تَبٰرَکَ الَّذِیۡ نَزَّلَ الۡفُرۡقَانَ عَلٰی عَبۡدِہٖ لِیَکُوۡنَ لِلۡعٰلَمِیۡنَ نَذِیۡرَا ۙ﴿۱﴾
بڑی ( خیر و ) برکت والا ہے وہ جس نے اتارا ہے الفرقان اپنے ( محبوب ) بندہ پر تاکہ وہ بن جائے سارے جہان والوں کو ( غضب الہی سے ) ڈرانے والا ۔
The Criterion
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ ﴿١﴾
In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
تَبٰرَکَ الَّذِیۡ نَزَّلَ الۡفُرۡقَانَ عَلٰی عَبۡدِہٖ لِیَکُوۡنَ لِلۡعٰلَمِیۡنَ نَذِیۡرَا ۙ﴿۱﴾
بڑی ( خیر و ) برکت والا ہے وہ جس نے اتارا ہے الفرقان اپنے ( محبوب ) بندہ پر تاکہ وہ بن جائے سارے جہان والوں کو ( غضب الہی سے ) ڈرانے والا ۔
ۣالَّذِیۡ لَہٗ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَلَمۡ یَتَّخِذۡ وَلَدًا وَّلَمۡ یَکُنۡ لَّہٗ شَرِیۡکٌ فِی الۡمُلۡکِ وَخَلَقَ کُلَّ شَیۡءٍ فَقَدَّرَہٗ تَقۡدِیۡرًا ﴿۲﴾
وہ جس کے لیے حکومت ہے آسمانوں اور کی اور نہیں بنایا ہے اس نے کسی کو اور نہیں اس کا کوئی سلطنت میں اور اس نے فرمایا ہے ہر چیز کو ۔ پس اس نے کیا ہے ہر چیز کا ایک ۔
وَاتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اٰلِہَۃً لَّا یَخۡلُقُوۡنَ شَیۡئًا وَّہُمۡ یُخۡلَقُوۡنَ وَلَا یَمۡلِکُوۡنَ لِاَنۡفُسِہِمۡ ضَرًّا وَّلَا نَفۡعًا وَّلَا یَمۡلِکُوۡنَ مَوۡتًا وَّلَا حَیٰوۃً وَّلَا نُشُوۡرًا ﴿۳﴾
اور بنا رکھے ہیں انھوں نے خدائے برحق کو چھوڑ کر ایسے خدا جو نہیں کر سکتے کسی چیز کو اور وہ خود کیے گئے ہیں اور نہیں قدرت رکھتے اپنے آپ کو ( سے بچانے ) کی اور نہ نفع پہنچانے کی اور نہیں رکھتے کسی کو مارنے کی اور نہ کرنے کی اور نہ مرنے کے بعد جلانے کی ۔
وَقَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِنۡ ہٰذَاۤ اِلَّاۤ اِﻓۡﻚُۨ افۡتَرٰىہُ وَاَعَانَہٗ عَلَیۡہِ قَوۡمٌ اٰخَرُوۡنَ ۚۛ فَقَدۡ جَآءُوۡ ظُلۡمًا وَّزُوۡرًا ۚ﴿ۛ۴﴾
اور کہنے لگے کفار کہ نہیں یہ ( ) مگر محض جو گھڑ لیا ہے اس نے اور کی ہے اس کی اس معاملہ میں ایک دوسری قوم نے سو یہ ( کہہ کر ) انھوں نے بڑا ظلم کیا ہے اور سفید بولا ہے ۔
وَقَالُوۡۤا اَسَاطِیۡرُ الۡاَوَّلِیۡنَ اکۡتَتَبَہَا فَہِیَ تُمۡلٰی عَلَیۡہِ بُکۡرَۃً وَّاَصِیۡلًا ﴿۵﴾
اور کفار نے کہا یہ تو افسانے ہیں لوگوں کے اس شخص نے لکھوا لیا ہے انھیں ۔ پھر یہ پڑھ کر سنائے جاتے ہیں اسے ہر صبح و ( تاکہ ازبر ہو جائیں ) ۔
قُلۡ اَنۡزَلَہُ الَّذِیۡ یَعۡلَمُ السِّرَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ؕ اِنَّہٗ کَانَ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿۶﴾
آپ فرمائیے اتارا ہے اس کو اس ( خدا ) نے جو جانتا ہے آسمانوں اور کے سارے رازوں کو ۔ واقعی وہ بہت بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے ۔
وَقَالُوۡا مَالِ ہٰذَا الرَّسُوۡلِ یَاۡکُلُ الطَّعَامَ وَیَمۡشِیۡ فِی الۡاَسۡوَاقِ ؕ لَوۡ لَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡہِ مَلَکٌ فَیَکُوۡنَ مَعَہٗ نَذِیۡرًا ۙ﴿۷﴾
