حٰمٓ ۚ﴿۱﴾
حا ۔ میم ۔
The Forgiver
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ ﴿١﴾
In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
حٰمٓ ۚ﴿۱﴾
حا ۔ میم ۔
تَنۡزِیۡلُ الۡکِتٰبِ مِنَ اللّٰہِ الۡعَزِیۡزِ الۡعَلِیۡمِ ۙ﴿۲﴾
اتاری گئی ہے یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ، جو زبردست ہے سب کچھ جاننے والا ہے ۔
غَافِرِ الذَّنۡۢبِ وَقَابِلِ التَّوۡبِ شَدِیۡدِ الۡعِقَابِ ۙ ذِی الطَّوۡلِ ؕ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ؕ اِلَیۡہِ الۡمَصِیۡرُ ﴿۳﴾
گناہ بخشنے والا اور توبہ فرمانے والا سزا دینے والا فضل و کرم فرمانے والا ہے نہیں کوئی معبود اس کے سوا اسی کی طرف ( سب نے ) لوٹنا ہے ۔
مَایُجَادِلُ فِیۡۤ اٰیٰتِ اللّٰہِ اِلَّا الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا فَلَا یَغۡرُرۡکَ تَقَلُّبُہُمۡ فِی الۡبِلَادِ ﴿۴﴾
نہیں تنازعہ کیا کرتے اللہ کی آیتوں میں مگر کافر پس نہ دھوکہ میں ڈالے تمہیں ان لوگوں کا ( بڑے کرّو فر سے ) آنا جانا شہروں میں ۔
کَذَّبَتۡ قَبۡلَہُمۡ قَوۡمُ نُوۡحٍ وَّالۡاَحۡزَابُ مِنۡ ۢ بَعۡدِہِمۡ ۪ وَہَمَّتۡ کُلُّ اُمَّۃٍۭ بِرَسُوۡلِہِمۡ لِیَاۡخُذُوۡہُ وَجٰدَلُوۡا بِالۡبَاطِلِ لِیُدۡحِضُوۡا بِہِ الۡحَقَّ فَاَخَذۡتُہُمۡ ۟ فَکَیۡفَ کَانَ عِقَابِ ﴿۵﴾
جھٹلایا تھا ان سے قوم نوح نے اور کئی ( دوسرے ) گروہوں نے ان کے بعد ۔ اور قصد کیا ہر امت نے اپنے رسول کے متعلق کہ اسے گرفتار کر لیں اور جھگڑتے رہے ( اس کے ساتھ ) ناحق ۔ تاکہ جھٹلا دیں اس کے حق کو ۔ پس میں نے پکڑ لیا انہیں ۔ پس کتنا شدید تھا میرا ۔
وَکَذٰلِکَ حَقَّتۡ کَلِمَتُ رَبِّکَ عَلَی الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اَنَّہُمۡ اَصۡحٰبُ النَّارِ ۘ﴿ؔ۶﴾
اور اسی طرح واجب ہو گیا اللہ کا کفار پر کہ وہ دوزخی ہیں ۔
اَلَّذِیۡنَ یَحۡمِلُوۡنَ الۡعَرۡشَ وَمَنۡ حَوۡلَہٗ یُسَبِّحُوۡنَ بِحَمۡدِ رَبِّہِمۡ وَیُؤۡمِنُوۡنَ بِہٖ وَیَسۡتَغۡفِرُوۡنَ لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ۚ رَبَّنَا وَسِعۡتَ کُلَّ شَیۡءٍ رَّحۡمَۃً وَّعِلۡمًا فَاغۡفِرۡ لِلَّذِیۡنَ تَابُوۡا وَاتَّبَعُوۡا سَبِیۡلَکَ وَقِہِمۡ عَذَابَ الۡجَحِیۡمِ ﴿۷﴾
جو فرشتے اٹھائے ہوئے ہیں عرش کو اور وہ جو عرش کے اردگرد ( حلقہ زن ) ہیں وہ تسبیح کرتے ہیں حمد کے ساتھ اپنے رب کی اور ایمان رکھتے ہیں اس پر اور استغفار کیا کرتے ہیں ایمان والوں کے لیے ( کہتے ہیں ) اے ہمارے رب ! تو گھیرے ہوئے ہے ہر شے کو ( اپنی ) رحمت اور علم سے پس بخش دے انھیں جنہوں نے ( کفر سے ) توبہ کی ہے اور پیروی کی ہے تیرے کی اور بچا لے انھیں جہنم سے ۔
رَبَّنَا وَاَدۡخِلۡہُمۡ جَنّٰتِ عَدۡنِ ۣ الَّتِیۡ وَعَدۡتَّہُمۡ وَمَنۡ صَلَحَ مِنۡ اٰبَآئِہِمۡ وَاَزۡوَاجِہِمۡ وَذُرِّیّٰتِہِمۡ ؕ اِنَّکَ اَنۡتَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ۙ﴿۸﴾
اے ہمارے رب ! فرما انھیں سدا بہار باغوں میں کا تو نے ان سے وعدہ فرمایا ہے اور جو قابل بخشش ہیں ان کے والدین ، ان کی بیویوں اور ان کی سے ۔ بیشک تو ہی سب سے زبردست ( اور ) حکمت والا ہے ۔
وَقِہِمُ السَّیِّاٰتِ ؕ وَمَنۡ تَقِ السَّیِّاٰتِ یَوۡمَئِذٍ فَقَدۡ رَحِمۡتَہٗ ؕ وَذٰلِکَ ہُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِیۡمُ ٪﴿۹﴾ 6
اور بچا لے انھیں سزاؤں سے اور جس کو تو بچا لے سزاؤں سے اس تو گویا تو نے بڑی رحمت فرمائی اس پر ، اور یہی ہے بہت بڑی کامیابی ۔
اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا یُنَادَوۡنَ لَمَقۡتُ اللّٰہِ اَکۡبَرُ مِنۡ مَّقۡتِکُمۡ اَنۡفُسَکُمۡ اِذۡ تُدۡعَوۡنَ اِلَی الۡاِیۡمَانِ فَتَکۡفُرُوۡنَ ﴿۱۰﴾
بیشک لوگوں نے کفر کیا انھیں ندا دی جائے گی کہ اللہ تعالیٰ کی ( تم سے ) بیزاری بہت ہے اس بیزاری سے جو تمہیں اپنے آپ سے ہے ( ہے ) جب تم بلائے جاتے ایمان کی طرف تو تم کفر کیا کرتے ۔
