اَلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ اَضَلَّ اَعۡمَالَہُمۡ ﴿۱﴾
جنہوں نے ( خود بھی ) حق کا کیا اور ( دوسروں کو بھی ) اللہ کی راہ سے روکتے رہے ، اللہ نے ان کے عملوں کو کر دیا ۔
Muhammad
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ ﴿١﴾
In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
اَلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ اَضَلَّ اَعۡمَالَہُمۡ ﴿۱﴾
جنہوں نے ( خود بھی ) حق کا کیا اور ( دوسروں کو بھی ) اللہ کی راہ سے روکتے رہے ، اللہ نے ان کے عملوں کو کر دیا ۔
وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَاٰمَنُوۡا بِمَا نُزِّلَ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّہُوَ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّہِمۡ ۙ کَفَّرَ عَنۡہُمۡ سَیِّاٰتِہِمۡ وَاَصۡلَحَ بَالَہُمۡ ﴿۲﴾
اور جو لوگ ایمان لائے اور عمل کرتے رہے اور ایمان لے آئے جو اتارا گیا ( رسول معظم ) محمد پر اور وہی حق ہے ان کے رب کی طرف سے اللہ تعالیٰ نے کر دیں ان سے ان کی برائیاں اور سنوار دیا ان کے حالات کو ۔
ذٰلِکَ بِاَنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوا اتَّبَعُوا الۡبَاطِلَ وَاَنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّبَعُوا الۡحَقَّ مِنۡ رَّبِّہِمۡ ؕ کَذٰلِکَ یَضۡرِبُ اللّٰہُ لِلنَّاسِ اَمۡثَالَہُمۡ ﴿۳﴾
۔( یوں ) اس لیے کہ جنہوں نے کفر کیا وہ باطل کی پیروی کرتے تھے اور جو ایمان لائے تھے وہ حق کی پیروی کرتے تھے جو ان کے رب کی طرف سے تھا اسی طرح اللہ کرتا ہے لوگوں کے لیے ان کے حالات ۔
فَاِذَا لَقِیۡتُمُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا فَضَرۡبَ الرِّقَابِ ؕ حَتّٰۤی اِذَاۤ اَثۡخَنۡتُمُوۡہُمۡ فَشُدُّوا الۡوَثَاقَ ٭ۙ فَاِمَّا مَنًّۢا بَعۡدُ وَاِمَّا فِدَآءً حَتّٰی تَضَعَ الۡحَرۡبُ اَوۡزَارَہَا ۬ ۚ ۟ ۛ ذٰؔلِکَ ؕ ۛ وَلَوۡ یَشَآءُ اللّٰہُ لَانۡتَصَرَ مِنۡہُمۡ وَلٰکِنۡ لِّیَبۡلُوَا۠ بَعۡضَکُمۡ بِبَعۡضٍ ؕ وَالَّذِیۡنَ قُتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ فَلَنۡ یُّضِلَّ اَعۡمَالَہُمۡ ﴿۴﴾
پھر جب ( میدان میں ) تمہارا کفار سے آمنا سامنا ہو تو ان کی گردنیں اڑا دو یہاں تک کہ جب انھیں خوب کر لو تو پھر کس کر باندھو رسیاں بعد ازاں یا تو کر کے ان کو رہا کر دو یا ان سے فدیہ لو ، یہاں تک کہ اپنے ہتھیار ڈال دے یہی ہے اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو خود ہی ان سے لے لیتا لیکن وہ آزمانا چاہتا ہے تمہیں بعض کو بعض سے اور جو مار ڈالے گئے اللہ کی راہ میں ، پس اللہ ان کے ضائع نہیں ہونے دے گا ۔
