حٰمٓ ۚ﴿۱﴾
حا ۔ میم ۔
The Consultation
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ ﴿١﴾
In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
حٰمٓ ۚ﴿۱﴾
حا ۔ میم ۔
عٓسٓقٓ ﴿۲﴾
عین سین قاف ۔
کَذٰلِکَ یُوۡحِیۡۤ اِلَیۡکَ وَاِلَی الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکَ ۙ اللّٰہُ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۳﴾
اسی طرح ( کے مطالب نفیسہ ) وحی فرماتا رہا ہے آپ کی طرف اور ان ( پیغمبروں ) کی طرف جو آپ سے گزرے ہیں ۔ اللہ جو زبردست ( اور ) بہت دانا ہے ۔
لَہٗ مَافِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ وَہُوَ الۡعَلِیُّ الۡعَظِیۡمُ ﴿۴﴾
اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ میں ہے اور وہی سب سے اعلیٰ ( اور ) عظمت والا ہے ۔
تَکَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرۡنَ مِنۡ فَوۡقِہِنَّ وَالۡمَلٰٓئِکَۃُ یُسَبِّحُوۡنَ بِحَمۡدِ رَبِّہِمۡ وَیَسۡتَغۡفِرُوۡنَ لِمَنۡ فِی الۡاَرۡضِ ؕ اَلَاۤ اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِیۡمُ ﴿۵﴾
قریب ہے کہ ( جلال الہی سے ) پھٹ پڑیں اپنے اوپر سے اور ( ایسا نہیں ہوتا کیونکہ ) فرشتے تسبیح کر رہے ہیں اپنے رب کی حمد کے ساتھ اور بخشش طلب کر رہے ہیں اہل کے لیے سن لو ! یقیناً اللہ ہی بہت بخشنے والا ، رحم کرنے والا ہے ۔
وَالَّذِیۡنَ اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اَوۡلِیَآءَ اللّٰہُ حَفِیۡظٌ عَلَیۡہِمۡ ۫ ۖوَ مَاۤ اَنۡتَ عَلَیۡہِمۡ بِوَکِیۡلٍ ﴿۶﴾
اور جنہوں نے بنا رکھے ہیں اللہ کے سوا ( اور ) اللہ تعالیٰ خوب ہے ان کے حالات سے اور آپ ان کے ذمہ دار نہیں ہیں ۔
وَکَذٰلِکَ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ قُرۡاٰنًا عَرَبِیًّا لِّتُنۡذِرَ اُمَّ الۡقُرٰی وَمَنۡ حَوۡلَہَا وَتُنۡذِرَ یَوۡمَ الۡجَمۡعِ لَا رَیۡبَ فِیۡہِ ؕ فَرِیۡقٌ فِی الۡجَنَّۃِ وَفَرِیۡقٌ فِی السَّعِیۡرِ ﴿۷﴾
اور یونہی ہم نے وحی کے اتارا ہے آپ کی طرف عربی زبان میں تاکہ آپ ڈرائیں اہل مکہ کو اور جو اس کے آس ( ) ہیں اور تاکہ آپ ڈرائیں اکٹھے ہونے کے سے جس ( کی آمد ) میں کچھ شبہ نہیں ( اس ) ایک فریق میں اور دوسرا فریق بھڑکتی میں ہو گا ۔
وَلَوۡ شَآءَ اللّٰہُ لَجَعَلَہُمۡ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّلٰکِنۡ یُّدۡخِلُ مَنۡ یَّشَآءُ فِیۡ رَحۡمَتِہٖ ؕ وَالظّٰلِمُوۡنَ مَالَہُمۡ مِّنۡ وَّلِیٍّ وَّلَا نَصِیۡرٍ ﴿۸﴾
اور اگر چاہتا اللہ تعالیٰ تو بنا دیتا ان ( سب ) کو ایک امت لیکن وہ کرتا ہے جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں اور جو ظلم کرنے والے ہیں نہ ان کا کوئی ہے اور نہ ۔
