اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ عَلٰی عَبۡدِہِ الۡکِتٰبَ وَلَمۡ یَجۡعَلۡ لَّہٗ عِوَجًا ؕ﴿ٜ۱﴾
سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جس نے نازل فرمائی اپنے ( محبوب ) بندے پر یہ اور نہیں ہونے دی اس میں ذرا کجی ۔
The Cave
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ ﴿١﴾
In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ عَلٰی عَبۡدِہِ الۡکِتٰبَ وَلَمۡ یَجۡعَلۡ لَّہٗ عِوَجًا ؕ﴿ٜ۱﴾
سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جس نے نازل فرمائی اپنے ( محبوب ) بندے پر یہ اور نہیں ہونے دی اس میں ذرا کجی ۔
قَیِّمًا لِّیُنۡذِرَ بَاۡسًا شَدِیۡدًا مِّنۡ لَّدُنۡہُ وَیُبَشِّرَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ الَّذِیۡنَ یَعۡمَلُوۡنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَہُمۡ اَجۡرًا حَسَنًا ۙ﴿۲﴾
۔( اور معاش و معاد کو ) کرنے والی ہے تاکہ ڈرائے سے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے اور یہ مژدہ سنائے ان اہل ایمان کو جو کرتے ہیں کہ بیشک ان کے لیے بہت عمدہ جزاء ہے ۔
مَّاکِثِیۡنَ فِیۡہِ اَبَدًا ۙ﴿۳﴾
وہ ٹھیریں گے اس ( ) میں تا ابد ۔
وَّیُنۡذِرَ الَّذِیۡنَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰہُ وَلَدًا ٭﴿۴﴾
اور تاکہ ڈرائے ان ( نادانوں ) کو جو یہ کہتے ہیں کہ بنا لیا ہے اللہ تعالیٰ نے ( فلاں کو اپنا ) ۔
مَالَہُمۡ بِہٖ مِنۡ عِلۡمٍ وَّلَا لِاٰبَآئِہِمۡ ؕ کَبُرَتۡ کَلِمَۃً تَخۡرُجُ مِنۡ اَفۡوَاہِہِمۡ ؕ اِنۡ یَّقُوۡلُوۡنَ اِلَّا کَذِبًا ﴿۵﴾
نہ انھیں اللہ تعالیٰ ( کی ذات و صفات ) کا کچھ علم ہے اور نہ ان کے دادا کو ، کتنی بڑی ہے وہ جو نکلتی ہے ان کے مونہوں سے وہ نہیں کہتے ہیں مگر ( تا ) ۔
فَلَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفۡسَکَ عَلٰۤی اٰثَارِہِمۡ اِنۡ لَّمۡ یُؤۡمِنُوۡا بِہٰذَا الۡحَدِیۡثِ اَسَفًا ﴿۶﴾
تو کیا آپ ( فرط سے ) تلف کر دیں گے اپنی جان کو ان کے اگر وہ ایمان نہ لائے اس کریم پر کرتے ہوئے ۔
اِنَّا جَعَلۡنَا مَاعَلَی الۡاَرۡضِ زِیۡنَۃً لَّہَا لِنَبۡلُوَہُمۡ اَیُّہُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا ﴿۷﴾
بیشک ہم نے بنایا ان چیزوں کو جو پر ہیں اس کے لیے باعث و آرائش تاکہ ہم انھیں آزمائیں کہ ان میں سے کون عمل کے سے بہتر ہے ۔
وَاِنَّا لَجٰعِلُوۡنَ مَاعَلَیۡہَا صَعِیۡدًا جُرُزًا ؕ﴿۸﴾
اور ہم ہی بنانے والے ہیں ان چیزوں کو جو پر ہیں ( ویران کر کے ) چٹیل میدان ، غیر ۔
اَمۡ حَسِبۡتَ اَنَّ اَصۡحٰبَ الۡکَہۡفِ وَالرَّقِیۡمِ ۙ کَانُوۡا مِنۡ اٰیٰتِنَا عَجَبًا ﴿۹﴾
کیا آپ خیال کرتے ہیں کہ والے اور رقیم والے ہماری ان نشانیوں میں سے ہیں جو تعجب خیز ہیں ۔
اِذۡ اَوَی الۡفِتۡیَۃُ اِلَی الۡکَہۡفِ فَقَالُوۡا رَبَّنَاۤ اٰتِنَا مِنۡ لَّدُنۡکَ رَحۡمَۃً وَّہَیِّیٔۡ لَنَا مِنۡ اَمۡرِنَا رَشَدًا ﴿۱۰﴾
۔( کرو ) جب لی ان جوانوں نے میں پھر انھوں نے مانگی اے ہمارے رب ! ہمیں مرحمت فرما اپنی جناب سے رحمت اور مہیا فرما ہمارے لیے اس میں ۔
فَضَرَبۡنَا عَلٰۤی اٰذَانِہِمۡ فِی الۡکَہۡفِ سِنِیۡنَ عَدَدًا ﴿ۙ۱۱﴾
پس ہم نے کر دئیے ان کے کان ( سننے سے ) اس میں کئی تک جو گنے ہوئے تھے ۔
ثُمَّ بَعَثۡنٰہُمۡ لِنَعۡلَمَ اَیُّ الۡحِزۡبَیۡنِ اَحۡصٰی لِمَا لَبِثُوۡۤا اَمَدًا ﴿۱۲﴾٪ 13
پھر ہم نے انھیں بیدار کر دیا تاکہ ہم دیکھیں کہ ان دو گروہوں میں سے کون صحیح شمار کر سکتا ہے اس کا جو وہ ( ) میں ٹھہرے تھے ۔
نَحۡنُ نَقُصُّ عَلَیۡکَ نَبَاَہُمۡ بِالۡحَقِّ ؕ اِنَّہُمۡ فِتۡیَۃٌ اٰمَنُوۡا بِرَبِّہِمۡ وَزِدۡنٰہُمۡ ہُدًی ﴿٭ۖ۱۳﴾
۔( اے حبیب ! ) ہم کرتے ہیں آپ سے ان کی ٹھیک ٹھیک بیشک وہ چند نوجوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لائے اور ہم نے ان کے ( نور ) میں اضافہ کر دیا ۔
وَّرَبَطۡنَا عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ اِذۡ قَامُوۡا فَقَالُوۡا رَبُّنَا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ لَنۡ نَّدۡعُوَا۠ مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اِلٰـہًا لَّقَدۡ قُلۡنَاۤ اِذًا شَطَطًا ﴿۱۴﴾
اور ہم نے کر دیا ان کے دلوں کو جب وہ راہ حق میں کھڑے ہو گئے تو انھوں نے ( برملا ) کہہ دیا ہمارا پروردگار وہ ہے جو پروردگار ہے آسمانوں اور کا ہم ہرگز نہیں پکاریں گے اس کے سوا کسی معبود کو ( اگر ہم ایسا کریں ) تو گویا ہم نے ایسی کہی جو حق سے ہے ۔
ہٰۤؤُلَآءِ قَوۡمُنَا اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اٰلِہَۃً ؕ لَوۡ لَا یَاۡتُوۡنَ عَلَیۡہِمۡ بِسُلۡطٰنٍ ۢ بَیِّنٍ ؕ فَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا ﴿ؕ۱۵﴾
یہ ہماری قوم ہے جنھوں نے بنا لیا ہے اس کے سوا غیروں کو ( اپنے ) خدا ۔ کیوں نہیں کرتے ان ( کی خدائی ) پر کوئی ایسی جو روشن ہو ورنہ پھر اس سے بڑا ظالم کون ہے جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹا باندھتا ہے ۔
وَاِذِ اعۡتَزَلۡتُمُوۡہُمۡ وَمَا یَعۡبُدُوۡنَ اِلَّا اللّٰہَ فَاۡ وٗۤا اِلَی الۡکَہۡفِ یَنۡشُرۡ لَکُمۡ رَبُّکُمۡ مِّنۡ رَّحۡمَتِہٖ وَیُہَیِّیٔۡ لَکُمۡ مِّنۡ اَمۡرِکُمۡ مِّرۡفَقًا ﴿۱۶﴾