سَیَہۡدِیۡہِمۡ وَیُصۡلِحُ بَالَہُمۡ ۚ﴿۵﴾
وہ پہنچا دے گا انھیں مدارج پر اور سنوار دے گا ان کے حالات کو ۔
وَیُدۡخِلُہُمُ الۡجَنَّۃَ عَرَّفَہَا لَہُمۡ ﴿۶﴾
اور کرے گا انھیں بہشت میں جس کی پہچان اس نے انھیں کرا دی تھی ۔
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ تَنۡصُرُوا اللّٰہَ یَنۡصُرۡکُمۡ وَیُثَبِّتۡ اَقۡدَامَکُمۡ ﴿۷﴾
اے ایمان والو ! اگر تم اللہ ( کے ) کی کرو گے تو وہ تمہاری فرمائے گا اور ( میدان جہاد میں ) تمہیں رکھے گا ۔
وَالَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا فَتَعۡسًا لَّہُمۡ وَاَضَلَّ اَعۡمَالَہُمۡ ﴿۸﴾
اور جہنوں نے ( حق کا ) کیا ، خدا کرے وہ کے بل اوندھے گریں اور اللہ ان کے کو کر دے ۔
ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ کَرِہُوۡا مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ فَاَحۡبَطَ اَعۡمَالَہُمۡ ﴿۹﴾
یہ اس لیے کہ انھوں نے ناپسند کیا جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا تھا پس اس نے ضائع کر دیے ان کے ۔
اَفَلَمۡ یَسِیۡرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ فَیَنۡظُرُوۡا کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ؕ دَمَّرَ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ ۫ وَلِلۡکٰفِرِیۡنَ اَمۡثَالُہَا ﴿۱۰﴾
تو کیا انھوں نے سیر و سیاحت نہیں کی میں تاکہ وہ خود دیکھ لیتے کہ کیسا ان ( منکروں ) کا جو ان سے گزرے ۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر تباہی نازل کر دی اور کفار کے لیے اسی کی سزائیں ہیں ۔
ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ مَوۡلَی الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَاَنَّ الۡکٰفِرِیۡنَ لَا مَوۡلٰی لَہُمۡ ﴿۱۱﴾٪ 5
یہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کا ہے اور کفار کا کوئی نہیں ۔
اِنَّ اللّٰہَ یُدۡخِلُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ ؕ وَالَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا یَتَمَتَّعُوۡنَ وَیَاۡکُلُوۡنَ کَمَا تَاۡکُلُ الۡاَنۡعَامُ وَالنَّارُ مَثۡوًی لَّہُمۡ ﴿۱۲﴾
بیشک اللہ تعالیٰ فرمائے گا جو ایمان لے آئے اور عمل کرتے رہے ( سدا بہار ) باغات میں ، رواں ہیں کے نہریں اور جنہوں نے کفر کیا وہ عیش اڑا رہے ہیں اور محض کھانے ( پینے ) میں مصروف ہیں ڈنگروں کی طرح حالانکہ آتش جہنم ان کا ٹھکانا ہے ۔
