سَبَّحَ لِلّٰہِ مَافِی السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ۚ وَہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۱﴾
اللہ تعالیٰ کی تسبیح کہہ رہی ہے ہر چیز جو آسمانوں اور میں ہے اور وہی سب پر ، بڑا دانا ہے ۔
The Iron
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ ﴿١﴾
In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
سَبَّحَ لِلّٰہِ مَافِی السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ۚ وَہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۱﴾
اللہ تعالیٰ کی تسبیح کہہ رہی ہے ہر چیز جو آسمانوں اور میں ہے اور وہی سب پر ، بڑا دانا ہے ۔
لَہٗ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ۚ یُحۡیٖ وَیُمِیۡتُ ۚ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۲﴾
اسی کے لیے ہے آسمانوں اور کی ۔ وہی کرتا ہے اور مارتا ہے اور وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے ۔
ہُوَ الۡاَوَّلُ وَالۡاٰخِرُ وَالظَّاہِرُ وَالۡبَاطِنُ ۚ وَہُوَ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ ﴿۳﴾
وہی اول ، وہی آخر ، وہی ، وہی باطن ، اور وہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے ۔
ہُوَ الَّذِیۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ فِیۡ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسۡتَوٰی عَلَی الۡعَرۡشِ ؕ یَعۡلَمُ مَایَلِجُ فِی الۡاَرۡضِ وَمَا یَخۡرُجُ مِنۡہَا وَمَا یَنۡزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَمَا یَعۡرُجُ فِیۡہَا ؕ وَہُوَ مَعَکُمۡ اَیۡنَ مَاکُنۡتُمۡ ؕ وَاللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِیۡرٌ ﴿۴﴾
وہی ہے جس نے فرمایا آسمانوں اور کو چھ دنوں میں ، پھر متمکن حکومت پر ، وہ جانتا ہے جو کچھ میں ہوتا ہے اور جو کچھ اس سے نکلتا ہے اور جو سے اترتا ہے اور جو اس کی طرف عروج کرتا ہے اور وہ تمہارے ساتھ ہوتا ہے جہاں بھی تم ہو اور اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کرتے ہو ( اسے ) خوب دیکھنے والا ہے ۔
لَہٗ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ؕ وَاِلَی اللّٰہِ تُرۡجَعُ الۡاُمُوۡرُ ﴿۵﴾
اسی کے لیے ہے آسمانوں اور کی ۔ اور اللہ کی طرف ہی سارے لوٹائے جائیں گے ۔
یُوۡلِجُ الَّیۡلَ فِی النَّہَارِ وَیُوۡلِجُ النَّہَارَ فِی الَّیۡلِ ؕ وَہُوَ عَلِیۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴿۶﴾
داخل فرماتا ہے ( کا کچھ ) میں اور کرتا ہے ( کا کچھ ) میں اور وہ خوب جانتا ہے جو سینوں میں ( پوشیدہ ) ہے ۔
اٰمِنُوۡا بِاللّٰہِ وَرَسُوۡلِہٖ وَاَنۡفِقُوۡا مِمَّا جَعَلَکُمۡ مُّسۡتَخۡلَفِیۡنَ فِیۡہِ ؕ فَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡکُمۡ وَاَنۡفَقُوۡا لَہُمۡ اَجۡرٌ کَبِیۡرٌ ﴿۷﴾
ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول پر اور کرو ( اس کی راہ میں ) ان مالوں سے میں اس نے تمہیں اپنا نائب بنایا ہے ۔ پس جو لوگ ایمان لائے تم میں سے اور ( راہ خدا میں ) کرتے رہے ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے ۔
وَمَا لَکُمۡ لَا تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ ۚ وَالرَّسُوۡلُ یَدۡعُوۡکُمۡ لِتُؤۡمِنُوۡا بِرَبِّکُمۡ وَقَدۡ اَخَذَ مِیۡثَاقَکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۸﴾
آخر تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ پر ایمان نہیں لاتے حالانکہ ( اس کا ) رسول دعوت دے رہا ہے تمہیں کہ ایمان لاؤ اپنے رب پر اور اللہ تعالیٰ تم سے وعدہ بھی لے چکا ہے اگر تم کرنے والے ہو ۔
ہُوَ الَّذِیۡ یُنَزِّلُ عَلٰی عَبۡدِہٖۤ اٰیٰتٍ ۢ بَیِّنٰتٍ لِّیُخۡرِجَکُمۡ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوۡرِ ؕ وَاِنَّ اللّٰہَ بِکُمۡ لَرَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۹﴾
وہی ہے جو نازل فرما رہا ہے اپنے ( محبوب ) بندہ پر روشن آیتیں تاکہ تمہیں نکال لے ( کفر کے ) اندھیروں سے ( ایمان کے ) نور کی طرف ۔ اور بیشک اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ بڑی شفقت فرمانے والا ، رحم فرمانے والا ہے ۔
وَمَا لَکُمۡ اَلَّا تُنۡفِقُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَلِلّٰہِ مِیۡرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ؕ لَا یَسۡتَوِیۡ مِنۡکُمۡ مَّنۡ اَنۡفَقَ مِنۡ قَبۡلِ الۡفَتۡحِ وَقٰتَلَ ؕ اُولٰٓئِکَ اَعۡظَمُ دَرَجَۃً مِّنَ الَّذِیۡنَ اَنۡفَقُوۡا مِنۡۢ بَعۡدُ وَقٰتَلُوۡا ؕ وَکُلًّا وَّعَدَ اللّٰہُ الۡحُسۡنٰی ؕ وَاللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِیۡرٌ ﴿٪۱۰﴾ 17
آخر تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم نہیں کرتے ( اپنے ) راہ خدا میں حالانکہ اللہ تعالیٰ ہی آسمانوں اور کا وارث ہے تم میں سے کوئی برابری نہیں کر سکتا ان کی جنہوں نے مکہ سے ( راہ خدا میں ) کیا اور کی ان کا درجہ بہت بڑا ہے ان سے جنہوں نے مکہ کے بعد کیا اور کی ۔ ( ویسے تو ) سب کے ساتھ اللہ نے وعدہ کیا ہے بھلائی کا ۔ اور اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کرتے ہو اس سے بخوبی خبردار ہے ۔
مَنۡذَا الَّذِیۡ یُقۡرِضُ اللّٰہَ قَرۡضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَہٗ لَہٗ وَلَہٗۤ اَجۡرٌ کَرِیۡمٌ ﴿ۚ۱۱﴾
کون ہے جو ( اپنا ) اللہ تعالیٰ کو ( بطور ) قرضہ حسنہ دے اور اللہ تعالیٰ کئی گنا بڑھا دے اس کے کو اس کے لیے ( اسکے علاوہ ) اسے شاندار اجر بھی ملے گا ۔