اَمِ اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اَوۡلِیَآءَ ۚ فَاللّٰہُ ہُوَ الۡوَلِیُّ وَہُوَ یُحۡیِ الۡمَوۡتٰی ۫ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ٪﴿۹﴾ 2
کیا انھوں نے بنا لیے ہیں اسے چھوڑ کر دوسرے کارساز پس اللہ ہی حقیقی کارساز ہے اور وہ کرتا ہے مردوں کو اور وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے ۔
وَمَا اخۡتَلَفۡتُمۡ فِیۡہِ مِنۡ شَیۡءٍ فَحُکۡمُہٗۤ اِلَی اللّٰہِ ؕ ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبِّیۡ عَلَیۡہِ تَوَکَّلۡتُ ٭ۖ وَاِلَیۡہِ اُنِیۡبُ ﴿۱۰﴾
اور جس میں تمہارے اختلاف رونما ہو جائے تو اس کا اللہ کے سپرد کر دو ۔ یہی اللہ میرا رب ہے اسی پر میں نے بھروسہ کیا ہے اور اسی کی طرف میں کرتا ہوں ۔
فَاطِرُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ؕ جَعَلَ لَکُمۡ مِّنۡ اَنۡفُسِکُمۡ اَزۡوَاجًا وَّمِنَ الۡاَنۡعَامِ اَزۡوَاجًا ۚ یَذۡرَؤُکُمۡ فِیۡہِ ؕ لَیۡسَ کَمِثۡلِہٖ شَیۡءٌ ۚ وَہُوَ السَّمِیۡعُ الۡبَصِیۡرُ ﴿۱۱﴾
وہ کرنے والا ہے آسمانوں اور کا اسی نے بنائے تمہارے لیے تمہاری جنس سے جوڑے اور مویشیوں سے بھی جوڑے بنائے ۔ وہ پھیلاتا رہتا ہے تمہاری نسل کو اس کے ۔ نہیں ہے اس کی مانند کوئی چیز اور وہی سب کچھ سننے والا دیکھنے والا ہے ۔
لَہٗ مَقَالِیۡدُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ۚ یَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ یَّشَآءُ وَیَقۡدِرُ ؕ اِنَّہٗ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ ﴿۱۲﴾
اسی کے قبضہ میں ہیں کنجیاں آسمانوں اور ( کے خزانوں ) کی کشادہ کرتا ہے رزق کو جس کے لیے چاہتا ہے اور کر دیتا ہے ( جس کے لیے چاہتا ہے ) بیشک وہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے ۔
شَرَعَ لَکُمۡ مِّنَ الدِّیۡنِ مَاوَصّٰی بِہٖ نُوۡحًا وَّالَّذِیۡۤ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ وَمَا وَصَّیۡنَا بِہٖۤ اِبۡرٰہِیۡمَ وَمُوۡسٰی وَعِیۡسٰۤی اَنۡ اَقِیۡمُوا الدِّیۡنَ وَلَا تَتَفَرَّقُوۡا فِیۡہِ ؕ کَبُرَ عَلَی الۡمُشۡرِکِیۡنَ مَاتَدۡعُوۡہُمۡ اِلَیۡہِ ؕ اَللّٰہُ یَجۡتَبِیۡۤ اِلَیۡہِ مَنۡ یَّشَآءُ وَیَہۡدِیۡۤ اِلَیۡہِ مَنۡ یُّنِیۡبُ ﴿۱۳﴾
اس نے فرمایا ہے تمہارے لیے وہ جس کا اس نے دیا تھا نوح کو اور جسے ہم نے بذریعہ وحی بھیجا ہے آپ کی طرف اور جس کا ہم نے دیا تھا ابراہیم ، موسیٰ اور عیسیٰ ( علیہم السلام ) کو کہ اسی کو قائم رکھنا اور تفرقہ نہ اس میں ۔ بہت گراں گزرتی ہے مشرکین پر وہ جس کی طرف آپ انھیں بلاتے ہیں اللہ تعالیٰ لیتا ہے اپنی طرف جس کو چاہتا ہے اور دیتا ہے اپنی طرف جو ( اس کی طرف ) کرتا ہے ۔
وَمَا تَفَرَّقُوۡۤا اِلَّا مِنۡۢ بَعۡدِ مَاجَآءَہُمُ الۡعِلۡمُ بَغۡیًۢا بَیۡنَہُمۡ ؕ وَلَوۡ لَا کَلِمَۃٌ سَبَقَتۡ مِنۡ رَّبِّکَ اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی لَّقُضِیَ بَیۡنَہُمۡ ؕ وَاِنَّ الَّذِیۡنَ اُوۡرِثُوا الۡکِتٰبَ مِنۡۢ بَعۡدِہِمۡ لَفِیۡ شَکٍّ مِّنۡہُ مُرِیۡبٍ ﴿۱۴﴾
