طٰسٓمّٓ ﴿۱﴾
طا ۔ سین ۔ میم
The Poets
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ ﴿١﴾
In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
طٰسٓمّٓ ﴿۱﴾
طا ۔ سین ۔ میم
تِلۡکَ اٰیٰتُ الۡکِتٰبِ الۡمُبِیۡنِ ﴿۲﴾
یہ آیتیں ہیں روشن کی ۔
لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفۡسَکَ اَلَّا یَکُوۡنُوۡا مُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۳﴾
۔( اے جان ! ) شاید آپ کر دیں گے اپنے آپ کو اس میں کہ وہ ایمان نہیں لا رہے ۔
اِنۡ نَّشَاۡ نُنَزِّلۡ عَلَیۡہِمۡ مِّنَ السَّمَآءِ اٰیَۃً فَظَلَّتۡ اَعۡنَاقُہُمۡ لَہَا خٰضِعِیۡنَ ﴿۴﴾
اگر ہم چاہیں تو اتاریں ان پر سے کوئی ۔ پس ہو جائیں ان کی گردنیں اس کے آگے جھکی ہوئی ۔
وَمَا یَاۡتِیۡہِمۡ مِّنۡ ذِکۡرٍ مِّنَ الرَّحۡمٰنِ مُحۡدَثٍ اِلَّا کَانُوۡا عَنۡہُ مُعۡرِضِیۡنَ ﴿۵﴾
اور نہیں آیا کرتی ان کے کوئی الرحمن کی سے مگر یہ کہ وہ اس سے پھیر لیتے ہیں ۔
فَقَدۡ کَذَّبُوۡا فَسَیَاۡتِیۡہِمۡ اَنۡۢبٰٓؤُا مَاکَانُوۡا بِہٖ یَسۡتَہۡزِءُوۡنَ ﴿۶﴾
تو بیشک انھوں نے تکذیب کی ۔ سو مل جائے گی انھیں اطلاع اس امر کی جس کے ساتھ وہ استہزاء کیا کرتے تھے ۔
اَوَ لَمۡ یَرَوۡا اِلَی الۡاَرۡضِ کَمۡ اَنۡۢبَتۡنَا فِیۡہَا مِنۡ کُلِّ زَوۡجٍ کَرِیۡمٍ ﴿۷﴾
کیا انھوں نے نہیں دیکھا کی طرف کہ کتنی کثرت سے ہم نے اگائے ہیں اس میں ہر طرح کے مفید پودے ۔
اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً ؕوَ مَاکَانَ اَکۡثَرُ ہُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۸﴾
بیشک اس میں ( انکے لیے قدرت الہی کی ) ہے اور ان سے اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے ۔
وَاِنَّ رَبَّکَ لَہُوَ الۡعَزِیۡزُ الرَّحِیۡمُ ﴿۹﴾٪ 5
اور بیشک آپ کا رب ہی سب پر ( اور ) رحم فرمانے والا ہے ۔
وَاِذۡ نَادٰی رَبُّکَ مُوۡسٰۤی اَنِ ائۡتِ الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿ۙ۱۰﴾
اور کرو جب ندا دی آپ کے رب نے موسیٰ کو ( اور فرمایا ) کہ جاؤ ظالم لوگوں کے ۔
قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ ؕ اَلَا یَتَّقُوۡنَ ﴿۱۱﴾
یعنی قوم فرعون کے ۔ کیا وہ ( قہر الہی سے ) نہیں ڈرتے ۔
قَالَ رَبِّ اِنِّیۡۤ اَخَافُ اَنۡ یُّکَذِّبُوۡنِ ﴿ؕ۱۲﴾
آپ نے عرض کی میرے رب ! میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے جھٹلائیں گے ۔
وَیَضِیۡقُ صَدۡرِیۡ وَلَا یَنۡطَلِقُ لِسَانِیۡ فَاَرۡسِلۡ اِلٰی ہٰرُوۡنَ ﴿۱۳﴾
اور گھٹتا ہے میرا سینہ اور روانی سے نہیں چلتی میری زبان ۔ سو ( ازراہ کرم ) وحی بھیج ہارون کی طرف ۔
وَلَہُمۡ عَلَیَّ ذَنۡۢبٌ فَاَخَافُ اَنۡ یَّقۡتُلُوۡنِ ﴿ۚ۱۴﴾
اور ( تو جانتا ہے کہ ) ان کا میرے ذمہ ایک جرم بھی ہے اس لیے میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے کر ڈالیں گے ۔
قَالَ کَلَّا ۚ فَاذۡہَبَا بِاٰیٰتِنَاۤ اِنَّا مَعَکُمۡ مُّسۡتَمِعُوۡنَ ﴿۱۵﴾
اللہ نے فرمایا ایسا نہیں ہو سکتا ۔ پس تم دونوں ہماری نشانیاں لے کر جاؤ ہم تمہارے ساتھ ہیں ( اور ہر ) سننے والے ہیں ۔
فَاۡتِیَا فِرۡعَوۡنَ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿ۙ۱۶﴾
سو دونوں جاؤ فرعون کے اور اسے کہو ہم فرستادے ہیں رب العالمین کے ۔
اَنۡ اَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ ﴿ؕ۱۷﴾
۔( ہم تمہیں کہتے ہیں ) کہ بھیج دے ہمارے ساتھ ( ہماری قوم ) بنی اسرائیل کو ۔
قَالَ اَلَمۡ نُرَبِّکَ فِیۡنَا وَلِیۡدًا وَّلَبِثۡتَ فِیۡنَا مِنۡ عُمُرِکَ سِنِیۡنَ ﴿ۙ۱۸﴾
فرعون نے ( یہ سن کر ) کہا موسیٰ ! کیا ہم نے تجھے پالا نہیں تھا اپنے یہاں جبکہ تو بچہ تھا اور بسر کیے تو نے ہمارے اپنی عمر کے کئی ۔
وَفَعَلۡتَ فَعۡلَتَکَ الَّتِیۡ فَعَلۡتَ وَاَنۡتَ مِنَ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۱۹﴾
اور تو نے ارتکاب کیا اس فعل کا جس کا تو نے ارتکاب کیا اور تو بڑا فراموش ہے ۔
قَالَ فَعَلۡتُہَاۤ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّآلِّیۡنَ ﴿ؕ۲۰﴾
آپ نے دیا میں نے ارتکاب کیا تھا اس کا اس جبکہ میں ناواقف تھا ۔
فَفَرَرۡتُ مِنۡکُمۡ لَمَّا خِفۡتُکُمۡ فَوَہَبَ لِیۡ رَبِّیۡ حُکۡمًا وَّجَعَلَنِیۡ مِنَ الۡمُرۡسَلِیۡنَ ﴿۲۱﴾
تو میں بھاگ گیا تھا تمہارے ہاں سے ۔ جبکہ میں تم سے ڈرا ۔ پس بخش دے مجھے میرے رب نے ، اور بنا دیا مجھے رسولوں سے ۔
وَتِلۡکَ نِعۡمَۃٌ تَمُنُّہَا عَلَیَّ اَنۡ عَبَّدۡتَّ بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ ﴿ؕ۲۲﴾
اور یہ ہے جس کا تو مجھ پر جتلاتا ہے ۔ حالانکہ تو نے بنا رکھا ہے بنی اسرائیل کو ۔
قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَمَا رَبُّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿ؕ۲۳﴾
فرعون نے پوچھا کیا حقیقت ہے رب العالمین کی ؟ ۔
قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَیۡنَہُمَا ؕ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِیۡنَ ﴿۲۴﴾
