الٓـمّٓ ۚ﴿۱﴾
الف ۔ لام ۔ میم ۔
Luqman
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ ﴿١﴾
In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
الٓـمّٓ ۚ﴿۱﴾
الف ۔ لام ۔ میم ۔
تِلۡکَ اٰیٰتُ الۡکِتٰبِ الۡحَکِیۡمِ ۙ﴿۲﴾
یہ آیتیں ہیں حکیم کی ۔
ہُدًی وَّرَحۡمَۃً لِّلۡمُحۡسِنِیۡنَ ۙ﴿۳﴾
سراپا اور رحمت ہے نیکوکاروں کے لیے ۔
الَّذِیۡنَ یُقِیۡمُوۡنَ الصَّلٰوۃَ وَیُؤۡتُوۡنَ الزَّکٰوۃَ وَہُمۡ بِالۡاٰخِرَۃِ ہُمۡ یُوۡقِنُوۡنَ ؕ﴿۴﴾
وہ جو صحیح صحیح ادا کرتے ہیں نماز کو اور دیتے ہیں زکوۃ اور یہی لوگ ہیں جو پر پختہ رکھتے ہیں ۔
اُولٰٓئِکَ عَلٰی ہُدًی مِّنۡ رَّبِّہِمۡ وَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴿۵﴾
یہ لوگ پر ہیں اپنے رب کی سے اور یہی لوگ دونوں جہانوں میں کامران ہیں ۔
وَمِنَ النَّاسِ مَنۡ یَّشۡتَرِیۡ لَہۡوَ الۡحَدِیۡثِ لِیُضِلَّ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ بِغَیۡرِ عِلۡمٍ ٭ۖ وَّیَتَّخِذَہَا ہُزُوًا ؕ اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ عَذَابٌ مُّہِیۡنٌ ﴿۶﴾
اور کئی ایسے لوگ بھی ہیں جو بیوپار کرتے ہیں ( مقصد حیات سے ) کر دینے والی باتوں کا تاکہ بھٹکاتے رہیں راہ خدا سے ( اس کے نتائج بد سے ) بے ہو کر اور اس کا اڑاتے ہیں یہ لوگ ہیں جنکے لیے رسوا کن ہے ۔
وَاِذَا تُتۡلٰی عَلَیۡہِ اٰیٰتُنَا وَلّٰی مُسۡتَکۡبِرًا کَاَنۡ لَّمۡ یَسۡمَعۡہَا کَاَنَّ فِیۡۤ اُذُنَیۡہِ وَقۡرًا ۚ فَبَشِّرۡہُ بِعَذَابٍ اَلِیۡمٍ ﴿۷﴾
اور جب پڑھ کر سنائی جاتی ہیں اسے ہماری آیتیں تو پھیر لیتا ہے کرتے ہوئے ۔ گویا اس نے انھیں سنا ہی نہیں جیسے اس کے دونوں کان بہرے ہیں سو آپ اسے دردناک کی خوشخبری سنا دیں ۔
اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَہُمۡ جَنّٰتُ النَّعِیۡمِ ۙ﴿۸﴾
بیشک جو لوگ ایمان لائے اور عمل کرتے رہے ، ان کے لیے خوشیوں والے باغات ہیں ۔
خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ؕ وَعۡدَ اللّٰہِ حَقًّا ؕ وَہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۹﴾
وہ ان میں رہیں گے ۔ اللہ کا یہ سچا وعدہ ہے ۔ اور وہی سب پر ، بڑا دانا ہے ۔
خَلَقَ السَّمٰوٰتِ بِغَیۡرِ عَمَدٍ تَرَوۡنَہَا وَاَلۡقٰی فِی الۡاَرۡضِ رَوَاسِیَ اَنۡ تَمِیۡدَ بِکُمۡ وَبَثَّ فِیۡہَا مِنۡ کُلِّ دَآبَّۃٍ ؕ وَاَنۡزَلۡنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَنۡۢبَتۡنَا فِیۡہَا مِنۡ کُلِّ زَوۡجٍ کَرِیۡمٍ ﴿۱۰﴾
اس نے فرمایا آسمانوں کو ایسے ستونوں کے بغیر جنہیں تم دیکھ سکو اور کھڑے کر دئیے ہیں میں اونچے اونچے تاکہ ڈولتی نہ رہے ساتھ تمہارے اور پھیلا دیے ہیں اس میں ہر کے جانور اور اتارا ہم نے سے ۔ پس اگائے ہم نے میں ہر نوع کے نفیس جوڑے ۔
