ہُوَ الۡخُسۡرَانُ الۡمُبِیۡنُ ﴿۱۱﴾
اور لوگوں میں سے وہ بھی ہے جو کرتا ہے اللہ تعالیٰ کی پر ( کھڑے کھڑے ) پھر اگر پہنچے اسے بھلائی ( اس سے ) تو مطمئن ہو جاتا ہے اس سے اور اگر پہنچے اسے کوئی تو فوراً ( سے ) موڑ لیتا ہے ۔ اس شخص نے کر دی اپنی اور یہی تو کھلا خسارہ ہے ۔
یَدۡعُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مَالَا یَضُرُّہٗ وَمَا لَا یَنۡفَعُہٗ ؕ ذٰلِکَ ہُوَ الضَّلٰلُ الۡبَعِیۡدُ ﴿ۚ۱۲﴾
وہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ کے سوا اس کی جو نہ ضرر پہنچا سکتا ہے اسے اور نہ نفع پہنچا سکتا ہے اسے ۔ یہی تو انتہائی گمراہی ہے ۔
یَدۡعُوۡا لَمَنۡ ضَرُّہٗۤ اَقۡرَبُ مِنۡ نَّفۡعِہٖ ؕ لَبِئۡسَ الۡمَوۡلٰی وَلَبِئۡسَ الۡعَشِیۡرُ ﴿۱۳﴾
وہ پوجتا ہے اسے جس کی ضرر رسانی قریب ہے اس کی نفع رسانی سے یہ بہت برا ہے اور بہت برا ہے ۔
اِنَّ اللّٰہَ یُدۡخِلُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یَفۡعَلُ مَایُرِیۡدُ ﴿۱۴﴾
بیشک اللہ تعالیٰ کرے گا انھیں جو ایمان لائے اور جنھوں نے عمل کیے باغات میں ، رواں ہیں کے نہریں ۔ بیشک اللہ تعالیٰ کرتا ہے جو چاہتا ہے ۔
مَنۡ کَانَ یَظُنُّ اَنۡ لَّنۡ یَّنۡصُرَہُ اللّٰہُ فِی الدُّنۡیَا وَالۡاٰخِرَۃِ فَلۡیَمۡدُدۡ بِسَبَبٍ اِلَی السَّمَآءِ ثُمَّ لۡیَقۡطَعۡ فَلۡیَنۡظُرۡ ہَلۡ یُذۡہِبَنَّ کَیۡدُہٗ مَایَغِیۡظُ ﴿۱۵﴾
اور جو شخص یہ خیال کیے بیٹھا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے حبیب کی نہیں کرے گا نہ میں اور نہ میں تو اسے چاہیے کہ لٹک جائے ایک کے سے پھر ( گلے میں پھندا ڈال کر ) اسے کاٹ دے پھر دیکھے آیا کر دیا ہے اس کی ( خودکشی کی ) نے اس کے و کو ۔
وَکَذٰلِکَ اَنۡزَلۡنٰہُ اٰیٰتٍ ۢ بَیِّنٰتٍ ۙ وَّاَنَّ اللّٰہَ یَہۡدِیۡ مَنۡ یُّرِیۡدُ ﴿۱۶﴾
اور اسی طرح ہم نے اتارا ہے اس کو روشن دلیلوں کے ساتھ ۔ اور بیشک اللہ تعالیٰ دیتا ہے جس کو چاہتا ہے ۔
اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَالَّذِیۡنَ ہَادُوۡا وَالصّٰبِئِیۡنَ وَالنَّصٰرٰی وَالۡمَجُوۡسَ وَالَّذِیۡنَ اَشۡرَکُوۡۤا ٭ۖ اِنَّ اللّٰہَ یَفۡصِلُ بَیۡنَہُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ شَہِیۡدٌ ﴿۱۷﴾
بیشک اہل ایمان ، یہودی ، ستارہ پرست ، عیسائی ، آتش پرست اور مشرک ، ضرور فرمائے گا اللہ تعالیٰ ان سب ( گروہوں ) کے کے بیشک اللہ تعالیٰ پر چیز کا مشاہدہ فرما رہا ہے ۔
اَلَمۡ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ یَسۡجُدُ لَہٗ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَمَنۡ فِی الۡاَرۡضِ وَالشَّمۡسُ وَالۡقَمَرُ وَالنُّجُوۡمُ وَالۡجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَآبُّ وَکَثِیۡرٌ مِّنَ النَّاسِ ؕ وَکَثِیۡرٌ حَقَّ عَلَیۡہِ الۡعَذَابُ ؕ وَمَنۡ یُّہِنِ اللّٰہُ فَمَا لَہٗ مِنۡ مُّکۡرِمٍ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یَفۡعَلُ مَایَشَآءُ ﴿ؕٛ۱۸﴾
کیا تم ملاحظہ نہیں کر رہے کہ اللہ تعالیٰ کو ہی سجدہ کر رہی ہے ہر چیز جو آسمانوں میں ہے اور جو میں ہے نیز آفتاب مہتاب ، ستارے ، ، اور اور بہت سے بھی ( اسی کو سجدہ کرتے ہیں ) اور بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں پر ہو چکا ہے اور ( دیکھو ) جس کو کر دے اللہ تعالیٰ تو کوئی اسے دینے والا نہیں ہے ۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ کرتا ہے جو چاہتا ہے ۔
ہٰذٰنِ خَصۡمٰنِ اخۡتَصَمُوۡا فِیۡ رَبِّہِمۡ ۫ فَالَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا قُطِّعَتۡ لَہُمۡ ثِیَابٌ مِّنۡ نَّارٍ ؕ یُصَبُّ مِنۡ فَوۡقِ رُءُوۡسِہِمُ الۡحَمِیۡمُ ﴿ۚ۱۹﴾
