ہَلۡ اَتٰی عَلَی الۡاِنۡسَانِ حِیۡنٌ مِّنَ الدَّہۡرِ لَمۡ یَکُنۡ شَیۡئًا مَّذۡکُوۡرًا ﴿۱﴾
بیشک گزرا ہے پر میں ایک ایسا جبکہ یہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا ۔
Man
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ ﴿١﴾
In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
ہَلۡ اَتٰی عَلَی الۡاِنۡسَانِ حِیۡنٌ مِّنَ الدَّہۡرِ لَمۡ یَکُنۡ شَیۡئًا مَّذۡکُوۡرًا ﴿۱﴾
بیشک گزرا ہے پر میں ایک ایسا جبکہ یہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا ۔
اِنَّا خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ مِنۡ نُّطۡفَۃٍ اَمۡشَاجٍ ٭ۖ نَّبۡتَلِیۡہِ فَجَعَلۡنٰہُ سَمِیۡعًۢا بَصِیۡرًا ﴿۲﴾
بلاشبہ ہم ہی نے کو فرمایا ایک مخلوط نطفہ سے تاکہ ہم اس کو آزمائیں پس ( اس غرض سے ) ہم نے بنا دیا ہے اس کو سننے والا ، دیکھنے والا ۔
اِنَّا ہَدَیۡنٰہُ السَّبِیۡلَ اِمَّا شَاکِرًا وَّاِمَّا کَفُوۡرًا ﴿۳﴾
ہم نے اسے دکھایا ہے ( اپنا ) اب چاہے شکر گزار بنے چاہے فراموش ۔
اِنَّاۤ اَعۡتَدۡنَا لِلۡکٰفِرِیۡنَ سَلٰسِلَا۠ وَاَغۡلٰلًا وَّسَعِیۡرًا ﴿۴﴾
بیشک ہم نے بالکل کر رکھی ہیں کفار کے لیے ، اور بھڑکتی ۔
اِنَّ الۡاَبۡرَارَ یَشۡرَبُوۡنَ مِنۡ کَاۡسٍ کَانَ مِزَاجُہَا کَافُوۡرًا ۚ﴿۵﴾
بیشک لوگ پئیں گے ( کے ) ایسے جام میں آب کافور کی آمیزش ہو گی ۔
عَیۡنًا یَّشۡرَبُ بِہَا عِبَادُ اللّٰہِ یُفَجِّرُوۡنَہَا تَفۡجِیۡرًا ﴿۶﴾
۔( کافور ) ایک ہے جس سے اللہ کے ( وہ ) خاص بندے پئیں گے اور جہاں چاہیں گے اسے بہا کر لے جائیں گے ۔
یُوۡفُوۡنَ بِالنَّذۡرِ وَیَخَافُوۡنَ یَوۡمًا کَانَ شَرُّہٗ مُسۡتَطِیۡرًا ﴿۷﴾
جو پوری کرتے ہیں اپنی منتیں اور ڈرتے ہیں اس سے جس کا شر ہر سو پھیلا ہو گا ۔
وَیُطۡعِمُوۡنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ مِسۡکِیۡنًا وَّیَتِیۡمًا وَّاَسِیۡرًا ﴿۸﴾
اور جو کھلاتے ہیں اللہ کی میں مسکین ، یتیم اور قیدی کو ۔
اِنَّمَا نُطۡعِمُکُمۡ لِوَجۡہِ اللّٰہِ لَا نُرِیۡدُ مِنۡکُمۡ جَزَآءً وَّلَا شُکُوۡرًا ﴿۹﴾
۔( اور کہتے ہیں ) ہم نہیں کھلاتے ہیں اللہ کی رضا کے لیے نہ ہم تم سے کسی اجر کے خواہاں ہیں اور نہ شکریہ کے ۔
