الٓمَّٓ ۙ﴿۱﴾
الف لام میم ۔
Family of Imran
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ ﴿١﴾
In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
الٓمَّٓ ۙ﴿۱﴾
الف لام میم ۔
اللّٰہُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۙ الۡحَیُّ الۡقَیُّوۡمُ ؕ﴿۲﴾
اللہ ( وہ ہے کہ ) کوئی کے نہیں بغیر اس کے ، ہے سب کو رکھنے والا ہے ۔
نَزَّلَ عَلَیۡکَ الۡکِتٰبَ بِالۡحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیۡنَ یَدَیۡہِ وَاَنۡزَلَ التَّوۡرٰىۃَ وَالۡاِنۡجِیۡلَ ۙ﴿۳﴾
نازل فرمائی اس نے آپ پر یہ حق کے ساتھ تصدیق کرنے والی ہے ان ( کتابوں ) کی جو اس سے ( اُتری ) ہیں اور اتاری اس نے تورات اور انجیل ۔
مِنۡ قَبۡلُ ہُدًی لِّلنَّاسِ وَاَنۡزَلَ الۡفُرۡقَانَ ۬ ؕ اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ لَہُمۡ عَذَابٌ شَدِیۡدٌ ؕ وَاللّٰہُ عَزِیۡزٌ ذُو انۡتِقَامٍ ﴿۴﴾
اس سے لوگوں کی کے لیے اور اتارا فرقان کو بیشک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اللہ کی آیتوں کے ساتھ ان کے لیے ہے اور اللہ تعالیٰ ہے لینے والا ہے ۔
اِنَّ اللّٰہَ لَا یَخۡفٰی عَلَیۡہِ شَیۡءٌ فِی الۡاَرۡضِ وَلَا فِی السَّمَآءِ ؕ﴿۵﴾
بیشک اللہ تعالیٰ نہیں پوشیدہ رہتی اس پر کوئی چیز میں اور نہ میں ۔
ہُوَ الَّذِیۡ یُصَوِّرُکُمۡ فِی الۡاَرۡحَامِ کَیۡفَ یَشَآءُ ؕ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۶﴾
وہی ہے جو تمہاری تصویریں بناتا ہے ( ماؤں کے ) رحموں میں جس طرح چاہتا ہے ۔ کوئی معبود نہیں بغیر اس کے ( وہی ) ہے حکمت والا ہے ۔
ہُوَ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ عَلَیۡکَ الۡکِتٰبَ مِنۡہُ اٰیٰتٌ مُّحۡکَمٰتٌ ہُنَّ اُمُّ الۡکِتٰبِ وَاُخَرُ مُتَشٰبِہٰتٌ ؕ فَاَمَّا الَّذِیۡنَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ زَیۡغٌ فَیَتَّبِعُوۡنَ مَاتَشَابَہَ مِنۡہُ ابۡتِغَآءَ الۡفِتۡنَۃِ وَابۡتِغَآءَ تَاۡوِیۡلِہٖ ۚ وَمَا یَعۡلَمُ تَاۡوِیۡلَہٗۤ اِلَّا اللّٰہُ ۘ ؔ وَالرّٰسِخُوۡنَ فِی الۡعِلۡمِ یَقُوۡلُوۡنَ اٰمَنَّا بِہٖ ۙ کُلٌّ مِّنۡ عِنۡدِ رَبِّنَا ۚ وَمَا یَذَّکَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ ﴿۷﴾
وہی ہے جس نے نازل فرمائی آپ پر اس کی کچھ آیتیں محکم ہیں وہی کی اصل ہیں اور دوسری آیتیں متشابہ ہیں پس وہ لوگ کے دلوں میں کجی ہے سو وہ پیروی کرتے ہیں ( صرف ) ان آیتوں کی جو متشابہ ہیں سے ( ان کا مقصد ) فتنہ انگیزی اور ( غلط ) معنی کی تلاش ہے اور نہیں جانتا اس کے صحیح معنی کو بغیر اللہ تعالیٰ کے اور پختہ علم والے کہتے ہیں ہم ایمان لائے ساتھ اس کے ۔ سب ہمارے رب کے سے ہے اور نہیں کرتے مگر مند ۔
رَبَّنَا لَا تُزِغۡ قُلُوۡبَنَا بَعۡدَ اِذۡ ہَدَیۡتَنَا وَہَبۡ لَنَا مِنۡ لَّدُنۡکَ رَحۡمَۃً ۚ اِنَّکَ اَنۡتَ الۡوَہَّابُ ﴿۸﴾
اے ہمارے رب نہ ٹیڑھے کر ہمارے بعد اس کے کہ تو نے دی ہمیں اور عطا فرما ہمیں اپنے سے رحمت بیشک تو ہی سب کچھ بہت دینے ولا ہے ۔
رَبَّنَاۤ اِنَّکَ جَامِعُ النَّاسِ لِیَوۡمٍ لَّا رَیۡبَ فِیۡہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُخۡلِفُ الۡمِیۡعَادَ ٪﴿۹﴾ 9
اے ہمارے پروردگار ! بیشک تو جمع کرنے والا ہے سب لوگوں کو اس کے لیے نہیں کوئی شبہ جس ( کے آنے ) میں بیشک اللہ تعالیٰ نہیں پھرتا اپنے وعدہ سے ۔
اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَنۡ تُغۡنِیَ عَنۡہُمۡ اَمۡوَالُہُمۡ وَلَاۤ اَوۡلَادُہُمۡ مِّنَ اللّٰہِ شَیۡئًا ؕ وَاُولٰٓئِکَ ہُمۡ وَقُوۡدُ النَّارِ ﴿ۙ۱۰﴾
بیشک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ، نہ بچا سکیں گے انھیں ان کے اور نہ ان کی اللہ ( کے ) سے کچھ بھی اور وہی ( بدبخت ) اِیندھن ہیں کا ۔
کَدَاۡبِ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ۙ وَالَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ؕ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا ۚ فَاَخَذَہُمُ اللّٰہُ بِذُنُوۡبِہِمۡ ؕ وَاللّٰہُ شَدِیۡدُ الۡعِقَابِ ﴿۱۱﴾
۔( اُن کا ) مثل آل فرعون کے اور ان لوگوں کے تھا جو ان سے تھے انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو پس پکڑ لیا انھیں اللہ تعالیٰ نے ان کے گناہوں کی وجہ سے اور اللہ تعالیٰ دینے والا ہے ۔
قُلۡ لِّلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا سَتُغۡلَبُوۡنَ وَتُحۡشَرُوۡنَ اِلٰی جَہَنَّمَ ؕ وَبِئۡسَ الۡمِہَادُ ﴿۱۲﴾
۔( اے میرے رسول ! ) فرما دو ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا کہ عنقریب تم مغلوب کیے جاؤ گے اور ہانکے جاؤ گے جہنم کی طرف اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے ۔
قَدۡ کَانَ لَکُمۡ اٰیَۃٌ فِیۡ فِئَتَیۡنِ الۡتَقَتَا ؕ فِئَۃٌ تُقَاتِلُ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَاُخۡرٰی کَافِرَۃٌ یَّرَوۡنَہُمۡ مِّثۡلَیۡہِمۡ رَاۡیَ الۡعَیۡنِ ؕ وَاللّٰہُ یُؤَیِّدُ بِنَصۡرِہٖ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَعِبۡرَۃً لِّاُولِی الۡاَبۡصَارِ ﴿۱۳﴾
بیشک تھا تمہارے لیے ( عبرت کا ) ( ان ) دو گروہوں میں جو ملے تھے ( میدان بدر میں ) ایک گروہ لڑتا تھا اللہ کی راہ میں اور دوسرا کافر تھا ، دیکھ رہے تھے ( مسلمان ) انھیں اپنے سے دوچند ( اپنی ) آنکھوں سے اور اللہ کرتا ہے اپنی نصرت سے جس کی چاہتا ہے یقیناً اس واقعہ ( بدر ) میں بہت بڑا سبق ہے والوں کے لیے ۔
زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّہَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ وَالۡبَنِیۡنَ وَالۡقَنَاطِیۡرِ الۡمُقَنۡطَرَۃِ مِنَ الذَّہَبِ وَالۡفِضَّۃِ وَالۡخَیۡلِ الۡمُسَوَّمَۃِ وَالۡاَنۡعَامِ وَالۡحَرۡثِ ؕ ذٰلِکَ مَتَاعُ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۚ وَاللّٰہُ عِنۡدَہٗ حُسۡنُ الۡمَاٰبِ ﴿۱۴﴾
آراستہ کی گئی لوگوں کے لیے ان خواہشوں کی یعنی عورتیں اور بیٹے اور خزانے جمع کیے ہوئے سونے اور چاندی کے اور گھوڑے لگائے ہوئے اور اور کھیتی ، یہ سب کچھ ہے دنیوی زندگی کا اور اللہ ہے جس کے ٹھکانا ہے ۔
قُلۡ اَؤُنَبِّئُکُمۡ بِخَیۡرٍ مِّنۡ ذٰلِکُمۡ ؕ لِلَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا عِنۡدَ رَبِّہِمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا وَاَزۡوَاجٌ مُّطَہَّرَۃٌ وَّرِضۡوَانٌ مِّنَ اللّٰہِ ؕ وَاللّٰہُ بَصِیۡرٌۢ بِالۡعِبَادِ ﴿ۚ۱۵﴾
۔( اے میرے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ) آپ فرمائیے کیا بتاؤں میں تمہیں اس سے بہتر چیز ان کے لیے جو متقی بنے ، ان کے رب کے ہاں باغات ہیں ، رواں ہیں ان کے نہریں ، رہیں گے ( متقی ) ان میں اور ( ان کے لیے ) پاکیزہ بیویاں ہوں گی اور حاصل ہوں گی انھیں اللہ کی اور اللہ تعالیٰ خوب دیکھنے والا ہے اپنے بندوں کو ۔
اَلَّذِیۡنَ یَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اِنَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوۡبَنَا وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ﴿ۚ۱۶﴾
یہ وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں اے ہمارے رب ! یقیناً ہم ایمان لائے تو فرما دے ہمارے لیے ہمارے اور بچا لے ہمیں کے سے ۔
اَلصّٰبِرِیۡنَ وَالصّٰدِقِیۡنَ وَالۡقٰنِتِیۡنَ وَالۡمُنۡفِقِیۡنَ وَالۡمُسۡتَغۡفِرِیۡنَ بِالۡاَسۡحَارِ ﴿۱۷﴾
۔( یہ مصیبتوں ) میں کرنے والے ہیں اور ( ہر ) میں بولنے والے ہیں اور ( میں ) کرنے والے ہیں اور اللہ کی راہ میں کرنے والے ہیں اور اپنے گناہوں کی معافی مانگنے والے ہیں سحری کے ۔
شَہِدَ اللّٰہُ اَنَّہٗ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۙ وَالۡمَلٰٓئِکَۃُ وَاُولُوا الۡعِلۡمِ قَآئِمًۢا بِالۡقِسۡطِ ؕ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿ؕ۱۸﴾ ؒ
شہادت دی اللہ تعالیٰ نے ( اس کی کہ ) بیشک نہیں کوئی خدا سوائے اس کے اور ( یہی گواہی دی ) فرشتوں نے اور اہل علم نے ( ان سب نے یہ بھی گواہی دی کہ وہ ) قائم فرمانے والا ہے عدل و کو ، نہیں کوئی معبود سوائے اس کے ( جو ) والا حکمت والا ہے ۔
اِنَّ الدِّیۡنَ عِنۡدَ اللّٰہِ الۡاِسۡلَامُ ۟ وَمَا اخۡتَلَفَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ اِلَّا مِنۡۢ بَعۡدِ مَاجَآءَہُمُ الۡعِلۡمُ بَغۡیًۢا بَیۡنَہُمۡ ؕ وَمَنۡ یَّکۡفُرۡ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ فَاِنَّ اللّٰہَ سَرِیۡعُ الۡحِسَابِ ﴿۱۹﴾
بیشک اللہ تعالیٰ کے صرف اسلام ہی ہے اور نہیں جھگڑا کیا کو دی گئی تھی مگر بعد اس کے کہ آ گیا تھا ان کے صحیح علم ( اور یہ جھگڑا ) باہمی حسد کی وجہ سے تھا اور جو کرتا ہے اللہ کی آیتوں کا تو بیشک اللہ تعالیٰ بہت جلد حساب لینے والا ہے ۔
فَاِنۡ حَآجُّوۡکَ فَقُلۡ اَسۡلَمۡتُ وَجۡہِیَ لِلّٰہِ وَمَنِ اتَّبَعَنِ ؕ وَقُلۡ لِّلَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ وَالۡاُمِّیّٖنَ ءَاَسۡلَمۡتُمۡ ؕ فَاِنۡ اَسۡلَمُوۡا فَقَدِ اہۡتَدَوۡا ۚ وَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَاِنَّمَا عَلَیۡکَ الۡبَلٰغُ ؕ وَاللّٰہُ بَصِیۡرٌۢ بِالۡعِبَادِ ﴿٪۲۰﴾ 10
پھر اگر ( اب بھی ) جھگڑا کریں آپ سے تو آپ کہہ دیجیے کہ میں نے جھکا دیا ہے اپنا اللہ کے اور جنھوں نے میری پیروی کی ، اور کہیے ان لوگوں سے کو دی گئی اور ان پڑھوں سے کہ کیا تم اسلام لائے پس اگر وہ اسلام لے آئیں جب تو پا گئے اور اگر پھیر لیں تو اتنا ہی آپ کے ذمہ تھا کہ آپ پیغام پہنچا دیں ( جو آپ نے پہنچا دیا ) اور اللہ خوب دیکھنے والا ہے ( اپنے ) بندوں کو ۔
اِنَّ الَّذِیۡنَ یَکۡفُرُوۡنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَیَقۡتُلُوۡنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیۡرِ حَقٍّ ۙ وَّیَقۡتُلُوۡنَ الَّذِیۡنَ یَاۡمُرُوۡنَ بِالۡقِسۡطِ مِنَ النَّاسِ ۙ فَبَشِّرۡہُمۡ بِعَذَابٍ اَلِیۡمٍ ﴿۲۱﴾
بیشک جو لوگ کرتے ہیں اللہ کی آیتوں کا اور کرتے ہیں انبیاء کو ناحق اور کرتے ہیں ان لوگوں کو جو کرتے ہیں عدل و کا لوگوں میں سے تو خوشخبری دو انھیں دردناک کی ۔
اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُہُمۡ فِی الدُّنۡیَا وَالۡاٰخِرَۃِ ۫ وَمَا لَہُمۡ مِّنۡ نّٰصِرِیۡنَ ﴿۲۲﴾
یہ ہیں وہ ( بد نصیب ) اکارت گئے کے میں اور میں اور نہیں ہے ان کے لیے کوئی ۔
اَلَمۡ تَرَ اِلَی الَّذِیۡنَ اُوۡتُوۡا نَصِیۡبًا مِّنَ الۡکِتٰبِ یُدۡعَوۡنَ اِلٰی کِتٰبِ اللّٰہِ لِیَحۡکُمَ بَیۡنَہُمۡ ثُمَّ یَتَوَلّٰی فَرِیۡقٌ مِّنۡہُمۡ وَہُمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ ﴿۲۳﴾
کیا نہیں دیکھا آپ نے ان لوگوں کی طرف جنھیں دیا گیا کچھ کا ( جب ) بلائے جاتے ہیں الٰہی کی طرف تاکہ تصفیہ کر دے ان کے باہمی جھگڑوں کا تو پیٹھ پھیر لیتا ہے ایک گروہ ان میں سے درآلنحالیکہ وہ روگردانی کرنے والے ہوتے ہیں ۔
ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ قَالُوۡا لَنۡ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَیَّامًا مَّعۡدُوۡدٰتٍ ۪ وَغَرَّہُمۡ فِیۡ دِیۡنِہِمۡ مَّا کَانُوۡا یَفۡتَرُوۡنَ ﴿۲۴﴾
اس ( بیباکی ) کی وجہ یہ تھی کہ وہ کہتے تھے کہ بالکل نہ چھوئے گی ہمیں کی مگر چند گنے ہوئے اور فریب میں مبتلا رکھا انھیں ان کے کے معاملہ میں ان باتوں نے جو وہ خود گھڑا کرتے تھے ۔
فَکَیۡفَ اِذَا جَمَعۡنٰہُمۡ لِیَوۡمٍ لَّا رَیۡبَ فِیۡہِ ۟ وَوُفِّیَتۡ کُلُّ نَفۡسٍ مَّا کَسَبَتۡ وَہُمۡ لَا یُظۡلَمُوۡنَ ﴿۲۵﴾
سو کیا حال ہو گا ( اُن کا ) جب ہم جمع کریں گے انھیں اس روز جس کے آنے میں کوئی نہیں اور پورا پورا دیا جائے گا ہر شخص کو جو اس نے کمایا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔
قُلِ اللّٰہُمَّ مٰلِکَ الۡمُلۡکِ تُؤۡتِی الۡمُلۡکَ مَنۡ تَشَآءُ وَتَنۡزِعُ الۡمُلۡکَ مِمَّنۡ تَشَآءُ ۫ وَتُعِزُّ مَنۡ تَشَآءُ وَتُذِلُّ مَنۡ تَشَآءُ ؕ بِیَدِکَ الۡخَیۡرُ ؕ اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۲۶﴾
