تَبٰرَکَ الَّذِیۡ بِیَدِہِ الۡمُلۡکُ ۫ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِ ﻳۡﺮُۨ ۙ﴿۱﴾
منزہ و برتر ہے وہ جس کے قبضہ میں ( سب جہانوں کی ) ہے اور وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے ۔
The Sovereignty
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ ﴿١﴾
In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
تَبٰرَکَ الَّذِیۡ بِیَدِہِ الۡمُلۡکُ ۫ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِ ﻳۡﺮُۨ ۙ﴿۱﴾
منزہ و برتر ہے وہ جس کے قبضہ میں ( سب جہانوں کی ) ہے اور وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے ۔
الَّذِیۡ خَلَقَ الۡمَوۡتَ وَالۡحَیٰوۃَ لِیَبۡلُوَکُمۡ اَیُّکُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا ؕ وَہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡغَفُوۡرُ ۙ﴿۲﴾
جس نے کیا ہے موت اور زندگی کو تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے عمل کے سے کون بہتر ہے اور وہی دائمی والا ، بہت بخشنے والا ہے ۔
الَّذِیۡ خَلَقَ سَبۡعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا ؕ مَاتَرٰی فِیۡ خَلۡقِ الرَّحۡمٰنِ مِنۡ تَفٰوُتٍ ؕ فَارۡجِعِ الۡبَصَرَ ۙ ہَلۡ تَرٰی مِنۡ فُطُوۡرٍ ﴿۳﴾
جس نے بنائے ہیں سات اوپر تمہیں نظر نہیں آئے گا ( خداوند ) رحمن کی آفرینش میں کوئی خلل ۔ ذرا پھر اٹھا کر دیکھ ، کیا تجھے کوئی رخنہ دکھائی دیتا ہے ۔
ثُمَّ ارۡجِعِ الۡبَصَرَ کَرَّتَیۡنِ یَنۡقَلِبۡ اِلَیۡکَ الۡبَصَرُ خَاسِئًا وَّہُوَ حَسِیۡرٌ ﴿۴﴾
پھر بار بار ڈالو لوٹ آئے گی تیری طرف ( تیری ) ناکام ہو کر درآںحالیکہ وہ تھکی ماندی ہو گی ۔
وَلَقَدۡ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنۡیَا بِمَصَابِیۡحَ وَجَعَلۡنٰہَا رُجُوۡمًا لِّلشَّیٰطِیۡنِ وَاَعۡتَدۡنَا لَہُمۡ عَذَابَ السَّعِیۡرِ ﴿۵﴾
اور بیشک ہم نے قریبی کو چراغوں سے آراستہ کر دیا ہے اور بنا دیا ہے انھیں شیاطین کو مار بھگانے کا اور ہم نے کر رکھا ہے ان کے لیے دہکتی کا ۔
وَلِلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِرَبِّہِمۡ عَذَابُ جَہَنَّمَ ؕ وَبِئۡسَ الۡمَصِیۡرُ ﴿۶﴾
اور جنہوں نے کیا اپنے رب کا ان کے لیے جہنم ہے اور جہنم بڑی بری لوٹنے کی ہے ۔
اِذَاۤ اُلۡقُوۡا فِیۡہَا سَمِعُوۡا لَہَا شَہِیۡقًا وَّہِیَ تَفُوۡرُ ۙ﴿۷﴾
جب وہ اس میں جھونکے جائیں گے تو اس کی زور دار گرج سنیں گے اور وہ جوش مار رہی ہو گی ۔
تَکَادُ تَمَیَّزُ مِنَ الۡغَیۡظِ ؕ کُلَّمَاۤ اُلۡقِیَ فِیۡہَا فَوۡجٌ سَاَلَہُمۡ خَزَنَتُہَاۤ اَلَمۡ یَاۡتِکُمۡ نَذِیۡرٌ ﴿۸﴾
۔( ایسا معلوم ہوتا ہے ) گویا مارے غضب کے پھٹا چاہتی ہے ۔ جب بھی اس میں کوئی جتھا جھونکا جائے گا تو ان سے کے محافظ پوچھیں گے کیا تمہارے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا ۔
