الٓرٰ ۟ تِلۡکَ اٰیٰتُ الۡکِتٰبِ الۡمُبِیۡنِ ۟﴿۱﴾
الف ۔ لام ۔ را ۔ یہ آیتیں ہیں روشن کی ۔
Joseph
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ ﴿١﴾
In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
الٓرٰ ۟ تِلۡکَ اٰیٰتُ الۡکِتٰبِ الۡمُبِیۡنِ ۟﴿۱﴾
الف ۔ لام ۔ را ۔ یہ آیتیں ہیں روشن کی ۔
اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنٰہُ قُرۡءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّکُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۲﴾
بیشک ہم نے اتارا اسے یعنی عربی کو تاکہ تم ( اسے ) خوب سمجھ سکو ۔
نَحۡنُ نَقُصُّ عَلَیۡکَ اَحۡسَنَ الۡقَصَصِ بِمَاۤ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنَ ٭ۖ وَاِنۡ کُنۡتَ مِنۡ قَبۡلِہٖ لَمِنَ الۡغٰفِلِیۡنَ ﴿۳﴾
ہم کرتے ہیں آپ سے ایک بہترین قصہ اس کے جو ہم نے آپ کی طرف وحی کیا ہے ۔ اگرچہ آپ اس سے غافلوں میں سے تھے ۔
اِذۡ قَالَ یُوۡسُفُ لِاَبِیۡہِ یٰۤاَبَتِ اِنِّیۡ رَاَیۡتُ اَحَدَعَشَرَ کَوۡکَبًا وَّالشَّمۡسَ وَالۡقَمَرَ رَاَیۡتُہُمۡ لِیۡ سٰجِدِیۡنَ ﴿۴﴾
یاد کرو جب کہا یوسف نے اپنے والد سے اے میرے ( محترم ) ! میں نے ( میں ) دیکھا ہے گیارہ ستاروں کو اور سورج اور کو ، میں نے انہیں دیکھا کہ وہ مجھے سجدہ کر رہے ہیں ۔
قَالَ یٰبُنَیَّ لَا تَقۡصُصۡ رُءۡیَاکَ عَلٰۤی اِخۡوَتِکَ فَیَکِیۡدُوۡا لَکَ کَیۡدًا ؕ اِنَّ الشَّیۡطٰنَ لِلۡاِنۡسَانِ عَدُوٌّ مُّبِیۡنٌ ﴿۵﴾
آپ نے فرمایا اے میرے بچے نہ کرنا اپنا اپنے بھائیوں سے ورنہ وہ سازش کریں گے تیرے خلاف ۔ بیشک شیطان کا کھلا ہے ۔
وَکَذٰلِکَ یَجۡتَبِیۡکَ رَبُّکَ وَیُعَلِّمُکَ مِنۡ تَاۡوِیۡلِ الۡاَحَادِیۡثِ وَیُتِمُّ نِعۡمَتَہٗ عَلَیۡکَ وَعَلٰۤی اٰلِ یَعۡقُوۡبَ کَمَاۤ اَتَمَّہَا عَلٰۤی اَبَوَیۡکَ مِنۡ قَبۡلُ اِبۡرٰہِیۡمَ وَاِسۡحٰقَ ؕ اِنَّ رَبَّکَ عَلِیۡمٌ حَکِیۡمٌ ٪﴿۶﴾ 11
اور اسی طرح لے گا تجھے تیرا رب اور سکھا دے گا تجھے باتوں کا ( یعنی خوابوں کی ) اور پورا فرمائے گا اپنا انعام تجھ پر اور یعقوب کے گھرانے پر جیسے اس نے پورا فرمایا اپنا انعام اس سے تیرے دو باپوں ابراہیم اور اسحٰق پر ، یقیناً تیرا پروردگار سب کچھ جاننے والا بہت دانا ہے ۔
لَقَدۡ کَانَ فِیۡ یُوۡسُفَ وَاِخۡوَتِہٖۤ اٰیٰتٌ لِّلسَّآئِلِیۡنَ ﴿۷﴾
بیشک یوسف اور اس کے بھائیوں ( کے قصہ ) میں ( عبرت کی ) کئی نشانیاں ہیں دریافت کرنے والوں کے لیے ۔
اِذۡ قَالُوۡا لَیُوۡسُفُ وَاَخُوۡہُ اَحَبُّ اِلٰۤی اَبِیۡنَا مِنَّا وَنَحۡنُ عُصۡبَۃٌ ؕ اِنَّ اَبَانَا لَفِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنِ ۣ ۚ﴿ۖ۸﴾
جب بھائیوں نے ( آپس میں ) کہا کہ یوسف اور اس کا پیارا ہے ہمارے کو ہم سے حالانکہ ہم ایک ( ) جتھہ ہیں ۔ یقیناً ہمارے والد ( ایسا کرنے میں ) کھلی غلطی کا شکار ہیں ۔
اقۡتُلُوۡا یُوۡسُفَ اَوِ اطۡرَحُوۡہُ اَرۡضًا یَّخۡلُ لَکُمۡ وَجۡہُ اَبِیۡکُمۡ وَتَکُوۡنُوۡا مِنۡۢ بَعۡدِہٖ قَوۡمًا صٰلِحِیۡنَ ﴿۹﴾
قتل کر ڈالو یوسف کو یا پھینک آؤ اسے کسی علاقہ میں ( یوں ) تنہا ہو جائے گا تمہاری طرف تمہارے کا اور ہو جانا اس کے بعد ( توبہ کر کے ) قوم ۔
قَالَ قَآئِلٌ مِّنۡہُمۡ لَا تَقۡتُلُوۡا یُوۡسُفَ وَاَلۡقُوۡہُ فِیۡ غَیٰبَتِ الۡجُبِّ یَلۡتَقِطۡہُ بَعۡضُ السَّیَّارَۃِ اِنۡ کُنۡتُمۡ فٰعِلِیۡنَ ﴿۱۰﴾
۔( یہ سن کر ) ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا کہ نہ کرو یوسف کو ( بلکہ ) پھینک دو اسے کسی گہرے کنویں کی تاریک میں اٹھا لیں گے اسے کوئی راہ چلتے ۔ اگر تم نے کچھ کرنا ہی ہے ۔
قَالُوۡا یٰۤاَبَانَا مَالَکَ لَا تَاۡمَنَّا عَلٰی یُوۡسُفَ وَاِنَّا لَہٗ لَنٰصِحُوۡنَ ﴿۱۱﴾
۔( یہ طے کرنے کے بعد ) انھوں نے ( آ کر ) کہا اے ہمارے ! کیا آپ کو کہ آپ اعتبار ہی نہیں کرتے ہم پر یوسف کے بارے میں حالانکہ ہم تو اس کے سچے خیرخواہ ہیں ۔
اَرۡسِلۡہُ مَعَنَا غَدًا یَّرۡتَعۡ وَیَلۡعَبۡ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوۡنَ ﴿۱۲﴾
آپ بھیجیے اسے ہمارے ساتھ تاکہ خوب کھائے پیئے اور کھیلے کودے اور ( کوئی فکر نہ کیجیے ) ہم اس کے ہیں ۔
قَالَ اِنِّیۡ لَیَحۡزُنُنِیۡۤ اَنۡ تَذۡہَبُوۡا بِہٖ وَاَخَافُ اَنۡ یَّاۡکُلَہُ الذِّئۡبُ وَاَنۡتُمۡ عَنۡہُ غٰفِلُوۡنَ ﴿۱۳﴾
آپ نے فرمایا بیشک مجھے غمزدہ بناتی ہے یہ کہ تم اسے لے جاؤ اور میں ڈرتا ہوں کہ کہیں کھا نہ جائے اس کو بھیڑیا اور تم ( سیر و تفریح کے باعث ) اس سے بے ہو ۔
قَالُوۡا لَئِنۡ اَکَلَہُ الذِّئۡبُ وَنَحۡنُ عُصۡبَۃٌ اِنَّاۤ اِذًا لَّخٰسِرُوۡنَ ﴿۱۴﴾
کہنے لگے اگر کھا جائے اسے بھیڑیا حالانکہ ہم ایک جتھہ ہیں بلاشبہ ہم تو بڑے زیاں کار ہوئے ۔
فَلَمَّا ذَہَبُوۡا بِہٖ وَاَجۡمَعُوۡۤا اَنۡ یَّجۡعَلُوۡہُ فِیۡ غَیٰبَتِ الۡجُبِّ ۚ وَاَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡہِ لَتُنَبِّئَنَّہُمۡ بِاَمۡرِہِمۡ ہٰذَا وَہُمۡ لَا یَشۡعُرُوۡنَ ﴿۱۵﴾
پھر جب ( بڑے اصرار سے ) اسے لے گئے اور سب نے یہی طے کر لیا کہ ڈال دیں اسے کسی گہرے کنویں کی تاریک میں اور عین اس ہم نے اس کی طرف وحی کی ( گھبراؤ نہیں ) تم ضرور انھیں کرو گے ان کے اس فعل پر ۔ اور وہ ( تیرے عالی کو ) نہیں سمجھتے ۔
وَجَآءُوۡۤ اَبَاہُمۡ عِشَآءً یَّبۡکُوۡنَ ؕ﴿۱۶﴾
اور آئے اپنے کے عشاء کے گریہ زاری کرتے ہوئے ۔
قَالُوۡا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّا ذَہَبۡنَا نَسۡتَبِقُ وَتَرَکۡنَا یُوۡسُفَ عِنۡدَ مَتَاعِنَا فَاَکَلَہُ الذِّئۡبُ ۚ وَمَاۤ اَنۡتَ بِمُؤۡمِنٍ لَّنَا وَلَوۡ کُنَّا صٰدِقِیۡنَ ﴿۱۷﴾ ؓ
۔( آ کر ) کہا باوا جی ! ہم ذرا گئے کہ دوڑ لگائیں اور ہم چھوڑ گئے یوسف کو اپنے کے ( ہائے ) کھا گیا اس کو بھیڑیا ۔ اور آپ نہیں مانیں گے ہماری اگرچہ ہم سچے ہیں ۔