اور جب تم ہو گئے ہو ان ( کفار ) سے اور ان معبودوں سے کی یہ پوجا کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کے سوا ۔ تو اب لو میں پھیلا دے گا تمہارے لیے تمہارا رب اپنی رحمت ( کا دامن ) اور مہیا کر دے گا تمہارے لیے تمہارے اس میں آسانیاں ۔
وَتَرَی الشَّمۡسَ اِذَا طَلَعَتۡ تَّزٰوَرُ عَنۡ کَہۡفِہِمۡ ذَاتَ الۡیَمِیۡنِ وَاِذَا غَرَبَتۡ تَّقۡرِضُہُمۡ ذَاتَ الشِّمَالِ وَہُمۡ فِیۡ فَجۡوَۃٍ مِّنۡہُ ؕ ذٰلِکَ مِنۡ اٰیٰتِ اللّٰہِ ؕ مَنۡ یَّہۡدِ اللّٰہُ فَہُوَ الۡمُہۡتَدِ ۚ وَمَنۡ یُّضۡلِلۡ فَلَنۡ تَجِدَ لَہٗ وَلِیًّا مُّرۡشِدًا ﴿٪۱۷﴾ 14
اور تو دیکھے گا سورج کو جب وہ ابھرتا ہے تو وہ ہٹ کر گزرتا ہے ان کی سے دائیں اور جب وہ ڈوبتا ہے تو بائیں طرف کتراتا ڈوبتا ہے اور وہ ( سو رہے ) ہیں ایک کشادہ میں ۔ ( سورج ) کا یوں ( طلوع و غروب ) اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہے ( حقیقت یہ ہے ) کہ جسے اللہ تعالیٰ دے وہی یافتہ ہے اور جسے وہ گمراہ کر دے تو تو نہیں پائیگا اس کے لیے کوئی ( اور ) رہنما ۔
وَتَحۡسَبُہُمۡ اَیۡقَاظًا وَّہُمۡ رُقُوۡدٌ ٭ۖ وَّنُقَلِّبُہُمۡ ذَاتَ الۡیَمِیۡنِ وَذَاتَ الشِّمَالِ ٭ۖ وَکَلۡبُہُمۡ بَاسِطٌ ذِرَاعَیۡہِ بِالۡوَصِیۡدِ ؕ لَوِ اطَّلَعۡتَ عَلَیۡہِمۡ لَوَلَّیۡتَ مِنۡہُمۡ فِرَارًا وَّلَمُلِئۡتَ مِنۡہُمۡ رُعۡبًا ﴿۱۸﴾
اور ( اگر تو دیکھے تو ) تو انھیں بیدار خیال کرے گا حالانکہ وہ سو رہے ہیں اور ہم ان کی کروٹ بدلتے رہتے ہیں ( کبھی ) دائیں اور ( کبھی ) بائیں اور ان کا کتا پھیلائے بیٹھا ہے اپنے دونوں ان کی دہلیز پر اگر تو جھانک کر انھیں دیکھے تو ان سے پھیر کر بھاگ ہو اور تو بھر جائے ان کے ( منظر ) کو دیکھ کر ہیبت سے ۔
وَکَذٰلِکَ بَعَثۡنٰہُمۡ لِیَتَسَآءَلُوۡا بَیۡنَہُمۡ ؕ قَالَ قَآئِلٌ مِّنۡہُمۡ کَمۡ لَبِثۡتُمۡ ؕ قَالُوۡا لَبِثۡنَا یَوۡمًا اَوۡ بَعۡضَ یَوۡمٍ ؕ قَالُوۡا رَبُّکُمۡ اَعۡلَمُ بِمَا لَبِثۡتُمۡ ؕ فَابۡعَثُوۡۤا اَحَدَکُمۡ بِوَرِقِکُمۡ ہٰذِہٖۤ اِلَی الۡمَدِیۡنَۃِ فَلۡیَنۡظُرۡ اَیُّہَاۤ اَزۡکٰی طَعَامًا فَلۡیَاۡتِکُمۡ بِرِزۡقٍ مِّنۡہُ وَلۡـیَؔتَلَطَّفۡ وَلَا یُشۡعِرَنَّ بِکُمۡ اَحَدًا ﴿۱۹﴾
اور اسی طرح ہم نے انھیں بیدار کر دیا تاکہ وہ ایک دوسرے سے آپس میں پوچھیں ۔ کہنے لگا ایک کہنے والا ان سے کہ تم یہاں کتنی ٹھہرے ہو ؟ بعض نے کہا ہم ٹھہرے ہوں گے ایک یا کا کچھ ۔ دوسروں نے کہا تمہارا رب بہتر جانتا ہے جتنی تم ٹھہرے ہو ۔ پس بھیجو کسی کو اپنے ساتھیوں سے اپنے ایک سکہ کے ساتھ کی طرف پس وہ دیکھے کہ کس کے ہاں عمدہ پاکیزہ ملتا ہے پس وہ لے آئے تمہارے وہاں سے ۔ اسے چاہیے کہ خلقی سے لے اور کسی کو تمہاری نہ ہونے دے ۔
اِنَّہُمۡ اِنۡ یَّظۡہَرُوۡا عَلَیۡکُمۡ یَرۡجُمُوۡکُمۡ اَوۡ یُعِیۡدُوۡکُمۡ فِیۡ مِلَّتِہِمۡ وَلَنۡ تُفۡلِحُوۡۤا اِذًا اَبَدًا ﴿۲۰﴾
وہ لوگ اگر ہو گئے تم پر تو وہ تمہیں مار مار کر کر دیں گے یا تمہیں ( جبراً ) لوٹا دیں گے اپنے ( جھوٹے ) مذہب میں اور ( اگر تم نے ایسا کیا ) تو تم کبھی بھی فلاح نہیں پا سکو گے ۔
وَکَذٰلِکَ اَعۡثَرۡنَا عَلَیۡہِمۡ لِیَعۡلَمُوۡۤا اَنَّ وَعۡدَ اللّٰہِ حَقٌّ وَّاَنَّ السَّاعَۃَ لَا رَیۡبَ فِیۡہَا ۚ٭ اِذۡ یَتَنَازَعُوۡنَ بَیۡنَہُمۡ اَمۡرَہُمۡ فَقَالُوا ابۡنُوۡا عَلَیۡہِمۡ بُنۡیَانًا ؕ رَبُّہُمۡ اَعۡلَمُ بِہِمۡ ؕ قَالَ الَّذِیۡنَ غَلَبُوۡا عَلٰۤی اَمۡرِہِمۡ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَیۡہِمۡ مَّسۡجِدًا ﴿۲۱﴾
اور والوں کو ہم نے اچانگ کر دیا ان ( اصحاب کہف ) پر تاکہ وہ جان لیں کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے اور بلاشبہ کے آنے میں کوئی شبہ نہیں ۔ جب وہ والے جھگڑ رہے تھے آپس میں ان کے معاملہ میں تو بعض نے کہا کہ ( بطور یادگار ) تعمیر کرو ان کے پر کوئی عمارت ان کا رب ان کے احوال سے خوب واقف ہے ، کہنے لگے وہ لوگ جو تھے اپنے پر کہ بخدا ہم تو ضرور ان پر ایک مسجد بنائیں گے ۔
سَیَقُوۡلُوۡنَ ثَلٰثَۃٌ رَّابِعُہُمۡ کَلۡبُہُمۡ ۚ وَیَقُوۡلُوۡنَ خَمۡسَۃٌ سَادِسُہُمۡ کَلۡبُہُمۡ رَجۡمًۢا بِالۡغَیۡبِ ۚ وَیَقُوۡلُوۡنَ سَبۡعَۃٌ وَّثَامِنُہُمۡ کَلۡبُہُمۡ ؕ قُلۡ رَّبِّیۡۤ اَعۡلَمُ بِعِدَّتِہِمۡ مَّا یَعۡلَمُہُمۡ اِلَّا قَلِیۡلٌ ۬۟ فَلَا تُمَارِ فِیۡہِمۡ اِلَّا مِرَآءً ظَاہِرًا ۪ وَّلَا تَسۡتَفۡتِ فِیۡہِمۡ مِّنۡہُمۡ اَحَدًا ﴿٪۲۲﴾ 15
کچھ کہیں گے کہ اصحاب کہف تین تھے چوتھا ان کا کتا تھا کچھ کہیں گے وہ پانچ تھے چھٹا ان کا کتا تھا یہ سب تخمینے ہیں بن دیکھے ۔ اور کچھ کہیں گے وہ سات تھے اور آٹھواں ان کا کتا تھا آپ فرمائیے ( اس بحث کو رہنے دو ) میرا رب بہتر جانتا ہے ان کی تعداد کو ( اور ) نہیں جانتے ان ( کی صحیح تعداد ) کو مگر چند آدمی ۔ سو بحث نہ کرو ان کے بارے میں بجز اس کے کہ سرسری سی گفتگو ہو جائے اور نہ دریافت کرو ان کے متعلق ( اہل ) میں سے کسی اور سے ۔
وَلَا تَقُوۡلَنَّ لِشَایۡءٍ اِنِّیۡ فَاعِلٌ ذٰلِکَ غَدًا ﴿ۙ۲۳﴾
ہرگز نہ کہنا کسی چیز کے متعلق کہ میں اسے کرنے والا ہوں ۔