یہ دو فریق ہیں جو جھگڑ رہے ہیں اپنے رب کے بارے میں تو وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا کر دیے گئے ہیں ان کے لیے کپڑے آتش ( جہنم ) سے ۔ انڈیلا جائے گا ان کے سروں پر کھولتا ۔
یُصۡہَرُ بِہٖ مَافِیۡ بُطُوۡنِہِمۡ وَالۡجُلُوۡدُ ﴿ؕ۲۰﴾
گل جائے گا اس کھولتے سے جو کچھ ان کے شکموں میں ہے اور ان کی چمڑیاں بھی گل جائینگی ۔
وَلَہُمۡ مَّقَامِعُ مِنۡ حَدِیۡدٍ ﴿۲۱﴾
اور ان ( کو مارنے ) کے لیے گرز ہوں گے لوہے کے ۔
کُلَّمَاۤ اَرَادُوۡۤا اَنۡ یَّخۡرُجُوۡا مِنۡہَا مِنۡ غَمٍّ اُعِیۡدُوۡا فِیۡہَا ٭ وَذُوۡقُوۡا عَذَابَ الۡحَرِیۡقِ ﴿٪۲۲﴾ 9
جب بھی کریں گے اس سے نکلنے کا فرط رنج و الم کے باعث تو انھیں لوٹا دیا جائے گا اس میں اور ( کہا جائے گا ) کہ چکھو جلتی ہوئی کا ۔
اِنَّ اللّٰہَ یُدۡخِلُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ یُحَلَّوۡنَ فِیۡہَا مِنۡ اَسَاوِرَ مِنۡ ذَہَبٍ وَّلُؤۡلُؤًا ؕ وَلِبَاسُہُمۡ فِیۡہَا حَرِیۡرٌ ﴿۲۳﴾
یقیناً اللہ تعالیٰ کرے گا ان لوگوں کو جو ایمان بھی لے آئے اور عمل بھی کرتے رہے جنتوں میں بہتی ہیں کے ندیاں ، انھیں پہنائے جائیں گے میں سونے کے کنگن اور موتیوں کے ہار ۔ اور ان کی وہاں ریشمی ہو گی ۔
وَہُدُوۡۤا اِلَی الطَّیِّبِ مِنَ الۡقَوۡلِ ۚ ۖ وَہُدُوۡۤا اِلٰی صِرَاطِ الۡحَمِیۡدِ ﴿۲۴﴾
اور ان کی رہنمائی کی گئی تھی پاکیزہ قول کی طرف اور دکھایا گیا تھا انھیں اللہ تعالیٰ کا جو کیا گیا ہے ۔
اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَیَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَالۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ الَّذِیۡ جَعَلۡنٰہُ لِلنَّاسِ سَوَآءَ ۨ الۡعَاکِفُ فِیۡہِ وَالۡبَادِ ؕ وَمَنۡ یُّرِدۡ فِیۡہِ بِاِلۡحَادٍ ۢ بِظُلۡمٍ نُّذِقۡہُ مِنۡ عَذَابٍ اَلِیۡمٍ ﴿٪۲۵﴾ 10
بیشک وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور ( دوسروں کو ) روکتے ہیں اللہ تعالیٰ کی راہ سے اور مسجد سے جسے ہم نے ( بلا امتیاز ) سب لوگوں کے لیے ( مرکز ) بنایا ہے ۔ یکساں ہیں اس میں وہاں کے رہنے والے اور پردیسی ۔ اور جو کرے اس میں کا ناحق تو ہم اسے چکھائیں گے دردناک ۔
وَاِذۡ بَوَّاۡنَا لِاِبۡرٰہِیۡمَ مَکَانَ الۡبَیۡتِ اَنۡ لَّا تُشۡرِکۡ بِیۡ شَیۡئًا وَّطَہِّرۡ بَیۡتِیَ لِلطَّآئِفِیۡنَ وَالۡقَآئِمِیۡنَ وَالرُّکَّعِ السُّجُوۡدِ ﴿۲۶﴾
اور کرو جب ہم نے کر دی ابراہیم ( علیہ السلام ) کے لیے اس کے ( تعمیر کرنے ) کی اور دیا کہ نہ ٹھیرانا میرے ساتھ کسی چیز کو اور ستھرا رکھنا میرے کو طواف کرنے والوں ، قیام کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لیے ۔
وَاَذِّنۡ فِی النَّاسِ بِالۡحَجِّ یَاۡتُوۡکَ رِجَالًا وَّعَلٰی کُلِّ ضَامِرٍ یَّاۡتِیۡنَ مِنۡ کُلِّ فَجٍّ عَمِیۡقٍ ﴿ۙ۲۷﴾
اور اعلان عام کر دو لوگوں میں حج کا وہ آینگے آپ کے پاپیادہ اور ہر دبلی اونٹنی پر ہو کر جو آتی ہیں ہر سے ۔
لِّیَشۡہَدُوۡا مَنَافِعَ لَہُمۡ وَیَذۡکُرُوا اسۡمَ اللّٰہِ فِیۡۤ اَیَّامٍ مَّعۡلُوۡمٰتٍ عَلٰی مَارَزَقَہُمۡ مِّنۡۢ بَہِیۡمَۃِ الۡاَنۡعَامِ ۚ فَکُلُوۡا مِنۡہَا وَاَطۡعِمُوا الۡبَآئِسَ الۡفَقِیۡرَ ﴿۫۲۸﴾
۔( اعلان کیجیے ) تاکہ وہ ہوں اپنے ( دینی دنیوی ) فائدوں کے لیے اور ذکر کریں اللہ تعالیٰ کے کا مقررہ دنوں میں ان بے زبان چوپائیوں پر ( ذبح کے ) جو اللہ تعالیٰ نے انھیں عطا فرمائے ہیں ۔ پس خود بھی کھاؤ ان سے اور کھلاؤ مصیبت زدہ محتاج کو ۔
ثُمَّ لۡیَقۡضُوۡا تَفَثَہُمۡ وَلۡیُوۡفُوۡا نُذُوۡرَہُمۡ وَلۡیَطَّوَّفُوۡا بِالۡبَیۡتِ الۡعَتِیۡقِ ﴿۲۹﴾
پھر چاہیے کہ کریں اپنی میل کچیل اور پوری کریں اپنی نذریں اور طواف کریں ایسے کا جو بہت قدیم ہے ۔