اور کفار بولے کیا ہے اس رسول کو کہ کھاتا ہے اور چلتا پھرتا ہے بازاروں میں ۔ ایسا کیوں نہ کہ اتارا جاتا اس کی طرف کوئی اور وہ اس کے ساتھ مل کر ( لوگوں کو ) ڈراتا ۔
اَوۡ یُلۡقٰۤی اِلَیۡہِ کَنۡزٌ اَوۡ تَکُوۡنُ لَہٗ جَنَّۃٌ یَّاۡکُلُ مِنۡہَا ؕ وَقَالَ الظّٰلِمُوۡنَ اِنۡ تَتَّبِعُوۡنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسۡحُوۡرًا ﴿۸﴾
یا ( ایسا کیوں نہ ) کہ اتارا جاتا اس کی طرف یا ( از ) اس کا ایک ہی ہوتا ، کھایا کرتا اس ( کی آمدنی ) سے ۔ اور ان ظالموں نے ( یہاں تک ) کہہ دیا کہ تم پیروی نہیں کر رہے ہو مگر ایک ایسے شخص کی جس پر جادو کیا گیا ہے ۔
اُنۡظُرۡ کَیۡفَ ضَرَبُوۡا لَکَ الۡاَمۡثَالَ فَضَلُّوۡا فَلَا یَسۡتَطِیۡعُوۡنَ سَبِیۡلًا ﴿٪۹﴾ 16
ملاحظہ تو کیجیے کیسے کرتے ہیں آپ کے متعلق طرح طرح کی مثالیں ، سو وہ ( اس بے ادبی کے باعث ) گمراہ ہو گئے پس وہ راہ نہیں پا سکتے ۔
تَبٰرَکَ الَّذِیۡۤ اِنۡ شَآءَ جَعَلَ لَکَ خَیۡرًا مِّنۡ ذٰلِکَ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ ۙ وَیَجۡعَلۡ لَّکَ قُصُوۡرًا ﴿۱۰﴾
بڑی ( خیر و ) برکت والا ہے اللہ تعالیٰ جو اگر چاہے تو بنا دے آپ کے لیے بہتر اس سے ( یعنی ایسے ) باغات رواں ہوں کے نہریں اور بنا دے آپ کے لیے بڑے بڑے محلات ۔
بَلۡ کَذَّبُوۡا بِالسَّاعَۃِ ۟ وَاَعۡتَدۡنَا لِمَنۡ کَذَّبَ بِالسَّاعَۃِ سَعِیۡرًا ﴿ۚ۱۱﴾
بلکہ یہ تو جھٹلاتے ہیں کو اور ہم نے کر رکھی ہے ان کے لیے جو جھٹلاتے ہیں کو بھڑکتی ہوئی ۔
اِذَا رَاَتۡہُمۡ مِّنۡ مَّکَانٍ ۢ بَعِیۡدٍ سَمِعُوۡا لَہَا تَغَیُّظًا وَّزَفِیۡرًا ﴿۱۲﴾
جب یہ دیکھے گی انھیں سے تو وہ سنیں گے اس کا جوش اور چنگھاڑنا ۔
وَاِذَاۤ اُلۡقُوۡا مِنۡہَا مَکَانًا ضَیِّقًا مُّقَرَّنِیۡنَ دَعَوۡا ہُنَالِکَ ثُبُوۡرًا ﴿ؕ۱۳﴾
اور جب انھیں پھینکا جائے گا اس میں کسی سے زنجیروں میں جکڑ کر تو پکاریں گے وہاں موت کو ۔
لَا تَدۡعُوا الۡیَوۡمَ ثُبُوۡرًا وَّاحِدًا وَّادۡعُوۡا ثُبُوۡرًا کَثِیۡرًا ﴿۱۴﴾
۔( کہا جائے گا بدبختو ! ) یہ مانگو آج ایک موت بلکہ مانگو بہت سی موتیں ۔
قُلۡ اَذٰلِکَ خَیۡرٌ اَمۡ جَنَّۃُ الۡخُلۡدِ الَّتِیۡ وُعِدَ الۡمُتَّقُوۡنَ ؕ کَانَتۡ لَہُمۡ جَزَآءً وَّمَصِیۡرًا ﴿۱۵﴾
ان سے پوچھیے ( ذرا بتاؤ ) یہ بھڑکتی ہوئی بہتر ہے یا دائمی جس کا وعدہ پرہیزگاروں سے کیا گیا ہے ۔ ہو گی یہ ان کے کا صلہ اور ( ان کی زندگی کا ) ۔
لَہُمۡ فِیۡہَا مَایَشَآءُوۡنَ خٰلِدِیۡنَ ؕ کَانَ عَلٰی رَبِّکَ وَعۡدًا مَّسۡئُوۡلًا ﴿۱۶﴾
ان کے لیے اس میں ہر وہ ہو گی جس کی وہ کریں گے وہاں رہیں گے ۔ آپ کے رب کے ذمہ وعدہ ہے جس کا ایفاء لازم ہے ۔
وَیَوۡمَ یَحۡشُرُہُمۡ وَمَا یَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ فَیَقُوۡلُ ءَاَنۡتُمۡ اَضۡلَلۡتُمۡ عِبَادِیۡ ہٰۤؤُلَآءِ اَمۡ ہُمۡ ضَلُّوا السَّبِیۡلَ ﴿ؕ۱۷﴾