قَالُوۡا رَبَّنَاۤ اَمَتَّنَا اثۡنَتَیۡنِ وَاَحۡیَیۡتَنَا اثۡنَتَیۡنِ فَاعۡتَرَفۡنَا بِذُنُوۡبِنَا فَہَلۡ اِلٰی خُرُوۡجٍ مِّنۡ سَبِیۡلٍ ﴿۱۱﴾
وہ کہیں گے اے ہمارے رب ! تو نے ہمیں دو مرتبہ موت دی اور دو مرتبہ کیا ، پس اب ہم اعتراف کرتے ہیں اپنے گناہوں کا ۔ سو کیا ( یہاں سے ) نکلنے کی بھی کوئی ہے ۔
ذٰلِکُمۡ بِاَنَّہٗۤ اِذَا دُعِیَ اللّٰہُ وَحۡدَہٗ کَفَرۡتُمۡ ۚ وَاِنۡ یُّشۡرَکۡ بِہٖ تُؤۡمِنُوۡا ؕ فَالۡحُکۡمُ لِلّٰہِ الۡعَلِیِّ الۡکَبِیۡرِ ﴿۱۲﴾
اس کی وجہ یہ تھی کہ جب پکارا جاتا اللہ تعالیٰ کو تو تم کر دیتے اور اگر بنایا جاتا کسی کو اس کا تو تم مان لیتے پس کا اللہ کے لیے ہے جو برتر اور ہے ۔
ہُوَ الَّذِیۡ یُرِیۡکُمۡ اٰیٰتِہٖ وَیُنَزِّلُ لَکُمۡ مِّنَ السَّمَآءِ رِزۡقًا ؕ وَمَا یَتَذَکَّرُ اِلَّا مَنۡ یُّنِیۡبُ ﴿۱۳﴾
اور وہی ہے جو دکھاتا ہے تمہیں اپنی آیتیں اور نازل فرماتا ہے تمہارے لیے سے رزق اور نہیں کرتا مگر وہ جو ( اللہ کی طرف ) کرنے والا ہے ۔
فَادۡعُوا اللّٰہَ مُخۡلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ وَلَوۡ کَرِہَ الۡکٰفِرُوۡنَ ﴿۱۴﴾
تو کرو اللہ تعالیٰ کی خالص کرتے ہوئے اس کے لیے کو اگرچہ ناپسند کریں کفار ۔
رَفِیۡعُ الدَّرَجٰتِ ذُو الۡعَرۡشِ ۚ یُلۡقِی الرُّوۡحَ مِنۡ اَمۡرِہٖ عَلٰی مَنۡ یَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِہٖ لِیُنۡذِرَ یَوۡمَ التَّلَاقِ ﴿ۙ۱۵﴾
بلند درجات پر فائز کرنے والا ، عرش کا نازل فرماتا ہے وحی اپنے فضل سے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے تاکہ وہ ڈرائے ملاقات کے سے ۔
یَوۡمَ ہُمۡ بٰرِزُوۡنَ ۬ ۚ لَا یَخۡفٰی عَلَی اللّٰہِ مِنۡہُمۡ شَیۡءٌ ؕ لِمَنِ الۡمُلۡکُ الۡیَوۡمَ ؕ لِلّٰہِ الۡوَاحِدِ الۡقَہَّارِ ﴿۱۶﴾
وہ جب وہ ہوں گے پوشیدہ نہ ہو گی اللہ تعالیٰ پر ان کے حالات سے کوئی شے ، کس کی ہے آج ؟ ( کسی کی نہیں ) صرف اللہ کی جو واحد ( اور ) قہار ہے ۔
اَلۡیَوۡمَ تُجۡزٰی کُلُّ نَفۡسٍ ۢ بِمَا کَسَبَتۡ ؕ لَا ظُلۡمَ الۡیَوۡمَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ سَرِیۡعُ الۡحِسَابِ ﴿۱۷﴾
آج دیا جائے گا ہر نفس کو جو اس نے کمایا تھا ۔ ذرا ظلم نہیں ہو گا آج ، بیشک اللہ تعالیٰ بہت تیزی سے حساب لینے والا ہے ۔
وَاَنۡذِرۡہُمۡ یَوۡمَ الۡاٰزِفَۃِ اِذِ الۡقُلُوۡبُ لَدَی الۡحَنَاجِرِ کٰظِمِیۡنَ ۬ ؕ مَالِلظّٰلِمِیۡنَ مِنۡ حَمِیۡمٍ وَّلَا شَفِیۡعٍ یُّطَاعُ ﴿ؕ۱۸﴾
اور آپ ڈرائیے انھیں قریب آنے والے سے جب کہ گلے میں اٹک جائیں گے خوف و دہشت سے بھرے ہوئے نہ ہو گا ظالموں کے لیے کوئی اور نہ ایسا سفارشی جس کی سفارش مانی جائے ۔
یَعۡلَمُ خَآئِنَۃَ الۡاَعۡیُنِ وَمَا تُخۡفِی الصُّدُوۡرُ ﴿۱۹﴾
وہ جانتا ہے کرنے والی آنکھوں کو اور ان باتوں کو جنہیں سینے چھپائے ہوئے ہیں ۔
وَاللّٰہُ یَقۡضِیۡ بِالۡحَقِّ ؕ وَالَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِہٖ لَا یَقۡضُوۡنَ بِشَیۡءٍ ؕ اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡبَصِیۡرُ ﴿٪۲۰﴾ 7
اور اللہ فرمائے گا حق کے ساتھ اور جنہیں وہ اللہ کے بغیر پکارتے ہیں وہ کسی چیز کا نہیں کر سکتے ۔ بیشک اللہ تعالیٰ ہی سب کچھ سننے والا ( اور ) سب کچھ دیکھنے والا ہے ۔
اَوَ لَمۡ یَسِیۡرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ فَیَنۡظُرُوۡا کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیۡنَ کَانُوۡا مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ؕ کَانُوۡا ہُمۡ اَشَدَّ مِنۡہُمۡ قُوَّۃً وَّاٰثَارًا فِی الۡاَرۡضِ فَاَخَذَہُمُ اللّٰہُ بِذُنُوۡبِہِمۡ ؕ وَمَا کَانَ لَہُمۡ مِّنَ اللّٰہِ مِنۡ وَّاقٍ ﴿۲۱﴾
کیا انھوں نے سیر و سیاحت نہیں کی میں تاکہ وہ دیکھتے کہ کیا ان لوگوں کا جو ان سے تھے وہ کے سے بھی ان سے طاقتور تھے اور میں ( چھوڑے ہوئے ) آثار کے سے بھی ۔ تو پکڑ لیا انھیں اللہ تعالیٰ نے ان کے گناہوں کے باعث اور نہیں تھا ان کے لیے اللہ سے کوئی بچانے والا ۔
ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ کَانَتۡ تَّاۡتِیۡہِمۡ رُسُلُہُمۡ بِالۡبَیِّنٰتِ فَکَفَرُوۡا فَاَخَذَہُمُ اللّٰہُ ؕ اِنَّہٗ قَوِیٌّ شَدِیۡدُ الۡعِقَابِ ﴿۲۲﴾
یہ اس لیے کہ لے کر آتے رہے ان کے ان کے رسول روشن نشانیاں تو انھوں نے ( ہر بار ) ماننے سے کر دیا ، پس پکڑ لیا انھیں اللہ نے ۔ بیشک وہ بڑا طاقتور سزا دینے والا ہے ۔
وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا مُوۡسٰی بِاٰیٰتِنَا وَسُلۡطٰنٍ مُّبِیۡنٍ ﴿ۙ۲۳﴾
اور بیشک بھیجا ہم نے موسیٰ ( علیہ السلام ) کو اپنی نشانیوں اور روشن سند کے ساتھ ۔
اِلٰی فِرۡعَوۡنَ وَہَامٰنَ وَقَارُوۡنَ فَقَالُوۡا سٰحِرٌ کَذَّابٌ ﴿۲۴﴾
فرعون ، ہامان اور قارون کی طرف تو انھوں نے کہا ( یہ ) جادوگر ہے بڑا جھوٹا ہے ۔
فَلَمَّا جَآءَہُمۡ بِالۡحَقِّ مِنۡ عِنۡدِنَا قَالُوا اقۡتُلُوۡۤا اَبۡنَآءَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَہٗ وَاسۡتَحۡیُوۡا نِسَآءَہُمۡ ؕ وَمَا کَیۡدُ الۡکٰفِرِیۡنَ اِلَّا فِیۡ ضَلٰلٍ ﴿۲۵﴾
پھر جب موسیٰ لے کر آئے ان لوگوں کے حق ہمارے ہاں سے ۔ تو انھوں نے کہا کہ کر ڈالو ان لوگوں کے بچوں کو جو ان کے ساتھ ایمان لائے اور چھوڑ دو ان کی لڑکیوں کو اور نہیں ہے کافروں کا ہر مکر مگر رائیگاں ۔
وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ذَرُوۡنِیۡۤ اَقۡتُلۡ مُوۡسٰی وَلۡیَدۡعُ رَبَّہٗ ۚ اِنِّیۡۤ اَخَافُ اَنۡ یُّبَدِّلَ دِیۡنَکُمۡ اَوۡ اَنۡ یُّظۡہِرَ فِی الۡاَرۡضِ الۡفَسَادَ ﴿۲۶﴾
اور فرعون نے ( جھنجھلا کر ) کہا مجھے چھوڑ دو میں موسیٰ کو کروں اور وہ بلائے اپنے رب کو ( اپنی کے لیے ) مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں وہ تمہارا نہ دے یا نہ پھیلا دے ملک میں ۔
وَقَالَ مُوۡسٰۤی اِنِّیۡ عُذۡتُ بِرَبِّیۡ وَرَبِّکُمۡ مِّنۡ کُلِّ مُتَکَبِّرٍ لَّا یُؤۡمِنُ بِیَوۡمِ الۡحِسَابِ ﴿۲۷﴾٪ 8
اور موسیٰ ( علیہ السلام ) نے کہا میں مانگتا ہوں اپنے رب کی اور تمہارے پروردگار کی ہر اس متکبر ( کے شر ) سے جو روز حساب پر ایمان نہیں رکھتا ۔
وَقَالَ رَجُلٌ مُّؤۡمِنٌ ٭ۖ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ یَکۡتُمُ اِیۡمَانَہٗۤ اَتَقۡتُلُوۡنَ رَجُلًا اَنۡ یَّقُوۡلَ رَبِّیَ اللّٰہُ وَقَدۡ جَآءَکُمۡ بِالۡبَیِّنٰتِ مِنۡ رَّبِّکُمۡ ؕ وَاِنۡ یَّکُ کَاذِبًا فَعَلَیۡہِ کَذِبُہٗ ۚ وَاِنۡ یَّکُ صَادِقًا یُّصِبۡکُمۡ بَعۡضُ الَّذِیۡ یَعِدُکُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِیۡ مَنۡ ہُوَ مُسۡرِفٌ کَذَّابٌ ﴿۲۸﴾
اور کہنے لگا ایک مومن جو فرعون کے سے تھا اور چھپائے ہوئے تھا اپنے ایمان کو ، کیا تم کرنا چاہتے ہو ایک شخص کو اس وجہ سے کہ وہ کہتا ہے میر اپروردگار اللہ تعالیٰ ہے ، حالانکہ وہ لے آیا ہے تمہارے دلیلیں تمہارے رب کی طرف سے ( اسے اپنے حال پر رہنے دو ) اگر وہ حقیقتاً جھوٹا ہے تو اس کے کی شامت اس پر ہو گی اور اگر وہ سچا ( اور تم نے اس کو گزند پہنچائی ) تو ضرور پہنچے گا تمہیں جس کا اس نے تم سے وعدہ کیا ہے ۔ بیشک اللہ تعالیٰ نہیں دیتا اسے جو سے بڑھنے والا ، بہت بولنے والا ہو ۔
یٰقَوۡمِ لَکُمُ الۡمُلۡکُ الۡیَوۡمَ ظٰہِرِیۡنَ فِی الۡاَرۡضِ ۫ فَمَنۡ یَّنۡصُرُنَا مِنۡۢ بَاۡسِ اللّٰہِ اِنۡ جَآءَنَا ؕ قَالَ فِرۡعَوۡنُ مَاۤ اُرِیۡکُمۡ اِلَّا مَاۤ اَرٰی وَمَاۤ اَہۡدِیۡکُمۡ اِلَّا سَبِیۡلَ الرَّشَادِ ﴿۲۹﴾
اے میری قوم ! مانا آج حکومت تمہاری ہے ( نیز تمہیں ) غلبہ حاصل ہے اس ملک میں ( لیکن مجھے یہ تو بتاؤ ) کون بچائے گا ہمیں خدا کے سے اگر وہ ہم پر آ جائے ( یہ سن کر ) فرعون کہنے لگا میں تو تمہیں وہی دیتا ہوں جس کو میں سمجھتا ہوں اور نہیں رہنمائی کرتا میں تمہاری مگر سیدھے کی طرف ۔
وَقَالَ الَّذِیۡۤ اٰمَنَ یٰقَوۡمِ اِنِّیۡۤ اَخَافُ عَلَیۡکُمۡ مِّثۡلَ یَوۡمِ الۡاَحۡزَابِ ﴿ۙ۳۰﴾
اور کہنے لگا وہی ایمان والا اے میری قوم ! میں ڈرتا ہوں کہ تم پر ( بھی کہیں ) پہلی قوموں کی تباہی کے جیسا نہ آ جائے ۔
