صٓ وَالۡقُرۡاٰنِ ذِی الذِّکۡرِ ؕ﴿۱﴾
ص ہے ، سراپا کی ( دعوت محمدی حق ہے ) ۔
The Letter Sad
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ ﴿١﴾
In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
صٓ وَالۡقُرۡاٰنِ ذِی الذِّکۡرِ ؕ﴿۱﴾
ص ہے ، سراپا کی ( دعوت محمدی حق ہے ) ۔
بَلِ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا فِیۡ عِزَّۃٍ وَّشِقَاقٍ ﴿۲﴾
لیکن یہ کفار اور میں ( اندھے ہو گئے ) ہیں ۔
کَمۡ اَہۡلَکۡنَا مِنۡ قَبۡلِہِمۡ مِّنۡ قَرۡنٍ فَنَادَوۡا وَّلَاتَ حِیۡنَ مَنَاصٍ ﴿۳﴾
بہت سی امتوں کو ہم نے کر دیا ان سے ۔ پس وہ کرنے لگے اور نہیں تھا یہ نکلنے کا ۔
وَعَجِبُوۡۤا اَنۡ جَآءَہُمۡ مُّنۡذِرٌ مِّنۡہُمۡ ۫ وَقَالَ الۡکٰفِرُوۡنَ ہٰذَا سٰحِرٌ کَذَّابٌ ۖ﴿ۚ۴﴾
اور وہ ( اس پر ) تھے کہ آیا ہے ان کے ایک ڈرانے والا ان میں سے ، اور کفار کہنے لگے کہ یہ شخص ساحر ہے ، کذاب ہے ۔
اَجَعَلَ الۡاٰلِہَۃَ اِلٰـہًا وَّاحِدًا ۚ ۖ اِنَّ ہٰذَا لَشَیۡءٌ عُجَابٌ ﴿۵﴾
کیا بنا دیا ہے اس نے بہت سے خداؤں کی ایک خدا بیشک یہ بڑی عجیب و غریب ہے ۔
وَانۡطَلَقَ الۡمَلَاُ مِنۡہُمۡ اَنِ امۡشُوۡا وَاصۡبِرُوۡا عَلٰۤی اٰلِہَتِکُمۡ ۚ ۖ اِنَّ ہٰذَا لَشَیۡءٌ یُّرَادُ ۖ﴿ۚ۶﴾
اور تیزی سے چل دیے قوم کے ( رسول کے سے ) اور ( قوم سے کہا ) یہاں سے نکلو اور جمے رہو اپنے بتوں پر ۔ بیشک اس میں اس کا کوئی ( ذاتی ) مدعا ہے ۔
مَاسَمِعۡنَا بِہٰذَا فِی الۡمِلَّۃِ الۡاٰخِرَۃِ ۚ ۖ اِنۡ ہٰذَاۤ اِلَّا اخۡتِلَاقٌ ۖ﴿ۚ۷﴾
ہم نے تو ایسی آخری ملت ( نصرانیت ) میں بھی نہیں سنی ۔ یہ بالکل مذہب ہے ۔
ءَاُنۡزِلَ عَلَیۡہِ الذِّکۡرُ مِنۡۢ بَیۡنِنَا ؕ بَلۡ ہُمۡ فِیۡ شَکٍّ مِّنۡ ذِکۡرِیۡ ۚ بَلۡ لَّمَّا یَذُوۡقُوۡا عَذَابِ ؕ﴿۸﴾
کیا نازل کیا گیا ہے اس پر ’’ الذکر ‘‘ ( ) ہمارے میں سے بلکہ یہ کفار میں مبتلا ہیں میرے ذکر کے متعلق ۔ بلکہ انھوں نے ابھی نہیں چکھا میرے کا مزہ ۔
اَمۡ عِنۡدَہُمۡ خَزَآئِنُ رَحۡمَۃِ رَبِّکَ الۡعَزِیۡزِ الۡوَہَّابِ ۚ﴿۹﴾
کیا ان کے قبضہ میں ہیں خزانے آپ کے رب کی رحمت کے جو والا بے حساب عطا کرنے والا ہے ۔
اَمۡ لَہُمۡ مُّلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَیۡنَہُمَا ۟ فَلۡیَرۡتَقُوۡا فِی الۡاَسۡبَابِ ﴿۱۰﴾