آپ نے فرمایا ( رب العالمین وہ ہے جو ) ہے آسمانوں اور کا اور جو کچھ ان کے ہے اگر ہو تم کرنے والے ۔
قَالَ لِمَنۡ حَوۡلَہٗۤ اَلَا تَسۡتَمِعُوۡنَ ﴿۲۵﴾
فرعون نے اپنے اردگرد بیٹھنے والوں سے کہا کیا تم سن نہیں رہے ۔
قَالَ رَبُّکُمۡ وَرَبُّ اٰبَآئِکُمُ الۡاَوَّلِیۡنَ ﴿۲۶﴾
آپ نے فرمایا وہ جو تمہارا بھی ہے اور تمہارے دادا کا بھی ۔
قَالَ اِنَّ رَسُوۡلَکُمُ الَّذِیۡۤ اُرۡسِلَ اِلَیۡکُمۡ لَمَجۡنُوۡنٌ ﴿۲۷﴾
فرعون بولا بلاشبہ تمہارا یہ رسول جو بھیجا گیا ہے تمہاری طرف یہ تو ہے ۔
قَالَ رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ وَمَا بَیۡنَہُمَا ؕ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۲۸﴾
آپ نے ( معاً ) فرمایا جو مشرق و مغرب کا رب ہے اور جو کچھ ان کے ہے ، اگر تم کچھ رکھتے ہو ۔
قَالَ لَئِنِ اتَّخَذۡتَ اِلٰـہًا غَیۡرِیۡ لَاَجۡعَلَنَّکَ مِنَ الۡمَسۡجُوۡنِیۡنَ ﴿۲۹﴾
اس نے ( رعب جماتے ہوئے ) کہا ( رکھو ! ) اگر تم نے میرے سوا کسی کو خدا بنایا تو میں تمہیں ضرور قیدیوں میں کر دوں گا ۔
قَالَ اَوَ لَوۡ جِئۡتُکَ بِشَیۡءٍ مُّبِیۡنٍ ﴿ۚ۳۰﴾
فرمایا اگرچہ میں لے آؤں تیرے ایک روشن چیز ۔
قَالَ فَاۡتِ بِہٖۤ اِنۡ کُنۡتَ مِنَ الصّٰدِقِیۡنَ ﴿۳۱﴾
اس نے کہا پھر کرو اسے اگر تم سچے ہو ۔
فَاَلۡقٰی عَصَاہُ فَاِذَا ہِیَ ثُعۡبَانٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۳۲﴾ۚ ۖ
پس آپ نے ڈالا اپنا عصا تو اسی وہ اژدھا بن گیا ۔
وَّنَزَعَ یَدَہٗ فَاِذَا ہِیَ بَیۡضَآءُ لِلنّٰظِرِیۡنَ ﴿۳۳﴾٪ 6
اور آپ نے باہر نکالا اپنا تو یک لخت وہ سفید ہو گیا دیکھنے والوں کے لیے ۔
قَالَ لِلۡمَلَاِ حَوۡلَہٗۤ اِنَّ ہٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیۡمٌ ﴿ۙ۳۴﴾
۔( یہ دیکھ کر ) فرعون نے اپنے آس بیٹھنے والے درباریوں سے کہا واقعی یہ ماہر جادوگر ہے ۔
یُّرِیۡدُ اَنۡ یُّخۡرِجَکُمۡ مِّنۡ اَرۡضِکُمۡ بِسِحۡرِہٖ ٭ۖ فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴿۳۵﴾
یہ چاہتا ہے کہ نکال دے تمہیں اپنے ملک سے اپنے جادو ( کے زور ) سے ( اب بتاؤ ) تمہاری کیا رائے ہے ؟
قَالُوۡۤا اَرۡجِہۡ وَاَخَاہُ وَابۡعَثۡ فِی الۡمَدَآئِنِ حٰشِرِیۡنَ ﴿ۙ۳۶﴾
بولے دو اسے اور اس کے کو اور بھیج دو شہروں میں ہرکارے ۔
یَاۡتُوۡکَ بِکُلِّ سَحَّارٍ عَلِیۡمٍ ﴿۳۷﴾
تاکہ وہ لے آئیں تیرے ( ملک کے کونہ کونہ سے ) تمام ماہر جادوگر ۔
فَجُمِعَ السَّحَرَۃُ لِمِیۡقَاتِ یَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴿ۙ۳۸﴾
الغرض جمع کر لیے گئے سارے جادوگرمقررہ پر ایک خاص ۔
وَّقِیۡلَ لِلنَّاسِ ہَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَ ﴿ۙ۳۹﴾
اور کہہ دیا گیا لوگوں سے کیا تم ( مقابلہ دیکھنے کے لیے ) اکٹھے ہو گے ؟
لَعَلَّنَا نَتَّبِعُ السَّحَرَۃَ اِنۡ کَانُوۡا ہُمُ الۡغٰلِبِیۡنَ ﴿۴۰﴾
شاید ہم پیروی کرتے رہیں جادوگروں کی اگر وہ ( مقابلہ میں ) آ جائیں ۔
فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَۃُ قَالُوۡا لِفِرۡعَوۡنَ اَئِنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ کُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِیۡنَ ﴿۴۱﴾
جب ہوئے جادوگر تو انھوں نے فرعون سے پوچھا کیا ہمیں کوئی انعام بھی ملے گا اگر ہم ( موسیٰ پر ) آ جائیں ؟
قَالَ نَعَمۡ وَاِنَّکُمۡ اِذًا لَّمِنَ الۡمُقَرَّبِیۡنَ ﴿۴۲﴾
اس نے کہا ہاں ضرور ملے گا اور تم اس میرے مقربوں میں شامل کر لیے جاؤ گے ۔
قَالَ لَہُمۡ مُّوۡسٰۤی اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ ﴿۴۳﴾
موسیٰ نے انھیں فرمایا پھینکو جو تم پھینکنے والے ہو ۔
فَاَلۡقَوۡا حِبَالَہُمۡ وَعِصِیَّہُمۡ وَقَالُوۡا بِعِزَّۃِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّا لَنَحۡنُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴿۴۴﴾
تو انھوں نے پھینک دیں اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں ( میدان میں ) اور ( بڑے وثوق سے ) کہا ناموس فرعون کی ! ہم ہی یقیناً آئیں گے ۔
فَاَلۡقٰی مُوۡسٰی عَصَاہُ فَاِذَا ہِیَ تَلۡقَفُ مَایَاۡفِکُوۡنَ ﴿۴۵﴾ۚ ۖ
پھر پھینکا موسیٰ نے اپنا سونٹا تو وہ یکایک نگلنے لگ گیا جو فریب انھوں نے بنا رکھا تھا ۔
فَاُلۡقِیَ السَّحَرَۃُ سٰجِدِیۡنَ ﴿ۙ۴۶﴾
پس ( یہ معجزہ دیکھ کر ) گر پڑے جادوگر سجدہ کرتے ہوئے ۔
قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿ۙ۴۷﴾
انھوں نے ( برملا ) کہہ دیا ہم ایمان لائے رب العالمین پر ۔
رَبِّ مُوۡسٰی وَہٰرُوۡنَ ﴿۴۸﴾
جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا ۔
قَالَ اٰمَنۡتُمۡ لَہٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَکُمۡ ۚ اِنَّہٗ لَکَبِیۡرُکُمُ الَّذِیۡ عَلَّمَکُمُ السِّحۡرَ ۚ فَلَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ۬ ؕ لَاُقَطِّعَنَّ اَیۡدِیَکُمۡ وَاَرۡجُلَکُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ وَّلَاُوصَلِّبَنَّکُمۡ اَجۡمَعِیۡنَ ﴿ۚ۴۹﴾
