اِقۡتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُہُمۡ وَہُمۡ فِیۡ غَفۡلَۃٍ مُّعۡرِضُوۡنَ ۚ﴿۱﴾
قریب آ گیا ہے لوگوں کے لیے ان کے ( کے ) حساب کا اور وہ غفلت میں پھیرے ہوئے ہیں ۔
The Prophets
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ ﴿١﴾
In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
اِقۡتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُہُمۡ وَہُمۡ فِیۡ غَفۡلَۃٍ مُّعۡرِضُوۡنَ ۚ﴿۱﴾
قریب آ گیا ہے لوگوں کے لیے ان کے ( کے ) حساب کا اور وہ غفلت میں پھیرے ہوئے ہیں ۔
مَایَاۡتِیۡہِمۡ مِّنۡ ذِکۡرٍ مِّنۡ رَّبِّہِمۡ مُّحۡدَثٍ اِلَّا اسۡتَمَعُوۡہُ وَہُمۡ یَلۡعَبُوۡنَ ۙ﴿۲﴾
نہیں آتی ان کے کوئی ان کے رب کی طرف سے مگر یہ کہ وہ سنتے ہیں اس حال میں کہ وہ ( لہو و ) لعب میں ( مگن ) ہوتے ہیں ۔
لَاہِیَۃً قُلُوۡبُہُمۡ ؕ وَاَسَرُّوا النَّجۡوَی ٭ۖ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا ٭ۖ ہَلۡ ہٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثۡلُکُمۡ ۚ اَفَتَاۡتُوۡنَ السِّحۡرَ وَاَنۡتُمۡ تُبۡصِرُوۡنَ ﴿۳﴾
غافل ہوتے ہیں ان کے اور ( آپ کے خلاف ) سرگوشیاں کرتے ہیں ظالم ( وہ کہتے ہیں ) کیا ہے یہ مگر ایک بشر تمہاری مانند ۔ تو کیا تم پیروی کرنے لگے ہو جادو کی حالانکہ تم دیکھ رہے ہو ( کہ یہ تمہاری طرح بشر ہے ) ۔
قٰلَ رَبِّیۡ یَعۡلَمُ الۡقَوۡلَ فِی السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ ۫ وَہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۴﴾
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ) فرمایا میرا رب جانتا ہے جو کہی جاتی ہے اور میں اور وہی ہر سننے والا سب کچھ جاننے والا ہے ۔
بَلۡ قَالُوۡۤا اَضۡغَاثُ اَحۡلَامٍ ۢ بَلِ افۡتَرٰىہُ بَلۡ ہُوَ شَاعِرٌ ۚ ۖ فَلۡیَاۡتِنَا بِاٰیَۃٍ کَمَاۤ اُرۡسِلَ الۡاَوَّلُوۡنَ ﴿۵﴾
وہ کہتے ہیں بلکہ یہ پریشان ہیں ( نہیں ) بلکہ اس نے خود گھڑا ہے اسے ۔ ( نہیں ) بلکہ وہ شاعر ہے ( اگر وہ سچا نبی ہے ) تو لے آئے ہمارے کوئی جس طرح بھیجے گئے تھے انبیاء ۔
مَاۤ اٰمَنَتۡ قَبۡلَہُمۡ مِّنۡ قَرۡیَۃٍ اَہۡلَکۡنٰہَا ۚ اَفَہُمۡ یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۶﴾
نہیں ایمان لائی ان سے کوئی جسے ہم نے تباہ کیا تھا ۔ تو کیا اب یہ لوگ ایمان لے آئیں گے ۔
وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا قَبۡلَکَ اِلَّا رِجَالًا نُّوۡحِیۡۤ اِلَیۡہِمۡ فَسۡئَلُوۡۤا اَہۡلَ الذِّکۡرِ اِنۡ کُنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۷﴾