کیا ان کے لیے ہے سلطنت آسمانوں اور کی اور جو کچھ ان کے ہے پس چاہیے کہ چڑھ جائیں ( پر ) اس کی راہوں سے ۔
جُنۡدٌ مَّا ہُنَالِکَ مَہۡزُوۡمٌ مِّنَ الۡاَحۡزَابِ ﴿۱۱﴾
۔( در حقیقت ) کفار کے لشکروں میں سے یہ ایک چھوٹا سا ہے جسے وہاں ( بدر میں ) شکست دے دی جائے گی ۔
کَذَّبَتۡ قَبۡلَہُمۡ قَوۡمُ نُوۡحٍ وَّعَادٌ وَّفِرۡعَوۡنُ ذُو الۡاَوۡتَادِ ﴿ۙ۱۲﴾
جھٹلایا تھا ان سے قوم نوح ، عاد اور میخوں والے فرعون نے ۔
وَثَمُوۡدُ وَقَوۡمُ لُوۡطٍ وَّاَصۡحٰبُ لۡئَیۡکَۃِ ؕ اُولٰٓئِکَ الۡاَحۡزَابُ ﴿۱۳﴾
اور ثمود ، قوم لوط اور اصحاب ایکہ نے ۔ یہی وہ گروہ ہیں ( جنکا ذکر گزر چکا ) ۔
اِنۡ کُلٌّ اِلَّا کَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ ﴿۱۴﴾٪ 10
ان سب نے رسولوں کو جھٹلایا تو ( ان پر ) لازم ہو گیا میرا ۔
وَمَا یَنۡظُرُ ہٰۤؤُلَآءِ اِلَّا صَیۡحَۃً وَّاحِدَۃً مَّا لَہَا مِنۡ فَوَاقٍ ﴿۱۵﴾
اور نہیں کر رہے ہیں یہ ( کفار مکہ ) مگر ایک کڑک کی جس کے بعد کوئی نہیں ہو گی ۔
وَقَالُوۡا رَبَّنَا عَجِّلۡ لَّنَا قِطَّنَا قَبۡلَ یَوۡمِ الۡحِسَابِ ﴿۱۶﴾
اور ( مذاقاً ) کہتے ہیں اے ہمارے رب دے دے ہمارے ( کا ) یوم حساب سے ۔
اِصۡبِرۡ عَلٰی مَایَقُوۡلُوۡنَ وَاذۡکُرۡ عَبۡدَنَا دَاوٗدَذَا الۡاَیۡدِ ۚ اِنَّہٗۤ اَوَّابٌ ﴿۱۷﴾
۔( اے حبیب ! ) کرو ان کی ( نا معقول ) باتوں پر اور فرماؤ ہمارے بندے داؤد کو جو بڑا طاقتور تھا وہ ( ہماری طرف ) بہت کرنے والا تھا ۔
اِنَّا سَخَّرۡنَا الۡجِبَالَ مَعَہٗ یُسَبِّحۡنَ بِالۡعَشِیِّ وَالۡاِشۡرَاقِ ﴿ۙ۱۸﴾
ہم نے فرمانبردار بنا دیا تھا پہاڑوں کو ، وہ ان کے ساتھ تسبیح پڑھتے تھے عشاء اور اشراق کے ۔
وَالطَّیۡرَ مَحۡشُوۡرَۃً ؕ کُلٌّ لَّہٗۤ اَوَّابٌ ﴿۱۹﴾
اور پرندوں کو ، وہ بھی تسبیح کے جمع ہو جاتے سب ان کے فرمانبردار تھے ۔
وَشَدَدۡنَا مُلۡکَہٗ وَاٰتَیۡنٰہُ الۡحِکۡمَۃَ وَفَصۡلَ الۡخِطَابِ ﴿۲۰﴾
اور ہم نے مستحکم کر دیا ان کی حکومت کو اور ہم نے بخشی انھیں دانائی اور کن کرنے کا ملکہ ۔
وَہَلۡ اَتٰىکَ نَبَؤُا الۡخَصۡمِ ۘ اِذۡ تَسَوَّرُوا الۡمِحۡرَابَ ﴿ۙ۲۱﴾
اور کیا آئی ہے آپ کے اطلاع قریقان مقدمہ کی جب انھوں نے پھاندی گاہ کی ۔
اِذۡ دَخَلُوۡا عَلٰی دَاوٗدَ فَفَزِعَ مِنۡہُمۡ قَالُوۡا لَا تَخَفۡ ۚ خَصۡمٰنِ بَغٰی بَعۡضُنَا عَلٰی بَعۡضٍ فَاحۡکُمۡ بَیۡنَنَا بِالۡحَقِّ وَلَا تُشۡطِطۡ وَاہۡدِنَاۤ اِلٰی سَوَآءِ الصِّرَاطِ ﴿۲۲﴾