اِلَّاۤ اَنۡ یَّشَآءَ اللّٰہُ ۫ وَاذۡکُرۡ رَّبَّکَ اِذَا نَسِیۡتَ وَقُلۡ عَسٰۤی اَنۡ یَّہۡدِیَنِ رَبِّیۡ لِاَقۡرَبَ مِنۡ ہٰذَا رَشَدًا ﴿۲۴﴾
مگر ( یہ کہ ساتھ یہ بھی کہو ) اگر چاہا اللہ تعالیٰ نے اور کر اپنے رب کو جب تو بھول جائے ( یہ بھی ) کہو کہ مجھے ہے کہ دکھا دے گا مجھے میرا رب اس سے بھی قریب تر کی راہ ۔
وَلَبِثُوۡا فِیۡ کَہۡفِہِمۡ ثَلٰثَ مِائَۃٍ سِنِیۡنَ وَازۡدَادُوۡا تِسۡعًا ﴿۲۵﴾
اور ( اہل کہتے ہیں کہ ) وہ ٹھیرے رہے اپنے میں تین سو اور کیے انھوں نے ( اس پر ) نو ۔
قُلِ اللّٰہُ اَعۡلَمُ بِمَا لَبِثُوۡا ۚ لَہٗ غَیۡبُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ؕ اَبۡصِرۡ بِہٖ وَاَسۡمِعۡ ؕ مَالَہُمۡ مِّنۡ دُوۡنِہٖ مِنۡ وَّلِیٍّ ۫ وَّلَا یُشۡرِکُ فِیۡ حُکۡمِہٖۤ اَحَدًا ﴿۲۶﴾
آپ فرمائیے اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے جتنی وہ ٹھیرے اسی کے لیے ( علم ) غیب ہے آسمانوں اور کا ۔ وہ بڑا دیکھنے والا ہے اور سب باتیں سننے والا ہے نہیں ان کا اس کے سوا کوئی اور وہ نہیں کرتا اپنے میں کسی کو ۔
وَاتۡلُ مَاۤ اُوۡحِیَ اِلَیۡکَ مِنۡ کِتَابِ رَبِّکَ ۚ ؕ لَا مُبَدِّلَ لِکَلِمٰتِہٖ ۚ ۟ وَلَنۡ تَجِدَ مِنۡ دُوۡنِہٖ مُلۡتَحَدًا ﴿۲۷﴾
اور پڑھ سنائیے ( انھیں ) جو وحی کیا جاتا ہے آپ کی طرف آپ کے رب کی سے ۔ کوئی بدلنے والا نہیں اس کے ارشادات کا ۔ اور نہیں پائیں گے آپ اس کے سوا کوئی گاہ ۔
وَاصۡبِرۡ نَفۡسَکَ مَعَ الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ رَبَّہُمۡ بِالۡغَدٰوۃِ وَالۡعَشِیِّ یُرِیۡدُوۡنَ وَجۡہَہٗ وَلَا تَعۡدُ عَیۡنٰکَ عَنۡہُمۡ ۚ تُرِیۡدُ زِیۡنَۃَ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۚ وَلَا تُطِعۡ مَنۡ اَغۡفَلۡنَا قَلۡبَہٗ عَنۡ ذِکۡرِنَا وَاتَّبَعَ ہَوٰىہُ وَکَانَ اَمۡرُہٗ فُرُطًا ﴿۲۸﴾ ؓ
اور روکے رکھئے اپنے آپ کو ان لوگوں کے ساتھ جو پکارتے ہیں اپنے رب کو صبح و طلب گار ہیں اس کی رضا کے اور نہ ہٹیں آپ کی نگاہیں ان سے ، کیا آپ چاہتے ہیں دنیوی زندگی کی اور نہ پیروی کیجیے اس ( بدنصیب ) کی ، کر دیا ہے ہم نے جس کے کو اپنی سے اور وہ اتباع کرتا ہے اپنی کا اور اس کا معاملہ سے گزر گیا ہے ۔
وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّکُمۡ ۟ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡیُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡیَکۡفُرۡ ۙ اِنَّاۤ اَعۡتَدۡنَا لِلظّٰلِمِیۡنَ نَارًا ۙ اَحَاطَ بِہِمۡ سُرَادِقُہَا ؕ وَاِنۡ یَّسۡتَغِیۡثُوۡا یُغَاثُوۡا بِمَآءٍ کَالۡمُہۡلِ یَشۡوِی الۡوُجُوۡہَ ؕ بِئۡسَ الشَّرَابُ ؕ وَسَآءَتۡ مُرۡتَفَقًا ﴿۲۹﴾
اور فرمائیے حق تمہارے رب کی طرف سے ہے پس جس کا جی چاہے وہ ایمان لے آئے اور جس کا جی چاہے کفر کرتا رہے ۔ بیشک ہم نے کر رکھی ہے ظالموں کے لیے گھیر لیا ہے انھیں اس کی نے ۔ اور اگر وہ کریں گے تو ان کی کی جائے گی ایسے کے ساتھ جو کی طرح ( غلیظ ) ہے ( اور اتنا گرم کہ ) بھون ڈالتا ہے چہروں کو یہ مشروب بڑا ناگوار ہے اور یہ قرارگاہ بڑی دہ ہے ۔
اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اِنَّا لَا نُضِیۡعُ اَجۡرَ مَنۡ اَحۡسَنَ عَمَلًا ﴿ۚ۳۰﴾
بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے ( تو ہمارا یہ دستور ہے کہ ) ہم ضائع نہیں کرتے کسی کا اجر جو عمدہ اور ( مفید ) کرتا ہے ۔
اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ جَنّٰتُ عَدۡنٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہِمُ الۡاَنۡہٰرُ یُحَلَّوۡنَ فِیۡہَا مِنۡ اَسَاوِرَ مِنۡ ذَہَبٍ وَّیَلۡبَسُوۡنَ ثِیَابًا خُضۡرًا مِّنۡ سُنۡدُسٍ وَّاِسۡتَبۡرَقٍ مُّتَّکِئِیۡنَ فِیۡہَا عَلَی الۡاَرَآئِکِ ؕ نِعۡمَ الثَّوَابُ ؕ وَحَسُنَتۡ مُرۡتَفَقًا ﴿٪۳۱﴾ 16
یہی وہ نصیب ہیں جنکے لیے ہمیشگی کے ہیں رواں ہیں کے ندیاں ، انھیں پہنائے جائیں گے ان جنتوں میں کنگن سونے کے اور پہنیں گے سبز کا لباس جو باریک ریشمی کپڑے اور موٹے ریشمی کپڑے کا بنا ہو گا ۔ تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے وہاں مرصع پلنگوں پر ۔ کتنا ہے یہ اجر اور کتنی عمدہ ہے یہ گاہ ۔
وَاضۡرِبۡ لَہُمۡ مَّثَلًا رَّجُلَیۡنِ جَعَلۡنَا لِاَحَدِہِمَا جَنَّتَیۡنِ مِنۡ اَعۡنَابٍ وَّحَفَفۡنٰہُمَا بِنَخۡلٍ وَّجَعَلۡنَا بَیۡنَہُمَا زَرۡعًا ﴿ؕ۳۲﴾
اور فرمائیے ان کے لیے مثال دو آدمیوں کی ، ہم نے دیے تھے ان دونوں میں سے ایک کو دو انگوروں کے اور ہم نے باڑ بنا دی ان دونوں کے اردگرد ( کے درختوں ) کی اور اگا دی ان دونوں کے کھیتی ۔
کِلۡتَا الۡجَنَّتَیۡنِ اٰتَتۡ اُکُلَہَا وَلَمۡ تَظۡلِمۡ مِّنۡہُ شَیۡئًا ۙ وَّفَجَّرۡنَا خِلٰلَہُمَا نَہَرًا ﴿ۙ۳۳﴾
یہ دونوں اپنے اپنے لائے اور نہ ہوئی ان سے کوئی چیز اور ہم نے جاری کر دیں ان کے نہریں ۔
وَّکَانَ لَہٗ ثَمَرٌ ۚ فَقَالَ لِصَاحِبِہٖ وَہُوَ یُحَاوِرُہٗۤ اَنَا اَکۡثَرُ مِنۡکَ مَالًا وَّاَعَزُّ نَفَرًا ﴿۳۴﴾
اور ( باغوں کے علاوہ ) اور بھی اس کے اموال تھے تو ( ایک روز ) اس نے اپنے سے بحث مباحثہ کے دوران کہا کہ میں دولت کہ سے بھی تم سے ہوں اور نفری کے سے بھی تم سے طاقتور ہوں ۔