وَجَآءُوۡ عَلٰی قَمِیۡصِہٖ بِدَمٍ کَذِبٍ ؕ قَالَ بَلۡ سَوَّلَتۡ لَکُمۡ اَنۡفُسُکُمۡ اَمۡرًا ؕ فَصَبۡرٌ جَمِیۡلٌ ؕ وَاللّٰہُ الۡمُسۡتَعَانُ عَلٰی مَاتَصِفُوۡنَ ﴿۱۸﴾
اور لے آئے اس کی پر جھوٹا خون لگا کر آپ نے فرمایا ( غلط کہتے ہو یوں نہیں ) بلکہ آراستہ کر دکھایا تمہیں تمہارے نفسوں نے اس ( سنگین جرم ) کو ( اس جانکاہ حادثہ پر ) جمیل کرونگا اور اللہ تعالیٰ سے مانگوں گا اس پر جو تم کرتے ہو ۔
وَجَآءَتۡ سَیَّارَۃٌ فَاَرۡسَلُوۡا وَارِدَہُمۡ فَاَدۡلٰی دَلۡوَہٗ ؕ قَالَ یٰبُشۡرٰی ہٰذَا غُلٰمٌ ؕ وَاَسَرُّوۡہُ بِضَاعَۃً ؕ وَاللّٰہُ عَلِیۡمٌۢ بِمَا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۹﴾
اور ( تھوڑی دیر بعد ) ایک آیا تو اہل نے ( لانے کے لیے ) اپنا آبکش بھیجا ۔ اس نے لٹکایا اپنا ۔ وہ پکار اٹھا مژدہ باد ! یہ لو کتنا من موہنا بچہ ہے ۔ اور انھوں نے چھپا دیا اسے متاع ( گرابنہا ) سمجھتے ہوئے ۔ اور اللہ تعالیٰ خوب جاننے والا ہے جو وہ کر رہے تھے ۔
وَشَرَوۡہُ بِثَمَنٍ ۢ بَخۡسٍ دَرَاہِمَ مَعۡدُوۡدَۃٍ ۚ وَکَانُوۡا فِیۡہِ مِنَ الزَّاہِدِیۡنَ ﴿۲۰﴾٪ 12
اور انھوں نے بیچ ڈالا یوسف کو حقیر سی قیمت پر چند درہموں کے عوض اور وہ ( ہی ) اس میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے تھے ۔
وَقَالَ الَّذِی اشۡتَرٰىہُ مِنۡ مِّصۡرَ لِامۡرَاَتِہٖۤ اَکۡرِمِیۡ مَثۡوٰىہُ عَسٰۤی اَنۡ یَّنۡفَعَنَاۤ اَوۡ نَتَّخِذَہٗ وَلَدًا ؕ وَکَذٰلِکَ مَکَّنَّا لِیُوۡسُفَ فِی الۡاَرۡضِ ۫ وَلِنُعَلِّمَہٗ مِنۡ تَاۡوِیۡلِ الۡاَحَادِیۡثِ ؕ وَاللّٰہُ غَالِبٌ عَلٰۤی اَمۡرِہٖ وَلٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۲۱﴾
اور کہا اس شخص نے جس نے یوسف کو خریدا تھا اہل مصر سے اپنی کو ، و اکرام سے اسے ٹھیراؤ شاید یہ ہمیں نفع پہنچائے یا بنا لیں ہم اسے اپنا فرزند اور یوں ( اپنی حکمت کاملہ سے ) ہم نے بخشا یوسف کو ( مصر کی ) میں اور تاکہ ہم سکھا دیں اسے خوابوں کی ۔ اور اللہ تعالیٰ ہے اپنے ہر پر لیکن اکثر لوگ ( اس حقیقت کو ) نہیں جانتے ۔
وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّہٗۤ اٰتَیۡنٰہُ حُکۡمًا وَّعِلۡمًا ؕ وَکَذٰلِکَ نَجۡزِی الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۲۲﴾
اور جب وہ پہنچے اپنے پورے جوبن کو تو ہم نے عطا فرمائی انھیں نبوت اور علم ۔ اور یونہی ہم جزا دیتے ہیں اچھے کرنے والوں کو ۔
وَرَاوَدَتۡہُ الَّتِیۡ ہُوَ فِیۡ بَیۡتِہَا عَنۡ نَّفۡسِہٖ وَغَلَّقَتِ الۡاَبۡوَابَ وَقَالَتۡ ہَیۡتَ لَکَ ؕ قَالَ مَعَاذَ اللّٰہِ اِنَّہٗ رَبِّیۡۤ اَحۡسَنَ مَثۡوَایَ ؕ اِنَّہٗ لَا یُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴿۲۳﴾
اور بہلانے پھسلانے لگی انھیں وہ جس کے میں آپ تھے کہ ان سے مطلب براری کرے اور ( ایک ) اس نے تمام دروازے کر دیئے اور ( بصد ناز ) کہنے لگی بس آ بھی جا ۔ یوسف ( پاکباز ) نے فرمایا خدا کی ! ( یوں نہیں ہو سکتا ) وہ ( تیرا ) میرا محسن ہے ۔ اس نے مجھے بڑی سے ٹھیرایا ہے بیشک ظالم فلاح نہیں پاتے ۔
وَلَقَدۡ ہَمَّتۡ بِہٖ ۚ وَہَمَّ بِہَا لَوۡ لَاۤ اَنۡ رَّاٰ بُرۡہَانَ رَبِّہٖ ؕ کَذٰلِکَ لِنَصۡرِفَ عَنۡہُ السُّوۡٓءَ وَالۡفَحۡشَآءَ ؕ اِنَّہٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُخۡلَصِیۡنَ ﴿۲۴﴾
اور اس نے تو قصد کر لیا تھا ان کا اور وہ بھی قصد کرتے اس کا اگر نہ دیکھ لیتے اپنے رب کی ( روشن ) ۔ یوں تاکہ ہم کر دیں یوسف سے اور بے حیائی کو ۔ بیشک وہ ہمارے ان بندوں میں سے تھا جو لیے گئے ہیں ۔
وَاسۡتَبَقَا الۡبَابَ وَقَدَّتۡ قَمِیۡصَہٗ مِنۡ دُبُرٍ وَّاَلۡفَیَا سَیِّدَہَا لَدَا الۡبَابِ ؕ قَالَتۡ مَاجَزَآءُ مَنۡ اَرَادَ بِاَہۡلِکَ سُوۡٓءًا اِلَّاۤ اَنۡ یُّسۡجَنَ اَوۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۲۵﴾
اور دونوں دوڑ پڑے دروازہ کی طرف اور اس نے پھاڑ ڈالا اس کا کرتہ سے اور ( اتفاق ایسا کہ ) ان دونوں نے پایا اس کے کو دروازے کے ۔ جھٹ بول اٹھی ( میرے سرتاج ! بتائیے ) کیا سزا ہے اس کی جو کرے تیری کے ساتھ کا بجز اس کے کہ اسے کر دیا جائے یا ( اسے ) دردناک دیا جائے ۔
قَالَ ہِیَ رَاوَدَتۡنِیۡ عَنۡ نَّفۡسِیۡ وَشَہِدَ شَاہِدٌ مِّنۡ اَہۡلِہَا ۚ اِنۡ کَانَ قَمِیۡصُہٗ قُدَّ مِنۡ قُبُلٍ فَصَدَقَتۡ وَہُوَ مِنَ الۡکٰذِبِیۡنَ ﴿۲۶﴾
آپ نے ( جواباً ) فرمایا ( میں نے نہیں بلکہ ) اس نے بہلانا چاہا ہے مجھے کہ مطلب براری کرے اور گواہی دی ایک گواہ نے جو اس کے سے تھا ( کہ دیکھو ! ) اگر یوسف کی آگے سے پھٹی ہوئی ہے تو اس نے کہا اور وہ جھوٹوں میں سے ہے ۔
وَاِنۡ کَانَ قَمِیۡصُہٗ قُدَّ مِنۡ دُبُرٍ فَکَذَبَتۡ وَہُوَ مِنَ الصّٰدِقِیۡنَ ﴿۲۷﴾
اور اگر اس کی پھٹی ہوئی ہو سے تو پھر اس نے بولا اور یوسف سچوں میں سے ہے ۔
فَلَمَّا رَاٰ قَمِیۡصَہٗ قُدَّ مِنۡ دُبُرٍ قَالَ اِنَّہٗ مِنۡ کَیۡدِکُنَّ ؕ اِنَّ کَیۡدَکُنَّ عَظِیۡمٌ ﴿۲۸﴾
پس جب عزیز نے دیکھا پیراہن یوسف کو کہ پھٹا ہے سے تو بول اٹھا یہ سب تم عورتوں کا فریب ہے ۔ بیشک تم عورتوں کا فریب بڑا ( خطرناک ) ہوتا ہے ۔
یُوۡسُفُ اَعۡرِضۡ عَنۡ ہٰذَا ٜ وَاسۡتَغۡفِرِیۡ لِذَنۡۢبِکِ ۚ ۖ اِنَّکِ کُنۡتِ مِنَ الۡخٰطِئِیۡنَ ﴿٪۲۹﴾ 13
اے یوسف ( پاکباز ) اس کو جانے دو اور ( اے ) اپنے کی معافی مانگ بیشک تو ہی قصور واروں میں سے ہے ۔
وَقَالَ نِسۡوَۃٌ فِی الۡمَدِیۡنَۃِ امۡرَاَتُ الۡعَزِیۡزِ تُرَاوِدُ فَتٰىہَا عَنۡ نَّفۡسِہٖ ۚ قَدۡ شَغَفَہَا حُبًّا ؕ اِنَّا لَنَرٰىہَا فِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۳۰﴾
اور کہنے لگیں عورتیں میں کہ عزیز کی بہلاتی ہے اپنے ( نوجوان ) کو تاکہ اس سے مطلب براری کرے اس کے میں کر گئی ہے اس کی ۔ ہم دیکھ رہی ہیں اسے کہ وہ کھلی گمراہی میں ہے ۔
