طٰہٰ ۚ﴿۱﴾
طاھا ۔
Ta-Ha
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ ﴿١﴾
In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
طٰہٰ ۚ﴿۱﴾
طاھا ۔
مَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَیۡکَ الۡقُرۡاٰنَ لِتَشۡقٰۤی ۙ﴿۲﴾
نہیں اتارا ہم نے آپ پر یہ کہ آپ میں پڑیں ۔
اِلَّا تَذۡکِرَۃً لِّمَنۡ یَّخۡشٰی ۙ﴿۳﴾
بلکہ یہ ہے اس کے واسطے جو ( اپنے رب سے ) ڈرتا ہے ۔
تَنۡزِیۡلًا مِّمَّنۡ خَلَقَ الۡاَرۡضَ وَالسَّمٰوٰتِ الۡعُلٰی ؕ﴿۴﴾
یہ اتارا گیا ہے اس ذات کی طرف سے جس نے فرمایا کو اور آسمانوں کو ۔
اَلرَّحۡمٰنُ عَلَی الۡعَرۡشِ اسۡتَوٰی ﴿۵﴾
وہ بیحد ( کائنات کی فرماں روائی کے ) پر متمکن ۔
لَہٗ مَافِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الۡاَرۡضِ وَمَا بَیۡنَہُمَا وَمَا تَحۡتَ الثَّرٰی ﴿۶﴾
اسی کے ملک میں ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ میں ہے اور جو کچھ ان دونوں کے ہے اور جو کچھ گیلی کے ہے ۔
وَاِنۡ تَجۡہَرۡ بِالۡقَوۡلِ فَاِنَّہٗ یَعۡلَمُ السِّرَّ وَاَخۡفٰی ﴿۷﴾
اور اگر تو سے کرے ( تو تیری مرضی ) وہ تو بلاشبہ جانتا ہے رازوں کو بھی اور کے بھیدوں کو بھی ۔
اَللّٰہُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ؕ لَہُ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰی ﴿۸﴾
اللہ ( وہ ہے کہ ) کوئی کے نہیں بغیر اس کے لیے بڑے ہیں ۔
وَہَلۡ اَتٰىکَ حَدِیۡثُ مُوۡسٰی ۘ﴿۹﴾
اور ( اے حبیب ! ) کیا پہنچی ہے آپ کو اطلاع موسیٰ کے قصہ کی ۔
اِذۡ رَاٰ نَارًا فَقَالَ لِاَہۡلِہِ امۡکُثُوۡۤا اِنِّیۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا لَّعَلِّیۡۤ اٰتِیۡکُمۡ مِّنۡہَا بِقَبَسٍ اَوۡ اَجِدُ عَلَی النَّارِ ہُدًی ﴿۱۰﴾
جب ( مدین سے واپسی پر تاریک میں ) آپ نے دیکھی تو اپنے والوں کو کہا تم ( ذرا یہاں ) ٹھیرو ۔ میں نے دیکھی ہے شاید میں لے آؤں تمہارے لیے اس سے کوئی چنگاری یا مجھے مل جائے کے کوئی راہ دکھانے والا ۔
فَلَمَّاۤ اَتٰىہَا نُوۡدِیَ یٰمُوۡسٰی ﴿ؕ۱۱﴾
پس جب آپ وہاں پہنچے تو ندا کی گئی اے موسیٰ ! ۔
اِنِّیۡۤ اَنَا رَبُّکَ فَاخۡلَعۡ نَعۡلَیۡکَ ۚ اِنَّکَ بِالۡوَادِ الۡمُقَدَّسِ طُوًی ﴿ؕ۱۲﴾
بلاشبہ میں تیرا پروردگار ہوں ۔ پس تو اتار دے اپنے جوتے ، بیشک تو طوٰی کی مقدس وادی میں ہے ۔
وَاَنَا اخۡتَرۡتُکَ فَاسۡتَمِعۡ لِمَا یُوۡحٰی ﴿۱۳﴾
اور میں نے کر لیا ہے تجھے ( رسالت کے لیے ) سو خوب کان لگا کر سن جو وحی کیا جاتا ہے ۔
اِنَّنِیۡۤ اَنَا اللّٰہُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعۡبُدۡنِیۡ ۙ وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکۡرِیۡ ﴿۱۴﴾
یقیناً میں ہی اللہ ہوں ، نہیں ہے کوئی معبود میرے سوا ، پس تو میری کیا کر اور ادا کیا کر نماز مجھے کرنے کے لیے ۔
اِنَّ السَّاعَۃَ اٰتِیَۃٌ اَکَادُ اُخۡفِیۡہَا لِتُجۡزٰی کُلُّ نَفۡسٍ ۢ بِمَا تَسۡعٰی ﴿۱۵﴾
بیشک وہ ( ) آنیوالی ہے میں اسے پوشیدہ رکھنا چاہتا ہوں تاکہ دیا جائے ہر شخص کو اس کا جس کے لیے وہ کوشاں ہے ۔
فَلَا یَصُدَّنَّکَ عَنۡہَا مَنۡ لَّا یُؤۡمِنُ بِہَا وَاتَّبَعَ ہَوٰىہُ فَتَرۡدٰی ﴿۱۶﴾
پس ہرگز نہ روکے تجھے اس ( کو ماننے ) سے وہ شخص جو نہیں ایمان رکھتا اس پر اور پیروی کرتا ہے اپنی کی ورنہ تم بھی ہو جاؤ گے ۔
وَمَا تِلۡکَ بِیَمِیۡنِکَ یٰمُوۡسٰی ﴿۱۷﴾
اور ( ندا آئی ) یہ آپ کے دائیں میں کیا ہے اے موسیٰ ! ۔
قَالَ ہِیَ عَصَایَ ۚ اَتَوَکَّؤُا عَلَیۡہَا وَاَہُشُّ بِہَا عَلٰی غَنَمِیۡ وَلِیَ فِیۡہَا مَاٰرِبُ اُخۡرٰی ﴿۱۸﴾
عرض کی ( میرے رب ! ) یہ میرا عصا ہے میں لگاتا ہوں اس پر اور میں پتے جھاڑتا ہوں اس سے اپنی بکریوں کے لیے اور میرے لیے اس میں کئی اور فائدے بھی ہیں ۔
قَالَ اَلۡقِہَا یٰمُوۡسٰی ﴿۱۹﴾
حکم ڈال دے اسے پر اے موسیٰ ! ۔
فَاَلۡقٰہَا فَاِذَا ہِیَ حَیَّۃٌ تَسۡعٰی ﴿۲۰﴾
تو آپ نے اسے پر ڈال دیا پس وہ بن کر ( اِدھر ادھر ) دوڑنے لگا ۔
قَالَ خُذۡہَا وَلَا تَخَفۡ ٝ سَنُعِیۡدُہَا سِیۡرَتَہَا الۡاُوۡلٰی ﴿۲۱﴾
حکم اسے پکڑ لو اور مت ڈرو ، ہم لوٹا دیں گے اسے اپنی پہلی پر ۔
وَاضۡمُمۡ یَدَکَ اِلٰی جَنَاحِکَ تَخۡرُجۡ بَیۡضَآءَ مِنۡ غَیۡرِ سُوۡٓءٍ اٰیَۃً اُخۡرٰی ﴿ۙ۲۲﴾
اور ( ملا ) دبا لو اپنا اپنے کے ، یہ نکلے گا خوب سپید ہو کر بغیر کسی بیماری کے یہ دوسرا معجزہ ( ہم نے تمہیں دیا ) ہے ۔
لِنُرِیَکَ مِنۡ اٰیٰتِنَا الۡکُبۡرٰی ﴿ۚ۲۳﴾