اور نہ بٹے وہ فرقوں میں مگر اس کے بعد کہ آ گیا ان کے ( صحیح ) علم ۔ ( یہ تفرقہ ) محض باہمی حسد کے باعث تھا ۔ اور اگر یہ فرمان نہ ہو چکا ہوتا آپ کے رب کی طرف سے کہ انھیں ایک مقررہ تک دی جائے تو ہو چکا ہوتا ان کے اور جو لوگ وارث بنائے گئے تھے کے ان کے بعد ، وہ اس کے متعلق ایسے میں مبتلا ہیں جو قلق انگیز ہے ۔
فَلِذٰلِکَ فَادۡعُ ۚ وَاسۡتَقِمۡ کَمَاۤ اُمِرۡتَ ۚ وَلَا تَتَّبِعۡ اَہۡوَآءَہُمۡ ۚ وَقُلۡ اٰمَنۡتُ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ مِنۡ کِتٰبٍ ۚ وَاُمِرۡتُ لِاَعۡدِلَ بَیۡنَکُمۡ ؕ اَللّٰہُ رَبُّنَا وَرَبُّکُمۡ ؕ لَنَاۤ اَعۡمَالُنَا وَلَکُمۡ اَعۡمَالُکُمۡ ؕ لَا حُجَّۃَ بَیۡنَنَا وَبَیۡنَکُمۡ ؕ اَللّٰہُ یَجۡمَعُ بَیۡنَنَا ۚ وَاِلَیۡہِ الۡمَصِیۡرُ ﴿ؕ۱۵﴾
پس اس کی طرف آپ دعوت دیتے رہیے اور رہیے جس طرح آپ کو دیا گیا ہے اور نہ اتباع کیجیے ان کی خواہشات کا اور ( برملا ) فرمائیے کہ میں ایمان لایا ہر اس پر جو اللہ نے نازل کی اور مجھے دیا گیا ہے کہ میں عدل کروں تمہارے اللہ تعالیٰ ہمارا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے ہمارے لیے ہمارے ہیں اور تمہارے لیے تمہارے کسی بحث و تکرار کی ضرورت نہیں ہمارے اور تمہارے اللہ ہم سب کو جمع کرے گا اور اسی کی طرف ( سب نے ) پلٹنا ہے ۔
وَالَّذِیۡنَ یُحَآجُّوۡنَ فِی اللّٰہِ مِنۡۢ بَعۡدِ مَااسۡتُجِیۡبَ لَہٗ حُجَّتُہُمۡ دَاحِضَۃٌ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ وَعَلَیۡہِمۡ غَضَبٌ وَّلَہُمۡ عَذَابٌ شَدِیۡدٌ ﴿۱۶﴾
اور جو لوگ حجت بازی کرتے ہیں اللہ ( کے ) کے بارے میں اس کے بعد کہ ( اکثر حق شناس ) اس کو مان چکے ہیں ۔ سو ان کی حجت بازی لغو ہے ان کے رب کے اور ان پر ( اللہ کا ) غضب ہے اور انہی کے لیے ہے ۔
اَللّٰہُ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ الۡکِتٰبَ بِالۡحَقِّ وَالۡمِیۡزَانَ ؕ وَمَا یُدۡرِیۡکَ لَعَلَّ السَّاعَۃَ قَرِیۡبٌ ﴿۱۷﴾
اللہ تعالیٰ وہ ہے جس نے نازل کیا ہے کو حق کے ساتھ اور ( نازل کیا ہے ) میزان کو اور تمہیں کیا معلوم کہ شاید وہ قریب ہی ہو ۔
یَسۡتَعۡجِلُ بِہَا الَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِہَا ۚ وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مُشۡفِقُوۡنَ مِنۡہَا ۙ وَیَعۡلَمُوۡنَ اَنَّہَا الۡحَقُّ ؕ اَلَاۤ اِنَّ الَّذِیۡنَ یُمَارُوۡنَ فِی السَّاعَۃِ لَفِیۡ ضَلٰلٍۢ بَعِیۡدٍ ﴿۱۸﴾
جلدی مچاتے ہیں اس کے لیے وہ لوگ جو ایمان نہیں رکھتے اس پر اور جو لوگ ایمان لائے ہیں وہ خوفزدہ رہتے ہیں اس سے ۔ اور وہ جانتے ہیں کہ یہ حق ہے ۔ خبردار ! جو لوگ کرتے ہیں کے متعلق ، وہ بڑی گمراہی میں ( مبتلا ) ہیں ۔