۔( اے حبیب یوں ) عرض کرو اے اللہ ! اے سب ملکوں کے ! تو بخش دیتا ہے ملک جسے چاہتا ہے اور لیتا ہے ملک جس سے چاہتا ہے اور دیتا ہے جس کو چاہتا ہے اور کرتا ہے جس کو چاہتا ہے تیرے ہی میں ہے ساری بھلائی بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے ۔
تُوۡلِجُ الَّیۡلَ فِی النَّہَارِ وَتُوۡلِجُ النَّہَارَ فِی الَّیۡلِ ۫ وَتُخۡرِجُ الۡحَیَّ مِنَ الۡمَیِّتِ وَتُخۡرِجُ الۡمَیِّتَ مِنَ الۡحَیِّ ۫ وَتَرۡزُقُ مَنۡ تَشَآءُ بِغَیۡرِ حِسَابٍ ﴿۲۷﴾
تو کرتا ہے ( کا ) میں اور کرتا ہے تو ( کا ) میں اور نکالتا ہے تو کو مردہ سے اور نکالتا ہے مردہ کو سے اور رزق دیتا ہے جسے چاہتا ہے بے حساب ۔
لَا یَتَّخِذِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الۡکٰفِرِیۡنَ اَوۡلِیَآءَ مِنۡ دُوۡنِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ۚ وَمَنۡ یَّفۡعَلۡ ذٰلِکَ فَلَیۡسَ مِنَ اللّٰہِ فِیۡ شَیۡءٍ اِلَّاۤ اَنۡ تَتَّقُوۡا مِنۡہُمۡ تُقٰىۃً ؕ وَیُحَذِّرُکُمُ اللّٰہُ نَفۡسَہٗ ؕ وَاِلَی اللّٰہِ الۡمَصِیۡرُ ﴿۲۸﴾
نہ بنائیں مومن کافروں کو اپنا مومنوں کو چھوڑ کر اور جس نے کیا یہ پس نہ رہا ( اس کا ) اللہ سے کوئی تعلق مگر اس میں کہ تم کرنا چاہو ان سے اپنا بچاؤ اور ڈراتا ہے تمہیں اللہ تعالیٰ اپنی ذات سے ( یعنی غضب سے ) اور اللہ ہی کی طرف ( سب نے ) لوٹ کر جانا ہے ۔
قُلۡ اِنۡ تُخۡفُوۡا مَافِیۡ صُدُوۡرِکُمۡ اَوۡ تُبۡدُوۡہُ یَعۡلَمۡہُ اللّٰہُ ؕ وَیَعۡلَمُ مَافِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۲۹﴾
فرما دیجیے کہ اگر تم چھپاؤ جو کچھ تمہارے سینوں میں ہے یا کرو اسے ، جانتا ہے اسے اللہ تعالیٰ اور جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ میں ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے ۔
یَوۡمَ تَجِدُ کُلُّ نَفۡسٍ مَّا عَمِلَتۡ مِنۡ خَیۡرٍ مُّحۡضَرًا ۚ ۖ ۛ وَّمَا عَمِلَتۡ مِنۡ سُوۡٓءٍ ۚ ۛ تَوَدُّ لَوۡ اَنَّ بَیۡنَہَا وَبَیۡنَہٗۤ اَمَدًۢا بَعِیۡدًا ؕ وَیُحَذِّرُکُمُ اللّٰہُ نَفۡسَہٗ ؕ وَاللّٰہُ رَءُوۡفٌۢ بِالۡعِبَادِ ﴿٪۳۰﴾ 11
جس موجود پائے گا ہر نفس جو کی تھی اس نے اپنے اور جو کچھ کی تھی اس نے تمنا کرے گا کہ کاش اس کے اور اس کے ( حائل ہوتی ) اور ڈراتا ہے تمہیں اللہ اپنے ( ) سے اور اللہ تعالیٰ بہت ہے اپنے بندوں پر ۔
قُلۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحۡبِبۡکُمُ اللّٰہُ وَیَغۡفِرۡ لَکُمۡ ذُنُوۡبَکُمۡ ؕ وَاللّٰہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۳۱﴾
۔( اے محبوب ) آپ فرمائیے ( انھیں کہ ) اگر تم واقعی کرتے ہو اللہ سے تو میری پیروی کرو ( تب ) فرمانے لگے گا تم سے اللہ اور بخش دے گا تمہارے لیے تمہارے اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے ۔
قُلۡ اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَالرَّسُوۡلَ ۚ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَاِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۳۲﴾
آپ فرمائیے کرو اللہ کی اور ( اس کے ) رسول کی پھر اگر وہ پھیریں تو یقیناً اللہ تعالیٰ نہیں رکھتا کفر کرنے والوں کو ۔
اِنَّ اللّٰہَ اصۡطَفٰۤی اٰدَمَ وَنُوۡحًا وَّاٰلَ اِبۡرٰہِیۡمَ وَاٰلَ عِمۡرٰنَ عَلَی الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿ۙ۳۳﴾
بیشک اللہ تعالیٰ نے لیا آدم اور نوح اور ابراہیم کے گھرانے کو اور عمران کے گھرانے کو سارے جہان والوں پر ۔
ذُرِّیَّۃًۢ بَعۡضُہَا مِنۡۢ بَعۡضٍ ؕ وَاللّٰہُ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ ﴿ۚ۳۴﴾
یہ ایک نسل ہے بعض ان میں سے بعض کی ہیں اور اللہ سب کچھ سننے والا سب کچھ جاننے والا ہے ۔
اِذۡ قَالَتِ امۡرَاَتُ عِمۡرٰنَ رَبِّ اِنِّیۡ نَذَرۡتُ لَکَ مَافِیۡ بَطۡنِیۡ مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلۡ مِنِّیۡ ۚ اِنَّکَ اَنۡتَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۳۵﴾
جب عرض کی عمران کی نے اے میرے رب ! میں نذر مانتی ہوں تیرے لیے جو میرے شکم میں ہے ( سب کاموں سے ) کر کے سو فرما لے ( یہ نذرانہ ) مجھ سے بیشک تو ہی ( دعائیں ) سننے والا ( نیتوں کو ) جاننے والا ہے ۔
فَلَمَّا وَضَعَتۡہَا قَالَتۡ رَبِّ اِنِّیۡ وَضَعۡتُہَاۤ اُنۡثٰی ؕ وَاللّٰہُ اَعۡلَمُ بِمَا وَضَعَتۡ ؕ وَلَیۡسَ الذَّکَرُ کَالۡاُنۡثٰی ۚ وَاِنِّیۡ سَمَّیۡتُہَا مَرۡیَمَ وَاِنِّیۡۤ اُعِیۡذُہَا بِکَ وَذُرِّیَّتَہَا مِنَ الشَّیۡطٰنِ الرَّجِیۡمِ ﴿۳۶﴾
پھر جب اس نے جنا اسے ( تو حیرت و حسرت سے ) بولی اے رب ! میں نے تو جنم دیا ایک لڑکی کو اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جو اس نے جنا اور نہیں تھا ( جس کا وہ سوال کرتی تھی ) مانند اس لڑکی کے اور ( نے کہا ) میں نے رکھا ہے اس کا مریم اور میں تیری میں دیتی ہوں اسے اور اس کی کو شیطان مردود ( کے شر ) سے ۔
فَتَقَبَّلَہَا رَبُّہَا بِقَبُوۡلٍ حَسَنٍ وَّاَنۡۢبَتَہَا نَبَاتًا حَسَنًا ۙ وَّکَفَّلَہَا زَکَرِیَّا ۚ ؕ کُلَّمَا دَخَلَ عَلَیۡہَا زَکَرِیَّا الۡمِحۡرَابَ ۙ وَجَدَ عِنۡدَہَا رِزۡقًا ۚ قَالَ یٰمَرۡیَمُ اَنّٰی لَکِ ہٰذَا ؕ قَالَتۡ ہُوَ مِنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یَرۡزُقُ مَنۡ یَّشَآءُ بِغَیۡرِ حِسَابٍ ﴿۳۷﴾
پھر فرمایا اسے اس کے رب نے بڑی ہی اچھی قبولیت کے ساتھ اور پروان چڑھایا اسے پروان چڑھانا اور نگران بنا دیا اس کا زکریا کو ، جب بھی جاتے مریم کے زکریا ( اس کی ) گاہ میں ( تو ) موجود پاتے اس کے کھانے کی چیزیں ( ایک بار ) بولے اے مریم ! کہاں سے تمہارے لیے آتا ہے یہ ( رزق ) مریم بولیں ، یہ اللہ تعالیٰ کے سے آتا ہے بیشک اللہ تعالیٰ رزق دیتا ہے جسے چاہتا ہے بے حساب ۔
ہُنَالِکَ دَعَا زَکَرِیَّا رَبَّہٗ ۚ قَالَ رَبِّ ہَبۡ لِیۡ مِنۡ لَّدُنۡکَ ذُرِّیَّۃً طَیِّبَۃً ۚ اِنَّکَ سَمِیۡعُ الدُّعَآءِ ﴿۳۸﴾
وہیں مانگی زکریا نے اپنے رب سے عرض کی اے میرے رب ! عطا فرما مجھ کو اپنے سے پاکیزہ بیشک تو ہی سننے والا ہے کا۔
فَنَادَتۡہُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ وَہُوَ قَآئِمٌ یُّصَلِّیۡ فِی الۡمِحۡرَابِ ۙ اَنَّ اللّٰہَ یُبَشِّرُکَ بِیَحۡیٰی مُصَدِّقًۢا بِکَلِمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ وَسَیِّدًا وَّحَصُوۡرًا وَّنَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیۡنَ ﴿۳۹﴾
پھر دی ان کو فرشتوں نے جب کہ وہ کھڑے نماز پڑھ رہے تھے ( اپنی ) گاہ میں کہ بیشک اللہ تعالیٰ خوشخبری دیتا ہے آپ کو یحییٰ کی جو تصدیق کرنے والا ہو گا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک فرمان کی اور ہو گا اور عورتوں سے بچنے والا ہو گا اور نبی ہو گا صالحین سے ۔
قَالَ رَبِّ اَنّٰی یَکُوۡنُ لِیۡ غُلٰمٌ وَّقَدۡ بَلَغَنِیَ الۡکِبَرُ وَامۡرَاَتِیۡ عَاقِرٌ ؕ قَالَ کَذٰلِکَ اللّٰہُ یَفۡعَلُ مَایَشَآءُ ﴿۴۰﴾
زکریا کہنے لگے اے رب ! کیونکر ہو گا میرے ہاں حالانکہ آ لیا ہے مجھے بڑھاپے نے اور میری ہے فرمایا اسی طرح ہے ( جیسی تم نے کہی ) لیکن اللہ کرتا ہے جو چاہتا ہے ۔
قَالَ رَبِّ اجۡعَلۡ لِّیۡۤ اٰیَۃً ؕ قَالَ اٰیَتُکَ اَلَّا تُکَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَۃَ اَیَّامٍ اِلَّا رَمۡزًا ؕ وَاذۡکُرۡ رَّبَّکَ کَثِیۡرًا وَّسَبِّحۡ بِالۡعَشِیِّ وَالۡاِبۡکَارِ ﴿٪۴۱﴾ 12
عرض کی اے میرے رب ! فرما دے میرے لیے کوئی فرمایا تیری یہ ہے کہ نہ کر سکو گے لوگوں سے تین مگر سے اور کرو اپنے پروردگار کو بہت اور پاکی کرو ( اس کی ) اور صبح ۔
وَاِذۡ قَالَتِ الۡمَلٰٓئِکَۃُ یٰمَرۡیَمُ اِنَّ اللّٰہَ اصۡطَفٰکِ وَطَہَّرَکِ وَاصۡطَفٰکِ عَلٰی نِسَآءِ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۴۲﴾
اور جب کہا فرشتوں نے اے مریم ! بیشک اللہ تعالیٰ نے لیا ہے تمہیں اور خوب کر دیا ہے تمہیں اور کیا ہے تجھے سارے جہان کی عورتوں سے ۔
یٰمَرۡیَمُ اقۡنُتِیۡ لِرَبِّکِ وَاسۡجُدِیۡ وَارۡکَعِیۡ مَعَ الرّٰکِعِیۡنَ ﴿۴۳﴾
اے مریم ! خلوص سے کرتی رہ اپنے رب کی اور سجدہ کر اور رکوع کر رکوع کرنے والوں کے ساتھ ۔
ذٰلِکَ مِنۡ اَنۡۢبَآءِ الۡغَیۡبِ نُوۡحِیۡہِ اِلَیۡکَ ؕ وَمَا کُنۡتَ لَدَیۡہِمۡ اِذۡ یُلۡقُوۡنَ اَقۡلَامَہُمۡ اَیُّہُمۡ یَکۡفُلُ مَرۡیَمَ ۪ وَمَا کُنۡتَ لَدَیۡہِمۡ اِذۡ یَخۡتَصِمُوۡنَ ﴿۴۴﴾
یہ غیب کی خبروں میں سے ہیں ہم وحی کرتے ہیں ان کی آپ کی طرف اور نہ تھے آپ ان کے جب پھینک رہے تھے وہ ( مجاور ) اپنی قلمیں ( یہ کرنے کے لیے کہ ) کون ان میں سے سرپرستی کرے مریم کی اور نہ تھے آپ ان کے جب وہ آپس میں جھگڑ رہے تھے ۔
اِذۡ قَالَتِ الۡمَلٰٓئِکَۃُ یٰمَرۡیَمُ اِنَّ اللّٰہَ یُبَشِّرُکِ بِکَلِمَۃٍ مِّنۡہُ ٭ۖ اسۡمُہُ الۡمَسِیۡحُ عِیۡسَی ابۡنُ مَرۡیَمَ وَجِیۡہًا فِی الدُّنۡیَا وَالۡاٰخِرَۃِ وَمِنَ الۡمُقَرَّبِیۡنَ ﴿ۙ۴۵﴾
جب کہا فرشتوں نے اے مریم ! اللہ تعالیٰ بشارت دیتا ہے تجھے ایک کی اپنے سے ، اس کا مسیح عیسیٰ بن مریم ہو گا معزز ہو گا اور میں اور ( اللہ کے ) مقربین سے ہو گا۔
وَیُکَلِّمُ النَّاسَ فِی الۡمَہۡدِ وَکَہۡلًا وَّمِنَ الصّٰلِحِیۡنَ ﴿۴۶﴾
اور گفتگو کرے گا لوگوں کے ساتھ گہوارے میں بھی اور پکی عمر میں بھی اور نیکوکاروں میں سے ہو گا ۔
قَالَتۡ رَبِّ اَنّٰی یَکُوۡنُ لِیۡ وَلَدٌ وَّلَمۡ یَمۡسَسۡنِیۡ بَشَرٌ ؕ قَالَ کَذٰلِکِ اللّٰہُ یَخۡلُقُ مَایَشَآءُ ؕ اِذَا قَضٰۤی اَمۡرًا فَاِنَّمَا یَقُوۡلُ لَہٗ کُنۡ فَیَکُوۡنُ ﴿۴۷﴾
مریم بولیں اے میرے پروردگار ! کیونکر ہو سکتا ہے میرے ہاں بچہ ؟ حالانکہ تک نہیں لگایا مجھے کسی نے ۔ فرمایا یونہی ہے ( جیسے تم کہتی ہو لیکن ) اللہ فرماتا ہے جو چاہتا ہے جب فرماتا ہے کسی ( کے کرنے ) کا تو بس اتنا ہی کہتا ہے اسے کہ ہو جا تو وہ فوراً ہو جاتا ہے ۔
وَیُعَلِّمُہُ الۡکِتٰبَ وَالۡحِکۡمَۃَ وَالتَّوۡرٰىۃَ وَالۡاِنۡجِیۡلَ ﴿ۚ۴۸﴾
اور اللہ تعالیٰ سکھائے گا اسے و حکمت اور تورات و انجیل ۔
وَرَسُوۡلًا اِلٰی بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ ۬ ۙ اَنِّیۡ قَدۡ جِئۡتُکُمۡ بِاٰیَۃٍ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ ۙ اَنِّیۡۤ اَخۡلُقُ لَکُمۡ مِّنَ الطِّیۡنِ کَہَیۡئَۃِ الطَّیۡرِ فَاَنۡفُخُ فِیۡہِ فَیَکُوۡنُ طَیۡرًۢا بِاِذۡنِ اللّٰہِ ۚ وَاُبۡرِئُ الۡاَکۡمَہَ وَالۡاَبۡرَصَ وَاُحۡیِ الۡمَوۡتٰی بِاِذۡنِ اللّٰہِ ۚ وَاُنَبِّئُکُمۡ بِمَا تَاۡکُلُوۡنَ وَمَا تَدَّخِرُوۡنَ ۙ فِیۡ بُیُوۡتِکُمۡ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿ۚ۴۹﴾
اور ( بھیجے گا اسے ) رسول بنا کر بنی اسرائیل کی طرف ( وہ انھیں آ کر کہے گا ) کہ میں آ گیا ہوں تمہارے ایک معجزہ لے کر تمہارے رب کی طرف سے ( وہ معجزہ یہ ہے کہ ) میں بنا دیتا ہوں تمہارے لیے کیچڑ سے پرندے کی سی پھر پھونکتا ہوں اس ( بے جان ) میں تو وہ فوراً ہو جاتی ہے پرندہ اللہ کے سے اور میں کر دیتا ہوں مادر زاد اندھے کو اور ( لاعلاج ) کوڑھی کو اور میں کرتا ہوں مردے کو اللہ کے سے اور بتلاتا ہوں تمہیں جو کچھ تم کھاتے ہو اور جو کچھ تم جمع کر رکھتے ہو اپنے گھروں میں ۔ بیشک ان معجزوں میں ( میری صداقت کی ) بڑی ہے تمہارے لیے اگر تم ایماندار ہو ۔
وَمُصَدِّقًا لِّمَا بَیۡنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوۡرٰىۃِ وَلِاُحِلَّ لَکُمۡ بَعۡضَ الَّذِیۡ حُرِّمَ عَلَیۡکُمۡ وَجِئۡتُکُمۡ بِاٰیَۃٍ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ ۟ فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاَطِیۡعُوۡنِ ﴿۵۰﴾
اور میں تصدیق کرنے والا ہوں اپنے سے آئی ہوئی تورات کی اور تاکہ میں حلال کر دوں تمہارے لیے بعض وہ چیزیں جو ( ) کی گئی تھیں تم پر اور لایا ہوں تمہارے ایک تمہارے رب کی طرف سے سو ڈرو اللہ تعالیٰ سے اور میری کرو ۔
اِنَّ اللّٰہَ رَبِّیۡ وَرَبُّکُمۡ فَاعۡبُدُوۡہُ ؕ ہٰذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِیۡمٌ ﴿۵۱﴾
بیشک اللہ مرتبہ کمال تک پہنچانے والا ہے مجھے اور مرتبہ کمال تک پہنچانے والا ہے تمہیں سو اس کی کرو یہی ہے ۔