تاکہ ہم دکھائیں تمہیں اپنی بڑی بڑی نشانیاں ۔
اِذۡہَبۡ اِلٰی فِرۡعَوۡنَ اِنَّہٗ طَغٰی ﴿۲۴﴾٪ 10
۔( اب ) جائیے فرعون کے ، وہ سرکش بن گیا ہے ۔
قَالَ رَبِّ اشۡرَحۡ لِیۡ صَدۡرِیۡ ﴿ۙ۲۵﴾
آپ نے مانگی اے میرے پروردگار ! کشادہ فرما دے میرے لیے میرا سینہ ۔
وَیَسِّرۡ لِیۡۤ اَمۡرِیۡ ﴿ۙ۲۶﴾
اور فرما دے میرے لیے میرا یہ ( کٹھن ) ۔
وَاحۡلُلۡ عُقۡدَۃً مِّنۡ لِّسَانِیۡ ﴿ۙ۲۷﴾
اور کھول دے گرہ میری زبان کی ۔
یَفۡقَہُوۡا قَوۡلِیۡ ﴿۪۲۸﴾
تاکہ اچھی طرح سمجھ سکیں وہ لوگ میری ۔
وَاجۡعَلۡ لِّیۡ وَزِیۡرًا مِّنۡ اَہۡلِیۡ ﴿ۙ۲۹﴾
اور فرما میرا وزیر میرے سے ۔
ہٰرُوۡنَ اَخِی ﴿ۙ۳۰﴾
یعنی ہارون کو جو میرا ہے ۔
اشۡدُدۡ بِہٖۤ اَزۡرِیۡ ﴿ۙ۳۱﴾
مضبوط فرما دے اس سے میری کمر ۔
وَاَشۡرِکۡہُ فِیۡۤ اَمۡرِیۡ ﴿ۙ۳۲﴾
اور کر دے اسے میری ( اس ) مہم میں ۔
کَیۡ نُسَبِّحَکَ کَثِیۡرًا ﴿ۙ۳۳﴾
تاکہ ہم دونوں کثرت سے تیری پاکی کریں ۔
وَّنَذۡکُرَکَ کَثِیۡرًا ﴿ؕ۳۴﴾
اور ہم کثرت سے تیرا ذکر کریں ۔
اِنَّکَ کُنۡتَ بِنَا بَصِیۡرًا ﴿۳۵﴾
بیشک تو ہمارے ( و باطن کو ) خوب دیکھنے والا ہے ۔
قَالَ قَدۡ اُوۡتِیۡتَ سُؤۡلَکَ یٰمُوۡسٰی ﴿۳۶﴾
جواب ملا منظور کر لی گئی ہے آپ کی درخواست اے موسیٰ ۔
وَلَقَدۡ مَنَنَّا عَلَیۡکَ مَرَّۃً اُخۡرٰۤی ﴿ۙ۳۷﴾
اور ہم نے فرمایا تھا تم پر ایک بار بھی ۔
اِذۡ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلٰۤی اُمِّکَ مَایُوۡحٰۤی ﴿ۙ۳۸﴾
جب ہم نے وہ الہام کی تمہاری کو جو الہام ہی کیے جانے کے قابل تھی ۔
اَنِ اقۡذِفِیۡہِ فِی التَّابُوۡتِ فَاقۡذِفِیۡہِ فِی الۡیَمِّ فَلۡیُلۡقِہِ الۡیَمُّ بِالسَّاحِلِ یَاۡخُذۡہُ عَدُوٌّ لِّیۡ وَعَدُوٌّ لَّہٗ ؕ وَاَلۡقَیۡتُ عَلَیۡکَ مَحَبَّۃً مِّنِّیۡ ۬ ۚ وَلِتُصۡنَعَ عَلٰی عَیۡنِیۡ ﴿ۘ۳۹﴾
یہ کہ رکھ دو اس معصوم بچے کو صندوق میں ، پھر ڈال دو اس صندوق کو دریا میں ، پھینک دے گا اسے دریا ساحل پر پھر پکڑے گا اسے وہ شخص جو میرا بھی ہے اور اس بچے کا بھی ہے اور ( اے موسیٰ ) میں نے پرتو ڈالا تجھ پر کا اپنی جناب سے ( تا کہ جو دیکھے فریفتہ ہو جائے ) اور ( اس کا منشاء یہ تھا ) کہ آپ کی کی جائے میری چشم ( کرم ) کے ۔
اِذۡ تَمۡشِیۡۤ اُخۡتُکَ فَتَقُوۡلُ ہَلۡ اَدُلُّکُمۡ عَلٰی مَنۡ یَّکۡفُلُہٗ ؕ فَرَجَعۡنٰکَ اِلٰۤی اُمِّکَ کَیۡ تَقَرَّ عَیۡنُہَا وَلَا تَحۡزَنَ ۬ ؕ وَقَتَلۡتَ نَفۡسًا فَنَجَّیۡنٰکَ مِنَ الۡغَمِّ وَفَتَنّٰکَ فُتُوۡنًا ۬ ۟ فَلَبِثۡتَ سِنِیۡنَ فِیۡۤ اَہۡلِ مَدۡیَنَ ۬ ۙ ثُمَّ جِئۡتَ عَلٰی قَدَرٍ یّٰمُوۡسٰی ﴿۴۰﴾
یاد کرو جب چلتے چلتے آئی آپ کی بہن اور کہنے لگی ( فرعون کے اہل خانہ سے ) کیا میں بتاؤں تمہیں وہ آدمی جو اس کی کر سکے ۔ پس ( یوں ) ہم نے آپکو لوٹا دیا آپ کی کی طرف تاکہ ( آپ کو دیکھ کر ) اپنی ٹھنڈی کرے اور غمناک نہ ہو اور ( تمہیں ہے جب ) تو نے مار ڈالا تھا ایک شخص کو ، پس ہم نے دی تھی تمہیں و اندوہ سے اور ہم نے تمہیں اچھی طرح جانچ لیا تھا پھر تم ٹھہرے رہے کئی اہل مدین میں پھر تم آ گئے ایک مقررہ وعدہ پر اے موسیٰ ۔
وَاصۡطَنَعۡتُکَ لِنَفۡسِیۡ ﴿ۚ۴۱﴾
اور میں نے مخصوص کر لیا ہے تمہیں اپنی ذات کے لیے ۔
اِذۡہَبۡ اَنۡتَ وَاَخُوۡکَ بِاٰیٰتِیۡ وَلَا تَنِیَا فِیۡ ذِکۡرِیۡ ﴿ۚ۴۲﴾
اب جائیے آپ اور آپ کا میری نشانیاں لیکر اور نہ سستی کرنا میری میں ۔
اِذۡہَبَاۤ اِلٰی فِرۡعَوۡنَ اِنَّہٗ طَغٰی﴿ ۴۳﴾ۚ ۖ
آپ دونوں جائیں فرعون کے ، وہ سرکش بنا بیٹھا ہے ۔
فَقُوۡلَا لَہٗ قَوۡلًا لَّیِّنًا لَّعَلَّہٗ یَتَذَکَّرُ اَوۡ یَخۡشٰی ﴿۴۴﴾
اور گفتگو کریں اس کے ساتھ انداز سے شاید کہ وہ کرے یا ( میرے غضب سے ) ڈرنے لگے ۔
قَالَا رَبَّنَاۤ اِنَّنَا نَخَافُ اَنۡ یَّفۡرُطَ عَلَیۡنَاۤ اَوۡ اَنۡ یَّطۡغٰی ﴿۴۵﴾
دونوں نے عرض کی اے ہمارے رب ! ہمیں یہ خوف ہے کہ وہ دست درازی کرے گا ہم پر یا سے آئے گا ۔
قَالَ لَا تَخَافَاۤ اِنَّنِیۡ مَعَکُمَاۤ اَسۡمَعُ وَاَرٰی ﴿۴۶﴾
ارشاد ڈرو نہیں ، میں یقیناً تمہارے ساتھ ہوں ( ہر ) سن رہا ہوں اور ( ہر چیز ) دیکھ رہا ہوں ۔
فَاۡتِیٰہُ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلَا رَبِّکَ فَاَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ ۬ ۙ وَلَا تُعَذِّبۡہُمۡ ؕ قَدۡ جِئۡنٰکَ بِاٰیَۃٍ مِّنۡ رَّبِّکَ ؕ وَالسَّلٰمُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الۡہُدٰی ﴿۴۷﴾