فَلَمَّا سَمِعَتۡ بِمَکۡرِہِنَّ اَرۡسَلَتۡ اِلَیۡہِنَّ وَاَعۡتَدَتۡ لَہُنَّ مُتَّکَاً وَّاٰتَتۡ کُلَّ وَاحِدَۃٍ مِّنۡہُنَّ سِکِّیۡنًا وَّقَالَتِ اخۡرُجۡ عَلَیۡہِنَّ ۚ فَلَمَّا رَاَیۡنَہٗۤ اَکۡبَرۡنَہٗ وَقَطَّعۡنَ اَیۡدِیَہُنَّ وَقُلۡنَ حَاشَ لِلّٰہِ مَاہٰذَا بَشَرًا ؕ اِنۡ ہٰذَاۤ اِلَّا مَلَکٌ کَرِیۡمٌ ﴿۳۱﴾
پس جب زلیخا نے سنا ان کی مکارانہ باتوں کو تو اس نے انھیں بلا بھیجا اور کیں ان کے لیے مسندیں اور ( جب وہ آ گئیں تو ) دے دی ہر ایک کو ان میں سے ایک ایک چھری اور یوسف کو کہا کہ ( ذرا ) نکل ( تو ) آؤ ان کے ۔ پس جب ( یوسف آئے اور ) انھوں نے اس کو دیکھا تو اس کی عظمت ( حسن ) کی قائل ہو گئیں اور ( وارفتگی کے میں ) کاٹ بیھٹیں اپنے ہاتھوں کو اور کہہ اٹھیں سبحان اللہ ! یہ نہیں بلکہ یہ تو کوئی معزز ہے ۔
قَالَتۡ فَذٰلِکُنَّ الَّذِیۡ لُمۡتُنَّنِیۡ فِیۡہِ ؕ وَلَقَدۡ رَاوَدۡتُّہٗ عَنۡ نَّفۡسِہٖ فَاسۡتَعۡصَمَ ؕ وَلَئِنۡ لَّمۡ یَفۡعَلۡ مَاۤ اٰمُرُہٗ لَیُسۡجَنَنَّ وَلَیَکُوۡنًا مِّنَ الصّٰغِرِیۡنَ ﴿۳۲﴾
زلیخا ( فاتحانہ انداز میں ) بولی یہ ہے وہ ( پیکر رعنائی ) جس کے بارے تم مجھے ملامت کیا کرتی تھیں ۔ بخدا میں نے اسے بہت بہلایا پھسلایا لیکن وہ بچا ہی رہا اور اگر وہ نہ بجا لایا جو میں اس کو دیتی ہوں تو اسے کر دیا جائے گا اور وہ ہو جائے گا ان لوگوں سے جو بے آبرو ہیں ۔
قَالَ رَبِّ السِّجۡنُ اَحَبُّ اِلَیَّ مِمَّا یَدۡعُوۡنَنِیۡۤ اِلَیۡہِ ۚ وَاِلَّا تَصۡرِفۡ عَنِّیۡ کَیۡدَہُنَّ اَصۡبُ اِلَیۡہِنَّ وَاَکُنۡ مِّنَ الۡجٰہِلِیۡنَ ﴿۳۳﴾
یوسف نے عرض کی اے میرے پروردگار ! خانہ ( کی صعوبتیں مجھے ) ہیں اس ( ) سے جس کی طرف یہ مجھے بلاتی ہیں اور اگر تو ( اپنی عنایت سے ) نہ کرے مجھ سے ان کے مکر کو تو میں مائل ہو جاؤنگا ان کی طرف اور بن جاؤں گا نادانوں سے ۔
فَاسۡتَجَابَ لَہٗ رَبُّہٗ فَصَرَفَ عَنۡہُ کَیۡدَہُنَّ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۳۴﴾
پس فرما لی اس کی اس کے رب نے اور کر دیا اس سے ان عورتوں کے مکر و فریب کو ۔ بیشک وہ ( اپنے بندوں کی فریادیں ) سننے والا اور ان کے ( حالات ) خوب جاننے والا ہے ۔
ثُمَّ بَدَا لَہُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ مَارَاَوُا الۡاٰیٰتِ لَیَسۡجُنُنَّہٗ حَتّٰی حِیۡنٍ ﴿۳۵﴾٪ 14
پھر مناسب معلوم انھیں اس کے باوجود کہ وہ ( یوسف کی پاکبازی کی ) نشانیاں دیکھ چکے تھے کہ وہ اسے کر دیں کچھ عرصہ تک ۔
وَدَخَلَ مَعَہُ السِّجۡنَ فَتَیٰنِ ؕ قَالَ اَحَدُہُمَاۤ اِنِّیۡۤ اَرٰىنِیۡۤ اَعۡصِرُ خَمۡرًا ۚ وَقَالَ الۡاٰخَرُ اِنِّیۡۤ اَرٰىنِیۡۤ اَحۡمِلُ فَوۡقَ رَاۡسِیۡ خُبۡزًا تَاۡکُلُ الطَّیۡرُ مِنۡہُ ؕ نَبِّئۡنَا بِتَاۡوِیۡلِہٖ ۚ اِنَّا نَرٰىکَ مِنَ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۳۶﴾
اور ہوئے آپ کے ساتھ ہی خانہ میں دو نوجوان ، ان میں سے ایک نے ( آ کر ) کہا کہ میں نے ( میں ) اپنے آپ کو دیکھا ہے کہ میں نچوڑ رہا ہوں ! اور دوسرے نے کہا میں نے ( میں ) اپنے آپکو دیکھا کہ میں اٹھائے ہوئے ہوں اپنے پر کچھ روٹیاں ، پرندے کھا رہے ہیں اس سے ۔ آپ بتائیے ہمیں اس کی ۔ بیشک ہم دیکھ رہے ہیں آپ کو نیکوکاروں سے ۔
قَالَ لَا یَاۡتِیۡکُمَا طَعَامٌ تُرۡزَقٰنِہٖۤ اِلَّا نَبَّاۡتُکُمَا بِتَاۡوِیۡلِہٖ قَبۡلَ اَنۡ یَّاۡتِیَکُمَا ؕ ذٰلِکُمَا مِمَّا عَلَّمَنِیۡ رَبِّیۡ ؕ اِنِّیۡ تَرَکۡتُ مِلَّۃَ قَوۡمٍ لَّا یُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَہُمۡ بِالۡاٰخِرَۃِ ہُمۡ کٰفِرُوۡنَ ﴿۳۷﴾
آپ نے فرمایا نہیں آئے گا تمہارے جو تمہیں کھلایا جاتا ہے مگر میں تمہیں بتا دونگا اس کی اس سے پیشتر کہ تمہارے آئے ۔ یہ ان علموں میں سے ہے جو سکھایا ہے مجھے میرے رب نے ۔ میں نے چھوڑ دیا ہے اس قوم کا جو نہیں ایمان لاتے اللہ تعالیٰ پر نیز وہ کا کرنے والے ہیں ۔
وَاتَّبَعۡتُ مِلَّۃَ اٰبَآءِیۡۤ اِبۡرٰہِیۡمَ وَاِسۡحٰقَ وَیَعۡقُوۡبَ ؕ مَاکَانَ لَنَاۤ اَنۡ نُّشۡرِکَ بِاللّٰہِ مِنۡ شَیۡءٍ ؕ ذٰلِکَ مِنۡ فَضۡلِ اللّٰہِ عَلَیۡنَا وَعَلَی النَّاسِ وَلٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَشۡکُرُوۡنَ ﴿۳۸﴾
اور میں تو پیرو بن گیا اپنے دادا ابراہیم ( علیہ السلام ) اسحاق اور یعقوب کے کا نہیں روا ہمارے لیے کہ ہم ٹھیرائیں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی چیز کو ۔ یہ ( توحید پر ایمان ) تو اللہ تعالیٰ کا خاص ہے ہم پر اور لوگوں پر لیکن بہت سے لوگ اس پر شکر ہی بجا نہیں لاتے ۔
یٰصَاحِبَیِ السِّجۡنِ ءَاَرۡبَابٌ مُّتَفَرِّقُوۡنَ خَیۡرٌ اَمِ اللّٰہُ الۡوَاحِدُ الۡقَہَّارُ ﴿ؕ۳۹﴾
اے خانہ کے میرے دو رفیقو ! ( یہ تو بتاؤ ) کیا بہت سے جدا جدا رب بہتر ہیں یا ایک اللہ جو سب پر ہے ۔
مَاتَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اِلَّاۤ اَسۡمَآءً سَمَّیۡتُمُوۡہَاۤ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُکُمۡ مَّاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ بِہَا مِنۡ سُلۡطٰنٍ ؕ اِنِ الۡحُکۡمُ اِلَّا لِلّٰہِ ؕ اَمَرَ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّاۤ اِیَّاہُ ؕ ذٰلِکَ الدِّیۡنُ الۡقَیِّمُ وَلٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۴۰﴾
تم نہیں پوجتے اس کے علاوہ مگر چند ناموں کو جو رکھ لیے ہیں تم نے اور تمہارے دادا نے ۔ نہیں اتاری اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے کوئی ۔ نہیں ہے ( کا کسی کو ) سوائے اللہ تعالیٰ کے ، اسی نے یہ دیا ہے کہ کسی کی نہ کرو بجز اس کے یہی قیم ہے لیکن بہت سے لوگ ( اس حقیقت کو ) نہیں جانتے ۔
یٰصَاحِبَیِ السِّجۡنِ اَمَّاۤ اَحَدُ کُمَا فَیَسۡقِیۡ رَبَّہٗ خَمۡرًا ۚ وَاَمَّا الۡاٰخَرُ فَیُصۡلَبُ فَتَاۡکُلُ الطَّیۡرُ مِنۡ رَّاۡسِہٖ ؕ قُضِیَ الۡاَمۡرُ الَّذِیۡ فِیۡہِ تَسۡتَفۡتِیٰنِ ﴿ؕ۴۱﴾