وَدَخَلَ جَنَّتَہٗ وَہُوَ ظَالِمٌ لِّنَفۡسِہٖ ۚ قَالَ مَاۤ اَظُنُّ اَنۡ تَبِیۡدَ ہٰذِہٖۤ اَبَدًا ﴿ۙ۳۵﴾
اور ( ایک ) وہ اپنے میں گیا درآنحالیکہ وہ اپنی جان پر ظلم کرنے والا تھا ، کہنے لگا میں نہیں خیال کرتا کہ ( یہ سبز و شاداب ) کبھی ہو گا ۔
وَّمَاۤ اَظُنُّ السَّاعَۃَ قَآئِمَۃً ۙ وَّلَئِنۡ رُّدِدۡتُّ اِلٰی رَبِّیۡ لَاَجِدَنَّ خَیۡرًا مِّنۡہَا مُنۡقَلَبًا ﴿۳۶﴾
اور میں یہ خیال بھی نہیں کرتا کہ کبھی بھی برپا ہو گی اور بفرض محال اگر مجھے لوٹایا گیا اپنے رب کی طرف تو یقیناً میں پاؤنگا اس ( نزہتگاہ ) سے بہتر پلٹنے کی ۔
قَالَ لَہٗ صَاحِبُہٗ وَہُوَ یُحَاوِرُہٗۤ اَکَفَرۡتَ بِالَّذِیۡ خَلَقَکَ مِنۡ تُرَابٍ ثُمَّ مِنۡ نُّطۡفَۃٍ ثُمَّ سَوّٰىکَ رَجُلًا ﴿ؕ۳۷﴾
اس کے نے اسے بحث و مباحثہ کے کہا کیا تو کرتا ہے اس ذات کا جس نے تجھے فرمایا سے پھر نطفہ سے پھر بنا سنوار کر تجھے بنایا ۔
لٰکِنَّا۠ ہُوَ اللّٰہُ رَبِّیۡ وَلَاۤ اُشۡرِکُ بِرَبِّیۡۤ اَحَدًا ﴿۳۸﴾
لیکن میں ، ( تو ) وہ اللہ ہی میرا رب ہے اور میں نہیں ٹھیراتا اپنے رب کے ساتھ کسی کو ۔
وَلَوۡ لَاۤ اِذۡ دَخَلۡتَ جَنَّتَکَ قُلۡتَ مَاشَآءَ اللّٰہُ ۙ لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ ۚ اِنۡ تَرَنِ اَنَا اَقَلَّ مِنۡکَ مَالًا وَّوَلَدًا ﴿ۚ۳۹﴾
اور کیوں ایسا نہ کہ جب تو میں تو تو کہتا ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ ( وہی ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی کے بغیر کسی میں کوئی نہیں ) اگر تو نے مجھے دیکھا کہ میں ہوں تجھ سے اور میں ۔
فَعَسٰی رَبِّیۡۤ اَنۡ یُّؤۡتِیَنِ خَیۡرًا مِّنۡ جَنَّتِکَ وَیُرۡسِلَ عَلَیۡہَا حُسۡبَانًا مِّنَ السَّمَآءِ فَتُصۡبِحَ صَعِیۡدًا زَلَقًا ﴿ۙ۴۰﴾
پس عجب نہیں کہ میرا رب مجھے عطا فرما دے کوئی بہتر چیز تیرے ( اس ) سے اور اتارے اس پر کوئی آسمانی تو ہو جائے یہ ( سبز ) ایک چٹیل میدان ۔
اَوۡ یُصۡبِحَ مَآؤُہَا غَوۡرًا فَلَنۡ تَسۡتَطِیۡعَ لَہٗ طَلَبًا ﴿۴۱﴾
یا یوں جذب ہو جائے اس کا کی میں کہ پھر تو اس کو تلاش کے باوجود نہ پا سکے ۔
وَاُحِیۡطَ بِثَمَرِہٖ فَاَصۡبَحَ یُقَلِّبُ کَفَّیۡہِ عَلٰی مَاۤ اَنۡفَقَ فِیۡہَا وَہِیَ خَاوِیَۃٌ عَلٰی عُرُوۡشِہَا وَیَقُوۡلُ یٰلَیۡتَنِیۡ لَمۡ اُشۡرِکۡ بِرَبِّیۡۤ اَحَدًا ﴿۴۲﴾
اور اس کے ( ) کا ہو گیا پس وہ کف ملنے لگا اس کے پر جو اس نے پر کیا تھا اور ( اب ) وہ گرا پڑا تھا اپنے چھپروں پر اور ( بصد حسرت ) کہنے لگا کاش ! میں نے کسی کو اپنے رب کا نہ بنایا ہوتا ۔
وَلَمۡ تَکُنۡ لَّہٗ فِئَۃٌ یَّنۡصُرُوۡنَہٗ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ وَمَا کَانَ مُنۡتَصِرًا ﴿ؕ۴۳﴾
اور نہ رہی تھی اس کے کوئی جو اس کی کرتی اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں اور نہ وہ لینے کے قابل تھا ۔
ہُنَالِکَ الۡوَلَایَۃُ لِلّٰہِ الۡحَقِّ ؕ ہُوَ خَیۡرٌ ثَوَابًا وَّخَیۡرٌ عُقۡبًا ﴿۴۴﴾٪ 17
یہاں سے ہو گیا کہ سارا اللہ سچے کے لیے ہے ۔ وہی بہتر ثواب دینے والا ہے اور اس کے میں بہتر ہے ۔
وَاضۡرِبۡ لَہُمۡ مَّثَلَ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا کَمَآءٍ اَنۡزَلۡنٰہُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخۡتَلَطَ بِہٖ نَبَاتُ الۡاَرۡضِ فَاَصۡبَحَ ہَشِیۡمًا تَذۡرُوۡہُ الرِّیٰحُ ؕ وَکَانَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ مُّقۡتَدِرًا ﴿۴۵﴾
بیان فرمائیے ان سے دنیوی زندگی کی ( ایک اور ) مثال یہ کی طرح ہے جسے ہم نے اتارا ہے سے پس گنجان ہو کر اگتی ہیں اس سے کی انگوریاں پھر کچھ عرصہ کے بعد وہ گھاس ہو جاتی ہے اڑائے پھرتی ہے اسے ہوائیں ۔ اور اللہ تعالیٰ پر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے ۔
اَلۡمَالُ وَالۡبَنُوۡنَ زِیۡنَۃُ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۚ وَالۡبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیۡرٌ عِنۡدَ رَبِّکَ ثَوَابًا وَّخَیۡرٌ اَمَلًا ﴿۴۶﴾
مال اور فرزند ( تو صرف ) دنیوی زندگی کی زیب و ہیں اور ( در حقیقت ) رہنے والی نیکیاں بہتر ہیں تیرے رب کے ہاں ثواب کے اعتبار سے اور بہتر ہے سے وابستہ کی جاتی ہے ۔
وَیَوۡمَ نُسَیِّرُ الۡجِبَالَ وَتَرَی الۡاَرۡضَ بَارِزَۃً ۙ وَّحَشَرۡنٰہُمۡ فَلَمۡ نُغَادِرۡ مِنۡہُمۡ اَحَدًا ﴿ۚ۴۷﴾
اور ( کرو ) جس روز ہم ہٹا دیں گے پہاڑوں کو ( انکی سے ) اور تم دیکھو گے کو کہ کھلا میدان ہے ، اور ہم جمع کریں گے انھیں پس نہیں رہنے دیں گے ان میں سے کسی کو ۔
وَعُرِضُوۡا عَلٰی رَبِّکَ صَفًّا ؕ لَقَدۡ جِئۡتُمُوۡنَا کَمَا خَلَقۡنٰکُمۡ اَوَّلَ مَرَّۃٍ ۢ ۫ بَلۡ زَعَمۡتُمۡ اَلَّنۡ نَّجۡعَلَ لَکُمۡ مَّوۡعِدًا ﴿۴۸﴾
اور وہ کیے جائیں گے آپ کے رب کی بارگاہ میں صفیں باندھے ہوئے ( پھر ہم انھیں کہیں گے کہ ) آج تم آ گئے ہو ہمارے جیسے ہم نے کیا تھا تمہیں پہلی بار ، ہاں تم تو یہ خیال کیے ہوئے تھے کہ ہم نہیں کریں گے تمہارے لیے وعدہ کا ۔
وَوُضِعَ الۡکِتٰبُ فَتَرَی الۡمُجۡرِمِیۡنَ مُشۡفِقِیۡنَ مِمَّا فِیۡہِ وَیَقُوۡلُوۡنَ یٰوَیۡلَتَنَا مَالِ ہٰذَا الۡکِتٰبِ لَا یُغَادِرُ صَغِیۡرَۃً وَّلَا کَبِیۡرَۃً اِلَّاۤ اَحۡصٰہَا ۚ وَوَجَدُوۡا مَاعَمِلُوۡا حَاضِرًا ؕ وَلَا یَظۡلِمُ رَبُّکَ اَحَدًا ﴿٪۴۹﴾ 18