پس ( بیخوف و خطر ) اس کے جاؤ اور اسے بتاؤ ہم دونوں تیرے رب کے فرستادہ ہیں پس بھیج دے ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو اور انھیں ( اب مزید ) نہ دے ۔ ہم لے آئے ہیں تیرے ایک تیرے رب کے سے اور سلامتی ہو اس پر جو کی پیروی کرے ۔
اِنَّا قَدۡ اُوۡحِیَ اِلَیۡنَاۤ اَنَّ الۡعَذَابَ عَلٰی مَنۡ کَذَّبَ وَتَوَلّٰی ﴿۴۸﴾
بیشک وحی کی گئی ہے ہماری طرف کہ ( خداوندی ) اس پر آئے گا جو جھٹلاتا ہے ( کلام الہی کو ) اور روگردانی کرتا ہے ۔
قَالَ فَمَنۡ رَّبُّکُمَا یٰمُوۡسٰی ﴿۴۹﴾
فرعون نے پوچھا موسیٰ ! تم دونوں کا رب کون ہے ؟ ۔
قَالَ رَبُّنَا الَّذِیۡۤ اَعۡطٰی کُلَّ شَیۡءٍ خَلۡقَہٗ ثُمَّ ہَدٰی ﴿۵۰﴾
فرمایا ہمارا رب وہ ہے جس نے عطا کی ہر چیز کو ( موزون ) پھر ( مقصد تخلیق کی طرف ) ہر چیز کی رہنمائی کی ۔
قَالَ فَمَا بَالُ الۡقُرُوۡنِ الۡاُوۡلٰی ﴿۵۱﴾
اس نے کہا ( یہ بتاؤ ) کیا حال پہلی قوموں کا ۔
قَالَ عِلۡمُہَا عِنۡدَ رَبِّیۡ فِیۡ کِتٰبٍ ۚ لَا یَضِلُّ رَبِّیۡ وَلَا یَنۡسَی ﴿۫۵۲﴾
فرمایا ان کا علم میرے رب کے ہے جو میں ( مرقوم ) ہے نہ بھٹکتا ہے میرا رب اور نہ ( کسی چیز کو ) بھولتا ہے ۔
الَّذِیۡ جَعَلَ لَکُمُ الۡاَرۡضَ مَہۡدًا وَّسَلَکَ لَکُمۡ فِیۡہَا سُبُلًا وَّاَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً ؕ فَاَخۡرَجۡنَا بِہٖۤ اَزۡوَاجًا مِّنۡ نَّبَاتٍ شَتّٰی ﴿۵۳﴾
وہ ذات جس نے تمہارے لیے کو بنایا اور بنا دئیے تمہارے کے لیے اس میں راستے اور اتارا سے ، پھر ہم نے نکالے کے ذریعے ( شکم سے ) جوڑے گوناں گوں نباتات کے ۔
کُلُوۡا وَارۡعَوۡا اَنۡعَامَکُمۡ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی النُّہٰی ﴿۵۴﴾٪ 11
خود بھی کھاؤ اور اپنے مویشیوں کو بھی چراؤ ۔ بیشک اس میں ( ہماری قدرت و حکمت کی ) نشانیاں ہیں دانشوروں کے لیے ۔
مِنۡہَا خَلَقۡنٰکُمۡ وَفِیۡہَا نُعِیۡدُکُمۡ وَمِنۡہَا نُخۡرِجُکُمۡ تَارَۃً اُخۡرٰی ﴿۵۵﴾
اسی سے ہم نے تمہیں کیا ہے اور اسی میں ہم تمہیں لوٹائیں گے اور ( روز حشر ) اسی سے ہم تمہیں نکالیں گے ایک بار پھر ۔
وَلَقَدۡ اَرَیۡنٰہُ اٰیٰتِنَا کُلَّہَا فَکَذَّبَ وَاَبٰی ﴿۵۶﴾
اور ہم نے دکھلا دیں فرعون کو اپنی ساری نشانیاں پھر بھی اس نے جھٹلایا اور ماننے سے کر دیا ۔
قَالَ اَجِئۡتَنَا لِتُخۡرِجَنَا مِنۡ اَرۡضِنَا بِسِحۡرِکَ یٰمُوۡسٰی ﴿۵۷﴾
کہنے لگا موسیٰ ! کیا تم اس لیے ہمارے آئے ہو کہ نکال دو ہمیں اپنے ملک سے اپنے جادو کی سے ۔
فَلَنَاۡتِیَنَّکَ بِسِحۡرٍ مِّثۡلِہٖ فَاجۡعَلۡ بَیۡنَنَا وَبَیۡنَکَ مَوۡعِدًا لَّا نُخۡلِفُہٗ نَحۡنُ وَلَاۤ اَنۡتَ مَکَانًا سُوًی ﴿۵۸﴾
سو ہم بھی لائیں گے تیرے مقابلہ میں جادو ویسا ہی پس ( اب ) کرو ہمارے اور اپنے مقابلے کا ، نہ ہم پھریں اس سے اور نہ ہی تو پھرے ، جمع ہونے کی اور کھلی ہو ۔
قَالَ مَوۡعِدُکُمۡ یَوۡمُ الزِّیۡنَۃِ وَاَنۡ یُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًی ﴿۵۹﴾
آپ نے فرمایا ( تمھارا چیلنج منظور ہے ) جشن کا تمہارے لیے کرتا ہوں ۔ اور یہ خیال رہے کہ سارے لوگ چاشت کے جمع ہو جائیں ۔
فَتَوَلّٰی فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ کَیۡدَہٗ ثُمَّ اَتٰی ﴿۶۰﴾
پھر فرعون واپس مڑا اور کیا اپنی فریب کاریوں کو ، پھر خود آیا ۔
قَالَ لَہُمۡ مُّوۡسٰی وَیۡلَکُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا فَیُسۡحِتَکُمۡ بِعَذَابٍ ۚ وَقَدۡ خَابَ مَنِ افۡتَرٰی ﴿۶۱﴾
فرمایا ان فرعونیوں کو موسیٰ ( علیہ السلام ) نے کمبختو ! نہ باندھو اللہ تعالیٰ پر جھوٹے ۔ ورنہ وہ تمہارا و مٹا دے گا کسی سے ۔ اور ( اس کا یہ اٹل قانون ہے ) کہ نامراد رہتا ہے جو افتراء بازی کرتا ہے ۔
فَتَنَازَعُوۡۤا اَمۡرَہُمۡ بَیۡنَہُمۡ وَاَسَرُّوا النَّجۡوٰی ﴿۶۲﴾
پس وہ جھگڑنے لگے اس کے متعلق آپس میں اور چھپ چھپ کر مشورے کرنے لگے ۔
قَالُوۡۤا اِنۡ ہٰذٰىنِ لَسٰحِرٰنِ یُرِیۡدٰنِ اَنۡ یُّخۡرِجٰکُمۡ مِّنۡ اَرۡضِکُمۡ بِسِحۡرِہِمَا وَیَذۡہَبَا بِطَرِیۡقَتِکُمُ الۡمُثۡلٰی ﴿۶۳﴾
وہ ایک دوسرے کو کہنے لگے بلاشبہ یہ دو جادوگر ہیں یہ چاہتے ہیں کہ نکال دیں تمہیں تمہارے ملک سے اپنے جادو کے زور سے اور مٹا دیں تمہاری تہذیب و ثقافت کے مثالی طریقوں کو ۔
فَاَجۡمِعُوۡا کَیۡدَکُمۡ ثُمَّ ائۡتُوۡا صَفًّا ۚ وَقَدۡ اَفۡلَحَ الۡیَوۡمَ مَنِ اسۡتَعۡلٰی ﴿۶۴﴾
پس یکجا کر لو اپنی حیلہ سازیوں کو پھر آؤ پرے باندھے ہوئے ۔ اور ہو گا آج وہ گروہ جو ( اس مقابلہ میں ) رہا ۔
