اِنَّا فَتَحۡنَا لَکَ فَتۡحًا مُّبِیۡنًا ۙ﴿۱﴾
یقیناً ہم نے آپ کو شاندار عطا فرمائی ہے ۔
The Victory
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ ﴿١﴾
In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
اِنَّا فَتَحۡنَا لَکَ فَتۡحًا مُّبِیۡنًا ۙ﴿۱﴾
یقیناً ہم نے آپ کو شاندار عطا فرمائی ہے ۔
لِّیَغۡفِرَ لَکَ اللّٰہُ مَاتَقَدَّمَ مِنۡ ذَنۡۢبِکَ وَمَا تَاَخَّرَ وَیُتِمَّ نِعۡمَتَہٗ عَلَیۡکَ وَیَہۡدِیَکَ صِرَاطًا مُّسۡتَقِیۡمًا ۙ﴿۲﴾
تاکہ فرما دے آپ کے لیے اللہ تعالیٰ جو الزام آپ پر ( ہجرت سے ) لگائے گئے اور جو ( ہجرت کے ) بعد لگائے گئے اور مکمل فرما دے اپنے انعام کو آپ پر اور چلائے آپ کو سیدھی راہ پر ۔
وَّیَنۡصُرَکَ اللّٰہُ نَصۡرًا عَزِیۡزًا ﴿۳﴾
اور تاکہ اللہ تعالیٰ آپ کی ایسی فرمائے جو زبردست ہے ۔
ہُوَ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ السَّکِیۡنَۃَ فِیۡ قُلُوۡبِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ لِیَزۡدَادُوۡۤا اِیۡمَانًا مَّعَ اِیۡمَانِہِمۡ ؕ وَلِلّٰہِ جُنُوۡدُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ؕ وَکَانَ اللّٰہُ عَلِیۡمًا حَکِیۡمًا ۙ﴿۴﴾
وہی ہے جس نے اتارا اطمینان کو اہل ایمان کے دلوں میں تاکہ وہ اور بڑھ جائیں ( قوتِ ) ایمان میں اپنے ( ) ایمان کے ساتھ ۔ اور اللہ کے زیر فرمان ہیں سارے آسمانوں اور کے اور اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا ، بہت دانا ہے ۔
لِّیُدۡخِلَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا وَیُکَفِّرَ عَنۡہُمۡ سَیِّاٰتِہِمۡ ؕ وَکَانَ ذٰلِکَ عِنۡدَ اللّٰہِ فَوۡزًا عَظِیۡمًا ۙ﴿۵﴾
تاکہ کر دے ایمان والوں اور ایمان والیوں کو باغوں میں ، رواں ہیں کے نہریں ، وہ اس میں رہیں گے اور فرما دے ان سے ان کی برائیوں کو اور یہ اللہ کے بڑی کامیابی ہے ۔
وَّیُعَذِّبَ الۡمُنٰفِقِیۡنَ وَالۡمُنٰفِقٰتِ وَالۡمُشۡرِکِیۡنَ وَالۡمُشۡرِکٰتِ الظَّآنِّیۡنَ بِاللّٰہِ ظَنَّ السَّوۡءِ ؕ عَلَیۡہِمۡ دَآئِرَۃُ السَّوۡءِ ۚ وَغَضِبَ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ وَلَعَنَہُمۡ وَاَعَدَّ لَہُمۡ جَہَنَّمَ ؕ وَسَآءَتۡ مَصِیۡرًا ﴿۶﴾
اور تاکہ میں مبتلا کر دے منافق مردوں اور منافق عورتوں ، مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو جو اللہ کے بارے میں برے رکھتے ہیں ۔ انھیں پر ہے بری گردش اور ناراض ہے اللہ تعالیٰ ان پر اور ( اپنی رحمت سے ) انھیں کر دیا ہے اور کر رکھا ہے ان کے لیے جہنم ۔ اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے ۔
وَلِلّٰہِ جُنُوۡدُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ؕ وَکَانَ اللّٰہُ عَزِیۡزًا حَکِیۡمًا ﴿۷﴾