فَلَمَّاۤ اَحَسَّ عِیۡسٰی مِنۡہُمُ الۡکُفۡرَ قَالَ مَنۡ اَنۡصَارِیۡۤ اِلَی اللّٰہِ ؕ قَالَ الۡحَوَارِیُّوۡنَ نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰہِ ۚ اٰمَنَّا بِاللّٰہِ ۚ وَاشۡہَدۡ بِاَنَّا مُسۡلِمُوۡنَ ﴿۵۲﴾
پھر جب محسوس کیا عیسیٰ ( علیہ السلام ) نے ان سے کفر ( و ) ( تو ) آپ نے کہا کون ہیں میرے اللہ کی راہ میں ؟ ( یہ سن کر ) کہا حواریوں نے کہ ہم کرنے والے ہیں اللہ ( کے ) کی ، ہم ایمان لائے ہیں اللہ پر اور ( اے نبی ! ) آپ گواہ ہو جائیو کہ ہم ( حکمِ الٰہی کے ) جھکائے ہوئے ہیں ۔
رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا بِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ وَاتَّبَعۡنَا الرَّسُوۡلَ فَاکۡتُبۡنَا مَعَ الشّٰہِدِیۡنَ ﴿۵۳﴾
اے رب ہمارے ! ہم ایمان لائے اس پر جو تو نے نازل فرمایا اور ہم نے تابعداری کی رسول کی ، تو لکھ لے ہمیں ( حق پر ) گواہی دینے والوں کے ساتھ ۔
وَمَکَرُوۡا وَمَکَرَ اللّٰہُ ؕ وَاللّٰہُ خَیۡرُ الۡمٰکِرِیۡنَ ﴿۵۴﴾٪ ؓ 13
اور یہودیوں نے بھی ( مسیح کو کرنے کی ) خفیہ کی اور ( مسیح کو بچانے کے لیے ) اللہ نے بھی خفیہ کی۔ اور اللہ سب سے بہتر ( اور موثر ) خفیہ کرنے والا ہے ۔
اِذۡ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیۡسٰۤی اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ وَمُطَہِّرُکَ مِنَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَجَاعِلُ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡکَ فَوۡقَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ ۚ ثُمَّ اِلَیَّ مَرۡجِعُکُمۡ فَاَحۡکُمُ بَیۡنَکُمۡ فِیۡمَا کُنۡتُمۡ فِیۡہِ تَخۡتَلِفُوۡنَ ﴿۵۵﴾
یاد کرو جب فرمایا اللہ نے اے عیسیٰ ( علیہ السلام ) ! یقیناً میں پوری عمر تک پہنچاؤں گا تمہیں اور اٹھانے والا ہوں تمہیں اپنی طرف اور کرنے والا ہوں تمہیں ان لوگوں ( کی تہمتوں ) سے جنھوں نے ( تیرا ) کیا اور بنانے والا ہوں ان کو جنھوں نے تیری پیروی کی کفر کرنے والوں پر تک پھر میری طرف ہی لوٹ کر آنا ہے تم نے پس ( اس ) میں کروں گا تمہارے ( ان امور کا ) میں تم اختلاف کرتے رہتے تھے ۔
فَاَمَّا الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا فَاُعَذِّبُہُمۡ عَذَابًا شَدِیۡدًا فِی الدُّنۡیَا وَالۡاٰخِرَۃِ ۫ وَمَا لَہُمۡ مِّنۡ نّٰصِرِیۡنَ ﴿۵۶﴾
تو وہ جنھوں نے کفر کیا میں دوں گا انھیں میں اور میں اور نہیں ہو گا ان کے لیے کوئی ۔
وَاَمَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُوَفِّیۡہِمۡ اُجُوۡرَہُمۡ ؕ وَاللّٰہُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۵۷﴾
اور وہ جو ایمان لائے اور کیے تو اللہ پورے پورے دے گا انھیں ان کے اجر اور اللہ تعالیٰ نہیں کرتا ظلم کرنے والوں سے ۔
ذٰلِکَ نَتۡلُوۡہُ عَلَیۡکَ مِنَ الۡاٰیٰتِ وَالذِّکۡرِ الۡحَکِیۡمِ ﴿۵۸﴾
یہ جو ہم پڑھ کر سناتے ہیں آپ کو آیتیں ہیں اور حکمت والی ۔
اِنَّ مَثَلَ عِیۡسٰی عِنۡدَ اللّٰہِ کَمَثَلِ اٰدَمَ ؕ خَلَقَہٗ مِنۡ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَہٗ کُنۡ فَیَکُوۡنُ ﴿۵۹﴾
بیشک مثال عیسیٰ ( علیہ السلام ) کی اللہ تعالیٰ کے آدم ( علیہ السلام ) کی مانند ہے بنایا اسے سے پھر فرمایا اسے ہو جا تو وہ ہو گیا ۔
اَلۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّکَ فَلَا تَکُنۡ مِّنَ الۡمُمۡتَرِیۡنَ ﴿۶۰﴾
۔( اے سننے والے ! ) یہ حقیقت ( کہ عیسیٰ ہیں ) تیرے رب کی طرف سے ( کی گئی ) ہے پس تو نہ ہو جا کرنے والوں سے ۔
فَمَنۡ حَآجَّکَ فِیۡہِ مِنۡۢ بَعۡدِ مَاجَآءَکَ مِنَ الۡعِلۡمِ فَقُلۡ تَعَالَوۡا نَدۡعُ اَبۡنَآءَنَا وَاَبۡنَآءَکُمۡ وَنِسَآءَنَا وَنِسَآءَکُمۡ وَاَنۡفُسَنَا وَاَنۡفُسَکُمۡ ۟ ثُمَّ نَبۡتَہِلۡ فَنَجۡعَلۡ لَّعۡنَتَ اللّٰہِ عَلَی الۡکٰذِبِیۡنَ ﴿۶۱﴾
پھر جو شخص جھگڑا کرے آپ سے اس بارے میں اس کے بعد کہ آ گیا آپ کے ( یقینی ) علم تو آپ کہہ دیجیے کہ آؤ ہم بلائیں اپنے بیٹوں کو بھی اور تمہارے بیٹوں کو بھی ، اپنی عورتوں کو بھی اور تمہاری عورتوں کو بھی اپنے آپ کو بھی اور تم کو بھی پھر بڑی سے ( اللہ کے حضور ) التجا کریں پھر بھیجیں اللہ تعالیٰ کی لعنت جھوٹوں پر ۔
اِنَّ ہٰذَا لَہُوَ الۡقَصَصُ الۡحَقُّ ۚ وَمَا مِنۡ اِلٰہٍ اِلَّا اللّٰہُ ؕ وَاِنَّ اللّٰہَ لَہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۶۲﴾
بیشک یہی ہے واقعہ سچا اور نہیں کوئی معبود سوائے اللہ کے اور بیشک اللہ ہی ہے ( اور ) حکمت والا ہے ۔
فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَاِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌۢ بِالۡمُفۡسِدِیۡنَ ﴿٪۶۳﴾ 14
پھر اگر وہ پھیریں تو اللہ تعالیٰ خوب جاننے والا ہے برپا کرنے والوں کو ۔
قُلۡ یٰۤاَہۡلَ الۡکِتٰبِ تَعَالَوۡا اِلٰی کَلِمَۃٍ سَوَآءٍۢ بَیۡنَنَا وَبَیۡنَکُمۡ اَلَّا نَعۡبُدَ اِلَّا اللّٰہَ وَلَا نُشۡرِکَ بِہٖ شَیۡئًا وَّلَا یَتَّخِذَ بَعۡضُنَا بَعۡضًا اَرۡبَابًا مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ ؕ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَقُوۡلُوا اشۡہَدُوۡا بِاَنَّا مُسۡلِمُوۡنَ ﴿۶۴﴾
۔( میرے نبی ! ) آپ کہیے اے اہل آؤ اس کی طرف جو یکساں ہے ہمارے اور تمہارے ( وہ یہ کہ ) ہم نہ کریں ( کسی کی ) سوائے اللہ کے اور نہ ٹھیرائیں اس کے ساتھ کسی چیز کو اور نہ بنا لے کوئی ہم میں سے کسی کو رب اللہ کے سوا پھر اگر وہ روگردانی کریں ( اس سے ) تو تم کہہ دو گواہ رہنا ( اے اہل ) کہ ہم مسلمان ہیں ۔
یٰۤاَہۡلَ الۡکِتٰبِ لِمَ تُحَآجُّوۡنَ فِیۡۤ اِبۡرٰہِیۡمَ وَمَاۤ اُنۡزِلَتِ التَّوۡرٰىۃُ وَالۡاِنۡجِیۡلُ اِلَّا مِنۡۢ بَعۡدِہٖ ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۶۵﴾
اے اہل ! کیوں جھگڑتے ہو تم ابراہیم کے بارے میں حالانکہ نہیں اتاری گئی تورات اور انجیل مگر ان کے بعد کیا ( اتنا بھی ) تم نہیں سمجھ سکتے ۔
ہٰۤاَنۡتُمۡ ہٰۤؤُلَآءِ حَاجَجۡتُمۡ فِیۡمَا لَکُمۡ بِہٖ عِلۡمٌ فَلِمَ تُحَآجُّوۡنَ فِیۡمَا لَیۡسَ لَکُمۡ بِہٖ عِلۡمٌ ؕ وَاللّٰہُ یَعۡلَمُ وَاَنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۶۶﴾
سنتے ہو ! تم وہ لوگ ہو جو جھگڑتے رہے ہو ( اب تک ) ان باتوں میں کا تمہیں کچھ نہ کچھ علم تھا پس ( اب ) کیوں جھگڑنے لگے ہو ان باتوں میں نہیں ہے تمہیں کا کچھ علم اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے ۔
مَاکَانَ اِبۡرٰہِیۡمُ یَہُوۡدِیًّا وَّلَا نَصۡرَانِیًّا وَّلٰکِنۡ کَانَ حَنِیۡفًا مُّسۡلِمًا ؕ وَمَا کَانَ مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ ﴿۶۷﴾
نہ تھے ابراہیم یہودی اور نہ نصرانی بلکہ وہ ہر گمراہی سے رہنے والے مسلمان تھے اور نہ ہی وہ شرک کرنے والوں میں سے تھے ۔
اِنَّ اَوۡلَی النَّاسِ بِاِبۡرٰہِیۡمَ لَلَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡہُ وَہٰذَا النَّبِیُّ وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ؕ وَاللّٰہُ وَلِیُّ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۶۸﴾
بیشک تر لوگ ابراہیم ( علیہ السلام ) سے وہ تھے جنھوں نے ان کی پیروی کی نیز یہ نبی ( کریم ) اور جو ( اس نبی پر ) ایمان لائے اور اللہ تعالیٰ ہے مومنوں کا ۔
وَدَّتۡ طَّآئِفَۃٌ مِّنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ لَوۡ یُضِلُّوۡنَکُمۡ ؕ وَمَا یُضِلُّوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡفُسَہُمۡ وَمَا یَشۡعُرُوۡنَ ﴿۶۹﴾
دل سے چاہتا ہے ایک گروہ اہل سے کہ کسی طرح گمراہ کر دیں تمہیں اور نہیں گمراہ کرتے مگر اپنے آپ کو اور وہ ( اس حقیقت ) کو نہیں سمجھتے ۔
یٰۤاَہۡلَ الۡکِتٰبِ لِمَ تَکۡفُرُوۡنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَاَنۡتُمۡ تَشۡہَدُوۡنَ ﴿۷۰﴾
اے اہل ! کیوں کرتے ہو اللہ کی آیتوں کا حالانکہ تم خود گواہ ہو ۔
یٰۤاَہۡلَ الۡکِتٰبِ لِمَ تَلۡبِسُوۡنَ الۡحَقَّ بِالۡبَاطِلِ وَتَکۡتُمُوۡنَ الۡحَقَّ وَاَنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿٪۷۱﴾ 15
اے اہل کیوں ملاتے ہو حق کو باطل کے ساتھ اور ( کیوں ) چھپاتے ہو حق کو حالانکہ تم جانتے ہو۔
وَقَالَتۡ طَّآئِفَۃٌ مِّنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ اٰمِنُوۡا بِالَّذِیۡۤ اُنۡزِلَ عَلَی الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَجۡہَ النَّہَارِ وَاکۡفُرُوۡۤا اٰخِرَہٗ لَعَلَّہُمۡ یَرۡجِعُوۡنَ ﴿۷۲﴾ۚۖ
کہا ایک گروہ نے اہل سے کہ ایمان لے آؤ اس ( ) پر جو اتاری گئی ایمان والوں پر صبح کے اور کر دو اس کا ، شاید ( اس طرح ) وہ ( اسلام سے ) برگشتہ ہو جائیں ۔
وَلَا تُؤۡمِنُوۡۤا اِلَّا لِمَنۡ تَبِعَ دِیۡنَکُمۡ ؕ قُلۡ اِنَّ الۡہُدٰی ہُدَی اللّٰہِ ۙ اَنۡ یُّؤۡتٰۤی اَحَدٌ مِّثۡلَ مَاۤ اُوۡتِیۡتُمۡ اَوۡ یُحَآجُّوۡکُمۡ عِنۡدَ رَبِّکُمۡ ؕ قُلۡ اِنَّ الۡفَضۡلَ بِیَدِ اللّٰہِ ۚ یُؤۡتِیۡہِ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَاللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیۡمٌ ﴿۷۳﴾ۚ ۙ
۔( ایک دوسرے کو تاکید کرتے ہیں ) کہ مت مانو کسی کی سوائے ان لوگوں کے جو پیروی کرتے ہیں تمہارے کی ۔ فرمائیے تو وہی ہے جو اللہ کی ہو ( اور یہ بھی نہ ماننا کہ ) دیا جا سکتا ہے کسی کو جیسے تمہیں دیا گیا یا کوئی حجت لا سکتا ہے تم پر تمہارے رب کے ( اے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) فرما دیجیے کہ فضل ( و کرم ) تو اللہ ہی کے میں ہے دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور اللہ تعالیٰ وسعت والا سب کچھ جاننے والا ہے ۔
یَّخۡتَصُّ بِرَحۡمَتِہٖ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَاللّٰہُ ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِیۡمِ ﴿۷۴﴾
خاص کر لیتا ہے اپنی رحمت کے ساتھ جسے چاہتا ہے اور اللہ تعالیٰ صاحب فضل عظیم ہے ۔
وَمِنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ مَنۡ اِنۡ تَاۡمَنۡہُ بِقِنۡطَارٍ یُّؤَدِّہٖۤ اِلَیۡکَ ۚ وَمِنۡہُمۡ مَّنۡ اِنۡ تَاۡمَنۡہُ بِدِیۡنَارٍ لَّا یُؤَدِّہٖۤ اِلَیۡکَ اِلَّا مَادُمۡتَ عَلَیۡہِ قَآئِمًا ؕ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ قَالُوۡا لَیۡسَ عَلَیۡنَا فِی الۡاُمِّیّٖنَ سَبِیۡلٌ ۚ وَیَقُوۡلُوۡنَ عَلَی اللّٰہِ الۡکَذِبَ وَہُمۡ یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۷۵﴾
اور اہل سے بعض ایسے ( دیانتدار ) ہیں کہ اگر تو امانت رکھے اس کے ایک ڈھیر ( سونے چاندی کا ) تو ادا کر دے اسے تمہاری طرف اور ان میں سے بعض وہ بھی ہیں کہ اگر تو امانت رکھے اس کے ایک اشرفی تو واپس نہ کرے گا اسے بھی تیری طرف مگر جب تک تو اس کے پر رہے اس ( بد دیانتی ) کی وجہ یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ نہیں ہے ہم پر ان پڑھوں کے معاملہ میں کوئی اور یہ لوگ کہتے ہیں اللہ پر حالانکہ وہ جانتے ہیں ۔
بَلٰی مَنۡ اَوۡفٰی بِعَہۡدِہٖ وَاتَّقٰی فَاِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الۡمُتَّقِیۡنَ ﴿۷۶﴾
ہاں کیوں نہیں جس نے پورا کیا اپنا وعدہ اور پرہیزگار بنا تو بیشک اللہ تعالیٰ کرتا ہے پرہیزگاروں سے ۔
اِنَّ الَّذِیۡنَ یَشۡتَرُوۡنَ بِعَہۡدِ اللّٰہِ وَاَیۡمَانِہِمۡ ثَمَنًا قَلِیۡلًا اُولٰٓئِکَ لَا خَلَاقَ لَہُمۡ فِی الۡاٰخِرَۃِ وَلَا یُکَلِّمُہُمُ اللّٰہُ وَلَا یَنۡظُرُ اِلَیۡہِمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ وَلَا یُزَکِّیۡہِمۡ ۪ وَلَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۷۷﴾
بیشک جو لوگ خریدتے ہیں اللہ کے اور اپنی قسموں کے عوض تھوڑی سی قیمت ، یہ وہ ( بد نصیب ) ہیں کہ کچھ نہیں ان کے لیے میں اور تک نہ کرے گا ان سے اللہ تعالیٰ اور دیکھے گا بھی نہیں ان کی طرف کے روز اور نہ کرے گا انھیں اور ان کے لیے دردناک ہے ۔