ذٰلِکَ ٭ وَمَنۡ یُّعَظِّمۡ حُرُمٰتِ اللّٰہِ فَہُوَ خَیۡرٌ لَّہٗ عِنۡدَ رَبِّہٖ ؕ وَاُحِلَّتۡ لَکُمُ الۡاَنۡعَامُ اِلَّا مَایُتۡلٰی عَلَیۡکُمۡ فَاجۡتَنِبُوا الرِّجۡسَ مِنَ الۡاَوۡثَانِ وَاجۡتَنِبُوۡا قَوۡلَ الزُّوۡرِ ﴿ۙ۳۰﴾
ان احکام کو رکھو اور جو شخص کرتا ہے اللہ تعالیٰ کی حرمتوں کی تو یہ بہتر ہے اس کے لیے اس کے رب کے ہاں ۔ اور حلال کیے گئے تمہارے لیے جانور بجز ان کے کی حرمت پڑھی گئی تم پر پس پرہیز کرو بتوں کی نجاست سے اور بچو جھوٹی سے ۔
حُنَفَآءَ لِلّٰہِ غَیۡرَ مُشۡرِکِیۡنَ بِہٖ ؕ وَمَنۡ یُّشۡرِکۡ بِاللّٰہِ فَکَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآءِ فَتَخۡطَفُہُ الطَّیۡرُ اَوۡ تَہۡوِیۡ بِہِ الرِّیۡحُ فِیۡ مَکَانٍ سَحِیۡقٍ ﴿۳۱﴾
یکسر مائل ہوتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی طرف ، نہ ٹھیراتے ہوئے اللہ کے ساتھ اور جو ٹھیراتا ہے اللہ تعالیٰ کے ساتھ تو اس کی ایسی ہے گویا وہ گرا ہو سے پس اچک لیا ہو اسے کسی پرند نے یا پھینک دیا ہو اسے نے کسی میں ۔
ذٰلِکَ ٭ وَمَنۡ یُّعَظِّمۡ شَعَآئِرَ اللّٰہِ فَاِنَّہَا مِنۡ تَقۡوَی الۡقُلُوۡبِ ﴿۳۲﴾
حقیقت یہ ہے اور جو ادب و احترام کرتا ہے اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کا تو یہ ( احترام ) اس وجہ سے ہے کہ دلوں میں تقویٰ ہے ۔
لَکُمۡ فِیۡہَا مَنَافِعُ اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی ثُمَّ مَحِلُّہَاۤ اِلَی الۡبَیۡتِ الۡعَتِیۡقِ ﴿۳۳﴾٪ 11
تمہارے لیے مویشیوں میں طرح طرح کے فائدے ہیں ایک معین تک پھر ان کے ذبح کرنے کا مقام بیت عتیق کے قریب ہے ۔
وَلِکُلِّ اُمَّۃٍ جَعَلۡنَا مَنۡسَکًا لِّیَذۡکُرُوا اسۡمَ اللّٰہِ عَلٰی مَارَزَقَہُمۡ مِّنۡۢ بَہِیۡمَۃِ الۡاَنۡعَامِ ؕ فَاِلٰـہُکُمۡ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ فَلَہٗۤ اَسۡلِمُوۡا ؕ وَبَشِّرِ الۡمُخۡبِتِیۡنَ ﴿ۙ۳۴﴾
اور ہر امت کے لیے ہم نے فرمائی ہے ایک تاکہ وہ ذکر کریں اللہ تعالیٰ کا اسم ( ) ان بے زبان جانوروں پر ذبح کے جو اللہ تعالیٰ نے انھیں عطا فرمائے ہیں پس تمہارا خدا خدائے واحد ہے تو اسی کے آگے جھکاؤ اور ( اے محبوب ) مژدہ سنائیے تواضع کرنے والوں کو ۔
الَّذِیۡنَ اِذَا ذُکِرَ اللّٰہُ وَجِلَتۡ قُلُوۡبُہُمۡ وَالصّٰبِرِیۡنَ عَلٰی مَاۤ اَصَابَہُمۡ وَالۡمُقِیۡمِی الصَّلٰوۃِ ۙ وَمِمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ یُنۡفِقُوۡنَ ﴿۳۵﴾
وہ لوگ جب اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے ڈرنے لگتے ہیں اور جو کرنے والے ہیں ان ( مصائب و آلام ) پر جو پہنچتے ہیں انھیں اور جو صحیح ادا کرنے والے ہیں نماز کو اور ان چیزوں سے جو ہم نے انھیں عطا فرمائی ہیں وہ کرتے ہیں ۔
وَالۡبُدۡنَ جَعَلۡنٰہَا لَکُمۡ مِّنۡ شَعَآئِرِ اللّٰہِ لَکُمۡ فِیۡہَا خَیۡرٌ ٭ۖ فَاذۡکُرُوا اسۡمَ اللّٰہِ عَلَیۡہَا صَوَآفَّ ۚ فَاِذَا وَجَبَتۡ جُنُوۡبُہَا فَکُلُوۡا مِنۡہَا وَاَطۡعِمُوا الۡقَانِعَ وَالۡمُعۡتَرَّ ؕ کَذٰلِکَ سَخَّرۡنٰہَا لَکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَ ﴿۳۶﴾
اور کے فربہ جانوروں کو ہم نے بنایا ہے تمہارے لیے اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ، تمہارے لیے ان میں بھلائی ہے پس لو اللہ تعالیٰ کا ان پر اس حال میں کہ ان کا ایک بندھا ہو اور تین پر کھڑے ہوں ۔ پس جب وہ گر پڑیں کسی پر تو خود بھی کھاؤ اس سے نیز کھلاؤ قناعت کرنے والے فقیر کو اور بھیک مانگنے والے کو ۔ اس طرح ہم نے فرمانبردار بنا دیا ان جانوروں کو تمہارے لیے تاکہ تم ( اس کا ) شکریہ ادا کرو ۔