قَالُوۡا بَلٰی قَدۡ جَآءَنَا نَذِیۡرٌ ۬ ۙ فَکَذَّبۡنَا وَقُلۡنَا مَانَزَّلَ اللّٰہُ مِنۡ شَیۡءٍ ۚ ۖ اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا فِیۡ ضَلٰلٍ کَبِیۡرٍ ﴿۹﴾
وہ کہیں گے کیوں نہیں بیشک ہمارے ڈرانے والا آیا تھا پس ہم نے اس کو جھٹلایا اور ہم نے اس کو ( صاف ) کہہ دیا کہ اللہ تعالیٰ نے تو کوئی چیز نہیں اتاری ۔ تم لوگ کھلی گمراہی میں مبتلا ہو ۔
وَقَالُوۡا لَوۡ کُنَّا نَسۡمَعُ اَوۡ نَعۡقِلُ مَاکُنَّا فِیۡۤ اَصۡحٰبِ السَّعِیۡرِ ﴿۱۰﴾
وہ کہیں گے کاش ! ہم ( ان کی کو ) سنتے اور سمجھتے تو ( آج ) ہم دوزخیوں میں نہ ہوتے ۔
فَاعۡتَرَفُوۡا بِذَنۡۢبِہِمۡ ۚ فَسُحۡقًا لِّاَصۡحٰبِ السَّعِیۡرِ ﴿۱۱﴾
پس ( اس روز ) اپنے گناہوں کا اعتراف کریں گے تو پھٹکار ہو اہل جہنم پر ۔
اِنَّ الَّذِیۡنَ یَخۡشَوۡنَ رَبَّہُمۡ بِالۡغَیۡبِ لَہُمۡ مَّغۡفِرَۃٌ وَّاَجۡرٌ کَبِیۡرٌ ﴿۱۲﴾
بیشک جو لوگ اپنے رب سے بن دیکھے ڈرتے ہیں ان کے لیے ( اللہ کی ) مغفرت اور اجر عظیم ہے ۔
وَاَسِرُّوۡا قَوۡلَکُمۡ اَوِ اجۡہَرُوۡا بِہٖ ؕ اِنَّہٗ عَلِیۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴿۱۳﴾
تم اپنی کہو یا سے ( اس سے کوئی نہیں پڑتا ) بیشک وہ خوب جاننے والا ہے جو کچھ سینوں میں ہے ۔
اَلَا یَعۡلَمُ مَنۡ خَلَقَ ؕ وَہُوَ اللَّطِیۡفُ الۡخَبِیۡرُ ﴿۱۴﴾٪ 1
۔( نادانو ! ) کیا وہ نہیں جانتا ( بندوں کے احوال کو ) جس نے ( انہیں ) کیا ہے وہ بڑا باریک بین ، ہر چیز سے باخبر ہے ۔
ہُوَ الَّذِیۡ جَعَلَ لَکُمُ الۡاَرۡضَ ذَلُوۡلًا فَامۡشُوۡا فِیۡ مَنَاکِبِہَا وَکُلُوۡا مِنۡ رِّزۡقِہٖ ؕ وَاِلَیۡہِ النُّشُوۡرُ ﴿۱۵﴾
وہی تو ہے جس نے کر دیا ہے تمہارے لیے کو ، پس ( اطمینان سے ) چلو اس کے راستوں پر اور کھاؤ اس کے ( دیے ہوئے ) رزق سے اور اسی کی طرف تم کو ( قبروں سے ) اٹھ کر جانا ہے ۔
ءَاَمِنۡتُمۡ مَّنۡ فِی السَّمَآءِ اَنۡ یَّخۡسِفَ بِکُمُ الۡاَرۡضَ فَاِذَا ہِیَ تَمُوۡرُ ﴿ۙ۱۶﴾
کیا تم بے خوف ہو گئے ہو اس سے جو میں ہے کہ وہ تمہیں میں غرق کر دے اور وہ تھرتھر کانپنے لگے ۔
اَمۡ اَمِنۡتُمۡ مَّنۡ فِی السَّمَآءِ اَنۡ یُّرۡسِلَ عَلَیۡکُمۡ حَاصِبًا ؕ فَسَتَعۡلَمُوۡنَ کَیۡفَ نَذِیۡرِ ﴿۱۷﴾
کیا تم بے خوف ہو گئے ہو اس سے جو میں ہے کہ وہ بھیج دے تم پر برسانے والی ۔ تب تمہیں پتہ چلے گا کہ میرا ڈرانا کیسا ہوتا ہے ۔
وَلَقَدۡ کَذَّبَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ فَکَیۡفَ کَانَ نَکِیۡرِ ﴿۱۸﴾
اور جو لوگ ان سے گزرے انھوں نے بھی جھٹلایا ( خود دیکھ لو ) کہ ( ان پر ) میرا کتنا تھا ۔
اَوَ لَمۡ یَرَوۡا اِلَی الطَّیۡرِ فَوۡقَہُمۡ صٰٓفّٰتٍ وَّیَقۡبِضۡنَ ؔ ۘ ؕ مَایُمۡسِکُہُنَّ اِلَّا الرَّحۡمٰنُ ؕ اِنَّہٗ بِکُلِّ شَیۡءٍ ۢ بَصِیۡرٌ ﴿۱۹﴾
کیا انھوں نے پرندوں کو اپنے اوپر ( اڑتے ) کبھی نہیں دیکھا پر پھیلائے ہوئے اور کبھی پر سمیٹ بھی لیتے ہیں ۔ نہیں روکے ہوئے انھیں کوئی ( فضا میں ) بجز رحمن کے بیشک وہ ہر چیز کو خوب دیکھنے والا ہے ۔