قَالُوۡا یٰمُوۡسٰۤی اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِیَ وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّکُوۡنَ اَوَّلَ مَنۡ اَلۡقٰی ﴿۶۵﴾
جادوگر بولے اے موسیٰ ! کیا آپ پھینکیں گے یا ہم ہی ہو جائیں پھینکنے والے ؟ آپ نے فرمایا نہیں ، تم ہی ( ) پھینکو ۔
قَالَ بَلۡ اَلۡقُوۡا ۚ فَاِذَا حِبَالُہُمۡ وَعِصِیُّہُمۡ یُخَیَّلُ اِلَیۡہِ مِنۡ سِحۡرِہِمۡ اَنَّہَا تَسۡعٰی ﴿۶۶﴾
پھر کیا تھا یکایک ان کی رسیاں اور ان کی لاٹھیاں آپ کو یوں دکھائی دینے لگیں ان کے جادو کے اثر سے جیسے وہ دوڑ رہی ہوں ۔
فَاَوۡجَسَ فِیۡ نَفۡسِہٖ خِیۡفَۃً مُّوۡسٰی ﴿۶۷﴾
موسیٰ علیہ السّلام نے اپنے میں کچھ خوف محسوس کیا ۔
قُلۡنَا لَا تَخَفۡ اِنَّکَ اَنۡتَ الۡاَعۡلٰی ﴿۶۸﴾
ہم نے فرمایا ( اے کلیم ! ) مت ڈرو ۔ یقیناً تم ہی رہو گے ۔
وَاَلۡقِ مَافِیۡ یَمِیۡنِکَ تَلۡقَفۡ مَاصَنَعُوۡا ؕ اِنَّمَا صَنَعُوۡا کَیۡدُ سٰحِرٍ ؕ وَلَا یُفۡلِحُ السَّاحِرُ حَیۡثُ اَتٰی ﴿۶۹﴾
اور پر پھینک دو جو ( عصا ) تمہارے داہنے میں ہے ۔ یہ نگل جائے گا جو انھوں نے کاریگری کی ہے ۔ انہوں نے جو کاریگری کی ہے وہ تو فقط جادوگر کا فریب ہے اور نہیں فلاح پاتا جادوگر جہاں بھی وہ جائے ۔
فَاُلۡقِیَ السَّحَرَۃُ سُجَّدًا قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ ہٰرُوۡنَ وَمُوۡسٰی ﴿۷۰﴾
پس گرا دیے گئے جادوگر سجدہ کرتے ہوئے انھوں نے ( برملا ) کہہ دیا ( اے لوگو ! سن لو ) ہم ایمان لے آئے ہیں ہارون اور موسیٰ کے رب پر ۔
قَالَ اٰمَنۡتُمۡ لَہٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَکُمۡ ؕ اِنَّہٗ لَکَبِیۡرُکُمُ الَّذِیۡ عَلَّمَکُمُ السِّحۡرَ ۚ فَلَاُقَطِّعَنَّ اَیۡدِیَکُمۡ وَاَرۡجُلَکُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ وَّلَاُصَلِّبَنَّکُمۡ فِیۡ جُذُوۡعِ النَّخۡلِ ۫ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَیُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰی ﴿۷۱﴾
فرعون ( کو یارائے ضبط نہ رہا ) بولا تم تو ایمان لا چکے تھے اس پر اس سے کہ میں نے تمہیں ( مقابلہ کی ) دی ۔ وہ تو تمہارا بڑا ( گرو ) ہے جس نے تمہیں سکھایا ہے جادو ( کا فن ) تو میں کھاتا ہوں کہ میں کاٹ ڈالوں گا تمہارے یعنی ایک طرف کا ، ایک طرف کا اور سولی چڑھاؤں گا تمہیں کے تنوں پر اور تم خوب جان لو گے کہ ہم میں سے کس کا شدید اور دیرپا ہے ۔
قَالُوۡا لَنۡ نُّؤۡثِرَکَ عَلٰی مَاجَآءَنَا مِنَ الۡبَیِّنٰتِ وَالَّذِیۡ فَطَرَنَا فَاقۡضِ مَاۤ اَنۡتَ قَاضٍ ؕ اِنَّمَا تَقۡضِیۡ ہٰذِہِ الۡحَیٰوۃَ الدُّنۡیَا ﴿ؕ۷۲﴾
انھوں نے کہا ( اے فرعون ! ) ہمیں اس کی جس نے ہمیں کیا ، ہم ہرگز ترجیح نہیں دیں گے تجھے ان روشن دلیلوں پر جو ہمارے آئی ہیں پس ( ہمارے بارے میں ) جو تو کرنا چاہتا ہے کر دے ( ہمیں ذرا پرواہ نہیں ) تو صرف اس ( فانی ) دنیوی زندگی کے بارے میں ہی کر سکتا ہے ۔
اِنَّـاۤ اٰمَنَّا بِرَبِّنَا لِیَغۡفِرَ لَنَا خَطٰیٰنَا وَمَاۤ اَکۡرَہۡتَنَا عَلَیۡہِ مِنَ السِّحۡرِ ؕ وَاللّٰہُ خَیۡرٌ وَّاَبۡقٰی ﴿۷۳﴾ ؓ
یقیناً ہم ایمان لائے ہیں اپنے رب پر تاکہ وہ بخش دے ہمارے لیے ہماری خطاؤں کو اور اس قصور کو بھی جس پر تم نے مجبور کیا ہے یعنی فن سحر ۔ اور اللہ تعالیٰ ہی سب سے بہتر ہے اور رہنے والا ہے ۔
اِنَّہٗ مَنۡ یَّاۡتِ رَبَّہٗ مُجۡرِمًا فَاِنَّ لَہٗ جَہَنَّمَ ؕ لَا یَمُوۡتُ فِیۡہَا وَلَا یَحۡیٰی ﴿۷۴﴾
بیشک جو شخص بارگاہ الہٰی میں مجرم بن کر آئے تو اس کے لیے جہنم ( کا زار ) ہے ۔ نہ وہ مر ہی سکے گا اس میں اور نہ وہ ہو گا ۔
وَمَنۡ یَّاۡتِہٖ مُؤۡمِنًا قَدۡ عَمِلَ الصّٰلِحٰتِ فَاُولٰٓئِکَ لَہُمُ الدَّرَجٰتُ الۡعُلٰی ﴿ۙ۷۵﴾
اور جو شخص ہو گا بارگاہ الہٰی میں مومن بن کر اس حال میں کہ اس نے عمل بھی کیے ہوں تو یہ وہ ( سعادت مند ) ہیں کے لیے درجات ہیں ۔
جَنّٰتُ عَدۡنٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ؕ وَذٰلِکَ جَزٰٓؤُا مَنۡ تَزَکّٰی ﴿٪۷۶﴾ 12
یعنی سدا بہار باغات ، رواں ہیں کے نہریں ، وہ ( نصیب ) ان میں رہیں گے اور یہ ہے جزا ان کی جنھوں نے ( اپنا دامن ہر آلائش سے ) رکھا ۔
وَلَقَدۡ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلٰی مُوۡسٰۤی ۬ ۙ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِیۡ فَاضۡرِبۡ لَہُمۡ طَرِیۡقًا فِی الۡبَحۡرِ یَبَسًا ۙ لَّا تَخٰفُ دَرَکًا وَّلَا تَخۡشٰی ﴿۷۷﴾