ہٰذَا خَلۡقُ اللّٰہِ فَاَرُوۡنِیۡ مَاذَا خَلَقَ الَّذِیۡنَ مِنۡ دُوۡنِہٖ ؕ بَلِ الظّٰلِمُوۡنَ فِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۱۱﴾٪ 10
یہ تو ہے اللہ کی تخلیق ( اے مشرکو ! ) اب ذرا دکھاؤ مجھ کو کیا بنایا ہے اوروں نے اس کے سوا ؟ ( کچھ بھی نہیں ) مگر یہ ظالم کھلی گمراہی میں ہیں ۔
وَلَقَدۡ اٰتَیۡنَا لُقۡمٰنَ الۡحِکۡمَۃَ اَنِ اشۡکُرۡ لِلّٰہِ ؕ وَمَنۡ یَّشۡکُرۡ فَاِنَّمَا یَشۡکُرُ لِنَفۡسِہٖ ۚ وَمَنۡ کَفَرَ فَاِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ حَمِیۡدٌ ﴿۱۲﴾
اور ہم نے عنایت فرمائی لقمان کو حکمت ( و دانائی ) اور فرمایا اللہ کا شکر ادا کرو اور جو شکر ادا کرتا ہے تو وہ شکر ادا کرتا ہے اپنے بھلے کے لیے اور جو کفران کرتا ہے تو بیشک اللہ تعالیٰ غنی ہے حمید ہے ۔
وَاِذۡ قَالَ لُقۡمٰنُ لِابۡنِہٖ وَہُوَ یَعِظُہٗ یٰبُنَیَّ لَا تُشۡرِکۡ بِاللّٰہِ ؕ ؔاِنَّ الشِّرۡکَ لَظُلۡمٌ عَظِیۡمٌ ﴿۱۳﴾
اور کرو جب لقمان نے اپنے بیٹے کو کہا اسے کرتے ہوئے اے میرے پیارے فرزند ! کسی کو اللہ کا نہ بنانا ۔ یقیناً شرک ظلم عظیم ہے ۔
وَوَصَّیۡنَا الۡاِنۡسَانَ بِوَالِدَیۡہِ ۚ حَمَلَتۡہُ اُمُّہٗ وَہۡنًا عَلٰی وَہۡنٍ وَّفِصٰلُہٗ فِیۡ عَامَیۡنِ اَنِ اشۡکُرۡ لِیۡ وَلِوَالِدَیۡکَ ؕ اِلَیَّ الۡمَصِیۡرُ ﴿۱۴﴾ ؒ
اور ہم نے تاکیدی دیا کو کہ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرے ۔ شکم میں اٹھائے رکھا ہے اسے اس کی نے کمزوری پر کمزوری کے باوجود اور اس کا دودھ چھوٹنے میں دو لگے ( اس لیے ہم نے دیا ) کہ شکر ادا کرو میرا اور اپنے کا ( آخرکار ) میری طرف ہی ( تمھیں ) لوٹنا ہے ۔
وَاِنۡ جَاہَدٰکَ عَلٰۤی اَنۡ تُشۡرِکَ بِیۡ مَالَیۡسَ لَکَ بِہٖ عِلۡمٌ ۙ فَلَا تُطِعۡہُمَا وَصَاحِبۡہُمَا فِی الدُّنۡیَا مَعۡرُوۡفًا ۫ وَّاتَّبِعۡ سَبِیۡلَ مَنۡ اَنَابَ اِلَیَّ ۚ ثُمَّ اِلَیَّ مَرۡجِعُکُمۡ فَاُنَبِّئُکُمۡ بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۵﴾
اور اگر وہ دباؤ ڈالیں تم پر کہ تو میرا ٹھہرائے اس کو جس کا تجھے علم تک نہیں ، تو ان کا یہ کہنا نہ مان البتہ گزران کرو ان کے ساتھ میں خوبصورتی سے اور پیروی کرو اس کے کی جو میری طرف مائل پھر میری طرف ہی تمہیں لوٹنا ہے ۔ پس میں کروں گا تمہیں ان کاموں سے جو تم کیا کرتے تھے ۔
یٰبُنَیَّ اِنَّہَاۤ اِنۡ تَکُ مِثۡقَالَ حَبَّۃٍ مِّنۡ خَرۡدَلٍ فَتَکُنۡ فِیۡ صَخۡرَۃٍ اَوۡ فِی السَّمٰوٰتِ اَوۡ فِی الۡاَرۡضِ یَاۡتِ بِہَا اللّٰہُ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَطِیۡفٌ خَبِیۡرٌ ﴿۱۶﴾
۔( لقمان نے کہا ) پیارے فرزند ! اگر کوئی چیز رائی کے دانہ کے وزنی ہو یا پھر وہ کسی چٹان میں یا آسمانوں یا میں ( چھپی ) ہو تو لے آئے گا اسے اللہ تعالیٰ ۔ بیشک اللہ تعالیٰ بہت باریک بین ، ہر چیز سے باخبر ہے ۔