وَکَاَیِّنۡ مِّنۡ قَرۡیَۃٍ ہِیَ اَشَدُّ قُوَّۃً مِّنۡ قَرۡیَتِکَ الَّتِیۡۤ اَخۡرَجَتۡکَ ۚ اَہۡلَکۡنٰہُمۡ فَلَا نَاصِرَ لَہُمۡ ﴿۱۳﴾
اور بہت سی ایسی بستیاں تھیں جو و شوکت میں تمہاری اس سے کہیں تھیں جس ( کے باشندوں ) نے آپ کو نکال دیا ہم نے ان بستیوں کے مکینوں کو کر دیا پس کوئی ان کا نہ تھا ۔
اَفَمَنۡ کَانَ عَلٰی بَیِّنَۃٍ مِّنۡ رَّبِّہٖ کَمَنۡ زُیِّنَ لَہٗ سُوۡٓءُ عَمَلِہٖ وَاتَّبَعُوۡۤا اَہۡوَآءَہُمۡ ﴿۱۴﴾
کیا وہ شخص جس کے روشن دلائل ہیں اپنے رب کے سے اس ( بدبخت ) کی مانند ہے ، آراستہ کر دیے گئے جس کے لیے اس کے برے اور پیروی کرتے رہے اپنی خواہشوں کی ۔
مَثَلُ الۡجَنَّۃِ الَّتِیۡ وُعِدَ الۡمُتَّقُوۡنَ ؕ فِیۡہَاۤ اَنۡہٰرٌ مِّنۡ مَّآءٍ غَیۡرِ اٰسِنٍ ۚ وَاَنۡہٰرٌ مِّنۡ لَّبَنٍ لَّمۡ یَتَغَیَّرۡ طَعۡمُہٗ ۚ وَاَنۡہٰرٌ مِّنۡ خَمۡرٍ لَّذَّۃٍ لِّلشّٰرِبِیۡنَ ۬ ۚ وَاَنۡہٰرٌ مِّنۡ عَسَلٍ مُّصَفًّی ؕ وَلَہُمۡ فِیۡہَا مِنۡ کُلِّ الثَّمَرٰتِ وَمَغۡفِرَۃٌ مِّنۡ رَّبِّہِمۡ ؕ کَمَنۡ ہُوَ خَالِدٌ فِی النَّارِ وَسُقُوۡا مَآءً حَمِیۡمًا فَقَطَّعَ اَمۡعَآءَہُمۡ ﴿۱۵﴾
احوال اس کے جس کا وعدہ متقیوں سے کیا گیا ہے ۔ اس میں نہریں ہیں ایسے کی جس کی بو اور مزہ نہیں بگڑتا اور نہریں ہیں دودھ کی جس کا ذائقہ نہیں بدلتا ۔ اور نہریں ہیں کی جو لذت بخش ہے پینے والوں کے لیے اور نہریں ہیں شہد کی جو ستھرا ہے ۔ اور ان کے لیے اس میں ہر کے ہوں گے اور ( مزید برآں ان کے لیے ) بخشش ہو گی اپنے رب کی طرف سے ۔ ( سوچو ! ) کیا یہ ان کی مانند ہوں گے جو میں رہیں گے اور انھیں کھولتا پلایا جائے گا اور وہ کاٹ دے گا ان کی آنتوں کو ۔
وَمِنۡہُمۡ مَّنۡ یَّسۡتَمِعُ اِلَیۡکَ ۚ حَتّٰۤی اِذَا خَرَجُوۡا مِنۡ عِنۡدِکَ قَالُوۡا لِلَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ مَاذَا قَالَ اٰنِفًا ۟ اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ طَبَعَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ وَاتَّبَعُوۡۤا اَہۡوَآءَہُمۡ ﴿۱۶﴾
اور ان میں سے کچھ ایسے ہیں جو کان لگائے رکھتے ہیں آپ کی طرف حتی کہ جب نکلتے ہیں آپ کے سے تو کہتے ہیں اہل علم سے ( کہ ذرا فرمائیے ) یہ صاحب ابھی ابھی کیا کہہ رہے تھے یہی وہ ( بدبخت ) ہیں ، لگا دی ہے اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر اور وہ پیروی کرتے ہیں اپنی خواہشوں کی ۔
وَالَّذِیۡنَ اہۡتَدَوۡا زَادَہُمۡ ہُدًی وَّاٰتٰہُمۡ تَقۡوٰىہُمۡ ﴿۱۷﴾
اور جو لوگ راہ پر چلے اللہ تعالیٰ بڑھا دیتا ہے ان کے نور کو اور انھیں تقویٰ کی بخشتا ہے ۔