اور ہم نے وحی بھیجی موسیٰ ( علیہ السلام ) کی طرف کہ راتوں لے چلیے میرے بندوں کو ( مصر سے ) ( راہ میں سمندر حائل ہو ) تو عصا کی ضرب سے ان کے لیے سمندر میں بنا لیجیے ۔ نہ تمہیں سے پکڑے جانے کا ڈر ہو گا اور نہ کوئی اور اندیشہ ۔
فَاَتۡبَعَہُمۡ فِرۡعَوۡنُ بِجُنُوۡدِہٖ فَغَشِیَہُمۡ مِّنَ الۡیَمِّ مَاغَشِیَہُمۡ ﴿ؕ۷۸﴾
پس فرعون نے ان کا تعاقب کیا اپنے لشکروں سمیت ، پس چھا گئیں فرعونیوں پر سمندر ( کی تند موجیں ) جیسا کہ چھا گئیں ان پر ۔
وَاَضَلَّ فِرۡعَوۡنُ قَوۡمَہٗ وَمَا ہَدٰی ﴿۷۹﴾
اور گمراہ کر دیا فرعون نے اپنی قوم کو اور نہ دکھائی انھیں سیدھی راہ ۔
یٰبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ قَدۡ اَنۡجَیۡنٰکُمۡ مِّنۡ عَدُوِّکُمۡ وَوٰعَدۡنٰکُمۡ جَانِبَ الطُّوۡرِ الۡاَیۡمَنَ وَنَزَّلۡنَا عَلَیۡکُمُ الۡمَنَّ وَالسَّلۡوٰی ﴿۸۰﴾
اے بنی اسرائیل ! ( دیکھو ) ہم نے بچا لیا تمہیں تمہارے سے اور ہم نے تم سے وعدہ کیا ( کوہ ) طور کی دائیں کا اور ہم نے اتارا تم پر من و سلوٰی ۔
کُلُوۡا مِنۡ طَیِّبٰتِ مَارَزَقۡنٰکُمۡ وَلَا تَطۡغَوۡا فِیۡہِ فَیَحِلَّ عَلَیۡکُمۡ غَضَبِیۡ ۚ وَمَنۡ یَّحۡلِلۡ عَلَیۡہِ غَضَبِیۡ فَقَدۡ ہَوٰی ﴿۸۱﴾
کھاؤ ان چیزوں سے جو ہم نے تم کو عطا کی ہیں اور اس میں سے تجاوز نہ کرنا ورنہ اترے گا تم پر میرا غضب اور وہ ( بد نصیب ) اترتا ہے جس پر میرا غضب تو یقیناً وہ گر کر رہتا ہے ۔
وَاِنِّیۡ لَغَفَّارٌ لِّمَنۡ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اہۡتَدٰی ﴿۸۲﴾
اور میں بلاشبہ بہت بخشنے والا ہوں اسے جو توبہ کرتا ہے اور ایمان لاتا ہے اور عمل کرتا ہے بعد ازاں پر مستحکم رہتا ہے ۔
وَمَاۤ اَعۡجَلَکَ عَنۡ قَوۡمِکَ یٰمُوۡسٰی ﴿۸۳﴾
اور کس وجہ سے تم آ گئے اپنی قوم سے اے موسیٰ ! ۔
قَالَ ہُمۡ اُولَآءِ عَلٰۤی اَثَرِیۡ وَعَجِلۡتُ اِلَیۡکَ رَبِّ لِتَرۡضٰی ﴿۸۴﴾
عرض کی وہ یہ ہیں میرے اور میں جلدی تیری بارگاہ میں اس لیے ہو گیا ہوں میرے رب ! کہ تو ہو جائے ۔
قَالَ فَاِنَّا قَدۡ فَتَنَّا قَوۡمَکَ مِنۡۢ بَعۡدِکَ وَاَضَلَّہُمُ السَّامِرِیُّ ﴿۸۵﴾
ارشاد کہ ہم نے تو میں مبتلا کر دیا ہے تمہاری قوم کو تمہارے ( چلے آنے کے ) بعد اور گمراہ کر دیا ہے انھیں سامری نے ۔
فَرَجَعَ مُوۡسٰۤی اِلٰی قَوۡمِہٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا ۬ ۚ قَالَ یٰقَوۡمِ اَلَمۡ یَعِدۡکُمۡ رَبُّکُمۡ وَعۡدًا حَسَنًا ۬ ؕ اَفَطَالَ عَلَیۡکُمُ الۡعَہۡدُ اَمۡ اَرَدۡتُّمۡ اَنۡ یَّحِلَّ عَلَیۡکُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ فَاَخۡلَفۡتُمۡ مَّوۡعِدِیۡ ﴿۸۶﴾
۔( یہ سنتے ہی ) لوٹے موسیٰ ( علیہ السلام ) اپنی قوم کی طرف غضب اور افسردہ خاطر ہو کر ۔ فرمایا اے میری قوم ! کیا وعدہ نہیں کیا تھا تم سے تمہارے رب نے بہت عمدہ وعدہ ۔ تو کیا طویل گزر گئی ہے اس وعدہ پر ( اور تم اس کے ایفاء سے مایوس ہو گئے ) یا تم یہ چاہتے ہو کہ اترے تم پر غضب تمہارے رب کی طرف سے ۔ اس لیے تم نے توڑ ڈالا میرے ساتھ کیا وعدہ ۔
قَالُوۡا مَاۤ اَخۡلَفۡنَا مَوۡعِدَکَ بِمَلۡکِنَا وَلٰکِنَّا حُمِّلۡنَاۤ اَوۡزَارًا مِّنۡ زِیۡنَۃِ الۡقَوۡمِ فَقَذَفۡنٰہَا فَکَذٰلِکَ اَلۡقَی السَّامِرِیُّ ﴿ۙ۸۷﴾
کہنے لگے نہیں توڑا ہم نے آپ سے کیا وعدہ اپنے سے بلکہ واقعہ یہ ہے کہ ہم پر لاد دئیے گئے تھے قوم ( فرعون ) کے زیورات سے ۔ سو ہم نے ( سامری کے کہنے پر ) انھیں پھینک دیا ۔ اسی طرح سامری نے بھی ( اپنے کے زیور ) پھینک دئیے ۔
فَاَخۡرَجَ لَہُمۡ عِجۡلًا جَسَدًا لَّہٗ خُوَارٌ فَقَالُوۡا ہٰذَاۤ اِلٰـہُکُمۡ وَاِلٰہُ مُوۡسٰی ۬ فَنَسِیَ ﴿ؕ۸۸﴾
پھر سامری نے بنا نکالا ان کے لیے بچھڑے کا ڈھانچہ جو گائے کی طرح ڈکارتا تھا ۔ پھر سامری اور اس کے چیلوں نے کہا ( اے فرزندان یعقوب ) یہ ہے تمہارا خدا اور موسیٰ کا خدا ۔ پس موسیٰ بھول گئے ۔
اَفَلَا یَرَوۡنَ اَلَّا یَرۡجِعُ اِلَیۡہِمۡ قَوۡلًا ۬ ۙ وَّلَا یَمۡلِکُ لَہُمۡ ضَرًّا وَّلَا نَفۡعًا ﴿۸۹﴾٪ 13
کیا ان احمقوں نے یہ بھی نہ دیکھا کہ یہ بچھڑا ان کی کسی کا بھی نہیں دے سکتا اور نہ رکھتا ہے ان کے لیے کسی ضرر کا اور نہ نفع کا ۔
وَلَقَدۡ قَالَ لَہُمۡ ہٰرُوۡنُ مِنۡ قَبۡلُ یٰقَوۡمِ اِنَّمَا فُتِنۡتُمۡ بِہٖ ۚ وَاِنَّ رَبَّکُمُ الرَّحۡمٰنُ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ وَاَطِیۡعُوۡۤا اَمۡرِیۡ ﴿۹۰﴾