اَللّٰہُ لَطِیۡفٌۢ بِعِبَادِہٖ یَرۡزُقُ مَنۡ یَّشَآءُ ۚ وَہُوَ الۡقَوِیُّ الۡعَزِیۡزُ ﴿۱۹﴾٪ 3
اللہ تعالیٰ بہت ہے اپنے بندوں پر رزق دیتا ہے جس کو چاہتا ہے ۔ اور وہی قوی ( اور ) زبردست ہے ۔
مَنۡ کَانَ یُرِیۡدُ حَرۡثَ الۡاٰخِرَۃِ نَزِدۡ لَہٗ فِیۡ حَرۡثِہٖ ۚ وَمَنۡ کَانَ یُرِیۡدُ حَرۡثَ الدُّنۡیَا نُؤۡتِہٖ مِنۡہَا وَمَا لَہٗ فِی الۡاٰخِرَۃِ مِنۡ نَّصِیۡبٍ ﴿۲۰﴾
جو طلب گار ہو کی کھیتی کا تو ہم ( اپنے فضل و کرم سے ) اس کی کھیتی کو اور بڑھا دیں گے اور جو شخص مند ہے ( صرف ) کی کھیتی کا تو ہم اسے دیں گے اس سے اور نہیں ہو گا اس کے لیے میں کوئی ۔
اَمۡ لَہُمۡ شُرَکٰٓؤُا شَرَعُوۡا لَہُمۡ مِّنَ الدِّیۡنِ مَالَمۡ یَاۡذَنۡۢ بِہِ اللّٰہُ ؕ وَلَوۡ لَا کَلِمَۃُ الۡفَصۡلِ لَقُضِیَ بَیۡنَہُمۡ ؕ وَاِنَّ الظّٰلِمِیۡنَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۲۱﴾
کیا ان کے ایسے ہیں جنہوں نے کیا ہے ان کے لیے ایسا جس کی اللہ نے نہیں دی ۔ اور اگر ان کے کی سے طے نہ ہوتی تو ان کا قصہ کبھی کا چکا دیا گیا ہوتا اور جو ظالم ہیں یقیناً ان کے لیے دردناک ہے ۔
تَرَی الظّٰلِمِیۡنَ مُشۡفِقِیۡنَ مِمَّا کَسَبُوۡا وَہُوَ وَاقِعٌۢ بِہِمۡ ؕ وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِیۡ رَوۡضٰتِ الۡجَنّٰتِ ۚ لَہُمۡ مَّا یَشَآءُوۡنَ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ ؕ ذٰلِکَ ہُوَ الۡفَضۡلُ الۡکَبِیۡرُ ﴿۲۲﴾
آپ دیکھیں گے ظالموں کو کہ ڈر رہے ہوں گے ان ( کرتوتوں ) سے جو انھوں نے کمائے اور وہ ان پر واقع ہو کر رہے گا اور جو لوگ ایمان لائے اور کیے وہ بہشتوں کے باغوں میں ہوں گے ۔ انھیں ملے گا جو وہ چاہیں گے اپنے رب کے سے ۔ یہی بڑا فضل ہے ۔
ذٰلِکَ الَّذِیۡ یُبَشِّرُ اللّٰہُ عِبَادَہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ؕ قُلۡ لَّاۤ اَسۡئَلُکُمۡ عَلَیۡہِ اَجۡرًا اِلَّا الۡمَوَدَّۃَ فِی الۡقُرۡبٰی ؕ وَمَنۡ یَّقۡتَرِفۡ حَسَنَۃً نَّزِدۡ لَہٗ فِیۡہَا حُسۡنًا ؕ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ شَکُوۡرٌ ﴿۲۳﴾
یہ وہ چیز ہے جس کی خوشخبری اللہ تعالیٰ اپنے ان بندوں کو دیتا ہے جو ایمان لے آئے اور عمل کرتے رہے ۔ آپ فرمائیے میں نہیں مانگتا اس ( دعوت حق ) پر کوئی معاوضہ بجز قرابت کی کے اور جو شخص کماتا ہے کوئی ، ہم دوبالا کر دیں گے اس کے لیے اس میں حسن بیشک اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا بڑا قدردان ہے ۔
اَمۡ یَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا ۚ فَاِنۡ یَّشَاِ اللّٰہُ یَخۡتِمۡ عَلٰی قَلۡبِکَ ؕ وَیَمۡحُ اللّٰہُ الۡبَاطِلَ وَیُحِقُّ الۡحَقَّ بِکَلِمٰتِہٖ ؕ اِنَّہٗ عَلِیۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴿۲۴﴾
کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس نے اللہ پر جھوٹا باندھا ہے پس اگر اللہ چاہتا تو لگا دیتا آپ کے پر ۔ اور مٹاتا ہے اللہ تعالیٰ باطل کو اور کرتا ہے حق کو اپنے ارشادات سے ۔ بیشک وہ جاننے والا ہے جو کچھ سینوں میں ہے ۔
وَہُوَ الَّذِیۡ یَقۡبَلُ التَّوۡبَۃَ عَنۡ عِبَادِہٖ وَیَعۡفُوۡا عَنِ السَّیِّاٰتِ وَیَعۡلَمُ مَاتَفۡعَلُوۡنَ ﴿ۙ۲۵﴾
اور وہی ہے جو توبہ کرتا ہے اپنے بندوں کی اور درگزر کرتا ہے ان کی غلطیوں سے اور جانتا ہے جو تم کرتے ہو ۔
وَیَسۡتَجِیۡبُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَیَزِیۡدُہُمۡ مِّنۡ فَضۡلِہٖ ؕ وَالۡکٰفِرُوۡنَ لَہُمۡ عَذَابٌ شَدِیۡدٌ ﴿۲۶﴾
اور وہی کرتا ہے دعائیں ان لوگوں کی جو ایمان لے آئے اور عمل کرتے رہے اور ( ان کے حق سے بھی ) انھیں ( اجر ) دیتا ہے اپنی مہربانی سے اور کفار ، ان کے لیے ہے ۔
وَلَوۡ بَسَطَ اللّٰہُ الرِّزۡقَ لِعِبَادِہٖ لَبَغَوۡا فِی الۡاَرۡضِ وَلٰکِنۡ یُّنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَّا یَشَآءُ ؕ اِنَّہٗ بِعِبَادِہٖ خَبِیۡرٌۢ بَصِیۡرٌ ﴿۲۷﴾
اور اگر کشادہ کر دیتا اللہ تعالیٰ رزق کو اپنے ( تمام ) بندوں کے لیے تو وہ کرنے لگتے میں لیکن وہ اتارتا ہے ایک اندازے سے جتنا چاہتا ہے ۔ بیشک وہ اپنے بندوں ( کے احوال ) سے خوب ہے ، سب کچھ دیکھنے والا ہے ۔
وَہُوَ الَّذِیۡ یُنَزِّلُ الۡغَیۡثَ مِنۡۢ بَعۡدِ مَاقَنَطُوۡا وَیَنۡشُرُ رَحۡمَتَہٗ ؕ وَہُوَ الۡوَلِیُّ الۡحَمِیۡدُ ﴿۲۸﴾
اور وہی ہے جو برساتا ہے مینہ اس کے بعد کے لوگ مایوس ہو چکے ہوتے ہیں اور پھیلا دیتا ہے اپنی رحمت کو اور وہی کارساز حقیقی ( اور ) سب تعریفوں کے ہے ۔
وَمِنۡ اٰیٰتِہٖ خَلۡقُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَثَّ فِیۡہِمَا مِنۡ دَآبَّۃٍ ؕ وَہُوَ عَلٰی جَمۡعِہِمۡ اِذَا یَشَآءُ قَدِیۡرٌ ﴿۲۹﴾٪ ٙ 4
اور اس کی ( قدرت کی ) نشانیوں میں سے آسمانوں اور کی تخلیق ہے ۔ اور جو جاندار اس نے پھیلا دیے ہیں و میں ۔ اور وہ جب چاہے ان کو جمع کرنے پر پوری قدرت رکھتا ہے ۔
وَمَاۤ اَصَابَکُمۡ مِّنۡ مُّصِیۡبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتۡ اَیۡدِیۡکُمۡ وَیَعۡفُوۡا عَنۡ کَثِیۡرٍ ﴿ؕ۳۰﴾
اور جو مصیبت تمہیں پہنچتی ہے تمہارے ہاتھوں کی کے سبب پہنچتی ہے اور وہ ( کریم ) درگزر فرما دیتا ہے ( تمہارے ) بہت سے کرتوتوں سے ۔
وَمَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِیۡنَ فِی الۡاَرۡضِ ۚ ۖ وَمَا لَکُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مِنۡ وَّلِیٍّ وَّلَا نَصِیۡرٍ ﴿۳۱﴾
اور تم نہیں کر سکتے ( اللہ تعالیٰ کو ) میں اور نہ تمہارا اللہ کے سوا کوئی ہے اور نہ کوئی ۔
وَمِنۡ اٰیٰتِہِ الۡجَوَارِ فِی الۡبَحۡرِ کَالۡاَعۡلَامِ ﴿ؕ۳۲﴾