وَاِنَّ مِنۡہُمۡ لَفَرِیۡقًا یَّلۡوٗنَ اَلۡسِنَتَہُمۡ بِالۡکِتٰبِ لِتَحۡسَبُوۡہُ مِنَ الۡکِتٰبِ وَمَا ہُوَ مِنَ الۡکِتٰبِ ۚ وَیَقُوۡلُوۡنَ ہُوَ مِنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ وَمَا ہُوَ مِنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ ۚ وَیَقُوۡلُوۡنَ عَلَی اللّٰہِ الۡکَذِبَ وَہُمۡ یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۷۸﴾
اور بیشک ان میں ایک فریق وہ ہے جو مروڑتے ہیں اپنی زبانوں کو کے ساتھ تاکہ تم خیال کرنے لگو ( ان کی ) اس ( اُلٹ پھیر ) کو بھی اصل سے حالانکہ وہ سے نہیں ہے اور وہ کہتے ہیں یہ بھی اللہ کی طرف سے ( اُترا ) ہے حالانکہ وہ نہیں ہے اللہ کے سے اور وہ کہتے ہیں اللہ پر جان کر ۔
مَاکَانَ لِبَشَرٍ اَنۡ یُّؤۡتِیَہُ اللّٰہُ الۡکِتٰبَ وَالۡحُکۡمَ وَالنُّبُوَّۃَ ثُمَّ یَقُوۡلَ لِلنَّاسِ کُوۡنُوۡا عِبَادًا لِّیۡ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ وَلٰکِنۡ کُوۡنُوۡا رَبّٰنِیّٖنَ بِمَا کُنۡتُمۡ تُعَلِّمُوۡنَ الۡکِتٰبَ وَبِمَا کُنۡتُمۡ تَدۡرُسُوۡنَ ﴿ۙ۷۹﴾
نہیں ہے مناسب کسی کے لیے کہ ( جب ) عطا فرما دے اسے اللہ تعالیٰ اور حکومت اور نبوت تو پھر وہ کہنے لگے لوگوں سے کہ بن جاؤ میرے بندے اللہ کو چھوڑ کر ( وہ تو یہ کہے گا کہ ) بن جاؤ اللہ والے اس لیے کہ تم دوسروں کو تعلیم دیتے رہتے تھے کی اور بوجہ اس کے کہ تم خود بھی اسے پڑھتے تھے ۔
وَلَا یَاۡمُرَکُمۡ اَنۡ تَتَّخِذُوا الۡمَلٰٓئِکَۃَ وَالنَّبِیّٖنَ اَرۡبَابًا ؕ اَیَاۡمُرُکُمۡ بِالۡکُفۡرِ بَعۡدَ اِذۡ اَنۡتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ ﴿۸۰﴾٪ 16
اور وہ ( مقبول بندہ ) نہیں دے گا تمہیں اس کا کہ بنا لو فرشتوں اور پیغمبروں کو خدا ( تم خود سوچو ) کیا وہ دے سکتا ہے تمہیں کفر کرنے کا بعد اس کے کہ تم مسلمان بن چکے ہو ۔
وَاِذۡ اَخَذَ اللّٰہُ مِیۡثَاقَ النَّبِیّٖنَ لَمَاۤ اٰتَیۡتُکُمۡ مِّنۡ کِتٰبٍ وَّحِکۡمَۃٍ ثُمَّ جَآءَکُمۡ رَسُوۡلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَکُمۡ لَتُؤۡمِنُنَّ بِہٖ وَلَتَنۡصُرُنَّہٗ ؕ قَالَ ءَاَقۡرَرۡتُمۡ وَاَخَذۡتُمۡ عَلٰی ذٰلِکُمۡ اِصۡرِیۡ ؕ قَالُوۡۤا اَقۡرَرۡنَا ؕ قَالَ فَاشۡہَدُوۡا وَاَنَا مَعَکُمۡ مِّنَ الشّٰہِدِیۡنَ ﴿۸۱﴾
اور کرو جب لیا اللہ تعالیٰ نے انبیاء سے پختہ وعدہ کہ ہے تمہیں اس کی جو دوں میں تم کو اور حکمت سے پھر تشریف لائے تمہارے وہ رسول جو تصدیق کرنے والا ہو ان ( کتابوں ) کی جو تمہارے ہیں تو تم ضرور ضرور ایمان لانا اس پر اور ضرور ضرور کرنا اس کی ( اس کے بعد ) فرمایا کیا تم نے کر لیا اور اٹھا لیا تم نے اس پر میرا بھاری ذمہ ؟ سب نے عرض کی ہم نے کیا ( اللہ ) نے فرمایا تو گواہ رہنا اور میں ( بھی ) تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں ۔
فَمَنۡ تَوَلّٰی بَعۡدَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ ﴿۸۲﴾
پھر جو کوئی پھرے اس سے ( پختہ ) کے بعد تو وہی لوگ فاسق ہیں ۔
اَفَغَیۡرَ دِیۡنِ اللّٰہِ یَبۡغُوۡنَ وَلَہٗۤ اَسۡلَمَ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ طَوۡعًا وَّکَرۡہًا وَّاِلَیۡہِ یُرۡجَعُوۡنَ ﴿۸۳﴾
کیا اللہ کے کے سوا ( کوئی اور ) تلاش کرتے ہیں حالانکہ اسی کے حضور جھکا دیا ہے ہر چیز نے جو آسمانوں اور میں ہے خوشی سے یا مجبوری سے اور اسی کی طرف وہ سب لوٹائے جائیں گے ۔
قُلۡ اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَمَاۤ اُنۡزِلَ عَلَیۡنَا وَمَاۤ اُنۡزِلَ عَلٰۤی اِبۡرٰہِیۡمَ وَاِسۡمٰعِیۡلَ وَاِسۡحٰقَ وَیَعۡقُوۡبَ وَالۡاَسۡبَاطِ وَمَاۤ اُوۡتِیَ مُوۡسٰی وَعِیۡسٰی وَالنَّبِیُّوۡنَ مِنۡ رَّبِّہِمۡ ۪ لَا نُفَرِّقُ بَیۡنَ اَحَدٍ مِّنۡہُمۡ ۫ وَنَحۡنُ لَہٗ مُسۡلِمُوۡنَ ﴿۸۴﴾
آپ فرمائیے ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس پر جو اتارا گیا ہم پر اور جو اتارا گیا ابراہیم ، اِسماعیل ، اِسحٰق ، یعقوب اور ان کے بیٹوں پر اور جو کچھ دیا گیا موسیٰ ، عیسیٰ اور ( دوسرے ) انبیاء کو ان کے رب کی طرف سے ، نہیں کرتے ہم کسی کے ان میں سے اور ہم اللہ کے فرمانبردار ہیں ۔
وَمَنۡ یَّبۡتَغِ غَیۡرَ الۡاِسۡلَامِ دِیۡنًا فَلَنۡ یُّقۡبَلَ مِنۡہُ ۚ وَہُوَ فِی الۡاٰخِرَۃِ مِنَ الۡخٰسِرِیۡنَ ﴿۸۵﴾
اور جو تلاش کرے گا اسلام کے بغیر کوئی ( اور ) تو وہ ہرگز نہ کیا جائے گا اس سے اور وہ کو زیاں کاروں میں سے ہو گا ۔
کَیۡفَ یَہۡدِی اللّٰہُ قَوۡمًا کَفَرُوۡا بَعۡدَ اِیۡمَانِہِمۡ وَشَہِدُوۡۤا اَنَّ الرَّسُوۡلَ حَقٌّ وَّجَآءَہُمُ الۡبَیِّنٰتُ ؕ وَاللّٰہُ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۸۶﴾
کیسے ہو سکتا ہے کہ دے اللہ تعالیٰ ایسی قوم کو جنھوں نے کفر کر لیا ایمان لے آنے کے بعد اور وہ ( خود ) گواہی دے چکے تھے کہ رسول سچا ہے اور آ چکی تھیں ان کے کھلی نشانیاں اور اللہ تعالیٰ نہیں دیتا ظالم لوگوں کو ۔
اُولٰٓئِکَ جَزَآؤُہُمۡ اَنَّ عَلَیۡہِمۡ لَعۡنَۃَ اللّٰہِ وَالۡمَلٰٓئِکَۃِ وَالنَّاسِ اَجۡمَعِیۡنَ ﴿ۙ۸۷﴾
ایسوں کی سزا یہ ہے کہ ان پر پھٹکار پڑتی رہے اللہ کی فرشتوں کی اور سب انسانوں کی ۔
خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ۚ لَا یُخَفَّفُ عَنۡہُمُ الۡعَذَابُ وَلَا ہُمۡ یُنۡظَرُوۡنَ ﴿ۙ۸۸﴾
ہمیشہ رہیں اسی پھٹکار میں ، نہ کیا جائے گا ان سے اور نہ انھیں دی جائے گی ۔
اِلَّا الَّذِیۡنَ تَابُوۡا مِنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِکَ وَاَصۡلَحُوۡا ۟ فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۸۹﴾
مگر وہ لوگ جنھوں نے ( سچے سے ) توبہ کر لی اس کے بعد اور اپنی اصلاح کر لی تو بیشک اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے ( انھیں بخش دے گا ) ۔
اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بَعۡدَ اِیۡمَانِہِمۡ ثُمَّ ازۡدَادُوۡا کُفۡرًا لَّنۡ تُقۡبَلَ تَوۡبَتُہُمۡ ۚ وَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الضَّآلُّوۡنَ ﴿۹۰﴾
یقیناً وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ایمان لانے کے بعد پھر بڑھتے چلے گئے کفر میں ، ہرگز نہ کی جائے گی ان کی توبہ اور یہی لوگ ہیں جو گمراہ ہیں ۔
اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَمَاتُوۡا وَہُمۡ کُفَّارٌ فَلَنۡ یُّقۡبَلَ مِنۡ اَحَدِہِمۡ مِّلۡءُ الۡاَرۡضِ ذَہَبًا وَّلَوِ افۡتَدٰی بِہٖ ؕ اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ وَّمَا لَہُمۡ مِّنۡ نّٰصِرِیۡنَ ﴿٪۹۱﴾ 17
جن لوگوں نے کفر کیا اور مر گئے کفر ہی کی میں تو ہرگز نہ کیا جائے گا ان میں سے کسی سے بھر اگرچہ وہ ( اپنی کے لیے ) عوضانہ دے اتنا ، ایسے لوگوں کے لیے ہے دردناک اور نہیں ہے ان کا کوئی ۔
لَنۡ تَنَالُوا الۡبِرَّ حَتّٰی تُنۡفِقُوۡا مِمَّا تُحِبُّوۡنَ ۬ ؕ وَمَا تُنۡفِقُوۡا مِنۡ شَیۡءٍ فَاِنَّ اللّٰہَ بِہٖ عَلِیۡمٌ ﴿۹۲﴾
ہرگز نہ پا سکو گے تم کامل ( کا ) جب تک نہ کرو ( راہ خدا میں ) ان چیزوں سے کو تم عزیز رکھتے ہو اور جو کچھ تم کرتے ہو بلاشبہ اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے ۔
کُلُّ الطَّعَامِ کَانَ حِلًّا لِّبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ اِلَّا مَاحَرَّمَ اِسۡرَآءِیۡلُ عَلٰی نَفۡسِہٖ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تُنَزَّلَ التَّوۡرٰىۃُ ؕ قُلۡ فَاۡتُوۡا بِالتَّوۡرٰىۃِ فَاتۡلُوۡہَاۤ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۹۳﴾
سب کھانے کی چیزیں حلال تھیں بنی اسرائیل کے لیے مگر وہ جسے کیا اسرائیل نے اپنے آپ پر اس سے کہ نازل کی گئی تورات ، آپ فرماؤ لاؤ تورات پھر پڑھو اسے اگر تم سچے ہو ۔
فَمَنِ افۡتَرٰی عَلَی اللّٰہِ الۡکَذِبَ مِنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴿۹۴﴾
پس جو لگاتا ہے اللہ تعالیٰ پر جھوٹا اس کے بعد تو وہی ظالم ہیں ۔
قُلۡ صَدَقَ اللّٰہُ ۟ فَاتَّبِعُوۡا مِلَّۃَ اِبۡرٰہِیۡمَ حَنِیۡفًا ؕ وَمَا کَانَ مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ ﴿۹۵﴾
آپ کہہ دیجیے فرمایا ہے اللہ نے پس پیروی کرو تم ملت ابراہیم کی جو ہر باطل سے تھلگ تھے اور ( بالکل ) نہ تھے وہ شرک کرنے والوں سے ۔
اِنَّ اَوَّلَ بَیۡتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِیۡ بِبَکَّۃَ مُبٰرَکًا وَّہُدًی لِّلۡعٰلَمِیۡنَ ﴿ۚ۹۶﴾
بیشک پہلا ( ) خانہ جو بنایا گیا لوگوں کے لیے وہی ہے جو مکہ میں ہے بڑا برکت والا ( کا ) ہے سب جہانوں کے لیے ۔
فِیۡہِ اٰیٰتٌۢ بَیِّنٰتٌ مَّقَامُ اِبۡرٰہِیۡمَ ۬ ۚ وَمَنۡ دَخَلَہٗ کَانَ اٰمِنًا ؕ وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الۡبَیۡتِ مَنِ اسۡتَطَاعَ اِلَیۡہِ سَبِیۡلًا ؕ وَمَنۡ کَفَرَ فَاِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ عَنِ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۹۷﴾
اس میں روشن نشانیاں ہیں ( ان میں سے ایک ) مقام ابراہیم ہے اور جو بھی ہو اس میں ، ہو جاتا ہے ( ہر خطرہ سے ) محفوظ اور اللہ کے لیے فرض ہے لوگوں پر حج اس کا جو رکھتا ہو وہاں تک پہنچنے کی اور جو شخص ( اِس کے باوجود ) کرے تو بیشک اللہ ہے سارے جہان سے ۔
قُلۡ یٰۤاَہۡلَ الۡکِتٰبِ لِمَ تَکۡفُرُوۡنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ ٭ۖ وَاللّٰہُ شَہِیۡدٌ عَلٰی مَاتَعۡمَلُوۡنَ ﴿۹۸﴾
آپ فرمائیے اے اہل ! کیوں کرتے ہو اللہ کی آیتوں کا اور اللہ دیکھ رہا ہے جو کچھ تم کرتے ہو ۔
قُلۡ یٰۤاَہۡلَ الۡکِتٰبِ لِمَ تَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ مَنۡ اٰمَنَ تَبۡغُوۡنَہَا عِوَجًا وَّاَنۡتُمۡ شُہَدَآءُ ؕ وَمَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۹۹﴾
آپ فرمائیے اے اہل ! تم کیوں روکتے ہو اللہ کی راہ سے اسے جو ایمان لا چکا ۔ تم چاہتے ہو کہ اس راہ ( راست ) کو بنا دو حالانکہ تم خود ( اس کی راستی کے ) گواہ ہو اور نہیں ہے اللہ بے ان ( کرتوتوں ) سے جو تم کرتے ہو ۔
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ تُطِیۡعُوۡا فَرِیۡقًا مِّنَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ یَرُدُّوۡکُمۡ بَعۡدَ اِیۡمَانِکُمۡ کٰفِرِیۡنَ ﴿۱۰۰﴾
اے ایمان والو ! اگر تم کہا مانو گے ایک گروہ کا اہل سے ( تو نتیجہ یہ ہو گا کہ ) لوٹا کر چھوڑیں گے تمہیں تمہارے ایمان کرنے کے بعد کافروں میں ۔
وَکَیۡفَ تَکۡفُرُوۡنَ وَاَنۡتُمۡ تُتۡلٰی عَلَیۡکُمۡ اٰیٰتُ اللّٰہِ وَفِیۡکُمۡ رَسُوۡلُہٗ ؕ وَمَنۡ یَّعۡتَصِمۡ بِاللّٰہِ فَقَدۡ ہُدِیَ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ﴿۱۰۱﴾٪ 1
اور یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ تم ( اب پھر ) کفر کرنے لگو حالانکہ تم وہ ہو کہ پڑھی جاتی ہیں تم پر اللہ کی آیتیں اور تم میں اللہ کا رسول بھی تشریف فرما ہے اور جو مضبوطی سے پکڑتا ہے اللہ ( کے دامن ) کو تو ضرور پہنچایا جاتا ہے اسے سیدھی راہ تک ۔
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ حَقَّ تُقٰتِہٖ وَلَا تَمُوۡتُنَّ اِلَّا وَاَنۡتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ ﴿۱۰۲﴾
اے ایمان والو ! ڈرو اللہ سے جیسے حق ہے اس سے ڈرنے کا اور ( خبردار ) نہ مرنا مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو ۔
وَاعۡتَصِمُوۡا بِحَبۡلِ اللّٰہِ جَمِیۡعًا وَّلَا تَفَرَّقُوۡا ۪ وَاذۡکُرُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰہِ عَلَیۡکُمۡ اِذۡ کُنۡتُمۡ اَعۡدَآءً فَاَلَّفَ بَیۡنَ قُلُوۡبِکُمۡ فَاَصۡبَحۡتُمۡ بِنِعۡمَتِہٖۤ اِخۡوَانًا ۚ وَکُنۡتُمۡ عَلٰی شَفَا حُفۡرَۃٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنۡقَذَکُمۡ مِّنۡہَا ؕ کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمۡ اٰیٰتِہٖ لَعَلَّکُمۡ تَہۡتَدُوۡنَ ﴿۱۰۳﴾
اور مضبوطی سے پکڑ لو اللہ کی سب مل کر اور جدا جدا نہ ہونا اور رکھو اللہ تعالیٰ کی وہ ( جو اس نے ) تم پر فرمائی جب کہ تم تھے ( آپس میں ) پس اس نے الفت کر دی تمہارے دلوں میں تو بن گئے تم اس کے سے بھائی اور تم ( کھڑے ) تھے کے گڑھے کے کنارے پر تو اس نے بچا لیا تمہیں اس ( میں گرنے ) سے ، یونہی کرتا ہے اللہ تعالیٰ تمہارے لیے اپنی آیتیں تاکہ تم پر رہو ۔
