نٓ وَالۡقَلَمِ وَمَا یَسۡطُرُوۡنَ ۙ﴿۱﴾
ن ، ہے قلم کی اور جو کچھ وہ لکھتے ہیں ۔
The Pen
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ ﴿١﴾
In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
نٓ وَالۡقَلَمِ وَمَا یَسۡطُرُوۡنَ ۙ﴿۱﴾
ن ، ہے قلم کی اور جو کچھ وہ لکھتے ہیں ۔
مَاۤ اَنۡتَ بِنِعۡمَۃِ رَبِّکَ بِمَجۡنُوۡنٍ ۚ﴿۲﴾
آپ اپنے رب کے فضل سے مجنون نہیں ہیں ۔
وَاِنَّ لَکَ لَاَجۡرًا غَیۡرَ مَمۡنُوۡنٍ ۚ﴿۳﴾
اور یقیناً آپ کے لیے ایسا اجر ہے جو کبھی نہ ہو گا ۔
وَاِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیۡمٍ ﴿۴﴾
اور بیشک آپ عظیم الشان خلق کے ہیں ۔
فَسَتُبۡصِرُ وَیُبۡصِرُوۡنَ ۙ﴿۵﴾
عنقریب آپ بھی دیکھیں گے اور وہ بھی دیکھ لیں گے ۔
بِاَىیِّکُمُ الۡمَفۡتُوۡنُ ﴿۶﴾
کہ تم میں سے ( واقعی ) مجنون کون ہے ۔
اِنَّ رَبَّکَ ہُوَ اَعۡلَمُ بِمَنۡ ضَلَّ عَنۡ سَبِیۡلِہٖ ۪ وَہُوَ اَعۡلَمُ بِالۡمُہۡتَدِیۡنَ ﴿۷﴾
بیشک آپ کا رب خوب جانتا ہے ان کو جو اس کی راہ سے بہک گئے ہیں اور انھیں بھی خوب جانتا ہے جو یافتہ ہیں ۔
فَلَا تُطِعِ الۡمُکَذِّبِیۡنَ ﴿۸﴾
پس آپ نہ مانیں ( ان ) جھٹلانے والوں کی ۔
وَدُّوۡا لَوۡ تُدۡہِنُ فَیُدۡہِنُوۡنَ ﴿۹﴾
وہ تو تمنا کرتے ہیں کہ کہیں آپ نرمی کریں تو وہ بھی پڑ جائیں ۔
وَلَا تُطِعۡ کُلَّ حَلَّافٍ مَّہِیۡنٍ ﴿ۙ۱۰﴾
اور نہ مانیے کسی ( جھوٹی ) قسمیں کھانے والے شخص کی ۔
ہَمَّازٍ مَّشَّآءٍ ۢ بِنَمِیۡمٍ ﴿ۙ۱۱﴾
جو بہت نکتہ چین ، چغلیاں کھاتا پھرتا ہے ۔
مَّنَّاعٍ لِّلۡخَیۡرِ مُعۡتَدٍ اَثِیۡمٍ ﴿ۙ۱۲﴾
سخت منع کرنے والا بھلائی سے ، سے بڑھا ، بڑا بدکار ہے ۔
عُتُلٍّ ۢ بَعۡدَ ذٰلِکَ زَنِیۡمٍ ﴿ۙ۱۳﴾
اکھڑ مزاج ہے ، اس کے علاوہ بد اصل ہے ۔
اَنۡ کَانَذَا مَالٍ وَّبَنِیۡنَ ﴿ؕ۱۴﴾
۔( یہ غرور و ) اس لیے کہ وہ مالدار اور صاحب ہے ۔
اِذَا تُتۡلٰی عَلَیۡہِ اٰیٰتُنَا قَالَ اَسَاطِیۡرُ الۡاَوَّلِیۡنَ ﴿۱۵﴾
جب پڑھی جاتی ہیں اس کے ہماری آیتیں تو کہتا ہے کہ یہ تو لوگوں کے افسانے ہیں ۔
سَنَسِمُہٗ عَلَی الۡخُرۡطُوۡمِ ﴿۱۶﴾
ہم بہت جلد اس کی سونڈ پر لگائیں گے ۔