اے خانہ کے میرے دو ساتھیو ! ( اب خوابوں کی سنو ) تم میں سے ایک ( یعنی پہلا ) تو پلایا کرے گا اپنے کو ۔ لیکن دوسرا سولی دیا جائے گا اور ( نوچ ) کھائیں گے پرندے اس کے سے ۔ ( اٹل ) ہو چکا اس کا جس کے متعلق تم دریافت کرتے ہو ۔
وَقَالَ لِلَّذِیۡ ظَنَّ اَنَّہٗ نَاجٍ مِّنۡہُمَا اذۡکُرۡنِیۡ عِنۡدَ رَبِّکَ ۫ فَاَنۡسٰہُ الشَّیۡطٰنُ ذِکۡرَ رَبِّہٖ فَلَبِثَ فِی السِّجۡنِ بِضۡعَ سِنِیۡنَ ﴿ؕ٪۴۲﴾ 15
اور کہا ( یوسف ( علیہ السلام ) نے اسے جسکے بارے میں آپ کو تھا کہ وہ پا جائے گا ان دونوں سے کہ میرا تذکرہ کرنا اپنے آقا کے ۔ لیکن فراموش کرا دیا اسے شیطان نے کہ وہ ذکر کرے اپنے بادشاہ کے ۔ پس آپ ٹھیرے رہے خانہ میں کئی ۔
وَقَالَ الۡمَلِکُ اِنِّیۡۤ اَرٰی سَبۡعَ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاۡکُلُہُنَّ سَبۡعٌ عِجَافٌ وَّسَبۡعَ سُنۡۢبُلٰتٍ خُضۡرٍ وَّاُخَرَ یٰبِسٰتٍ ؕ یٰۤاَیُّہَا الۡمَلَاُ اَفۡتُوۡنِیۡ فِیۡ رُءۡیَایَ اِنۡ کُنۡتُمۡ لِلرُّءۡیَا تَعۡبُرُوۡنَ ﴿۴۳﴾
اور ( کچھ عرصہ بعد ایک روز ) بادشاہ نے کہا کہ میں ( میں کیا ) دیکھتا ہوں کہ سات گائیں ہیں موٹی تازی ، کھا رہی ہیں انھیں سات دبلی گائیں اور سات سبز ہیں اور دوسرے سات سوکھے ہوئے ۔ اے درباریو ! بتاؤ مجھے میرے کی اگر تم خوابوں کی بتایا کرتے ہو ۔
قَالُوۡۤا اَضۡغَاثُ اَحۡلَامٍ ۚ وَمَا نَحۡنُ بِتَاۡوِیۡلِ الۡاَحۡلَامِ بِعٰلِمِیۡنَ ﴿۴۴﴾
درباریوں نے کہا ( اے بادشاہ ) یہ پریشان ہیں اور ہم پریشان خوابوں کی جاننے والے نہیں ۔
وَقَالَ الَّذِیۡ نَجَا مِنۡہُمَا وَادَّکَرَ بَعۡدَ اُمَّۃٍ اَنَا اُنَبِّئُکُمۡ بِتَاۡوِیۡلِہٖ فَاَرۡسِلُوۡنِ ﴿۴۵﴾
اور ( اس ) بولا وہ شخص جو گیا تھا ان دو ( قیدیوں ) سے اور ( اب ) اسے یوسف کی آئی ایک عرصہ بعد ۔ میں بتاتا ہوں تمہیں اس کی مجھے ( خانہ تک ) جانے دیجیے ۔
یُوۡسُفُ اَیُّہَا الصِّدِّیۡقُ اَفۡتِنَا فِیۡ سَبۡعِ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاۡکُلُہُنَّ سَبۡعٌ عِجَافٌ وَّسَبۡعِ سُنۡۢبُلٰتٍ خُضۡرٍ وَّاُخَرَ یٰبِسٰتٍ ۙ لَّعَلِّیۡۤ اَرۡجِعُ اِلَی النَّاسِ لَعَلَّہُمۡ یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۴۶﴾
اے یوسف ! اے صدیق ! بتائیے ہمیں ( اس کی ) کہ سات موٹی گائیں ہیں ۔ کھا رہی ہیں انھیں سات لاغر گائیں اور سات ہیں سرسبز اور دوسرے ( سات ) تاکہ میں ( آپ کا لیکر ) واپس جاؤں لوگوں کی طرف ، شاید وہ ( آپ کے علم و فضل کو ) جان لیں ۔
قَالَ تَزۡرَعُوۡنَ سَبۡعَ سِنِیۡنَ دَاَبًا ۚ فَمَا حَصَدۡتُّمۡ فَذَرُوۡہُ فِیۡ سُنۡۢبُلِہٖۤ اِلَّا قَلِیۡلًا مِّمَّا تَاۡکُلُوۡنَ ﴿۴۷﴾
آپ نے فرمایا کہ تم کاشت کرو گے سات تک حسب دستور ۔ تو جو تم کاٹو گے اسے رہنے دو خوشوں میں مگر سا ( ضرورت کے لیے نکال لو ) جسے تم کھا لو ۔
ثُمَّ یَاۡتِیۡ مِنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِکَ سَبۡعٌ شِدَادٌ یَّاۡکُلۡنَ مَاقَدَّمۡتُمۡ لَہُنَّ اِلَّا قَلِیۡلًا مِّمَّا تُحۡصِنُوۡنَ ﴿۴۸﴾
پھر آئیں گے اس ( ) کے بعد سات ( ) بہت ، کھا جائیں گے جو ذخیرہ تم نے جمع کر رکھا ہو گا ان کے لیے مگر سا جو تم محفوظ کر لو گے ۔
ثُمَّ یَاۡتِیۡ مِنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِکَ عَامٌ فِیۡہِ یُغَاثُ النَّاسُ وَفِیۡہِ یَعۡصِرُوۡنَ ﴿٪۴۹﴾ 16
پھر آئے گا اس عرصہ کے بعد ایک جس میں مینہ برسایا جائے گا لوگوں کے لیے اور اس وہ ( پھلوں کا ) رس نکالیں گے ۔
وَقَالَ الۡمَلِکُ ائۡتُوۡنِیۡ بِہٖ ۚ فَلَمَّا جَآءَہُ الرَّسُوۡلُ قَالَ ارۡجِعۡ اِلٰی رَبِّکَ فَسۡئَلۡہُ مَابَالُ النِّسۡوَۃِ الّٰتِیۡ قَطَّعۡنَ اَیۡدِیَہُنَّ ؕ اِنَّ رَبِّیۡ بِکَیۡدِہِنَّ عَلِیۡمٌ ﴿۵۰﴾
۔( یہ سنتے ہی ) بادشاہ نے کہا ( فوراً ) لے آؤ انھیں میرے ۔ پس جب ( فرمان شاہی لیکر ) ان کے قاصد آیا ( تو ) آپ نے فرمایا لوٹ جاؤ اپنے بادشاہ کے اور اس سے پوچھو کہ حقیقت حال کیا تھی ان عورتوں کی جنھوں نے کاٹ ڈالے تھے اپنے ۔ بیشک میرا پروردگار تو ان کے مکر ( و فریب ) سے خوب ہے ۔
قَالَ مَاخَطۡبُکُنَّ اِذۡ رَاوَدۡتُّنَّ یُوۡسُفَ عَنۡ نَّفۡسِہٖ ؕ قُلۡنَ حَاشَ لِلّٰہِ مَاعَلِمۡنَا عَلَیۡہِ مِنۡ سُوۡٓءٍ ؕ قَالَتِ امۡرَاَتُ الۡعَزِیۡزِ الۡئٰنَ حَصۡحَصَ الۡحَقُّ ۫ اَنَا رَاوَدۡتُّہٗ عَنۡ نَّفۡسِہٖ وَاِنَّہٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیۡنَ ﴿۵۱﴾
بادشاہ نے ( ان عورتوں کو بلا کر ) پوچھا کیا معاملہ تمہارا جب تم نے یوسف کو بہلایا تھا اپنی مطلب براری کے لیے ۔ ( بیک زبان ) بولیں حاشاللہ ! نہیں معلوم ہوئی ہمیں تو اس میں ذرا ۔ عزیز کی ( کو یارائے ضبط نہ رہا ) کہنے لگی اب تو آشکارا ہو گیا حق ۔ میں نے ہی اسے پھسلانا چاہا تھا اپنی مطلب براری کے لیے بخدا وہ تو سچا ہے ۔
ذٰلِکَ لِیَعۡلَمَ اَنِّیۡ لَمۡ اَخُنۡہُ بِالۡغَیۡبِ وَاَنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِیۡ کَیۡدَ الۡخَآئِنِیۡنَ ﴿۵۲﴾
۔( یوسف ( علیہ السلام ) نے کہا ) یہ میں نے اس لیے کہا تھا تاکہ عزیز جان لے کہ میں نے اس کی غیر حاضری میں نہیں کی ۔ اور یقیناً اللہ تعالیٰ نہیں ہونے دیتا دغابازوں کی فریب کاری کو ۔
وَمَاۤ اُبَرِّئُ نَفۡسِیۡ ۚ اِنَّ النَّفۡسَ لَاَمَّارَۃٌۢ بِالسُّوۡٓءِ اِلَّا مَارَحِمَ رَبِّیۡ ؕ اِنَّ رَبِّیۡ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۵۳﴾
اور میں اپنے نفس کی برات ( کا دعویٰ ) نہیں کرتا ۔ بیشک نفس تو دیتا ہے کا مگر وہی ( بچتا ہے ) جس پر میرا رب رحم فرما دے ۔ یقیناً میرا رب غفور رحیم ہے ۔
وَقَالَ الۡمَلِکُ ائۡتُوۡنِیۡ بِہٖۤ اَسۡتَخۡلِصۡہُ لِنَفۡسِیۡ ۚ فَلَمَّا کَلَّمَہٗ قَالَ اِنَّکَ الۡیَوۡمَ لَدَیۡنَا مَکِیۡنٌ اَمِیۡنٌ ﴿۵۴﴾
اور بادشاہ نے دیا کہ لے آؤ اسے میرے ۔ میں لونگا اسے اپنی ذات کے لیے ۔ پھر جب اس نے آپ سے گفتگو کی ( اور مطمئن ہو گیا ) تو کہا آپ آج سے ہمارے ہاں بڑے محترم ( اور ) قابل اعتماد ( درباری ) ہیں ۔