اور اس کی ( قدرت کی ) نشانیوں میں سے وہ سمندر میں تیرنے والے جہاز ہیں جو پہاڑوں کی مانند ہیں ۔
اِنۡ یَّشَاۡ یُسۡکِنِ الرِّیۡحَ فَیَظۡلَلۡنَ رَوَاکِدَ عَلٰی ظَہۡرِہٖ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّکُلِّ صَبَّارٍ شَکُوۡرٍ ﴿ۙ۳۳﴾
اگر وہ چاہے تو کو ساکن کر دے پس وہ رکے رہیں سمندر کی پر ۔ بیشک اس میں اس کی قدرت کی نشانیاں ہیں ہر کمال درجہ کرنے والے ، شکر کرنے والے کے لیے ۔
اَوۡ یُوۡبِقۡہُنَّ بِمَا کَسَبُوۡا وَیَعۡفُ عَنۡ کَثِیۡرٍ ﴿۫۳۴﴾
یا ( اگر وہ چاہے تو ) تباہ کر دے انھیں لوگوں کے بد کی وجہ سے اور درگزر فرما دیا کرتا ہے بہت سے گناہوں سے ۔
وَّیَعۡلَمَ الَّذِیۡنَ یُجَادِلُوۡنَ فِیۡۤ اٰیٰتِنَا ؕ مَالَہُمۡ مِّنۡ مَّحِیۡصٍ ﴿۳۵﴾
اور ( اس ) جان لیں گے جو جھگڑا کرتے رہتے ہیں ہماری آیتوں میں کہ ان کے لیے کوئی جائے نہیں ۔
فَمَاۤ اُوۡتِیۡتُمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ فَمَتَاعُ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۚ وَمَا عِنۡدَ اللّٰہِ خَیۡرٌ وَّاَبۡقٰی لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَلٰی رَبِّہِمۡ یَتَوَکَّلُوۡنَ ﴿ۚ۳۶﴾
پس جو کچھ تمہیں دیا گیا ہے یہ دنیوی زندگی کا ہے ۔ اور جو کچھ اللہ کے ہے وہ بہت عمدہ اور رہنے والا ہے ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے اور اپنے رب پر توکل کرتے ہیں ۔
وَالَّذِیۡنَ یَجۡتَنِبُوۡنَ کَبٰٓئِرَ الۡاِثۡمِ وَالۡفَوَاحِشَ وَاِذَا مَاغَضِبُوۡا ہُمۡ یَغۡفِرُوۡنَ ﴿ۚ۳۷﴾
اور جو لوگ بچتے رہتے ہیں بڑے بڑے گناہوں اور بدکاریوں سے اور جب وہ غضب ہوتے ہیں تو وہ کر دیتے ہیں ۔
وَالَّذِیۡنَ اسۡتَجَابُوۡا لِرَبِّہِمۡ وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ ۪ وَاَمۡرُہُمۡ شُوۡرٰی بَیۡنَہُمۡ ۪ وَمِمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ یُنۡفِقُوۡنَ ﴿ۚ۳۸﴾
اور جو اپنے رب کا مانتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور ان کے سارے باہمی مشورے سے طے ہوتے ہیں اور جو رزق ہم نے انھیں دیا ہے اس سے کرتے ہیں ۔
وَالَّذِیۡنَ اِذَاۤ اَصَابَہُمُ الۡبَغۡیُ ہُمۡ یَنۡتَصِرُوۡنَ ﴿۳۹﴾
اور جب ان پر کی جاتی ہے تو وہ اس کا ( مناسب ) لیتے ہیں ۔
وَجَزٰٓؤُا سَیِّئَۃٍ سَیِّئَۃٌ مِّثۡلُہَا ۚ فَمَنۡ عَفَا وَاَصۡلَحَ فَاَجۡرُہٗ عَلَی اللّٰہِ ؕ اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۴۰﴾
اور کا ویسی ہی ہے پس جو کر دے اور اصلاح کر دے تو اس کا اجر اللہ تعالیٰ پر ہے بیشک وہ ظالموں سے نہیں کرتا ۔
وَلَمَنِ انۡتَصَرَ بَعۡدَ ظُلۡمِہٖ فَاُولٰٓئِکَ مَاعَلَیۡہِمۡ مِّنۡ سَبِیۡلٍ ﴿ؕ۴۱﴾
اور جو لیتے ہیں اپنے اوپر ظلم ہونے کے بعد ، پس یہ لوگ ہیں پر کوئی ملامت نہیں ۔