اِنَّا نَخَافُ مِنۡ رَّبِّنَا یَوۡمًا عَبُوۡسًا قَمۡطَرِیۡرًا ﴿۱۰﴾
ہم ڈرتے ہیں اپنے رب سے اس کے لیے جو بڑا ترش ( اور ) ہے ۔
فَوَقٰہُمُ اللّٰہُ شَرَّ ذٰلِکَ الۡیَوۡمِ وَلَقّٰہُمۡ نَضۡرَۃً وَّسُرُوۡرًا ﴿ۚ۱۱﴾
پس بچا لے گا انھیں اللہ تعالیٰ اس کے شر سے اور بخش دے گا انھیں چہروں کی تازگی اور دلوں کا سرور ۔
وَجَزٰىہُمۡ بِمَا صَبَرُوۡا جَنَّۃً وَّحَرِیۡرًا ﴿ۙ۱۲﴾
اور مرحمت فرمائے گا انھیں کے بدلے اور ریشمی لباس ۔
مُّتَّکِئِیۡنَ فِیۡہَا عَلَی الۡاَرَآئِکِ ۚ لَا یَرَوۡنَ فِیۡہَا شَمۡسًا وَّلَا زَمۡہَرِیۡرًا ﴿ۚ۱۳﴾
وہاں پلنگوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے ۔ نہ نظر آئے گی انھیں وہاں سورج کی تپش اور نہ ٹھرن ۔
وَدَانِیَۃً عَلَیۡہِمۡ ظِلٰلُہَا وَذُلِّلَتۡ قُطُوۡفُہَا تَذۡلِیۡلًا ﴿۱۴﴾
اور قریب ہوں گے ان سے اس کے درختوں کے سائے اور میووں کے گچھے جھکے ہوئے لٹک رہے ہوں گے ۔
وَیُطَافُ عَلَیۡہِمۡ بِاٰنِیَۃٍ مِّنۡ فِضَّۃٍ وَّاَکۡوَابٍ کَانَتۡ قَؔوَارِیۡرَا۠ ﴿ۙ۱۵﴾
اور گردش میں ہوں گے ان کے چاندی کے ظروف اور کے چمکدار گلاس ۔
قَؔوَارِیۡرَا۠ مِنۡ فِضَّۃٍ قَدَّرُوۡہَا تَقۡدِیۡرًا ﴿۱۶﴾
۔( اور ) شیشے بھی وہ جو چاندی کی کے ہوں گے ۔ ساقیوں نے انھیں پورے سے بھرا ہو گا ۔
وَیُسۡقَوۡنَ فِیۡہَا کَاۡسًا کَانَ مِزَاجُہَا زَنۡجَبِیۡلًا ﴿ۚ۱۷﴾
اور انھیں پلائے جائیں گے وہاں ( ایسی کے ) جام جس میں زنجبیل کی آمیزش ہو گی ۔
عَیۡنًا فِیۡہَا تُسَمّٰی سَلۡسَبِیۡلًا ﴿۱۸﴾
۔( یہ زنجبیل ) میں ایک ہے جس کو سلسبیل کہا جاتا ہے ۔
وَیَطُوۡفُ عَلَیۡہِمۡ وِلۡدَانٌ مُّخَلَّدُوۡنَ ۚ اِذَا رَاَیۡتَہُمۡ حَسِبۡتَہُمۡ لُؤۡلُؤًا مَّنۡثُوۡرًا ﴿۱۹﴾
اور چکر لگاتے رہیں گے ان کی خدمت میں ایسے بچے جو ایک ہی پر رہیں گے جب تو انھیں دیکھے تو یوں سجھے گویا یہ موتی ہیں جو بکھر گئے ہیں ۔
وَاِذَا رَاَیۡتَ ثَمَّ رَاَیۡتَ نَعِیۡمًا وَّمُلۡکًا کَبِیۡرًا ﴿۲۰﴾
اور جدھر بھی تم وہاں دیکھو گے تمہیں نعمتیں ہی نعمتیں اور وسیع مملکت نظر آئے گی ۔
عٰلِیَہُمۡ ثِیَابُ سُنۡدُسٍ خُضۡرٌ وَّاِسۡتَبۡرَقٌ ۫ وَّحُلُّوۡۤا اَسَاوِرَ مِنۡ فِضَّۃٍ ۚ وَسَقٰہُمۡ رَبُّہُمۡ شَرَابًا طَہُوۡرًا ﴿۲۱﴾
