الٓـمّٓ ۚ﴿۱﴾
الف ۔ لام ۔ میم ۔
The Prostration
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ ﴿١﴾
In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
الٓـمّٓ ۚ﴿۱﴾
الف ۔ لام ۔ میم ۔
تَنۡزِیۡلُ الۡکِتٰبِ لَا رَیۡبَ فِیۡہِ مِنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ؕ﴿۲﴾
اس کا نزول اس میں ذرہ نہیں ، سب جہانوں کے پروردگار کی طرف سے ہے ۔
اَمۡ یَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىہُ ۚ بَلۡ ہُوَ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّکَ لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اَتٰہُمۡ مِّنۡ نَّذِیۡرٍ مِّنۡ قَبۡلِکَ لَعَلَّہُمۡ یَہۡتَدُوۡنَ ﴿۳﴾
کیا وہ کہتے ہیں کہ اس شخص نے اسے خود گھڑا ہے ہرگز نہیں ، بلکہ وہی حق ہے آپ کے رب کی طرف سے تاکہ آپ ڈرائیں اس قوم کو ، نہیں آیا جنکے کوئی ڈرانے والا آپ سے تاکہ وہ پائیں ۔
اَللّٰہُ الَّذِیۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ وَمَا بَیۡنَہُمَا فِیۡ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسۡتَوٰی عَلَی الۡعَرۡشِ ؕ مَالَکُمۡ مِّنۡ دُوۡنِہٖ مِنۡ وَّلِیٍّ وَّلَا شَفِیۡعٍ ؕ اَفَلَا تَتَذَکَّرُوۡنَ ﴿۴﴾
اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے فرمایا آسمانوں اور کو اور جو کچھ ان کے ہے چھ دنوں میں پھر متمکن ( سلطانی ) پر ۔ نہیں تمہارے لیے اس کے بغیر کوئی اور نہ کوئی سفارشی ۔ کیا تم اتنا بھی نہیں سمجھتے ۔
یُدَبِّرُ الۡاَمۡرَ مِنَ السَّمَآءِ اِلَی الۡاَرۡضِ ثُمَّ یَعۡرُجُ اِلَیۡہِ فِیۡ یَوۡمٍ کَانَ مِقۡدَارُہٗۤ اَلۡفَ سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوۡنَ ﴿۵﴾
تدبیر فرماتا ہے ہر ( چھوٹے بڑے ) کی سے تک پھر کرے گا ہر اس کی طرف اس روز جس کی مقدار ہزار ہے اس سے جس سے تم شمار کرتے ہو ۔
ذٰلِکَ عٰلِمُ الۡغَیۡبِ وَالشَّہَادَۃِ الۡعَزِیۡزُ الرَّحِیۡمُ ۙ﴿۶﴾
وہی جاننے والا ہے ہر پوشیدہ اور کا ، سب پر ، رحم فرمانے والا ۔
الَّذِیۡۤ اَحۡسَنَ کُلَّ شَیۡءٍ خَلَقَہٗ وَبَدَاَ خَلۡقَ الۡاِنۡسَانِ مِنۡ طِیۡنٍ ۚ﴿۷﴾
وہ جس نے خوب بنایا جس چیز کو بھی بنایا اور ابتدا فرمائی کی تخلیق کی گارے سے ۔
ثُمَّ جَعَلَ نَسۡلَہٗ مِنۡ سُلٰلَۃٍ مِّنۡ مَّآءٍ مَّہِیۡنٍ ۚ﴿۸﴾
پھر کیا اس کی نسل کو ایک جوہر سے یعنی حقیر سے ۔