اور رکھ دیا جائے گا ( انکے ) نامہ عمل پس تو دیکھے گا مجرموں کو کہ وہ ڈر رہے ہوں گے اس سے جو اس میں ہے وہ کہیں گے صد حیف ! اس نوشتہ کو کیا ہو گیا ہے کہ نہیں چھوڑا اس نے کسی چھوٹے کو اور نہ کسی بڑے کو مگر اس نے اس کا شمار کر لیا ہے اور ( اُس ) وہ پا لیں گے جو عمل انھوں نے کیے تھے اپنے ۔ اور آپکا رب تو ( اے حبیب ! ) کسی پر نہیں کرتا ۔
وَاِذۡ قُلۡنَا لِلۡمَلٰٓئِکَۃِ اسۡجُدُوۡا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوۡۤا اِلَّاۤ اِبۡلِیۡسَ ؕ کَانَ مِنَ الۡجِنِّ فَفَسَقَ عَنۡ اَمۡرِ رَبِّہٖ ؕ اَفَتَتَّخِذُوۡنَہٗ وَذُرِّیَّتَہٗۤ اَوۡلِیَآءَ مِنۡ دُوۡنِیۡ وَہُمۡ لَکُمۡ عَدُوٌّ ؕ بِئۡسَ لِلظّٰلِمِیۡنَ بَدَلًا ﴿۵۰﴾
اور کرو جب ہم نے دیا فرشتوں کو کہ سجدہ کرو آدم کو پس سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے ۔ وہ قوم جِنّ سے تھا سو اس نے کی اپنے رب کے کی ( اے آدم ! ) کیا تم بناتے ہو اسے اور اس کی ذریت کو اپنا مجھے چھوڑ کر حالانکہ وہ سب تمہارے ہیں ظالموں کے لیے بہت برا ہے ۔
مَاۤ اَشۡہَدۡتُّہُمۡ خَلۡقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَلَا خَلۡقَ اَنۡفُسِہِمۡ ۪ وَمَا کُنۡتُ مُتَّخِذَ الۡمُضِلِّیۡنَ عَضُدًا ﴿۵۱﴾
میں نے ان سے نہیں لی تھی جب آسمانوں اور کو کیا اور نہ ( اس ان سے لی ) جب خود انھیں کیا اور میں نہیں بنایا کرتا گمراہ کرنے والوں کو اپنا دست و ۔
وَیَوۡمَ یَقُوۡلُ نَادُوۡا شُرَکَآءِیَ الَّذِیۡنَ زَعَمۡتُمۡ فَدَعَوۡہُمۡ فَلَمۡ یَسۡتَجِیۡبُوۡا لَہُمۡ وَجَعَلۡنَا بَیۡنَہُمۡ مَّوۡبِقًا ﴿۵۲﴾
اور اس روز اللہ تعالیٰ ( کفار کو ) فرمائے گا بلاؤ میرے شریکوں کو جنھیں تم ( میرا ) خیال کیا کرتے تھے تو وہ انھیں پکاریں گے پس وہ انھیں کوئی نہیں دیں گے ۔ اور ہم حائل کر دیں گے ان کے ایک ۔
وَرَاَ الۡمُجۡرِمُوۡنَ النَّارَ فَظَنُّوۡۤا اَنَّہُمۡ مُّوَاقِعُوۡہَا وَلَمۡ یَجِدُوۡا عَنۡہَا مَصۡرِفًا ﴿٪۵۳﴾ 19
اور دیکھیں گے مجرم ( جہنم کی ) کو اور وہ خیال کریں گے کہ وہ اس میں گرنے والے ہیں اور نہ پائیں گے اس سے پانے کی کوئی ۔
وَلَقَدۡ صَرَّفۡنَا فِیۡ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنِ لِلنَّاسِ مِنۡ کُلِّ مَثَلٍ ؕ وَکَانَ الۡاِنۡسَانُ اَکۡثَرَ شَیۡءٍ جَدَلًا ﴿۵۴﴾
اور بیشک ہم نے طرح طرح سے بار بار کی ہیں اس میں لوگوں کے لیے ہر کی مثالیں اور ہر چیز سے بڑھ کر جھگڑالو ہے ۔
وَمَا مَنَعَ النَّاسَ اَنۡ یُّؤۡمِنُوۡۤا اِذۡ جَآءَہُمُ الۡہُدٰی وَیَسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّہُمۡ اِلَّاۤ اَنۡ تَاۡتِیَہُمۡ سُنَّۃُ الۡاَوَّلِیۡنَ اَوۡ یَاۡتِیَہُمُ الۡعَذَابُ قُبُلًا ﴿۵۵﴾
اور کس چیز نے روکا ہے لوگوں کو اس سے کہ وہ ایمان لے آئیں جب آ گئی ان کے ( کی ) اور مغفرت طلب کریں اپنے رب سے مگر یہ ( کہ وہ منتظر ہیں ) کہ آئے ان کے اگلوں کا دستور یا آئے ان کے طرح طرح کا ۔
وَمَا نُرۡسِلُ الۡمُرۡسَلِیۡنَ اِلَّا مُبَشِّرِیۡنَ وَمُنۡذِرِیۡنَ ۚ وَیُجَادِلُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِالۡبَاطِلِ لِیُدۡحِضُوۡا بِہِ الۡحَقَّ وَاتَّخَذُوۡۤا اٰیٰتِیۡ وَمَاۤ اُنۡذِرُوۡا ہُزُوًا ﴿۵۶﴾
اور ہم نہیں بھیجتے رسولوں کو مگر مژدہ سنانے والے اور ڈرانے والے اور جھگڑتے ہیں کافر بے و پا دلیلوں کی لے کر تاکہ وہ مٹا دیں اس سے حق کو اور بنا لیا ہے انھوں نے میری آیتوں کو اور سے وہ ڈرائے گئے ایک ۔
وَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنۡ ذُکِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّہٖ فَاَعۡرَضَ عَنۡہَا وَنَسِیَ مَاقَدَّمَتۡ یَدٰہُ ؕ اِنَّا جَعَلۡنَا عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ اَکِنَّۃً اَنۡ یَّفۡقَہُوۡہُ وَفِیۡۤ اٰذَانِہِمۡ وَقۡرًا ؕ وَاِنۡ تَدۡعُہُمۡ اِلَی الۡہُدٰی فَلَنۡ یَّہۡتَدُوۡۤا اِذًا اَبَدًا ﴿۵۷﴾
اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہے جسے کی گئی اس کے رب کی آیتوں سے پس اس نے روگردانی کر لی ان سے اور فراموش کر دیا اس نے ان ( بد کو ) جو آگے بھیجے تھے اس کے دونوں ہاتھوں نے ۔ ہم نے ڈال دئیے ان کے دلوں پر پردے تاکہ وہ کو نہ سمجھ سکیں اور ان کے کانوں میں گرانی کر دی اور اگر تم بلاؤ انھیں کی طرف تو جب بھی وہ نہیں کریں گے ۔
وَرَبُّکَ الۡغَفُوۡرُ ذُو الرَّحۡمَۃِ ؕ لَوۡ یُؤَاخِذُہُمۡ بِمَا کَسَبُوۡا لَعَجَّلَ لَہُمُ الۡعَذَابَ ؕ بَلۡ لَّہُمۡ مَّوۡعِدٌ لَّنۡ یَّجِدُوۡا مِنۡ دُوۡنِہٖ مَوۡئِلًا ﴿۵۸﴾
اور آپ کا پروردگار تو بہت بخشنے والا بڑا ہی رحمت والا ہے اگر وہ پکڑ لیتا انھیں ان کے کیے پر تو جلد ان پر بھیجتا ( وہ ایسا نہیں کرتا ) بلکہ ان کو سزا دینے کا ایک ہے ، نہیں پائینگے اس اس کے بغیر کوئی کی ۔
وَتِلۡکَ الۡقُرٰۤی اَہۡلَکۡنٰہُمۡ لَمَّا ظَلَمُوۡا وَجَعَلۡنَا لِمَہۡلِکِہِمۡ مَّوۡعِدًا ﴿٪۵۹﴾ 20
اور یہ بستیاں ہیں ہم نے تباہ کر دیا ان کے باشندوں کو جب وہ ستم شعار بن گئے اور ہم نے کر دی تھی ان کی کے لیے ایک میعاد ۔