یٰبُنَیَّ اَقِمِ الصَّلٰوۃَ وَاۡمُرۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَانۡہَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ وَاصۡبِرۡ عَلٰی مَاۤ اَصَابَکَ ؕ اِنَّ ذٰلِکَ مِنۡ عَزۡمِ الۡاُمُوۡرِ ﴿ۚ۱۷﴾
میرے پیارے بچے ! نماز صحیح صحیح ادا کیا کرو کا دیا کرو ۔ اور سے روکتے رہو اور کیا کرو ہر مصیبت پر جو تمہیں پہنچے بیشک یہ بڑی کے ہیں ۔
وَلَا تُصَعِّرۡ خَدَّکَ لِلنَّاسِ وَلَا تَمۡشِ فِی الۡاَرۡضِ مَرَحًا ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ کُلَّ مُخۡتَالٍ فَخُوۡرٍ ﴿ۚ۱۸﴾
اور ( کرتے ہوئے ) نہ پھیر لے اپنے رخسار کو لوگوں کی طرف سے اور نہ چلا کر میں اتراتے ہوئے ۔ بیشک اللہ تعالیٰ نہیں کرتا کسی گھمنڈ کرنے والے ، فخر کرنے والے کو ۔
وَاقۡصِدۡ فِیۡ مَشۡیِکَ وَاغۡضُضۡ مِنۡ صَوۡتِکَ ؕ اِنَّ اَنۡــکَرَ الۡاَصۡوَاتِ لَصَوۡتُ الۡحَمِیۡرِ ﴿۱۹﴾٪ 11
اور درمیانہ روی کر اپنی رفتار میں اور دھیمی کر اپنی بیشک سب سے وحشت انگیز گدھے کی ہے ۔
اَلَمۡ تَرَوۡا اَنَّ اللّٰہَ سَخَّرَ لَکُمۡ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الۡاَرۡضِ وَاَسۡبَغَ عَلَیۡکُمۡ نِعَمَہٗ ظَاہِرَۃً وَّبَاطِنَۃً ؕ وَمِنَ النَّاسِ مَنۡ یُّجَادِلُ فِی اللّٰہِ بِغَیۡرِ عِلۡمٍ وَّلَا ہُدًی وَّلَا کِتٰبٍ مُّنِیۡرٍ ﴿۲۰﴾
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمانبردار بنا دیا ہے تمہارے لیے جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ میں ہے اور تمام کر دی ہیں اس نے تم پر ہر کی نعمتیں ظاہری بھی اور باطنی بھی اور بعض ایسے ( ) لوگ بھی ہیں جو جھگڑتے ہیں ( رسول کریم سے ) اللہ تعالیٰ کے بارے میں ، نہ ان کے علم ہے نہ اور نہ کوئی روشن ۔
وَاِذَا قِیۡلَ لَہُمُ اتَّبِعُوۡا مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ قَالُوۡا بَلۡ نَتَّبِعُ مَاوَجَدۡنَا عَلَیۡہِ اٰبَآءَنَا ؕ اَوَ لَوۡ کَانَ الشَّیۡطٰنُ یَدۡعُوۡہُمۡ اِلٰی عَذَابِ السَّعِیۡرِ ﴿۲۱﴾
اور جب انھیں کہا جاتا ہے کہ پیروی کرو جو اللہ تعالیٰ نے اتارا ہے کہتے ہیں ( نہیں ) بلکہ ہم تو پیروی کریں گے اس کی جس پر پایا ہم نے اپنے دادا کو ۔ کیا وہ ( انہیں کا اتباع کریں گے ) خواہ شیطان انھیں ( اس طرح ) دعوت دے رہا ہو بھڑکتے ہوئے کی ۔
وَمَنۡ یُّسۡلِمۡ وَجۡہَہٗۤ اِلَی اللّٰہِ وَہُوَ مُحۡسِنٌ فَقَدِ اسۡتَمۡسَکَ بِالۡعُرۡوَۃِ الۡوُثۡقٰی ؕ وَاِلَی اللّٰہِ عَاقِبَۃُ الۡاُمُوۡرِ ﴿۲۲﴾
اور جو شخص اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کر دیتا ہے درآں حال کہ وہ محسن ہو ، تو بیشک اس نے مضبوطی سے پکڑ لیا حلقہ کو اور اللہ کی طرف ہی ہے تمام کاموں کا ۔
وَمَنۡ کَفَرَ فَلَا یَحۡزُنۡکَ کُفۡرُہٗ ؕ اِلَیۡنَا مَرۡجِعُہُمۡ فَنُنَبِّئُہُمۡ بِمَا عَمِلُوۡا ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴿۲۳﴾