فرعون نے ( خفّت مٹانے کے لیے ) کہا تم تو ایمان لا چکے تھے اس پر اس سے کہ میں تمہیں مقابلہ کی دیتا ۔ یہ تو تمہارا بڑا ( گرو ) ہے جس نے تمہیں سحر کا فن سکھایا ہے ۔ ابھی ( اس سازش کا ) تمہیں معلوم ہو جائے گا ۔ میں ضرور کاٹ دوں گا تمہارے اور تمہارے مخالف طرفوں سے اور میں تم سب کو سولی چڑھا دوں گا ۔
قَالُوۡا لَا ضَیۡرَ ۫ اِنَّاۤ اِلٰی رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ ﴿ۚ۵۰﴾
انھوں نے دیا ہمیں اس کی ذرا پروا نہیں ۔ ہم اپنے پروردگار کی طرف لوٹنے والے ہیں ۔
اِنَّا نَطۡمَعُ اَنۡ یَّغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰیٰنَاۤ اَنۡ کُنَّاۤ اَوَّلَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ﴿۵۱﴾ؕ٪ 7
ہمیں یہ ہے کہ بخش دے گا ہمارے لیے ہمارا رب ہماری خطائیں ۔ کیونکہ ہم ( تیری قوم میں سے ) ایمان لانے والے ہیں ۔
وَاَوۡحَیۡنَاۤ اِلٰی مُوۡسٰۤی اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِیۡۤ اِنَّکُمۡ مُّتَّبَعُوۡنَ ﴿۵۲﴾
اور ہم نے وحی کی موسیٰ کی طرف کہ راتوں ( یہاں سے ) میرے بندوں کو لے جاؤ ، یقیناً تمہارا تعاقب کیا جائے گا ۔
فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِی الۡمَدَآئِنِ حٰشِرِیۡنَ ﴿ۚ۵۳﴾
پس بھیجے فرعون نے سارے شہروں میں ہرکارے ۔
اِنَّ ہٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡ ذِمَۃٌ قَلِیۡلُوۡنَ ﴿ۙ۵۴﴾
۔( تاکہ لوگوں کو بتائیں ) یہ لوگ ایک چھوٹی سی ہیں ۔
وَاِنَّہُمۡ لَنَا لَغَآئِظُوۡنَ ﴿ۙ۵۵﴾
اور انھوں نے ہمیں برا فروختہ کر دیا ہے ۔
وَاِنَّا لَجَمِیۡعٌ حٰذِرُوۡنَ ﴿ؕ۵۶﴾
۔( تاہم فکر نہ کرو ) ہم سب ( ان کے متعلق ) بہت محتاط ہیں ۔
فَاَخۡرَجۡنٰہُمۡ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُیُوۡنٍ ﴿ۙ۵۷﴾
سو ہم نے نکالا انھیں ( سبز ) باغوں اور ( بہتے ہوئے ) چشموں
وَّکُنُوۡزٍ وَّمَقَامٍ کَرِیۡمٍ ﴿ۙ۵۸﴾
اور ( بھرپور ) خزانوں اور شاندار محلات سے ۔
کَذٰلِکَ ؕ وَاَوۡرَثۡنٰہَا بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ ﴿ؕ۵۹﴾
ہم نے ایسا ہی کیا ۔ اور ہم نے بنی اسرائیل کو ان تمام چیزوں کا وارث بنا دیا ۔
فَاَتۡبَعُوۡہُمۡ مُّشۡرِقِیۡنَ ﴿۶۰﴾
پس وہ ان کے تعاقب میں نکلے اشراق کے ۔
فَلَمَّا تَرَآءَ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰبُ مُوۡسٰۤی اِنَّا لَمُدۡرَکُوۡنَ ﴿ۚ۶۱﴾
پس جب ایک دوسرے کو دیکھ لیا دونوں گروہوں نے تو موسیٰ کے کہنے لگے ( ہائے ) ہم تو یقیناً پکڑ لیے گئے ۔
قَالَ کَلَّا ۚ اِنَّ مَعِیَ رَبِّیۡ سَیَہۡدِیۡنِ ﴿۶۲﴾
آپ نے فرمایا ہرگز نہیں ۔ بلاشبہ میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور میری رہنمائی فرمائے گا ۔
فَاَوۡحَیۡنَاۤ اِلٰی مُوۡسٰۤی اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاکَ الۡبَحۡرَ ؕ فَانۡفَلَقَ فَکَانَ کُلُّ فِرۡقٍ کَالطَّوۡدِ الۡعَظِیۡمِ ﴿ۚ۶۳﴾
سو ہم نے وحی بھیجی موسیٰ کی طرف کہ ضرب لگاؤ اپنے عصا سے سمندر کو تو سمندر پھٹ گیا اور ہو گیا کا ہر بڑے کی مانند ۔
وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ الۡاٰخَرِیۡنَ ﴿ۚ۶۴﴾
اور ہم نے قریب کر دیا وہاں دوسرے فریق کو ۔
وَاَنۡجَیۡنَا مُوۡسٰی وَمَنۡ مَّعَہٗۤ اَجۡمَعِیۡنَ ﴿ۚ۶۵﴾
اور ہم نے بچا لیا ( ان تند موجوں سے ) موسیٰ ( علیہ السلام ) اور ان کے سب ہمراہیوں کو ۔
ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِیۡنَ ﴿ؕ۶۶﴾
پھر ہم نے غرق کر دیا دوسرے فریق کو ۔
اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً ؕ وَمَا کَانَ اَکۡثَرُہُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۶۷﴾
اس واقعہ میں ( بڑی واضح ) ہے ۔ اور ان میں سے اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں ۔
وَاِنَّ رَبَّکَ لَہُوَ الۡعَزِیۡزُ الرَّحِیۡمُ ﴿۶۸﴾٪ 8
اور بیشک ( اے حبیب ! ) آپ کا رب ہی سب پر رحم فرمانے والا ہے ۔
وَاتۡلُ عَلَیۡہِمۡ نَبَاَ اِبۡرٰہِیۡمَ ﴿ۘ۶۹﴾
اور آپ فرمائیے ان کے ابراہیم کا قصہ ۔
اِذۡ قَالَ لِاَبِیۡہِ وَقَوۡمِہٖ مَاتَعۡبُدُوۡنَ ﴿۷۰﴾
جب آپ نے اپنے سے اور اپنی قوم سے کہا کہ تم کس کی پرستش کرتے ہو ۔
قَالُوۡا نَعۡبُدُ اَصۡنَامًا فَنَظَلُّ لَہَا عٰکِفِیۡنَ ﴿۷۱﴾
انھوں نے کہا ہم تو پوجتے ہیں بتوں کو اور ہم انہی کی پوجا میں ہر منہمک رہتے ہیں ۔
قَالَ ہَلۡ یَسۡمَعُوۡنَکُمۡ اِذۡ تَدۡعُوۡنَ ﴿ۙ۷۲﴾
آپ نے پوچھا ( بھلا یہ بتاؤ ) کیا وہ سنتے ہیں تمہاری جب تم انھیں پکارتے ہو ۔
اَوۡ یَنۡفَعُوۡنَکُمۡ اَوۡ یَضُرُّوۡنَ ﴿۷۳﴾
یا وہ تمہیں ( کچھ ) نفع پہنچا سکتے ہیں یا ضرر پہنچا سکتے ہیں ۔
قَالُوۡا بَلۡ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا کَذٰلِکَ یَفۡعَلُوۡنَ ﴿۷۴﴾
انھوں نے ( لا ہو کر ) کہا بلکہ ہم نے تو پایا اپنے باپوں کو کہ وہ یونہی کیا کرتے تھے ۔
قَالَ اَفَرَءَیۡتُمۡ مَّا کُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَ ﴿ۙ۷۵﴾