اور بیشک کہا تھا انھیں ہارون نے ( موسیٰ کی واپسی سے ) اے میری قوم ! تم تو فتنہ میں مبتلا ہو گئے اس سے ۔ اور بلاشبہ تمہارا رب تو وہ ہے جو بیحد ہے پس تم میری پیروی کرو اور میرا مانو ۔
قَالُوۡا لَنۡ نَّبۡرَحَ عَلَیۡہِ عٰکِفِیۡنَ حَتّٰی یَرۡجِعَ اِلَیۡنَا مُوۡسٰی ﴿۹۱﴾
قوم نے کہا ہم تو اسی کی پر جمے رہیں گے یہاں تک کہ لوٹ آئیں ہماری طرف موسیٰ ( علیہ السلام ) ۔
قَالَ یٰہٰرُوۡنُ مَامَنَعَکَ اِذۡ رَاَیۡتَہُمۡ ضَلُّوۡۤا ﴿ۙ۹۲﴾
موسیٰ نے ( آ کر سے ) کہا اے ہارون ! کس چیز نے تجھے روکا کہ جب تو نے انھیں گمراہ ہوتے دیکھا ۔
اَلَّا تَتَّبِعَنِ ؕ اَفَعَصَیۡتَ اَمۡرِیۡ ﴿۹۳﴾
تو ( انھیں چھوڑ کر ) میرے نہ چلا آیا ۔ کیا تو نے بھی میری عدولی کی ۔
قَالَ یَبۡنَؤُمَّ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡیَتِیۡ وَلَا بِرَاۡسِیۡ ۚ اِنِّیۡ خَشِیۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَیۡنَ بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِیۡ ﴿۹۴﴾
ہارون نے کہا اے میرے جائے ( ! ) نہ پکڑو میری ڈاڑھی کو اور نہ میرے ( کے بالوں ) کو ۔ میں نے اس خوف سے ( ان پر نہ کی ) کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے پھوٹ دال دی بنی اسرائیل کے اور میرے کا نہ کیا ۔
قَالَ فَمَا خَطۡبُکَ یٰسَامِرِیُّ ﴿۹۵﴾
آپ نے پوچھا اے سامری ! ( اس فتنہ انگیزی ) سے تیری غرض کیا تھی ؟ ۔
قَالَ بَصُرۡتُ بِمَا لَمۡ یَبۡصُرُوۡا بِہٖ فَقَبَضۡتُ قَبۡضَۃً مِّنۡ اَثَرِ الرَّسُوۡلِ فَنَبَذۡتُہَا وَکَذٰلِکَ سَوَّلَتۡ لِیۡ نَفۡسِیۡ ﴿۹۶﴾
اس نے کہا میں نے دیکھی ایسی چیز جو لوگوں نے نہ دیکھی ۔ پس میں نے مٹھی بھر لی ۔ رسول کی سواری کے کی خاک سے ، پھر اسے ڈال دیا ( اس ڈھانچہ میں ) اور اس طرح آراستہ کر دی میرے لیے میرے نفس نے یہ ۔
قَالَ فَاذۡہَبۡ فَاِنَّ لَکَ فِی الۡحَیٰوۃِ اَنۡ تَقُوۡلَ لَا مِسَاسَ ۪ وَاِنَّ لَکَ مَوۡعِدًا لَّنۡ تُخۡلَفَہٗ ۚ وَانۡظُرۡ اِلٰۤی اِلٰـہِکَ الَّذِیۡ ظَلۡتَ عَلَیۡہِ عَاکِفًا ؕ لَنُحَرِّقَنَّہٗ ثُمَّ لَنَنۡسِفَنَّہٗ فِی الۡیَمِّ نَسۡفًا ﴿۹۷﴾
آپ نے ( سے ) فرمایا چلا جا ۔ پس تیرے لیے اس زندگی میں تو یہ ( سزا ) ہے کہ تو کہتا پھریگا کہ مجھے کوئی نہ لگائے ۔ اور بیشک تیرے لیے ایک اور وعدہ ( ) بھی ہے جس کی خلاف ورزی نہیں ہو گی اور ( ذرا ) دیکھ اپنے اس خدا کی طرف جس پر تو جم کر بیٹھا رہا ( اس کا کیا حشر ہوتا ہے ) ہم اسے جلا ڈالیں گے پھر ہم بکھیر کر بہا دیں گے اس سمندر میں اس ( کی راکھ ) کو ۔
اِنَّمَاۤ اِلٰـہُکُمُ اللّٰہُ الَّذِیۡ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ؕ وَسِعَ کُلَّ شَیۡءٍ عِلۡمًا ﴿۹۸﴾
تمہارا معبود تو صرف اللہ تعالیٰ ہے جس کے سوا کوئی خدا نہیں گھیر رکھا ہے اس نے ہر چیز کو ( اپنے ) علم سے ۔
کَذٰلِکَ نَقُصُّ عَلَیۡکَ مِنۡ اَنۡۢبَآءِ مَاقَدۡ سَبَقَ ۚ وَقَدۡ اٰتَیۡنٰکَ مِنۡ لَّدُنَّا ذِکۡرًا﴿۹۹﴾ۖ ۚ
یوں ہم کرتے ہیں آپ سے خبریں ان لوگوں کی جو گزر چکے ۔ اور ہم نے مرحمت فرمایا ہے آپ کو اپنی جناب سے ایک پند نامہ ۔
مَنۡ اَعۡرَضَ عَنۡہُ فَاِنَّہٗ یَحۡمِلُ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ وِزۡرًا ﴿۱۰۰﴾ۙ
جو شخص روگردانی کرے گا اس سے وہ اٹھائے گا کے ایک ۔
خٰلِدِیۡنَ فِیۡہِ ؕ وَسَآءَ لَہُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ حِمۡلًا ﴿۱۰۱﴾ۙ
یہ لوگ اس تلے دبے رہیں گے اور بہت دہ ہو گا ان کے لیے روز یہ ۔
یَّوۡمَ یُنۡفَخُ فِی الصُّوۡرِ وَنَحۡشُرُ الۡمُجۡرِمِیۡنَ یَوۡمَئِذٍ زُرۡقًا ﴿۱۰۲﴾ۚ ۖ
جس روز پھونکا جائے گا صور میں اور ہم جمع کریں گے مجرموں کو اس اس حال میں کہ ان کی آنکھیں نیلی ہوں گی ۔
یَّتَخَافَتُوۡنَ بَیۡنَہُمۡ اِنۡ لَّبِثۡتُمۡ اِلَّا عَشۡرًا ﴿۱۰۳﴾
چپکے چپکے آپس میں کہیں گے کہ نہیں رہے تم میں مگر صرف دس ۔
نَحۡنُ اَعۡلَمُ بِمَا یَقُوۡلُوۡنَ اِذۡ یَقُوۡلُ اَمۡثَلُہُمۡ طَرِیۡقَۃً اِنۡ لَّبِثۡتُمۡ اِلَّا یَوۡمًا ﴿۱۰۴﴾٪ 14
ہم خوب جانتے ہیں جو وہ کہیں گے جبکہ ان میں سب سے زیرک کہے گا کہ نہیں ٹھیرے ہو تم مگر صرف ایک ۔
وَیَسۡئَلُوۡنَکَ عَنِ الۡجِبَالِ فَقُلۡ یَنۡسِفُہَا رَبِّیۡ نَسۡفًا ﴿۱۰۵﴾ۙ
اور وہ آپ سے پہاڑوں کے کے بارے میں پوچھتے ہیں آپ فرمائیے میرا رب انھیں جڑوں سے اکھیڑ کر پھینک دے گا ۔
فَیَذَرُہَا قَاعًا صَفۡصَفًا ﴿۱۰۶﴾ۙ
پس بنا چھوڑیگا اس پہاڑی علاقہ کو کھلا میدان ۔
لَّا تَرٰی فِیۡہَا عِوَجًا وَّلَاۤ اَمۡتًا ﴿۱۰۷﴾ؕ
نہ نظر آئے گا تجھے اس میں کوئی موڑ اور نہ کوئی ۔