اور جس نے کفر کیا تو نہ غمزدہ کرے آپ کو اس کا کفر ۔ ہماری طرف ہی انھیں لوٹنا ہے ۔ پس ہم کریں گے انھیں جو انھوں نے کیا تھا ۔ بیشک اللہ تعالیٰ جاننے والا ہے جو کچھ سینوں میں ( چھپا ) ہے ۔
نُمَتِّعُہُمۡ قَلِیۡلًا ثُمَّ نَضۡطَرُّہُمۡ اِلٰی عَذَابٍ غَلِیۡظٍ ﴿۲۴﴾
ہم لطف اندوز ہونے دیں گے انہیں تھوڑی دیر پھر ہم انھیں ہانک کر لے جائیں گے کی طرف ۔
وَلَئِنۡ سَاَلۡتَہُمۡ مَّنۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ لَیَقُوۡلُنَّ اللّٰہُ ؕ قُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ ؕ بَلۡ اَکۡثَرُہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۲۵﴾
اور اگر دریافت کریں ان سے کہ کس نے کیا آسمانوں اور کو تو ضرور کہیں گے کہ اللہ نے ۔ فرمائیے الحمدللہ ( حق واضح ہو گیا ) بلکہ ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے ۔
لِلّٰہِ مَافِی السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الۡغَنِیُّ الۡحَمِیۡدُ ﴿۲۶﴾
اللہ تعالیٰ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور میں ہے ۔ یقیناً اللہ ہی ہے ( اور ) ہر کے ۔
وَلَوۡ اَنَّ مَافِی الۡاَرۡضِ مِنۡ شَجَرَۃٍ اَقۡلَامٌ وَّالۡبَحۡرُ یَمُدُّہٗ مِنۡۢ بَعۡدِہٖ سَبۡعَۃُ اَبۡحُرٍ مَّا نَفِدَتۡ کَلِمٰتُ اللّٰہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ ﴿۲۷﴾
اور اگر میں جتنے ہیں قلمیں بن جائیں اور سمندر بن جائے اور اس کے علاوہ سات سمندر اسے ( مزید ) مہیا کریں تو پھر بھی نہیں ہوں گی اللہ کی باتیں ۔ بیشک اللہ سب پر ، بڑا دانا ہے ۔
مَاخَلۡقُکُمۡ وَلَا بَعۡثُکُمۡ اِلَّا کَنَفۡسٍ وَّاحِدَۃٍ ؕ اِنَّ اللّٰہَ سَمِیۡعٌۢ بَصِیۡرٌ ﴿۲۸﴾
نہیں ہے تم سب کو کرنا اور مارنے کے بعد پھر کرنا ( اللہ کے ) مگر ایک نفس کی مانند ۔ بیشک اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے والا ، دیکھنے والا ہے ۔
اَلَمۡ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ یُوۡلِجُ الَّیۡلَ فِی النَّہَارِ وَیُوۡلِجُ النَّہَارَ فِی الَّیۡلِ وَسَخَّرَ الشَّمۡسَ وَالۡقَمَرَ ۫ کُلٌّ یَّجۡرِیۡۤ اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی وَّاَنَّ اللّٰہَ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِیۡرٌ ﴿۲۹﴾
کیا تم نے ملاحظہ نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ کرتا ہے کو میں اور کرتا ہے کو میں اور اس نے میں لگا دیا ہے سورج اور کو ، ہر ایک چل رہا ہے ( اپنے مدار میں ) تک اور یقیناً اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کرتے ہو خوب جاننے والا ہے ۔
ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ ہُوَ الۡحَقُّ وَاَنَّ مَایَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِہِ الۡبَاطِلُ ۙ وَاَنَّ اللّٰہَ ہُوَ الۡعَلِیُّ الۡکَبِیۡرُ ﴿۳۰﴾٪ 12
یہ ہیں اس کی قدرت کے کرشمے تاکہ وہ جان لیں کہ اللہ ہی حق ہے اور بلاشبہ جنہیں وہ پکارتے ہیں اس کے سوا وہ سب باطل ہیں اور بلاشبہ اللہ ہی بڑی شان والا ہے ۔
اَلَمۡ تَرَ اَنَّ الۡفُلۡکَ تَجۡرِیۡ فِی الۡبَحۡرِ بِنِعۡمَتِ اللّٰہِ لِیُرِیَکُمۡ مِّنۡ اٰیٰتِہٖ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّکُلِّ صَبَّارٍ شَکُوۡرٍ ﴿۳۱﴾
کیا تم ملاحظہ نہیں کرتے کہ چلتی ہے سمندر میں محض اس کی مہربانی سے تاکہ وہ دکھائے تمہیں اپنی ( قدرت کی ) نشانیاں ۔ بیشک اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ہر کرنے والے شکر گزار کے لیے ۔
وَاِذَا غَشِیَہُمۡ مَّوۡجٌ کَالظُّلَلِ دَعَوُا اللّٰہَ مُخۡلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ ۬ ۚ فَلَمَّا نَجّٰہُمۡ اِلَی الۡبَرِّ فَمِنۡہُمۡ مُّقۡتَصِدٌ ؕ وَمَا یَجۡحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا کُلُّ خَتَّارٍ کَفُوۡرٍ ﴿۳۲﴾
اور جب ڈھانپ لیتی ہیں انھیں پہاڑوں جیسی موجیں اس پکارتے ہیں اللہ تعالیٰ کو خالص کرتے ہوئے اس کے لیے اپنے عقیدہ کو ۔ پھر جب بچا لاتا ہے انھیں ساحل تک تو ان میں سے ( چند ہی ) حق پر رہتے ہیں ۔ اور نہیں کرتا ہماری آیتوں کا مگر ہر وہ شخص جو غدار ( اور ) ہے ۔
یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوۡا رَبَّکُمۡ وَاخۡشَوۡا یَوۡمًا لَّا یَجۡزِیۡ وَالِدٌ عَنۡ وَّلَدِہٖ ۫ وَلَا مَوۡلُوۡدٌ ہُوَ جَازٍ عَنۡ وَّالِدِہٖ شَیۡئًا ؕ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰہِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّکُمُ الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَا ٝ وَلَا یَغُرَّنَّکُمۡ بِاللّٰہِ الۡغَرُوۡرُ ﴿۳۳﴾
اے لوگو ! ڈرتے رہا کرو اپنے رب سے اور ڈرو اس سے کہ نہ دے سکے گا کوئی اپنے بیٹے کی طرف سے اور نہ ہی دے سکے گا اپنے کی سے کچھ بھی ۔ بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے اور نہ دھوکہ دے تمہیں دنیوی زندگی اور نہ فریب میں مبتلا کرے تمہیں اللہ سے وہ بڑا مکار دھوکہ ۔
اِنَّ اللّٰہَ عِنۡدَہٗ عِلۡمُ السَّاعَۃِ ۚ وَیُنَزِّلُ الۡغَیۡثَ ۚ وَیَعۡلَمُ مَافِی الۡاَرۡحَامِ ؕ وَمَا تَدۡرِیۡ نَفۡسٌ مَّاذَا تَکۡسِبُ غَدًا ؕ وَمَا تَدۡرِیۡ نَفۡسٌۢ بِاَیِّ اَرۡضٍ تَمُوۡتُ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌ خَبِیۡرٌ ﴿٪۳۴﴾ 13
بیشک اللہ کے ہی ہے کا علم اور وہی اتارتا ہے مینہ اور جانتا ہے جو کچھ ( ماؤں کے ) رحموں میں ہے اور کوئی نہیں جانتا کہ وہ کیا کمائے گا ۔ اور کوئی نہیں جانتا کہ کس میں مرے گا ۔ بیشک اللہ تعالیٰ علیم ( اور ) خبیر ہے ۔