لَنۡ یَّنَالَ اللّٰہَ لُحُوۡمُہَا وَلَا دِمَآؤُہَا وَلٰکِنۡ یَّنَالُہُ التَّقۡوٰی مِنۡکُمۡ ؕ کَذٰلِکَ سَخَّرَہَا لَکُمۡ لِتُکَبِّرُوا اللّٰہَ عَلٰی مَاہَدٰىکُمۡ ؕ وَبَشِّرِ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۳۷﴾
نہیں پہنچتے اللہ تعالیٰ کو ان کے گوشت اور نہ ان کے خون البتہ پہنچتا ہے اس کے حضور تک تقوی تمہاری طرف سے ۔ یوں اس نے فرمانبردار بنا دیا ہے انہیں تمہارے لیے تاکہ تم بڑائی کرو اللہ تعالیٰ کی اس پر کہ اس نے تم کو دی اور ( اے حبیب ! ) خوشخبری دیجیے کرنے والوں کو ۔
اِنَّ اللّٰہَ یُدٰفِعُ عَنِ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ کُلَّ خَوَّانٍ کَفُوۡرٍ ﴿۳۸﴾٪ ؓ 12
یقیناً اللہ تعالیٰ کرتا ہے اہل ایمان کی ( کفار کے مکر و فریب سے ) بیشک اللہ تعالیٰ نہیں رکھتا کسی دھوکہ فراموش کو ۔
اُذِنَ لِلَّذِیۡنَ یُقٰتَلُوۡنَ بِاَنَّہُمۡ ظُلِمُوۡا ؕ وَاِنَّ اللّٰہَ عَلٰی نَصۡرِہِمۡ لَقَدِﻳۡﺮ ُۨ ﴿ۙ۳۹﴾
اذن دے دیا گیا ہے ( جہاد کا ) ان ( مظلوموں ) کو سے کی جاتی ہے اس بنا پر کہ ان پر ظلم کیا گیا اور بیشک اللہ تعالیٰ ان کی نصرت پر پوری طرح قادر ہے ۔
الَّذِیۡنَ اُخۡرِجُوۡا مِنۡ دِیَارِہِمۡ بِغَیۡرِ حَقٍّ اِلَّاۤ اَنۡ یَّقُوۡلُوۡا رَبُّنَا اللّٰہُ ؕ وَلَوۡ لَا دَفۡعُ اللّٰہِ النَّاسَ بَعۡضَہُمۡ بِبَعۡضٍ لَّہُدِّمَتۡ صَوَامِعُ وَبِیَعٌ وَّصَلَوٰتٌ وَّمَسٰجِدُ یُذۡکَرُ فِیۡہَا اسۡمُ اللّٰہِ کَثِیۡرًا ؕ وَلَیَنۡصُرَنَّ اللّٰہُ مَنۡ یَّنۡصُرُہٗ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَقَوِیٌّ عَزِیۡزٌ ﴿۴۰﴾
وہ ( مظلوم ) کو نکال دیا گیا تھا ان کے گھروں سے ناحق صرف اتنی پر کہ انھوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے ۔ اور اگر اللہ تعالیٰ بچاؤ نہ کرتا لوگوں کا انھیں ایک دوسرے سے ٹکرا کر تو ( طاقتور کی غارتگری سے ) منہدم ہو جاتیں خانقاہیں اور گرجے اور کلیسے اور مسجدیں میں اللہ تعالیٰ کے کا ذکر کثرت سے کیا جاتا ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ ضرور فرمائے گا اس کی جو اس ( کے ) کی کریگا ۔ یقیناً اللہ تعالیٰ والا ( اور ) سب پر ہے ۔
اَلَّذِیۡنَ اِنۡ مَّکَّنّٰہُمۡ فِی الۡاَرۡضِ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوۃَ وَاَمَرُوۡا بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَنَہَوۡا عَنِ الۡمُنۡکَرِ ؕ وَلِلّٰہِ عَاقِبَۃُ الۡاُمُوۡرِ ﴿۴۱﴾
وہ لوگ کہ اگر ہم انھیں بخشیں میں تو وہ صحیح صحیح ادا کرتے ہیں نماز کو اور دیتے ہیں زکوۃ اور کرتے ہیں ( لوگوں کو ) کا اور روکتے ہیں ( انھیں ) سے اور اللہ تعالیٰ کے لیے ہے سارے کاموں کا ۔
وَاِنۡ یُّکَذِّبُوۡکَ فَقَدۡ کَذَّبَتۡ قَبۡلَہُمۡ قَوۡمُ نُوۡحٍ وَّعَادٌ وَّثَمُوۡدُ ﴿ۙ۴۲﴾
اور اگر یہ کفار آپ کو جھٹلاتے ہیں ( تو کیا تعجب ہے ) پس جھٹلایا تھا ان سے قوم نوح نے اور عاد و ثمود نے ۔
وَقَوۡمُ اِبۡرٰہِیۡمَ وَقَوۡمُ لُوۡطٍ ﴿ۙ۴۳﴾
اور قوم ابراہیم نے اور قوم لوط نے ۔
وَّاَصۡحٰبُ مَدۡیَنَ ۚ وَکُذِّبَ مُوۡسٰی فَاَمۡلَیۡتُ لِلۡکٰفِرِیۡنَ ثُمَّ اَخَذۡتُہُمۡ ۚ فَکَیۡفَ کَانَ نَکِیۡرِ ﴿۴۴﴾
اور مدین کے رہنے والوں نے ( اپنے اپنے نبیوں کو ) اور جھٹلائے گئے موسیٰ بھی ۔ تو ( کچھ عرصہ ) میں نے دی ان کفار کو ( جب وہ نہ آئے ) تو میں نے انھیں پکڑا ۔ ( خود ہی بتاؤ ) کتنا خوفناک تھا میرا ۔
فَکَاَیِّنۡ مِّنۡ قَرۡیَۃٍ اَہۡلَکۡنٰہَا وَہِیَ ظَالِمَۃٌ فَہِیَ خَاوِیَۃٌ عَلٰی عُرُوۡشِہَا وَبِئۡرٍ مُّعَطَّلَۃٍ وَّقَصۡرٍ مَّشِیۡدٍ ﴿۴۵﴾
پس کتنی بستیاں ہیں جنھیں ہم نے و بالا کر ڈالا کیونکہ وہ ظالم تھیں تو اب وہ گری پڑی ہیں اپنی چھتوں پر اور کتنے کنویں ہیں جو بیکار ہو چکے ہیں اور کتنے چونے سے بنے ہوئے ہیں ( جو ویران پڑے ہیں ) ۔