اور اللہ کے زیر فرمان ہیں سارے آسمانوں اور کے ۔ اور اللہ تعالیٰ سب پر ، بڑا دانا ہے ۔
اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ شَاہِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِیۡرًا ۙ﴿۸﴾
بیشک ہم نے بھیجا ہے آپ کو گواہ بنا کر ( اپنی رحمت کی ) خوشخبری سنانے والا ( سے ) بروقت ڈرانے والا ۔
لِّتُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰہِ وَرَسُوۡلِہٖ وَتُعَزِّرُوۡہُ وَتُوَقِّرُوۡہُ ؕ وَتُسَبِّحُوۡہُ بُکۡرَۃً وَّاَصِیۡلًا ﴿۹﴾
تاکہ ( اے لوگو ! ) تم ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر اور تاکہ تم ان کی کرو اور سے ان کی کرو اور پاکی کرو اللہ کی صبح اور ۔
اِنَّ الَّذِیۡنَ یُبَایِعُوۡنَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوۡنَ اللّٰہَ ؕ یَدُ اللّٰہِ فَوۡقَ اَیۡدِیۡہِمۡ ۚ فَمَنۡ نَّکَثَ فَاِنَّمَا یَنۡکُثُ عَلٰی نَفۡسِہٖ ۚ وَمَنۡ اَوۡفٰی بِمَا عٰہَدَ عَلَیۡہُ اللّٰہَ فَسَیُؤۡتِیۡہِ اَجۡرًا عَظِیۡمًا ﴿٪۱۰﴾ 9
۔( اے جان ) بیشک جو لوگ آپ کی بیعت کرتے ہیں درحقیقت وہ اللہ تعالیٰ سے بیعت کرتے ہیں ۔ اللہ کا ان کے ہاتھوں پر ہے پس جس نے توڑ دیا اس بیعت کو تو اس کے توڑنے کا وبال اس کی ذات پر ہو گا ۔ اور جس نے ایفاء کیا اس کو جو اس نے اللہ سے کیا تو وہ اس کو اجر عظیم عطا فرمائے گا ۔
سَیَقُوۡلُ لَکَ الۡمُخَلَّفُوۡنَ مِنَ الۡاَعۡرَابِ شَغَلَتۡنَاۤ اَمۡوَالُنَا وَاَہۡلُوۡنَا فَاسۡتَغۡفِرۡ لَنَا ۚ یَقُوۡلُوۡنَ بِاَلۡسِنَتِہِمۡ مَّا لَیۡسَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ ؕ قُلۡ فَمَنۡ یَّمۡلِکُ لَکُمۡ مِّنَ اللّٰہِ شَیۡئًا اِنۡ اَرَادَ بِکُمۡ ضَرًّا اَوۡ اَرَادَ بِکُمۡ نَفۡعًا ؕ بَلۡ کَانَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِیۡرًا ﴿۱۱﴾
عنقریب آپ اس سے عرض کریں گے وہ دیہاتی جو چھوڑے گئے تھے ہمیں بہت رکھا ہمارے مالوں اور اہل و عیال نے ، پس ہمارے لیے معافی طلب کریں ۔ ( اے حبیب ! ) یہ اپنی زبانوں سے ایسی باتیں کرتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں آپ ( انہیں ) فرمائیے کون ہے جو رکھتا ہو تمہارے لیے اللہ کے مقابلے میں کسی چیز کا اگر وہ فرمائے تمہارے لیے کسی ضرر کا یا فرمائے تمہارے لیے کسی نفع کا بلکہ اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کر رہے ہو اس سے پوری طرح باخبر ہے ۔
بَلۡ ظَنَنۡتُمۡ اَنۡ لَّنۡ یَّنۡقَلِبَ الرَّسُوۡلُ وَالۡمُؤۡمِنُوۡنَ اِلٰۤی اَہۡلِیۡہِمۡ اَبَدًا وَّزُیِّنَ ذٰلِکَ فِیۡ قُلُوۡبِکُمۡ وَظَنَنۡتُمۡ ظَنَّ السَّوۡءِ ۚ ۖ وَکُنۡتُمۡ قَوۡمًۢا بُوۡرًا ﴿۱۲﴾