یَوۡمَ تَرَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتِ یَسۡعٰی نُوۡرُہُمۡ بَیۡنَ اَیۡدِیۡہِمۡ وَبِاَیۡمَانِہِمۡ بُشۡرٰىکُمُ الۡیَوۡمَ جَنّٰتٌ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ؕ ذٰلِکَ ہُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِیۡمُ ﴿ۚ۱۲﴾
جس روز آپ دیکھیں گے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو کہ ضو فشانی کر رہا ہو گا ان کا نور ان کے آگے بھی اور ان کی دائیں بھی ( مومنو ! ) تمہیں مژدہ ہو آج ان باغوں کا ، بہہ رہی ہیں کے نہریں ، تم وہاں رہو گے ۔ یہی وہ عظیم الشان کامیابی ہے ۔
یَوۡمَ یَقُوۡلُ الۡمُنٰفِقُوۡنَ وَالۡمُنٰفِقٰتُ لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوا انۡظُرُوۡنَا نَقۡتَبِسۡ مِنۡ نُّوۡرِکُمۡ ۚ قِیۡلَ ارۡجِعُوۡا وَرَآءَکُمۡ فَالۡتَمِسُوۡا نُوۡرًا ؕ فَضُرِبَ بَیۡنَہُمۡ بِسُوۡرٍ لَّہٗ بَابٌ ؕ بَاطِنُہٗ فِیۡہِ الرَّحۡمَۃُ وَظَاہِرُہٗ مِنۡ قِبَلِہِ الۡعَذَابُ ﴿ؕ۱۳﴾
اس روز کہیں گے منافق اور منافق عورتیں ایمان والوں سے ( اے بختو ! ) ذرا ہمارا بھی کرو ہم بھی حاصل کر لیں تمہارے نور سے ۔ ( انہیں ) کہا جائے گا لوٹ جاؤ کی طرف اور ( وہاں ) نور تلاش کرو ۔ پس کھڑی کر دی جائے گی ان کے اور اہل ایمان کے ایک جس کا ایک دروازہ ہو گا ۔ اس کے باطن میں رحمت اور اس کے کی ہو گا ۔
یُنَادُوۡنَہُمۡ اَلَمۡ نَکُنۡ مَّعَکُمۡ ؕ قَالُوۡا بَلٰی وَلٰکِنَّکُمۡ فَتَنۡتُمۡ اَنۡفُسَکُمۡ وَتَرَبَّصۡتُمۡ وَارۡتَبۡتُمۡ وَغَرَّتۡکُمُ الۡاَمَانِیُّ حَتّٰی جَآءَ اَمۡرُ اللّٰہِ وَغَرَّکُمۡ بِاللّٰہِ الۡغَرُوۡرُ ﴿۱۴﴾
منافق پکاریں گے اہل ایمان کو کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے کہیں گے بیشک ! لیکن تم نے اپنے آپ کو خود فتنوں میں ڈال دیا اور ( ہماری تباہی کا ) کرتے رہے اور میں مبتلا رہے اور دھوکہ میں ڈال دیا تمہیں جھوٹی امیدوں نے یہاں تک کہ اللہ کا فرمان آ پہنچا اور دھوکہ دیا تمہیں اللہ کے بارے میں شیطان ( دغا ) نے ۔
فَالۡیَوۡمَ لَا یُؤۡخَذُ مِنۡکُمۡ فِدۡیَۃٌ وَّلَا مِنَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ؕ مَاۡوٰىکُمُ النَّارُ ؕ ہِیَ مَوۡلٰىکُمۡ ؕ وَبِئۡسَ الۡمَصِیۡرُ ﴿۱۵﴾
پس آج نہ تم سے فدیہ کیا جائے گا اور نہ کفار سے ۔ تم ( سب کا ) ٹھکانا آتش ( جہنم ) ہے ۔ وہ تمہاری رفیق ہے اور بہت بری ہے لوٹنے کی ۔
اَلَمۡ یَاۡنِ لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنۡ تَخۡشَعَ قُلُوۡبُہُمۡ لِذِکۡرِ اللّٰہِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الۡحَقِّ ۙ وَلَا یَکُوۡنُوۡا کَالَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ مِنۡ قَبۡلُ فَطَالَ عَلَیۡہِمُ الۡاَمَدُ فَقَسَتۡ قُلُوۡبُہُمۡ ؕ وَکَثِیۡرٌ مِّنۡہُمۡ فٰسِقُوۡنَ ﴿۱۶﴾