وَلۡتَکُنۡ مِّنۡکُمۡ اُمَّۃٌ یَّدۡعُوۡنَ اِلَی الۡخَیۡرِ وَیَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَیَنۡہَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ ؕ وَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴿۱۰۴﴾
ضرور ہونی چاہیے تم میں ایک جو بلایا کرے کی طرف اور دیا کرے بھلائی کا اور روکا کرے بدی سے اور یہی لوگ و کامران ہیں ۔
وَلَا تَکُوۡنُوۡا کَالَّذِیۡنَ تَفَرَّقُوۡا وَاخۡتَلَفُوۡا مِنۡۢ بَعۡدِ مَاجَآءَہُمُ الۡبَیِّنٰتُ ؕ وَاُولٰٓئِکَ لَہُمۡ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ ﴿۱۰۵﴾ۙ
اور نہ ہو جانا ان لوگوں کی طرح جو فرقوں میں بٹ گئے تھے اور اختلاف کرنے لگے تھے اس کے بعد بھی جب آ چکی تھیں ان کے روشن نشانیاں اور ان لوگوں کے لیے ہے بہت بڑا ۔
یَّوۡمَ تَبۡیَضُّ وُجُوۡہٌ وَّتَسۡوَدُّ وُجُوۡہٌ ۚ فَاَمَّا الَّذِیۡنَ اسۡوَدَّتۡ وُجُوۡہُہُمۡ ۟ اَکَفَرۡتُمۡ بَعۡدَ اِیۡمَانِکُمۡ فَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ بِمَا کُنۡتُمۡ تَکۡفُرُوۡنَ ﴿۱۰۶﴾
اس ( جب کہ ) روشن ہوں گے کئی چہرے اور کالے ہوں گے کئی تو وہ جو سیاہ رو ہوں گے ( انھیں کہا جائے گا ) کہ کیا تم نے کفر کر لیا تھا ایمان لانے کے بعد تو اب چکھو ( کی اذیتیں ) بوجہ اس کفر کے جو تم کیا کرتے تھے ۔
وَاَمَّا الَّذِیۡنَ ابۡیَضَّتۡ وُجُوۡہُہُمۡ فَفِیۡ رَحۡمَۃِ اللّٰہِ ؕ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۱۰۷﴾
اور وہ نصیب لوگ روشن ہوں گے کے چہرے تو وہ رحمت الٰہی ( کے سائے ) میں ہوں گے وہ اس میں رہیں گے ۔
تِلۡکَ اٰیٰتُ اللّٰہِ نَتۡلُوۡہَا عَلَیۡکَ بِالۡحَقِّ ؕ وَمَا اللّٰہُ یُرِیۡدُ ظُلۡمًا لِّلۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۰۸﴾
یہ اللہ کی آیتیں ہیں ہم پڑھ کر سناتے ہیں آپ کو ٹھیک ٹھیک اور نہیں رکھتا اللہ ظلم کرنے کا والوں پر ۔
وَلِلّٰہِ مَافِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ وَاِلَی اللّٰہِ تُرۡجَعُ الۡاُمُوۡرُ ﴿۱۰۹﴾٪ 2
اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ میں ہے اور اللہ کی طرف ہی لوٹائے جائیں گے سارے ۔
کُنۡتُمۡ خَیۡرَ اُمَّۃٍ اُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ تَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَتَنۡہَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ وَتُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ ؕ وَلَوۡ اٰمَنَ اَہۡلُ الۡکِتٰبِ لَکَانَ خَیۡرًا لَّہُمۡ ؕ مِنۡہُمُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ وَاَکۡثَرُہُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ ﴿۱۱۰﴾
ہو تم بہترین امت جو کی گئی ہے لوگوں ( کی و بھلائی ) کے لیے ، تم دیتے ہو کا اور روکتے ہو سے اور ایمان رکھتے ہو اللہ پر اور اگر ایمان لاتے اہل تو یہ بہتر ہوتا ان کے لیے ، بعض ان میں سے مومن ہیں اور ان میں سے نافرمان ہیں ۔
لَنۡ یَّضُرُّوۡکُمۡ اِلَّاۤ اَذًی ؕ وَاِنۡ یُّقَاتِلُوۡکُمۡ یُوَلُّوۡکُمُ الۡاَدۡبَارَ ۟ ثُمَّ لَا یُنۡصَرُوۡنَ ﴿۱۱۱﴾
۔( کچھ ) نہ بگاڑ سکیں گے تمہارا سوائے ستانے کے اور اگر لڑیں گے تمہارے ساتھ تو پھیر دیں گے تمہاری طرف اپنی پیٹھیں ( اور بھاگ جائیں گے ) پھر ان کی امداد نہ کی جائے گی ۔
ضُرِبَتۡ عَلَیۡہِمُ الذِّلَّۃُ اَیۡنَ مَاثُقِفُوۡۤا اِلَّا بِحَبۡلٍ مِّنَ اللّٰہِ وَحَبۡلٍ مِّنَ النَّاسِ وَبَآءُوۡ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰہِ وَضُرِبَتۡ عَلَیۡہِمُ الۡمَسۡکَنَۃُ ؕ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ کَانُوۡا یَکۡفُرُوۡنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَیَقۡتُلُوۡنَ الۡاَنۡۢبِیَآءَ بِغَیۡرِ حَقٍّ ؕ ذٰلِکَ بِمَا عَصَوۡا وَّکَانُوۡا یَعۡتَدُوۡنَ ﴿۱۱۲﴾٭
مسلط کر دی گئی ہے ان پر ( و رسوائی ) جہاں کہیں یہ پائے گئے بجز اس کے کہ اللہ کے سے یا لوگوں کے سے ( کہیں مل جائے ) اور یہ مستحق ہو گئے ہیں غضب الٰہی کے اور کر دی گئی ہے ان پر محتاجی ، یہ اس لیے کہ وہ کفر کیا کرتے تھے اللہ کی آیتوں سے اور کیا کرتے تھے انبیاء کو ناحق ، یہ ( بیباکی ) اس لیے تھی کہ وہ کرتے تھے اور کیا کرتے تھے ۔
لَیۡسُوۡا سَوَآءً ؕ مِنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ اُمَّۃٌ قَآئِمَۃٌ یَّتۡلُوۡنَ اٰیٰتِ اللّٰہِ اٰنَآءَ الَّیۡلِ وَہُمۡ یَسۡجُدُوۡنَ ﴿۱۱۳﴾
سب یکساں نہیں اہل سے ایک گروہ حق پر قائم ہے یہ تلاوت کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کی آیتوں کی کے اوقات میں اور وہ سجدے کرتے ہیں ۔
یُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَالۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَیَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَیَنۡہَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ وَیُسَارِعُوۡنَ فِی الۡخَیۡرٰتِ ؕ وَاُولٰٓئِکَ مِنَ الصّٰلِحِیۡنَ ﴿۱۱۴﴾
ایمان رکھتے ہیں اللہ پر اور روز پر اور دیتے ہیں بھلائی کا اور منع کرتے ہیں سے اور کرتے ہیں نیکیوں میں اور یہ لوگ نیکوکاروں میں سے ہیں ۔
وَمَا یَفۡعَلُوۡا مِنۡ خَیۡرٍ فَلَنۡ یُّکۡفَرُوۡہُ ؕ وَاللّٰہُ عَلِیۡمٌۢ بِالۡمُتَّقِیۡنَ ﴿۱۱۵﴾
اور جو یہ کریں گے کاموں سے تو ہرگز نہ کیا جائے گا اس کار خیر کا اور اللہ جاننے والا ہے پرہیزگاروں کو ۔
اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَنۡ تُغۡنِیَ عَنۡہُمۡ اَمۡوَالُہُمۡ وَلَاۤ اَوۡلَادُہُمۡ مِّنَ اللّٰہِ شَیۡئًا ؕ وَاُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ النَّارِ ۚ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۱۱۶﴾
بیشک لوگوں نے کفر کیا ہرگز نہ بچا سکیں گے انھیں ان کے اور نہ ان کی اللہ ( کے ) سے ذرہ بھر اور وہ دوزخی ہیں وہ اس میں رہیں گے ۔
مَثَلُ مَایُنۡفِقُوۡنَ فِیۡ ہٰذِہِ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا کَمَثَلِ رِیۡحٍ فِیۡہَا صِرٌّ اَصَابَتۡ حَرۡثَ قَوۡمٍ ظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ فَاَہۡلَکَتۡہُ ؕ وَمَا ظَلَمَہُمُ اللّٰہُ وَلٰکِنۡ اَنۡفُسَہُمۡ یَظۡلِمُوۡنَ ﴿۱۱۷﴾
مثال اس کی جو وہ کرتے ہیں اس دنیوی زندگی میں ایسی ہے جیسے ہو اس میں ٹھنڈک ہو ( اور ) لگے وہ ایک قوم کے کھیت کو جنھوں نے ظلم کیا ہو اپنے نفسوں پر پھر فنا کر دے اس کھیت کو ۔ نہیں ظلم کیا ان پر اللہ تعالیٰ نے ۔ لیکن وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوۡا بِطَانَۃً مِّنۡ دُوۡنِکُمۡ لَا یَاۡلُوۡنَکُمۡ خَبَالًا ؕ وَدُّوۡا مَاعَنِتُّمۡ ۚ قَدۡ بَدَتِ الۡبَغۡضَآءُ مِنۡ اَفۡوَاہِہِمۡ ۚ ۖ وَمَا تُخۡفِیۡ صُدُوۡرُہُمۡ اَکۡبَرُ ؕ قَدۡ بَیَّنَّا لَکُمُ الۡاٰیٰتِ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۱۱۸﴾
اے ایمان والو ! نہ بناؤ اپنا راز دار غیروں کو ، وہ کسر نہ اٹھا رکھیں گے تمہیں پہنچانے میں ، وہ کرتے ہیں جو چیز تمہیں ضرر دے ۔ ہو چکا ہے بغض ان کے مونہوں ( یعنی زبانوں ) سے اور جو چھپا رکھا ہے ان کے سینوں نے وہ اس سے بھی بڑا ہے ہم نے کر دیں تمہارے لیے اپنی آیتیں اگر تم سمجھدار ہو ۔
ہٰۤاَنۡتُمۡ اُولَآءِ تُحِبُّوۡنَہُمۡ وَلَا یُحِبُّوۡنَکُمۡ وَتُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡکِتٰبِ کُلِّہٖ ۚ وَاِذَا لَقُوۡکُمۡ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا ۚ٭ۖ وَاِذَا خَلَوۡا عَضُّوۡا عَلَیۡکُمُ الۡاَنَامِلَ مِنَ الۡغَیۡظِ ؕ قُلۡ مُوۡتُوۡا بِغَیۡظِکُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴿۱۱۹﴾
سنو ! تم تو وہ ( ) ہو کہ کرتے ہو ان سے اور وہ ( ذرا ) نہیں کرتے تم سے اور مانتے ہو تم سب کتابوں کو اور جب وہ تم سے ملتے ہیں کہتے ہیں ہم ایمان لائے ہیں اور جب وہ تنہا ہوتے ہیں تو چباتے ہیں تم پر سے ( اے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ) آپ فرمائیے مر جاؤ اپنے ( کی میں جل کر ) یقیناً اللہ خوب جاننے والا ہے دلوں کی باتوں کا ۔
اِنۡ تَمۡسَسۡکُمۡ حَسَنَۃٌ تَسُؤۡہُمۡ ۫ وَاِنۡ تُصِبۡکُمۡ سَیِّئَۃٌ یَّفۡرَحُوۡا بِہَا ؕ وَاِنۡ تَصۡبِرُوۡا وَتَتَّقُوۡا لَا یَضُرُّکُمۡ کَیۡدُہُمۡ شَیۡئًا ؕ اِنَّ اللّٰہَ بِمَا یَعۡمَلُوۡنَ مُحِیۡطٌ ﴿۱۲۰﴾٪ 3
۔( ان کا حال تو یہ ہے کہ ) اگر پہنچے تمہیں کوئی بھلائی تو بری لگی ہے انھیں اور اگر پہنچے تمہیں کوئی تو ( بڑے ) ہوتے ہیں اس سے اور اگر تم کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو تو نہ پہنچائے گا تمہیں ان کا فریب کچھ بھی ۔ بیشک اللہ تعالیٰ جو کچھ وہ کرتے ہیں ( اس ) کا احاطہ کیے ہوئے ہے ۔
وَاِذۡ غَدَوۡتَ مِنۡ اَہۡلِکَ تُبَوِّئُ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ مَقَاعِدَ لِلۡقِتَالِ ؕ وَاللّٰہُ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ ﴿۱۲۱﴾ۙ
اور کرو ( اے محبوب ﷺ ! ) جب صبح سویرے رخصت ہوئے آپ اپنے گھروں سے ( اور میدان احد میں ) بٹھا رہے تھے مومنوں کو مورچوں پر کے لیے اور اللہ سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے ۔
اِذۡ ہَمَّتۡ طَّآئِفَتٰنِ مِنۡکُمۡ اَنۡ تَفۡشَلَا ۙ وَاللّٰہُ وَلِیُّہُمَا ؕ وَعَلَی اللّٰہِ فَلۡیَتَوَکَّلِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۱۲۲﴾
جب کیا دو جماعتوں نے تم میں سے کہ ہار دیں حالانکہ اللہ تعالیٰ دونوں کا تھا ( اس لیے اس نے اس لغزش سے بچا لیا ) اور صرف اللہ پر توکل کرنا چاہیے مومنوں کو ۔
وَلَقَدۡ نَصَرَکُمُ اللّٰہُ بِبَدۡرٍ وَّاَنۡتُمۡ اَذِلَّۃٌ ۚ فَاتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَ ﴿۱۲۳﴾
اور بیشک کی تھی تمہاری اللہ تعالیٰ نے ( میدانِ ) بدر میں حالانکہ تم بالکل تھے پس ڈرتے رہا کرو اللہ سے تاکہ تم ( اس بروقت امداد کا ) شکر ادا کر سکو ۔
اِذۡ تَقُوۡلُ لِلۡمُؤۡمِنِیۡنَ اَلَنۡ یَّکۡفِیَکُمۡ اَنۡ یُّمِدَّکُمۡ رَبُّکُمۡ بِثَلٰثَۃِ اٰلٰفٍ مِّنَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ مُنۡزَلِیۡنَ ﴿۱۲۴﴾ؕ
۔( عجب سہانی تھی ) جب آپ فرما رہے تھے مومنوں سے کیا تمہیں یہ نہیں کہ تمہاری فرمائے تمہارا پروردگار تین ہزار فرشتوں سے جو اتارے گئے ہیں ۔
بَلٰۤی ۙ اِنۡ تَصۡبِرُوۡا وَتَتَّقُوۡا وَیَاۡتُوۡکُمۡ مِّنۡ فَوۡرِہِمۡ ہٰذَا یُمۡدِدۡکُمۡ رَبُّکُمۡ بِخَمۡسَۃِ اٰلٰفٍ مِّنَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ مُسَوِّمِیۡنَ ﴿۱۲۵﴾ ٙ
ہاں ہے بشرطیکہ تم کرو اور تقویٰ کرو اور ( اگر ) آ دھمکیں کفار تم پر تیزی سے اسی تو کرے گا تمہاری تمہارا رب پانچ ہزار فرشتوں سے جو والے ہیں ۔
وَمَا جَعَلَہُ اللّٰہُ اِلَّا بُشۡرٰی لَکُمۡ وَلِتَطۡمَئِنَّ قُلُوۡبُکُمۡ بِہٖ ؕ وَمَا النَّصۡرُ اِلَّا مِنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ الۡعَزِیۡزِ الۡحَکِیۡمِ ﴿۱۲۶﴾ۙ
اور نہیں بنایا فرشتوں کے اترنے کو اللہ نے مگر خوشخبری تمہارے لیے اور تاکہ مطمئن ہو جائیں تمہارے اس سے اور ( حقیقت تو یہ ہے ) کہ نہیں ہے و نصرت مگر اللہ کی طرف سے جو سب پر ( اور ) حکمت والا ہے ۔
لِیَقۡطَعَ طَرَفًا مِّنَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اَوۡ یَکۡبِتَہُمۡ فَیَنۡقَلِبُوۡا خَآئِبِیۡنَ ﴿۱۲۷﴾
۔( یہ اس لیے تھی ) تاکہ کاٹ دے ایک کافروں سے یا کر دے ان کو پس لوٹ جائیں نامراد ہو کر ۔
لَیۡسَ لَکَ مِنَ الۡاَمۡرِ شَیۡءٌ اَوۡ یَتُوۡبَ عَلَیۡہِمۡ اَوۡ یُعَذِّبَہُمۡ فَاِنَّہُمۡ ظٰلِمُوۡنَ ﴿۱۲۸﴾
نہیں ہے آپ کا اس معاملہ میں کوئی دخل چاہے تو اللہ ان کی توبہ فرما لے اور چاہے تو دے انھیں پس بیشک وہ ظالم ہیں ۔
وَلِلّٰہِ مَافِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ یَغۡفِرُ لِمَنۡ یَّشَآءُ وَیُعَذِّبُ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَاللّٰہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۲۹﴾٪ 4
اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ میں ہے ۔ بخش دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور سزا دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور اللہ بہت بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے ۔
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَاۡکُلُوا الرِّبٰۤوا اَضۡعَافًا مُّضٰعَفَۃً ۪ وَاتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ ﴿۱۳۰﴾ۚ
اے ایمان والو ! نہ کھاؤ سود دوگنا چوگنا کر کے اور ڈرتے رہو اللہ سے تاکہ تم فلاح پا جاؤ ۔
وَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِیۡۤ اُعِدَّتۡ لِلۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۱۳۱﴾ۚ
اور بچو اس سے جو کی گئی ہے کافروں کے لیے ۔
وَاَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَالرَّسُوۡلَ لَعَلَّکُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ ﴿۱۳۲﴾ۚ
اور کرو اللہ کی اور رسول ( کریم ) کی تاکہ تم پر رحم کیا جائے ۔
وَسَارِعُوۡۤا اِلٰی مَغۡفِرَۃٍ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ وَجَنَّۃٍ عَرۡضُہَا السَّمٰوٰتُ وَالۡاَرۡضُ ۙ اُعِدَّتۡ لِلۡمُتَّقِیۡنَ ﴿۱۳۳﴾ۙ
اور دوڑو بخشش کی طرف جو تمہارے رب کی طرف سے ہے اور ( دوڑو ) کی طرف جس کی چوڑائی آسمانوں اور جتنی ہے جو کی گئی ہے پرہیزگاروں کے لیے ۔
الَّذِیۡنَ یُنۡفِقُوۡنَ فِی السَّرَّآءِ وَالضَّرَّآءِ وَالۡکٰظِمِیۡنَ الۡغَیۡظَ وَالۡعَافِیۡنَ عَنِ النَّاسِ ؕ وَاللّٰہُ یُحِبُّ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۱۳۴﴾ۚ
وہ ( پرہیزگار ) جو کرتے ہیں اور دستی میں اور ضبط کرنے والے ہیں کو اور درگزر کرنے والے ہیں لوگوں سے اور اللہ تعالیٰ کرتا ہے کرنے والوں سے ۔
وَالَّذِیۡنَ اِذَا فَعَلُوۡا فَاحِشَۃً اَوۡ ظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ ذَکَرُوا اللّٰہَ فَاسۡتَغۡفَرُوۡا لِذُنُوۡبِہِمۡ ۪ وَمَنۡ یَّغۡفِرُ الذُّنُوۡبَ اِلَّا اللّٰہُ ۪۟ وَلَمۡ یُصِرُّوۡا عَلٰی مَافَعَلُوۡا وَہُمۡ یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۳۵﴾
اور یہ وہ لوگ ہیں کہ جب کر بیٹھیں کوئی برا یا ظلم کریں اپنے آپ پر ( تو فوراً ) ذکر کرنے لگتے ہیں اللہ کا اور معافی مانگنے لگتے ہیں اپنے گناہوں کی اور کون بخشتا ہے گناہوں کو اللہ کے سوا اور نہیں اصرار کرتے اس پر جو ان سے سرزد اس حال میں کہ وہ جانتے ہیں ۔
اُولٰٓئِکَ جَزَآؤُہُمۡ مَّغۡفِرَۃٌ مِّنۡ رَّبِّہِمۡ وَجَنّٰتٌ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ؕ وَنِعۡمَ اَجۡرُ الۡعٰمِلِیۡنَ ﴿۱۳۶﴾ؕ
یہ وہ ( بخت ) ہیں کا بخشش ہے اپنے رب کی طرف سے اور رواں ہیں کے ندیاں ، رہیں گے ان میں ، کیا ہی ہے کرنے والوں کا ۔
قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ سُنَنٌ ۙ فَسِیۡرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ فَانۡظُرُوۡا کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الۡمُکَذِّبِیۡنَ ﴿۱۳۷﴾
گزر چکے ہیں تم سے ( قوموں کے عروج و زوال کے ) قاعدے پس سیر کرو میں اور ( اپنی آنکھوں سے ) دیکھو کہ کیسا ( دعوت حق کو ) جھٹلانے والوں کا ۔
ہٰذَا بَیَانٌ لِّلنَّاسِ وَہُدًی وَّمَوۡعِظَۃٌ لِّلۡمُتَّقِیۡنَ ﴿۱۳۸﴾
یہ ایک ہے لوگوں ( کے سمجھانے ) کے لیے اور اور ہے پرہیزگاروں کے واسطے ۔
وَلَا تَہِنُوۡا وَلَا تَحۡزَنُوۡا وَاَنۡتُمُ الۡاَعۡلَوۡنَ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۳۹﴾
اور نہ ( تو ) ہارو اور نہ کرو اور تمہیں ہو گے اگر تم سچے مومن ہو ۔
اِنۡ یَّمۡسَسۡکُمۡ قَرۡحٌ فَقَدۡ مَسَّ الۡقَوۡمَ قَرۡحٌ مِّثۡلُہٗ ؕ وَتِلۡکَ الۡاَیَّامُ نُدَاوِلُہَا بَیۡنَ النَّاسِ ۚ وَلِیَعۡلَمَ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَیَتَّخِذَ مِنۡکُمۡ شُہَدَآءَ ؕ وَاللّٰہُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۱۴۰﴾ۙ
۔( اُحد میں ) اگر لگی ہے تمہیں چوٹ تو ( بدر میں ) لگ چکی ہے ( تمہاری ) قوم کو بھی چوٹ ایسی ہی اور یہ ( ہار جیت کے ) ہم پھراتے رہتے ہیں انھیں لوگوں میں اور یہ اس لیے کہ دیکھ لے اللہ تعالیٰ ان کو جو ایمان لائے اور بنا لے تم میں سے کچھ شہید اور اللہ تعالیٰ نہیں رکھتا ظالموں کو ۔
وَلِیُمَحِّصَ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَیَمۡحَقَ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۱۴۱﴾
اور اس لیے کہ نکھار دے اللہ تعالیٰ اُنھیں جو ایمان لائے اور مٹا دے کافروں کو ۔
اَمۡ حَسِبۡتُمۡ اَنۡ تَدۡخُلُوا الۡجَنَّۃَ وَلَمَّا یَعۡلَمِ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ جٰہَدُوۡا مِنۡکُمۡ وَیَعۡلَمَ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿۱۴۲﴾
کیا تم رکھتے ہو کہ ( یونہی ) ہو جاؤ گے میں حالانکہ ابھی دیکھا ہی نہیں اللہ نے ان لوگوں کو جنھوں نے جہاد کیا تم میں سے اور دیکھا ہی نہیں ( میں ) کرنے والوں کو ۔
وَلَقَدۡ کُنۡتُمۡ تَمَنَّوۡنَ الۡمَوۡتَ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَلۡقَوۡہُ ۪ فَقَدۡ رَاَیۡتُمُوۡہُ وَاَنۡتُمۡ تَنۡظُرُوۡنَ ﴿۱۴۳﴾٪ 5
اور تم تو کرتے تھے موت کی اس سے کہ تم اس سے ملاقات کرو سو اب دیکھ لیا تم نے اس کو اور تم ( آنکھوں سے ) مشاہدہ کر رہے ہو ۔
وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوۡلٌ ۚ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِہِ الرُّسُلُ ؕ اَفَا۠ئِنۡ مَّاتَ اَوۡ قُتِلَ انۡقَلَبۡتُمۡ عَلٰۤی اَعۡقَابِکُمۡ ؕ وَمَنۡ یَّنۡقَلِبۡ عَلٰی عَقِبَیۡہِ فَلَنۡ یَّضُرَّ اللّٰہَ شَیۡئًا ؕ وَسَیَجۡزِی اللّٰہُ الشّٰکِرِیۡنَ ﴿۱۴۴﴾
اور نہیں محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) ( مصطفٰے ) مگر ( اللہ کے ) رسول گزر چکے ہیں آپ سے کئی رسول تو کیا اگر وہ انتقال فرمائیں یا شیہد کر دیے جائیں ، پھر جاؤ گے تم الٹے ( اسلام سے ) اور جو پھرتا ہے الٹے تو نہیں بگاڑ سکے گا اللہ کا کچھ بھی اور اجر دے گا اللہ تعالیٰ شکر کرنے والوں کو ۔
وَمَا کَانَ لِنَفۡسٍ اَنۡ تَمُوۡتَ اِلَّا بِاِذۡنِ اللّٰہِ کِتٰبًا مُّؤَجَّلًا ؕ وَمَنۡ یُّرِدۡ ثَوَابَ الدُّنۡیَا نُؤۡتِہٖ مِنۡہَا ۚ وَمَنۡ یُّرِدۡ ثَوَابَ الۡاٰخِرَۃِ نُؤۡتِہٖ مِنۡہَا ؕ وَسَنَجۡزِی الشّٰکِرِیۡنَ ﴿۱۴۵﴾
اور نہیں ممکن کہ کوئی شخص مرے بغیر اللہ کی کے ۔ لکھا ہے ( موت کا ) ۔ اور جو شخص چاہتا ہے کا ، ہم دیتے ہیں اس کو اس سے اور جو شخص چاہتا ہے کا ، ہم دیتے ہیں اسے اس میں سے اور ہم اجر دیں گے ( اپنے ) شکر گزار بندوں کو ۔
وَکَاَیِّنۡ مِّنۡ نَّبِیٍّ قٰتَلَ ۙ مَعَہٗ رِبِّیُّوۡنَ کَثِیۡرٌ ۚ فَمَا وَہَنُوۡا لِمَاۤ اَصَابَہُمۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَمَا ضَعُفُوۡا وَمَا اسۡتَکَانُوۡا ؕ وَاللّٰہُ یُحِبُّ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿۱۴۶﴾
اور کتنے ہی نبی گزرے ہیں کہ جہاد کیا ان کے ہمراہ بہت سے اللہ والوں نے سو نہ ہاری انھوں نے بوجہ ان تکلیفوں کے جو پہنچیں انھیں اللہ کی راہ میں اور نہ ہوئے اور نہ انھوں نے ہار مانی اور اللہ تعالیٰ پیار کرتا ہے ( تکلیفوں میں ) کرنے والوں سے ۔
وَمَا کَانَ قَوۡلَہُمۡ اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوۡا رَبَّنَا اغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوۡبَنَا وَاِسۡرَافَنَا فِیۡۤ اَمۡرِنَا وَثَبِّتۡ اَقۡدَامَنَا وَانۡصُرۡنَا عَلَی الۡقَوۡمِ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۱۴۷﴾
اور نہیں تھی ان کی گفتگو بغیر اس کے کہ کہا انھوں نے اے ہمارے رب ! بخش دے ہمارے اور جو زیادتیاں کیں ہم نے اپنے میں اور رکھ ہمیں اور دے ہم کو قوم کفار پر ۔
فَاٰتٰىہُمُ اللّٰہُ ثَوَابَ الدُّنۡیَا وَحُسۡنَ ثَوَابِ الۡاٰخِرَۃِ ؕ وَاللّٰہُ یُحِبُّ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۱۴۸﴾٪ 6
تو دے دیا ان کو اللہ تعالیٰ نے کا ثواب ( یعنی کامیابی ) اور عمدہ ثواب کا ( یعنی نعیم اور لذت وصل ) اور اللہ تعالیٰ کرتا ہے نیکوکاروں سے ۔
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ تُطِیۡعُوا الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا یَرُدُّوۡکُمۡ عَلٰۤی اَعۡقَابِکُمۡ فَتَنۡقَلِبُوۡا خٰسِرِیۡنَ ﴿۱۴۹﴾
اے ایمان والو ! اگر پیروی کرو گے تم کافروں کی تو وہ پھیر دیں گے تمہیں الٹے ( کفر کی طرف ) تو تم لوٹو گے اٹھاتے ہوئے ۔
بَلِ اللّٰہُ مَوۡلٰىکُمۡ ۚ وَہُوَ خَیۡرُ النّٰصِرِیۡنَ ﴿۱۵۰﴾
بلکہ اللہ حامی ہے تمہارا اور وہ سب سے بہتر فرمانے والا ہے ۔
سَنُلۡقِیۡ فِیۡ قُلُوۡبِ الَّذِیۡنَ کَفَرُوا الرُّعۡبَ بِمَاۤ اَشۡرَکُوۡا بِاللّٰہِ مَالَمۡ یُنَزِّلۡ بِہٖ سُلۡطٰنًا ۚ وَمَاۡوٰىہُمُ النَّارُ ؕ وَبِئۡسَ مَثۡوَی الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۱۵۱﴾
ابھی ہم ڈال دیں گے کافروں کے دلوں میں رعب ، اس لیے کہ انھوں نے بنا لیا اللہ کے ساتھ اس کو جس کے لیے نہیں اتاری اللہ نے کوئی اور ان کا ٹھکانا آتش ( جہنم ) ہے اور بہت بری ہے ظالموں کی ۔
وَلَقَدۡ صَدَقَکُمُ اللّٰہُ وَعۡدَہٗۤ اِذۡ تَحُسُّوۡنَہُمۡ بِاِذۡنِہٖ ۚ حَتّٰۤی اِذَا فَشِلۡتُمۡ وَتَنَازَعۡتُمۡ فِی الۡاَمۡرِ وَعَصَیۡتُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ مَاۤ اَرٰىکُمۡ مَّا تُحِبُّوۡنَ ؕ مِنۡکُمۡ مَّنۡ یُّرِیۡدُ الدُّنۡیَا وَمِنۡکُمۡ مَّنۡ یُّرِیۡدُ الۡاٰخِرَۃَ ۚ ثُمَّ صَرَفَکُمۡ عَنۡہُمۡ لِیَبۡتَلِیَکُمۡ ۚ وَلَقَدۡ عَفَا عَنۡکُمۡ ؕ وَاللّٰہُ ذُوۡ فَضۡلٍ عَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۵۲﴾
اور بیشک کر دکھایا تم سے اللہ نے اپنا وعدہ جب کہ تم کر رہے تھے کافروں کو اس کے سے ، یہاں تک کہ جب تم بزدل ہو گئے اور جھگڑنے لگے ( رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ) کے بارے میں اور کی تم نے اس کے بعد کہ اللہ نے دکھا دیا تھا تمہیں جو تم کرتے تھے ۔ بعض تم میں سے طلبگار ہیں کے اور بعض تم میں سے طلبگار ہیں کے ، پھر ہٹا دیا تمہیں ان کے تعاقب سے تاکہ آزمائے تمہیں اور بیشک اس نے فرما دیا تم کو اور اللہ تعالیٰ بہت فضل و کرم فرمانے والا ہے مومنوں پر ۔
اِذۡ تُصۡعِدُوۡنَ وَلَا تَلۡوٗنَ عَلٰۤی اَحَدٍ وَّالرَّسُوۡلُ یَدۡعُوۡکُمۡ فِیۡۤ اُخۡرٰىکُمۡ فَاَثَابَکُمۡ غَمًّۢا بِغَمٍّ لِّکَیۡلَا تَحۡزَنُوۡا عَلٰی مَافَاتَکُمۡ وَلَا مَاۤ اَصَابَکُمۡ ؕ وَاللّٰہُ خَبِیۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۵۳﴾
یاد کرو جب تم بھاگے جا رہے تھے اور مڑ کر دیکھتے بھی نہ تھے کسی کو اور رسول کریم بلا رہے تھے تمہیں سے پس اللہ پہنچایا تمہیں کے بدلے تاکہ تم نہ غمگین ہو اس چیز پر جو کھو گئی ہے تم سے اور نہ اس مصیبت پر جو پہنچی ہے تمہیں اور اللہ تعالیٰ خبردار ہے جو کچھ تم کر رہے ہو ۔
ثُمَّ اَنۡزَلَ عَلَیۡکُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ الۡغَمِّ اَمَنَۃً نُّعَاسًا یَّغۡشٰی طَآئِفَۃً مِّنۡکُمۡ ۙ وَطَآئِفَۃٌ قَدۡ اَہَمَّتۡہُمۡ اَنۡفُسُہُمۡ یَظُنُّوۡنَ بِاللّٰہِ غَیۡرَ الۡحَقِّ ظَنَّ الۡجَاہِلِیَّۃِ ؕ یَقُوۡلُوۡنَ ہَلۡ لَّنَا مِنَ الۡاَمۡرِ مِنۡ شَیۡءٍ ؕ قُلۡ اِنَّ الۡاَمۡرَ کُلَّہٗ لِلّٰہِ ؕ یُخۡفُوۡنَ فِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ مَّا لَا یُبۡدُوۡنَ لَکَ ؕ یَقُوۡلُوۡنَ لَوۡ کَانَ لَنَا مِنَ الۡاَمۡرِ شَیۡءٌ مَّا قُتِلۡنَا ہٰہُنَا ؕ قُلۡ لَّوۡ کُنۡتُمۡ فِیۡ بُیُوۡتِکُمۡ لَبَرَزَ الَّذِیۡنَ کُتِبَ عَلَیۡہِمُ الۡقَتۡلُ اِلٰی مَضَاجِعِہِمۡ ۚ وَلِیَبۡتَلِیَ اللّٰہُ مَافِیۡ صُدُوۡرِکُمۡ وَلِیُمَحِّصَ مَافِیۡ قُلُوۡبِکُمۡ ؕ وَاللّٰہُ عَلِیۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴿۱۵۴﴾