اَمَّنۡ ہٰذَا الَّذِیۡ ہُوَ جُنۡدٌ لَّکُمۡ یَنۡصُرُکُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ الرَّحۡمٰنِ ؕ اِنِ الۡکٰفِرُوۡنَ اِلَّا فِیۡ غُرُوۡرٍ ﴿ۚ۲۰﴾
۔( اے منکرو ! ) کیا تمہارے کوئی ایسا ہے جو تمہاری کرے ( خداوند ) رحمن کے علاوہ بیشک منکرین میں مبتلا ہیں ۔
اَمَّنۡ ہٰذَا الَّذِیۡ یَرۡزُقُکُمۡ اِنۡ اَمۡسَکَ رِزۡقَہٗ ۚ بَلۡ لَّجُّوۡا فِیۡ عُتُوٍّ وَّنُفُوۡرٍ ﴿۲۱﴾
کیا کوئی ایسی ہستی ہے جو تمہیں رزق پہنچا سکے اگر اللہ تعالیٰ اپنا رزق کر لے لیکن یہ لوگ اور حق سے نفرت میں بہت نکل گئے ہیں ۔
اَفَمَنۡ یَّمۡشِیۡ مُکِبًّا عَلٰی وَجۡہِہٖۤ اَہۡدٰۤی اَمَّنۡ یَّمۡشِیۡ سَوِیًّا عَلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ﴿۲۲﴾
کیا وہ شخص جو کے بل گرتا پڑتا چلا جا رہا ہے وہ راہ راست پر ہے یا جو ہو کر صراط مستقیم پر گامزن ہے ۔
قُلۡ ہُوَ الَّذِیۡۤ اَنۡشَاَکُمۡ وَجَعَلَ لَکُمُ السَّمۡعَ وَالۡاَبۡصَارَ وَالۡاَفۡئِدَۃَ ؕ قَلِیۡلًا مَّا تَشۡکُرُوۡنَ ﴿۲۳﴾
آپ فرمائیے وہی تو ہے جس نے تمہیں کیا اور تمہارے لیے کان ، آنکھیں اور بنائے ( لیکن ) تم بہت شکر کیا کرتے ہو ۔
قُلۡ ہُوَ الَّذِیۡ ذَرَاَکُمۡ فِی الۡاَرۡضِ وَاِلَیۡہِ تُحۡشَرُوۡنَ ﴿۲۴﴾
آپ فرمائیے اسی نے تم کو پھیلا دیا ہے میں اور ( روز حشر ) تم اسی کے جمع کیے جاؤ گے ۔
وَیَقُوۡلُوۡنَ مَتٰی ہٰذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۲۵﴾
۔( کفار ازراہ ) پوچھتے ہیں کہ ( بتاؤ ) یہ وعدہ کب پورا ہو گا اگر تم سچے ہو ۔
قُلۡ اِنَّمَا الۡعِلۡمُ عِنۡدَ اللّٰہِ ۪ وَاِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۲۶﴾
آپ فرمائیے ( اس کا ) علم تو اللہ ہی کے ہے ۔ میں تو محض واضح طور پر خبردار کرنے والا ہوں ۔
فَلَمَّا رَاَوۡہُ زُلۡفَۃً سِیۡٓئَتۡ وُجُوۡہُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَقِیۡلَ ہٰذَا الَّذِیۡ کُنۡتُمۡ بِہٖ تَدَّعُوۡنَ ﴿۲۷﴾
پھر جس اسے قریب آتے دیکھیں گے تو کافروں کے چہرے بگڑ جائیں گے اور انھیں کہا جائے گا کہ یہ ہے جس کا تم بار بار مطالبہ کرتے تھے ۔
قُلۡ اَرَءَیۡتُمۡ اِنۡ اَہۡلَکَنِیَ اللّٰہُ وَمَنۡ مَّعِیَ اَوۡ رَحِمَنَا ۙ فَمَنۡ یُّجِیۡرُ الۡکٰفِرِیۡنَ مِنۡ عَذَابٍ اَلِیۡمٍ ﴿۲۸﴾
آپ فرمائیے ( اے منکرو ! ) ذرا تو کرو اگر اللہ تعالیٰ مجھے اور جو میرے ساتھ ہیں ، کو کر دے یا ہم پر رحم فرما دے تو کون بچا لے گا کافروں کو دردناک سے ۔
قُلۡ ہُوَ الرَّحۡمٰنُ اٰمَنَّا بِہٖ وَعَلَیۡہِ تَوَکَّلۡنَا ۚ فَسَتَعۡلَمُوۡنَ مَنۡ ہُوَ فِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۲۹﴾
فرمائیے وہ ( میرا خالق ) بڑا ہی ہے ہم اسی پر ایمان لائے ہیں اور اسی پر ہم نے توکل کیا ہے ۔ پس عنقریب تمہیں پتہ چل جائے گا کہ کھلی گمراہی میں کون ہے ۔
قُلۡ اَرَءَیۡتُمۡ اِنۡ اَصۡبَحَ مَآؤُکُمۡ غَوۡرًا فَمَنۡ یَّاۡتِیۡکُمۡ بِمَآءٍ مَّعِیۡنٍ ﴿٪۳۰﴾ 2
آپ پوچھیے اگر کسی صبح تمہارا کی تہہ میں اتر جائے تو تمہیں میٹھا کون لا دے گا ۔