ثُمَّ سَوّٰىہُ وَنَفَخَ فِیۡہِ مِنۡ رُّوۡحِہٖ وَجَعَلَ لَکُمُ السَّمۡعَ وَالۡاَبۡصَارَ وَالۡاَفۡئِدَۃَ ؕ قَلِیۡلًا مَّا تَشۡکُرُوۡنَ ﴿۹﴾
پھر اس ( کے قد و قامت ) کو فرمایا اور دی اس میں اپنی روح اور بنا دئیے تمہارے لیے کان آنکھیں اور تم لوگ بہت شکر بجا لاتے ہو ۔
وَقَالُوۡۤا ءَاِذَا ضَلَلۡنَا فِی الۡاَرۡضِءَ اِنَّا لَفِیۡ خَلۡقٍ جَدِیۡدٍ ۬ ؕ بَلۡ ہُمۡ بِلِقَآیِٔ رَبِّہِمۡ کٰفِرُوۡنَ ﴿۱۰﴾
اور کہنے لگے کیا جب ( مرنے کے بعد ) ہم ہو جائیں گے میں تو کیا ہم از نو کیے جائیں گے درحقیقت یہ لوگ اپنے رب کی ملاقات سے کر رہے ہیں ۔
قُلۡ یَتَوَفّٰىکُمۡ مَّلَکُ الۡمَوۡتِ الَّذِیۡ وُکِّلَ بِکُمۡ ثُمَّ اِلٰی رَبِّکُمۡ تُرۡجَعُوۡنَ ﴿٪۱۱﴾ 14
فرمائیے جان قبض کرے گا تمہاری موت کا جو تم پر کر دیا گیا ہے پھر اپنے رب کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے ۔
وَلَوۡ تَرٰۤی اِذِ الۡمُجۡرِمُوۡنَ نَاکِسُوۡا رُءُوۡسِہِمۡ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ ؕ رَبَّنَاۤ اَبۡصَرۡنَا وَسَمِعۡنَا فَارۡجِعۡنَا نَعۡمَلۡ صَالِحًا اِنَّا مُوۡقِنُوۡنَ ﴿۱۲﴾
اور کاش ! تم دیکھو جب مجرم اپنے جھکائے ہوئے اپنے رب کے حضور ہوں گے ( کہیں گے ) اے ہمارے رب ! ہم نے ( اپنی آنکھوں سے ) دیکھ لیا اور ( کانوں سے ) سن لیا پس ( ایک بار ) بھیج ہمیں ( میں ) اب ہم عمل کریں گے ہمیں اب پورا آ گیا ہے ۔
وَلَوۡ شِئۡنَا لَاٰتَیۡنَا کُلَّ نَفۡسٍ ہُدٰىہَا وَلٰکِنۡ حَقَّ الۡقَوۡلُ مِنِّیۡ لَاَمۡلَئَنَّ جَہَنَّمَ مِنَ الۡجِنَّۃِ وَالنَّاسِ اَجۡمَعِیۡنَ ﴿۱۳﴾
۔( ملے گا ) اور اگر ہم چاہتے تو ہم دے دیتے ہر شخص کو اس کی لیکن یہ طے ہو چکی ہے میری طرف سے کہ میں ضرور بھروں گا جہنم کو تمام ( سرکش ) جنوں اور ( نافرمان ) انسانوں سے ۔
فَذُوۡقُوۡا بِمَا نَسِیۡتُمۡ لِقَآءَ یَوۡمِکُمۡ ہٰذَا ۚ اِنَّا نَسِیۡنٰکُمۡ وَذُوۡقُوۡا عَذَابَ الۡخُلۡدِ بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۴﴾
پس اب چکھو سزا اس جرم کی کہ تم نے بھلا دیا تھا اپنے اس روز کی ملاقات کو ہم نے تم کو نظر انداز کر دیا اور چکھو ابدی ان ( کرتوتوں ) کے عوض جو تم کیا کرتے تھے ۔
اِنَّمَا یُؤۡمِنُ بِاٰیٰتِنَا الَّذِیۡنَ اِذَا ذُکِّرُوۡا بِہَا خَرُّوۡا سُجَّدًا وَّسَبَّحُوۡا بِحَمۡدِ رَبِّہِمۡ وَہُمۡ لَا یَسۡتَکۡبِرُوۡنَ ﴿ٛ۱۵﴾
صرف وہی لوگ ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں جنہیں جب ہماری آیتوں سے کی جاتی ہے تو گر پڑتے ہیں سجدہ کرتے ہوئے اور پاکی کرتے ہیں اپنے رب کی حمد کرتے ہوئے اور وہ غرور و نہیں کرتے ۔