اور نہیں رسول بنا کر بھیجا ہم نے ( اے حبیب ! ) آپ سے مگر مردوں کو ہم نے وحی بھیجی ان کی طرف ۔ پس ( اے منکرو ! ) پوچھو اہل علم سے اگر تم ( خود حقیقت حال کو ) نہیں جانتے ۔
وَمَا جَعَلۡنٰہُمۡ جَسَدًا لَّا یَاۡکُلُوۡنَ الطَّعَامَ وَمَا کَانُوۡا خٰلِدِیۡنَ ﴿۸﴾
اور نہیں بنائے ہم نے ان انبیاء کے ( ایسے ) کہ وہ نہ کھاتے ہوں اور نہ ہی وہ ( اس میں ) رہنے والے تھے ۔
ثُمَّ صَدَقۡنٰہُمُ الۡوَعۡدَ فَاَنۡجَیۡنٰہُمۡ وَمَنۡ نَّشَآءُ وَاَہۡلَکۡنَا الۡمُسۡرِفِیۡنَ ﴿۹﴾
پھر ہم نے سچا کر دکھایا انھیں ( جو ) وعدہ ( ہم نے ان سے کیا تھا ) پس ہم نے دی انھیں اور ان لوگوں کو کو ہم نے ( ) چاہا اور ہم نے کر دیا سے بڑھنے والوں کو ۔
لَقَدۡ اَنۡزَلۡنَاۤ اِلَیۡکُمۡ کِتٰبًا فِیۡہِ ذِکۡرُکُمۡ ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۱۰﴾٪ 1
بیشک ہم نے اتاری تمہاری طرف ایک جس میں تمہارے لیے ہے کیا تم ( اتنا بھی ) نہیں سمجھتے ۔
وَکَمۡ قَصَمۡنَا مِنۡ قَرۡیَۃٍ کَانَتۡ ظَالِمَۃً وَّاَنۡشَاۡنَا بَعۡدَہَا قَوۡمًا اٰخَرِیۡنَ ﴿۱۱﴾
اور کتنی بستیاں ہم نے کر دیں ( کیونکہ ) وہ ظالم تھیں اور ہم نے فرما دی ان ( کی بربادی ) کے بعد ایک دوسری قوم ۔
فَلَمَّاۤ اَحَسُّوۡا بَاۡسَنَاۤ اِذَا ہُمۡ مِّنۡہَا یَرۡکُضُوۡنَ ﴿ؕ۱۲﴾
پس جب انھوں نے محسوس کیا ہمارا تو فوراً انھوں نے وہاں سے کر دیا ۔
لَا تَرۡکُضُوۡا وَارۡجِعُوۡۤا اِلٰی مَاۤ اُتۡرِفۡتُمۡ فِیۡہِ وَمَسٰکِنِکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تُسۡئَلُوۡنَ ﴿۱۳﴾
اب مت بھاگو ! اور واپس لوٹو ان آسائشوں کی طرف جو تمہیں دی گئی تھیں اور ( لوٹو ) اپنے مکانوں کی طرف تاکہ تم سے پرس کی جائے ۔
قَالُوۡا یٰوَیۡلَنَاۤ اِنَّا کُنَّا ظٰلِمِیۡنَ ﴿۱۴﴾
کہنے لگے وائے شومئیے قسمت ! ہم ہی ظالم تھے ۔
فَمَا زَالَتۡ تِّلۡکَ دَعۡوٰىہُمۡ حَتّٰی جَعَلۡنٰہُمۡ حَصِیۡدًا خٰمِدِیۡنَ ﴿۱۵﴾
پس وہ یونہی شور و پکار کرتے رہے یہاں تک کہ ہم نے انھیں کٹے ہوئے کھیت ( اور ) بجھے ہوئے ( انگاروں ) کی طرح کر دیا ۔
وَمَا خَلَقۡنَا السَّمَآءَ وَالۡاَرۡضَ وَمَا بَیۡنَہُمَا لٰعِبِیۡنَ ﴿۱۶﴾
اور نہیں فرمایا ہم نے اور اور جو کچھ ان کے ہے لگی کرتے ہوئے ۔
لَوۡ اَرَدۡنَاۤ اَنۡ نَّتَّخِذَ لَہۡوًا لَّاتَّخَذۡنٰہُ مِنۡ لَّدُنَّاۤ ٭ۖ اِنۡ کُنَّا فٰعِلِیۡنَ ﴿۱۷﴾
اگر ہمیں یہی منظور ہوتا کہ ہم ( اس کائنات ) کو کھیل تماشہ بنائیں تو ہم بنا لیتے اسے خود بخود ( ہمیں کون روک سکتا تھا ) مگر ہم ایسا کرنے والے نہیں ہیں ۔
بَلۡ نَقۡذِفُ بِالۡحَقِّ عَلَی الۡبَاطِلِ فَیَدۡمَغُہٗ فَاِذَا ہُوَ زَاہِقٌ ؕ وَلَکُمُ الۡوَیۡلُ مِمَّا تَصِفُوۡنَ ﴿۱۸﴾