اور جس روز ( محشر میں ) اللہ انھیں کرے گا اور ان ( باطل خداؤں کو ) جنھیں یہ پوجتے ہیں اللہ کے سوا ، تو اللہ پوچھے گا ( ان معبودوں سے ) کیا تم نے گمراہ کیا میرے ان بندوں کو یا وہ خود ہی سیدھی راہ سے بھٹک گئے تھے ۔
قَالُوۡا سُبۡحٰنَکَ مَاکَانَ یَنۡۢبَغِیۡ لَنَاۤ اَنۡ نَّتَّخِذَ مِنۡ دُوۡنِکَ مِنۡ اَوۡلِیَآءَ وَلٰکِنۡ مَّتَّعۡتَہُمۡ وَاٰبَآءَہُمۡ حَتّٰی نَسُوا الذِّکۡرَ ۚ وَکَانُوۡا قَوۡمًۢا بُوۡرًا ﴿۱۸﴾
وہ کہیں گے تو ہے ( ہر عیب سے ) ہمیں یہ زیبا نہ تھی کہ ہم بناتے تیرے سوا کسی غیر کو لیکن تو نے و آسائش عطا کی انھیں اور ان کے آباء کو ، یہاں تک کہ انھوں نے بھلا دیا تیری کو اور ( یوں ) وہ لوگ تباہ و ہو گئے ۔
فَقَدۡ کَذَّبُوۡکُمۡ بِمَا تَقُوۡلُوۡنَ ۙ فَمَا تَسۡتَطِیۡعُوۡنَ صَرۡفًا وَّلَا نَصۡرًا ۚ وَمَنۡ یَّظۡلِمۡ مِّنۡکُمۡ نُذِقۡہُ عَذَابًا کَبِیۡرًا ﴿۱۹﴾
۔( اے کفار ) تمہارے معبودوں نے تمہیں جھٹلا دیا جو تم کہتے ہو ۔ پس اب نہ تم اپنے سے کو پھیر سکتے ہو اور نہ تمہاری کی جائے گی اور جس نے ظلم کیا تم میں سے تو ہم چکھائیں گے اسے بڑا ۔
وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا قَبۡلَکَ مِنَ الۡمُرۡسَلِیۡنَ اِلَّاۤ اِنَّہُمۡ لَیَاۡکُلُوۡنَ الطَّعَامَ وَیَمۡشُوۡنَ فِی الۡاَسۡوَاقِ ؕ وَجَعَلۡنَا بَعۡضَکُمۡ لِبَعۡضٍ فِتۡنَۃً ؕ اَتَصۡبِرُوۡنَ ۚ وَکَانَ رَبُّکَ بَصِیۡرًا ﴿٪۲۰﴾ 17
اور نہیں بھیجے ہم نے آپ سے رسول مگر وہ سب کھایا کرتے اور چلا پھرا کرتے بازاروں میں اور ہم نے بنا دیا تمہیں ایک دوسرے کے لیے کیا تم ( اس میں ) کرو گے ؟ اور آپکا رب سب کچھ دیکھ رہا ہے ۔
وَقَالَ الَّذِیۡنَ لَا یَرۡجُوۡنَ لِقَآءَنَا لَوۡ لَاۤ اُنۡزِلَ عَلَیۡنَا الۡمَلٰٓئِکَۃُ اَوۡ نَرٰی رَبَّنَا ؕ لَقَدِ اسۡتَکۡبَرُوۡا فِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ وَعَتَوۡ عُتُوًّا کَبِیۡرًا ﴿۲۱﴾
کہا ان لوگوں نے جو نہیں رکھتے تھے ہم سے ملنے کی کہ کیوں نہ اتارے گئے ہم پر فرشتے یا ہم دیکھ لیتے اپنے رب کو ، وہ اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھنے لگے تھے اپنے دلوں میں ۔ اور انھوں نے سے بڑھ کر کی ۔
یَوۡمَ یَرَوۡنَ الۡمَلٰٓئِکَۃَ لَا بُشۡرٰی یَوۡمَئِذٍ لِّلۡمُجۡرِمِیۡنَ وَیَقُوۡلُوۡنَ حِجۡرًا مَّحۡجُوۡرًا ﴿۲۲﴾
جس روز وہ دیکھیں گے فرشتوں کو تو کوئی خوشی کی نہ ہو گی اس روز مجرموں کے لیے اور فرشتے کہیں گے تمہارے لیے ( کا داخلہ ) قطعاً ہے ۔
وَقَدِمۡنَاۤ اِلٰی مَاعَمِلُوۡا مِنۡ عَمَلٍ فَجَعَلۡنٰہُ ہَبَآءً مَّنۡثُوۡرًا ﴿۲۳﴾
اور ہم متوجہ ہوں گے ان کے کاموں کی طرف اور انھیں گرد و بنا کر اڑا دیں گے ۔
اَصۡحٰبُ الۡجَنَّۃِ یَوۡمَئِذٍ خَیۡرٌ مُّسۡتَقَرًّا وَّاَحۡسَنُ مَقِیۡلًا ﴿۲۴﴾
اہل کا اس بہت ٹھکانا ہو گا اور دوپہر گزارنے کی بڑی دہ ہو گی ۔
وَیَوۡمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالۡغَمَامِ وَنُزِّلَ الۡمَلٰٓئِکَۃُ تَنۡزِیۡلًا ﴿۲۵﴾