اِنَّا بَلَوۡنٰہُمۡ کَمَا بَلَوۡنَاۤ اَصۡحٰبَ الۡجَنَّۃِ ۚ اِذۡ اَقۡسَمُوۡا لَیَصۡرِمُنَّہَا مُصۡبِحِیۡنَ ﴿ۙ۱۷﴾
ہم نے ان ( مکہ والوں ) کو بھی آزمایا جیسے ہم نے آزمایا تھا والوں کو جب انھوں نے اٹھائی کہ وہ ضرور توڑ لیں گے اس کا صبح سویرے ۔
وَلَا یَسۡتَثۡنُوۡنَ ﴿۱۸﴾
اور انھوں نے انشاء اللہ بھی نہ کہا ۔
فَطَافَ عَلَیۡہَا طَآئِفٌ مِّنۡ رَّبِّکَ وَہُمۡ نَآئِمُوۡنَ ﴿۱۹﴾
پس چکر لگا گیا اس پر ایک چکر لگانے والا آپ کے رب کی طرف سے ، دراںحالیکہ وہ سوئے ہوئے تھے ۔
فَاَصۡبَحَتۡ کَالصَّرِیۡمِ ﴿ۙ۲۰﴾
چنانچہ ( لہلہاتا ) کٹے ہوئے کھیت کی مانند ہو گیا ۔
فَتَنَادَوۡا مُصۡبِحِیۡنَ ﴿ۙ۲۱﴾
پھر انھوں نے ایک دوسرے کو ندا دی صبح سویرے ۔
اَنِ اغۡدُوۡا عَلٰی حَرۡثِکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰرِمِیۡنَ ﴿۲۲﴾
کہ سویرے سویرے اپنے کھیت کی طرف چلو اگر تم چاہتے ہو ۔
فَانۡطَلَقُوۡا وَہُمۡ یَتَخَافَتُوۡنَ ﴿ۙ۲۳﴾
سو وہ چل پڑے اور ایک دوسرے کو چپکے چپکے کہتے جاتے ۔
اَنۡ لَّا یَدۡخُلَنَّہَا الۡیَوۡمَ عَلَیۡکُمۡ مِّسۡکِیۡنٌ ﴿ۙ۲۴﴾
کہ ( خبردار ) اس میں ہرگز نہ ہو آج تم پر کوئی مسکین ۔
وَّغَدَوۡا عَلٰی حَرۡدٍ قٰدِرِیۡنَ ﴿۲۵﴾
اور تڑکے چلے ( یہ سمجھتے ہوئے ) کہ وہ اس پر قادر ہیں ۔
فَلَمَّا رَاَوۡہَا قَالُوۡۤا اِنَّا لَضَآلُّوۡنَ ﴿ۙ۲۶﴾
پھر جب کو دیکھا تو کہنے لگے ( غالباً ) ہم بھول گئے ۔
بَلۡ نَحۡنُ مَحۡرُوۡمُوۡنَ ﴿۲۷﴾
نہیں نہیں ہماری تو قسمت پھوٹ گئی ۔
قَالَ اَوۡسَطُہُمۡ اَلَمۡ اَقُلۡ لَّکُمۡ لَوۡ لَا تُسَبِّحُوۡنَ ﴿۲۸﴾
ان میں جو زیرک تھا بول اٹھا کہ کیا میں تمہیں کہتا نہ تھا کہ تم ( اس کی ) تسبیح کیوں نہیں کرتے ۔
قَالُوۡا سُبۡحٰنَ رَبِّنَاۤ اِنَّا کُنَّا ظٰلِمِیۡنَ ﴿۲۹﴾
کہنے لگے ہے ہمارا رب ، بیشک ہم ہی ظالم تھے ۔
فَاَقۡبَلَ بَعۡضُہُمۡ عَلٰی بَعۡضٍ یَّتَلَاوَمُوۡنَ ﴿۳۰﴾
پھر ایک دوسرے کی طرف کر کے ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے ۔
قَالُوۡا یٰوَیۡلَنَاۤ اِنَّا کُنَّا طٰغِیۡنَ ﴿۳۱﴾
کہنے لگے تف ہے ہم پر ، ہم ہی سرکش تھے ۔