اَفَلَمۡ یَسِیۡرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ فَتَکُوۡنَ لَہُمۡ قُلُوۡبٌ یَّعۡقِلُوۡنَ بِہَاۤ اَوۡ اٰذَانٌ یَّسۡمَعُوۡنَ بِہَا ۚ فَاِنَّہَا لَا تَعۡمَی الۡاَبۡصَارُ وَلٰکِنۡ تَعۡمَی الۡقُلُوۡبُ الَّتِیۡ فِی الصُّدُوۡرِ ﴿۴۶﴾
کیا انھوں نے سیر و سیاحت نہیں کی میں تاکہ ( ان کھنڈرات کو دیکھ کر ) ان کے ایسے ہو جاتے سے وہ ( حق ) کو سمجھ سکتے اور کان ایسے ہو جاتے سے یہ سن سکتے ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ وہ اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہوتے ہیں ۔
وَیَسۡتَعۡجِلُوۡنَکَ بِالۡعَذَابِ وَلَنۡ یُّخۡلِفَ اللّٰہُ وَعۡدَہٗ ؕ وَاِنَّ یَوۡمًا عِنۡدَ رَبِّکَ کَاَلۡفِ سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوۡنَ ﴿۴۷﴾
یہ لوگ مانگ رہے ہیں آپ سے ۔ ( یہ تسلی رکھیں ) اللہ تعالیٰ خلاف ورزی نہیں کرے گا اپنے وعدہ کی ۔ اور بیشک ایک تیرے رب کے ہاں ایک ہزار کی طرح ہوتا ہے جس حساب سے تم گنتی کرتے ہو ۔
وَکَاَیِّنۡ مِّنۡ قَرۡیَۃٍ اَمۡلَیۡتُ لَہَا وَہِیَ ظَالِمَۃٌ ثُمَّ اَخَذۡتُہَا ۚ وَاِلَیَّ الۡمَصِیۡرُ ﴿۴۸﴾٪ 13
اور کتنی بستیاں تھیں جنھیں میں نے ( عرصہ ) ڈھیل دی حالانکہ وہ ظالم تھیں پھر ( بھی جب وہ نہ آئے ) تو میں نے انھیں پکڑ لیا اور میری طرف ہی ( سب کو ) لوٹنا ہے ۔
قُلۡ یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنَّمَاۤ اَنَا لَکُمۡ نَذِیۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿ۚ۴۹﴾
۔( اے حبیب ) آپ فرمائیے اے لوگو ! بس میں تو تمہیں ( الٰہی سے ) کھلا ڈرانے والا ہوں ۔
فَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَہُمۡ مَّغۡفِرَۃٌ وَّرِزۡقٌ کَرِیۡمٌ ﴿۵۰﴾
سو جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے کیے تو ان کے لیے مغفرت بھی ہے اور باعزت روزی بھی ۔
وَالَّذِیۡنَ سَعَوۡا فِیۡۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیۡنَ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ الۡجَحِیۡمِ ﴿۵۱﴾
اور جو لوگ کرتے رہے ہماری آیتوں ( کی تردید ) میں اس خیال سے کہ وہ ہمیں ہرا دیں گے ۔ یہی لوگ دوزخی ہیں ۔
وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِکَ مِنۡ رَّسُوۡلٍ وَّلَا نَبِیٍّ اِلَّاۤ اِذَا تَمَنّٰۤی اَلۡقَی الشَّیۡطٰنُ فِیۡۤ اُمۡنِیَّتِہٖ ۚ فَیَنۡسَخُ اللّٰہُ مَایُلۡقِی الشَّیۡطٰنُ ثُمَّ یُحۡکِمُ اللّٰہُ اٰیٰتِہٖ ؕ وَاللّٰہُ عَلِیۡمٌ حَکِیۡمٌ ﴿ۙ۵۲﴾
اور نہیں بھیجا ہم نے آپ سے کوئی رسول اور نہ کوئی نبی مگر اس کے ساتھ یہ کہ جب اس نے کچھ پڑھا تو ڈال دئیے شیطان نے اس کے پڑھنے میں ( شکوک ) پس مٹا دیتا ہے اللہ تعالیٰ جو دخل اندازی شیطان کرتا ہے پھر پختہ کر دیتا ہے اللہ تعالیٰ اپنی آیتوں کو اور اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا بہت دانا ہے ۔
لِّیَجۡعَلَ مَایُلۡقِی الشَّیۡطٰنُ فِتۡنَۃً لِّلَّذِیۡنَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ مَّرَضٌ وَّالۡقَاسِیَۃِ قُلُوۡبُہُمۡ ؕ وَاِنَّ الظّٰلِمِیۡنَ لَفِیۡ شِقَاقٍ ۢ بَعِیۡدٍ ﴿ۙ۵۳﴾
یہ سب اس لیے تاکہ اللہ تعالیٰ بنا دے جو وسوسہ دالتا ہے شیطان ایک ان لوگوں کے لیے جنکے دلوں میں بیماری ہے اور کے بہت ہیں اور بیشک ظالم لوگ میں بہت نکل جاتے ہیں ۔
وَّلِیَعۡلَمَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ اَنَّہُ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّکَ فَیُؤۡمِنُوۡا بِہٖ فَتُخۡبِتَ لَہٗ قُلُوۡبُہُمۡ ؕ وَاِنَّ اللّٰہَ لَہَادِ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ﴿۵۴﴾