اِنَّمَا السَّبِیۡلُ عَلَی الَّذِیۡنَ یَظۡلِمُوۡنَ النَّاسَ وَیَبۡغُوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ بِغَیۡرِ الۡحَقِّ ؕ اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۴۲﴾
بیشک ملامت ان پر ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور برپا کرتے ہیں میں ناحق ۔ یہی ہیں کے لیے دردناک ہے ۔
وَلَمَنۡ صَبَرَ وَغَفَرَ اِنَّ ذٰلِکَ لَمِنۡ عَزۡمِ الۡاُمُوۡرِ ﴿۴۳﴾٪ 5
اور جو شخص ( ان مظالم پر ) کرے اور ( کے باوجود ) کر دے تو یقیناً یہ بڑی کے کاموں میں سے ہے ۔
وَمَنۡ یُّضۡلِلِ اللّٰہُ فَمَا لَہٗ مِنۡ وَّلِیٍّ مِّنۡۢ بَعۡدِہٖ ؕ وَتَرَی الظّٰلِمِیۡنَ لَمَّا رَاَوُا الۡعَذَابَ یَقُوۡلُوۡنَ ہَلۡ اِلٰی مَرَدٍّ مِّنۡ سَبِیۡلٍ ﴿ۚ۴۴﴾
اور جس کو اللہ تعالیٰ گمراہ کر دے تو اس کا کوئی کارساز نہیں اس کے بعد اور آپ ملاحظہ کریں گے ظالموں کو جب وہ دیکھیں گے ( تو سٹپٹا جائیں گے ) پوچھیں گے کیا واپس لوٹنے کا بھی کوئی ہے ؟ ۔
وَتَرٰىہُمۡ یُعۡرَضُوۡنَ عَلَیۡہَا خٰشِعِیۡنَ مِنَ الذُّلِّ یَنۡظُرُوۡنَ مِنۡ طَرۡفٍ خَفِیٍّ ؕ وَقَالَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّ الۡخٰسِرِیۡنَ الَّذِیۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ وَاَہۡلِیۡہِمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ اَلَاۤ اِنَّ الظّٰلِمِیۡنَ فِیۡ عَذَابٍ مُّقِیۡمٍ ﴿۴۵﴾
اور آپ انھیں دیکھیں گے کہ کیے جا رہے ہوں گے پر اس حال میں کہ و درماندہ ہوں گے کے باعث ۔ دیکھتے ہوں گے کنکھیوں سے چوری اور کہیں گے اہل ایمان کہ حقیقی گھاٹے میں وہی لوگ ہیں جنہوں نے گھاٹے میں ڈالا اپنے آپ کو اور اپنے والوں کو کے روز ۔ سن لو ! ظالم لوگ ضرور ابدی میں ہوں گے ۔
وَمَا کَانَ لَہُمۡ مِّنۡ اَوۡلِیَآءَ یَنۡصُرُوۡنَہُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ ؕ وَمَنۡ یُّضۡلِلِ اللّٰہُ فَمَا لَہٗ مِنۡ سَبِیۡلٍ ﴿ؕ۴۶﴾
اور نہیں ہوں گے ( اس روز ) ان کے لیے جو کر سکیں ان کی اللہ کے بغیر ۔ اور جس کو گمراہ کر دے اللہ تعالیٰ تو اس کے لیے ( بچنے کی ) کوئی راہ نہیں ۔
اِسۡتَجِیۡبُوۡا لِرَبِّکُمۡ مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ یَّاۡتِیَ یَوۡمٌ لَّا مَرَدَّ لَہٗ مِنَ اللّٰہِ ؕ مَالَکُمۡ مِّنۡ مَّلۡجَاٍ یَّوۡمَئِذٍ وَّمَا لَکُمۡ مِّنۡ نَّکِیۡرٍ ﴿۴۷﴾
۔( لوگو ! ) مان لو اپنے رب کا اس سے پیشتر کہ آ جائے وہ جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ٹلنے والا نہیں نہ ہو گی تمہارے لیے کوئی گاہ اس روز اور نہ تمہاری طرف سے کوئی روک ٹوک کرنے والا ہو گا ۔