آپ نے فرمایا کیا تم نے دیکھ لیا ان ( کی بے بسی ) کو کی تم پرستش کیا کرتے ہو ۔
اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُکُمُ الۡاَقۡدَمُوۡنَ ﴿۷۶﴾۫ ۖ
تم اور تمہارے گزشتہ آباؤاجداد ۔
فَاِنَّہُمۡ عَدُوٌّ لِّیۡۤ اِلَّا رَبَّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿ۙ۷۷﴾
پس وہ سب میرے ہیں سوائے رب العالمین کے ۔
الَّذِیۡ خَلَقَنِیۡ فَہُوَ یَہۡدِیۡنِ ﴿ۙ۷۸﴾
جس نے مجھے فرمایا پھر ( ہر پر ) وہ میری رہنمائی کرتا ہے ۔
وَالَّذِیۡ ہُوَ یُطۡعِمُنِیۡ وَیَسۡقِیۡنِ ﴿ۙ۷۹﴾
اور وہ جو مجھے کھلاتا بھی ہے اور مجھے پلاتا بھی ہے ۔
وَاِذَا مَرِضۡتُ فَہُوَ یَشۡفِیۡنِ ﴿۪ۙ۸۰﴾
اور جب میں ہوتا ہوں تو وہی مجھے صحت بخشتا ہے ۔
وَالَّذِیۡ یُمِیۡتُنِیۡ ثُمَّ یُحۡیِیۡنِ ﴿ۙ۸۱﴾
اور وہ جو مجھے مارے گا ، پھر مجھے کرے گا ۔
وَالَّذِیۡۤ اَطۡمَعُ اَنۡ یَّغۡفِرَ لِیۡ خَطِیۡٓئَتِیۡ یَوۡمَ الدِّیۡنِ ﴿ؕ۸۲﴾
اور جس سے میں رکھتا ہوں کہ وہ بخش دے گا میرے لیے میری خطا کو روز جزا کو ۔
رَبِّ ہَبۡ لِیۡ حُکۡمًا وَّاَلۡحِقۡنِیۡ بِالصّٰلِحِیۡنَ ﴿ۙ۸۳﴾
اے میرے رب ! عطا فرما مجھے علم و عمل ( میں کمال ) اور ملا دے مجھے بندوں کے ساتھ ۔
وَاجۡعَلۡ لِّیۡ لِسَانَ صِدۡقٍ فِی الۡاٰخِرِیۡنَ ﴿ۙ۸۴﴾
اور بنا دے میرے لیے سچی ناموری آئندہ آنے والوں میں ۔
وَاجۡعَلۡنِیۡ مِنۡ وَّرَثَۃِ جَنَّۃِ النَّعِیۡمِ ﴿ۙ۸۵﴾
اور بنا دے مجھے ان لوگوں سے جو والی کے وارث ہیں ۔
وَاغۡفِرۡ لِاَبِیۡۤ اِنَّہٗ کَانَ مِنَ الضَّآلِّیۡنَ ﴿ۙ۸۶﴾
اور بخش دے میرے کو وہ گمراہ لوگوں میں سے ہے ۔
وَلَا تُخۡزِنِیۡ یَوۡمَ یُبۡعَثُوۡنَ ﴿ۙ۸۷﴾
اور نہ شرمسار کرنا مجھے جس روز لوگ قبروں سے اٹھائے جائیں گے ۔
یَوۡمَ لَا یَنۡفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوۡنَ ﴿ۙ۸۸﴾
جس نہ آئے گا اور نہ بیٹے ۔
اِلَّا مَنۡ اَتَی اللّٰہَ بِقَلۡبٍ سَلِیۡمٍ ﴿ؕ۸۹﴾
مگر وہ شخص جو لے آیا اللہ تعالیٰ کے حضور قلب سلیم
وَاُزۡلِفَتِ الۡجَنَّۃُ لِلۡمُتَّقِیۡنَ ﴿ۙ۹۰﴾
اور قریب کر دی جائے گی پرہیزگاروں کے لیے ۔
وَبُرِّزَتِ الۡجَحِیۡمُ لِلۡغٰوِیۡنَ ﴿ۙ۹۱﴾
اور کر دی جائے گی بہکنے والوں کے لیے ۔
وَقِیۡلَ لَہُمۡ اَیۡنَمَا کُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَ ﴿ۙ۹۲﴾
اور کہا جائے گا انھیں کہ کہاں ہیں وہ کی تم پوجا کرتے تھے ۔
مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ ؕ ہَلۡ یَنۡصُرُوۡنَکُمۡ اَوۡ یَنۡتَصِرُوۡنَ ﴿ؕ۹۳﴾
اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر ۔ کیا وہ تمہاری ( کچھ ) کر سکتے ہیں یا انتقام لے سکتے ہیں ۔
فَکُبۡکِبُوۡا فِیۡہَا ہُمۡ وَالۡغَاوٗنَ ﴿ۙ۹۴﴾
پس اوندھے پھینک دیے جائیں گے اس میں وہ اور دوسرے گمراہ ۔
وَجُنُوۡدُ اِبۡلِیۡسَ اَجۡمَعُوۡنَ ﴿ؕ۹۵﴾
اور ابلیس کی ساری فوجیں ۔
قَالُوۡا وَہُمۡ فِیۡہَا یَخۡتَصِمُوۡنَ ﴿ۙ۹۶﴾
وہ کہیں گے اس حال میں کہ وہ میں باہم جھگڑ رہے ہوں گے ۔
تَاللّٰہِ اِنۡ کُنَّا لَفِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿ۙ۹۷﴾
خدا کی ! ہم کھلی گمراہی میں گرفتار تھے ۔
اِذۡ نُسَوِّیۡکُمۡ بِرَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۹۸﴾
جب ہم تمہیں رب العالمین کے بنائے ہوئے تھے ۔
وَمَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴿۹۹﴾
اور نہیں گمراہ کیا ہمیں مگر ( ان نامی ) مجرموں نے ۔
فَمَا لَنَا مِنۡ شَافِعِیۡنَ ﴿۱۰۰﴾ۙ
تو ( آج ) نہیں ہے ہمارا کوئی سفارشی ۔
وَلَا صَدِیۡقٍ حَمِیۡمٍ ﴿۱۰۱﴾
اور نہ کوئی خوار ۔
فَلَوۡ اَنَّ لَنَا کَرَّۃً فَنَکُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۰۲﴾
پس اگر ہمارے میں ہوتا ( میں ) واپس جانا تو ہم اہل ایمان سے ہوتے ۔
اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً ؕ وَمَا کَانَ اَکۡثَرُہُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۰۳﴾
بیشک اس واقعہ میں عبرت کی ہے اور نہیں تھے ان میں سے اکثر لوگ ایمان لانے والے ۔
وَاِنَّ رَبَّکَ لَہُوَ الۡعَزِیۡزُ الرَّحِیۡمُ ﴿۱۰۴﴾٪ 9
اور ( اے حبیب ! ) بیشک آپ کا رب ہی سب پر ، رحم فرمانے والا ہے ۔
کَذَّبَتۡ قَوۡمُ نُوۡحِ ۣ الۡمُرۡسَلِیۡنَ ﴿۱۰۵﴾ۚۖ
جھٹلایا قوم نوح نے ( اللہ کے ) رسولوں کو ۔
اِذۡ قَالَ لَہُمۡ اَخُوۡہُمۡ نُوۡحٌ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴿۱۰۶﴾ۚ
جب کہا انھیں ان کے نوح نے کیا تم ڈرتے نہیں ہو ۔
اِنِّیۡ لَکُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِیۡنٌ ﴿۱۰۷﴾ۙ
بیشک میں تمہارے لیے رسول امین ہوں ۔
فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاَطِیۡعُوۡنِ ﴿۱۰۸﴾ۚ
پس اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری فرمانبرداری کرو ۔
وَمَاۤ اَسۡئَلُکُمۡ عَلَیۡہِ مِنۡ اَجۡرٍ ۚ اِنۡ اَجۡرِیَ اِلَّا عَلٰی رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۰۹﴾ۚ