مِثۡلَ دَاۡبِ قَوۡمِ نُوۡحٍ وَّعَادٍ وَّثَمُوۡدَ وَالَّذِیۡنَ مِنۡۢ بَعۡدِہِمۡ ؕ وَمَا اللّٰہُ یُرِیۡدُ ظُلۡمًا لِّلۡعِبَادِ ﴿۳۱﴾
جیسا حال تھا قوم نوح ، عاد اور ثمود کا اور ان لوگوں کا جو ان کے بعد آئے اور اللہ نہیں چاہتا کہ بندوں پر ظلم کرے ۔
وَیٰقَوۡمِ اِنِّیۡۤ اَخَافُ عَلَیۡکُمۡ یَوۡمَ التَّنَادِ ﴿ۙ۳۲﴾
اور اے میری قوم ! میں ڈرتا ہوں تمہارے بارے میں پکار کے سے ۔
یَوۡمَ تُوَلُّوۡنَ مُدۡبِرِیۡنَ ۚ مَالَکُمۡ مِّنَ اللّٰہِ مِنۡ عَاصِمٍ ۚ وَمَنۡ یُّضۡلِلِ اللّٰہُ فَمَا لَہٗ مِنۡ ہَادٍ ﴿۳۳﴾
جس روز تم بھاگو گے پیٹھ پھیرتے ہوئے ، نہیں ہو گا تمہارے لیے اللہ کے ( ) سے کوئی بچانے والا اور جسے گمراہ کر دے اللہ تعالیٰ اسے کوئی دینے والا نہیں ۔
وَلَقَدۡ جَآءَکُمۡ یُوۡسُفُ مِنۡ قَبۡلُ بِالۡبَیِّنٰتِ فَمَا زِلۡتُمۡ فِیۡ شَکٍّ مِّمَّا جَآءَکُمۡ بِہٖ ؕ حَتّٰۤی اِذَا ہَلَکَ قُلۡتُمۡ لَنۡ یَّبۡعَثَ اللّٰہُ مِنۡۢ بَعۡدِہٖ رَسُوۡلًا ؕ کَذٰلِکَ یُضِلُّ اللّٰہُ مَنۡ ہُوَ مُسۡرِفٌ مُّرۡتَابُ ۨ ﴿ۚ۳۴﴾
۔( اے میری قوم ) بیشک آئے تمہارے یوسف ( موسیٰ علیہ السلام ) سے روشن دلائل لے کر ۔ پس تم میں گرفتار رہے اس میں جو وہ لے کر آئے تھے یہاں تک کہ جب وہ وفات پا گئے تو تم نے کہنا کر دیا کہ نہیں بھیجے گا اللہ تعالیٰ ان کے بعد کوئی رسول یونہی گمراہ کر دیتا ہے اللہ تعالیٰ اسے جو سے بڑھنے والا ، کرنے والا ہوتا ہے ۔
الَّذِیۡنَ یُجَادِلُوۡنَ فِیۡۤ اٰیٰتِ اللّٰہِ بِغَیۡرِ سُلۡطٰنٍ اَتٰہُمۡ ؕ کَبُرَ مَقۡتًا عِنۡدَ اللّٰہِ وَعِنۡدَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ؕ کَذٰلِکَ یَطۡبَعُ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ قَلۡبِ مُتَکَبِّرٍ جَبَّارٍ ﴿۳۵﴾
۔( یونہی گمراہ کرتا ہے ) انھیں جو جھگڑتے رہتے ہیں اللہ کی آیتوں میں بغیر کسی ( معقول ) کے جو ان کے آئی ہو ( یہ ) بڑی کا باعث ہے اللہ کے اور مومنوں کے ۔ اسی طرح لگا دیتا ہے اللہ تعالیٰ ہر مغرور ( اور ) سرکش کے پر ۔
وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ یٰہَامٰنُ ابۡنِ لِیۡ صَرۡحًا لَّعَلِّیۡۤ اَبۡلُغُ الۡاَسۡبَابَ ﴿ۙ۳۶﴾
اور فرعون نے کہا اے ہامان ! بنا میرے لیے ایک اونچا ( اس پر چڑھ کر ) میں ان راہوں تک پہنچ جاؤں ۔
اَسۡبَابَ السَّمٰوٰتِ فَاَطَّلِعَ اِلٰۤی اِلٰہِ مُوۡسٰی وَاِنِّیۡ لَاَظُنُّہٗ کَاذِبًا ؕ وَکَذٰلِکَ زُیِّنَ لِــفِرۡعَوۡنَ سُوۡٓءُ عَمَلِہٖ وَصُدَّ عَنِ السَّبِیۡلِ ؕ وَمَا کَیۡدُ فِرۡعَوۡنَ اِلَّا فِیۡ تَبَابٍ ﴿٪۳۷﴾ 9
یعنی آسمانوں کی راہوں تک پھر میں جھانک کر دیکھوں موسیٰ کے خدا کو اور میں تو کرتا ہوں کہ وہ جھوٹا ہے اور یوں آراستہ کر دیا گیا فرعون کے لیے اس کا برا عمل اور روک دیا گیا اسے راہ ( راست ) سے اور نہیں تھا فرعون کا سارا فریب مگر اس کی اپنی تباہی کے لیے ۔
وَقَالَ الَّذِیۡۤ اٰمَنَ یٰقَوۡمِ اتَّبِعُوۡنِ اَہۡدِکُمۡ سَبِیۡلَ الرَّشَادِ ﴿ۚ۳۸﴾
اور کہنے لگا وہ جو ایمان لایا تھا اے میری قوم ! میرے چلو میں دکھاؤں گا تمہیں کی راہ ۔
یٰقَوۡمِ اِنَّمَا ہٰذِہِ الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَا مَتَاعٌ ۫ وَّاِنَّ الۡاٰخِرَۃَ ہِیَ دَارُ الۡقَرَارِ ﴿۳۹﴾
اے میری قوم ! یہ دنیوی زندگی تو ( چند روزہ ) لطف اندوزی ہے اور ہی ٹھہرنے کی ہے ۔
مَنۡ عَمِلَ سَیِّئَۃً فَلَا یُجۡزٰۤی اِلَّا مِثۡلَہَا ۚ وَمَنۡ عَمِلَ صَالِحًا مِّنۡ ذَکَرٍ اَوۡ اُنۡثٰی وَہُوَ مُؤۡمِنٌ فَاُولٰٓئِکَ یَدۡخُلُوۡنَ الۡجَنَّۃَ یُرۡزَقُوۡنَ فِیۡہَا بِغَیۡرِ حِسَابٍ ﴿۴۰﴾
جو برے کرتا ہے اسے سزا دی جائے گی اسی قدر اور جو کرتا ہے خواہ ہو یا بشرطیکہ وہ ایماندار ہو تو وہ ہوں گے میں ، رزق دیا جائے گا انھیں وہاں بے حساب ۔
وَیٰقَوۡمِ مَالِیۡۤ اَدۡعُوۡکُمۡ اِلَی النَّجٰوۃِ وَتَدۡعُوۡنَنِیۡۤ اِلَی النَّارِ ﴿ؕ۴۱﴾ ؒ
اور اے میری قوم ! میرا بھی عجیب حال ہے کہ میں تو تمہیں دعوت دیتا ہوں کی طرف اور تم بلاتے ہو مجھے کی طرف ۔
تَدۡعُوۡنَنِیۡ لِاَکۡفُرَ بِاللّٰہِ وَاُشۡرِکَ بِہٖ مَالَیۡسَ لِیۡ بِہٖ عِلۡمٌ ۫ وَّاَنَا اَدۡعُوۡکُمۡ اِلَی الۡعَزِیۡزِ الۡغَفَّارِ ﴿۴۲﴾