عَسٰی رَبُّنَاۤ اَنۡ یُّبۡدِلَنَا خَیۡرًا مِّنۡہَاۤ اِنَّاۤ اِلٰی رَبِّنَا رٰغِبُوۡنَ ﴿۳۲﴾
امید ہے کہ ہمارا رب ہمیں ( اس کا ) دے گا جو بہتر ہو گا اس سے ، ہم ( اب ) اپنے رب کی طرف کرنے والے ہیں ۔
کَذٰلِکَ الۡعَذَابُ ؕ وَلَعَذَابُ الۡاٰخِرَۃِ اَکۡبَرُ ۘ لَوۡ کَانُوۡا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿٪۳۳﴾ 3
۔( دیکھ لیا ) ایسا ہوتا ہے ۔ اور کا تو بہت بڑا ہے کاش ! یہ لوگ ( اس حقیقت کو ) جانتے ۔
اِنَّ لِلۡمُتَّقِیۡنَ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ جَنّٰتِ النَّعِیۡمِ ﴿۳۴﴾
بیشک پرہیزگاروں کے لیے اپنے رب کے نعمتوں بھری جنتیں ہیں ۔
اَفَنَجۡعَلُ الۡمُسۡلِمِیۡنَ کَالۡمُجۡرِمِیۡنَ ﴿ؕ۳۵﴾
کیا ہم فرمانبرداروں کا حال مجرموں کا سا کر دیں گے ۔
مَالَکُمۡ ٝ کَیۡفَ تَحۡکُمُوۡنَ ﴿ۚ۳۶﴾
تمہیں کیا ہو گیا ۔ تم کیسے فیصلے کرتے ہو ۔
اَمۡ لَکُمۡ کِتٰبٌ فِیۡہِ تَدۡرُسُوۡنَ ﴿ۙ۳۷﴾
کیا تمہارے کوئی ہے جس میں تم یہ پڑھتے ہو
اِنَّ لَکُمۡ فِیۡہِ لَمَا تَخَیَّرُوۡنَ ﴿ۚ۳۸﴾
کہ تمہارے لیے اس میں ایسی چیزیں ہیں کو تم کرتے ہو ۔
اَمۡ لَکُمۡ اَیۡمَانٌ عَلَیۡنَا بَالِغَۃٌ اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ ۙ اِنَّ لَکُمۡ لَمَا تَحۡکُمُوۡنَ ﴿ۚ۳۹﴾
کیا تمہارے لیے قسمیں ہم پر ( لازم ) ہیں جو رہنے والی ہیں تک ، کہ تمہیں وہی ملے گا جو تم کرو گے ۔
سَلۡہُمۡ اَیُّہُمۡ بِذٰلِکَ زَعِیۡمٌ ﴿۴۰﴾ۚ ۛ
ان سے پوچھیے ان میں سے کون ان ( بے و پا ) باتوں کا ہے ۔
اَمۡ لَہُمۡ شُرَکَآءُ ۚ ۛ فَلۡیَاۡتُوۡا بِشُرَکَآئِہِمۡ اِنۡ کَانُوۡا صٰدِقِیۡنَ ﴿۴۱﴾
کیا ان کے کوئی گواہ ہیں ، اگر ہیں تو پھر کریں اپنے گواہوں کو اگر وہ سچے ہیں ۔
یَوۡمَ یُکۡشَفُ عَنۡ سَاقٍ وَّیُدۡعَوۡنَ اِلَی السُّجُوۡدِ فَلَا یَسۡتَطِیۡعُوۡنَ ﴿ۙ۴۲﴾
جس روز اٹھایا جائے گا ایک ساق سے تو ان ( نابکاروں ) کو سجدہ کی دعوت دی جائے گی تو اس وہ سجدہ نہ کر سکیں گے ۔
خَاشِعَۃً اَبۡصَارُہُمۡ تَرۡہَقُہُمۡ ذِلَّۃٌ ؕ وَقَدۡ کَانُوۡا یُدۡعَوۡنَ اِلَی السُّجُوۡدِ وَہُمۡ سٰلِمُوۡنَ ﴿۴۳﴾