یَوۡمَئِذٍ یَّتَّبِعُوۡنَ الدَّاعِیَ لَا عِوَجَ لَہٗ ۚ وَخَشَعَتِ الۡاَصۡوَاتُ لِلرَّحۡمٰنِ فَلَا تَسۡمَعُ اِلَّا ہَمۡسًا ﴿۱۰۸﴾
اس روز سب لوگ پیروی کریں گے پکارنے والے کی کوئی روگردانی نہیں کر سکے گا اس سے ۔ اور خاموش ہو جائیں گی سب آوازیں رحمن کے خوف سے ۔ پس تو نہ سنے گا ( اس روز ) مگر مدھم سے آہٹ ۔
یَوۡمَئِذٍ لَّا تَنۡفَعُ الشَّفَاعَۃُ اِلَّا مَنۡ اَذِنَ لَہُ الرَّحۡمٰنُ وَرَضِیَ لَہٗ قَوۡلًا ﴿۱۰۹﴾
اس نہیں نفع دے گی کوئی سفارش سوائے اس شخص کی شفاعت کے جسے رحمن نے دی اور فرمایا ہو اس کے قول کو ۔
یَعۡلَمُ مَابَیۡنَ اَیۡدِیۡہِمۡ وَمَا خَلۡفَہُمۡ وَلَا یُحِیۡطُوۡنَ بِہٖ عِلۡمًا ﴿۱۱۰﴾
وہ جانتا ہے لوگوں کے آنے والے حالات کو اور ان کے گزرے ہوئے کو اور لوگ نہیں احاطہ کر سکتے اس کا اپنے علم سے ۔
وَعَنَتِ الۡوُجُوۡہُ لِلۡحَیِّ الۡقَیُّوۡمِ ؕ وَقَدۡ خَابَ مَنۡ حَمَلَ ظُلۡمًا ﴿۱۱۱﴾
اور ( فرط نیاز سے ) جھک جائیں گے سب ( لوگوں کے ) چہرے حیّ و قیوم کے ۔ اور نامراد جس نے لادا اپنے ( ) پر ظلم ( کا بارِگراں ) ۔
وَمَنۡ یَّعۡمَلۡ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَہُوَ مُؤۡمِنٌ فَلَا یَخٰفُ ظُلۡمًا وَّلَا ہَضۡمًا ﴿۱۱۲﴾
اور جو شخص کرتا ہے اور وہ ایماندار بھی ہو تو اسے اندیشہ نہ ہو گا کسی ظلم کا یا حق تلفی کا ۔
وَکَذٰلِکَ اَنۡزَلۡنٰہُ قُرۡاٰنًا عَرَبِیًّا وَّصَرَّفۡنَا فِیۡہِ مِنَ الۡوَعِیۡدِ لَعَلَّہُمۡ یَتَّقُوۡنَ اَوۡ یُحۡدِثُ لَہُمۡ ذِکۡرًا ﴿۱۱۳﴾
اور اسی طرح ہم نے اتارا اس کو عربی زبان میں اور طرح طرح سے کیں اس میں گناہوں کی سزائیں تاکہ وہ پرہیزگار بن جائیں یا کر دے یہ ان کے دلوں میں یہ سمجھ ۔
فَتَعٰلَی اللّٰہُ الۡمَلِکُ الۡحَقُّ ۚ وَلَا تَعۡجَلۡ بِالۡقُرۡاٰنِ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ یُّقۡضٰۤی اِلَیۡکَ وَحۡیُہٗ ۫ وَقُلۡ رَّبِّ زِدۡنِیۡ عِلۡمًا ﴿۱۱۴﴾
پس اعلیٰ و ارفع ہے اللہ جو سچا بادشاہ ہے اور نہ عجلت کیجیے کے پڑھنے میں اس سے کہ پوری ہو جائے آپ کی طرف اس کی وحی اور مانگا کیجیے میرے رب ! ( اور ) کر میرے علم کو ۔
وَلَقَدۡ عَہِدۡنَاۤ اِلٰۤی اٰدَمَ مِنۡ قَبۡلُ فَنَسِیَ وَلَمۡ نَجِدۡ لَہٗ عَزۡمًا ﴿۱۱۵﴾٪ 15
اور ہم نے دیا تھا آدم کو اس سے ( کہ وہ اس کے قریب نہ جائے ) سو وہ بھول گیا اور نہ پایا ہم نے ( اس لغزش میں ) اس کا کوئی قصد ۔
وَاِذۡ قُلۡنَا لِلۡمَلٰٓئِکَۃِ اسۡجُدُوۡا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوۡۤا اِلَّاۤ اِبۡلِیۡسَ ؕ اَبٰی ﴿۱۱۶﴾
اور جب ہم نے دیا فرشتوں کو کہ سجدہ کرو آدم کو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے اس نے ( بجا لانے سے ) کر دیا ۔
فَقُلۡنَا یٰۤـاٰدَمُ اِنَّ ہٰذَا عَدُوٌّ لَّکَ وَلِزَوۡجِکَ فَلَا یُخۡرِجَنَّکُمَا مِنَ الۡجَنَّۃِ فَتَشۡقٰی ﴿۱۱۷﴾
اور ہم نے فرما دیا اے آدم ! بیشک یہ تیرا بھی ہے اور تیری زوجہ کا بھی ۔ سو ( ایسا نہ ہو ) کہ وہ نکال دے تمہیں سے اور تم مصیبت میں پڑ جاؤ ۔
اِنَّ لَکَ اَلَّا تَجُوۡعَ فِیۡہَا وَلَا تَعۡرٰی ﴿۱۱۸﴾ۙ
بیشک تمہارے لیے یہ ہے کہ تمہیں نہ لگے گی یہاں اور نہ تم ننگے ہو گے ۔
وَاَنَّکَ لَا تَظۡمَؤُا فِیۡہَا وَلَا تَضۡحٰی ﴿۱۱۹﴾
اور تمہیں نہ پیاس لگے گی یہاں اور نہ ستائے گی ۔
فَوَسۡوَسَ اِلَیۡہِ الشَّیۡطٰنُ قَالَ یٰۤـاٰدَمُ ہَلۡ اَدُلُّکَ عَلٰی شَجَرَۃِ الۡخُلۡدِ وَمُلۡکٍ لَّا یَبۡلٰی ﴿۱۲۰﴾
پس شیطان نے ان کے میں وسوسہ ڈالا اس نے کہا اے آدم ! کیا میں کروں تمہیں ہمیشگی کے پر اور ایسی پر جو کبھی زائل نہ ہو ۔
فَاَکَلَا مِنۡہَا فَبَدَتۡ لَہُمَا سَوۡاٰتُہُمَا وَطَفِقَا یَخۡصِفٰنِ عَلَیۡہِمَا مِنۡ وَّرَقِ الۡجَنَّۃِ ۫ وَعَصٰۤی اٰدَمُ رَبَّہٗ فَغَوٰی ﴿۱۲۱﴾۪ۖ
سو ( اس کے پھسلانے سے ) دونوں نے کھا لیا اس سے تو ( فوراً ) برہنہ ہو گئیں ان پر ان کی شرمگاہیں اور وہ چپکانے لگ گئے اپنے ( ) پر ( کے درختوں ) کے پتے اور عدولی ہو گئی آدم سے اپنے رب کی سو وہ بامراد نہ ۔
ثُمَّ اجۡتَبٰہُ رَبُّہٗ فَتَابَ عَلَیۡہِ وَہَدٰی ﴿۱۲۲﴾
پھر ( اپنے قرب کے لیے ) لیا انھیں اپنے رب نے اور ( عفو و رحمت سے ) توجہ فرمائی ان پر اور بخشی ۔
قَالَ اہۡبِطَا مِنۡہَا جَمِیۡعًۢا بَعۡضُکُمۡ لِبَعۡضٍ عَدُوٌّ ۚ فَاِمَّا یَاۡتِیَنَّکُمۡ مِّنِّیۡ ہُدًی ۬ ۙ فَمَنِ اتَّبَعَ ہُدَایَ فَلَا یَضِلُّ وَلَا یَشۡقٰی ﴿۱۲۳﴾