اور کرو جس روز پھٹ جائے گا اور نمودار ہو گا اور اتارے جائیں گے فرشتے گروہ در گروہ ۔
اَلۡمُلۡکُ یَوۡمَئِذِ ۣ الۡحَقُّ لِلرَّحۡمٰنِ ؕ وَکَانَ یَوۡمًا عَلَی الۡکٰفِرِیۡنَ عَسِیۡرًا ﴿۲۶﴾
اس سچی ( خداوند ) رحمن کی ہو گی اور وہ کافروں کے لیے بڑا مشکل ہو گا ۔
وَیَوۡمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰی یَدَیۡہِ یَقُوۡلُ یٰلَیۡتَنِی اتَّخَذۡتُ مَعَ الرَّسُوۡلِ سَبِیۡلًا ﴿۲۷﴾
اور اس روز ظالم ( فرط ندامت سے ) کاٹے گا اپنے ہاتھوں کو ( اور ) کہے گا کاش ! میں نے کیا ہوتا رسول ( مکّرم ) کی میعت میں ( کا ) ۔
یٰوَیۡلَتٰی لَیۡتَنِیۡ لَمۡ اَتَّخِذۡ فُلَانًا خَلِیۡلًا ﴿۲۸﴾
ہائے ! کاش نہ بنایا ہوتا میں نے فلاں کو اپنا ۔
لَقَدۡ اَضَلَّنِیۡ عَنِ الذِّکۡرِ بَعۡدَ اِذۡ جَآءَنِیۡ ؕ وَکَانَ الشَّیۡطٰنُ لِلۡاِنۡسَانِ خَذُوۡلًا ﴿۲۹﴾
واقعی اس نے بہکا دیا مجھے اس سے اس کے میرے آ جانے کے بعد ۔ اور شیطان تو سے کو ( مشکل کے ) بے یار و چھوڑنے والا ہے ۔
وَقَالَ الرَّسُوۡلُ یٰرَبِّ اِنَّ قَوۡمِی اتَّخَذُوۡا ہٰذَا الۡقُرۡاٰنَ مَہۡجُوۡرًا ﴿۳۰﴾
اور رسول عرض کرے گا میرے رب ! بلاشبہ میری قوم نے اس کو بالکل نظر انداز کر دیا ہے ۔
وَکَذٰلِکَ جَعَلۡنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا مِّنَ الۡمُجۡرِمِیۡنَ ؕ وَکَفٰی بِرَبِّکَ ہَادِیًا وَّنَصِیۡرًا ﴿۳۱﴾
اور ( اے حبیب ! ) اسی طرح ہم نے بنائے ہر نبی کے لیے جرائم پیشہ لوگوں سے اور ہے آپ کا رب ( آپکے لیے ) منزل مقصود تک پہنچانے والا اور فرمانے والا ۔
وَقَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَوۡ لَا نُزِّلَ عَلَیۡہِ الۡقُرۡاٰنُ جُمۡلَۃً وَّاحِدَۃً ۚ ۛ کَذٰلِکَ ۚ ۛ لِنُثَبِّتَ بِہٖ فُؤَادَکَ وَرَتَّلۡنٰہُ تَرۡتِیۡلًا ﴿۳۲﴾
اور کہنے لگے کفار ( ازراہ اعتراض ) کیوں نہیں اتارا گیا ان پر یکبارگی ؟ اس طرح اس لیے کیا کہ ہم کر دیں اس کے ساتھ آپ کے کو اور اسی لیے ہم نے ٹھیر ٹھیر کر اسے پڑھا ہے ۔
وَلَا یَاۡتُوۡنَکَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰکَ بِالۡحَقِّ وَاَحۡسَنَ تَفۡسِیۡرًا ﴿ؕ۳۳﴾
اور نہیں کریں گے آپ پر کوئی اعتراض مگر ہم لائیں گے آپ کے اس کا صحیح اور عمدہ تفسیر ( جو اعتراض کو رد کر دے گی ) ۔
اَلَّذِیۡنَ یُحۡشَرُوۡنَ عَلٰی وُجُوۡہِہِمۡ اِلٰی جَہَنَّمَ ۙ اُولٰٓئِکَ شَرٌّ مَّکَانًا وَّاَضَلُّ سَبِیۡلًا ﴿۳۴﴾٪ 1
جو لوگ ہانکے جائیں گے اوندھے جہنم کی طرف ان کا بہت برا ٹھکانا ہو گا اور وہ سب سے کردہ راہ ہوں گے ۔
وَلَقَدۡ اٰتَیۡنَا مُوۡسَی الۡکِتٰبَ وَجَعَلۡنَا مَعَہٗۤ اَخَاہُ ہٰرُوۡنَ وَزِیۡرًا ﴿۳۵﴾ۚ ۖ
اور بیشک ہم نے عطا فرمائی موسیٰ کو اور کیا ان کے ساتھ ان کے ہارون کو ( ان کا ) وزیر ۔
فَقُلۡنَا اذۡہَبَاۤ اِلَی الۡقَوۡمِ الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا ؕ فَدَمَّرۡنٰہُمۡ تَدۡمِیۡرًا ﴿ؕ۳۶﴾