اور جب ہوئے داؤد پر ، پس آپ کچھ گھبرا گئے ان سے ۔ انھوں نے کہا ڈرئیے نہیں ہم تو مقدمہ کے دو فریق ہیں ، کی ہے ہم میں سے ایک نے دوسرے پر ، آپ ہمارے سے فرمائیے اور بے انصافی نہ کیجیے اور دکھائیے ہمیں ۔
اِنَّ ہٰذَاۤ اَخِیۡ ۟ لَہٗ تِسۡعٌ وَّتِسۡعُوۡنَ نَعۡجَۃً وَّلِیَ نَعۡجَۃٌ وَّاحِدَۃٌ ۟ فَقَالَ اَکۡفِلۡنِیۡہَا وَعَزَّنِیۡ فِی الۡخِطَابِ ﴿۲۳﴾
۔( نزاع یہ ہے کہ ) یہ میرا ہے اور اس کی ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے صرف ایک دنبی ہے اب یہ کہتا ہے کہ وہ بھی میرے کر دے اور کرتا ہے میرے ساتھ گفتگو میں ۔
قَالَ لَقَدۡ ظَلَمَکَ بِسُؤَالِ نَعۡجَتِکَ اِلٰی نِعَاجِہٖ ؕ وَاِنَّ کَثِیۡرًا مِّنَ الۡخُلَطَآءِ لَیَبۡغِیۡ بَعۡضُہُمۡ عَلٰی بَعۡضٍ اِلَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَقَلِیۡلٌ مَّا ہُمۡ ؕ وَظَنَّ دَاوٗدُ اَنَّمَا فَتَنّٰہُ فَاسۡتَغۡفَرَ رَبَّہٗ وَخَرَّ رَاکِعًا وَّاَنَابَ ﴿ٛ۲۴﴾
آپ نے فرمایا بیشک اس نے ظلم کیا ہے تم پر یہ مطالبہ کر کے کہ تیری دنبی کو اپنی دنبیوں میں ملا دے اور اکثر دار کرتے ہیں ایک دوسرے پر سوائے ان داروں کے جو ایمان لائے اور کرتے رہے اور ایسے لوگ بہت تھوڑے ہیں ۔ اور فوراً خیال آ گیا داؤد کو کہ ہم نے اسے آزمایا ہے سو وہ معافی مانگنے لگ گئے اپنے رب سے اور گر پڑے رکوع میں اور ( و جان سے ) اس کی طرف متوجہ ہو گئے ۔
فَغَفَرۡنَا لَہٗ ذٰلِکَ ؕ وَاِنَّ لَہٗ عِنۡدَنَا لَزُلۡفٰی وَحُسۡنَ مَاٰبٍ ﴿۲۵﴾
پس ہم نے بخش دی ان کی یہ تقصیر ۔ اور بیشک ان کے لیے ہمارے ہاں بڑا قرب ہے اور ہے ۔
یٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلۡنٰکَ خَلِیۡفَۃً فِی الۡاَرۡضِ فَاحۡکُمۡ بَیۡنَ النَّاسِ بِالۡحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الۡہَوٰی فَیُضِلَّکَ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ؕ اِنَّ الَّذِیۡنَ یَضِلُّوۡنَ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ لَہُمۡ عَذَابٌ شَدِیۡدٌۢ بِمَا نَسُوۡا یَوۡمَ الۡحِسَابِ ﴿٪۲۶﴾ 11
اے داؤد ہم نے کیا ہے آپ کو ( اپنا ) نائب میں پس کیا کرو لوگوں کے کے ساتھ اور نہ پیروی کیا کرو ہوائے نفس کی ، وہ بہکا دے گی تمہیں راہ خدا سے ۔ بیشک جو لوگ بھٹک جاتے ہیں راہ خدا سے ان کے لیے ہے اس لیے کہ انھوں نے بھلا دیا تھا یوم حساب کو ۔