پھر اتاری اللہ تعالیٰ نے تم پر و اندوہ کے بعد راحت ( یعنی ) غنودگی جو چھا رہی تھی ایک گروہ پر تم میں سے اور ایک ایسی تھی جسے فکر پڑا تھا ( صرف ) اپنی جانوں کا بدگمانی کر رہے تھے اللہ کے ساتھ بلا وجہ جاہلیت کی بد گمانی ، کہتے کیا ہمارا بھی اس میں کچھ دخل ہے ؟ آپ فرمائیے ! تو سارا اللہ کا ہے چھپائے ہوئے ہیں اپنے دلوں میں جو نہیں کرتے آپ پر ۔ کہتے ہیں ( اپنے دلوں میں ) اگر ہوتا ہمارا اس میں کچھ دخل تو نہ مارے جاتے ہم یہاں ( اِس بے دردی سے ) ۔ آپ فرمائیے کہ اگر تم ( بیٹھے ) ہوتے اپنے گھروں میں تو ضرور نکل آتے ( وہاں سے ) وہ لوگ لکھا جا چکا تھا کا ہونا اپنی گاہوں کی طرف ( یہ سارے مصائب اس لیے تھے ) تاکہ آزما لے اللہ تعالیٰ جو کچھ تمہارے سینوں میں ( چھپا ) تھا اور کر دے جو ( میل کچیل ) تمہارے دلوں میں تھا اور اللہ تعالیٰ خوب جاننے والا ہے سینوں کے رازوں کا ۔ ( 174
اِنَّ الَّذِیۡنَ تَوَلَّوۡا مِنۡکُمۡ یَوۡمَ الۡتَقَی الۡجَمۡعٰنِ ۙ اِنَّمَا اسۡتَزَلَّہُمُ الشَّیۡطٰنُ بِبَعۡضِ مَاکَسَبُوۡا ۚ وَلَقَدۡ عَفَا اللّٰہُ عَنۡہُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ حَلِیۡمٌ ﴿۱۵۵﴾٪ 7
بیشک وہ لوگ جو پیٹھ پھیر گئے تھے تم سے اس روز جب مقابلہ میں نکلے تھے دونوں تو پھسلا دیا تھا انھیں شیطان نے بوجہ ان کے کسی عمل کے اور بیشک ( اب ) فرما دیا ہے اللہ تعالیٰ نے انھیں ۔ یقیناً اللہ بہت بخشنے والا نہایت حلم والا ہے ۔
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَکُوۡنُوۡا کَالَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَقَالُوۡا لِاِخۡوَانِہِمۡ اِذَا ضَرَبُوۡا فِی الۡاَرۡضِ اَوۡ کَانُوۡا غُزًّی لَّوۡ کَانُوۡا عِنۡدَنَا مَامَاتُوۡا وَمَا قُتِلُوۡا ۚ لِیَجۡعَلَ اللّٰہُ ذٰلِکَ حَسۡرَۃً فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ ؕ وَاللّٰہُ یُحۡیٖ وَیُمِیۡتُ ؕ وَاللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِیۡرٌ ﴿۱۵۶﴾
اے ایمان والو ! نہ ہو جاؤ ان لوگوں کی طرح جنھوں نے کفر کیا اور جو کہتے تھے اپنے بھائیوں کو جب وہ کرتے کسی علاقہ میں یا ہوتے تھے جہاد کرنے والے کہ اگر وہ ہوتے ہمارے تو نہ مرتے اور نہ مارے جاتے تاکہ بنائے اللہ تعالیٰ اس ( خیال باطل ) کو حسرت ( کا باعث ) ان کے دلوں میں اور ( درحقیقت ) اللہ ہی کرتا ہے اور مارتا ہے اور اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کرتے ہو دیکھ رہا ہے ۔
وَلَئِنۡ قُتِلۡتُمۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ اَوۡ مُتُّمۡ لَمَغۡفِرَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ وَرَحۡمَۃٌ خَیۡرٌ مِّمَّا یَجۡمَعُوۡنَ ﴿۱۵۷﴾
اور واقعی اگر تم کیے جاؤ راہ خدا میں یا تم مر جاؤ تو اللہ کی بخشش اور رحمت ( جو تمہیں نصیب ہو گی ) بہت بہتر ہے اس سے جو وہ جمع کرتے ہیں ۔
وَلَئِنۡ مُّتُّمۡ اَوۡ قُتِلۡتُمۡ لَاِالَی اللّٰہِ تُحۡشَرُوۡنَ ﴿۱۵۸﴾
اور اگر تم مر گئے یا مارے گئے تو اللہ کے حضور جمع کیے جاؤ گے ۔
فَبِمَا رَحۡمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ لِنۡتَ لَہُمۡ ۚ وَلَوۡ کُنۡتَ فَظًّا غَلِیۡظَ الۡقَلۡبِ لَانۡفَضُّوۡا مِنۡ حَوۡلِکَ ۪ فَاعۡفُ عَنۡہُمۡ وَاسۡتَغۡفِرۡ لَہُمۡ وَشَاوِرۡہُمۡ فِی الۡاَمۡرِ ۚ فَاِذَا عَزَمۡتَ فَتَوَکَّلۡ عَلَی اللّٰہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الۡمُتَوَکِّلِیۡنَ ﴿۱۵۹﴾
پس ( صرف ) اللہ کی رحمت سے آپ ہو گئے ہیں ان کے لیے اور اگر ہوتے آپ تند مزاج تو یہ لوگ منتشر ہو جاتے آپ کے آس سے تو آپ درگزر فرمائیے ان سے اور بخشش طلب کیجیے ان کے لیے اور صلاح کیجیے ان سے اس میں اور جب آپ کر لیں ( کسی کا ) تو پھر توکل کرو اللہ پر بیشک اللہ تعالیٰ کرتا ہے توکل کرنے والوں سے ۔
اِنۡ یَّنۡصُرۡکُمُ اللّٰہُ فَلَا غَالِبَ لَکُمۡ ۚ وَاِنۡ یَّخۡذُلۡکُمۡ فَمَنۡذَا الَّذِیۡ یَنۡصُرُکُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِہٖ ؕ وَعَلَی اللّٰہِ فَلۡیَتَوَکَّلِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۱۶۰﴾
اگر فرمائے تمہاری اللہ تعالیٰ تو کوئی نہیں آ سکتا تم پر اور اگر وہ ( ساتھ ) چھوڑ دے تمہارا تو کون ہے جو کرے گا تمہاری اس کے بعد اور صرف اللہ پر بھروسہ کرنا چاہیے ایمان والوں کو ۔
وَمَا کَانَ لِنَبِیٍّ اَنۡ یَّغُلَّ ؕ وَمَنۡ یَّغۡلُلۡ یَاۡتِ بِمَا غَلَّ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ۚ ثُمَّ تُوَفّٰی کُلُّ نَفۡسٍ مَّا کَسَبَتۡ وَہُمۡ لَا یُظۡلَمُوۡنَ ﴿۱۶۱﴾
اور نہیں ہے کسی نبی کی یہ شان کہ کرے اور جو کوئی کرے گا تو لے آئے گا ( اپنے ہمراہ ) کی ہوئی چیز کو کے پھر پورا پورا دیا جائے گا ہر نفس کو جو اس نے کمایا اور ان پر ظلم نہ کیا جائے گا ۔
اَفَمَنِ اتَّبَعَ رِضۡوَانَ اللّٰہِ کَمَنۡۢ بَآءَ بِسَخَطٍ مِّنَ اللّٰہِ وَمَاۡوٰىہُ جَہَنَّمُ ؕ وَبِئۡسَ الۡمَصِیۡرُ ﴿۱۶۲﴾
تو کیا جس نے پیروی کی رضائے الٰہی کی ، اس کی طرح ہو سکتا ہے جو حقدار بن گیا اللہ کی کا اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے اور یہ بہت بری پلٹنے کی ہے ۔
ہُمۡ دَرَجٰتٌ عِنۡدَ اللّٰہِ ؕ وَاللّٰہُ بَصِیۡرٌۢ بِمَا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۶۳﴾
لوگ درجہ بدرجہ ہیں اللہ کے ہاں اور اللہ تعالیٰ دیکھنے والا ہے جو وہ کرتے ہیں ۔
لَقَدۡ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ اِذۡ بَعَثَ فِیۡہِمۡ رَسُوۡلًا مِّنۡ اَنۡفُسِہِمۡ یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِہٖ وَیُزَکِّیۡہِمۡ وَیُعَلِّمُہُمُ الۡکِتٰبَ وَالۡحِکۡمَۃَ ۚ وَاِنۡ کَانُوۡا مِنۡ قَبۡلُ لَفِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۱۶۴﴾ ؒ
یقیناً بڑا فرمایا اللہ تعالیٰ نے مومنوں پر جب اس نے بھیجا ان میں ایک رسول انھیں میں سے ، پڑھتا ہے ان پر اللہ کی آیتیں اور کرتا ہے انھیں اور سکھاتا ہے انھیں اور سنت اگرچہ وہ اس سے یقیناً کھلی گمراہی میں تھے ۔
اَوَ لَمَّاۤ اَصَابَتۡکُمۡ مُّصِیۡبَۃٌ قَدۡ اَصَبۡتُمۡ مِّثۡلَیۡہَا ۙ قُلۡتُمۡ اَنّٰی ہٰذَا ؕ قُلۡ ہُوَ مِنۡ عِنۡدِ اَنۡفُسِکُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۱۶۵﴾
کیا جب پہنچی تمہیں کچھ مصیبت حالانکہ تم پہنچا چکے ہو ( کو ) اس سے دگنی تو تم کہ اٹھے کہاں سے آ پڑی یہ مصیبت ؟ فرمائیے یہ تمہاری طرف سے ہی آئی ہے بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے ۔
وَمَاۤ اَصَابَکُمۡ یَوۡمَ الۡتَقَی الۡجَمۡعٰنِ فَبِاِذۡنِ اللّٰہِ وَلِیَعۡلَمَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۶۶﴾ۙ
اور وہ مصیبت جو پہنچی تھی تمہیں اس روز جب مقابلہ کو نکلے تھے دونوں تو وہ اللہ کے سے پہنچی تھی اور ( مقصد یہ تھا کہ ) دیکھ لے اللہ تعالیٰ مومنوں کو ۔
وَلِیَعۡلَمَ الَّذِیۡنَ نَافَقُوۡا ۚ ۖ وَقِیۡلَ لَہُمۡ تَعَالَوۡا قَاتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ اَوِ ادۡفَعُوۡا ؕ قَالُوۡا لَوۡ نَعۡلَمُ قِتَالًا لَّا تَّبَعۡنٰکُمۡ ؕ ہُمۡ لِلۡکُفۡرِ یَوۡمَئِذٍ اَقۡرَبُ مِنۡہُمۡ لِلۡاِیۡمَانِ ۚ یَقُوۡلُوۡنَ بِاَفۡوَاہِہِمۡ مَّا لَیۡسَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ ؕ وَاللّٰہُ اَعۡلَمُ بِمَا یَکۡتُمُوۡنَ ﴿۱۶۷﴾ۚ
اور دیکھ لے جو نفاق کرتے تھے اور کہا گیا ان سے آؤ لڑو اللہ کی راہ میں یا بچاؤ کرو ( اپنے کا ) بولے اگر ہم جانتے کہ ہو گی تو ہم ضرور تمہاری پیروی کرتے ۔ وہ کفر سے اس روز قریب تھے بہ نسبت ایمان کے ۔ کہتے ہیں اپنے سے ( ایسی باتیں ) جو نہیں ہیں ان کے دلوں میں اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جسے وہ چھپاتے ہیں ۔
اَلَّذِیۡنَ قَالُوۡا لِاِخۡوَانِہِمۡ وَقَعَدُوۡا لَوۡ اَطَاعُوۡنَا مَاقُتِلُوۡا ؕ قُلۡ فَادۡرَءُوۡا عَنۡ اَنۡفُسِکُمُ الۡمَوۡتَ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۱۶۸﴾
جنھوں نے کہا اپنے بھائیوں کے بارے میں حالانکہ وہ خود ( ) بیٹھے تھے کہ اگر وہ ہمارا کہا مانتے تو نہ مارے جاتے ۔ آپ فرمائیے ذرا تو کر دکھاؤ اپنے آپ سے موت کو اگر تم سچے ہو ۔
وَلَا تَحۡسَبَنَّ الَّذِیۡنَ قُتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ اَمۡوَاتًا ؕ بَلۡ اَحۡیَآءٌ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ یُرۡزَقُوۡنَ ﴿۱۶۹﴾ۙ
اور ہرگز خیال نہ کرو کہ وہ جو کیے گئے ہیں اللہ کی راہ میں وہ مردہ ہیں بلکہ وہ ہیں اپنے رب کے ( اور ) رزق دئیے جاتے ہیں ۔
فَرِحِیۡنَ بِمَاۤ اٰتٰہُمُ اللّٰہُ مِنۡ فَضۡلِہٖ ۙ وَیَسۡتَبۡشِرُوۡنَ بِالَّذِیۡنَ لَمۡ یَلۡحَقُوۡا بِہِمۡ مِّنۡ خَلۡفِہِمۡ ۙ اَلَّا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَلَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ ﴿۱۷۰﴾ۘ
شاد ہیں ان ( نعمتوں ) سے جو عنایت فرمائی ہیں انھیں اللہ نے اپنے فضل و کرم سے اور ہو رہے ہیں بسبب ان لوگوں کے جو ابھی تک نہیں آ ملے ان سے ان کے رہ جانے والوں سے کہ نہیں ہے کوئی خوف ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے ۔
یَسۡتَبۡشِرُوۡنَ بِنِعۡمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ وَفَضۡلٍ ۙ وَّاَنَّ اللّٰہَ لَا یُضِیۡعُ اَجۡرَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۷۱﴾ۚ٪ۛ 8
خوش ہو رہے ہیں اللہ کی اور اس کے فضل پر اور ( اس پر ) کہ اللہ تعالیٰ ضائع نہیں کرتا اجر ایمان والوں کا ۔
اَلَّذِیۡنَ اسۡتَجَابُوۡا لِلّٰہِ وَالرَّسُوۡلِ مِنۡۢ بَعۡدِ مَاۤ اَصَابَہُمُ الۡقَرۡحُ ؕ ۛ لِلَّذِیۡنَ اَحۡسَنُوۡا مِنۡہُمۡ وَاتَّقَوۡا اَجۡرٌ عَظِیۡمٌ ﴿۱۷۲﴾ۚ
جنھوں نے لبیک کہا اللہ اور رسول کی دعوت پر اس کے بعد کہ لگ چکا تھا انھیں ( گہرا ) ان کے لیے جنھوں نے کی ان میں سے اور تقویٰ کیا اجر عظیم ہے ۔
اَلَّذِیۡنَ قَالَ لَہُمُ النَّاسُ اِنَّ النَّاسَ قَدۡ جَمَعُوۡا لَکُمۡ فَاخۡشَوۡہُمۡ فَزَادَہُمۡ اِیۡمَانًا ٭ۖ وَّقَالُوۡا حَسۡبُنَا اللّٰہُ وَنِعۡمَ الۡوَکِیۡلُ ﴿۱۷۳﴾
یہ وہ لوگ ہیں کہ جب کہا انھیں لوگوں نے کہ بلاشبہ کافروں نے جمع کر رکھا ہے تمہارے لیے ( بڑا اور ) سو ڈرو ان سے تو ( اس دھمکی نے ) بڑھا دیا ان کے ( جوشِ ) ایمان کو اور انھوں نے کہا ہے ہمیں اللہ تعالیٰ اور وہ بہترین کارساز ہے ۔
فَانۡقَلَبُوۡا بِنِعۡمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ وَفَضۡلٍ لَّمۡ یَمۡسَسۡہُمۡ سُوۡٓءٌ ۙ وَّاتَّبَعُوۡا رِضۡوَانَ اللّٰہِ ؕ وَاللّٰہُ ذُوۡ فَضۡلٍ عَظِیۡمٍ ﴿۱۷۴﴾
۔( ان کے عزم و توکل کا نتیجہ یہ نکلا کہ ) واپس آئے یہ لوگ اللہ کے انعام اور فضل کے ساتھ نہ چھوا ان کو کسی نے اور پیروی کرتے رہے رضائے الٰہی کی اور اللہ تعالیٰ صاحب فضل عظیم ہے ۔
اِنَّمَا ذٰلِکُمُ الشَّیۡطٰنُ یُخَوِّفُ اَوۡلِیَآءَہٗ ۪ فَلَا تَخَافُوۡہُمۡ وَخَافُوۡنِ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۷۵﴾
یہ تو شیطان ہے جو ڈراتا ہے ( تمھیں ) اپنے دوستوں سے پس نہ ڈرو ان سے بلکہ مجھ سے ہی ڈرا کرو اگر تم مومن ہو ۔
وَلَا یَحۡزُنۡکَ الَّذِیۡنَ یُسَارِعُوۡنَ فِی الۡکُفۡرِ ۚ اِنَّہُمۡ لَنۡ یَّضُرُّوا اللّٰہَ شَیۡئًا ؕ یُرِیۡدُ اللّٰہُ اَلَّا یَجۡعَلَ لَہُمۡ حَظًّا فِی الۡاٰخِرَۃِ ۚ وَلَہُمۡ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ ﴿۱۷۶﴾
اور ( اے جان ) نہ غمزدہ کریں آپ کو جو سے کفر میں ہوئے ہیں بیشک یہ لوگ نہیں پہنچا سکتے اللہ تعالیٰ کو کچھ بھی ۔ چاہتا ہے اللہ تعالیٰ کہ نہ رکھے ان کے لیے ذرا کی نعمتوں سے اور ان کے لیے عظیم ہے ۔
اِنَّ الَّذِیۡنَ اشۡتَرَوُا الۡکُفۡرَ بِالۡاِیۡمَانِ لَنۡ یَّضُرُّوا اللّٰہَ شَیۡئًا ۚ وَلَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۱۷۷﴾
بیشک جنھوں نے خرید لیا کفر کو ایمان کے عوض میں ہرگز نہ پہنچا سکیں گے اللہ تعالیٰ کو کچھ بھی اور ان کے لیے دردناک ہے ۔
وَلَا یَحۡسَبَنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اَنَّمَا نُمۡلِیۡ لَہُمۡ خَیۡرٌ لِّاَنۡفُسِہِمۡ ؕ اِنَّمَا نُمۡلِیۡ لَہُمۡ لِیَزۡدَادُوۡۤا اِثۡمًا ۚ وَلَہُمۡ عَذَابٌ مُّہِیۡنٌ ﴿۱۷۸﴾