پھر ہم نے دیا دونوں جاؤ اس قوم کی طرف جنہوں نے جھٹلایا ہے ہماری آیتوں کو ۔ ( وہ گئے ۔ قوم نے ان کو ٹھکرا دیا ) تو ہم نے ان کو بالکل کر دیا ۔
وَقَوۡمَ نُوۡحٍ لَّمَّا کَذَّبُوا الرُّسُلَ اَغۡرَقۡنٰہُمۡ وَجَعَلۡنٰہُمۡ لِلنَّاسِ اٰیَۃً ؕ وَاَعۡتَدۡنَا لِلظّٰلِمِیۡنَ عَذَابًا اَلِیۡمًا ﴿۳۷﴾ۚ ۖ
اور قوم نوح کو کرو جب انھوں نے جھٹلایا رسولوں کو تو ہم نے انھیں غرق کر دیا اور بنا دیا انھیں دوسرے لوگوں کے لیے عبرت ۔ اور کر رکھا ہے ہم نے ظالموں کے لیے دردناک ۔
وَّعَادًا وَّثَمُوۡدَا۠ وَاَصۡحٰبَ الرَّسِّ وَقُرُوۡنًۢا بَیۡنَ ذٰلِکَ کَثِیۡرًا ﴿۳۸﴾
اور کرو قوم عاد ، ثمود اور اصحاب الرس کو اور ان کثیر التعداد قوموں کو جو ان کے گزریں ۔
وَکُلًّا ضَرَبۡنَا لَہُ الۡاَمۡثَالَ ۫ وَکُلًّا تَبَّرۡنَا تَتۡبِیۡرًا ﴿۳۹﴾
حق سمجھانے کے لیے ہم نے کیں ہر ایک کے لیے مثالیں اور ہم نے سب کو نیست و نابود کر دیا ۔
وَلَقَدۡ اَتَوۡا عَلَی الۡقَرۡیَۃِ الَّتِیۡۤ اُمۡطِرَتۡ مَطَرَ السَّوۡءِ ؕ اَفَلَمۡ یَکُوۡنُوۡا یَرَوۡنَہَا ۚ بَلۡ کَانُوۡا لَا یَرۡجُوۡنَ نُشُوۡرًا ﴿۴۰﴾
اور کئی بار گزرے ہیں یہ مشرک اس قصبہ کے سے جس پر پتھراؤ کیا گیا تھا بری طرح ۔ کیا ( وہاں سے گزرتے ہوئے ) وہ اسے نہیں دیکھا کرتے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ انھیں دوبارہ جینے کی ہی نہیں ہے ۔
وَاِذَا رَاَوۡکَ اِنۡ یَّتَّخِذُوۡنَکَ اِلَّا ہُزُوًا ؕ اَہٰذَا الَّذِیۡ بَعَثَ اللّٰہُ رَسُوۡلًا ﴿۴۱﴾
اور جب وہ آپ کو دیکھتے ہیں تو آپ کا اڑانا کر دیتے ہیں ( کہتے ہیں ) کیا یہ وہ صاحب ہیں کو خدا نے رسول بنا کر بھیجا ہے ۔
اِنۡ کَادَ لَیُضِلُّنَا عَنۡ اٰلِہَتِنَا لَوۡ لَاۤ اَنۡ صَبَرۡنَا عَلَیۡہَا ؕ وَسَوۡفَ یَعۡلَمُوۡنَ حِیۡنَ یَرَوۡنَ الۡعَذَابَ مَنۡ اَضَلُّ سَبِیۡلًا ﴿۴۲﴾
قریب تھا کہ یہ شخص ہمیں بہکا دیتا اپنے خداؤں سے اگر ہم نہ رہے ہوتے ان ( کی پوجا ) پر ( اے حبیب ! ) یہ جان لیں گے جب ( ہمارے ) کو دیکھیں گے کہ کون بھٹکا ہے راہ ( راست ) سے ۔
اَرَءَیۡتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰـہَہٗ ہَوٰىہُ ؕ اَفَاَنۡتَ تَکُوۡنُ عَلَیۡہِ وَکِیۡلًا ﴿ۙ۴۳﴾
کیا آپ نے ملاحظہ فرمایا اس ( احمق ) کو جس نے بنا لیا اپنا خدا اپنی کو ۔ کیا آپ اس کے ذمہ دار ہیں ۔
اَمۡ تَحۡسَبُ اَنَّ اَکۡثَرَہُمۡ یَسۡمَعُوۡنَ اَوۡ یَعۡقِلُوۡنَ ؕ اِنۡ ہُمۡ اِلَّا کَالۡاَنۡعَامِ بَلۡ ہُمۡ اَضَلُّ سَبِیۡلًا ﴿٪۴۴﴾ 2
کیا آپ خیال کرتے ہیں کہ ان میں سے اکثر لوگ سنتے ہیں یا ( کچھ ) سمجھتے ہیں ۔ نہیں ہیں یہ مگر ڈنگروں کی مانند ، بلکہ یہ تو ان سے بھی گمراہ ہیں ۔
اَلَمۡ تَرَ اِلٰی رَبِّکَ کَیۡفَ مَدَّ الظِّلَّ ۚ وَلَوۡ شَآءَ لَجَعَلَہٗ سَاکِنًا ۚ ثُمَّ جَعَلۡنَا الشَّمۡسَ عَلَیۡہِ دَلِیۡلًا ﴿ۙ۴۵﴾
کیا آپ نے نہیں دیکھا اپنے رب کی طرف ، کیسے پھیلا دیتا ہے سایہ کو اور اگر چاہتا تو بنا دیتا اسے ٹھیرا ۔ پھر ہم نے بنا دیا آفتاب کو اس پر ۔