حکم ملا دونوں اتر جاؤ یہاں سے اکٹھے ، تم ایک دوسرے کے ہو گے ۔ پس اگر آئے تمہارے میری طرف سے تو جس نے پیروی کی میری کی تو نہ وہ بھٹکے گا اور نہ بدنصیب ہو گا ۔
وَمَنۡ اَعۡرَضَ عَنۡ ذِکۡرِیۡ فَاِنَّ لَہٗ مَعِیۡشَۃً ضَنۡکًا وَّنَحۡشُرُہٗ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ اَعۡمٰی ﴿۱۲۴﴾
اور جس نے پھیرا میری سے تو اس کے لیے زندگی ( کا جامہ ) کر دیا جائے گا اور ہم اسے اٹھائینگے کے کر کے ۔
قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرۡتَنِیۡۤ اَعۡمٰی وَقَدۡ کُنۡتُ بَصِیۡرًا ﴿۱۲۵﴾
وہ کہے گا اے میرے رب ! کیوں اٹھایا ہے تو نے مجھے نابینا کر کے میں تو ( بالکل ) بینا تھا ۔
قَالَ کَذٰلِکَ اَتَتۡکَ اٰیٰتُنَا فَنَسِیۡتَہَا ۚ وَکَذٰلِکَ الۡیَوۡمَ تُنۡسٰی ﴿۱۲۶﴾
اللہ تعالیٰ فرمائیں گے اسی طرح آئی تھیں تیرے ہماری آیتیں سو تو نے انھیں بھلا دیا ۔ اسی طرح آج تجھے فراموش کر دیا جائے گا ۔
وَکَذٰلِکَ نَجۡزِیۡ مَنۡ اَسۡرَفَ وَلَمۡ یُؤۡمِنۡۢ بِاٰیٰتِ رَبِّہٖ ؕ وَلَعَذَابُ الۡاٰخِرَۃِ اَشَدُّ وَاَبۡقٰی ﴿۱۲۷﴾
اور یونہی ہم دیں گے ہر اس شخص کو جس نے سے تجاوز کیا اور ایمان نہ لایا اپنے رب کی آیتوں پر اور ( سن لو ) کا بڑا اور بہت دیرپا ہے ۔
اَفَلَمۡ یَہۡدِ لَہُمۡ کَمۡ اَہۡلَکۡنَا قَبۡلَہُمۡ مِّنَ الۡقُرُوۡنِ یَمۡشُوۡنَ فِیۡ مَسٰکِنِہِمۡ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی النُّہٰی ﴿۱۲۸﴾٪ 16
کیا ( یہ ) انھیں راہ راست نہ دکھا سکی کہ کتنی قومیں تھیں کو ہم نے ( بد اعمالیوں کے باعث ) ان سے کر دیا ، چلتے پھرتے ہیں یہ لوگ جنکے ( اجڑے ہوئے ) مکانوں میں ۔ اس میں ( ہماری قدرت کی ) نشانیاں ہیں دانش مندوں کے لیے ۔
وَلَوۡ لَا کَلِمَۃٌ سَبَقَتۡ مِنۡ رَّبِّکَ لَکَانَ لِزَامًا وَّاَجَلٌ مُّسَمًّی ﴿۱۲۹﴾ؕ
اور اگر ان کے ( کے ) متعلق آپ کے رب کا نہ ہو چکا ہوتا اور ان کے لیے ایک نہ کر دیا گیا ہوتا تو ابھی ان پر نازل ہو جاتا ۔
فَاصۡبِرۡ عَلٰی مَایَقُوۡلُوۡنَ وَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّکَ قَبۡلَ طُلُوۡعِ الشَّمۡسِ وَقَبۡلَ غُرُوۡبِہَا ۚ وَمِنۡ اٰنَآیِٔ الَّیۡلِ فَسَبِّحۡ وَاَطۡرَافَ النَّہَارِ لَعَلَّکَ تَرۡضٰی ﴿۱۳۰﴾
پس ( اے حبیب ! ) فرمائیے ان کی ( دکھانے والی ) باتوں پر اور پاکی کیجیے اپنے رب کی حمد کے ساتھ سورج کے طلوع ہونے سے اور اس کے غروب ہونے سے ۔ اور کے لمحوں میں اس کی پاکی کرو اور کے اطراف میں بھی ۔ تاکہ آپ رہیں ۔
وَلَا تَمُدَّنَّ عَیۡنَیۡکَ اِلٰی مَامَتَّعۡنَا بِہٖۤ اَزۡوَاجًا مِّنۡہُمۡ زَہۡرَۃَ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۬ ۙ لِنَفۡتِنَہُمۡ فِیۡہِ ؕ وَرِزۡقُ رَبِّکَ خَیۡرٌ وَّاَبۡقٰی ﴿۱۳۱﴾
اور آپ مشتاق نگاہوں سے نہ دیکھیے ان چیزوں کی طرف سے ہم نے لطف اندوز کیا ہے کافروں کے چند گروہوں کو ۔ یہ محض زیب و ہے دنیوی زندگی کی ( اور انھیں اس لیے دی ہیں ) تاکہ ہم آزمائیں انھیں ان سے ۔ اور آپ کے رب کی عطا بہتر اور رہنے والی ہے ۔
وَاۡمُرۡ اَہۡلَکَ بِالصَّلٰوۃِ وَاصۡطَبِرۡ عَلَیۡہَا ؕ لَا نَسۡئَلُکَ رِزۡقًا ؕ نَحۡنُ نَرۡزُقُکَ ؕ وَالۡعَاقِبَۃُ لِلتَّقۡوٰی ﴿۱۳۲﴾
اور دیجیے اپنے والوں کو نماز کا اور خود بھی پابند رہیے اس پر ۔ نہیں سوال کرتے ہم آپ سے روزی کا ( بلکہ ) ہم ہی روزی دیتے ہیں آپ کو اور پرہیزگاری کا ہی ہوتا ہے ۔
وَقَالُوۡا لَوۡ لَا یَاۡتِیۡنَا بِاٰیَۃٍ مِّنۡ رَّبِّہٖ ؕ اَوَ لَمۡ تَاۡتِہِمۡ بَیِّنَۃُ مَافِی الصُّحُفِ الۡاُوۡلٰی ﴿۱۳۳﴾
اور کفار کہتے ہیں کہ ( یہ نبی ) کیوں نہیں لے آتا ہمارے کوئی اپنے رب کے سے ( ان سے پوچھو ) کیا نہیں آ گیا ان کے واضح جو پہلی نازل شدہ کتابوں میں ہے ۔
وَلَوۡ اَنَّـاۤ اَہۡلَکۡنٰہُمۡ بِعَذَابٍ مِّنۡ قَبۡلِہٖ لَقَالُوۡا رَبَّنَا لَوۡ لَاۤ اَرۡسَلۡتَ اِلَیۡنَا رَسُوۡلًا فَنَتَّبِعَ اٰیٰتِکَ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ نَّذِلَّ وَنَخۡزٰی ﴿۱۳۴﴾
اور اگر ہم انھیں کر دیتے کسی سے اس سے تو کہتے اے ہمارے رب ! کیوں نہ بھیجا تو نے ہماری طرف کوئی رسول تاکہ ہم پیروی کرتے تیری آیتوں کی اس سے کہ ہم و رسوا ہوئے ۔
قُلۡ کُلٌّ مُّتَرَبِّصٌ فَتَرَبَّصُوۡا ۚ فَسَتَعۡلَمُوۡنَ مَنۡ اَصۡحٰبُ الصِّرَاطِ السَّوِیِّ وَمَنِ اہۡتَدٰی ﴿۱۳۵﴾٪ 17
۔( اے حبیب ! ) آپ انھیں فرمائیے ہر شخص ( کا ) منتظر ہے سو تم بھی کرو ۔ تم عنقریب جان لو گے کون ہیں سیدھی راہ ( پر چلنے ) والے اور کون یافتہ ہیں ۔