نیز اس میں یہ حکمت بھی ہے کہ جان لیں وہ لوگ جنھیں علم بخشا گیا کہ حق ہے آپ کے رب کی طرف سے تاکہ ایمان لائیں اس کے ساتھ اور جھک جائیں اس ( کی سچائی ) کے آگے ان کے اور بیشک اللہ تعالیٰ دینے والا ہے ایمان والوں کو راہ راست کی طرف ۔
وَلَا یَزَالُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا فِیۡ مِرۡیَۃٍ مِّنۡہُ حَتّٰی تَاۡتِیَہُمُ السَّاعَۃُ بَغۡتَۃً اَوۡ یَاۡتِیَہُمۡ عَذَابُ یَوۡمٍ عَقِیۡمٍ ﴿۵۵﴾
اور میں مبتلا رہیں گے کفار اس کے بارے میں یہاں تک کہ آ جائے ان پر یا آ جائے ان پر منحوس کا ۔
اَلۡمُلۡکُ یَوۡمَئِذٍ لِّلّٰہِ ؕ یَحۡکُمُ بَیۡنَہُمۡ ؕ فَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِیۡ جَنّٰتِ النَّعِیۡمِ ﴿۵۶﴾
حکمرانی اس روز اللہ تعالیٰ کی ہو گی وہی فرمائے گا لوگوں کے ۔ پس جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے تو وہ ( و ) کے باغوں میں ( قیام پذیر ) ہوں گے ۔
وَالَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَکَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا فَاُولٰٓئِکَ لَہُمۡ عَذَابٌ مُّہِیۡنٌ ﴿۵۷﴾٪ 14
اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا تو یہ وہ بد نصیب ہیں کے لیے رسوا کن ہو گا ۔
وَالَّذِیۡنَ ہَاجَرُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ثُمَّ قُتِلُوۡۤا اَوۡ مَاتُوۡا لَیَرۡزُقَنَّہُمُ اللّٰہُ رِزۡقًا حَسَنًا ؕ وَاِنَّ اللّٰہَ لَہُوَ خَیۡرُ الرّٰزِقِیۡنَ ﴿۵۸﴾
اور لوگوں نے ہجرت کی راہ خدا میں پھر وہ ( جہاد میں ) کر دیے گئے یا طبعی طور پر فوت ہوئے تو ضرور عطا فرمائے گا انھیں اللہ تعالیٰ بہترین رزق اور بیشک اللہ تعالیٰ ہی ہے جو سب سے بہتر روزی دینے والا ہے ۔
لَیُدۡخِلَنَّہُمۡ مُّدۡخَلًا یَّرۡضَوۡنَہٗ ؕ وَاِنَّ اللّٰہَ لَعَلِیۡمٌ حَلِیۡمٌ ﴿۵۹﴾
وہ ضرور کرے گا انھیں ایسی جسے وہ کریں گے اور یقیناً اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا ، بڑا بردبار ہے ۔
ذٰلِکَ ۚ وَمَنۡ عَاقَبَ بِمِثۡلِ مَاعُوۡقِبَ بِہٖ ثُمَّ بُغِیَ عَلَیۡہِ لَیَنۡصُرَنَّہُ اللّٰہُ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَعَفُوٌّ غَفُوۡرٌ ﴿۶۰﴾
ان باتوں کو رکھو ! اور جس نے بدلا لیا اتنا قدر جتنی اسے دی گئی تھی ۔ پھر ( مزید ) کی گئی اس پر تو اللہ تعالیٰ ضرور اس کی فرمائے گا بیشک اللہ تعالیٰ بہت فرمانے والا بہت بخشنے والا ہے ۔
ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ یُوۡلِجُ الَّیۡلَ فِی النَّہَارِ وَیُوۡلِجُ النَّہَارَ فِی الَّیۡلِ وَاَنَّ اللّٰہَ سَمِیۡعٌۢ بَصِیۡرٌ ﴿۶۱﴾
اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی کرتا ہے ( کے کچھ ) کو میں اور کرتا ہے ( کے کچھ ) کو میں اور اللہ تعالیٰ سب باتیں سننے والا سب کچھ دیکھنے والا ہے ۔
ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ ہُوَ الۡحَقُّ وَاَنَّ مَایَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِہٖ ہُوَ الۡبَاطِلُ وَاَنَّ اللّٰہَ ہُوَ الۡعَلِیُّ الۡکَبِیۡرُ ﴿۶۲﴾
نیز اس کی یہ وجہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جو خدائے برحق ہے اور جسے وہ پوجتے ہیں اس کے علاوہ وہ سراسر باطل ہے اور اللہ تعالیٰ ہی ہے جو سب سے ( اور ) سب سے بڑا ہے ۔
اَلَمۡ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ اَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً ۫ فَتُصۡبِحُ الۡاَرۡضُ مُخۡضَرَّۃً ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَطِیۡفٌ خَبِیۡرٌ ﴿ۚ۶۳﴾
کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے اتارا سے تو ہو جاتی ہے ( ) سبز و شاداب ۔ بیشک اللہ تعالیٰ لطف فرمانے والا ہر چیز سے باخبر ہے ۔