کیا ابھی وہ نہیں آیا اہل ایمان کے لیے کہ جھک جائیں ان کے الہی کے لیے اور اس سچے کلام کے لیے جو اترا ہے اور نہ بن جائیں ان لوگوں کی طرح جنہیں دی گئی اس سے ، پس لمبی گزر گئی ان پر تو ہو گئے ان کے اور ایک کثیر تعداد ان میں سے نافرمان بن گئی ۔
اِعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ یُحۡیِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِہَا ؕ قَدۡ بَیَّنَّا لَکُمُ الۡاٰیٰتِ لَعَلَّکُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۱۷﴾
جان لو ! اللہ تعالیٰ کر دیتا ہے کو اس کے مرنے کے بعد ۔ ہم نے کھول کر کر دی ہیں تمہارے لیے ( اپنی ) نشانیاں تاکہ تم سمجھو ۔
اِنَّ الۡمُصَّدِّقِیۡنَ وَالۡمُصَّدِّقٰتِ وَاَقۡرَضُوا اللّٰہَ قَرۡضًا حَسَنًا یُّضٰعَفُ لَہُمۡ وَلَہُمۡ اَجۡرٌ کَرِیۡمٌ ﴿۱۸﴾
بیشک صدقہ دینے والے اور صدقہ دینے والیاں اور جنہوں نے اللہ تعالیٰ کو قرضہ حسنہ دیا ، کئی گنا بڑھا دیا جائے گا ان کے لیے ( ان کا ) اور انھیں فیاضانہ اجر ملے گا ۔
وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰہِ وَرُسُلِہٖۤ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الصِّدِّیۡقُوۡنَ ٭ۖ وَالشُّہَدَآءُ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ ؕ لَہُمۡ اَجۡرُہُمۡ وَنُوۡرُہُمۡ ؕ وَالَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَکَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ الۡجَحِیۡمِ ﴿٪۱۹﴾ 18
اور جو لوگ ایمان لائے اللہ اور اس کے رسولوں پر وہی ( نصیب ) اللہ جناب میں صدیق اور شہید ہیں ۔ ان کے لیے ( خصوصی ) اجر اور ان کا ( مخصوص ) نور ہے اور لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہی لوگ تو دوزخی ہیں ۔
اِعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَا الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَا لَعِبٌ وَّلَہۡوٌ وَّزِیۡنَۃٌ وَّتَفَاخُرٌۢ بَیۡنَکُمۡ وَتَکَاثُرٌ فِی الۡاَمۡوَالِ وَالۡاَوۡلَادِ ؕ کَمَثَلِ غَیۡثٍ اَعۡجَبَ الۡکُفَّارَ نَبَاتُہٗ ثُمَّ یَہِیۡجُ فَتَرٰىہُ مُصۡفَرًّا ثُمَّ یَکُوۡنُ حُطَامًا ؕ وَفِی الۡاٰخِرَۃِ عَذَابٌ شَدِیۡدٌ ۙ وَّمَغۡفِرَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ وَرِضۡوَانٌ ؕ وَمَا الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الۡغُرُوۡرِ ﴿۲۰﴾
خوب جان لو ! کہ دنیوی زندگی محض کھیل تماشا اور ( ) آرائش ہے اور آپس میں ( حسب و نسب پر ) اترانا اور ایک دوسرے سے اور حاصل کرنا ہے اس کی مثال یوں سمجھو جیسے برسے اور نہال کر دے کسانوں کو اس کی ( شاداب و سرسبز ) کھیتی ۔ پھر وہ ( یکایک ) سوکھنے لگے تو تو اسے دیکھے کہ اس کا زرد پڑ گیا ہے پھر وہ ریزہ ہو جائے اور ( پرستوں کے لیے ) میں ہو گا ( اور خدا پرستوں کے لیے ) اللہ کی بخشش اور ( اس کی ) ہو گی اور نہیں ہے دنیوی زندگی مگر نرا دھوکہ ۔