ثُمَّ قَبَضۡنٰہُ اِلَیۡنَا قَبۡضًا یَّسِیۡرًا ﴿۴۶﴾
پھر ہم سمیٹے جاتے ہیں سایہ کو اپنی طرف آہستہ ۔
وَہُوَ الَّذِیۡ جَعَلَ لَکُمُ الَّیۡلَ لِبَاسًا وَّالنَّوۡمَ سُبَاتًا وَّجَعَلَ النَّہَارَ نُشُوۡرًا ﴿۴۷﴾
اور وہی ہے جس نے بنایا ہے تمہارے لیے کو لباس اور نیند کو باعث راحت اور بنایا ہے کو ( طلب معاش کے لیے ) دوڑ کا ۔
وَہُوَ الَّذِیۡۤ اَرۡسَلَ الرِّیٰحَ بُشۡرًۢا بَیۡنَ یَدَیۡ رَحۡمَتِہٖ ۚ وَاَنۡزَلۡنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً طَہُوۡرًا ﴿ۙ۴۸﴾
اور وہ وہی ہے جو بھیجتا ہے ہواؤں کو خوشخبری دینے کے لیے اپنی رحمت ( ) سے اور ہم اتارتے ہیں سے پاکیزہ ۔
لِّنُحۡیِۦَ بِہٖ بَلۡدَۃً مَّیۡتًا وَّنُسۡقِیَہٗ مِمَّا خَلَقۡنَاۤ اَنۡعَامًا وَّاَنَاسِیَّ کَثِیۡرًا ﴿۴۹﴾
تاکہ ہم کر دیں اس سے کسی غیر کو اور ہم پلائیں یہ اپنی سے کثیر التعداد مویشیوں اور انسانوں کو ۔
وَلَقَدۡ صَرَّفۡنٰہُ بَیۡنَہُمۡ لِیَذَّکَّرُوۡا ۫ ۖفَاَبٰۤی اَکۡثَرُ النَّاسِ اِلَّا کُفُوۡرًا ﴿۵۰﴾
اور ہم بانٹتے رہتے ہیں کو لوگوں کے تاکہ وہ و فکر کریں ۔ پس کر دیا اکثر لوگوں نے مگر یہ کہ وہ ناشکر گزار بنیں گے ۔
وَلَوۡ شِئۡنَا لَبَعَثۡنَا فِیۡ کُلِّ قَرۡیَۃٍ نَّذِیۡرًا﴿۵۱﴾۫ ۖ
اور اگر ہم چاہتے تو بھیجتے ہر گاؤں میں ایک ڈرانے والا ۔
فَلَا تُطِعِ الۡکٰفِرِیۡنَ وَجَاہِدۡہُمۡ بِہٖ جِہَادًا کَبِیۡرًا ﴿۵۲﴾
پس کافروں کی پیروی نہ کرو اور خوب ڈٹ کر مقابلہ کرو ان کا ( کی دلیلوں سے ) ۔
وَہُوَ الَّذِیۡ مَرَجَ الۡبَحۡرَیۡنِ ہٰذَا عَذۡبٌ فُرَاتٌ وَّہٰذَا مِلۡحٌ اُجَاجٌ ۚ وَجَعَلَ بَیۡنَہُمَا بَرۡزَخًا وَّحِجۡرًا مَّحۡجُوۡرًا ﴿۵۳﴾
اور اللہ تعالیٰ وہ ہے جس نے ملا دیا ہے دو دریاؤں کو ، یہ ( ایک ) بہت شیریں ہے اور یہ ( دوسرا ) کھاری اور بنا دی ہے اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے ان کے اور رکاوٹ ۔
وَہُوَ الَّذِیۡ خَلَقَ مِنَ الۡمَآءِ بَشَرًا فَجَعَلَہٗ نَسَبًا وَّصِہۡرًا ؕ وَکَانَ رَبُّکَ قَدِیۡرًا ﴿۵۴﴾
اور وہ وہی ہے جس نے فرمایا کو ( کی بوند ) سے اور بنا دیا اسے والا اور سسرال والا ۔ اور آپ کا رب بڑی قدرت والا ہے ۔
وَیَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مَالَا یَنۡفَعُہُمۡ وَلَا یَضُرُّہُمۡ ؕ وَکَانَ الۡکَافِرُ عَلٰی رَبِّہٖ ظَہِیۡرًا ﴿۵۵﴾
اور وہ پوجتے ہیں اللہ تعالیٰ کے سوا ان بتوں کو جو نہ پہنچا سکتے ہیں انھیں اور نہ ۔ اور کافر اپنے رب کے مقابلے میں ( شیطان کا ) ہوتا ہے ۔
وَمَاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّنَذِیۡرًا ﴿۵۶﴾
اور ہم نے نہیں بھیجا آپ کو مگر بشارت دینے والا اور ڈرانے والا ۔
قُلۡ مَاۤ اَسۡئَلُکُمۡ عَلَیۡہِ مِنۡ اَجۡرٍ اِلَّا مَنۡ شَآءَ اَنۡ یَّتَّخِذَ اِلٰی رَبِّہٖ سَبِیۡلًا ﴿۵۷﴾
فرما دیجیے کہ میں نہیں مانگتا تم سے اس ( خیرخواہی ) پر کچھ اجرت مگر میری اجرت یہ ہے کہ جس کا جی چاہے وہ اپنے رب کا کرے ۔