تم مجھے دعوت دیتے ہو کہ میں اللہ کا کروں اور میں ٹھیراؤں اس کے ساتھ اس کو جس کا مجھے علم تک نہیں اور میرا حال یہ ہے کہ میں پھر بھی تمہیں اس خدا کی طرف بلاتا ہوں جو والا بہت بخشنے والا ہے ۔
لَا جَرَمَ اَنَّمَا تَدۡعُوۡنَنِیۡۤ اِلَیۡہِ لَیۡسَ لَہٗ دَعۡوَۃٌ فِی الدُّنۡیَا وَلَا فِی الۡاٰخِرَۃِ وَاَنَّ مَرَدَّنَاۤ اِلَی اللّٰہِ وَاَنَّ الۡمُسۡرِفِیۡنَ ہُمۡ اَصۡحٰبُ النَّارِ ﴿۴۳﴾
سچی تو یہ ہے کہ جس کی ( بندگی کی ) طرف تم مجھے بلاتے ہو اسے کوئی حق نہیں پہنچتا کہ اسے پکارا جائے اس میں اور نہ میں اور یقیناً ہم سب کو لوٹنا ہے اللہ کی طرف اور یقیناً سے گزرنے والے ہی جہنمی ہیں ۔
فَسَتَذۡکُرُوۡنَ مَاۤ اَقُوۡلُ لَکُمۡ ؕ وَاُفَوِّضُ اَمۡرِیۡۤ اِلَی اللّٰہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ بَصِیۡرٌۢ بِالۡعِبَادِ ﴿۴۴﴾
پس ( اے میرے ہم وطنو ! ) عنقریب تم کرو گے جو میں ( آج ) تمہیں کہہ رہا ہوں اور میں اپنا ( سارا ) اللہ کے سپرد کرتا ہوں ۔ بیشک اللہ تعالیٰ دیکھنے والا ہے ( اپنے ) بندوں کو ۔
فَوَقٰىہُ اللّٰہُ سَیِّاٰتِ مَامَکَرُوۡا وَحَاقَ بِاٰلِ فِرۡعَوۡنَ سُوۡٓءُ الۡعَذَابِ ﴿ۚ۴۵﴾
پس بچا لیا اسے اللہ تعالیٰ نے ان اذیتوں سے کے پہنچانے کا انھوں نے حیلہ کیا اور ہر طرف سے گھیر لیا فرعونیوں کو نے ۔
اَلنَّارُ یُعۡرَضُوۡنَ عَلَیۡہَا غُدُوًّا وَّعَشِیًّا ۚ وَیَوۡمَ تَقُوۡمُ السَّاعَۃُ ۟ اَدۡخِلُوۡۤا اٰلَ فِرۡعَوۡنَ اَشَدَّ الۡعَذَابِ ﴿۴۶﴾
دوزخ کی ہے کیا جاتا ہے انھیں اس پر صبح و اور جس روز قائم ہو گی ( ہو گا ) کر دو فرعونیوں کو تر میں ۔
وَاِذۡ یَتَحَآجُّوۡنَ فِی النَّارِ فَیَقُوۡلُ الضُّعَفٰٓؤُا لِلَّذِیۡنَ اسۡتَکۡبَرُوۡۤا اِنَّا کُنَّا لَکُمۡ تَبَعًا فَہَلۡ اَنۡتُمۡ مُّغۡنُوۡنَ عَنَّا نَصِیۡبًا مِّنَ النَّارِ ﴿۴۷﴾
کتنا ہوشربا سماں ہو گا ) جب باہم جھگڑیں گے میں ، پس کہیں گے لوگ انھیں جو کیا کرتے تھے کہ ہم تو تمہارے تابع تھے ، پس کیا تم کر سکتے ہو ہم سے کچھ ( کے ) کا ۔
قَالَ الَّذِیۡنَ اسۡتَکۡبَرُوۡۤا اِنَّا کُلٌّ فِیۡہَاۤ ۙ اِنَّ اللّٰہَ قَدۡ حَکَمَ بَیۡنَ الۡعِبَادِ ﴿۴۸﴾
جواب دیں گے متکبر ہم سب میں ( بُھن رہے ) ہیں بیشک اللہ تعالیٰ نے فرما دیا ہے بندوں کے متعلق ( اب اس میں رد و نہیں ہو سکتا ۔
وَقَالَ الَّذِیۡنَ فِی النَّارِ لِخَزَنَۃِ جَہَنَّمَ ادۡعُوۡا رَبَّکُمۡ یُخَفِّفۡ عَنَّا یَوۡمًا مِّنَ الۡعَذَابِ ﴿۴۹﴾
اور کہیں گے سارے دوزخی جہنم کے داروغوں کو کرو اپنے رب سے کہ ایک تو ہمارے میں ( کچھ ) تخفیف فرما دے ۔
قَالُوۡۤا اَوَ لَمۡ تَکُ تَاۡتِیۡکُمۡ رُسُلُکُمۡ بِالۡبَیِّنٰتِ ؕ قَالُوۡا بَلٰی ؕ قَالُوۡا فَادۡعُوۡا ۚ وَمَا دُعٰٓؤُا الۡکٰفِرِیۡنَ اِلَّا فِیۡ ضَلٰلٍ ﴿۵۰﴾٪ 10
وہ ( میں ) کہیں گے کیا نہیں آیا کرتے تھے تمہارے تمہارے رسول روشن دلیلوں کے ساتھ ۔ وہ کہیں گے بیشک ! داروغے کہیں گے تم خود ہی مانگو ۔ اور حقیقت یہ ہے کہ نہیں ہے کافروں کی مگر محض بے سود ۔
اِنَّا لَنَنۡصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَیَوۡمَ یَقُوۡمُ الۡاَشۡہَادُ ﴿ۙ۵۱﴾
بیشک ہم ( اب بھی ) کرتے ہیں اپنے رسولوں کی اور مومنین کی اس دنیوی زندگی میں اور اس بھی ( کریں گے ) جس گواہ ( گواہی دینے کے لیے ) کھڑے ہوں گے ۔
یَوۡمَ لَا یَنۡفَعُ الظّٰلِمِیۡنَ مَعۡذِرَتُہُمۡ وَلَہُمُ اللَّعۡنَۃُ وَلَہُمۡ سُوۡٓءُ الدَّارِ ﴿۵۲﴾
اس روز نفع نہ دے گی ظالموں کو ان کی عذر خواہی اور ان کے لیے لعنت ہو گی اور ان کے لیے ( کا ) بدترین ہو گا ۔
وَلَقَدۡ اٰتَیۡنَا مُوۡسَی الۡہُدٰی وَاَوۡرَثۡنَا بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ الۡکِتٰبَ ﴿ۙ۵۳﴾
اور ہم نے عطا فرمایا موسیٰ کو ( نور ) اور وارث بنایا بنی اسرائیل کو کا ۔
ہُدًی وَّذِکۡرٰی لِاُولِی الۡاَلۡبَابِ ﴿۵۴﴾
جو سراپا اور تھی عقلمندوں کے لیے ۔