وَاِذۡ قَالَ مُوۡسٰی لِفَتٰىہُ لَاۤ اَبۡرَحُ حَتّٰۤی اَبۡلُغَ مَجۡمَعَ الۡبَحۡرَیۡنِ اَوۡ اَمۡضِیَ حُقُبًا ﴿۶۰﴾
اور کرو جب کہا موسیٰ نے اپنے ( نوجوان ) کو کہ میں چلتا رہونگا یہاں تک کہ پہنچوں جہاں دو دریا ملتے ہیں یا ( چلتے چلتے ) گزار دونگا ۔
فَلَمَّا بَلَغَا مَجۡمَعَ بَیۡنِہِمَا نَسِیَا حُوۡتَہُمَا فَاتَّخَذَ سَبِیۡلَہٗ فِی الۡبَحۡرِ سَرَبًا ﴿۶۱﴾
پھر جب وہ دونوں پہنچے جہاں آپس میں دو دریا ملتے ہیں دونوں بھول گئے اپنی مچھلی کو تو بنا لیا اس نے اپنا دریا میں کی طرح ۔
فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتٰىہُ اٰتِنَا غَدَآءَنَا ۫ لَقَدۡ لَقِیۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا ہٰذَا نَصَبًا ﴿۶۲﴾
پس جب وہاں سے آگے بڑھ گئے آپ نے اپنے جوان سے کہا لے آؤ ہمارا صبح کا ، بیشک ہمیں کرنی پڑی ہے اپنے اس میں بڑی ۔
قَالَ اَرَءَیۡتَ اِذۡ اَوَیۡنَاۤ اِلَی الصَّخۡرَۃِ فَاِنِّیۡ نَسِیۡتُ الۡحُوۡتَ ۫ وَمَاۤ اَنۡسٰنِیۡہُ اِلَّا الشَّیۡطٰنُ اَنۡ اَذۡکُرَہٗ ۚ وَاتَّخَذَ سَبِیۡلَہٗ فِی الۡبَحۡرِ ٭ۖ عَجَبًا ﴿۶۳﴾
اس نے کہا ( اے کلیم ! ) آپ نے ملاحظہ فرمایا جب ہم ( سستانے کے لیے ) اس چٹان کے ٹھیرے تھے تو میں بھول گیا مچھلی کو اور نہیں فراموش کرائی مجھے وہ مچھلی مگر شیطان نے کہ میں اس کا ذکر کروں اور اس نے بنا لیا تھا اپنا دریا میں ۔ بڑے تعجب کی ہے ۔
قَالَ ذٰلِکَ مَاکُنَّا نَبۡغِ ٭ۖ فَارۡتَدَّا عَلٰۤی اٰثَارِہِمَا قَصَصًا ﴿ۙ۶۴﴾
آپ نے فرمایا یہی تو وہ ہے جس کی ہم جستجو کر رہے تھے پس وہ دونوں لوٹے اپنے قدموں کے دیکھتے ہوئے ۔
فَوَجَدَا عَبۡدًا مِّنۡ عِبَادِنَاۤ اٰتَیۡنٰہُ رَحۡمَۃً مِّنۡ عِنۡدِنَا وَعَلَّمۡنٰہُ مِنۡ لَّدُنَّا عِلۡمًا ﴿۶۵﴾
تو پایا انھوں نے ایک بندے کو ہمارے بندوں میں سے جسے ہم نے عطا فرمائی تھی رحمت اپنی جناب سے اور ہم نے سکھایا تھا اسے اپنے سے ( خاص ) علم ۔
قَالَ لَہٗ مُوۡسٰی ہَلۡ اَتَّبِعُکَ عَلٰۤی اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا ﴿۶۶﴾
کہا اس بندے کو موسیٰ ( علیہ السلام ) نے کیا میں آپ کے ساتھ رہ سکتا ہوں بشرطیکہ آپ سکھائیں مجھے رشد و کا خصوصی علم جو آپ کو سکھایا گیا ہے ۔
قَالَ اِنَّکَ لَنۡ تَسۡتَطِیۡعَ مَعِیَ صَبۡرًا ﴿۶۷﴾
اس بندے نے کہا ( اے موسیٰ ! ) آپ میرے ساتھ کرنے کی نہیں رکھتے ۔
وَکَیۡفَ تَصۡبِرُ عَلٰی مَالَمۡ تُحِطۡ بِہٖ خُبۡرًا ﴿۶۸﴾
اور آپ کر بھی کیسے سکتے ہیں اس پر جس کی آپ کو پوری طرح نہیں ۔
قَالَ سَتَجِدُنِیۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰہُ صَابِرًا وَّلَاۤ اَعۡصِیۡ لَکَ اَمۡرًا ﴿۶۹﴾
آپ نے کہا آپ مجھے پائیں گے اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا کرنے والا اور میں نہیں کرونگا آپ کے کسی کی ۔
قَالَ فَاِنِ اتَّبَعۡتَنِیۡ فَلَا تَسۡئَلۡنِیۡ عَنۡ شَیۡءٍ حَتّٰۤی اُحۡدِثَ لَکَ مِنۡہُ ذِکۡرًا ﴿۷۰﴾٪ 21
اس بندے نے کہا اگر آپ میرے ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو مجھ سے کسی چیز کے بارے میں پوچھیے نہیں یہاں تک کہ میں آپ سے اس کا خود ذکر کروں ۔
فَانۡطَلَقَا ٝ حَتّٰۤی اِذَا رَکِبَا فِی السَّفِیۡنَۃِ خَرَقَہَا ؕ قَالَ اَخَرَقۡتَہَا لِتُغۡرِقَ اَہۡلَہَا ۚ لَقَدۡ جِئۡتَ شَیۡئًا اِمۡرًا ﴿۷۱﴾
پس وہ دونوں چل پڑے یہاں تک کہ جب وہ ہوئے میں تو اس بندے نے اس میں کر دیا موسیٰ ( علیہ السلام ) بول اٹھے کیا تم نے اس لیے کیا ہے کہ اس کی سواریوں کو ڈبو دو ۔ یقیناً تم نے بہت برا کیا ہے ۔
قَالَ اَلَمۡ اَقُلۡ اِنَّکَ لَنۡ تَسۡتَطِیۡعَ مَعِیَ صَبۡرًا ﴿۷۲﴾
اس بندے نے کہا کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ آپ میں یہ نہیں کہ میری سنگت پر کر سکیں ۔
قَالَ لَا تُؤَاخِذۡنِیۡ بِمَا نَسِیۡتُ وَلَا تُرۡہِقۡنِیۡ مِنۡ اَمۡرِیۡ عُسۡرًا ﴿۷۳﴾
آپ نے ( عذر خواہی کرتے ہوئے ) کہا کہ نہ کرو مجھ پر میری بھول کی وجہ سے اور نہ کرو مجھ پر میرے اس معاملہ میں بہت ۔
فَانۡطَلَقَا ٝ حَتّٰۤی اِذَا لَقِیَا غُلٰمًا فَقَتَلَہٗ ۙ قَالَ اَقَتَلۡتَ نَفۡسًا زَکِیَّۃًۢ بِغَیۡرِ نَفۡسٍ ؕ لَقَدۡ جِئۡتَ شَیۡئًا نُّکۡرًا ﴿۷۴﴾
پھر وہ دونوں چل پڑے حتیٰ کہ جب وہ ملے ایک لڑکے کو تو اس نے اسے کر ڈالا موسیٰ ( علیہ السلام ) ( غضب ہو کر ) کہنے لگے کیا مار ڈالا آپ نے ایک معصوم جان کو کسی نفس کے کے بغیر ۔ بیشک آپ نے ایسا کیا ہے جو بہت ہی نازیبا ہے ۔
قَالَ اَلَمۡ اَقُلۡ لَّکَ اِنَّکَ لَنۡ تَسۡتَطِیۡعَ مَعِیَ صَبۡرًا ﴿۷۵﴾
اس نے کہا کیا ( ہی ) میں نے کہہ نہ دیا تھا آپ کو کہ آپ میری معیت میں نہیں کر سکیں گے ۔
قَالَ اِنۡ سَاَلۡتُکَ عَنۡ شَیۡءٍ ۢ بَعۡدَہَا فَلَا تُصٰحِبۡنِیۡ ۚ قَدۡ بَلَغۡتَ مِنۡ لَّدُنِّیۡ عُذۡرًا ﴿۷۶﴾
آپ نے کہا اگر میں پوچھوں آپ سے کسی چیز کے بارے میں اس کے بعد تو آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیں ۔ آپ میری طرف سے معذور ہوں گے ۔
فَانۡطَلَقَا ٝ حَتّٰۤی اِذَاۤ اَتَیَاۤ اَہۡلَ قَرۡیَۃِ ۣ اسۡتَطۡعَمَاۤ اَہۡلَہَا فَاَبَوۡا اَنۡ یُّضَیِّفُوۡہُمَا فَوَجَدَا فِیۡہَا جِدَارًا یُّرِیۡدُ اَنۡ یَّنۡقَضَّ فَاَقَامَہٗ ؕ قَالَ لَوۡ شِئۡتَ لَتَّخَذۡتَ عَلَیۡہِ اَجۡرًا ﴿۷۷﴾