فَہَلۡ یَنۡظُرُوۡنَ اِلَّا السَّاعَۃَ اَنۡ تَاۡتِیَہُمۡ بَغۡتَۃً ۚ فَقَدۡ جَآءَ اَشۡرَاطُہَا ۚ فَاَنّٰی لَہُمۡ اِذَا جَآءَتۡہُمۡ ذِکۡرٰىہُمۡ ﴿۱۸﴾
پس کیا یہ لوگ کر رہے ہیں کا کہ آ جائے ان پر بیشک اس کی نشانیاں تو آ ہی گئی ہیں ( تو جب ان پر آ گئی ) تو اس ان کو کب نصیب ہو گا ۔
فَاعۡلَمۡ اَنَّہٗ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاسۡتَغۡفِرۡ لِذَنۡۢبِکَ وَلِلۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتِ ؕ وَاللّٰہُ یَعۡلَمُ مُتَقَلَّبَکُمۡ وَمَثۡوٰىکُمۡ ﴿۱۹﴾٪ 6
پس آپ جان لیں کہ نہیں کوئی معبود بجز اللہ کے اور مانگا کریں کہ اللہ آپ کو سے محفوظ رکھے نیز مغفرت طلب کریں مومن مردوں اور عورتوں کے لیے اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے تمہارے چلنے پھرنے اور کرنے کی جگہوں کو ۔
وَیَقُوۡلُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَوۡ لَا نُزِّلَتۡ سُوۡرَۃٌ ۚ فَاِذَاۤ اُنۡزِلَتۡ سُوۡرَۃٌ مُّحۡکَمَۃٌ وَّذُکِرَ فِیۡہَا الۡقِتَالُ ۙ رَاَیۡتَ الَّذِیۡنَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ مَّرَضٌ یَّنۡظُرُوۡنَ اِلَیۡکَ نَظَرَ الۡمَغۡشِیِّ عَلَیۡہِ مِنَ الۡمَوۡتِ ؕ فَاَوۡلٰی لَہُمۡ ﴿ۚ۲۰﴾
اور اہل ایمان کہتے ہیں کیوں نہ اتری کوئی نئی سورت ( جہاد کے بارے میں ) پس جب اتاری جاتی ہے کوئی واضح سورت اور اس میں جہاد کا ذکر ہوتا ہے تو آپ دیکھتے ہیں ان لوگوں کو کے دلوں میں ( نفاق کا ) روگ ہوتا ہے کہ وہ تکتے ہیں آپ کی طرف جیسے تکتا ہے جس پر موت کی غشی طاری ہو ۔ پس ان کے لیے بہتر یہ تھا
طَاعَۃٌ وَّقَوۡلٌ مَّعۡرُوۡفٌ ۟ فَاِذَا عَزَمَ الۡاَمۡرُ ۟ فَلَوۡ صَدَقُوا اللّٰہَ لَکَانَ خَیۡرًا لَّہُمۡ ﴿ۚ۲۱﴾
کہ کرتے اور اچھی کہتے ۔ پھر جب ناطق ہو چکا تو اگر وہ سچے رہتے اللہ تعالیٰ سے تو یہ ان کے لیے بہتر ہوتا ۔
فَہَلۡ عَسَیۡتُمۡ اِنۡ تَوَلَّیۡتُمۡ اَنۡ تُفۡسِدُوۡا فِی الۡاَرۡضِ وَتُقَطِّعُوۡۤا اَرۡحَامَکُمۡ ﴿۲۲﴾
پھر تم سے یہی توقع ہے کہ اگر تم کو حکومت مل جائے تو تم برپا کرو گے میں اور قطع کر دو گے اپنی قرابتوں کو ۔
اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ لَعَنَہُمُ اللّٰہُ فَاَصَمَّہُمۡ وَاَعۡمٰۤی اَبۡصَارَہُمۡ ﴿۲۳﴾
یہی وہ لوگ ہیں پر اللہ نے لعنت کی پھر ( حق سننے سے ) انھیں بہرا کر دیا اور ان کی آنکھوں کو کر دیا ۔
اَفَلَا یَتَدَبَّرُوۡنَ الۡقُرۡاٰنَ اَمۡ عَلٰی قُلُوۡبٍ اَقۡفَالُہَا ﴿۲۴﴾
کیا یہ لوگ نہیں کرتے میں یا ( ان کے ) دلوں پر قفل لگا دیے گئے ہیں ۔