وَتَوَکَّلۡ عَلَی الۡحَیِّ الَّذِیۡ لَا یَمُوۡتُ وَسَبِّحۡ بِحَمۡدِہٖ ؕ وَکَفٰی بِہٖ بِذُنُوۡبِ عِبَادِہٖ خَبِیۡرَا ﴿۵۸﴾ۚ ۛ ۙ
اور ( اے مصطفے ! ) آپ بھروسہ کیجیے رہنے والے پر جسے کبھی موت نہیں آئے گی اور اس کی حمد کے ساتھ پاکی کیجیے ۔ اور اس کا اپنے بندوں کے گناہوں سے باخبر ہونا ہے ۔
ۣالَّذِیۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ وَمَا بَیۡنَہُمَا فِیۡ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسۡتَوٰی عَلَی الۡعَرۡشِ ۚ ۛ اَلرَّحۡمٰنُ فَسۡئَلۡ بِہٖ خَبِیۡرًا ﴿۵۹﴾
جس نے فرمایا آسمانوں اور کو اور جو کچھ ان کے ہے چھ دنوں میں ۔ پھر وہ متمکن عرش پر ( جیسے اس کی شان ہے ) وہ رحمن ہے ، سو پوچھ اس کے بارے میں کسی واقف حال سے ۔
وَاِذَا قِیۡلَ لَہُمُ اسۡجُدُوۡا لِلرَّحۡمٰنِ قَالُوۡا وَمَا الرَّحۡمٰنُ ٭ اَنَسۡجُدُ لِمَا تَاۡمُرُنَا وَزَادَہُمۡ نُفُوۡرًا ﴿٪ٛ۶۰﴾ 3
اور جب کہا جاتا ہے انھیں کہ رحمن ( کے حضور ) سجدہ کرو ۔ وہ پوچھتے ہیں رحمن کون ہے کیا ہم سجدہ کریں اس کو جس کے متعلق تم ہمیں دیتے ہو اور وہ نفرت کرنے لگتے ہیں ۔
تَبٰرَکَ الَّذِیۡ جَعَلَ فِی السَّمَآءِ بُرُوۡجًا وَّجَعَلَ فِیۡہَا سِرٰجًا وَّقَمَرًا مُّنِیۡرًا ﴿۶۱﴾
بڑی ( خیر و ) برکت والا ہے جس نے بنائے ہیں میں برج ، اور بنایا ہے اس میں ( آفتاب ) اور چمکتا ۔
وَہُوَ الَّذِیۡ جَعَلَ الَّیۡلَ وَالنَّہَارَ خِلۡفَۃً لِّمَنۡ اَرَادَ اَنۡ یَّذَّکَّرَ اَوۡ اَرَادَ شُکُوۡرًا ﴿۶۲﴾
اور وہ وہی ہے جس نے بنایا ہے اور کو ایک دوسرے کے آنے والا اس کے لیے جو یہ چاہتا ہے کہ وہ کرے یا چاہتا ہے کہ شکر گزار بنے ۔
وَعِبَادُ الرَّحۡمٰنِ الَّذِیۡنَ یَمۡشُوۡنَ عَلَی الۡاَرۡضِ ہَوۡنًا وَّاِذَا خَاطَبَہُمُ الۡجٰہِلُوۡنَ قَالُوۡا سَلٰمًا ﴿۶۳﴾
اور رحمن کے بندے وہ ہیں جو چلتے ہیں پر آہستہ اور جب گفتگو کرتے ہیں ان سے جاہل تو وہ صرف یہ کہتے ہیں کہ تم سلامت رہو ۔
وَالَّذِیۡنَ یَبِیۡتُوۡنَ لِرَبِّہِمۡ سُجَّدًا وَّقِیَامًا ﴿۶۴﴾
اور جو بسر کرتے ہیں اپنے رب کے حضور سجدہ کرتے ہوئے اور کھڑے ہوئے ۔
وَالَّذِیۡنَ یَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا اصۡرِفۡ عَنَّا عَذَابَ جَہَنَّمَ ٭ۖ اِنَّ عَذَابَہَا کَانَ غَرَامًا ﴿٭ۖ۶۵﴾
اور جو ( بارگاہ الہی میں ) عرض کرتے رہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! فرما دے ہم سے جہنم بیشک اس کا بڑا مہلک ہے ۔
اِنَّہَا سَآءَتۡ مُسۡتَقَرًّا وَّمُقَامًا ﴿۶۶﴾
بیشک وہ بہت برا ٹھکانا اور بہت بری ہے ۔
وَالَّذِیۡنَ اِذَاۤ اَنۡفَقُوۡا لَمۡ یُسۡرِفُوۡا وَلَمۡ یَقۡتُرُوۡا وَکَانَ بَیۡنَ ذٰلِکَ قَوَامًا ﴿۶۷﴾
اور وہ لوگ جب کرتے ہیں تو نہ خرچی کرتے ہیں اور نہ کنجوسی ( بلکہ ) ان کا کرنا اسراف اور کے بین بین سے ہوتا ہے ۔