لَہٗ مَافِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ وَاِنَّ اللّٰہَ لَہُوَ الۡغَنِیُّ الۡحَمِیۡدُ ﴿۶۴﴾٪ 15
اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ میں ہے اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جو سب سے بے پرواہ اور ہر کا مستحق ہے ۔
اَلَمۡ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ سَخَّرَ لَکُمۡ مَّا فِی الۡاَرۡضِ وَالۡفُلۡکَ تَجۡرِیۡ فِی الۡبَحۡرِ بِاَمۡرِہٖ ؕ وَیُمۡسِکُ السَّمَآءَ اَنۡ تَقَعَ عَلَی الۡاَرۡضِ اِلَّا بِاِذۡنِہٖ ؕ اِنَّ اللّٰہَ بِالنَّاسِ لَرَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۶۵﴾
اور کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمانبردار بنا دیا ہے تمہارے لیے ہر چیز کو جو میں ہے اور کو بھی کہ چلتی ہے سمندر میں اس کے سے اور اس نے روکا ہے کو کہ گر نہ پڑے پر بجز اس کے فرمان کے ۔ بیشک اللہ تعالیٰ لوگوں کے ساتھ بڑی مہربانی فرمانے والا رحم کرنے والا ہے ۔
وَہُوَ الَّذِیۡۤ اَحۡیَاکُمۡ ۫ ثُمَّ یُمِیۡتُکُمۡ ثُمَّ یُحۡیِیۡکُمۡ ؕ اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَکَفُوۡرٌ ﴿۶۶﴾
اور وہی ہے جس نے تمہیں زندگی دی پھر مارے گا تمہیں پھر کرے گا تمہیں ۔ بیشک بڑا ہے ۔
لِکُلِّ اُمَّۃٍ جَعَلۡنَا مَنۡسَکًا ہُمۡ نَاسِکُوۡہُ فَلَا یُنَازِعُنَّکَ فِی الۡاَمۡرِ وَادۡعُ اِلٰی رَبِّکَ ؕ اِنَّکَ لَعَلٰی ہُدًی مُّسۡتَقِیۡمٍ ﴿۶۷﴾
ہر امت کے لیے ہم نے کر دیا ہے کا جس کے مطابق وہ کرتے ہیں ۔ تو انھیں چاہیے کہ وہ نہ جھگڑا کریں آپ سے اس معاملہ میں ۔ آپ بلاتے رہیے انھیں اپنے رب کی طرف ( اے محبوب ! ) آپ بیشک سیدھی راہ پر ( گامزن ) ہیں ۔
وَاِنۡ جٰدَلُوۡکَ فَقُلِ اللّٰہُ اَعۡلَمُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۶۸﴾
اور اگر وہ ( پھر بھی ) آپ سے جھگڑا کریں تو آپ ( صرف اتنا ) فرما دیجیے کہ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جو تم کر رہے ہو ۔
اَللّٰہُ یَحۡکُمُ بَیۡنَکُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ فِیۡمَا کُنۡتُمۡ فِیۡہِ تَخۡتَلِفُوۡنَ ﴿۶۹﴾
اللہ تعالیٰ فرمائے گا تمہارے کے ان امور کے بارے میں میں تم اختلاف کرتے رہتے ہو ۔
اَلَمۡ تَعۡلَمۡ اَنَّ اللّٰہَ یَعۡلَمُ مَافِی السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ ؕ اِنَّ ذٰلِکَ فِیۡ کِتٰبٍ ؕ اِنَّ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیۡرٌ ﴿۷۰﴾
کیا آپ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو کچھ اور میں ہے یہ سب کچھ ایک میں ( لکھا ) ہے ۔ بیشک ( بلندی اور پستی کی ہر چیز کو جان لینا ) اللہ تعالیٰ پر ہے ۔
وَیَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مَالَمۡ یُنَزِّلۡ بِہٖ سُلۡطٰنًا وَّمَا لَیۡسَ لَہُمۡ بِہٖ عِلۡمٌ ؕ وَمَا لِلظّٰلِمِیۡنَ مِنۡ نَّصِیۡرٍ ﴿۷۱﴾
اور وہ پوجتے ہیں اللہ تعالیٰ کے سوا ان کو ، نہیں اتاری کے متعلق اللہ تعالیٰ نے کوئی سند ۔ اور انھیں خود بھی ان کے بارے میں کوئی علم نہیں ۔ اور نہیں ہو گا ظلم و ستم کرنے والوں کا کوئی مدگار ۔
وَاِذَا تُتۡلٰی عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ تَعۡرِفُ فِیۡ وُجُوۡہِ الَّذِیۡنَ کَفَرُوا الۡمُنۡکَرَ ؕ یَکَادُوۡنَ یَسۡطُوۡنَ بِالَّذِیۡنَ یَتۡلُوۡنَ عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِنَا ؕ قُلۡ اَفَاُنَبِّئُکُمۡ بِشَرٍّ مِّنۡ ذٰلِکُمۡ ؕ اَلنَّارُ ؕ وَعَدَہَا اللّٰہُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ؕ وَبِئۡسَ الۡمَصِیۡرُ ﴿٪۷۲﴾ 16