پھر وہ چل پڑے یہاں تک کہ جب ان کا گزر گاؤں والوں کے تو انھوں نے ان سے طلب کیا تو انھوں نے ( ) کر دیا ان کی میزبانی کرنے سے پھر ان دونوں نے اس گاؤں میں ایک دیکھی جو گرنے کے قریب تھی تو اس بندے نے اسے کر دیا ۔ موسیٰ کہنے لگے اگر آپ چاہتے تو اس پر مزدوری ہی لے لیتے ۔
قَالَ ہٰذَا فِرَاقُ بَیۡنِیۡ وَبَیۡنِکَ ۚ سَاُنَبِّئُکَ بِتَاۡوِیۡلِ مَالَمۡ تَسۡتَطِعۡ عَّلَیۡہِ صَبۡرًا ﴿۷۸﴾
اس نے کہا ( بس سنگت ) اب میرے اور آپ کے جدائی کا آ گیا میں کرتا ہوں آپ کو ان باتوں کی حقیقت پر کے متعلق آپ نہ کر سکے ۔
اَمَّا السَّفِیۡنَۃُ فَکَانَتۡ لِمَسٰکِیۡنَ یَعۡمَلُوۡنَ فِی الۡبَحۡرِ فَاَرَدۡتُّ اَنۡ اَعِیۡبَہَا وَکَانَ وَرَآءَہُمۡ مَّلِکٌ یَّاۡخُذُ کُلَّ سَفِیۡنَۃٍ غَصۡبًا ﴿۷۹﴾
وہ جو تھی وہ چند غریبوں کی تھی جو ( ملاحی کا ) کرتے تھے دریا میں ۔ سو میں نے کیا کہ اسے عیب دار بنا دوں اور ( اسکی وجہ یہ تھی کہ ) ان کے آگے ( جابر ) بادشاہ تھا جو پکڑ لیا کرتا تھا ہر کو سے ۔
وَاَمَّا الۡغُلٰمُ فَکَانَ اَبَوٰہُ مُؤۡمِنَیۡنِ فَخَشِیۡنَاۤ اَنۡ یُّرۡہِقَہُمَا طُغۡیَانًا وَّکُفۡرًا ﴿ۚ۸۰﴾
اور وہ جو تھا تو ( اس کی حقیقت یہ ہے کہ ) اس کے والدین مومن تھے ۔ پس ہمیں اندیشہ کہ وہ ( اگر رہا تو ) مجبور کر دے گا انھیں اور کفر پر ۔
فَاَرَدۡنَاۤ اَنۡ یُّبۡدِلَہُمَا رَبُّہُمَا خَیۡرًا مِّنۡہُ زَکٰوۃً وَّاَقۡرَبَ رُحۡمًا ﴿۸۱﴾
پس ہم نے چاہا کہ دے انھیں ان کا رب ( ایسا ) جو بہتر ہو اس سے میں اور ( ان پر ) ہو ۔
وَاَمَّا الۡجِدَارُ فَکَانَ لِغُلٰمَیۡنِ یَتِیۡمَیۡنِ فِی الۡمَدِیۡنَۃِ وَکَانَ تَحۡتَہٗ کَنۡزٌ لَّہُمَا وَکَانَ اَبُوۡہُمَا صَالِحًا ۚ فَاَرَادَ رَبُّکَ اَنۡ یَّبۡلُغَاۤ اَشُدَّہُمَا وَیَسۡتَخۡرِجَا کَنۡزَہُمَا ٭ۖ رَحۡمَۃً مِّنۡ رَّبِّکَ ۚ وَمَا فَعَلۡتُہٗ عَنۡ اَمۡرِیۡ ؕ ذٰلِکَ تَاۡوِیۡلُ مَالَمۡ تَسۡطِعۡ عَّلَیۡہِ صَبۡرًا ﴿ؕ٪۸۲﴾ 1
باقی رہی ( تو اس کی حقیقت یہ ہے کہ ) وہ کے دو یتیم بچوں کی تھی اور اس کے ان کا ( دفن ) تھا اور ان کا بڑا شخص تھا پس آپ کے رب نے فرمایا کہ وہ دونوں بچے اپنی کو پہنچیں اور نکال لیں اپنا دفینہ یہ ( ان پر ) ان کے رب کی خاص رحمت تھی اور ( جو کچھ میں نے کیا ) میں نے اپنی مرضی سے نہیں کیا ، یہ حقیقت ہے ان امور کی پر آپ سے نہ ہو سکا ۔
وَیَسۡئَلُوۡنَکَ عَنۡ ذِی الۡقَرۡنَیۡنِ ؕ قُلۡ سَاَتۡلُوۡا عَلَیۡکُمۡ مِّنۡہُ ذِکۡرًا ﴿ؕ۸۳﴾
اور وہ دریافت کرتے ہیں آپ سے ذی القرنین کے متعلق فرمائیے میں ابھی کرتا ہوں تمہارے اس کا حال ۔
اِنَّا مَکَّنَّا لَہٗ فِی الۡاَرۡضِ وَاٰتَیۡنٰہُ مِنۡ کُلِّ شَیۡءٍ سَبَبًا ﴿ۙ۸۴﴾
ہم نے بخشا تھا اسے میں اور ہم نے دیا تھا اسے ہر چیز ( تک رسائی حاصل کرنے ) کا ساز و ۔
فَاَتۡبَعَ سَبَبًا ﴿۸۵﴾
پس وہ روانہ ایک راہ پر ۔
حَتّٰۤی اِذَا بَلَغَ مَغۡرِبَ الشَّمۡسِ وَجَدَہَا تَغۡرُبُ فِیۡ عَیۡنٍ حَمِئَۃٍ وَّوَجَدَ عِنۡدَہَا قَوۡمًا ۬ ؕ قُلۡنَا یٰذَا الۡقَرۡنَیۡنِ اِمَّاۤ اَنۡ تُعَذِّبَ وَاِمَّاۤ اَنۡ تَتَّخِذَ فِیۡہِمۡ حُسۡنًا ﴿۸۶﴾
یہاں تک کہ جب وہ غروب آفتاب کی پہنچا تو اس نے اسے یوں پایا گویا وہ ڈوب رہا ہے ایک سیاہ کیچڑ کے میں اور اس نے وہاں ایک قوم پائی ۔ ہم نے کہا اے ذوالقرنین ! ( تمھیں ہے ) خواہ تم انھیں سزا دو خواہ ان کے ساتھ سلوک کرو ۔
قَالَ اَمَّا مَنۡ ظَلَمَ فَسَوۡفَ نُعَذِّبُہٗ ثُمَّ یُرَدُّ اِلٰی رَبِّہٖ فَیُعَذِّبُہٗ عَذَابًا نُّکۡرًا ﴿۸۷﴾
ذوالقرنین نے کہا جس نے ظلم ( کفر و فسق ) کیا تو ہم ضرور اسے سزا دیں گے پھر اسے لوٹا دیا جائے گا اس کے رب کی طرف تو وہ اسے دے گا بڑا ہی ۔
وَاَمَّا مَنۡ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَہٗ جَزَآءَ ۨ الۡحُسۡنٰی ۚ وَسَنَقُوۡلُ لَہٗ مِنۡ اَمۡرِنَا یُسۡرًا ﴿ؕ۸۸﴾
اور جو شخص ایمان لایا اور اچھے عمل کیے تو اس کے لیے معاوضہ ہے اور ہم اسے دیں گے ایسے احکام بجا لانے کا جو ہوں گے ۔
ثُمَّ اَتۡبَعَ سَبَبًا ﴿۸۹﴾
پھر وہ روانہ دوسرے پر ۔
حَتّٰۤی اِذَا بَلَغَ مَطۡلِعَ الشَّمۡسِ وَجَدَہَا تَطۡلُعُ عَلٰی قَوۡمٍ لَّمۡ نَجۡعَلۡ لَّہُمۡ مِّنۡ دُوۡنِہَا سِتۡرًا ﴿ۙ۹۰﴾
یہاں تک کہ جب وہ پہنچا طلوع آفتاب کے مقام پر تو اس نے پایا سورج کو کہ وہ طلوع ہو رہا ہے ایسی قوم پر کہ نہیں بنائی ہم نے ان کے لیے سورج ( کی ) سے بچنے کی ۔
کَذٰلِکَ ؕ وَقَدۡ اَحَطۡنَا بِمَا لَدَیۡہِ خُبۡرًا ﴿۹۱﴾
بات یونہی ہے اور ہم نے احاطہ کر رکھا ہے ہر اس چیز کا جو اس کے تھی اپنے علم سے ۔
ثُمَّ اَتۡبَعَ سَبَبًا ﴿۹۲﴾
پھر وہ روانہ ایک اور راہ پر ۔
حَتّٰۤی اِذَا بَلَغَ بَیۡنَ السَّدَّیۡنِ وَجَدَ مِنۡ دُوۡنِہِمَا قَوۡمًا ۙ لَّا یَکَادُوۡنَ یَفۡقَہُوۡنَ قَوۡلًا ﴿۹۳﴾
یہاں تک کہ جب وہ پہنچا دو پہاڑوں کے تو پایا اس نے ان پہاڑوں کے ایک قوم کو جو نہیں سمجھ سکتے تھے ( انکی ) کوئی ۔
قَالُوۡا یٰذَاالۡقَرۡنَیۡنِ اِنَّ یَاۡجُوۡجَ وَمَاۡجُوۡجَ مُفۡسِدُوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ فَہَلۡ نَجۡعَلُ لَکَ خَرۡجًا عَلٰۤی اَنۡ تَجۡعَلَ بَیۡنَنَا وَبَیۡنَہُمۡ سَدًّا ﴿۹۴﴾