وَالَّذِیۡنَ لَا یَدۡعُوۡنَ مَعَ اللّٰہِ اِلٰـہًا اٰخَرَ وَلَا یَقۡتُلُوۡنَ النَّفۡسَ الَّتِیۡ حَرَّمَ اللّٰہُ اِلَّا بِالۡحَقِّ وَلَا یَزۡنُوۡنَ ۚ وَمَنۡ یَّفۡعَلۡ ذٰلِکَ یَلۡقَ اَثَامًا ﴿ۙ۶۸﴾
اور جو نہیں پوجتے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور خدا کو اور نہیں کرتے اس نفس کو جس کو کرنا اللہ تعالیٰ نے کر دیا ہے مگر حق کے ساتھ ۔ اور نہ کرتے ہیں ۔ اور جو یہ کرے گا تو وہ پائے گا ( اس کی ) سزا ۔
یُّضٰعَفۡ لَہُ الۡعَذَابُ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ وَیَخۡلُدۡ فِیۡہٖ مُہَانًا ﴿٭ۖ۶۹﴾
دوگنا کر دیا جائے گا اس کے لیے روز اور رہے گا اس میں و خوار ہو کر ۔
اِلَّا مَنۡ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُولٰٓئِکَ یُبَدِّلُ اللّٰہُ سَیِّاٰتِہِمۡ حَسَنٰتٍ ؕ وَکَانَ اللّٰہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿۷۰﴾
مگر وہ جس نے توبہ کی اور ایمان لے آیا اور عمل کیے تو یہ وہ لوگ ہیں دے گا اللہ تعالیٰ ان کی برائیوں کو نیکیوں سے اور اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے ۔
وَمَنۡ تَابَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّہٗ یَتُوۡبُ اِلَی اللّٰہِ مَتَابًا ﴿۷۱﴾
اور جس نے توبہ کی اور کیے تو اس نے کیا اللہ تعالیٰ کی طرف جیسے کا حق ہے ۔
وَالَّذِیۡنَ لَا یَشۡہَدُوۡنَ الزُّوۡرَ ۙ وَاِذَا مَرُّوۡا بِاللَّغۡوِ مَرُّوۡا کِرَامًا ﴿۷۲﴾
اور جو جھوٹی گواہی نہیں دیتے اور جب گزرتے ہیں کسی لغو چیز کے سے تو بڑے باوقار ہو کر گزر جاتے ہیں ۔
وَالَّذِیۡنَ اِذَا ذُکِّرُوۡا بِاٰیٰتِ رَبِّہِمۡ لَمۡ یَخِرُّوۡا عَلَیۡہَا صُمًّا وَّعُمۡیَانًا ﴿۷۳﴾
اور وہ جب انھیں کی جاتی ہے ان کے رب کی آیات سے تو نہیں گر پڑتے ان پر بہرے اور اندھے ہو کر ۔
وَالَّذِیۡنَ یَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا ہَبۡ لَنَا مِنۡ اَزۡوَاجِنَا وَذُرِّیّٰتِنَا قُرَّۃَ اَعۡیُنٍ وَّاجۡعَلۡنَا لِلۡمُتَّقِیۡنَ اِمَامًا ﴿۷۴﴾
اور وہ جو عرض کرتے رہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! مرحمت فرما ہمیں ہماری بیویوں اور کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک اور بنا ہمیں پرہیزگاروں کے لیے پیشوا ۔
اُولٰٓئِکَ یُجۡزَوۡنَ الۡغُرۡفَۃَ بِمَا صَبَرُوۡا وَیُلَقَّوۡنَ فِیۡہَا تَحِیَّۃً وَّسَلٰمًا ﴿ۙ۷۵﴾
یہی وہ ( نصیب ) ہیں کو میں ملے گا ( کا ) بالاخانہ ان کے کرنے کے باعث اور ان کا استقبال کیا جائے گا وہاں اور سلام سے ۔
خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ؕ حَسُنَتۡ مُسۡتَقَرًّا وَّمُقَامًا ﴿۷۶﴾
وہ ہمیشہ رہیں گے اس میں ۔ بہت عمدہ ٹھکانا اور قیام گاہ ہے ۔
قُلۡ مَایَعۡبَؤُا بِکُمۡ رَبِّیۡ لَوۡ لَا دُعَآؤُکُمۡ ۚ فَقَدۡ کَذَّبۡتُمۡ فَسَوۡفَ یَکُوۡنُ لِزَامًا ﴿۷۷﴾٪ ٙ 4
آپ فرمائیے کیا پرواہ ہے تمہاری میرے رب کو اگر تم اس کی نہ کرو ۔ اور تم نے ( تو الٹا ) کر دیا ۔ تو یہ تمہارے گلے کا ہار بنا رہے گا ۔