اور نہ خیال کریں جو کفر کر رہے ہیں کہ ہم جو دے رہے ہیں انھیں یہ بہتر ہے ان کے لیے صرف اس لیے ہم تو انھیں دے رہے ہیں کہ وہ اور کر لیں اور ان کے لیے ہے و خوار کرنے والا ۔
مَاکَانَ اللّٰہُ لِیَذَرَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ عَلٰی مَاۤ اَنۡتُمۡ عَلَیۡہِ حَتّٰی یَمِیۡزَ الۡخَبِیۡثَ مِنَ الطَّیِّبِ ؕ وَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیُطۡلِعَکُمۡ عَلَی الۡغَیۡبِ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ یَجۡتَبِیۡ مِنۡ رُّسُلِہٖ مَنۡ یَّشَآءُ ۪ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰہِ وَرُسُلِہٖ ۚ وَاِنۡ تُؤۡمِنُوۡا وَتَتَّقُوۡا فَلَکُمۡ اَجۡرٌ عَظِیۡمٌ ﴿۱۷۹﴾
نہیں ہے اللہ ( کی شان ) کہ چھوڑے رکھے مومنوں کو اس حال پر جس پر تم اب ہو جب تک الگ نہ کر دے پلید کو سے اور نہیں ہے اللہ ( کی شان ) کہ کرے تمہیں غیب پر البتہ اللہ ( غیب کے علم کے لیے ) لیتا ہے اپنے رسولوں سے جسے چاہتا ہے ۔ سو ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسولوں پر اور اگر تم ایمان لے آئے اور تقویٰ کیا تو تمہارے لیے اجر عظیم ہے ۔
وَلَا یَحۡسَبَنَّ الَّذِیۡنَ یَبۡخَلُوۡنَ بِمَاۤ اٰتٰہُمُ اللّٰہُ مِنۡ فَضۡلِہٖ ہُوَ خَیۡرًا لَّہُمۡ ؕ بَلۡ ہُوَ شَرٌّ لَّہُمۡ ؕ سَیُطَوَّقُوۡنَ مَابَخِلُوۡا بِہٖ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ وَلِلّٰہِ مِیۡرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ؕ وَاللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِیۡرٌ ﴿۱۸۰﴾٪ 9
اور ہرگز نہ کریں جو کرتے ہیں اس میں جو دے رکھا ہے انھیں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے کہ یہ بہتر ہے ان کے لیے بلکہ یہ بہت برا ہے ان کے لیے ۔ پہنایا جائے گا انھیں وہ جس میں انھوں نے کیا کے اور اللہ کے لیے ہے میراث آسمانوں اور کی اور اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کر رہے ہو اس سے خبردار ہے ۔
لَقَدۡ سَمِعَ اللّٰہُ قَوۡلَ الَّذِیۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰہَ فَقِیۡرٌ وَّنَحۡنُ اَغۡنِیَآءُ ۘ سَنَکۡتُبُ مَاقَالُوۡا وَقَتۡلَہُمُ الۡاَنۡۢبِیَآءَ بِغَیۡرِ حَقٍّ ۙ وَّنَقُوۡلُ ذُوۡقُوۡا عَذَابَ الۡحَرِیۡقِ ﴿۱۸۱﴾
بیشک سنا اللہ نے قول ان ( گستاخوں ) کا جنھوں نے کہا کہ اللہ مفلس ہے حالانکہ ہم غنی ہیں ، ہم لکھ لیں گے جو انھوں نے کہا نیز کرنا ان کا انبیاء کو ناحق ( بھی لکھ لیا جائے گا ) اور ہم کہیں گے کہ ( اب ) چکھو کے ( کا مزہ ) ۔
ذٰلِکَ بِمَا قَدَّمَتۡ اَیۡدِیۡکُمۡ وَاَنَّ اللّٰہَ لَیۡسَ بِظَلَّامٍ لِّلۡعَبِیۡدِ ﴿۱۸۲﴾ۚ
یہ ہے اس کا جو آگے بھیجا ہے تمہارے ہاتھوں نے اور یقیناً اللہ تعالیٰ نہیں ظلم کرنے والا اپنے بندوں پر ۔
اَلَّذِیۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰہَ عَہِدَ اِلَیۡنَاۤ اَلَّا نُؤۡمِنَ لِرَسُوۡلٍ حَتّٰی یَاۡتِیَنَا بِقُرۡبَانٍ تَاۡکُلُہُ النَّارُ ؕ قُلۡ قَدۡ جَآءَکُمۡ رُسُلٌ مِّنۡ قَبۡلِیۡ بِالۡبَیِّنٰتِ وَبِالَّذِیۡ قُلۡتُمۡ فَلِمَ قَتَلۡتُمُوۡہُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۱۸۳﴾
یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے کہا کہ تحقیق اللہ نے لیا ہے ہم سے کہ ہم نہ ایمان لائیں کسی رسول پر یہاں تک کہ وہ لائے ہمارے ایک ۔ کھا لے اس کو ، آپ فرمائیے آ چکے تمہارے رسول مجھ سے بھی دلیلوں کے ساتھ اور اس معجزہ کے ساتھ بھی جو تم کہہ رہے ہو تو کیوں کیا تھا تم نے انھیں اگر تم سچے ہو ۔
فَاِنۡ کَذَّبُوۡکَ فَقَدۡ کُذِّبَ رُسُلٌ مِّنۡ قَبۡلِکَ جَآءُوۡ بِالۡبَیِّنٰتِ وَالزُّبُرِ وَالۡکِتٰبِ الۡمُنِیۡرِ ﴿۱۸۴﴾
اگر یہ جھٹلاتے ہیں آپ کو تو ( یہ کوئی نئی نہیں ) بیشک جھٹلائے گئے رسول آپ سے جو لائے تھے معجزات اور صحیفے اور روشن ۔
کُلُّ نَفۡسٍ ذَآئِقَۃُ الۡمَوۡتِ ؕ وَاِنَّمَا تُوَفَّوۡنَ اُجُوۡرَکُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ فَمَنۡ زُحۡزِحَ عَنِ النَّارِ وَاُدۡخِلَ الۡجَنَّۃَ فَقَدۡ فَازَ ؕ وَمَا الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الۡغُرُوۡرِ ﴿۱۸۵﴾
ہر نفس چکھنے والا ہے موت کو اور پوری مل کر رہے گی تمہیں تمہاری مزدوری کے پس جو شخص بچا لیا گیا آتش ( ) سے اور کیا گیا میں تو وہ ہو گیا اور نہیں یہ دنیوی زندگی مگر ساز و دھوکہ میں ڈالنے والا۔
لَتُبۡلَوُنَّ فِیۡۤ اَمۡوَالِکُمۡ وَاَنۡفُسِکُمۡ ۟ وَلَتَسۡمَعُنَّ مِنَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ وَمِنَ الَّذِیۡنَ اَشۡرَکُوۡۤا اَذًی کَثِیۡرًا ؕ وَاِنۡ تَصۡبِرُوۡا وَتَتَّقُوۡا فَاِنَّ ذٰلِکَ مِنۡ عَزۡمِ الۡاُمُوۡرِ ﴿۱۸۶﴾
یقیناً تم آزمائے جاؤ گے اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے اور یقیناً تم سنو گے ان سے جنھیں دی گئی تم سے اور ان لوگوں سے جنھوں نے شرک کیا اذیت دینے والی بہت باتیں اور اگر تم ( ان آزاریوں پر ) کرو اور تقویٰ کرو تو بیشک یہ بڑی کا ہے ۔
وَاِذۡ اَخَذَ اللّٰہُ مِیۡثَاقَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ لَتُبَیِّنُنَّہٗ لِلنَّاسِ وَلَا تَکۡتُمُوۡنَہٗ ۫ فَنَبَذُوۡہُ وَرَآءَ ظُہُوۡرِہِمۡ وَاشۡتَرَوۡا بِہٖ ثَمَنًا قَلِیۡلًا ؕ فَبِئۡسَ مَایَشۡتَرُوۡنَ ﴿۱۸۷﴾
اور کرو جب لیا اللہ تعالیٰ نے پختہ وعدہ ان لوگوں سے جنھیں دی گئی کہ تم ضرور کھول کر کرنا اسے لوگوں سے اور نہ اس کو تو ( اُلٹا ) انھوں نے پھینک دیا اس وعدہ کو اپنی پشتوں کے اور انھوں نے خرید لی اس کے عوض تھوڑی سی قیمت سو بہت بری ہے وہ چیز جو وہ خرید رہے ہیں ۔
لَا تَحۡسَبَنَّ الَّذِیۡنَ یَفۡرَحُوۡنَ بِمَاۤ اَتَوۡا وَّیُحِبُّوۡنَ اَنۡ یُّحۡمَدُوۡا بِمَا لَمۡ یَفۡعَلُوۡا فَلَا تَحۡسَبَنَّہُمۡ بِمَفَازَۃٍ مِّنَ الۡعَذَابِ ۚ وَلَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۱۸۸﴾
ہرگز آپ یہ خیال نہ کریں کہ جو لوگ ہوتے ہیں اپنی کارستانیوں پر اور کرتے ہیں کہ ان کی کی جائے ایسے کاموں سے جو انھوں نے کیے ہی نہیں تو ان کے متعلق یہ نہ کرو کہ وہ امن میں ہیں سے ، ان کے لیے ہی تو دردناک ہے ۔
وَلِلّٰہِ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ؕ وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۱۸۹﴾٪ 10
اور اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور کی اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے ۔
اِنَّ فِیۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَاخۡتِلَافِ الَّیۡلِ وَالنَّہَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الۡاَلۡبَابِ ﴿۱۹۰﴾ۚ ۙ
بیشک آسمانوں اور کے کرنے میں اور اور کے بدلتے رہنے میں ( بڑی ) نشانیاں ہیں اہل کے لیے ۔
الَّذِیۡنَ یَذۡکُرُوۡنَ اللّٰہَ قِیٰمًا وَّقُعُوۡدًا وَّعَلٰی جُنُوۡبِہِمۡ وَیَتَفَکَّرُوۡنَ فِیۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ۚ رَبَّنَا مَاخَلَقۡتَ ہٰذَا بَاطِلًا ۚ سُبۡحٰنَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ﴿۱۹۱﴾
وہ مند جو کرتے رہتے ہیں اللہ تعالیٰ کو کھڑے ہوئے اور بیٹھے ہوئے اور پہلوؤں پر لیٹے ہوئے اور کرتے رہتے ہیں آسمانوں اور کی پیدائش میں ( اور تسلیم کرتے ہیں ) اے ہمارے ! نہیں فرمایا تو نے یہ ( کارخانہ حیات ) بیکار ۔ ہے تو ( ہر عیب سے ) بچا لے ہمیں کے سے ۔
رَبَّنَاۤ اِنَّکَ مَنۡ تُدۡخِلِ النَّارَ فَقَدۡ اَخۡزَیۡتَہٗ ؕ وَمَا لِلظّٰلِمِیۡنَ مِنۡ اَنۡصَارٍ ﴿۱۹۲﴾
اے ہمارے رب ! بیشک تو نے جسے کر دیا میں تو رسوا کر دیا تو نے اسے اور نہیں ہے ظالموں کا کوئی ۔
رَبَّنَاۤ اِنَّنَا سَمِعۡنَا مُنَادِیًا یُّنَادِیۡ لِلۡاِیۡمَانِ اَنۡ اٰمِنُوۡا بِرَبِّکُمۡ فَاٰمَنَّا ٭ۖ رَبَّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوۡبَنَا وَکَفِّرۡ عَنَّا سَیِّاٰتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الۡاَبۡرَارِ ﴿۱۹۳﴾ۚ
اے ہمارے رب ! بیشک سنا ہم نے منادی کرنے والے کو کہ سے بلاتا تھا ایمان کی طرف اور کہتا تھا کہ ایمان لاؤ اپنے رب پر تو ہم ایمان لے آئے اے ہمارے ! پس بخش دے ہمارے اور مٹا دے ہم سے ہماری برائیاں اور ( اپنے کرم سے ) موت دے ہمیں لوگوں کے ساتھ ۔
رَبَّنَا وَاٰتِنَا مَاوَعَدۡتَّنَا عَلٰی رُسُلِکَ وَلَا تُخۡزِنَا یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ اِنَّکَ لَا تُخۡلِفُ الۡمِیۡعَادَ ﴿۱۹۴﴾
اے ہمارے رب عطا فرما ہمیں جو وعدہ کیا تو نے ہمارے ساتھ اپنے رسولوں کے اور نہ رسوا کر ہمیں کے بیشک تو وعدہ خلافی نہیں کرتا ۔
فَاسۡتَجَابَ لَہُمۡ رَبُّہُمۡ اَنِّیۡ لَاۤ اُضِیۡعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنۡکُمۡ مِّنۡ ذَکَرٍ اَوۡ اُنۡثٰی ۚ بَعۡضُکُمۡ مِّنۡۢ بَعۡضٍ ۚ فَالَّذِیۡنَ ہَاجَرُوۡا وَاُخۡرِجُوۡا مِنۡ دِیَارِہِمۡ وَاُوۡذُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِیۡ وَقٰتَلُوۡا وَقُتِلُوۡا لَاُکَفِّرَنَّ عَنۡہُمۡ سَیِّاٰتِہِمۡ وَلَاُدۡخِلَنَّہُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ ۚ ثَوَابًا مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ ؕ وَاللّٰہُ عِنۡدَہٗ حُسۡنُ الثَّوَابِ ﴿۱۹۵﴾
تو فرما لی ان کی التجا ان کے پروردگار نے ( اور فرمایا ) کہ میں ضائع نہیں کرتا عمل کسی عمل کرنے والے کا تم سے خواہ ہو یا ، بعض تمہارا جز ہے بعض کی تو وہ جنھوں نے ہجرت کی اور نکالے گئے اپنے وطن سے اور ستائے گئے میری راہ میں اور ( کے لیے ) لڑے اور مارے گئے تو ضرور میں مٹا دوں گا ان ( کے نامہ عمل ) سے ان کے اور ضرور کرونگا انھیں باغوں میں ، بہتی ہیں کے نہریں ( یہ ) جزا ہے ( ان کے حسنہ کی ) اللہ کے ہاں اور اللہ ہی کے بہترین ثواب ہے ۔
لَا یَغُرَّنَّکَ تَقَلُّبُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا فِی الۡبِلَادِ ﴿۱۹۶﴾ؕ
۔( اے سننے والے ! ) نہ دھوکہ میں ڈالے تجھے ان کا جنھوں نے کفر کیا ملکوں میں ۔
مَتَاعٌ قَلِیۡلٌ ۟ ثُمَّ مَاۡوٰىہُمۡ جَہَنَّمُ ؕ وَبِئۡسَ الۡمِہَادُ ﴿۱۹۷﴾
یہ لطف اندوزی تھوڑی کے لیے ہے پھر ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور یہ بہت بری ٹھیرنے کی ہے ۔
لٰکِنِ الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا رَبَّہُمۡ لَہُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا نُزُلًا مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ ؕ وَمَا عِنۡدَ اللّٰہِ خَیۡرٌ لِّلۡاَبۡرَارِ ﴿۱۹۸﴾ ؓ
لیکن وہ جو ڈرتے رہے اپنے رب سے ان کے لیے ہوں گے رواں ہوں گی ان کے ندیاں ( وہ متقی ) رہیں گے ان میں ، یہ تو مہمانی ہو گی اللہ کی طرف سے اور جو ( ابدی نعمتیں ) اللہ کے ہیں وہ بہت بہتر ہیں نیکوں کے لیے ۔
وَاِنَّ مِنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ لَمَنۡ یُّؤۡمِنُ بِاللّٰہِ وَمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکُمۡ وَمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡہِمۡ خٰشِعِیۡنَ لِلّٰہِ ۙ لَا یَشۡتَرُوۡنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ ثَمَنًا قَلِیۡلًا ؕ اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ اَجۡرُہُمۡ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ سَرِیۡعُ الۡحِسَابِ ﴿۱۹۹﴾
اور بیشک بعض اہل ایسے ہیں جو ایمان لاتے ہیں اللہ تعالیٰ پر اور اس پر جو اتارا گیا تمہاری طرف اور جو اتارا گیا ان کی طرف ، ( اور نیاز مندی ) کرنے والے ہیں اللہ تعالیٰ کے لیے ، نہیں سودا کرتے اللہ کی آیتوں کا حقیر قیمت پر ، یہ وہ ہیں کا ثواب ان کے رب کے ہے بیشک اللہ تعالیٰ بہت جلد حساب لینے والا ہے ۔
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اصۡبِرُوۡا وَصَابِرُوۡا وَرَابِطُوۡا ۟ وَاتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ ﴿۲۰۰﴾٪ 11
اے ایمان والو ! کرو اور رہو ( کے مقابلہ میں ) اور کمر بستہ رہو ( خدمت کے لیے ) اور ( ) اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ ( اپنے مقصد میں ) ہو جاؤ ۔