فَاصۡبِرۡ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰہِ حَقٌّ وَّاسۡتَغۡفِرۡ لِذَنۡۢبِکَ وَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّکَ بِالۡعَشِیِّ وَالۡاِبۡکَارِ ﴿۵۵﴾
پس ( اے محبوب ) آپ فرمائیے ( کفار کی اذیتوں پر ) بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے اور استغفار کرتے رہیے اپنی ( موہومہ ) کوتاہی پر اور پاکی کیجیے اپنے رب کی حمد کرتے ہوئے کے اور صبح کے ۔
اِنَّ الَّذِیۡنَ یُجَادِلُوۡنَ فِیۡۤ اٰیٰتِ اللّٰہِ بِغَیۡرِ سُلۡطٰنٍ اَتٰہُمۡ ۙ اِنۡ فِیۡ صُدُوۡرِہِمۡ اِلَّا کِبۡرٌ مَّا ہُمۡ بِبَالِغِیۡہِ ۚ فَاسۡتَعِذۡ بِاللّٰہِ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡبَصِیۡرُ ﴿۵۶﴾
بیشک جو لوگ جھگڑتے ہیں اللہ کی آیتوں کے بارے میں بغیر کسی سند کے جو ان کے آئی ہو ، نہیں ہے ان کے سینوں میں بجز بڑائی کی ایک ہوس کے جس کو وہ پا نہیں سکیں گے تو آپ اللہ کی طلب کیجیے بیشک وہی سب کچھ سننے والا ہے ، دیکھنے والا ہے ۔
لَخَلۡقُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ اَکۡبَرُ مِنۡ خَلۡقِ النَّاسِ وَلٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۵۷﴾
بیشک کرنا آسمانوں اور کا بہت بڑا ہے لوگوں کے کرنے سے لیکن بہت سے لوگ ( اس کھلی حقیقت کو ) نہیں جانتے ۔
وَمَا یَسۡتَوِی الۡاَعۡمٰی وَالۡبَصِیۡرُ ۬ ۙ وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَلَا الۡمُسِیۡٓءُ ؕ قَلِیۡلًا مَّا تَتَذَکَّرُوۡنَ ﴿۵۸﴾
اور یکساں نہیں ہے اور بینا اور ( اسی طرح ) مومن نیکوکار اور بدکار بھی یکساں نہیں ، تم بہت کرتے ہو ۔
اِنَّ السَّاعَۃَ لَاٰتِیَۃٌ لَّا رَیۡبَ فِیۡہَا وَلٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۵۹﴾
یقیناً آ کر رہے گی ، ذرا نہیں ہے اس میں لیکن بہت سے لوگ ( پر ) ایمان نہیں لاتے ۔
وَقَالَ رَبُّکُمُ ادۡعُوۡنِیۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَکُمۡ ؕ اِنَّ الَّذِیۡنَ یَسۡتَکۡبِرُوۡنَ عَنۡ عِبَادَتِیۡ سَیَدۡخُلُوۡنَ جَہَنَّمَ دٰخِرِیۡنَ ﴿٪۶۰﴾ 11
اور تمہارے رب نے فرمایا ہے مجھے پکارو میں تمہاری کروں گا بیشک جو لوگ میری کرنے سے کرتے ہیں وہ عنقریب جہنم میں ہوں گے و خوار ہو کر ۔
اَللّٰہُ الَّذِیۡ جَعَلَ لَکُمُ الَّیۡلَ لِتَسۡکُنُوۡا فِیۡہِ وَالنَّہَارَ مُبۡصِرًا ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَذُوۡ فَضۡلٍ عَلَی النَّاسِ وَلٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَشۡکُرُوۡنَ ﴿۶۱﴾
اللہ ہی ہے جس نے بنائی ہے تمہارے لیے تاکہ تم کرو اس میں اور ( بنایا ہے ) کو روشن بیشک اللہ تعالیٰ بڑا فضل ( و کرم ) فرمانے والا ہے لوگوں پر لیکن بہت سے لوگ ( اس کی نعمتوں کا ) شکر ادا نہیں کرتے ۔
ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمۡ خَالِقُ کُلِّ شَیۡءٍ ۘ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۫ ۚ فَاَنّٰی تُؤۡفَکُوۡنَ ﴿۶۲﴾
وہ ہے اللہ تمہارا ( رب ) کرنے والا ہر چیز کا ، کوئی کے نہیں بجز اس کے ۔ پس کیسے راہ حق سے تم روگردانی کرتے ہو ۔
کَذٰلِکَ یُؤۡفَکُ الَّذِیۡنَ کَانُوۡا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ یَجۡحَدُوۡنَ ﴿۶۳﴾
اسی طرح ( راہِ حق ) سے پھیر دیا جاتا ہے ان ( بد نصیبوں ) کا جو اللہ کی آیتوں کا کرتے ہیں ۔
اَللّٰہُ الَّذِیۡ جَعَلَ لَکُمُ الۡاَرۡضَ قَرَارًا وَّالسَّمَآءَ بِنَآءً وَّصَوَّرَکُمۡ فَاَحۡسَنَ صُوَرَکُمۡ وَرَزَقَکُمۡ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ ؕ ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمۡ ۚ ۖ فَتَبٰرَکَ اللّٰہُ رَبُّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۶۴﴾
اللہ تعالیٰ وہ ہے جس نے بنایا ہے تمہارے لیے کو قیام کی اور کو ( کی مانند ) اور تمہاری گری کی اور حسین بنا دیا تمہاری صورتوں کو اور کھانے کے لیے تمہیں پاکیزہ چیزیں عطا فرمائیں ایسی ( خوبیوں والا ) اللہ تمہارا پروردگار ہے ۔ پس بڑی ہی برکتوں والا ہے اللہ تعالیٰ جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے ۔