حقیقت یہ ہے کہ تم نے خیال کر لیا تھا کہ اب ہرگز لوٹ کر نہیں آئے گا یہ اور ایمان والے اپنے اہل خانہ کی طرف کبھی اور بڑا خوشنما لگتا تھا یہ ظن ( فاسد ) تمہارے دلوں کو اور تم طرح طرح کے برے خیالوں میں مگن رہے ( اس وجہ سے ) تم ہونے والی قوم بن گئے ۔
وَمَنۡ لَّمۡ یُؤۡمِنۡۢ بِاللّٰہِ وَرَسُوۡلِہٖ فَاِنَّاۤ اَعۡتَدۡنَا لِلۡکٰفِرِیۡنَ سَعِیۡرًا ﴿۱۳﴾
اور جو نہ ایمان لے آئے اللہ اور اس کے رسول پر تو بیشک ہم نے ان تمام کافروں کے لیے بھڑکتی کر رکھی ہے ۔
وَلِلّٰہِ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ؕ یَغۡفِرُ لِمَنۡ یَّشَآءُ وَیُعَذِّبُ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَکَانَ اللّٰہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿۱۴﴾
اور اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور کی ۔ بخش دیتا ہے جس کو چاہتا ہے اور سزا دیتا ہے جس کو چاہتا ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا ، رحم فرمانے والا ہے ۔
سَیَقُوۡلُ الۡمُخَلَّفُوۡنَ اِذَا انۡطَلَقۡتُمۡ اِلٰی مَغَانِمَ لِتَاۡخُذُوۡہَا ذَرُوۡنَا نَتَّبِعۡکُمۡ ۚ یُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ یُّبَدِّلُوۡا کَلٰمَ اللّٰہِ ؕ قُلۡ لَّنۡ تَتَّبِعُوۡنَا کَذٰلِکُمۡ قَالَ اللّٰہُ مِنۡ قَبۡلُ ۚ فَسَیَقُوۡلُوۡنَ بَلۡ تَحۡسُدُوۡنَنَا ؕ بَلۡ کَانُوۡا لَا یَفۡقَہُوۡنَ اِلَّا قَلِیۡلًا ﴿۱۵﴾
کہیں گے ( جہاد سے ) چھوڑے جانے والے جب تم روانہ ہو گے اموال غنیمت کی طرف تاکہ تم ان پر قبضہ کر لو ، ہمیں بھی دو کہ تمہارے پیچھے آئیں ۔ وہ چاہتے ہیں کہ وہ اللہ کے کو دیں فرمائیے تم قطعاً ہمارے نہیں آ سکتے ، یونہی فرما دیا ہے اللہ تعالیٰ نے سے ۔ پھر وہ کہیں گے کہ ( نہیں ) بلکہ تم ہم سے حسد کرتے ہو ( ان کا یہ غلط خیال ہے ) درحقیقت وہ ( احکام الٰہی کے اسرار کو ) بہت سمجھتے ہیں ۔
قُلۡ لِّلۡمُخَلَّفِیۡنَ مِنَ الۡاَعۡرَابِ سَتُدۡعَوۡنَ اِلٰی قَوۡمٍ اُولِیۡ بَاۡسٍ شَدِیۡدٍ تُقَاتِلُوۡنَہُمۡ اَوۡ یُسۡلِمُوۡنَ ۚ فَاِنۡ تُطِیۡعُوۡا یُؤۡتِکُمُ اللّٰہُ اَجۡرًا حَسَنًا ۚ وَاِنۡ تَتَوَلَّوۡا کَمَا تَوَلَّیۡتُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ یُعَذِّبۡکُمۡ عَذَابًا اَلِیۡمًا ﴿۱۶﴾
فرما دیجیے ان چھوڑے جانے والے بدوی عربوں کو کہ عنقریب تمہیں دعوت دی جائے گی ایک ایسی قوم سے جہاد کی جو بڑی جنگجو ہے ۔ تم ان سے لڑائی کرو گے یا وہ ہتھیار ڈال دیں گے پس اگر تم نے اس کی تو اللہ تعالیٰ تمہیں بہت اجر دے گا ۔ اور اگر تم نے ( اس بھی ) موڑا جیسے تم نے موڑا تھا تو تمہیں اللہ تعالیٰ دردناک دے گا ۔
