اَلۡحَآقَّۃُ ۙ﴿۱﴾
وہ ہو کر رہنے والی ۔
The Reality
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ ﴿١﴾
In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
اَلۡحَآقَّۃُ ۙ﴿۱﴾
وہ ہو کر رہنے والی ۔
مَاالۡحَآقَّۃُ ۚ﴿۲﴾
کیا ہے وہ ہو کر رہنے والی ۔
وَمَاۤ اَدۡرٰىکَ مَاالۡحَآقَّۃُ ؕ﴿۳﴾
اور اے مخاطب تم کیا سمجھو وہ ہو کر رہنے والی کیا ہے ۔
کَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ وَعَادٌۢ بِالۡقَارِعَۃِ ﴿۴﴾
جھٹلایا ثمود اور عاد نے ٹکرا کر پاش پاش کرنے والی کو ۔
فَاَمَّا ثَمُوۡدُ فَاُہۡلِکُوۡا بِالطَّاغِیَۃِ ﴿۵﴾
پس ثمود تو انھیں کر دیا گیا چنگھاڑ سے ۔
وَاَمَّا عَادٌ فَاُہۡلِکُوۡا بِرِیۡحٍ صَرۡصَرٍ عَاتِیَۃٍ ۙ﴿۶﴾
رہے عاد تو انھیں کر دیا گیا آندھی سے جو سرد ، بے تند تھی ۔
سَخَّرَہَا عَلَیۡہِمۡ سَبۡعَ لَیَالٍ وَّثَمٰنِیَۃَ اَیَّامٍ ۙ حُسُوۡمًا ۙ فَتَرَی الۡقَوۡمَ فِیۡہَا صَرۡعٰی ۙ کَاَنَّہُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ خَاوِیَۃٍ ۚ﴿۷﴾
اللہ نے کر دیا اسے ان پر ( مسلسل ) سات اور آٹھ تک جو جڑوں سے اکھیڑنے والی تھی ۔ تو تُو دیکھتا قوم عاد کو ان دنوں کہ وہ گرے پڑے ہیں گویا وہ مڈھ ہیں کھوکھلی کے ۔
فَہَلۡ تَرٰی لَہُمۡ مِّنۡۢ بَاقِیَۃٍ ﴿۸﴾
کیا تمہیں نظر آتا ہے ان کا کوئی ماندہ فرد ۔
وَجَآءَ فِرۡعَوۡنُ وَمَنۡ قَبۡلَہٗ وَالۡمُؤۡتَفِکٰتُ بِالۡخَاطِئَۃِ ۚ﴿۹﴾
اور فرعون اور جو اس سے تھے اور الٹائی جانے والی بستیوں کے باشندوں نے غلطی کا ارتکاب کیا ۔
فَعَصَوۡا رَسُوۡلَ رَبِّہِمۡ فَاَخَذَہُمۡ اَخۡذَۃً رَّابِیَۃً ﴿۱۰﴾
پس انھوں نے کی اپنے رب کے رسولوں کی تو اللہ نے پکڑ لیا انھیں بڑی سے ۔
اِنَّا لَمَّا طَغَا الۡمَآءُ حَمَلۡنٰکُمۡ فِی الۡجَارِیَۃِ ﴿ۙ۱۱﴾
ہم نے جب سیلاب سے گزر گیا تو تمہیں کشتیوں میں کر دیا ۔
لِنَجۡعَلَہَا لَکُمۡ تَذۡکِرَۃً وَّتَعِیَہَاۤ اُذُنٌ وَّاعِیَۃٌ ﴿۱۲﴾
تاکہ ہم بنا دیں اس واقعہ کو تمہارے لیے یادگار اور محفوظ رکھیں اسے رکھنے والے کان ۔
فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوۡرِ نَفۡخَۃٌ وَّاحِدَۃٌ ﴿ۙ۱۳﴾
پھر جب مار دی جائے گی صور میں ایک بار ۔
وَّحُمِلَتِ الۡاَرۡضُ وَالۡجِبَالُ فَدُکَّتَا دَکَّۃً وَّاحِدَۃً ﴿ۙ۱۴﴾