ہُوَ الۡحَیُّ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ فَادۡعُوۡہُ مُخۡلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ ؕ اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۶۵﴾
وہی رہنے والا ہے ، کوئی کے نہیں بجز اس کے ، پس اس کی کرو اپنے کو اس کے لیے خالص کرتے ہوئے سب تعریفیں اللہ کے لیے جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے ۔
قُلۡ اِنِّیۡ نُہِیۡتُ اَنۡ اَعۡبُدَ الَّذِیۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ لَمَّا جَآءَنِیَ الۡبَیِّنٰتُ مِنۡ رَّبِّیۡ ۫ وَاُمِرۡتُ اَنۡ اُسۡلِمَ لِرَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۶۶﴾
آپ فرما دیجیے کہ مجھے منع کر دیا گیا ہے کہ میں کروں ان کی کو تم پکارتے ہو اللہ کے سوا ( میں ان کی کیسے کر سکتا ہوں ) جب آ گئی ہیں میرے دلیلیں اپنے رب کی طرف سے ۔ اور مجھے دیا گیا ہے کہ میں تسلیم خم کر دوں رب العالمین کے ۔
ہُوَ الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ مِّنۡ تُرَابٍ ثُمَّ مِنۡ نُّطۡفَۃٍ ثُمَّ مِنۡ عَلَقَۃٍ ثُمَّ یُخۡرِجُکُمۡ طِفۡلًا ثُمَّ لِتَبۡلُغُوۡۤا اَشُدَّکُمۡ ثُمَّ لِتَکُوۡنُوۡا شُیُوۡخًا ۚ وَمِنۡکُمۡ مَّنۡ یُّتَوَفّٰی مِنۡ قَبۡلُ وَلِتَبۡلُغُوۡۤا اَجَلًا مُّسَمًّی وَّلَعَلَّکُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۶۷﴾
اللہ تعالیٰ وہ ہے جس نے کیا تمہیں سے پھر نطفہ سے ، پھر گوشت کے لوتھڑے سے پھر نکالا تمہیں ( شکم مادر سے ) بچہ بنا کر پھر ( کی تمہاری ) تاکہ تم پہنچو اپنی کو پھر ( تمہیں رکھا ) تاکہ تم بوڑھے ہو جاؤ ۔ اور بعض تم میں سے فوت ہو جاتے ہیں ہی اور ( یہ سارا نظام اس لیے ہے ) کہ تم پہنچ جاؤ مقررہ میعاد تک اور تاکہ تم ( اپنے رب کی عظمتوں کو ) سمجھنے لگ جاؤ ۔
ہُوَ الَّذِیۡ یُحۡیٖ وَیُمِیۡتُ ۚ فَاِذَا قَضٰۤی اَمۡرًا فَاِنَّمَا یَقُوۡلُ لَہٗ کُنۡ فَیَکُوۡنُ ﴿٪۶۸﴾ 12
وہی ہے جو جلاتا ہے اور مارتا ہے پس جب کسی کا کرتا ہے تو صرف اتنا فرماتا ہے اسے کہ ہو جا تو وہ ہو جاتا ہے ۔
اَلَمۡ تَرَ اِلَی الَّذِیۡنَ یُجَادِلُوۡنَ فِیۡۤ اٰیٰتِ اللّٰہِ ؕ اَنّٰی یُصۡرَفُوۡنَ ﴿ۖۛۚ۶۹﴾
کیا تم نہیں دیکھتے ان ( نادانوں ) کی طرف جو جھگڑا کرتے ہیں اللہ کی آیات میں ۔ یہ کہاں بھٹک رہے ہیں ۔
الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِالۡکِتٰبِ وَبِمَاۤ اَرۡسَلۡنَا بِہٖ رُسُلَنَا ۟ ۛ فَسَوۡفَ یَعۡلَمُوۡنَ ﴿ۙ۷۰﴾
جن لوگوں نے جھٹلایا اس کو اور اس چیز کو بھی جو دے کر ہم نے اپنے رسولوں کو بھیجا تھا ۔ انھیں ( اپنی تکذیب کا ) معلوم ہو جائے گا ۔
اِذِ الۡاَغۡلٰلُ فِیۡۤ اَعۡنَاقِہِمۡ وَالسَّلٰسِلُ ؕ یُسۡحَبُوۡنَ ﴿ۙ۷۱﴾
جب ان کی گردنوں میں ہوں گے اور ۔ انھیں گھسیٹ کر لے جایا جائے گا
فِی الۡحَمِیۡمِ ۬ ۙ ثُمَّ فِی النَّارِ یُسۡجَرُوۡنَ ﴿ۚ۷۲﴾
کھولتے ہوئے میں ۔ پھر کی میں جھونک دیے جائیں گے ۔
ثُمَّ قِیۡلَ لَہُمۡ اَیۡنَ مَاکُنۡتُمۡ تُشۡرِکُوۡنَ ﴿ۙ۷۳﴾
پھر پوچھا جائے گا ان سے کہاں ہیں وہ جنہیں تم ٹھہراتے تھے
مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ ؕ قَالُوۡا ضَلُّوۡا عَنَّا بَلۡ لَّمۡ نَکُنۡ نَّدۡعُوۡا مِنۡ قَبۡلُ شَیۡئًا ؕ کَذٰلِکَ یُضِلُّ اللّٰہُ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۷۴﴾
اللہ کے سوا ( بصد یاس ) کہیں گے وہ تو ہو گئے ہم سے بلکہ ہم تو کسی چیز کو پوجتے ہی نہ تھے اس سے اسی طرح اللہ گمراہ کرتا ہے کافروں کو ۔
ذٰلِکُمۡ بِمَا کُنۡتُمۡ تَفۡرَحُوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ بِغَیۡرِ الۡحَقِّ وَبِمَا کُنۡتُمۡ تَمۡرَحُوۡنَ ﴿ۚ۷۵﴾
یہ ( سزا اور رسوائی ) ہے اس کا کہ تم خوشیاں منایا کرتے تھے میں ( اپنے عارضی پر ) ناحق اور ہے اس کا جو تم ( اپنے فانی اموال و املاک پر ) اترایا کرتے تھے ۔
اُدۡخُلُوۡۤا اَبۡوَابَ جَہَنَّمَ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ۚ فَبِئۡسَ مَثۡوَی الۡمُتَکَبِّرِیۡنَ ﴿۷۶﴾