اور میں نہیں طلب کرتا تم سے اس ( تبلیغ ) پر کوئی اجرت ۔ میرا اجر تو رب العالمین کے ذمہ ہے ۔
فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاَطِیۡعُوۡنِ ﴿۱۱۰﴾ؕ
پس تم ڈرو اللہ سے اور میری پیروی کرو ۔
قَالُوۡۤا اَنُؤۡمِنُ لَکَ وَاتَّبَعَکَ الۡاَرۡذَلُوۡنَ ﴿۱۱۱﴾ؕ
انھوں نے کہا کیا ہم ( قوم کے رئیس ) ایمان لائیں تجھ پر حالانکہ تمہاری پیروی صرف گھٹیا لوگ کر رہے ہیں ۔
قَالَ وَمَا عِلۡمِیۡ بِمَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۱۲﴾ۚ
آپ نے فرمایا مجھے کیا کہ وہ کس نیت سے ایمان لائے ہیں ۔
اِنۡ حِسَابُہُمۡ اِلَّا عَلٰی رَبِّیۡ لَوۡ تَشۡعُرُوۡنَ ﴿۱۱۳﴾ۚ
ان کا حساب تو میرے رب کے ذمہ ہے ۔ اگر تمہیں ( حقیقت کا ) شعور ہے ۔
وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۱۴﴾ۚ
اور نہیں ہوں میں بھگانے والا ( غریب و مسکین ) مومنوں کو ۔
اِنۡ اَنَا اِلَّا نَذِیۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۱۱۵﴾ؕ
نہیں ہوں میں مگر ( سے ) صاف ڈرانے والا ۔
قَالُوۡا لَئِنۡ لَّمۡ تَنۡتَہِ یٰنُوۡحُ لَتَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡمَرۡجُوۡمِیۡنَ ﴿۱۱۶﴾ؕ
ان ( مغروروں ) نے کہا اے نوح ! اگر تم نہ آئے ( تو رکھو ) تمہیں ضرور سنگسار کر دیا جائے گا ۔
قَالَ رَبِّ اِنَّ قَوۡمِیۡ کَذَّبُوۡنِ ﴿۱۱۷﴾ۚ ۖ ؒ
آپ نے عرض کی میرے ! میری قوم نے تو مجھے جھٹلا دیا ہے ۔
فَافۡتَحۡ بَیۡنِیۡ وَبَیۡنَہُمۡ فَتۡحًا وَّنَجِّنِیۡ وَمَنۡ مَّعِیَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۱۸﴾
پس تو فرما دے میرے اور ان کے جو قطعی ہو اور ( اپنے سے ) دے مجھے اور جو میرے ساتھ ہیں اہل ایمان سے ۔
فَاَنۡجَیۡنٰہُ وَمَنۡ مَّعَہٗ فِی الۡفُلۡکِ الۡمَشۡحُوۡنِ ﴿۱۱۹﴾ۚ
پس ہم نے دی انھیں اور جو آپ کے ہمراہ اس میں تھے جو کھچا کھچ بھری ہوئی تھی ۔
ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا بَعۡدُ الۡبٰقِیۡنَ ﴿۱۲۰﴾ؕ
پھر ہم نے غرق کر دیا اس کے بعد رہ جانے والوں کو ۔
اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً ؕ وَمَا کَانَ اَکۡثَرُہُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۲۱﴾
یقیناً اس واقعہ میں بھی ( عبرت کی ) ہے اور نہیں تھے ان میں سے اکثر لوگ ایمان لانے والے ۔
وَاِنَّ رَبَّکَ لَہُوَ الۡعَزِیۡزُ الرَّحِیۡمُ ﴿۱۲۲﴾٪ 10
اور بیشک آپ کا رب ہی سب پر ، رحم فرمانے والا ہے ۔
کَذَّبَتۡ عَادُ ۨ الۡمُرۡسَلِیۡنَ ﴿۱۲۳﴾ۚۖ
جھٹلایا عاد نے ( اپنے ) رسولوں کو ۔
اِذۡ قَالَ لَہُمۡ اَخُوۡہُمۡ ہُوۡدٌ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴿۱۲۴﴾ۚ
جب فرمایا انھیں ان کے ہود نے کیا تم ( خدا سے ) نہیں ڈرتے ۔
اِنِّیۡ لَکُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِیۡنٌ ﴿۱۲۵﴾ۙ
بیشک میں تمہارے لیے رسول امین ہوں ۔
فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاَطِیۡعُوۡنِ ﴿۱۲۶﴾ۚ
پس اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری کرو ۔
وَمَاۤ اَسۡئَلُکُمۡ عَلَیۡہِ مِنۡ اَجۡرٍ ۚ اِنۡ اَجۡرِیَ اِلَّا عَلٰی رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۲۷﴾ؕ
اور میں نہیں طلب کرتا تم سے اس ( خدمت ) کا کوئی صلہ ۔ میرا اجر تو اس پر ہے جو سارے جہانوں کا پالنے والا ہے ۔
اَتَبۡنُوۡنَ بِکُلِّ رِیۡعٍ اٰیَۃً تَعۡبَثُوۡنَ ﴿۱۲۸﴾
کیا تم تعمیر کرتے ہو ہر اونچے مقام پر ایک گار بے ۔
وَتَتَّخِذُوۡنَ مَصَانِعَ لَعَلَّکُمۡ تَخۡلُدُوۡنَ ﴿۱۲۹﴾ۚ
اور اپنی رہائش کے لیے بناتے ہو محلات اس پر کہ تم رہو گے ۔
وَاِذَا بَطَشۡتُمۡ بَطَشۡتُمۡ جَبَّارِیۡنَ ﴿۱۳۰﴾ۚ
اور جب تم کسی پر کرتے ہو تو بڑے ظالم اور بے درد بن کر کرتے ہو ۔
فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاَطِیۡعُوۡنِ ﴿۱۳۱﴾ۚ
پس ( اب تو ) اللہ سے ڈرو اور میری کرو ۔
وَاتَّقُوا الَّذِیۡۤ اَمَدَّکُمۡ بِمَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۳۲﴾ۚ
اور ڈرو اس ذات سے جس نے کی ہے تمہاری ان چیزوں سے کو تم جانتے ہو ۔
اَمَدَّکُمۡ بِاَنۡعَامٍ وَّبَنِیۡنَ ﴿۱۳۳﴾ۚ ۙ
۔( یعنی ) اس نے فرمائی ہے تمہاری مویشیوں اور فرزندوں سے ۔
وَجَنّٰتٍ وَّعُیُوۡنٍ ﴿۱۳۴﴾ۚ
اور باغات اور چشموں سے ۔
اِنِّیۡۤ اَخَافُ عَلَیۡکُمۡ عَذَابَ یَوۡمٍ عَظِیۡمٍ ﴿۱۳۵﴾ؕ
میں ڈرتا ہوں کہ تم پر بڑے کا نہ آ جائے ۔
قَالُوۡا سَوَآءٌ عَلَیۡنَاۤ اَوَ عَظۡتَ اَمۡ لَمۡ تَکُنۡ مِّنَ الۡوٰعِظِیۡنَ ﴿۱۳۶﴾ۙ
انھوں نے کہا یکساں ہے ہمارے لیے خواہ آپ کریں یا نہ ہوں آپ کرنے والوں سے ۔
اِنۡ ہٰذَاۤ اِلَّا خُلُقُ الۡاَوَّلِیۡنَ ﴿۱۳۷﴾ۙ
نہیں ہے یہ ( محلات کا شوق ) مگر ہمارے اسلاف کا دستور ۔
وَمَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِیۡنَ ﴿۱۳۸﴾ۚ
۔( آپ فکر نہ کریں ) ہمیں نہیں دیا جائے گا ۔
فَکَذَّبُوۡہُ فَاَہۡلَکۡنٰہُمۡ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً ؕ وَمَا کَانَ اَکۡثَرُہُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۳۹﴾