قَالَ اجۡعَلۡنِیۡ عَلٰی خَزَآئِنِ الۡاَرۡضِ ۚ اِنِّیۡ حَفِیۡظٌ عَلِیۡمٌ ﴿۵۵﴾
آپ نے فرمایا مجھے کر دے کے خزانوں پر بیشک میں ( انکی ) کرنے والا ( اور معاشی مسائل کا ) کا ماہر ہوں ۔
وَکَذٰلِکَ مَکَّنَّا لِیُوۡسُفَ فِی الۡاَرۡضِ ۚ یَتَبَوَّاُ مِنۡہَا حَیۡثُ یَشَآءُ ؕ نُصِیۡبُ بِرَحۡمَتِنَا مَنۡ نَّشَآءُ وَلَا نُضِیۡعُ اَجۡرَ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۵۶﴾
یوں ہم نے تسلط ( اوراقتدار ) بخشا یوسف کو مصر میں ۔ تاکہ رہے اس میں جہاں چاہے ، ہم سرفراز کرتے ہیں اپنی رحمت سے جسے چاہتے ہیں اور ہم ضائع نہیں کرتے اجر عمدہ کرنے والوں کا ۔
وَلَاَجۡرُ الۡاٰخِرَۃِ خَیۡرٌ لِّلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَکَانُوۡا یَتَّقُوۡنَ ﴿۵۷﴾٪ 1
اور کا اجر اس سے یقیناً بہتر ہے ان کے لیے جو ایمان لے آئے اور تقویٰ کیے رہے ۔
وَجَآءَ اِخۡوَۃُ یُوۡسُفَ فَدَخَلُوۡا عَلَیۡہِ فَعَرَفَہُمۡ وَہُمۡ لَہٗ مُنۡکِرُوۡنَ ﴿۵۸﴾
اور ایک روز آ نکلے برادران یوسف ( علیہ السلام ) اور ان کی خدمت میں ہوئے سو آپ نے تو انھیں پہچان لیا لیکن وہ آپ کو نہ پہچان سکے ۔
وَلَمَّا جَہَّزَہُمۡ بِجَہَازِہِمۡ قَالَ ائۡتُوۡنِیۡ بِاَخٍ لَّکُمۡ مِّنۡ اَبِیۡکُمۡ ۚ اَلَا تَرَوۡنَ اَنِّیۡۤ اُوۡفِی الۡکَیۡلَ وَاَنَا خَیۡرُ الۡمُنۡزِلِیۡنَ ﴿۵۹﴾
سو جب مہیا کر دیا ان کے لیے ان ( کی رسد و ) کا تو فرمایا ( دوبارہ آؤ ) تو لے آنا میرے اپنے پدری کو ، کیا تم نہیں دیکھتے کہ میں کس طرح پیمانہ پورا بھر کر دیتا ہوں اور میں کتنا بہتر نواز ہوں ۔
فَاِنۡ لَّمۡ تَاۡتُوۡنِیۡ بِہٖ فَلَا کَیۡلَ لَکُمۡ عِنۡدِیۡ وَلَا تَقۡرَبُوۡنِ ﴿۶۰﴾
اور اگر تم اسے نہ لے آئے میرے تو ( سن لو ) کوئی پیمانہ تمہارے لیے میرے نہیں ہو گا اور نہ تم میرے قریب آ سکو گے ۔
قَالُوۡا سَنُرَاوِدُ عَنۡہُ اَبَاہُ وَاِنَّا لَفٰعِلُوۡنَ ﴿۶۱﴾
وہ بولے ہم ضرور مطالبہ کریں گے اس کے بھیجنے کے متعلق اس کے سے اور ہم ضرور ایسا کریں گے ۔
وَقَالَ لِفِتۡیٰنِہِ اجۡعَلُوۡا بِضَاعَتَہُمۡ فِیۡ رِحَالِہِمۡ لَعَلَّہُمۡ یَعۡرِفُوۡنَہَاۤ اِذَا انۡقَلَبُوۡۤا اِلٰۤی اَہۡلِہِمۡ لَعَلَّہُمۡ یَرۡجِعُوۡنَ ﴿۶۲﴾
اور آپ نے فرمایا اپنے غلاموں کو کہ ( چپکے سے ) رکھ دو ان کا ( جس کے عوض انھوں نے غلہ خریدا ) ان کی خورجیوں میں تاکہ وہ اسے پہچان لیں جب وہ واپس لوٹیں اپنے والوں کے ، شاید وہ لوٹ کر آئیں ۔
فَلَمَّا رَجَعُوۡۤا اِلٰۤی اَبِیۡہِمۡ قَالُوۡا یٰۤاَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الۡکَیۡلُ فَاَرۡسِلۡ مَعَنَاۤ اَخَانَا نَکۡتَلۡ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوۡنَ ﴿۶۳﴾
پھر جب واپس لوٹے اپنے کے تو عرض کرنے لگے اے ہمارے پدر ( بزرگوار ) روک دیا گیا ہے ہم سے غلہ سو ( ازراہ نوازش ) بھیجئے ہمارے ساتھ ہمارے ( بن یامین ) کو تاکہ ہم غلہ لا سکیں اور ہم یقیناً اس کی نگہبانی کریں گے ۔
قَالَ ہَلۡ اٰمَنُکُمۡ عَلَیۡہِ اِلَّا کَمَاۤ اَمِنۡتُکُمۡ عَلٰۤی اَخِیۡہِ مِنۡ قَبۡلُ ؕ فَاللّٰہُ خَیۡرٌ حٰفِظًا ۪ وَّہُوَ اَرۡحَمُ الرّٰحِمِیۡنَ ﴿۶۴﴾
آپ نے ( جواباً ) فرمایا کیا میں اعتماد کروں تم پر اس کے بارے میں بجز اس کے جیسے میں نے اعتماد کیا تھا تم پر اس کے کے بارے میں اس سے قبل ، پس اللہ تعالیٰ ہی بہتر کرنے والا ہے اور وہ ہے تمام مہربانی کرنے والوں سے ۔
وَلَمَّا فَتَحُوۡا مَتَاعَہُمۡ وَجَدُوۡا بِضَاعَتَہُمۡ رُدَّتۡ اِلَیۡہِمۡ ؕ قَالُوۡا یٰۤاَبَانَا مَانَبۡغِیۡ ؕ ہٰذِہٖ بِضَاعَتُنَا رُدَّتۡ اِلَیۡنَا ۚ وَنَمِیۡرُ اَہۡلَنَا وَنَحۡفَظُ اَخَانَا وَنَزۡدَادُ کَیۡلَ بَعِیۡرٍ ؕ ذٰلِکَ کَیۡلٌ یَّسِیۡرٌ ﴿۶۵﴾
اور جب انھوں نے کھولا اپنا تو انھوں نے دیکھا کہ ان کا انھیں واپس لوٹا دیا گیا ہے ( ترغیب دینے کے لیے ) کہنے لگے اے ہمارے پدر ( محترم ) ہم اور کیا چاہتے ہیں یہ ( دیکیھے ) ہمارا بھی لوٹا دیا گیا ہے ہماری طرف اور ( اگر بن یامین ساتھ گیا تو ) ہم رسد لائینگے اپنے اہل خانہ کے لیے اور رکھوالی کریں گے اپنے کی اور ہم لینگے اور اونٹ کا ۔ یہ غلہ بہت ہے ۔
قَالَ لَنۡ اُرۡسِلَہٗ مَعَکُمۡ حَتّٰی تُؤۡتُوۡنِ مَوۡثِقًا مِّنَ اللّٰہِ لَتَاۡتُنَّنِیۡ بِہٖۤ اِلَّاۤ اَنۡ یُّحَاطَ بِکُمۡ ۚ فَلَمَّاۤ اٰتَوۡہُ مَوۡثِقَہُمۡ قَالَ اللّٰہُ عَلٰی مَانَقُوۡلُ وَکِیۡلٌ ﴿۶۶﴾
آپ نے کہا میں ہرگز نہیں بھیجوں گا اسے تمہارے ساتھ یہاں تک کہ کرو تم میرے ساتھ وعدہ جو پختہ کیا گیا ہو اللہ کی سے کہ تم ضرور لے آؤ گے میرے اسے مگر یہ کہ تمہیں بے بس کر دیا جائے پس جب وہ لے آئے آپ کے اپنا پختہ وعدہ تو آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جو ہم گفتگو کر رہے ہیں اس پر گواہ ہے ۔
وَقَالَ یٰبَنِیَّ لَا تَدۡخُلُوۡا مِنۡۢ بَابٍ وَّاحِدٍ وَّادۡخُلُوۡا مِنۡ اَبۡوَابٍ مُّتَفَرِّقَۃٍ ؕ وَمَاۤ اُغۡنِیۡ عَنۡکُمۡ مِّنَ اللّٰہِ مِنۡ شَیۡءٍ ؕ اِنِ الۡحُکۡمُ اِلَّا لِلّٰہِ ؕ عَلَیۡہِ تَوَکَّلۡتُ ۚ وَعَلَیۡہِ فَلۡیَتَوَکَّلِ الۡمُتَوَکِّلُوۡنَ ﴿۶۷﴾
اور آپ نے کہا اے میرے بچو ! ( میں ) نہ ہونا ایک دروازہ سے بلکہ ہونا دروازوں سے اور نہیں پہنچا سکتا میں تمہیں اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے کچھ بھی ۔ نہیں ہے مگر اللہ تعالیٰ کے لیے ، اسی پر میں نے توکل کیا ہے اور اسی پر توکل کرنا چاہیے توکل کرنے والوں کو ۔
وَلَمَّا دَخَلُوۡا مِنۡ حَیۡثُ اَمَرَہُمۡ اَبُوۡہُمۡ ؕ مَاکَانَ یُغۡنِیۡ عَنۡہُمۡ مِّنَ اللّٰہِ مِنۡ شَیۡءٍ اِلَّا حَاجَۃً فِیۡ نَفۡسِ یَعۡقُوۡبَ قَضٰہَا ؕ وَاِنَّہٗ لَذُوۡ عِلۡمٍ لِّمَا عَلَّمۡنٰہُ وَلٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿٪۶۸﴾ 2