وَمَا خَلَقۡنَا السَّمَآءَ وَالۡاَرۡضَ وَمَا بَیۡنَہُمَا بَاطِلًا ؕ ذٰلِکَ ظَنُّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ۚ فَوَیۡلٌ لِّلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنَ النَّارِ ﴿ؕ۲۷﴾
اور نہیں کیا ہم نے اور کو اور جو کچھ ان کے ہے بے یہ تو کفار کا ہے ، پس بربادی ہے کفار کے لیے ( کے ) سے ۔
اَمۡ نَجۡعَلُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ کَالۡمُفۡسِدِیۡنَ فِی الۡاَرۡضِ ۫ اَمۡ نَجۡعَلُ الۡمُتَّقِیۡنَ کَالۡفُجَّارِ ﴿۲۸﴾
کیا ہم بنا دیں گے انھیں جو ایمان لائے اور عمل کرتے رہے ، ان لوگوں کی مانند جو برپا کرتے ہیں میں ۔ یا ہم بنا دیں گے پرہیزگاروں کو فاجروں کی طرح ۔
کِتٰبٌ اَنۡزَلۡنٰہُ اِلَیۡکَ مُبٰرَکٌ لِّیَدَّبَّرُوۡۤا اٰیٰتِہٖ وَلِیَتَذَکَّرَ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ ﴿۲۹﴾
یہ ہے جو ہم نے اتاری ہے آپ کی طرف ، بڑی ، تاکہ وہ تدبر کریں اس کی آیتوں میں اور تاکہ پکڑیں عقلمند ۔
وَوَہَبۡنَا لِدَاوٗدَ سُلَیۡمٰنَ ؕ نِعۡمَ الۡعَبۡدُ ؕ اِنَّہٗۤ اَوَّابٌ ﴿ؕ۳۰﴾
اور ہم نے عطا فرمایا داؤد کو سلیمان ( جیسا فرزند ) بڑی خوبیوں والا بندہ ، بہت کرنے والا ۔
اِذۡ عُرِضَ عَلَیۡہِ بِالۡعَشِیِّ الصّٰفِنٰتُ الۡجِیَادُ ﴿ۙ۳۱﴾
جب کیے گئے آپ پر سہ پہر کو تین پر کھڑے ہونے والے تیز رفتار گھوڑے ۔
فَقَالَ اِنِّیۡۤ اَحۡبَبۡتُ حُبَّ الۡخَیۡرِ عَنۡ ذِکۡرِ رَبِّیۡ ۚ حَتّٰی تَوَارَتۡ بِالۡحِجَابِ ﴿ٝ۳۲﴾
تو آپ نے کہا مجھے ان گھوڑوں کی آئی ہے اپنے رب کی کے لیے ( پھر انھیں چلانے کا دیا ) یہاں تک کہ چھپ گئے کے ۔
رُدُّوۡہَا عَلَیَّ ؕ فَطَفِقَ مَسۡحًۢا بِالسُّوۡقِ وَالۡاَعۡنَاقِ ﴿۳۳﴾
۔( دیا ) واپس لاؤ انھیں میرے ، تو پھیرنے لگے ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ۔
وَلَقَدۡ فَتَنَّا سُلَیۡمٰنَ وَاَلۡقَیۡنَا عَلٰی کُرۡسِیِّہٖ جَسَدًا ثُمَّ اَنَابَ ﴿۳۴﴾
اور ہم نے فتنہ میں ڈالا سلیمان ( علیہ السلام ) کو اور ڈال دیا ان کے پر ایک بے جان ۔
قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِیۡ وَہَبۡ لِیۡ مُلۡکًا لَّا یَنۡۢبَغِیۡ لِاَحَدٍ مِّنۡۢ بَعۡدِیۡ ۚ اِنَّکَ اَنۡتَ الۡوَہَّابُ ﴿۳۵﴾