تَتَجَافٰی جُنُوۡبُہُمۡ عَنِ الۡمَضَاجِعِ یَدۡعُوۡنَ رَبَّہُمۡ خَوۡفًا وَّطَمَعًا ۫ وَّمِمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ یُنۡفِقُوۡنَ ﴿۱۶﴾
دور رہتے ہیں ان کے ( اپنے ) بستروں سے پکارتے ہیں اپنے رب کو ڈرتے ہوئے اور رکھتے ہوئے اور ان نعمتوں سے جو ہم نے ان کو دی ہیں کرتے رہے ہیں ۔
فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٌ مَّاۤ اُخۡفِیَ لَہُمۡ مِّنۡ قُرَّۃِ اَعۡیُنٍ ۚ جَزَآءًۢ بِمَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۷﴾
پس نہیں جانتا کوئی شخص جو ( نعمتیں ) چھپا کر رکھی گئی ہیں ان کے لیے سے آنکھیں ٹھنڈی ہونگی یہ صلہ ہے ان ( حسنہ ) کا جو وہ کیا کرتے تھے ۔
اَفَمَنۡ کَانَ مُؤۡمِنًا کَمَنۡ کَانَ فَاسِقًا ؕ ؔلَا یَسۡتَوٗنَ ﴿۱۸﴾
تو کیا جو شخص ایماندار ہو وہ اس کی مانند ہو سکتا ہے جو فاسق ہو ؟ ( نہیں ) یہ یکساں نہیں ۔
اَمَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَہُمۡ جَنّٰتُ الۡمَاۡوٰی ۫ نُزُلًۢا بِمَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۹﴾
پس جو لوگ ایمان لائے اور عمل کرتے رہے تو ان کے لیے جنتیں کا ٹھکانا ہیں بطور ضیافت ان ( نیکیوں ) کے عوض جو وہ کیا کرتے تھے ۔
وَاَمَّا الَّذِیۡنَ فَسَقُوۡا فَمَاۡوٰىہُمُ النَّارُ ؕ کُلَّمَاۤ اَرَادُوۡۤا اَنۡ یَّخۡرُجُوۡا مِنۡہَاۤ اُعِیۡدُوۡا فِیۡہَا وَقِیۡلَ لَہُمۡ ذُوۡقُوۡا عَذَابَ النَّارِ الَّذِیۡ کُنۡتُمۡ بِہٖ تُکَذِّبُوۡنَ ﴿۲۰﴾
اور جنہوں نے کی تو ان کا ابدی ٹھکانا ہے ۔ جتنی مرتبہ وہ کریں گے کہ ( کسی طرح ) یہاں سے نکل جائیں تو ( ہر بار ) انھیں لوٹا دیا جائے گا اس میں اور انھیں کہا جائے گا چکھو کا جسے تم جھٹلایا کرتے تھے ۔
وَلَنُذِیۡقَنَّہُمۡ مِّنَ الۡعَذَابِ الۡاَدۡنٰی دُوۡنَ الۡعَذَابِ الۡاَکۡبَرِ لَعَلَّہُمۡ یَرۡجِعُوۡنَ ﴿۲۱﴾
اور ہم ضرور چکھاتے رہیں گے انھیں تھوڑا بڑے سے تاکہ وہ ( فسق و فجور سے ) آ جائیں ۔
وَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنۡ ذُکِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّہٖ ثُمَّ اَعۡرَضَ عَنۡہَا ؕ اِنَّا مِنَ الۡمُجۡرِمِیۡنَ مُنۡتَقِمُوۡنَ ﴿۲۲﴾٪ 15
اور کون ظالم ہے اس سے جسے کی گئی اس کے رب کی آیتوں سے ، پھر اس نے روگردانی کی ان سے ۔ بیشک ہم مجرموں سے ضرور لیں گے ۔