اِنَّ الَّذِیۡنَ ارۡتَدُّوۡا عَلٰۤی اَدۡبَارِہِمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ مَاتَبَیَّنَ لَہُمُ الۡہُدَی ۙ الشَّیۡطٰنُ سَوَّلَ لَہُمۡ ؕ وَاَمۡلٰی لَہُمۡ ﴿۲۵﴾
بیشک جو لوگ پیٹھ پھیر کر ہٹ گئے باوجودیکہ ان پر ( کی راہ ) ہو چکی تھی ۔ شیطان نے انھیں فریب دیا اور انھیں لمبی زندگی کی آس دلائی ۔
ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ قَالُوۡا لِلَّذِیۡنَ کَرِہُوۡا مَانَزَّلَ اللّٰہُ سَنُطِیۡعُکُمۡ فِیۡ بَعۡضِ الۡاَمۡرِ ۚ ۖ وَاللّٰہُ یَعۡلَمُ اِسۡرَارَہُمۡ ﴿۲۶﴾
یہ اس لیے کہ انھوں نے کہا ان لوگوں کو جنہوں نے ناپسند کیا جو اللہ نے اتارا کہ ہم تمہاری ایک میں کریں گے ۔ اور اللہ تعالیٰ ان کے پوشیدہ مشوروں کو جانتا ہے ۔
فَکَیۡفَ اِذَا تَوَفَّتۡہُمُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ یَضۡرِبُوۡنَ وُجُوۡہَہُمۡ وَاَدۡبَارَہُمۡ ﴿۲۷﴾
پس ان کا کیا حال ہو گا جب فرشتے ان کی روحوں کو قبض کریں گے اور چوٹیں لگائیں گے ان کے چہروں اور پشتوں پر ۔
ذٰلِکَ بِاَنَّہُمُ اتَّبَعُوۡا مَاۤ اَسۡخَطَ اللّٰہَ وَکَرِہُوۡا رِضۡوَانَہٗ فَاَحۡبَطَ اَعۡمَالَہُمۡ ﴿۲۸﴾٪ 7
یہ درگت اس لیے بنے گی کہ انھوں نے پیروی کی اس کی جو اللہ کی کا باعث تھا اور ناپسند کیا اس کی کو ۔ پس اس نے ان کے ضائع کر دیے ۔
اَمۡ حَسِبَ الَّذِیۡنَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ مَّرَضٌ اَنۡ لَّنۡ یُّخۡرِجَ اللّٰہُ اَضۡغَانَہُمۡ ﴿۲۹﴾
کیا خیال کرتے ہیں وہ لوگ کے دلوں میں ( نفاق کی ) بیماری ہے کہ اللہ تعالیٰ نہیں کرے گا ان کے دلی کھوٹوں کو ۔
وَلَوۡ نَشَآءُ لَاَرَیۡنٰکَہُمۡ فَلَعَرَفۡتَہُمۡ بِسِیۡمٰہُمۡ ؕ وَلَتَعۡرِفَنَّہُمۡ فِیۡ لَحۡنِ الۡقَوۡلِ ؕ وَاللّٰہُ یَعۡلَمُ اَعۡمَالَکُمۡ ﴿۳۰﴾
اور اگر ہم چاہیں تو آپ کو دکھا دیں یہ لوگ سو آپ پہچان تو چکے ہیں ان کو ان کے چہرہ سے اور آپ ضرور پہچان لیا کریں گے انھیں ان کے انداز گفتگو سے ۔ اور اللہ جانتا ہے تمہارے کو ۔
وَلَنَبۡلُوَنَّکُمۡ حَتّٰی نَعۡلَمَ الۡمُجٰہِدِیۡنَ مِنۡکُمۡ وَالصّٰبِرِیۡنَ ۙ وَنَبۡلُوَا۠ اَخۡبَارَکُمۡ ﴿۳۱﴾
اور ہم ضرور آزمائیں گے تمہیں تاکہ ہم دیکھ لیں تم میں سے جو مصروف جہاد رہتے ہیں اور کرنے والے ہیں اور ہم پرکھیں گے تمہارے حالات کو ۔
اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَشَآقُّوا الرَّسُوۡلَ مِنۡۢ بَعۡدِ مَاتَبَیَّنَ لَہُمُ الۡہُدٰی ۙ لَنۡ یَّضُرُّوا اللّٰہَ شَیۡئًا ؕ وَسَیُحۡبِطُ اَعۡمَالَہُمۡ ﴿۳۲﴾