پس انھوں نے آپ کو جھٹلایا اس لیے ہم نے انھیں کر دیا بیشک اس میں بھی ( عبرت کی ) ہے اور نہیں تھے ان میں سے اکثر لوگ ایمان لانے والے ۔
وَاِنَّ رَبَّکَ لَہُوَ الۡعَزِیۡزُ الرَّحِیۡمُ ﴿۱۴۰﴾٪ 11
اور بیشک آپ کا رب ہی سب پر رحم فرمانے والا ہے ۔
کَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ الۡمُرۡسَلِیۡنَ ﴿۱۴۱﴾ۚۖ
جھٹلایا قوم ثمود نے رسولوں کو ۔
اِذۡ قَالَ لَہُمۡ اَخُوۡہُمۡ صٰلِحٌ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴿۱۴۲﴾ۚ
جب کہا انھیں ان کے صالح نے کیا تم ( قہر الہیٰ سے ) نہیں ڈرتے ۔
اِنِّیۡ لَکُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِیۡنٌ ﴿۱۴۳﴾ۙ
میں تمہارے لیے رسول امین ہوں ۔
فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاَطِیۡعُوۡنِ ﴿۱۴۴﴾ۚ
سو ڈرو اللہ تعالیٰ سے اور میری پیروی کرو ۔
وَمَاۤ اَسۡئَلُکُمۡ عَلَیۡہِ مِنۡ اَجۡرٍ ۚ اِنۡ اَجۡرِیَ اِلَّا عَلٰی رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۴۵﴾ؕ
اور میں نہیں طلب کرتا تم سے اس پر کوئی معاوضہ ۔ میرا معاوضہ تو رب العالمین کے ذمہ ہے ۔
اَتُتۡرَکُوۡنَ فِیۡ مَاہٰہُنَاۤ اٰمِنِیۡنَ ﴿۱۴۶﴾ۙ
کیا تمہیں رہنے دیا جائے گا اس ( عیش و طرب ) میں جس میں تم یہاں ہو امن سے ۔
فِیۡ جَنّٰتٍ وَّعُیُوۡنٍ ﴿۱۴۷﴾ۙ
ان باغات میں اور چشموں میں ۔
وَّزُرُوۡعٍ وَّنَخۡلٍ طَلۡعُہَا ہَضِیۡمٌ ﴿۱۴۸﴾ۚ
اور ( شاداب ) کھیتوں میں اور کے درختوں میں جنکے شگوفے بڑے و نازک ہیں ۔
وَتَنۡحِتُوۡنَ مِنَ الۡجِبَالِ بُیُوۡتًا فٰرِہِیۡنَ ﴿۱۴۹﴾ۚ
اور تراشتے رہو گے پہاڑوں میں ، ماہر ( سنگتراش ) بنتے ہوئے ۔
فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاَطِیۡعُوۡنِ ﴿۱۵۰﴾ۚ
پس ڈرو اللہ تعالیٰ سے اور میری اتباع کرو ۔
وَلَا تُطِیۡعُوۡۤا اَمۡرَ الۡمُسۡرِفِیۡنَ ﴿۱۵۱﴾ۙ
اور نہ پیروی کرو سے بڑھنے والوں کے کی ۔
الَّذِیۡنَ یُفۡسِدُوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ وَلَا یُصۡلِحُوۡنَ ﴿۱۵۲﴾
جو برپا کرتے رہتے ہیں میں اور اصلاح کی نہیں کرتے ۔
قَالُوۡۤا اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مِنَ الۡمُسَحَّرِیۡنَ ﴿۱۵۳﴾ۚ
جواب ملا ( اے صالح ! ) تم تو ان لوگوں میں سے ہو پر جادو کر دیا گیا ہے ۔
مَاۤ اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثۡلُنَا ۚ ۖ فَاۡتِ بِاٰیَۃٍ اِنۡ کُنۡتَ مِنَ الصّٰدِقِیۡنَ ﴿۱۵۴﴾
نہیں ہو تم مگر ایک ہماری مانند ورنہ لاؤ کوئی معجزہ اگر تم راست بازوں میں سے ہو ۔
قَالَ ہٰذِہٖ نَاقَۃٌ لَّہَا شِرۡبٌ وَّلَکُمۡ شِرۡبُ یَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴿۱۵۵﴾ۚ
فرمایا یہ ایک اونٹنی ہے ۔ ایک اس کے پینے کی باری ہے اور ایک تمہاری باری ہے ۔
وَلَا تَمَسُّوۡہَا بِسُوۡٓءٍ فَیَاۡخُذَکُمۡ عَذَابُ یَوۡمٍ عَظِیۡمٍ ﴿۱۵۶﴾
اور نہ پہنچانا اسے کوئی اذیت ورنہ آ لے گا تمہیں بڑے کا ۔
فَعَقَرُوۡہَا فَاَصۡبَحُوۡا نٰدِمِیۡنَ ﴿۱۵۷﴾ۙ
ان ( بدبختوں ) نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں پھر ہو گئے ندامت ( و ) کرنے والے ۔
فَاَخَذَہُمُ الۡعَذَابُ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً ؕ وَمَا کَانَ اَکۡثَرُہُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۵۸﴾
پس آ لیا انھیں نے بیشک اس واقعہ میں بھی ( عبرت کی ) ہے اور نہیں تھے ان میں سے اکثر لوگ ایمان لانے والے ۔
وَاِنَّ رَبَّکَ لَہُوَ الۡعَزِیۡزُ الرَّحِیۡمُ ﴿۱۵۹﴾٪ 12
اور بیشک آپ کا رب ہی عزیز رحیم ہے ۔
کَذَّبَتۡ قَوۡمُ لُوۡطِ ۣ الۡمُرۡسَلِیۡنَ ﴿۱۶۰﴾ۚۖ
جھٹلایا قوم لوط نے اپنے رسولوں کو ۔
اِذۡ قَالَ لَہُمۡ اَخُوۡہُمۡ لُوۡطٌ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴿۱۶۱﴾ۚ
جب کہا ان سے ان کے لوط نے ، کیا تم ( قہر الہٰی ) سے نہیں ڈرتے ؟
اِنِّیۡ لَکُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِیۡنٌ ﴿۱۶۲﴾ۙ
بیشک میں تمہارے لیے رسول امین ہوں ۔
فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاَطِیۡعُوۡنِ ﴿۱۶۳﴾ۚ
پس ڈرو اللہ تعالیٰ سے اور میری کرو ۔
وَمَاۤ اَسۡئَلُکُمۡ عَلَیۡہِ مِنۡ اَجۡرٍ ۚ اِنۡ اَجۡرِیَ اِلَّا عَلٰی رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۶۴﴾ؕ
اور میں نہیں مانگتا تم سے اس ( تبلیغ ) پر کوئی معاوضہ ۔ میرا معاوضہ تو اس کے ذمہ ہے جو رب العالمین ہے ۔
اَتَاۡتُوۡنَ الذُّکۡرَانَ مِنَ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۶۵﴾ۙ
کیا تم بد فعلی کے لیے جاتے ہو مردوں کے ساری سے ۔
وَتَذَرُوۡنَ مَاخَلَقَ لَکُمۡ رَبُّکُمۡ مِّنۡ اَزۡوَاجِکُمۡ ؕ بَلۡ اَنۡتُمۡ قَوۡمٌ عٰدُوۡنَ ﴿۱۶۶﴾
اور چھوڑ دیتے ہو جو کی ہیں تمہارے لیے تمہارے رب نے تمہاری بیویاں ۔ بلکہ تم سے بڑھنے والے لوگ ہو ۔
قَالُوۡا لَئِنۡ لَّمۡ تَنۡتَہِ یٰلُوۡطُ لَتَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُخۡرَجِیۡنَ ﴿۱۶۷﴾