سَابِقُوۡۤا اِلٰی مَغۡفِرَۃٍ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ وَجَنَّۃٍ عَرۡضُہَا کَعَرۡضِ السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ ۙ اُعِدَّتۡ لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰہِ وَرُسُلِہٖ ؕ ذٰلِکَ فَضۡلُ اللّٰہِ یُؤۡتِیۡہِ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَاللّٰہُ ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِیۡمِ ﴿۲۱﴾
تیزی سے آگے بڑھو اپنے رب کی مغفرت کی طرف اور اس کی طرف جس کی چوڑائی اور کی چوڑائی کے ہے ۔ جو کر دی گئی ہے ان کے لیے جو ایمان لے آئے اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ۔ یہ اللہ کا فضل ( و کرم ) ہے ۔ عطا فرماتا ہے جس کو چاہتا ہے اور اللہ تعالیٰ بڑا ہی فضل فرمانے والا ہے ۔
مَاۤ اَصَابَ مِنۡ مُّصِیۡبَۃٍ فِی الۡاَرۡضِ وَلَا فِیۡۤ اَنۡفُسِکُمۡ اِلَّا فِیۡ کِتٰبٍ مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ نَّبۡرَاَہَا ؕ اِنَّ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیۡرٌ ﴿۲۲﴾ۚ ۖ
نہیں آئی کوئی مصیبت پر اور نہ تمہاری جانوں پر مگر وہ لکھی ہوئی ہے میں اس سے کہ ہم ان کو کریں ۔ بیشک یہ اللہ کے لیے بالکل ہے ۔
لِّکَیۡلَا تَاۡسَوۡا عَلٰی مَافَاتَکُمۡ وَلَا تَفۡرَحُوۡا بِمَاۤ اٰتٰىکُمۡ ؕ وَاللّٰہُ لَا یُحِبُّ کُلَّ مُخۡتَالٍ فَخُوۡرِ ۣ ﴿ۙ۲۳﴾
۔( ہم نے تمہیں یہ اس لیے بتا دیا ہے ) کہ تم غمزدہ نہ ہو اس چیز پر جو تمہیں نہ ملے اور نہ اترانے لگو اس چیز پر جو تمہیں مل جائے ۔ اور اللہ تعالیٰ نہیں رکھتا کسی مغرور ، شیخی کو ۔
الَّذِیۡنَ یَبۡخَلُوۡنَ وَیَاۡمُرُوۡنَ النَّاسَ بِالۡبُخۡلِ ؕ وَمَنۡ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الۡغَنِیُّ الۡحَمِیۡدُ ﴿۲۴﴾
جو لوگ خود بھی کرتے ہیں اور لوگوں کو بھی کا دیتے ہیں ۔ اور جو ( اللہ کے سے ) روگردانی کرے تو بیشک اللہ ہی ، ہر کا مستحق ہے ۔
لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا رُسُلَنَا بِالۡبَیِّنٰتِ وَاَنۡزَلۡنَا مَعَہُمُ الۡکِتٰبَ وَالۡمِیۡزَانَ لِیَقُوۡمَ النَّاسُ بِالۡقِسۡطِ ۚ وَاَنۡزَلۡنَا الۡحَدِیۡدَ فِیۡہِ بَاۡسٌ شَدِیۡدٌ وَّمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَلِیَعۡلَمَ اللّٰہُ مَنۡ یَّنۡصُرُہٗ وَرُسُلَہٗ بِالۡغَیۡبِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ قَوِیٌّ عَزِیۡزٌ ﴿٪۲۵﴾ 19
یقینا ہم نے بھیجا ہے اپنے رسولوں کو روشن دلیلوں کے ساتھ اور ہم نے اتاری ہے ان کے ساتھ اور میزان ( عدل ) تاکہ لوگ پر قائم رہیں ۔ اور ہم نے کیا لوہے کو ، اس میں بڑی ہے اور طرح طرح کے فائدے ہیں لوگوں کے لیے اور ( یہ سب اس لیے ) تاکہ دیکھ لے اللہ تعالیٰ کہ کون کرتا ہے اس کی اور اس کے رسولوں کی بن دیکھے ۔ یقیناً اللہ تعالیٰ بڑا زور آور ، سب پر ہے ۔
وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا وَّاِبۡرٰہِیۡمَ وَجَعَلۡنَا فِیۡ ذُرِّیَّتِہِمَا النُّبُوَّۃَ وَالۡکِتٰبَ فَمِنۡہُمۡ مُّہۡتَدٍ ۚ وَکَثِیۡرٌ مِّنۡہُمۡ فٰسِقُوۡنَ ﴿۲۶﴾
اور ہم نے نوح اور ابراہیم ( علیہما السلام ) کو بنا کر بھیجا اور ہم نے رکھ دی ان دونوں کی نسل میں نبوت اور ، پس ان میں سے چند تو یافتہ ہیں اور ان میں بہت سے نافرمان ہیں ۔
ثُمَّ قَفَّیۡنَا عَلٰۤی اٰثَارِہِمۡ بِرُسُلِنَا وَقَفَّیۡنَا بِعِیۡسَی ابۡنِ مَرۡیَمَ وَاٰتَیۡنٰہُ الۡاِنۡجِیۡلَ ۬ ۙ وَجَعَلۡنَا فِیۡ قُلُوۡبِ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡہُ رَاۡفَۃً وَّرَحۡمَۃً ؕ وَرَہۡبَانِیَّۃَ ۨ ابۡتَدَعُوۡہَا مَاکَتَبۡنٰہَا عَلَیۡہِمۡ اِلَّا ابۡتِغَآءَ رِضۡوَانِ اللّٰہِ فَمَا رَعَوۡہَا حَقَّ رِعَایَتِہَا ۚ فَاٰتَیۡنَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡہُمۡ اَجۡرَہُمۡ ۚ وَکَثِیۡرٌ مِّنۡہُمۡ فٰسِقُوۡنَ ﴿۲۷﴾
پھر ہم نے ان کے انھیں کی راہ پر اور رسول بھیجے اور ان کے عیسیٰ ابن مریم کو اور انھیں انجیل عطا فرمائی ۔ اور ہم نے رکھ دی ان لوگوں کے دلوں میں جو عیسیٰ کے تابعدار تھے ، شفقت اور رحمت اور رہبانیت کو انھوں نے خود ایجاد کیا تھا ہم نے اسے ان پر فرض نہیں کیا تھا البتہ انھوں نے رضائے الہی کے حصول کے لیے اسے کیا تھا پھر اسے وہ نباہ نہ سکے جیسے اس کے نباہنے کا حق تھا پس ہم نے عطا فرمایا جو ان میں سے ایمان لے آئے تھے ( ان کے حسن عمل اور حسن نیت ) کا اجر اور ان میں سے اکثر فاسق ( و فاجر ) تھے ۔
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَاٰمِنُوۡا بِرَسُوۡلِہٖ یُؤۡتِکُمۡ کِفۡلَیۡنِ مِنۡ رَّحۡمَتِہٖ وَیَجۡعَلۡ لَّکُمۡ نُوۡرًا تَمۡشُوۡنَ بِہٖ وَیَغۡفِرۡ لَکُمۡ ؕ وَاللّٰہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۲۸﴾ۚ ۙ
اے ایمان والو ! تم ڈرتے رہا کرو اللہ سے اور ( سچے سے ) ایمان لے آؤ اس کے رسول ( مقبول ) پر ، اللہ تمہیں عطا فرمائے گا دو حصے اپنی رحمت سے اور بنا دے گا تمہارے لیے ایک نور جس کی میں تم چلو گے اور بخش دے گا تمہیں ۔ اور اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے ۔
لِّئَلَّا یَعۡلَمَ اَہۡلُ الۡکِتٰبِ اَلَّا یَقۡدِرُوۡنَ عَلٰی شَیۡءٍ مِّنۡ فَضۡلِ اللّٰہِ وَاَنَّ الۡفَضۡلَ بِیَدِ اللّٰہِ یُؤۡتِیۡہِ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَاللّٰہُ ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِیۡمِ ﴿٪۲۹﴾ 20
۔( تم پر یہ خصوصی کرم اس لیے کیا ) تاکہ جان لیں اہل کہ ان کا کوئی نہیں اللہ تعالیٰ کے فضل ( و کرم ) پر اور یہ کہ فضل تو اللہ تعالیٰ کے دست قدرت میں ہے ، نوازتا ہے اس سے جس کو چاہتا ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ صاحب فضل عظیم ہے ۔