اور اور پہاڑوں کو اٹھا کر دفعۃً چور چور کر دیا جائے گا ۔
فَیَوۡمَئِذٍ وَّقَعَتِ الۡوَاقِعَۃُ ﴿ۙ۱۵﴾
تو اس روز ہونے والا واقعہ ہو جائے گا ۔
وَانۡشَقَّتِ السَّمَآءُ فَہِیَ یَوۡمَئِذٍ وَّاہِیَۃٌ ﴿ۙ۱۶﴾
اور پھٹ پڑے گا تو وہ اس بالکل بودا ہو گا ۔
وَّالۡمَلَکُ عَلٰۤی اَرۡجَآئِہَا ؕ وَیَحۡمِلُ عَرۡشَ رَبِّکَ فَوۡقَہُمۡ یَوۡمَئِذٍ ثَمٰنِیَۃٌ ﴿ؕ۱۷﴾
اور فرشتے اس کے کناروں پر کر دیے جائیں گے اور آپ کے رب کے عرش کو اس روز اپنے اوپر آٹھ فرشتوں نے اٹھا رکھا ہو گا ۔
یَوۡمَئِذٍ تُعۡرَضُوۡنَ لَا تَخۡفٰی مِنۡکُمۡ خَافِیَۃٌ ﴿۱۸﴾
وہ جب تم کیے جاؤ گے تمہارا کوئی راز پوشیدہ نہ رہے گا ۔
فَاَمَّا مَنۡ اُوۡتِیَ کِتٰبَہٗ بِیَمِیۡنِہٖ ۙ فَیَقُوۡلُ ہَآؤُمُ اقۡرَءُوۡا کِتٰبِیَہۡ ﴿ۚ۱۹﴾
پس جس کو دے دیا گیا اس کا نامہ عمل دائیں میں تو وہ ( فرط مسرت سے ) کہے گا لو پڑھو میرا نامہ عمل ۔
اِنِّیۡ ظَنَنۡتُ اَنِّیۡ مُلٰقٍ حِسَابِیَہۡ ﴿ۚ۲۰﴾
مجھے تھا کہ میں اپنے حساب کو پہنچوں گا ۔
فَہُوَ فِیۡ عِیۡشَۃٍ رَّاضِیَۃٍ ﴿ۙ۲۱﴾
پس یہ ( نصیب ) پسندیدہ زندگی بسر کرے گا ۔
فِیۡ جَنَّۃٍ عَالِیَۃٍ ﴿ۙ۲۲﴾
عالیشان میں ۔
قُطُوۡفُہَا دَانِیَۃٌ ﴿۲۳﴾
جس کے جھکے ہوں گے ۔
کُلُوۡا وَاشۡرَبُوۡا ہَنِیۡٓـئًۢا بِمَاۤ اَسۡلَفۡتُمۡ فِی الۡاَیَّامِ الۡخَالِیَۃِ ﴿۲۴﴾
۔( اذن ملے گا ) کھاؤ اور پیو مزے اڑاؤ ، یہ ان کا اجر ہے جو تم نے آگے بھیج دیے گزشتہ دنوں میں ۔
وَاَمَّا مَنۡ اُوۡتِیَ کِتٰبَہٗ بِشِمَالِہٖ ۬ ۙ فَیَقُوۡلُ یٰلَیۡتَنِیۡ لَمۡ اُوۡتَ کِتٰبِیَہۡ ﴿ۚ۲۵﴾
اور جس کو دیا جائے گا اس کا نامہ عمل بائیں میں ، وہ کہے گا اے کاش ! مجھے نہ دیا جاتا میرا نامہ عمل ۔
وَلَمۡ اَدۡرِ مَاحِسَابِیَہۡ ﴿ۚ۲۶﴾
اور میں نہ جانتا میرا حساب کیا ہے ۔
یٰلَیۡتَہَا کَانَتِ الۡقَاضِیَۃَ ﴿ۚ۲۷﴾
اے کاش ! موت نے ہی ( میرا ) قصہ کر دیا ہوتا ۔
مَاۤ اَغۡنٰی عَنِّیۡ مَالِیَہۡ ﴿ۚ۲۸﴾
آج میرا میرے کسی نہ آیا ۔
ہَلَکَ عَنِّیۡ سُلۡطٰنِیَہۡ ﴿ۚ۲۹﴾
میری بھی فنا ہو گئی ۔
خُذُوۡہُ فَغُلُّوۡہُ ﴿ۙ۳۰﴾
۔( فرشتوں کو ہو گا ) پکڑ لو اس کو اور اس کی میں ڈال دو ۔
ثُمَّ الۡجَحِیۡمَ صَلُّوۡہُ ﴿ۙ۳۱﴾
پھر اسے میں جھونک دو ۔
ثُمَّ فِیۡ سِلۡسِلَۃٍ ذَرۡعُہَا سَبۡعُوۡنَ ذِرَاعًا فَاسۡلُکُوۡہُ ﴿ؕ۳۲﴾
پھر ستر گز لمبے زنجیر میں اس کو جکڑ دو ۔