وَلَقَدۡ اٰتَیۡنَا مُوۡسَی الۡکِتٰبَ فَلَا تَکُنۡ فِیۡ مِرۡیَۃٍ مِّنۡ لِّقَآئِہٖ وَجَعَلۡنٰہُ ہُدًی لِّبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ ﴿ۚ۲۳﴾
اور بیشک ہم نے عطا فرمائی تھی موسیٰ ( علیہ السلام ) کو ، تو آپ میں مبتلا نہ ہوں ایسی کے ملنے سے اور ہم نے بنایا تھا اسے بنی اسرائیل کے لیے ۔
وَجَعَلۡنَا مِنۡہُمۡ اَئِمَّۃً یَّہۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا ۟ ؕ وَکَانُوۡا بِاٰیٰتِنَا یُوۡقِنُوۡنَ ﴿۲۴﴾
اور ہم نے بنایا ان میں سے بعض کو پیشوا ، وہ رہبری کرتے رہے ہمارے سے جب تک وہ صابر رہے اور جب تک وہ ہماری آیتوں پر پختہ رکھتے تھے ۔
اِنَّ رَبَّکَ ہُوَ یَفۡصِلُ بَیۡنَہُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ فِیۡمَا کَانُوۡا فِیۡہِ یَخۡتَلِفُوۡنَ ﴿۲۵﴾
بیشک آپ کا پروردگار ، وہی کرے گا ان کے کے ، امور میں وہ باہمی اختلاف کیا کرتے تھے ۔
اَوَ لَمۡ یَہۡدِ لَہُمۡ کَمۡ اَہۡلَکۡنَا مِنۡ قَبۡلِہِمۡ مِّنَ الۡقُرُوۡنِ یَمۡشُوۡنَ فِیۡ مَسٰکِنِہِمۡ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ ؕ اَفَلَا یَسۡمَعُوۡنَ ﴿۲۶﴾
کیا یہ چیز ان کی کا باعث نہ بنی کتنی قومیں تھیں کو ہم نے ان سے کر دیا حالانکہ یہ چل پھر رہے ہیں ان کے مکانوں میں ۔ بیشک ان میں ( عبرت کی ) کئی نشانیاں ہیں ۔ کیا وہ ( ان در و سے داستان عبرت ) نہیں سن رہے ؟
اَوَ لَمۡ یَرَوۡا اَنَّا نَسُوۡقُ الۡمَآءَ اِلَی الۡاَرۡضِ الۡجُرُزِ فَنُخۡرِجُ بِہٖ زَرۡعًا تَاۡکُلُ مِنۡہُ اَنۡعَامُہُمۡ وَاَنۡفُسُہُمۡ ؕ اَفَلَا یُبۡصِرُوۡنَ ﴿ؓ۲۷﴾
کیا انھوں نے ملاحظہ نہیں کیا کہ ہم لے جاتے ہیں بنجر کی طرف ، پھر ہم نکالتے ہیں اس کے ذریعے سے کھیتی ، کھاتے ہیں اس سے ان کے اور وہ خود بھی ۔ کیا وہ ( یہ بھی ) نہیں دیکھتے ؟
وَیَقُوۡلُوۡنَ مَتٰی ہٰذَا الۡفَتۡحُ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۲۸﴾
اور ( بار بار ) پوچھتے ہیں یہ کب ہو گا ؟ ( بتاؤ ) اگر تم سچے ہو ۔
قُلۡ یَوۡمَ الۡفَتۡحِ لَا یَنۡفَعُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِیۡمَانُہُمۡ وَلَا ہُمۡ یُنۡظَرُوۡنَ ﴿۲۹﴾
آپ فرمائیے کے نہ پہنچائے گا کافروں کو ان کا ایمان لانا اور نہ انھیں دی جائے گی ۔
فَاَعۡرِضۡ عَنۡہُمۡ وَانۡتَظِرۡ اِنَّہُمۡ مُّنۡتَظِرُوۡنَ ﴿۳۰﴾٪ 16
پس ( اے حبیب ! ) رُخ ( انور ) پھیر لیجیے ان سے اور فرمائیے ۔ وہ بھی منتظر ہیں ۔