وہ ( سے ) کہنے لگے ( خاموش ! ) اے لوط ! اگر تم اس سے نہ آئے تو تمہیں ضرور ملک بدر کر دیا جائے گا ۔
قَالَ اِنِّیۡ لِعَمَلِکُمۡ مِّنَ الۡقَالِیۡنَ ﴿۱۶۸﴾ؕ
آپ نے فرمایا ( سن لو ) میں تمہارے اس ( گندے ) فعل سے ہوں ۔
رَبِّ نَجِّنِیۡ وَاَہۡلِیۡ مِمَّا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۶۹﴾
میرے ! دے مجھے اور میرے اہل و عیال کو اس ( کی شامت ) سے جو وہ کرتے ہیں ۔
فَنَجَّیۡنٰہُ وَاَہۡلَہٗۤ اَجۡمَعِیۡنَ ﴿۱۷۰﴾ۙ
سو ہم نے دے دی اسے اور اس کے سب اہل کو ۔
اِلَّا عَجُوۡزًا فِی الۡغٰبِرِیۡنَ ﴿۱۷۱﴾ۚ
سوائے ایک بڑھیا کہ جو رہنے والوں میں تھی ۔
ثُمَّ دَمَّرۡنَا الۡاٰخَرِیۡنَ ﴿۱۷۲﴾ۚ
پھر ہم نے و مٹا دیا دوسروں کا ۔
وَاَمۡطَرۡنَا عَلَیۡہِمۡ مَّطَرًا ۚ فَسَآءَ مَطَرُ الۡمُنۡذَرِیۡنَ ﴿۱۷۳﴾
اور ہم نے برسائی ان پر ( پتھروں کی ) پس بڑی تباہ کن تھی وہ جو برسی ان پر جنھیں ڈرایا گیا ( اور وہ نہ آئے ) ۔
اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً ؕ وَمَا کَانَ اَکۡثَرُہُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۷۴﴾
بیشک اس میں بھی ( عبرت کی ) ہے اور نہیں تھے ان میں سے اکثر لوگ ایمان لانے والے ۔
وَاِنَّ رَبَّکَ لَہُوَ الۡعَزِیۡزُ الرَّحِیۡمُ ﴿۱۷۵﴾٪ 13
اور بلاشبہ ( اے محبوب ! ) آپ کا پروردگار ہی عزیز رحیم ہے ۔
کَذَّبَ اَصۡحٰبُ لۡئَـیۡکَۃِ الۡمُرۡسَلِیۡنَ ﴿۱۷۶﴾ۚۖ
جھٹلایا اہل ایکہ نے بھی ( اپنے ) رسولوں کو ۔
اِذۡ قَالَ لَہُمۡ شُعَیۡبٌ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴿۱۷۷﴾ۚ
جب فرمایا انھیں شعیب ( علیہ السلام ) نے کیا تم ( قہر الہٰی سے ) نہیں ڈرتے ۔
اِنِّیۡ لَکُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِیۡنٌ ﴿۱۷۸﴾ۙ
بیشک میں تمہارے لیے رسول امین ہوں ۔
فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاَطِیۡعُوۡنِ ﴿۱۷۹﴾ۚ
پس ڈرو اللہ تعالیٰ سے اور میری پیروی کرو ۔
وَمَاۤ اَسۡئَلُکُمۡ عَلَیۡہِ مِنۡ اَجۡرٍ ۚ اِنۡ اَجۡرِیَ اِلَّا عَلٰی رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۸۰﴾ؕ
اور میں نہیں طلب کرتا تم سے اس پر کوئی اجر ۔ میرا اجر تو اس کے ذمہ ہے جو سارے جہانوں کو پالنے والا ہے ۔
اَوۡفُوا الۡکَیۡلَ وَلَا تَکُوۡنُوۡا مِنَ الۡمُخۡسِرِیۡنَ ﴿۱۸۱﴾ۚ
پورا کیا کرو ناپ اور نہ ہو جاؤ ناپنے والوں سے ۔
وَزِنُوۡا بِالۡقِسۡطَاسِ الۡمُسۡتَقِیۡمِ ﴿۱۸۲﴾ۚ
اور وزن کیا کرو صحیح سے ۔
وَلَا تَبۡخَسُوا النَّاسَ اَشۡیَآءَہُمۡ وَلَا تَعۡثَوۡا فِی الۡاَرۡضِ مُفۡسِدِیۡنَ ﴿۱۸۳﴾ۚ
اور نہ دیا کرو لوگوں کو ان کی چیزیں ، اور نہ پھرا کرو میں برپا کرتے ہوئے ۔
وَاتَّقُوا الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ وَالۡجِبِلَّۃَ الۡاَوَّلِیۡنَ ﴿۱۸۴﴾ؕ
اور ڈرو اس سے جس نے فرمایا تمہیں اور ( تم سے ) پہلی کو ۔
قَالُوۡۤا اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مِنَ الۡمُسَحَّرِیۡنَ ﴿۱۸۵﴾ۙ
انھوں نے ( جھلّا کر ) کہا تم تو ان لوگوں میں سے ہو پر جادو کر دیا گیا ہے ۔
وَمَاۤ اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثۡلُنَا وَاِنۡ نَّظُنُّکَ لَمِنَ الۡکٰذِبِیۡنَ ﴿۱۸۶﴾ۚ
اور نہیں ہو تم مگر ایک بشر ہماری مانند اور ہم تو تمہارے متعلق یہ خیال کر رہے ہیں کہ تم جھوٹوں میں سے ہو ( ہم تمہاری نہیں مانتے ) ۔
فَاَسۡقِطۡ عَلَیۡنَا کِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ اِنۡ کُنۡتَ مِنَ الصّٰدِقِیۡنَ ﴿۱۸۷﴾ؕ
لو اب گرا دو ہم پر کا کوئی اگر تم راست بازوں میں سے ہو ۔
قَالَ رَبِّیۡۤ اَعۡلَمُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۸۸﴾
آپ نے فرمایا میرا رب خوب جانتا ہے جو تم کر رہے ہو ۔
فَکَذَّبُوۡہُ فَاَخَذَہُمۡ عَذَابُ یَوۡمِ الظُّلَّۃِ ؕ اِنَّہٗ کَانَ عَذَابَ یَوۡمٍ عَظِیۡمٍ ﴿۱۸۹﴾
سو انھوں نے جھٹلایا شعیب ( علیہ السلام ) کو تو پکڑ لیا انھیں چھتری والے کے نے بیشک یہ بڑے کا تھا ۔
اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً ؕ وَمَا کَانَ اَکۡثَرُہُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۹۰﴾
بیشک اس میں بھی ( عبرت ) کی ہے اور نہیں تھے ان میں سے اکثر لوگ ایمان لانے والے ۔
وَاِنَّ رَبَّکَ لَہُوَ الۡعَزِیۡزُ الرَّحِیۡمُ ﴿۱۹۱﴾٪ 14
اور یقیناً آپکا رب ہی سب پر رحم فرمانے والا ہے ۔
وَاِنَّہٗ لَتَنۡزِیۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۹۲﴾ؕ
اور بلاشبہ یہ رب العالمین کی اتاری ہوئی ہے ۔
نَزَلَ بِہِ الرُّوۡحُ الۡاَمِیۡنُ ﴿۱۹۳﴾ۙ
اترا ہے اسے لے کر روح الامین ( یعنی جبرائیل ( علیہ السلام ) ۔
عَلٰی قَلۡبِکَ لِتَکُوۡنَ مِنَ الۡمُنۡذِرِیۡنَ ﴿۱۹۴﴾
آپکے قلب ( منیر ) پر تاکہ بن جائیں آپ ( لوگوں کو ) ڈرانے والوں سے ۔
بِلِسَانٍ عَرَبِیٍّ مُّبِیۡنٍ ﴿۱۹۵﴾ؕ
یہ ایسی عربی زبان میں ہے جو بالکل واضح ہے ۔
وَاِنَّہٗ لَفِیۡ زُبُرِ الۡاَوَّلِیۡنَ ﴿۱۹۶﴾
اور اس کا ( ذکر خیر ) لوگوں کی کتابوں میں بھی ہے ۔