اب ہو جاؤ جہنم کے دروازوں میں تم وہاں رہنے والے ہو ۔ پس یہ بہت برا ٹھکانا ہے و غرور کرنے والوں کا ۔
فَاصۡبِرۡ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰہِ حَقٌّ ۚ فَاِمَّا نُرِیَنَّکَ بَعۡضَ الَّذِیۡ نَعِدُہُمۡ اَوۡ نَتَوَفَّیَنَّکَ فَاِلَیۡنَا یُرۡجَعُوۡنَ ﴿۷۷﴾
۔( اے حبیب ! ) آپ ( ان کی نازیبا حرکتوں پر ) فرمائیے ، اللہ کا وعدہ سچا ہے سو ہم خواہ آپ کو دکھائیں اس کا کچھ جس کا ان سے ہم نے وعدہ کیا ہے یا ( اس سے ہی ) آپ کو سے اٹھا لیں ( یہ نہیں سکتے ) آخرکار ہماری طرف ہی لوٹائے جائیں گے ۔
وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا رُسُلًا مِّنۡ قَبۡلِکَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ قَصَصۡنَا عَلَیۡکَ وَمِنۡہُمۡ مَّنۡ لَّمۡ نَقۡصُصۡ عَلَیۡکَ ؕ وَمَا کَانَ لِرَسُوۡلٍ اَنۡ یَّاۡتِیَ بِاٰیَۃٍ اِلَّا بِاِذۡنِ اللّٰہِ ۚ فَاِذَا جَآءَ اَمۡرُ اللّٰہِ قُضِیَ بِالۡحَقِّ وَخَسِرَ ہُنَالِکَ الۡمُبۡطِلُوۡنَ ﴿٪۷۸﴾ 13
اور ہم نے بھیجے تھے آپ سے بھی ، ان میں سے بعض کا ذکر ہم نے آپ سے کر دیا اور ان میں سے بعض کا ذکر ( کریم میں ) آپ سے نہیں کیا اور کسی رسول کی مجال نہ تھی کہ وہ لے آتا کوئی اللہ کی کے بغیر ۔ پس جب آئے گا اللہ کا ( تو ) کر دیا جائے گا حق ( و ) کے ساتھ اور باطل پرست وہاں ( سراسر ) گھاٹے میں رہیں گے ۔
اَللّٰہُ الَّذِیۡ جَعَلَ لَکُمُ الۡاَنۡعَامَ لِتَرۡکَبُوۡا مِنۡہَا وَمِنۡہَا تَاۡکُلُوۡنَ ﴿۫۷۹﴾
اللہ وہ ہے جس نے بنائے تمہارے لیے مویشی تاکہ ان میں سے کسی پر سواری کرو اور کسی کا ( گوشت ) کھاؤ ۔
وَلَکُمۡ فِیۡہَا مَنَافِعُ وَلِتَبۡلُغُوۡا عَلَیۡہَا حَاجَۃً فِیۡ صُدُوۡرِکُمۡ وَعَلَیۡہَا وَعَلَی الۡفُلۡکِ تُحۡمَلُوۡنَ ﴿ؕ۸۰﴾
اور تمہارے لیے ان میں طرح طرح کے فائدے ہیں اور ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ان پر ہو کر اس منزل تک پہنچو جو تمہارے سینوں میں ہے اور ان مویشیوں پر اور کشتیوں پر تم لدے پھرتے ہو ۔
وَیُرِیۡکُمۡ اٰیٰتِہٖ ٭ۖ فَاَیَّ اٰیٰتِ اللّٰہِ تُنۡکِرُوۡنَ ﴿۸۱﴾
اور وہ دکھاتا ہے تمہیں اپنی نشانیاں ۔ پس اللہ تعالیٰ کی کن کن آیتوں کا تم کرو گے ۔
اَفَلَمۡ یَسِیۡرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ فَیَنۡظُرُوۡا کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ؕ کَانُوۡۤا اَکۡثَرَ مِنۡہُمۡ وَاَشَدَّ قُوَّۃً وَّاٰثَارًا فِی الۡاَرۡضِ فَمَاۤ اَغۡنٰی عَنۡہُمۡ مَّا کَانُوۡا یَکۡسِبُوۡنَ ﴿۸۲﴾
کیا ان منکروں نے کبھی سیر و سیاحت نہیں کی میں تاکہ انھیں نظر آ جاتا کہ کیا ان ( منکروں ) کا جو ان سے گزرے وہ لوگ ان سے تعداد میں تھے اور میں زبردست تھے اور میں اپنی نشانیوں کے سے ( کہیں ہنرمند تھے ) پس یہ بتائیں کہ کیا پہنچایا انھیں اس دولت نے جو وہ کماتے تھے ۔
فَلَمَّا جَآءَتۡہُمۡ رُسُلُہُمۡ بِالۡبَیِّنٰتِ فَرِحُوۡا بِمَا عِنۡدَہُمۡ مِّنَ الۡعِلۡمِ وَحَاقَ بِہِمۡ مَّا کَانُوۡا بِہٖ یَسۡتَہۡزِءُوۡنَ ﴿۸۳﴾
پس جب آئے ان کے ان کے رسول روشن دلیلیں لے کر تو انھوں نے کفر کیا اور نازاں رہے اس علم پر جو ان کے تھا ۔ اور ( آخرکار ) گھیر لیا انھیں جس کا وہ اڑایا کرتے تھے ۔
فَلَمَّا رَاَوۡا بَاۡسَنَا قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَحۡدَہٗ وَکَفَرۡنَا بِمَا کُنَّا بِہٖ مُشۡرِکِیۡنَ ﴿۸۴﴾
پھر جب انھوں نے دیکھ لیا ہمارا تو کہنے لگے ہم ایمان لائے ہیں ایک اللہ پر اور ہم ان معبودوں کا کرتے ہیں کو ہم ان کا ٹھہرایا کرتے تھے ۔
فَلَمۡ یَکُ یَنۡفَعُہُمۡ اِیۡمَانُہُمۡ لَمَّا رَاَوۡا بَاۡسَنَا ؕ سُنَّتَ اللّٰہِ الَّتِیۡ قَدۡ خَلَتۡ فِیۡ عِبَادِہٖ ۚ وَخَسِرَ ہُنَالِکَ الۡکٰفِرُوۡنَ ﴿٪۸۵﴾ 14
پس کوئی نہ دیا انھیں ان کے ایمان نے جب دیکھ لیا انھوں نے ہمارا ۔ یہی دستور ہے اللہ تعالیٰ کا جو ( قدیم سے ) اس کے بندوں میں جاری ہے اور سراسر خسارہ میں رہے اس حق کا کرنے والے ۔