بیشک جو لوگ خود بھی کفر کرتے رہے اور لوگوں کو بھی روکتے رہے اللہ کی راہ سے اور کرتے رہے رسول ( کریم ) کی ، باوجودیکہ ہو چکی تھی ان کے لیے راہ ، وہ قطعاً اللہ تعالیٰ کو کچھ ضرر نہیں پہنچا سکتے اور اللہ تعالیٰ ان کے کو اکارت کر دے گا ۔
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَاَطِیۡعُوا الرَّسُوۡلَ وَلَا تُبۡطِلُوۡۤا اَعۡمَالَکُمۡ ﴿۳۳﴾
اے ایمان والو ! کرو اللہ تعالیٰ کی اور کرو رسول ( مکرم ) کی اور نہ ضائع کرو اپنے عملوں کو ۔
اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ثُمَّ مَاتُوۡا وَہُمۡ کُفَّارٌ فَلَنۡ یَّغۡفِرَ اللّٰہُ لَہُمۡ ﴿۳۴﴾
بیشک جو لوگ خود بھی کفر کرتے رہے اور دوسروں کو بھی راہ حق سے روکتے رہے ، پھر وہ مر گئے کفر کی میں تو اللہ تعالیٰ انھیں ہرگز نہیں بخشے گا ۔
فَلَا تَہِنُوۡا وَتَدۡعُوۡۤا اِلَی السَّلۡمِ ٭ۖ وَاَنۡتُمُ الۡاَعۡلَوۡنَ ٭ۖ وَاللّٰہُ مَعَکُمۡ وَلَنۡ یَّتِرَکُمۡ اَعۡمَالَکُمۡ ﴿۳۵﴾
۔( اے فرزندان اسلام ! ) مت ہارو اور ( کفار کو ) کی دعوت مت دو تم ہی آؤ گے اور اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ ہے اور وہ تمہارے ( اور کوششوں ) کو ضائع نہیں ہونے دے گا ۔
اِنَّمَا الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَا لَعِبٌ وَّلَہۡوٌ ؕ وَاِنۡ تُؤۡمِنُوۡا وَتَتَّقُوۡا یُؤۡتِکُمۡ اُجُوۡرَکُمۡ وَلَا یَسۡئَلۡکُمۡ اَمۡوَالَکُمۡ ﴿۳۶﴾
یہ دنیوی زندگی تو محض ایک کھیل اور تماشا ہے اور اگر تم ایمان لاؤ اور پرہیزگار بن جاؤ تو وہ تمہیں تمہارے اجر عطا کرے گا اور وہ نہ طلب کرے گا تم سے تمہارے ۔
اِنۡ یَّسۡئَلۡکُمُوۡہَا فَیُحۡفِکُمۡ تَبۡخَلُوۡا وَیُخۡرِجۡ اَضۡغَانَکُمۡ ﴿۳۷﴾
اگر وہ طلب کرے تم سے تمہارے اور اس پر اصرار کرے تو تم کرنے لگو اور ( یوں ) کر دے گا تمہاری ناگواریوں کو ۔
ہٰۤاَنۡتُمۡ ہٰۤؤُلَآءِ تُدۡعَوۡنَ لِتُنۡفِقُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ۚ فَمِنۡکُمۡ مَّنۡ یَّبۡخَلُ ۚ وَمَنۡ یَّبۡخَلۡ فَاِنَّمَا یَبۡخَلُ عَنۡ نَّفۡسِہٖ ؕ وَاللّٰہُ الۡغَنِیُّ وَاَنۡتُمُ الۡفُقَرَآءُ ۚ وَاِنۡ تَتَوَلَّوۡا یَسۡتَبۡدِلۡ قَوۡمًا غَیۡرَکُمۡ ۙ ثُمَّ لَا یَکُوۡنُوۡۤا اَمۡثَالَکُمۡ ﴿٪۳۸﴾ 8
ہاں تم ہی وہ لوگ ہو جنہیں دعوت دی جاتی ہے کہ ( اپنے ) کرو اللہ کی راہ میں پس تم میں سے کچھ کرنے لگتے ہیں اور جو شخص کرتا ہے تو وہ اپنی ذات سے کر رہا ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ تو غنی ہے ( کسی کا محتاج نہیں ) بلکہ تم ( اس کے ) محتاج ہو ۔ اور اگر تم روگردانی کرو گے ( تو اس سعادت سے محروم کر دیے جاؤ گے ) اور تمہارے عوض وہ دوسری قوم لے آئے گا پھر وہ تم جیسے نہ ہوں گے ۔