لَیۡسَ عَلَی الۡاَعۡمٰی حَرَجٌ وَّلَا عَلَی الۡاَعۡرَجِ حَرَجٌ وَّلَا عَلَی الۡمَرِیۡضِ حَرَجٌ ؕ وَمَنۡ یُّطِعِ اللّٰہَ وَرَسُوۡلَہٗ یُدۡخِلۡہُ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ ۚ وَمَنۡ یَّتَوَلَّ یُعَذِّبۡہُ عَذَابًا اَلِیۡمًا ﴿٪۱۷﴾ ؒ 10
نہ اندھے پر کوئی ہے اور نہ لنگڑے پر کوئی ہے اور نہ ہی مریض پر کوئی ہے ( اگر یہ جہاد ) نہ ہو سکیں اور جو شخص کرتا ہے اللہ اور اس کے رسول کی ، فرمائے گا اسے باغات میں ، رواں ہیں کے نہریں ۔ اور جو شخص روگردانی کرے گا ، اللہ تعالیٰ اسے دردناک دے گا ۔
لَقَدۡ رَضِیَ اللّٰہُ عَنِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ اِذۡ یُبَایِعُوۡنَکَ تَحۡتَ الشَّجَرَۃِ فَعَلِمَ مَافِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ فَاَنۡزَلَ السَّکِیۡنَۃَ عَلَیۡہِمۡ وَاَثَابَہُمۡ فَتۡحًا قَرِیۡبًا ﴿ۙ۱۸﴾
یقیناً ہو گیا اللہ تعالیٰ ان مومنوں سے جب وہ بیعت کر رہے تھے آپ کی اس کے ۔ پس جان لیا اس نے جو کچھ ان کے دلوں میں تھا پس اتارا اس نے اطمینان کو ان پر اور بطور انعام انھیں یہ قریبی بخشی ۔
وَّمَغَانِمَ کَثِیۡرَۃً یَّاۡخُذُوۡنَہَا ؕ وَکَانَ اللّٰہُ عَزِیۡزًا حَکِیۡمًا ﴿۱۹﴾
اور بہت سی غنیمتیں بھی ( عطا کیں ) کو وہ ( عنقریب ) حاصل کریں گے اور اللہ سب سے زبردست بڑا دانا ہے ۔
وَعَدَکُمُ اللّٰہُ مَغَانِمَ کَثِیۡرَۃً تَاۡخُذُوۡنَہَا فَعَجَّلَ لَکُمۡ ہٰذِہٖ وَکَفَّ اَیۡدِیَ النَّاسِ عَنۡکُمۡ ۚ وَلِتَکُوۡنَ اٰیَۃً لِّلۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَیَہۡدِیَکُمۡ صِرَاطًا مُّسۡتَقِیۡمًا ﴿ۙ۲۰﴾
۔( اے غلامان مصطفی ) اللہ نے تم سے بہت سی غنیمتوں کا وعدہ فرمایا ہے جنہیں تم ( اپنے اپنے پر ) حاصل کرو گے پس دے دی ہے تمہیں یہ ( ) اور روک دیا ہے اس نے لوگوں کے ہاتھوں کو تم سے اور تاکہ ہو جائے یہ ( ہماری نصرت کی ) اہل ایمان کے لیے اور تاکہ قدمی سے گامزن رکھے تمہیں صراط مستقیم پر ۔
وَّاُخۡرٰی لَمۡ تَقۡدِرُوۡا عَلَیۡہَا قَدۡ اَحَاطَ اللّٰہُ بِہَا ؕ وَکَانَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرًا ﴿۲۱﴾
اور کئی مزید فتوحات بھی پر تم قدرت نہیں رکھتے تھے لیکن وہ اللہ کے احاطہ قدرت میں ہیں اور اللہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے ۔
وَلَوۡ قٰتَلَکُمُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَوَلَّوُا الۡاَدۡبَارَ ثُمَّ لَا یَجِدُوۡنَ وَلِیًّا وَّلَا نَصِیۡرًا ﴿۲۲﴾
اور اگر کرتے تم سے یہ کفار تو پیٹھ دے کر بھاگ جاتے ، پھر نہ پاتے کسی کو ( بھر میں ) اپنا اور ۔
سُنَّۃَ اللّٰہِ الَّتِیۡ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلُ ۚ ۖ وَلَنۡ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللّٰہِ تَبۡدِیۡلًا ﴿۲۳﴾