پھر وہ ( ہماری طرف ) متوجہ ہوئے عرض کی میرے رب ! مجھے فرما دے اور عطا فرما مجھے ایسی حکومت جو کسی کو میسر نہ ہو میرے بعد ۔ بیشک تو ہی بے انداز عطا کرنے والا ہے ۔
فَسَخَّرۡنَا لَہُ الرِّیۡحَ تَجۡرِیۡ بِاَمۡرِہٖ رُخَآءً حَیۡثُ اَصَابَ ﴿ۙ۳۶﴾
پس ہم نے کو آپ کا فرمانبردار بنا دیا ۔ چلتی تھی آپ کے حسب سے جِدھر آپ چاہتے ۔
وَالشَّیٰطِیۡنَ کُلَّ بَنَّآءٍ وَّغَوَّاصٍ ﴿ۙ۳۷﴾
اور سب دیو بھی ماتحت کر دیے ، کوئی معمار اور کوئی غوطہ خور ۔
وَّاٰخَرِیۡنَ مُقَرَّنِیۡنَ فِی الۡاَصۡفَادِ ﴿۳۸﴾
اور ان کے علاوہ ( جو سرکش تھے ) باندھ دیے گئے زنجیروں میں ۔
ہٰذَا عَطَآؤُنَا فَامۡنُنۡ اَوۡ اَمۡسِکۡ بِغَیۡرِ حِسَابٍ ﴿۳۹﴾
۔( اے سلیمان ! ) یہ ہماری عطا ہے چاہے ( کسی کو بخش کر ) کر چاہے اپنے رکھ ۔
وَاِنَّ لَہٗ عِنۡدَنَا لَزُلۡفٰی وَحُسۡنَ مَاٰبٍ ﴿۴۰﴾٪ 12
تم سے کوئی پرس نہ ہو گی ۔ اور بیشک انھیں ہمارے ہاں بڑا قرب حاصل ہے اور ۔
وَاذۡکُرۡ عَبۡدَنَاۤ اَیُّوۡبَ ۘ اِذۡ نَادٰی رَبَّہٗۤ اَنِّیۡ مَسَّنِیَ الشَّیۡطٰنُ بِنُصۡبٍ وَّعَذَابٍ ﴿ؕ۴۱﴾
اور فرمائیے ہمارے بندے ایوب کو جب انہوں نے پکارا اپنے رب کو ( الٰہی ) پہنچائی ہے مجھے شیطان نے بہت اور دکھ ۔
اُرۡکُضۡ بِرِجۡلِکَ ۚ ہٰذَا مُغۡتَسَلٌۢ بَارِدٌ وَّشَرَابٌ ﴿۴۲﴾
۔( ) اپنا ( پر ) مارو ۔ یہ نہانے کے لیے ہے اور پینے کے لیے ۔
وَوَہَبۡنَا لَہٗۤ اَہۡلَہٗ وَمِثۡلَہُمۡ مَّعَہُمۡ رَحۡمَۃً مِّنَّا وَذِکۡرٰی لِاُولِی الۡاَلۡبَابِ ﴿۴۳﴾
اور ہم نے عطا فرمایا انھیں ان کا اہل و عیال اور ان کی مانند اور ان کے ساتھ بطور رحمت اپنی جناب سے اور بطور اہل کے لیے ۔
وَخُذۡ بِیَدِکَ ضِغۡثًا فَاضۡرِبۡ بِّہٖ وَلَا تَحۡنَثۡ ؕ اِنَّا وَجَدۡنٰہُ صَابِرًا ؕ نِعۡمَ الۡعَبۡدُ ؕ اِنَّہٗۤ اَوَّابٌ ﴿۴۴﴾
اور ( ملا ) پکڑ لو اپنے سے تنکوں کا ایک مٹھا اور اس سے مارو اور نہ توڑو بیشک ہم نے پایا انھیں کرنے والا ، بڑا خوبیوں والا بندہ ، ہر ہماری طرف متوجہ ۔
وَاذۡکُرۡ عِبٰدَنَاۤ اِبۡرٰہِیۡمَ وَاِسۡحٰقَ وَیَعۡقُوۡبَ اُولِی الۡاَیۡدِیۡ وَالۡاَبۡصَارِ ﴿۴۵﴾
اور فرماؤ ہمارے ( مقبول ) بندوں ابراہیم ، اسحاق اور یعقوب کو بڑی قوتوں والے اور روشن تھے ۔
اِنَّاۤ اَخۡلَصۡنٰہُمۡ بِخَالِصَۃٍ ذِکۡرَی الدَّارِ ﴿ۚ۴۶﴾