اَوَ لَمۡ یَکُنۡ لَّہُمۡ اٰیَۃً اَنۡ یَّعۡلَمَہٗ عُلَمٰٓؤُا بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ ﴿۱۹۷﴾ؕ
کیا نہیں تھی ان ( مشرکین مکہ ) کے لیے آپ کی سچائی کی یہ کہ جانتے ہیں آپ کو بنی اسرائیل کے علماء ۔
وَلَوۡ نَزَّلۡنٰہُ عَلٰی بَعۡضِ الۡاَعۡجَمِیۡنَ ﴿۱۹۸﴾ۙ
اور اگر ہم اتارتے کو کسی غیر عربی پر ۔
فَقَرَاَہٗ عَلَیۡہِمۡ مَّا کَانُوۡا بِہٖ مُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۹۹﴾ؕ
پھر وہ ان کو پڑھ کر سناتا تب بھی وہ ایمان لانے والے نہیں تھے ۔
کَذٰلِکَ سَلَکۡنٰہُ فِیۡ قُلُوۡبِ الۡمُجۡرِمِیۡنَ ﴿۲۰۰﴾ؕ
یونہی ہم نے کر دی ہے کی عادت مجرموں کے دلوں میں ۔
لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِہٖ حَتّٰی یَرَوُا الۡعَذَابَ الۡاَلِیۡمَ ﴿۲۰۱﴾ۙ
وہ ایمان نہیں لائیں گے اس پر جب تک دیکھ نہ لیں دردناک کو ۔
فَیَاۡتِیَہُمۡ بَغۡتَۃً وَّہُمۡ لَا یَشۡعُرُوۡنَ ﴿۲۰۲﴾ۙ
سو وہ آئے گا ان پر اور انھیں اس ( کی آمد ) کا احساس ہی نہ ہو گا ۔
فَیَقُوۡلُوۡا ہَلۡ نَحۡنُ مُنۡظَرُوۡنَ ﴿۲۰۳﴾ؕ
تب ( بصد حسرت ) کہیں گے کیا ہمیں مزید ملے گی ۔
اَفَبِعَذَابِنَا یَسۡتَعۡجِلُوۡنَ ﴿۲۰۴﴾
کیا وہ اب ہمارے کے لیے مچا رہے ہیں ۔
اَفَرَءَیۡتَ اِنۡ مَّتَّعۡنٰہُمۡ سِنِیۡنَ ﴿۲۰۵﴾ۙ
کیا تم نے کچھ کیا اگر ہم لطف اندوز ہونے دیں انہیں چند ۔
ثُمَّ جَآءَہُمۡ مَّا کَانُوۡا یُوۡعَدُوۡنَ ﴿۲۰۶﴾ۙ
پھر ( یہ عرصہ گزرنے کے بعد ) آئے ان پر وہ جس سے انھیں ڈرایا جاتا تھا ۔
مَاۤ اَغۡنٰی عَنۡہُمۡ مَّا کَانُوۡا یُمَتَّعُوۡنَ ﴿۲۰۷﴾ؕ
تو کیا نفع دیں گے انھیں ( اس ) وہ ( ساز و ) سے وہ لطف اندوز ہوتے رہتے تھے ۔
وَمَاۤ اَہۡلَکۡنَا مِنۡ قَرۡیَۃٍ اِلَّا لَہَا مُنۡذِرُوۡنَ ﴿۲۰۸﴾٭ۖ ۛ
اور نہیں کیا ہم نے کسی کو مگر اس کے لیے ڈرانے والے ( بھیجے گئے ) تھے ۔
ذِکۡرٰی ۟ ۛ وَمَا کُنَّا ظٰلِمِیۡنَ ﴿۲۰۹﴾
یاد دہانی کے لیے ۔ اور ہم ظالم نہیں تھے ۔
وَمَا تَنَزَّلَتۡ بِہِ الشَّیٰطِیۡنُ ﴿۲۱۰﴾
اور نہیں اترے اس کو لے کر شیاطین ۔
وَمَا یَنۡۢبَغِیۡ لَہُمۡ وَمَا یَسۡتَطِیۡعُوۡنَ ﴿۲۱۱﴾ؕ
اور نہ یہ ان کے لیے مناسب ہے اور نہ ہی وہ اس کی رکھتے ہیں ۔
اِنَّہُمۡ عَنِ السَّمۡعِ لَمَعۡزُوۡلُوۡنَ ﴿۲۱۲﴾ؕ
انھیں ( شیطانوں کو ) تو اس کے سننے سے بھی محروم کر دیا گیا ہے ۔
فَلَا تَدۡعُ مَعَ اللّٰہِ اِلٰـہًا اٰخَرَ فَتَکُوۡنَ مِنَ الۡمُعَذَّبِیۡنَ ﴿۲۱۳﴾ۚ
پس نہ پکارا کر اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور خدا کو ورنہ تو ہو جائے گا ان لوگوں میں سے جنھیں دیا گیا ہے ۔
وَاَنۡذِرۡ عَشِیۡرَتَکَ الۡاَقۡرَبِیۡنَ ﴿۲۱۴﴾ۙ
اور آپ ڈرایا کریں اپنے قریبی رشتہ داروں کو ۔
وَاخۡفِضۡ جَنَاحَکَ لِمَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۲۱۵﴾ۚ
اور آپ کیا کیجیے اپنے پروں کو ان لوگوں کے لیے جو آپ کی پیروی کرتے ہیں اہل ایمان سے ۔
فَاِنۡ عَصَوۡکَ فَقُلۡ اِنِّیۡ بَرِیۡٓءٌ مِّمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۲۱۶﴾ۚ
پھر اگر وہ آپ کی کریں تو آپ فرما دیں میں بری الذمہ ہوں ان کاموں سے جو تم کیا کرتے ہو ۔
وَتَوَکَّلۡ عَلَی الۡعَزِیۡزِ الرَّحِیۡمِ ﴿۲۱۷﴾ۙ
اور بھروسہ کیجیے سب سے رحم کرنے والے پر ۔
الَّذِیۡ یَرٰىکَ حِیۡنَ تَقُوۡمُ ﴿۲۱۸﴾ۙ
جو آپ کو دیکھتا رہتا ہے جب آپ کھڑے ہوتے ہیں ۔
وَتَقَلُّبَکَ فِی السّٰجِدِیۡنَ ﴿۲۱۹﴾
اور ( دیکھتا رہتا ہے جب ) آپ چکر لگاتے ہیں سجدہ کرنے والوں ( کے گھروں ) کا ۔
اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۲۲۰﴾
بیشک وہی سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے ۔
ہَلۡ اُنَبِّئُکُمۡ عَلٰی مَنۡ تَنَزَّلُ الشَّیٰطِیۡنُ ﴿۲۲۱﴾ؕ
کیا میں بتاؤں تمہیں کہ شیاطین کس پر اترتے ہیں ۔
تَنَزَّلُ عَلٰی کُلِّ اَفَّاکٍ اَثِیۡمٍ ﴿۲۲۲﴾ۙ
وہ اترتے ہیں ہر گھڑنے والے بدکار پر ۔
یُّلۡقُوۡنَ السَّمۡعَ وَاَکۡثَرُہُمۡ کٰذِبُوۡنَ ﴿۲۲۳﴾ؕ
یہ اپنے کان ( شیطانوں کی طرف ) لگائے رکھتے ہیں اور ان میں سے اکثر نرے جھوٹے ہیں ۔
وَالشُّعَرَآءُ یَتَّبِعُہُمُ الۡغَاوٗنَ ﴿۲۲۴﴾ؕ
اور جو شعراء ہیں تو ان کی پیروی حق سے بہکے ہوئے لوگ ہی کرتے ہیں ۔
اَلَمۡ تَرَ اَنَّہُمۡ فِیۡ کُلِّ وَادٍ یَّہِیۡمُوۡنَ ﴿۲۲۵﴾ۙ
کیا تم نہیں دیکھتے کہ شعراء ہر وادی میں گرداں پھرتے رہتے ہیں ۔
وَاَنَّہُمۡ یَقُوۡلُوۡنَ مَالَا یَفۡعَلُوۡنَ ﴿۲۲۶﴾ۙ
اور وہ کیا کرتے ہیں ایسی باتیں پر وہ خود عمل نہیں کرتے ۔
اِلَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَذَکَرُوا اللّٰہَ کَثِیۡرًا وَّانۡتَصَرُوۡا مِنۡۢ بَعۡدِ مَاظُلِمُوۡا ؕ وَسَیَعۡلَمُ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡۤا اَیَّ مُنۡقَلَبٍ یَّنۡقَلِبُوۡنَ ﴿۲۲۷﴾٪ 15
بجز ان شعراء کے جو ایمان لے آئے اور انھوں نے عمل کیے اور کثرت سے اللہ تعالیٰ کو کرتے ہیں اور انتقام لیتے ہیں اس کے بعد کہ ان پر ظلم کیا گیا ۔ اور عنقریب جان لیں گے جنھوں نے ظلم و ستم کیے کہ وہ کس ( بھیانک ) لوٹ کر آ رہے ہیں ۔