انھوں نے کہا اے ذوالقرنین ! یاجوج اور ماجوج نے بڑا برپا کر رکھا ہے اس علاقہ میں تو کیا ہم کر دیں آپ کے لیے کچھ خراج تاکہ آپ بنا دیں ہمارے اور ان کے ایک ۔
قَالَ مَامَکَّنِّیۡ فِیۡہِ رَبِّیۡ خَیۡرٌ فَاَعِیۡنُوۡنِیۡ بِقُوَّۃٍ اَجۡعَلۡ بَیۡنَکُمۡ وَبَیۡنَہُمۡ رَدۡمًا ﴿ۙ۹۵﴾
وہ بولا وہ دولت جس میں میرے رب نے مجھے دیا ہے وہ بہتر ہے پس تم میری کرو جسمانی سے ، میں بنا دوں گا تمہارے اور ان کے ایک ۔
اٰتُوۡنِیۡ زُبَرَ الۡحَدِیۡدِ ؕ حَتّٰۤی اِذَا سَاوٰی بَیۡنَ الصَّدَفَیۡنِ قَالَ انۡفُخُوۡا ؕ حَتّٰۤی اِذَا جَعَلَہٗ نَارًا ۙ قَالَ اٰتُوۡنِیۡۤ اُفۡرِغۡ عَلَیۡہِ قِطۡرًا ﴿ؕ۹۶﴾
تم لے آؤ میرے لوہے کی چادریں ( چنانچہ ہو گیا ) یہاں تک کہ جب کر دیا گیا وہ خلا جو دو پہاڑوں کے تھا تو اس نے دیا دھونکو یہاں تک کہ جب وہ لوہا بنا دیا تو اس نے کہا لے آؤ میرے پگھلا کہ میں اسے اس پگھلے ہوئے لوہے پر انڈیلوں ۔
فَمَا اسۡطَاعُوۡۤا اَنۡ یَّظۡہَرُوۡہُ وَمَا اسۡتَطَاعُوۡا لَہٗ نَقۡبًا ﴿۹۷﴾
سو یاجوج ماجوج بڑی کے باوجود اسے نہ کر سکے اور نہ ہی اس میں سوراخ کر سکے ۔
قَالَ ہٰذَا رَحۡمَۃٌ مِّنۡ رَّبِّیۡ ۚ فَاِذَا جَآءَ وَعۡدُ رَبِّیۡ جَعَلَہٗ دَکَّـآءَ ۚ وَکَانَ وَعۡدُ رَبِّیۡ حَقًّا ﴿ؕ۹۸﴾
ذوالقرنین نے کہا یہ میرے رب کی رحمت ہے ( کہ اس نے مجھے یہ بخشی ) اور جب آ جائے گا میرے رب کا وعدہ تو وہ اسے ریزہ کر دے گا ۔ اور میرے رب کا وعدہ ( ) سچا کرتا ہے ۔
وَتَرَکۡنَا بَعۡضَہُمۡ یَوۡمَئِذٍ یَّمُوۡجُ فِیۡ بَعۡضٍ وَّنُفِخَ فِی الصُّوۡرِ فَجَمَعۡنٰہُمۡ جَمۡعًا ﴿ۙ۹۹﴾
اور ہم واگزار کر دیں گے بعض کو اس کہ وہ ( تُند موجوں کی طرح ) دوسروں میں گھس جائیں گے اور صور پھونکا جائے گا تو ہم سب کو کر دیں گے ۔
وَّعَرَضۡنَا جَہَنَّمَ یَوۡمَئِذٍ لِّلۡکٰفِرِیۡنَ عَرۡضَا ۨ ﴿۱۰۰﴾ۙ
اور ہم کر دیں گے جہنم کو اس کفار کے لیے بالکل عیاں ۔
الَّذِیۡنَ کَانَتۡ اَعۡیُنُہُمۡ فِیۡ غِطَـآءٍ عَنۡ ذِکۡرِیۡ وَکَانُوۡا لَا یَسۡتَطِیۡعُوۡنَ سَمۡعًا ﴿۱۰۱﴾٪ 2
وہ کافر کی آنکھوں پر پردے پڑے تھے میری سے اور جو ( کلمہ حق ) سن بھی نہیں سکتے تھے ۔
اَفَحَسِبَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اَنۡ یَّتَّخِذُوۡا عِبَادِیۡ مِنۡ دُوۡنِیۡۤ اَوۡلِیَآءَ ؕ اِنَّـاۤ اَعۡتَدۡنَا جَہَنَّمَ لِلۡکٰفِرِیۡنَ نُزُلًا ﴿۱۰۲﴾
کیا کرتے ہیں کفار کہ وہ بنا لیں گے میرے بندوں کو میرے بغیر اپنا حمایتی ( یہ ناممکن ہے ) بیشک ہم نے کر رکھا ہے جہنم کو کفار کی رہائش کے لیے ۔
قُلۡ ہَلۡ نُنَبِّئُکُمۡ بِالۡاَخۡسَرِیۡنَ اَعۡمَالًا ﴿۱۰۳﴾ؕ
فرمائیے ( اے لوگو ) کیا ہم مطلع کریں تمہیں ان لوگوں پر جو کے سے گھاٹے میں ہیں ۔
اَلَّذِیۡنَ ضَلَّ سَعۡیُہُمۡ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَہُمۡ یَحۡسَبُوۡنَ اَنَّہُمۡ یُحۡسِنُوۡنَ صُنۡعًا ﴿۱۰۴﴾
یہ وہ لوگ ہیں کی ساری جدوجہد دنیوی زندگی کی آراستگی میں کھو کر رہ گئی اور وہ یہ خیال کر رہے ہیں کہ وہ کوئی بڑا عمدہ کر رہے ہیں ۔
اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِاٰیٰتِ رَبِّہِمۡ وَلِقَآئِہٖ فَحَبِطَتۡ اَعۡمَالُہُمۡ فَلَا نُقِیۡمُ لَہُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ وَزۡنًا ﴿۱۰۵﴾
یہی وہ ( بد نصیب ) ہیں جنھوں نے کیا اپنے رب کی آیتوں کا اور اس کی ملاقات کا تو ضائع ہو گئے ان کے تو ہم ان ( کے ) تولنے کے لیے روز کوئی نصب نہیں کریں گے ۔
ذٰلِکَ جَزَآؤُہُمۡ جَہَنَّمُ بِمَا کَفَرُوۡا وَاتَّخَذُوۡۤا اٰیٰتِیۡ وَرُسُلِیۡ ہُزُوًا ﴿۱۰۶﴾
یہ ہے ان کی جزا جہنم ، اس وجہ سے کہ انھوں نے کفر کیا اور میری آیتوں اور رسولوں کو بنا لیا ۔
اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ کَانَتۡ لَہُمۡ جَنّٰتُ الۡفِرۡدَوۡسِ نُزُلًا ﴿۱۰۷﴾ۙ
یقیناً وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل ( بھی ) کرتے رہے تو فردوس کے باغات ان کی رہائش گاہ ہوں گے ۔
خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا لَا یَبۡغُوۡنَ عَنۡہَا حِوَلًا ﴿۱۰۸﴾
وہ رہیں گے ان میں ( اور ) نہیں چاہیں گے کہ وہ اس کو لیں ۔
قُلۡ لَّوۡ کَانَ الۡبَحۡرُ مِدَادًا لِّکَلِمٰتِ رَبِّیۡ لَنَفِدَ الۡبَحۡرُ قَبۡلَ اَنۡ تَنۡفَدَ کَلِمٰتُ رَبِّیۡ وَلَوۡ جِئۡنَا بِمِثۡلِہٖ مَدَدًا ﴿۱۰۹﴾
۔( اے حبیب ! ) آپ فرمائیے کہ اگر ہو جائے سمندر روشنائی میرے رب کے کلمات ( ) کے لیے تو ہو جائے گا سمندر اس سے پیشتر کہ ہوں میرے رب کے کلمات اور اگر ہم لے آئیں اتنی اور روشنائی اس کی کو ( تب بھی نہ ہوں گے ) ۔
قُلۡ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثۡلُکُمۡ یُوۡحٰۤی اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰـہُکُمۡ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ ۚ فَمَنۡ کَانَ یَرۡجُوۡا لِقَآءَ رَبِّہٖ فَلۡیَعۡمَلۡ عَمَلًا صَالِحًا وَّلَا یُشۡرِکۡ بِعِبَادَۃِ رَبِّہٖۤ اَحَدًا ﴿۱۱۰﴾٪ 3
۔( اے پیکر رعنائی و زیبائی ) آپ فرمائیے کہ میں بشر ہی ہوں تمہاری طرح وحی کی جاتی ہے میری طرف کہ تمہارا خدا صرف اللہ وحدہ ہے ۔ پس جو شخص رکھتا ہے اپنے رب سے ملنے کی تو اسے چاہیے کہ وہ عمل کرے اور نہ کرے اپنے رب کی میں کسی کو ۔