ہم نے مختص کیا تھا انھیں ایک خاص چیز سے اور وہ دار کی تھی ۔
وَاِنَّہُمۡ عِنۡدَنَا لَمِنَ الۡمُصۡطَفَیۡنَ الۡاَخۡیَارِ ﴿ؕ۴۷﴾
اور یہ ( حضرات ) ہمارے چنے ہوئے بہت بہترین لوگ ہیں ۔
وَاذۡکُرۡ اِسۡمٰعِیۡلَ وَالۡیَسَعَ وَذَاالۡکِفۡلِ ؕ وَکُلٌّ مِّنَ الۡاَخۡیَارِ ﴿ؕ۴۸﴾
اور فرمائیے اسماعیل ، یسع اور ذی الکفل کو یہ سب بہترین لوگوں میں سے ہیں ۔
ہٰذَا ذِکۡرٌ ؕ وَاِنَّ لِلۡمُتَّقِیۡنَ لَحُسۡنَ مَاٰبٍ ﴿ۙ۴۹﴾
یہ ہے اور بیشک پرہیزگاروں کے لیے بہت عمدہ ٹھکانا ہے ۔
جَنّٰتِ عَدۡنٍ مُّفَتَّحَۃً لَّہُمُ الۡاَبۡوَابُ ﴿ۚ۵۰﴾
سدا بہار باغات ، کھلے ہوں گے ان کے لیے سب دروازے ۔
مُتَّکِئِیۡنَ فِیۡہَا یَدۡعُوۡنَ فِیۡہَا بِفَاکِہَۃٍ کَثِیۡرَۃٍ وَّشَرَابٍ ﴿۵۱﴾
تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے ان میں ۔ طلب فرماتے ہوں گے وہاں طرح طرح کے اور مشروبات ۔
وَعِنۡدَہُمۡ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ اَتۡرَابٌ ﴿۵۲﴾
اور ان کے نیچی نگاہوں والی ( عمر ، جمال و کمال ہیں ) ہم مثل ( حوریں ) ہوں گی ۔
ہٰذَا مَاتُوۡعَدُوۡنَ لِیَوۡمِ الۡحِسَابِ ﴿ؓ۵۳﴾
یہ ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا کہ روز حساب ( تمہیں ملے گا ) ۔
اِنَّ ہٰذَا لَرِزۡقُنَا مَالَہٗ مِنۡ نَّفَادٍ ﴿۵۴﴾ۚ ۖ
بیشک یہ ہمارا ( دیا ) رزق ہے جو کبھی نہ ہو گا ۔
ہٰذَا ؕ وَاِنَّ لِلطّٰغِیۡنَ لَشَرَّ مَاٰبٍ ﴿ۙ۵۵﴾
یہ ( تو پرہیزگاروں کے لیے ) اور بلاشبہ سرکشوں کے لیے برا ٹھکانا ہو گا ۔
جَہَنَّمَ ۚ یَصۡلَوۡنَہَا ۚ فَبِئۡسَ الۡمِہَادُ ﴿۵۶﴾
۔( یعنی ) جہنم ۔ وہ ہوں گے اس میں ۔ تو یہ کتنا دہ ہے ۔
ہٰذَا ۙ فَلۡیَذُوۡقُوۡہُ حَمِیۡمٌ وَّغَسَّاقٌ ﴿ۙ۵۷﴾
یہ کھولتا اور ہے پس چاہیے کہ وہ اسے چکھیں ۔
وَّاٰخَرُ مِنۡ شَکۡلِہٖۤ اَزۡوَاجٌ ﴿ؕ۵۸﴾
اور اس کے علاوہ اس کی مانند طرح طرح کا ۔
ہٰذَا فَوۡجٌ مُّقۡتَحِمٌ مَّعَکُمۡ ۚ لَا مَرۡحَبًۢا بِہِمۡ ؕ اِنَّہُمۡ صَالُوا النَّارِ ﴿۵۹﴾
یہ ( لو ) دوسری فوج چاہتی ہے تمہارے ساتھ کوئی آمدید نہیں انھیں یہ ضرور تاپنے والے ہیں ۔
قَالُوۡا بَلۡ اَنۡتُمۡ ۟ لَا مَرۡحَبًۢا بِکُمۡ ؕ اَنۡتُمۡ قَدَّمۡتُمُوۡہُ لَنَا ۚ فَبِئۡسَ الۡقَرَارُ ﴿۶۰﴾
وہ کہیں گے ( ظالمو ! ) تمہیں کوئی آمدید نہ ہو تم نے ہی آگے کیا اس کو ہمارے لیے ، سو بہت برا ٹھکانا ہے ۔