یہ اللہ کا دستور ہے جو سے چلا آتا ہے اور اللہ کے دستور میں تو ہرگز کوئی تبدیلی نہیں پائے گا ۔
وَہُوَ الَّذِیۡ کَفَّ اَیۡدِیَہُمۡ عَنۡکُمۡ وَاَیۡدِیَکُمۡ عَنۡہُمۡ بِبَطۡنِ مَکَّۃَ مِنۡۢ بَعۡدِ اَنۡ اَظۡفَرَکُمۡ عَلَیۡہِمۡ ؕ وَکَانَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِیۡرًا ﴿۲۴﴾
اور اللہ وہی ہے جس نے روک دیا تھا ان کے ہاتھوں کو تم سے اور تمہارے ہاتھوں کو ان سے وادی مکہ میں ، باوجودیکہ تمہیں ان پر دے دیا تھا ۔ اور اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کر رہے تھے خوب دیکھ رہا تھا ۔
ہُمُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَصَدُّوۡکُمۡ عَنِ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ وَالۡہَدۡیَ مَعۡکُوۡفًا اَنۡ یَّبۡلُغَ مَحِلَّہٗ ؕ وَلَوۡ لَا رِجَالٌ مُّؤۡمِنُوۡنَ وَنِسَآءٌ مُّؤۡمِنٰتٌ لَّمۡ تَعۡلَمُوۡہُمۡ اَنۡ تَطَئُوۡہُمۡ فَتُصِیۡبَکُمۡ مِّنۡہُمۡ مَّعَرَّۃٌۢ بِغَیۡرِ عِلۡمٍ ۚ لِیُدۡخِلَ اللّٰہُ فِیۡ رَحۡمَتِہٖ مَنۡ یَّشَآءُ ۚ لَوۡ تَزَیَّلُوۡا لَعَذَّبۡنَا الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡہُمۡ عَذَابًا اَلِیۡمًا ﴿۲۵﴾
یہی وہ ( بد نصیب ) ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تمہیں بھی روک دیا مسجد ( میں ہونے ) سے اور کے جانوروں کو بھی کہ وہ بندھے رہیں اور اپنی تک نہ پہنچ سکیں ۔ اور اگر نہ ہوتے ( مکہ میں ) چند مسلمان اور چند مسلمان عورتیں کو تم نہیں جانتے ( اور یہ اندیشہ نہ ہوتا ) کہ تم روند ڈالو گے انھیں ، سو تمہیں پہنچے گی ان کی وجہ سے عار بے علمی کے باعث ( نیز ) تاکہ کر دے اللہ اپنی رحمت میں جسے چاہے اگر یہ ( کلمہ گو ) ہو جاتے تو ( اس ) جنہوں نے کفر کیا ان میں سے تو ہم انھیں دردناک میں مبتلا کر دیتے ۔
اِذۡ جَعَلَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا فِیۡ قُلُوۡبِہِمُ الۡحَمِیَّۃَ حَمِیَّۃَ الۡجَاہِلِیَّۃِ فَاَنۡزَلَ اللّٰہُ سَکِیۡنَتَہٗ عَلٰی رَسُوۡلِہٖ وَعَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَاَلۡزَمَہُمۡ کَلِمَۃَ التَّقۡوٰی وَکَانُوۡۤا اَحَقَّ بِہَا وَاَہۡلَہَا ؕ وَکَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمًا ﴿٪۲۶﴾ 11
جب دی کفار نے اپنے دلوں میں ضد کو وہی ( ) جاہلیت کی ضد تو نازل فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنی کو اپنے رسول ( مکرم ) پر اور اہل ایمان پر اور انھیں استقامت بخش دی تقویٰ کے کلمہ پر اور وہ اس کے حقدار بھی تھے اور اس کے اہل بھی تھے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے ۔