ان کے اوپر لباس ہو گا باریک سبز ریشم کا ( بنا ) اور اطلس کا اور انھیں چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے اور پلائے گا انھیں ان کا پروردگار نہایت پاکیزہ ۔
اِنَّ ہٰذَا کَانَ لَکُمۡ جَزَآءً وَّکَانَ سَعۡیُکُمۡ مَّشۡکُوۡرًا ﴿۲۲﴾٪ 19
۔( انہیں کہا جائے گا ) یہ تمہارا صلہ ہے اور ( مبارک ہو ) تمہاری کوششیں مقبول ہوئیں ۔
اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا عَلَیۡکَ الۡقُرۡاٰنَ تَنۡزِیۡلًا ﴿ۚ۲۳﴾
ہم نے ہی ( اے حبیب ! ) آپ پر تھوڑا کر کے کلام نازل کیا ۔
فَاصۡبِرۡ لِحُکۡمِ رَبِّکَ وَلَا تُطِعۡ مِنۡہُمۡ اٰثِمًا اَوۡ کَفُوۡرًا ﴿ۚ۲۴﴾
اور اپنے رب کے کا کیجیے اور نہ کہنا مانیے ان میں سے کسی بدکار یا فراموش کا ۔
وَاذۡکُرِ اسۡمَ رَبِّکَ بُکۡرَۃً وَّاَصِیۡلًا ﴿۲۵﴾ۖ ۚ
اور کرتے رہا کرو اپنے رب کے کو صبح بھی اور بھی ۔
وَمِنَ الَّیۡلِ فَاسۡجُدۡ لَہٗ وَسَبِّحۡہُ لَیۡلًا طَوِیۡلًا ﴿۲۶﴾
اور ( کی تنہائیوں میں ) بھی اس کو سجدہ کیا کیجیے اور اس کی تسبیح کیا کیجیے ۔
اِنَّ ہٰۤؤُلَآءِ یُحِبُّوۡنَ الۡعَاجِلَۃَ وَیَذَرُوۡنَ وَرَآءَہُمۡ یَوۡمًا ثَقِیۡلًا ﴿۲۷﴾
بیشک یہ لوگ سے کرتے ہیں اور پس ڈال رکھا ہے انھوں نے بڑے کو ۔
نَحۡنُ خَلَقۡنٰہُمۡ وَشَدَدۡنَاۤ اَسۡرَہُمۡ ۚ وَاِذَا شِئۡنَا بَدَّلۡنَاۤ اَمۡثَالَہُمۡ تَبۡدِیۡلًا ﴿۲۸﴾
ہم نے ہی ان کو کیا ہے اور ان کے جوڑ کیے ہیں اور جب ہم چاہیں تو ان کی شکلوں کو کر رکھ دیں ۔
اِنَّ ہٰذِہٖ تَذۡکِرَۃٌ ۚ فَمَنۡ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰی رَبِّہٖ سَبِیۡلًا ﴿۲۹﴾
بیشک یہ ایک ہے ۔ پس جس کا جی چاہے کر لے اپنے رب کے قرب کا ۔
وَمَا تَشَآءُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ یَّشَآءَ اللّٰہُ ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیۡمًا حَکِیۡمًا ﴿٭ۖ۳۰﴾
اور ( اے لوگو ! ) تم کچھ بھی نہیں چاہ سکتے بجز اس کے کہ اللہ خود چاہے بیشک اللہ تعالیٰ علیم ہے ، حکیم ہے ۔
یُّدۡخِلُ مَنۡ یَّشَآءُ فِیۡ رَحۡمَتِہٖ ؕ وَالظّٰلِمِیۡنَ اَعَدَّ لَہُمۡ عَذَابًا اَلِیۡمًا ﴿٪۳۱﴾ 20
جس کو چاہتا ہے اپنے ( دامنِ ) رحمت میں کر لیتا ہے اور ظالموں کے لیے تو اس نے کر رکھا ہے دردناک ۔