اور جب وہ ( مصر میں ) میں ہوئے جس طرح دیا گیا تھا انھیں ان کے نے ۔ وہ نہیں پہنچا سکتا تھا انھیں اللہ کی تقدیر سے کچھ بھی مگر ( یہ احتیاطی ) ایک خیال تھا نفس یعقوب میں جسے انھوں نے پورا کیا اور بیشک وہ صاحب علم تھے بوجہ اس کے جو ہم نے سکھایا تھا انھیں لیکن اکثر لوگ ( اس حقیقت کو ) نہیں جانتے ۔
وَلَمَّا دَخَلُوۡا عَلٰی یُوۡسُفَ اٰوٰۤی اِلَیۡہِ اَخَاہُ قَالَ اِنِّیۡۤ اَنَا اَخُوۡکَ فَلَا تَبۡتَئِسۡ بِمَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۶۹﴾
اور جب پہنچے یوسف کے تو یوسف نے دی اپنے اپنے کو ( نیز ) اسے فرمایا میں تمہارا ہوں نہ غمزدہ ہو ( ان حرکتوں پر ) جو یہ کیا کرتے تھے ۔
فَلَمَّا جَہَّزَہُمۡ بِجَہَازِہِمۡ جَعَلَ السِّقَایَۃَ فِیۡ رَحۡلِ اَخِیۡہِ ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ اَیَّتُہَا الۡعِیۡرُ اِنَّکُمۡ لَسٰرِقُوۡنَ ﴿۷۰﴾
پھر جب فراہم کر دیا انھیں ان کا ( ) تو رکھ دیا ( اپنا ) اپنے کی خورجی میں ، پھر پکارا ایک پکارنے والا ، اے والو ! بلاشبہ تم چور ہو ۔
قَالُوۡا وَاَقۡبَلُوۡا عَلَیۡہِمۡ مَّاذَا تَفۡقِدُوۡنَ ﴿۷۱﴾
۔( حیرت زدہ ہو کر ) وہ بولے درآنحال کہ وہ ان کی طرف متوجہ تھے ، کونسی چیز تم نے کی ہے ۔
قَالُوۡا نَفۡقِدُ صُوَاعَ الۡمَلِکِ وَلِمَنۡ جَآءَ بِہٖ حِمۡلُ بَعِیۡرٍ وَّاَنَا بِہٖ زَعِیۡمٌ ﴿۷۲﴾
انھوں نے کہا ہم نے کیا ہے بادشاہ کا اور وہ شخص جو ڈھونڈ لائیگا اسے بطور انعام بار شتر ( غلہ ) دیا جائے گا اور میں اس کا ہوں ۔
قَالُوۡا تَاللّٰہِ لَقَدۡ عَلِمۡتُمۡ مَّا جِئۡنَا لِنُفۡسِدَ فِی الۡاَرۡضِ وَمَا کُنَّا سٰرِقِیۡنَ ﴿۷۳﴾
کہنے لگے خدا کی ! تم خوب جانتے ہو کہ ہم ( یہاں ) اس لیے نہیں آئے کہ برپا کریں میں اور نہ ہی ہم پیشہ ہیں ۔
قَالُوۡا فَمَا جَزَآؤُہٗۤ اِنۡ کُنۡتُمۡ کٰذِبِیۡنَ ﴿۷۴﴾
خدام ( یوسف ) نے کہا پھر اس کی کیا سزا ہے اگر تم جھوٹے ہو جاؤ ۔
قَالُوۡا جَزَآؤُہٗ مَنۡ وُّجِدَ فِیۡ رَحۡلِہٖ فَہُوَ جَزَآؤُہٗ ؕ کَذٰلِکَ نَجۡزِی الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۷۵﴾
اُنھوں نے کہا کہ اس کی سزا یہ ہے کہ جس کے میں یہ دستیاب ہو تو وہ خود ہی اس کا ہے ، اسی طرح ہم سزا دیا کرتے ہیں ظالموں کو ۔
فَبَدَاَ بِاَوۡعِیَتِہِمۡ قَبۡلَ وِعَآءِ اَخِیۡہِ ثُمَّ اسۡتَخۡرَجَہَا مِنۡ وِّعَآءِ اَخِیۡہِ ؕ کَذٰلِکَ کِدۡنَا لِیُوۡسُفَ ؕ مَاکَانَ لِیَاۡخُذَ اَخَاہُ فِیۡ دِیۡنِ الۡمَلِکِ اِلَّاۤ اَنۡ یَّشَآءَ اللّٰہُ ؕ نَرۡفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنۡ نَّشَآءُ ؕ وَفَوۡقَ کُلِّ ذِیۡ عِلۡمٍ عَلِیۡمٌ ﴿۷۶﴾
پس تلاشی لینی کی ان کے سامانوں کی یوسف کے کے کی تلاشی سے آخرکار نکال لیا وہ اس کے کی خورجی سے ۔ یوں کی ہم نے یوسف کے لیے ، نہیں رکھ سکتے تھے یوسف اپنے کو بادشاہ مصر کے قانون میں مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ چاہے ۔ ہم کر دیتے ہیں درجے کے چاہتے ہیں اور ہر صاحب علم سے برتر دوسرا صاحب علم ہوتا ہے ۔
قَالُوۡۤا اِنۡ یَّسۡرِقۡ فَقَدۡ سَرَقَ اَخٌ لَّہٗ مِنۡ قَبۡلُ ۚ فَاَسَرَّہَا یُوۡسُفُ فِیۡ نَفۡسِہٖ وَلَمۡ یُبۡدِہَا لَہُمۡ ۚ قَالَ اَنۡتُمۡ شَرٌّ مَّکَانًا ۚ وَاللّٰہُ اَعۡلَمُ بِمَا تَصِفُوۡنَ ﴿۷۷﴾
بھائی بولے اگر اس نے کی ہے ( تو کیا تعجب ہے ) بیشک کی تھی اس کے نے بھی اس سے ۔ پس چھپا لیا اس کو یوسف ( علیہ السلام ) نے اپنے جی میں اور نہ کیا اسے ان پر ۔ ( جی ہاں ) کہا تم بہت بری ہو ۔ اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جو تم کر رہے ہو ۔
قَالُوۡا یٰۤاَیُّہَا الۡعَزِیۡزُ اِنَّ لَہٗۤ اَبًا شَیۡخًا کَبِیۡرًا فَخُذۡ اَحَدَنَا مَکَانَہٗ ۚ اِنَّا نَرٰىکَ مِنَ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۷۸﴾
وہ کہنے لگے اے عزیز ! اس کا بہت ہے ( اسکی جدائی نہ کر سکے گا ) پس ہم میں سے کسی کو اس کی پکڑ لیجیے بیشک ہم تجھے نیکوکاروں سے دیکھتے ہیں ۔
قَالَ مَعَاذَ اللّٰہِ اَنۡ نَّاۡخُذَ اِلَّا مَنۡ وَّجَدۡنَا مَتَاعَنَا عِنۡدَہٗۤ ۙ اِنَّاۤ اِذًا لَّظٰلِمُوۡنَ ﴿۷۹﴾٪ 3
آپ نے کہا ہم خدا کی مانگتے ہیں اس سے کہ پکڑ لیں ہم مگر اس کو جس کے ہم نے اپنا پایا ہے ۔ ورنہ ہم ظالم ہوں گے ۔
فَلَمَّا اسۡتَیۡئَسُوۡا مِنۡہُ خَلَصُوۡا نَجِیًّا ؕ قَالَ کَبِیۡرُہُمۡ اَلَمۡ تَعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اَبَاکُمۡ قَدۡ اَخَذَ عَلَیۡکُمۡ مَّوۡثِقًا مِّنَ اللّٰہِ وَمِنۡ قَبۡلُ مَافَرَّطۡتُّمۡ فِیۡ یُوۡسُفَ ۚ فَلَنۡ اَبۡرَحَ الۡاَرۡضَ حَتّٰی یَاۡذَنَ لِیۡۤ اَبِیۡۤ اَوۡ یَحۡکُمَ اللّٰہُ لِیۡ ۚ وَہُوَ خَیۡرُ الۡحٰکِمِیۡنَ ﴿۸۰﴾
پھر جب وہ مایوس ہو گئے یوسف سے تو جا کر کرنے لگے ۔ ان کے بڑے نے کہا کیا تم نہیں جانتے کہ تمہارے نے لیا تھا تم سے وعدہ جو پختہ کیا گیا تھا اللہ کے سے اور اس سے جو یوسف کے حق میں تم کر چکے ہو ( وہ بھی تمہیں ہے ) سو میں تو نہیں چھوڑوں گا اس کو جب تک کہ نہ دیں مجھے میرے یا فرمائے اللہ تعالیٰ میرے لیے ۔ اور وہ تمام کرنے والوں سے بہتر ہے ۔
اِرۡجِعُوۡۤا اِلٰۤی اَبِیۡکُمۡ فَقُوۡلُوۡا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّ ابۡنَکَ سَرَقَ ۚ وَمَا شَہِدۡنَاۤ اِلَّا بِمَا عَلِمۡنَا وَمَا کُنَّا لِلۡغَیۡبِ حٰفِظِیۡنَ ﴿۸۱﴾
تم لوٹ جاو اپنے کی طرف پھر ( انھیں یہ ) عرض کرو اے ہمارے محترم ! بلاشبہ آپ کے بیٹے نے کی ( اس لیے وہ گرفتار کر لیا گیا ) اور ہم نے ( آپ سے ) وہی کچھ کیا جس کا ہمیں علم تھا اور ہم نہیں تھے غیب کی نگہبانی کرنے والے ۔
وَسۡئَلِ الۡقَرۡیَۃَ الَّتِیۡ کُنَّا فِیۡہَا وَالۡعِیۡرَ الَّتِیۡۤ اَقۡبَلۡنَا فِیۡہَا ؕ وَاِنَّا لَصٰدِقُوۡنَ ﴿۸۲﴾
اور اگر آپ کو اعتبار نہ آئے تو ) دریافت کیجیے والوں سے جس میں ہم رہے اور ( پوچھیے ) اس سے جس میں ہم آئے اور یقیناً ہم عرض کر رہے ہیں ۔