اِنَّہٗ کَانَ لَا یُؤۡمِنُ بِاللّٰہِ الۡعَظِیۡمِ ﴿ۙ۳۳﴾
بیشک یہ ( بدبخت ) ایمان نہیں لایا تھا اللہ پر جو ( و برتر ) ہے ۔
وَلَا یَحُضُّ عَلٰی طَعَامِ الۡمِسۡکِیۡنِ ﴿ؕ۳۴﴾
اور نہ ترغیب دیتا تھا مسکین کو کھلانے کی ۔
فَلَیۡسَ لَہُ الۡیَوۡمَ ہٰہُنَا حَمِیۡمٌ ﴿ۙ۳۵﴾
پس آج یہاں اس کا کوئی نہیں ۔
وَّلَا طَعَامٌ اِلَّا مِنۡ غِسۡلِیۡنٍ ﴿ۙ۳۶﴾
اور نہ کوئی طعام بجز کے ۔
لَّا یَاۡکُلُہٗۤ اِلَّا الۡخَاطِئُوۡنَ ﴿٪۳۷﴾ 5
جسے کوئی نہیں کھاتا بجز خطاکاروں کے ۔
فَلَاۤ اُقۡسِمُ بِمَا تُبۡصِرُوۡنَ ﴿ۙ۳۸﴾
پس میں کھاتا ہوں ان چیزوں کی جنہیں تم دیکھتے ہو ۔
وَمَا لَا تُبۡصِرُوۡنَ ﴿ۙ۳۹﴾
اور جنہیں تم نہیں دیکھتے ۔
اِنَّہٗ لَقَوۡلُ رَسُوۡلٍ کَرِیۡمٍ ﴿۴۰﴾ۚ ۙ
بیشک یہ قول ہے ایک والے رسول کا ۔
وَّمَا ہُوَ بِقَوۡلِ شَاعِرٍ ؕ قَلِیۡلًا مَّا تُؤۡمِنُوۡنَ ﴿ۙ۴۱﴾
اور یہ کسی شاعر کا کلام نہیں ( لیکن ) تم بہت ایمان لاتے ہو ۔
وَلَا بِقَوۡلِ کَاہِنٍ ؕ قَلِیۡلًا مَّا تَذَکَّرُوۡنَ ﴿ؕ۴۲﴾
اور نہ ہی یہ کسی کاہن کا قول ہے ۔ تم لوگ بہت توجہ کرتے ہو ۔
تَنۡزِیۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۴۳﴾
بلکہ یہ نازل شدہ ہے رب العالمین کا ۔
وَلَوۡ تَقَوَّلَ عَلَیۡنَا بَعۡضَ الۡاَقَاوِیۡلِ ﴿ۙ۴۴﴾
اگر وہ خود گھڑ کر بعض باتیں ہماری طرف منسوب کرتا
لَاَخَذۡنَا مِنۡہُ بِالۡیَمِیۡنِ ﴿ۙ۴۵﴾
تو ہم اس کا دایاں پکڑ لیتے
ثُمَّ لَقَطَعۡنَا مِنۡہُ الۡوَتِیۡنَ ﴿۴۶﴾۫ ۖ
پھر ہم کاٹ دیتے اس کی رگ ۔
فَمَا مِنۡکُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ عَنۡہُ حٰجِزِیۡنَ ﴿۴۷﴾
پھر تم میں سے کوئی بھی ( ہمیں ) اس سے روکنے والا نہ ہوتا ۔
وَاِنَّہٗ لَتَذۡکِرَۃٌ لِّلۡمُتَّقِیۡنَ ﴿۴۸﴾
اور بیشک یہ تو ایک ہے پرہیزگاروں کے لیے ۔
وَاِنَّا لَنَعۡلَمُ اَنَّ مِنۡکُمۡ مُّکَذِّبِیۡنَ ﴿۴۹﴾
اور ہم خوب جانتے ہیں کہ تم میں سے بعض جھٹلانے والے ہیں ۔
وَاِنَّہٗ لَحَسۡرَۃٌ عَلَی الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۵۰﴾
اور یہ باعث حسرت ہو گی کفار کے لیے ۔
وَاِنَّہٗ لَحَقُّ الۡیَقِیۡنِ ﴿۵۱﴾
اور بیشک یہ یقیناً حق ہے ۔
فَسَبِّحۡ بِاسۡمِ رَبِّکَ الۡعَظِیۡمِ ﴿۵۲﴾٪ 6
پس ( اے حبیب ! ) آپ تسبیح کیا کریں اپنے رب کی جو عظمت والا ہے ۔