اور جب تلاوت کی جاتی ہیں ان کے ہماری آیتیں صاف ، تو آپ پہچان لیتے ہیں کفار کے چہروں پر ناپسندیدگی کے آثار ۔ یوں پتہ چلتا ہے کہ وہ عنقریب جھپٹ پڑینگے ان لوگوں پر جو پڑھتے ہیں ان کے ہماری آیتیں ۔ آپ فرمائیے ( اے چیں بہ جبیں ہونے والو ! ) کیا میں کر دوں تمہیں اس سے بھی دہ چیز پر ۔ کی ! وعدہ کیا ہے اس کا اللہ تعالیٰ نے کفار سے ۔ اور بہت برا ٹھکانا ہے ۔
یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسۡتَمِعُوۡا لَہٗ ؕ اِنَّ الَّذِیۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ لَنۡ یَّخۡلُقُوۡا ذُبَابًا وَّلَوِ اجۡتَمَعُوۡا لَہٗ ؕ وَاِنۡ یَّسۡلُبۡہُمُ الذُّبَابُ شَیۡئًا لَّا یَسۡتَنۡقِذُوۡہُ مِنۡہُ ؕ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالۡمَطۡلُوۡبُ ﴿۷۳﴾
اے لوگو ! ایک مثال کی جا رہی ہے پس سے سنو اسے ! بیشک معبودوں کو تم پکارتے ہو اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر ، یہ تو بھی نہیں کر سکتے اگرچہ وہ سب جمع ہو جائیں اس ( معمولی سے ) کے لیے اور اگر لے ان سے بھی کوئی چیز تو وہ نہیں چھڑا سکتے اسے اس سے ( آہ ! ) کتنا بے بس ہے ایسا طالب اور کتنا بے بس ہے ایسا مطلوب ۔
مَاقَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدۡرِہٖ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَقَوِیٌّ عَزِیۡزٌ ﴿۷۴﴾
نہ قدر پہچانی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جیسے اس کی قدر پہچاننے کا حق تھا بیشک اللہ تعالیٰ بڑا طاقتور ( اور ) سب پر ہے ۔
اَللّٰہُ یَصۡطَفِیۡ مِنَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ رُسُلًا وَّمِنَ النَّاسِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ سَمِیۡعٌۢ بَصِیۡرٌ ﴿ۚ۷۵﴾
اللہ تعالیٰ لیتا ہے فرشتوں سے بعض پیغام پہچانے والے اور انسانوں سے بھی بعض کو رسول بیشک اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے والا ، دیکھنے والا ہے ۔
یَعۡلَمُ مَابَیۡنَ اَیۡدِیۡہِمۡ وَمَا خَلۡفَہُمۡ ؕ وَاِلَی اللّٰہِ تُرۡجَعُ الۡاُمُوۡرُ ﴿۷۶﴾
وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف ہی لوٹائے جائیں گے سارے معاملات ۔
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا ارۡکَعُوۡا وَاسۡجُدُوۡا وَاعۡبُدُوۡا رَبَّکُمۡ وَافۡعَلُوا الۡخَیۡرَ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ ﴿ۚٛ۷۷﴾
اے ایمان والو ! رکوع کرو اور سجدہ کرو اور کرو اپنے پروردگار کی اور ( ) مفید کیا کرو تاکہ تم ( و میں ) ہو جاؤ ۔
وَجَاہِدُوۡا فِی اللّٰہِ حَقَّ جِہَادِہٖ ؕ ہُوَ اجۡتَبٰىکُمۡ وَمَا جَعَلَ عَلَیۡکُمۡ فِی الدِّیۡنِ مِنۡ حَرَجٍ ؕ مِلَّۃَ اَبِیۡکُمۡ اِبۡرٰہِیۡمَ ؕ ہُوَ سَمّٰىکُمُ الۡمُسۡلِمِیۡنَ ۬ ۙ مِنۡ قَبۡلُ وَفِیۡ ہٰذَا لِیَکُوۡنَ الرَّسُوۡلُ شَہِیۡدًا عَلَیۡکُمۡ وَتَکُوۡنُوۡا شُہَدَآءَ عَلَی النَّاسِ ۚ ۖ فَاَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ وَاعۡتَصِمُوۡا بِاللّٰہِ ؕ ہُوَ مَوۡلٰىکُمۡ ۚ فَنِعۡمَ الۡمَوۡلٰی وَنِعۡمَ النَّصِیۡرُ ﴿٪۷۸﴾ 17
اور ( توڑ ) کرو اللہ تعالیٰ کی راہ میں جس طرح کرنے کا حق ہے اس نے لیا ہے تمہیں ( حق کی پاسبانی اور اشاعت کے لیے ) اور نہیں روا رکھی اس نے تم پر کے معاملہ میں کوئی ۔ پیروی کرو اپنے ابراہیم کے کی اسی نے تمہارا مسلم ( خم کرنے والا ) رکھا ہے اس سے اور اس میں بھی تمہارا یہی ہے تاکہ ہو جائے رسول ( کریم ) گواہ تم پر اور تم گواہ ہو جاؤ لوگوں پر ۔ پس ( اے حق کے علمبردارو ! ) صحیح صحیح ادا کیا کرو نماز اور دیا کرو زکوۃ اور پکڑ لو اللہ تعالیٰ ( کے دامن رحمت ) کو ۔ وہی تمہارا کارساز ہے ۔ پس وہ بہترین کارساز ہے اور بہترین فرمانے والا ہے ۔