قَالُوۡا رَبَّنَا مَنۡ قَدَّمَ لَنَا ہٰذَا فَزِدۡہُ عَذَابًا ضِعۡفًا فِی النَّارِ ﴿۶۱﴾
کہیں گے اے ہمارے رب ! جس ( بدبخت ) نے آگے کیا ہے ہمارے لیے یہ ، پس بڑھا دے اس کا دوگنا میں ۔
وَقَالُوۡا مَالَنَا لَا نَرٰی رِجَالًا کُنَّا نَعُدُّہُمۡ مِّنَ الۡاَشۡرَارِ ﴿ؕ۶۲﴾
اور کہیں گے کیا وجہ ہے کہ ہمیں نظر نہیں آ رہے ( یہاں ) وہ لوگ جنہیں ہم شمار کرتے تھے برے لوگوں میں ۔
اَتَّخَذۡنٰہُمۡ سِخۡرِیًّا اَمۡ زَاغَتۡ عَنۡہُمُ الۡاَبۡصَارُ ﴿۶۳﴾
ہم کا تمسخر اڑایا کرتے تھے یا پھر گئی ہیں ان کی طرف سے ہماری آنکھیں ۔
اِنَّ ذٰلِکَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ اَہۡلِ النَّارِ ﴿٪۶۴﴾ 13
یقیناً یہ ہے دوزخی آپس میں جھگڑیں گے ۔
قُلۡ اِنَّمَاۤ اَنَا مُنۡذِرٌ ٭ۖ وَّمَا مِنۡ اِلٰہٍ اِلَّا اللّٰہُ الۡوَاحِدُ الۡقَہَّارُ ﴿ۚ۶۵﴾
۔( اے حبیب ! ) آپ فرمائیے میں تو فقط ڈرانے والا ہوں اور نہیں ہے کوئی خدا مگر اللہ ، جو ایک ہے سب پر ہے ۔
رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَیۡنَہُمَا الۡعَزِیۡزُ الۡغَفَّارُ ﴿۶۶﴾
مالک ہے آسمانوں اور کا اور جو کچھ ان کے ہے ، والا ، بہت بخشنے والا ۔
قُلۡ ہُوَ نَبَؤٌا عَظِیۡمٌ ﴿ۙ۶۷﴾
فرمائیے یہ بڑی اہم اور عظیم ہے ۔
اَنۡتُمۡ عَنۡہُ مُعۡرِضُوۡنَ ﴿۶۸﴾
تم اس سے موڑے ہوئے ہو ۔
مَاکَانَ لِیَ مِنۡ عِلۡمٍ ۢ بِالۡمَلَاِ الۡاَعۡلٰۤی اِذۡ یَخۡتَصِمُوۡنَ ﴿۶۹﴾
مجھے کوئی علم نہ تھا بالا کے بارے میں جب وہ جھگڑ رہے تھے ۔
اِنۡ یُّوۡحٰۤی اِلَیَّ اِلَّاۤ اَنَّمَاۤ اَنَا نَذِیۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۷۰﴾
نہیں وحی کی جاتی میری طرف مگر یہ کہ میں کھلا ڈرانے والا ہوں ۔
اِذۡ قَالَ رَبُّکَ لِلۡمَلٰٓئِکَۃِ اِنِّیۡ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنۡ طِیۡنٍ ﴿۷۱﴾
۔( اے حبیب ! ) فرمائیے جب کہا آپ کے رب نے فرشتوں سے کہ میں کرنے والا ہوں بشر کو کیچڑ سے ۔
فَاِذَا سَوَّیۡتُہٗ وَنَفَخۡتُ فِیۡہِ مِنۡ رُّوۡحِیۡ فَقَعُوۡا لَہٗ سٰجِدِیۡنَ ﴿۷۲﴾
پس جب میں اس کو سنوار دوں اور دوں اس میں اپنی ( طرف سے خاص ) روح تو تم گر پڑنا اس کے آگے سجدہ کرتے ہوئے ۔
فَسَجَدَ الۡمَلٰٓئِکَۃُ کُلُّہُمۡ اَجۡمَعُوۡنَ ﴿ۙ۷۳﴾
پھر سجدہ کیا سب کے سب فرشتوں نے ۔