ندامت سے جھکی ہوں گی ان کی آنکھیں ان پر چھا رہی ہو گی ۔ حالانکہ انھیں ( میں ) بلایا جاتا تھا سجدہ کی طرف جبکہ وہ صحیح سلامت تھے ۔
فَذَرۡنِیۡ وَمَنۡ یُّکَذِّبُ بِہٰذَا الۡحَدِیۡثِ ؕ سَنَسۡتَدۡرِجُہُمۡ مِّنۡ حَیۡثُ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿ۙ۴۴﴾
پس ( اے حبیب ! ) آپ چھوڑ دیجیے مجھے اور اسے جو اس کو جھٹلاتا ہے ہم انھیں بتدریج تباہی کی طرف لے جائیں گے اس طرح کہ انھیں علم تک نہ ہو گا ۔
وَاُمۡلِیۡ لَہُمۡ ؕ اِنَّ کَیۡدِیۡ مَتِیۡنٌ ﴿۴۵﴾
اور میں نے ( دست ) انھیں دے رکھی ہے ۔ میری ( خفیہ ) بڑی پختہ ہے ۔
اَمۡ تَسۡئَلُہُمۡ اَجۡرًا فَہُمۡ مِّنۡ مَّغۡرَمٍ مُّثۡقَلُوۡنَ ﴿ۚ۴۶﴾
آیا آپ ان سے کچھ اجرت مانگتے ہیں ، پس وہ اس تاوان ( کے ) سے دبے جاتے ہیں ۔
اَمۡ عِنۡدَہُمُ الۡغَیۡبُ فَہُمۡ یَکۡتُبُوۡنَ ﴿۴۷﴾
کیا ان کے غیب کی آتی ہے اور وہ اس کو لکھ لیتے ہیں ۔
فَاصۡبِرۡ لِحُکۡمِ رَبِّکَ وَلَا تَکُنۡ کَصَاحِبِ الۡحُوۡتِ ۘ اِذۡ نَادٰی وَہُوَ مَکۡظُوۡمٌ ﴿ؕ۴۸﴾
پس فرمائیے اپنے رب کے کا اور نہ ہو جائیے مچھلی والے کی مانند جب اس نے پکارا اور وہ و اندوہ سے بھرا تھا ۔
لَوۡ لَاۤ اَنۡ تَدٰرَکَہٗ نِعۡمَۃٌ مِّنۡ رَّبِّہٖ لَنُبِذَ بِالۡعَرَآءِ وَہُوَ مَذۡمُوۡمٌ ﴿۴۹﴾
اگر اس کی سازی نہ کرتا اس کے رب کا لطف تو ڈال دیا جاتا اسے چٹیل میدان میں دراں حال کہ اس کی مذمت کی جاتی ۔
فَاجۡتَبٰہُ رَبُّہٗ فَجَعَلَہٗ مِنَ الصّٰلِحِیۡنَ ﴿۵۰﴾
پھر لیا اس کو اس کے رب نے اور بنا دیا اس کو اپنے بندوں سے ۔
وَاِنۡ یَّکَادُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَیُزۡلِقُوۡنَکَ بِاَبۡصَارِہِمۡ لَمَّا سَمِعُوا الذِّکۡرَ وَیَقُوۡلُوۡنَ اِنَّہٗ لَمَجۡنُوۡنٌ ﴿ۘ۵۱﴾
اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ کفار پھسلا دیں گے آپ کو اپنی ( بد ) نظروں سے جب وہ سنتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ یہ تو مجنون ہے ۔
وَمَا ہُوَ اِلَّا ذِکۡرٌ لِّلۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۵۲﴾٪ ٙ 4
حالانکہ وہ نہیں مگر سارے جہانوں کے لیے وجہ عز و شرف ۔