لَقَدۡ صَدَقَ اللّٰہُ رَسُوۡلَہُ الرُّءۡیَا بِالۡحَقِّ ۚ لَتَدۡخُلُنَّ الۡمَسۡجِدَ الۡحَرَامَ اِنۡ شَآءَ اللّٰہُ اٰمِنِیۡنَ ۙ مُحَلِّقِیۡنَ رُءُوۡسَکُمۡ وَمُقَصِّرِیۡنَ ۙ لَا تَخَافُوۡنَ ؕ فَعَلِمَ مَالَمۡ تَعۡلَمُوۡا فَجَعَلَ مِنۡ دُوۡنِ ذٰلِکَ فَتۡحًا قَرِیۡبًا ﴿۲۷﴾
یقیناً اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو سچا دکھایا حق کے ساتھ کہ تم ضرور ہو گے مسجد میں جب اللہ نے چاہا امن و امان سے ، منڈواتے ہوئے اپنے سروں کو یا ترشواتے ہوئے ۔ تمہیں ( کسی کا ) خوف نہ ہو گا پس وہ جانتا ہے جو تم نہیں جانتے ، تو اس نے عطا فرما دی ( تمہیں ) اس سے ایسی جو قریب ہے ۔
ہُوَ الَّذِیۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَہٗ بِالۡہُدٰی وَدِیۡنِ الۡحَقِّ لِیُظۡہِرَہٗ عَلَی الدِّیۡنِ کُلِّہٖ ؕ وَکَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیۡدًا ﴿ؕ۲۸﴾
وہ ( اللہ ) ہی ہے جس نے بھیجا ہے اپنے رسول کو ( ) اور حق دے کر تاکہ کر دے اسے تمام دینوں پر اور ( رسول کی صداقت پر ) اللہ کی گواہی ہے ۔
مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللّٰہِ ؕ وَالَّذِیۡنَ مَعَہٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَی الۡکُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیۡنَہُمۡ تَرٰىہُمۡ رُکَّعًا سُجَّدًا یَّبۡتَغُوۡنَ فَضۡلًا مِّنَ اللّٰہِ وَرِضۡوَانًا ۫ سِیۡمَاہُمۡ فِیۡ وُجُوۡہِہِمۡ مِّنۡ اَثَرِ السُّجُوۡدِ ؕ ذٰلِکَ مَثَلُہُمۡ فِی التَّوۡرٰىۃِ ۚ ۖ ۛ وَمَثَلُہُمۡ فِی الۡاِنۡجِیۡلِ ۚ ۟ ۛ کَزَرۡعٍ اَخۡرَجَ شَطۡئَہٗ فَاٰزَرَہٗ فَاسۡتَغۡلَظَ فَاسۡتَوٰی عَلٰی سُوۡقِہٖ یُعۡجِبُ الزُّرَّاعَ لِیَغِیۡظَ بِہِمُ الۡکُفَّارَ ؕ وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنۡہُمۡ مَّغۡفِرَۃً وَّاَجۡرًا عَظِیۡمًا ﴿۲۹﴾٪ 12
۔( جان ) محمد اللہ کے رسول ہیں اور وہ ( سعادت مند ) جو آپ کے ہیں کفار کے مقابلہ میں بہادر اور طاقتور ہیں ۔ آپس میں بڑے رحم ہیں تو دیکھتا ہے انھیں کبھی رکوع کرتے ہوئے کبھی سجدہ کرتے ہوئے طلب گار ہیں اللہ کے فضل اور اس کی رضا کے ان ( کے ایمان و ) کی علامت ان کے چہروں پر سجدوں کے اثر سے نمایاں ہے یہ ان کے اوصاف تورات میں ( مذکور ) ہیں ۔ نیز ان کی صفات انجیل میں بھی ( مرقوم ) ہیں ( یہ صحابہ ) ایک کھیت کی مانند ہیں جس نے نکالا اپنا پٹھا پھر تقویت دی اس کو پھر وہ ہو گیا پھر ہو گیا اپنے تنے پر ( اس کا جوبن ) کر رہا ہے بونے والوں کو تاکہ ( آتش ) غیظ میں جلتے رہیں انھیں دیکھ کر کفار اللہ نے وعدہ فرمایا ہے جو ایمان لے آئے اور کرتے رہے ان سے مغفرت کا اور اجر عظیم کا ۔