اِلَّاۤ اِبۡلِیۡسَ ؕ اِسۡتَکۡبَرَ وَکَانَ مِنَ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۷۴﴾
سوائے ابلیس کے ۔ اس نے گھمنڈ کیا اور ہو گیا کافروں میں سے ۔
قَالَ یٰۤاِبۡلِیۡسُ مَامَنَعَکَ اَنۡ تَسۡجُدَ لِمَا خَلَقۡتُ بِیَدَیَّ ؕ اَسۡتَکۡبَرۡتَ اَمۡ کُنۡتَ مِنَ الۡعَالِیۡنَ ﴿۷۵﴾
ارشاد اے ابلیس ! کس چیز نے رکھا تمہیں اس کو سجدہ کرنے سے جسے میں نے کیا اپنے دونوں ہاتھوں سے کیا تو نے کیا یا تو اپنے آپ کو اس سے عالی مرتبہ خیال کرتا ہے ۔
قَالَ اَنَا خَیۡرٌ مِّنۡہُ ؕ خَلَقۡتَنِیۡ مِنۡ نَّارٍ وَّخَلَقۡتَہٗ مِنۡ طِیۡنٍ ﴿۷۶﴾
وہ ( گستاخ ) بولا میں بہتر ہوں اس سے ۔ تو نے کیا ہے مجھے سے اور کیا ہے اسے کیچڑ سے ۔
قَالَ فَاخۡرُجۡ مِنۡہَا فَاِنَّکَ رَجِیۡمٌ ﴿۷۷﴾ۚ ۖ
حکم ملا ( اے بے حیا ! ) نکل جا سے بیشک تو پھٹکارا گیا ۔
وَّاِنَّ عَلَیۡکَ لَعۡنَتِیۡۤ اِلٰی یَوۡمِ الدِّیۡنِ ﴿۷۸﴾
اور بیشک تجھ پر میری لعنت برسے گی تک ۔
قَالَ رَبِّ فَاَنۡظِرۡنِیۡۤ اِلٰی یَوۡمِ یُبۡعَثُوۡنَ ﴿۷۹﴾
ابلیس بولا ( اگر یہی اٹل ہے ) تو میرے رب ! مجھے دیجیے روز حشر تک ۔
قَالَ فَاِنَّکَ مِنَ الۡمُنۡظَرِیۡنَ ﴿ۙ۸۰﴾
جواب ملا بیشک تو دیے جانے والوں میں سے ہے ۔
اِلٰی یَوۡمِ الۡوَقۡتِ الۡمَعۡلُوۡمِ ﴿۸۱﴾
۔( یہ ) مقررہ کے تک ہے ۔
قَالَ فَبِعِزَّتِکَ لَاُغۡوِیَنَّہُمۡ اَجۡمَعِیۡنَ ﴿ۙ۸۲﴾
کہنے لگا تیری کی ! میں ضرور گمراہ کر دوں گا ان سب کو ۔
اِلَّا عِبَادَکَ مِنۡہُمُ الۡمُخۡلَصِیۡنَ ﴿۸۳﴾
سوائے تیرے ان بندوں کے جنہیں ان میں سے تو نے لیا ہے ۔
قَالَ فَالۡحَقُّ ۫ وَالۡحَقَّ اَقُوۡلُ ﴿ۚ۸۴﴾
فرمایا تو میں حق ہوں اور میں ہی کہتا ہوں ۔
لَاَمۡلَئَنَّ جَہَنَّمَ مِنۡکَ وَمِمَّنۡ تَبِعَکَ مِنۡہُمۡ اَجۡمَعِیۡنَ ﴿۸۵﴾
میں ضرور بھر دوں گا جہنم کو تجھ سے اور تیرے سب فرمانبرداروں سے ۔
قُلۡ مَاۤ اَسۡئَلُکُمۡ عَلَیۡہِ مِنۡ اَجۡرٍ وَّمَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُتَکَلِّفِیۡنَ ﴿۸۶﴾
آپ فرمائیے میں نہیں مانگتا تم سے اس پر کوئی اجر اور نہ میں بناوٹ کرنے والوں میں سے ہوں ۔
اِنۡ ہُوَ اِلَّا ذِکۡرٌ لِّلۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۸۷﴾
نہیں ہے یہ ( ) مگر سب جہانوں کے لیے ۔
وَلَتَعۡلَمُنَّ نَبَاَہٗ بَعۡدَ حِیۡنٍ ﴿۸۸﴾٪ 14
اور ( اے کفار ! ) تم ضرور جان لو گے اس کی کچھ عرصہ بعد ۔