فَاِنۡ اَعۡرَضُوۡا فَمَاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ عَلَیۡہِمۡ حَفِیۡظًا ؕ اِنۡ عَلَیۡکَ اِلَّا الۡبَلٰغُ ؕ وَاِنَّاۤ اِذَاۤ اَذَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ مِنَّا رَحۡمَۃً فَرِحَ بِہَا ۚ وَاِنۡ تُصِبۡہُمۡ سَیِّئَۃٌۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَیۡدِیۡہِمۡ فَاِنَّ الۡاِنۡسَانَ کَفُوۡرٌ ﴿۴۸﴾
پس اگر وہ ( پھر بھی ) روگردانی کریں تو ہم نے آپ کو ان کے کا ذمہ دار بنا کر نہیں بھیجا ۔ آپ کا فرض تو صرف ( احکام کا ) پہنچا ہے اور ہم جب چکھا دیتے ہیں کو اپنی رحمت کا تو ہو جاتا ہے اس سے ۔ اور اگر انھیں کوئی پہنچے اپنے کرتوتوں کے باعث ( تو شور مچانے لگتا ہے ) بیشک بڑا ناشکر گزار ہے ۔
لِلّٰہِ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ؕ یَخۡلُقُ مَایَشَآءُ ؕیَہَبُ لِمَنۡ یَّشَآءُ اِنَاثًا وَّیَہَبُ لِمَنۡ یَّشَآءُ الذُّکُوۡرَ ﴿ۙ۴۹﴾
اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور کی ۔ فرماتا ہے جو چاہتا ہے ۔ بخشتا ہے جس کو چاہتا ہے بچیاں اور عطا فرماتا ہے جس کو چاہتا ہے فرزند ۔
اَوۡ یُزَوِّجُہُمۡ ذُکۡرَانًا وَّاِنَاثًا ۚ وَیَجۡعَلُ مَنۡ یَّشَآءُ عَقِیۡمًا ؕ اِنَّہٗ عَلِیۡمٌ قَدِیۡرٌ ﴿۵۰﴾
یا ملا جلا کر دیتا ہے انھیں بیٹے اور بیٹیاں ۔ اور بنا دیتا ہے جس کو چاہتا ہے ۔ بیشک وہ سب کچھ جاننے والا ، پر چیز پر قادر ہے ۔
وَمَا کَانَ لِبَشَرٍ اَنۡ یُّکَلِّمَہُ اللّٰہُ اِلَّا وَحۡیًا اَوۡ مِنۡ وَّرَآیِٔ حِجَابٍ اَوۡ یُرۡسِلَ رَسُوۡلًا فَیُوۡحِیَ بِاِذۡنِہٖ مَایَشَآءُ ؕ اِنَّہٗ عَلِیٌّ حَکِیۡمٌ ﴿۵۱﴾
اور کسی بشر کی یہ شان نہیں کہ کلام کرے اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ ( براہ راست ) مگر وحی کے طور پر یا پس یا بھیجے کوئی پیغامبر ( ) اور وہ وحی کرے اس کے سے جو اللہ تعالیٰ چاہے ۔ بلاشبہ وہ اونچی شان والا ، بہت دانا ہے ۔
وَکَذٰلِکَ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ رُوۡحًا مِّنۡ اَمۡرِنَا ؕ مَاکُنۡتَ تَدۡرِیۡ مَاالۡکِتٰبُ وَلَا الۡاِیۡمَانُ وَلٰکِنۡ جَعَلۡنٰہُ نُوۡرًا نَّہۡدِیۡ بِہٖ مَنۡ نَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِنَا ؕ وَاِنَّکَ لَتَہۡدِیۡۤ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ﴿ۙ۵۲﴾
اور اسی طرح ہم نے بذریعہ وحی بھیجا آپ کی طرف ایک جانفزا کلام اپنے سے نہ آپ یہ جانتے تھے کہ کیا ہے اور نہ یہ کہ ایمان کیا ہے لیکن ( اے حبیب ! ) ہم نے بنا دیا اس کو ( سراپا ) نور ۔ ہم دیتے ہیں اس کے جس کو چاہتے ہیں اپنے بندوں سے ۔ اور بلاشبہ آپ رہنمائی فرماتے ہیں صراط مستقیم کی طرف ۔
صِرَاطِ اللّٰہِ الَّذِیۡ لَہٗ مَافِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ اَلَاۤ اِلَی اللّٰہِ تَصِیۡرُ الۡاُمُوۡرُ ﴿۵۳﴾٪ 6
جو اللہ کی راہ ہے وہ اللہ جو ہے ہر اس چیز کا جو آسمانوں میں ہے اور جو میں ہے خوب سن لو ! سب کاموں کا اللہ تعالیٰ کی طرف ہی ہے ۔