قَالَ بَلۡ سَوَّلَتۡ لَکُمۡ اَنۡفُسُکُمۡ اَمۡرًا ؕ فَصَبۡرٌ جَمِیۡلٌ ؕ عَسَی اللّٰہُ اَنۡ یَّاۡتِـیَنِیۡ بِہِمۡ جَمِیۡعًا ؕ اِنَّہٗ ہُوَ الۡعَلِیۡمُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۸۳﴾
آپ نے ( یہ سن کر ) کر کہا بلکہ آراستہ کر دی ہے تمہارے لیے تمہارے نفسوں نے یہ ( میرے لیے ) اب ہی زیبا ہے قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ لے آئے گا میرے ان سب کو بیشک وہ سب کچھ جاننے والا بڑا دانا ہے ۔
وَتَوَلّٰی عَنۡہُمۡ وَقَالَ یٰۤاَسَفٰی عَلٰی یُوۡسُفَ وَابۡیَضَّتۡ عَیۡنٰہُ مِنَ الۡحُزۡنِ فَہُوَ کَظِیۡمٌ ﴿۸۴﴾
اور پھیر لیا آپ نے ان کی طرف سے اور کہا ہائے ! یوسف کی جدائی پر اور سفید ہو گئیں ان کی دونوں آنکھیں کے باعث اور وہ اپنے کو ضبط کیے ہوئے تھے ۔
قَالُوۡا تَاللّٰہِ تَفۡتَؤُا تَذۡکُرُ یُوۡسُفَ حَتّٰی تَکُوۡنَ حَرَضًا اَوۡ تَکُوۡنَ مِنَ الۡہٰلِکِیۡنَ ﴿۸۵﴾
بیٹوں نے عرض کی بخدا ! آپ ہر کرتے رہتے ہیں یوسف کو ، کہیں بگڑ نہ جائے آپ کی صحت یا آپ نہ ہو جائیں ۔
قَالَ اِنَّمَاۤ اَشۡکُوۡا بَثِّیۡ وَحُزۡنِیۡۤ اِلَی اللّٰہِ وَاَعۡلَمُ مِنَ اللّٰہِ مَالَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۸۶﴾
آپ نے فرمایا میں تو شکوہ کر رہا ہوں اپنی مصیبت اور اپنے دکھوں کا خدا کی بارگاہ میں اور میں جانتا ہوں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو تم نہیں جانتے ۔
یٰبَنِیَّ اذۡہَبُوۡا فَتَحَسَّسُوۡا مِنۡ یُّوۡسُفَ وَاَخِیۡہِ وَلَا تَایۡئَسُوۡا مِنۡ رَّوۡحِ اللّٰہِ ؕ اِنَّہٗ لَا یَایۡئَسُ مِنۡ رَّوۡحِ اللّٰہِ اِلَّا الۡقَوۡمُ الۡکٰفِرُوۡنَ ﴿۸۷﴾
اے میرے بیٹو ! جاؤ اور سراغ لگاؤ یوسف کا اور اس کے کا اور مایوس نہ ہو جاؤ رحمت الٰہی سے ، بلاشبہ مایوس نہیں ہوتے رحمت الٰہی سے مگر کافر لوگ ۔
فَلَمَّا دَخَلُوۡا عَلَیۡہِ قَالُوۡا یٰۤاَیُّہَا الۡعَزِیۡزُ مَسَّنَا وَاَہۡلَنَا الضُّرُّ وَجِئۡنَا بِبِضَاعَۃٍ مُّزۡجٰىۃٍ فَاَوۡفِ لَنَا الۡکَیۡلَ وَتَصَدَّقۡ عَلَیۡنَا ؕ اِنَّ اللّٰہَ یَجۡزِی الۡمُتَصَدِّقِیۡنَ ﴿۸۸﴾
پھر جب وہ گئے ( یوسف علیہ السلام ) کے تو انھوں نے عرض کی اے عزیز ! پہنچی ہے ہمیں اور ہمارے اہل خانہ کو مصیبت اور ( اس مرتبہ ) ہم لے آئے ہیں حقیر سی پونجی ۔ پس پورا ناپ کر دیں ہمیں پیمانہ اور ( اس کے علاوہ ) ہم پر خیرات بھی کریں ۔ بیشک اللہ تعالیٰ دیتا ہے خیرات کرنے والوں کو ۔
قَالَ ہَلۡ عَلِمۡتُمۡ مَّا فَعَلۡتُمۡ بِیُوۡسُفَ وَاَخِیۡہِ اِذۡ اَنۡتُمۡ جٰہِلُوۡنَ ﴿۸۹﴾
آپ نے پوچھا کیا تمہیں علم ہے جو سلوک تم نے کیا یوسف اور اس کے کے ساتھ جب تم تھے ۔
قَالُوۡۤا ءَاِنَّکَ لَاَنۡتَ یُوۡسُفُ ؕ قَالَ اَنَا یُوۡسُفُ وَہٰذَاۤ اَخِیۡ ۫ قَدۡ مَنَّ اللّٰہُ عَلَیۡنَا ؕ اِنَّہٗ مَنۡ یَّـتَّقِ وَیَصۡبِرۡ فَاِنَّ اللّٰہَ لَا یُضِیۡعُ اَجۡرَ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۹۰﴾
۔( سراپا حیرت بن کر ) کہنے لگے کیا ( مچ ) آپ ہی یوسف ہیں ؟ فرمایا ( ہاں ) میں یوسف ہوں اور یہ میرا ہے ۔ بڑا کرم فرمایا ہے اللہ تعالیٰ نے ہم پر ۔ یقیناً جو شخص تقویٰ کرتا ہے اور کرتا ہے ( وہ آخرکار ہوتا ہے ) بلاشبہ اللہ تعالیٰ نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا ۔
قَالُوۡا تَاللّٰہِ لَقَدۡ اٰثَرَکَ اللّٰہُ عَلَیۡنَا وَاِنۡ کُنَّا لَخٰطِئِیۡنَ ﴿۹۱﴾
بھائیوں نے کہا خدا کی ! بزرگی دی ہے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہم پر اور بیشک ہم ہی خطا کار تھے ۔
قَالَ لَا تَثۡرِیۡبَ عَلَیۡکُمُ الۡیَوۡمَ ؕ یَغۡفِرُ اللّٰہُ لَکُمۡ ۫ وَہُوَ اَرۡحَمُ الرّٰحِمِیۡنَ ﴿۹۲﴾
آپ نے فرمایا نہیں کوئی تم پر آج کے فرما دے اللہ تعالیٰ تمہارے ( قصوروں ) کو اور وہ سب مہربانوں سے ہے ۔
اِذۡہَبُوۡا بِقَمِیۡصِیۡ ہٰذَا فَاَلۡقُوۡہُ عَلٰی وَجۡہِ اَبِیۡ یَاۡتِ بَصِیۡرًا ۚ وَاۡتُوۡنِیۡ بِاَہۡلِکُمۡ اَجۡمَعِیۡنَ ﴿۹۳﴾٪ 4
لے جاؤ میرا یہ پیراہن پس ڈالو اسے میرے کے چہرہ پر وہ بینا ہو جائیں گے ۔ اور ( جا کر ) لے آؤ میرے اپنے سب اہل و عیال کو ۔
وَلَمَّا فَصَلَتِ الۡعِیۡرُ قَالَ اَبُوۡہُمۡ اِنِّیۡ لَاَجِدُ رِیۡحَ یُوۡسُفَ لَوۡ لَاۤ اَنۡ تُفَنِّدُوۡنِ ﴿۹۴﴾
اور جب ( مصر سے ) روانہ ( تو ادھر کنعان میں ) ان کے نے فرمایا کہ میں تو یوسف کی خوشبو سونگھ رہا ہوں اگر تم مجھے بیوقوف خیال نہ کرو ۔
قَالُوۡا تَاللّٰہِ اِنَّکَ لَفِیۡ ضَلٰلِکَ الۡقَدِیۡمِ ﴿ٙ۹۵﴾
گھر والوں نے کہا بخدا ! ( بابا جی ! ) آپ اپنی اس پرانی میں مبتلا ہیں ۔
فَلَمَّاۤ اَنۡ جَآءَ الۡبَشِیۡرُ اَلۡقٰىہُ عَلٰی وَجۡہِہٖ فَارۡتَدَّ بَصِیۡرًا ۚ قَالَ اَلَمۡ اَقُلۡ لَّکُمۡ ۚ ۙ اِنِّیۡۤ اَعۡلَمُ مِنَ اللّٰہِ مَالَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۹۶﴾
پس جب آ پہنچا خوشخبری سنانے والا ( اور ) اس نے ڈالا وہ پیراہن آپ کے چہرہ پر تو وہ فوراً بینا ہو گئے ۔ ( آپ نے فرط مسرت سے ) کہا ( دیکھو ) کیا میں نہیں کہا کرتا تھا تمہیں کہ میں جانتا ہوں اللہ تعالیٰ ( کے جتانے ) سے جو تم نہیں جانتے ۔
قَالُوۡا یٰۤاَبَانَا اسۡتَغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوۡبَنَاۤ اِنَّا کُنَّا خٰطِئِیۡنَ ﴿۹۷﴾
بیٹوں نے عرض کی اے ہمارے پدرِ ( محترم ) مغفرت مانگیے ہمارے لیے ہمارے گناہوں کی ۔ بیشک ہم ہی قصوروار تھے ۔
قَالَ سَوۡفَ اَسۡتَغۡفِرُ لَکُمۡ رَبِّیۡ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِیۡمُ ﴿۹۸﴾
فرمایا عنقریب مغفرت طلب کرونگا تمہارے لیے اپنے رب سے ۔ بیشک وہی غفور رحیم ہے ۔
فَلَمَّا دَخَلُوۡا عَلٰی یُوۡسُفَ اٰوٰۤی اِلَیۡہِ اَبَوَیۡہِ وَقَالَ ادۡخُلُوۡا مِصۡرَ اِنۡ شَآءَ اللّٰہُ اٰمِنِیۡنَ ﴿ؕ۹۹﴾
پھر جب وہ سب یوسف کے روبرو ہوئے آپ نے دی اپنے اپنے والدین کو اور ( اُنھیں ) کہا ہو جاؤ مصر میں ۔ اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو تم خیر و عافیت سے رہو گے ۔
وَرَفَعَ اَبَوَیۡہِ عَلَی الۡعَرۡشِ وَخَرُّوۡا لَہٗ سُجَّدًا ۚ وَقَالَ یٰۤاَبَتِ ہٰذَا تَاۡوِیۡلُ رُءۡیَایَ مِنۡ قَبۡلُ ۫ قَدۡ جَعَلَہَا رَبِّیۡ حَقًّا ؕ وَقَدۡ اَحۡسَنَ بِیۡۤ اِذۡ اَخۡرَجَنِیۡ مِنَ السِّجۡنِ وَجَآءَ بِکُمۡ مِّنَ الۡبَدۡوِ مِنۡۢ بَعۡدِ اَنۡ نَّزَغَ الشَّیۡطٰنُ بَیۡنِیۡ وَبَیۡنَ اِخۡوَتِیۡ ؕ اِنَّ رَبِّیۡ لَطِیۡفٌ لِّمَا یَشَآءُ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ الۡعَلِیۡمُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۱۰۰﴾
اور ( جب شاہی دربار میں پہنچے تو ) آپ نے اوپر بٹھایا اپنے والدین کو پر اور وہ گر پڑے آپ کے لیے سجدہ کرتے ہوئے ۔ اور ( یہ منظر دیکھ کر ) یوسف نے کہا اے میرے پدر بزرگوار ! یہ ہے میرے کی جو ( عرصہ میں نے ) دیکھا تھا میرے پروردگار نے اسے سچا کر دکھایا ہے ۔ اور اس نے بڑا کرم فرمایا مجھ پر جب اس نے نکالا مجھے خانہ سے اور لے آیا تمہیں صحرا سے اس کے بعد کہ ناچاقی ڈال دی تھی شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں کے ۔ بیشک میرا رب لطف و کرم فرمانے والا ہے جس کے لیے چاہتا ہے ۔ یقیناً وہی سب کچھ جاننے والا بڑا دانا ہے ۔
رَبِّ قَدۡ اٰتَیۡتَنِیۡ مِنَ الۡمُلۡکِ وَعَلَّمۡتَنِیۡ مِنۡ تَاۡوِیۡلِ الۡاَحَادِیۡثِ ۚ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ۟ اَنۡتَ وَلِیّٖ فِی الدُّنۡیَا وَالۡاٰخِرَۃِ ۚ تَوَفَّنِیۡ مُسۡلِمًا وَّاَلۡحِقۡنِیۡ بِالصّٰلِحِیۡنَ ﴿۱۰۱﴾
اے میرے رب ! عطا فرمایا تو نے مجھے یہ ملک نیز تو نے سکھایا مجھے باتوں کے کا علم اے بنانے والے آسمانوں اور کے ! تو ہی میرا کارساز ہے میں اور میں ۔ مجھے وفات دے درآنحالیکہ میں مسلمان ہوں اور ملا دے مجھے بندوں کے ساتھ ۔
ذٰلِکَ مِنۡ اَنۡۢبَآءِ الۡغَیۡبِ نُوۡحِیۡہِ اِلَیۡکَ ۚ وَمَا کُنۡتَ لَدَیۡہِمۡ اِذۡ اَجۡمَعُوۡۤا اَمۡرَہُمۡ وَہُمۡ یَمۡکُرُوۡنَ ﴿۱۰۲﴾
۔( اے حبیب ! ) یہ قصہ غیب کی خبروں میں سے ہے جو ہم وحی کرتے ہیں آپ کی طرف ۔ اور آپ ان کے نہیں تھے جب وہ متفق ہو گئے تھے ۔ اس پر درآنحالیکہ وہ مکر کر رہے تھے ۔
وَمَاۤ اَکۡثَرُ النَّاسِ وَلَوۡ حَرَصۡتَ بِمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۰۳﴾
اور نہیں ہیں اکثر لوگ خواہ آپ کتنا ہی چاہیں ، ایمان لانے والے ۔
وَمَا تَسۡئَلُہُمۡ عَلَیۡہِ مِنۡ اَجۡرٍ ؕ اِنۡ ہُوَ اِلَّا ذِکۡرٌ لِّلۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۰۴﴾٪ 5
اور نہیں طلب کرتے آپ ان سے اس ( درس ) پر کچھ معاوضہ ۔ نہیں ہے یہ مگر سب جہانوں کے لیے ۔
وَکَاَیِّنۡ مِّنۡ اٰیَۃٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ یَمُرُّوۡنَ عَلَیۡہَا وَہُمۡ عَنۡہَا مُعۡرِضُوۡنَ ﴿۱۰۵﴾
اور کتنی ہی ( بیشمار ) نشانیاں ہیں جو آسمانوں اور ( کے ہر گوشہ ) میں سجی ہوئی ہیں پر یہ ( ہر صبح و ) گزرتے ہیں اور وہ ان سے روگردانی کیے ہوتے ہیں ۔
وَمَا یُؤۡمِنُ اَکۡثَرُہُمۡ بِاللّٰہِ اِلَّا وَہُمۡ مُّشۡرِکُوۡنَ ﴿۱۰۶﴾
اور نہیں ایمان لاتے ان میں سے اکثر اللہ کے ساتھ مگر اس میں کہ وہ شرک کرنے والے ہوتے ہیں ۔
اَفَاَمِنُوۡۤا اَنۡ تَاۡتِیَہُمۡ غَاشِیَۃٌ مِّنۡ عَذَابِ اللّٰہِ اَوۡ تَاۡتِیَہُمُ السَّاعَۃُ بَغۡتَۃً وَّہُمۡ لَا یَشۡعُرُوۡنَ ﴿۱۰۷﴾
کیا وہ بے ہو گئے ہیں اس سے کہ آئے ان پر چھا جانے والا اللہ تعالیٰ کا یا آ جائے ان پر اور انھیں اس کی آمد کا شعور تک نہ ہو ۔
قُلۡ ہٰذِہٖ سَبِیۡلِیۡۤ اَدۡعُوۡۤا اِلَی اللّٰہِ ۟ ؔ عَلٰی بَصِیۡرَۃٍ اَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِیۡ ؕ وَسُبۡحٰنَ اللّٰہِ وَمَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ ﴿۱۰۸﴾
آپ فرما دیجیے یہ میرا ہے میں تو بلاتا ہوں صرف اللہ تعالیٰ کی طرف ، واضح پر ہوں میں اور ( وہ بھی ) جو میری پیروی کرتے ہیں اور ہر عیب سے ہے اللہ تعالیٰ اور نہی ہوں میں مشرکوں سے ۔
وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِکَ اِلَّا رِجَالًا نُّوۡحِیۡۤ اِلَیۡہِمۡ مِّنۡ اَہۡلِ الۡقُرٰی ؕ اَفَلَمۡ یَسِیۡرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ فَیَنۡظُرُوۡا کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ؕ وَلَدَارُ الۡاٰخِرَۃِ خَیۡرٌ لِّلَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۱۰۹﴾
اور ہم نے ( رسول بنا کر ) نہیں بھیجے آپ سے مگر کی طرف ہم نے وحی بھیجی والوں سے ، کیا یہ ( مُنکر ) لوگ سیر و سیاحت نہیں کرتے میں تاکہ وہ دیکھیں کہ کیا تھا ان ( منکرین ) کا جو ان سے ( ہو گزرے ) تھے ۔ اور دار یقیناً بہتر ہے ان کے لیے جو تقویٰ کرتے ہیں ( اے سننے والوں ! ) کیا تم نہیں سمجھتے ۔
حَتّٰۤی اِذَا اسۡتَیۡئَسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوۡۤا اَنَّہُمۡ قَدۡ کُذِبُوۡا جَآءَہُمۡ نَصۡرُنَا ۙ فَنُجِّیَ مَنۡ نَّشَآءُ ؕ وَلَا یُرَدُّ بَاۡسُنَا عَنِ الۡقَوۡمِ الۡمُجۡرِمِیۡنَ ﴿۱۱۰﴾
جب ( کرتے کرتے ) مایوس ہو گئے رسول اور وہ منکرین کرنے لگے کہ ان سے بولا گیا ہے اس آ گئی ان کے ہماری ۔ پس بچا لیا گیا ( سے ) جس کو ہم نے چاہا ۔ اور نہیں ٹالا جا سکتا ہمارا اس قوم سے جو جرائم پیشہ ہے ۔
لَقَدۡ کَانَ فِیۡ قَصَصِہِمۡ عِبۡرَۃٌ لِّاُولِی الۡاَلۡبَابِ ؕ مَاکَانَ حَدِیۡثًا یُّفۡتَرٰی وَلٰکِنۡ تَصۡدِیۡقَ الَّذِیۡ بَیۡنَ یَدَیۡہِ وَتَفۡصِیۡلَ کُلِّ شَیۡءٍ وَّہُدًی وَّرَحۡمَۃً لِّقَوۡمٍ یُّؤۡمِنُوۡنَ ﴿۱۱۱﴾٪ 6
بلاشبہ پہلی قوموں ( کے عروج و زوال ) کی داستانوں میں ( درسِ ) عبرت ہے سمجھداروں کے لیے نہیں ہے یہ ایسی جو ( یونہی ) گھڑ لی گئی ہو بلکہ یہ تصدیق کرتی ہے ان کتابوں کی جو اس سے نازل ہوئی ہیں اور یہ ( ) ہر چیز کی تفصیل ہے اور سراپا و رحمت ہے اس قوم کے لیے جو ایمان لاتے ہیں ۔