بلکہ ہم تو چوٹ لگاتے ہیں حق سے باطل پر پس وہ اسے کچل دیتا ہے اور وہ یکایک ناپید ہو جاتا ہے اور ( اے باطل پرستو ! ) تمہارے لیے ہے ان ( نازیبا ) باتوں کے باعث جو تم کرتے ہو ۔
وَلَہٗ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ؕ وَمَنۡ عِنۡدَہٗ لَا یَسۡتَکۡبِرُوۡنَ عَنۡ عِبَادَتِہٖ وَلَا یَسۡتَحۡسِرُوۡنَ ﴿ۚ۱۹﴾
اور اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور میں ہے اور جو ( فرشتے ) اس کے ہیں وہ ذرا نہیں کرتے اس کی سے اور نہ ہی وہ تھکتے ہیں ۔
یُسَبِّحُوۡنَ الَّیۡلَ وَالنَّہَارَ لَا یَفۡتُرُوۡنَ ﴿۲۰﴾
وہ ( اس کی ) پاکی کرتے رہتے ہیں اور وہ اکتاتے نہیں ۔
اَمِ اتَّخَذُوۡۤا اٰلِہَۃً مِّنَ الۡاَرۡضِ ہُمۡ یُنۡشِرُوۡنَ ﴿۲۱﴾
کیا بنا لیے ہیں انھوں نے خدا ( اہل ) سے جو مردوں کو کر سکتے ہیں ۔
لَوۡ کَانَ فِیۡہِمَاۤ اٰلِہَۃٌ اِلَّا اللّٰہُ لَفَسَدَتَا ۚ فَسُبۡحٰنَ اللّٰہِ رَبِّ الۡعَرۡشِ عَمَّا یَصِفُوۡنَ ﴿۲۲﴾
اگر ہوتے و میں کوئی اور خدا سوائے اللہ تعالیٰ کے تو یہ دونوں ہو جاتے پس ہے اللہ تعالیٰ جو عرش کا رب ہے ان تمام نازیبا باتوں سے جو وہ کرتے ہیں ۔
لَا یُسۡئَلُ عَمَّا یَفۡعَلُ وَہُمۡ یُسۡئَلُوۡنَ ﴿۲۳﴾
نہیں پرسش کی جا سکتی اس کے متعلق جو وہ کرتا ہے اور ان ( تمام سے ) پرس ہو گی ۔
اَمِ اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اٰلِہَۃً ؕ قُلۡ ہَاتُوۡا بُرۡہَانَکُمۡ ۚ ہٰذَا ذِکۡرُ مَنۡ مَّعِیَ وَذِکۡرُ مَنۡ قَبۡلِیۡ ؕ بَلۡ اَکۡثَرُہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ۙ الۡحَقَّ فَہُمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ ﴿۲۴﴾
کیا انھوں نے بنا لیے ہیں اللہ تعالیٰ کے سوا اور معبود ۔ ( اے حبیب ! ) آپ ( انھیں ) فرمائیے کرو اپنی ۔ یہ جو ہے میرے ساتھ والوں کے لیے اور دوسری کتب جو ہیں میرے روؤں کے لیے ( سب موجود ہیں ان کا کوئی حوالہ دو ) بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے اکثر حق کو نہیں جانتے اس لیے وہ ( اس سے ) پھیرے ہوئے ہیں ۔
وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِکَ مِنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا نُوۡحِیۡۤ اِلَیۡہِ اَنَّہٗ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعۡبُدُوۡنِ ﴿۲۵﴾
اور نہیں بھیجا ہم نے آپ سے کوئی رسول مگر یہ کہ ہم نے وحی بھیجی اس کی طرف کہ بلاشبہ نہیں ہے کوئی خدا بجز میرے پس میری کیا کرو ۔
وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحۡمٰنُ وَلَدًا سُبۡحٰنَہٗ ؕ بَلۡ عِبَادٌ مُّکۡرَمُوۡنَ ﴿ۙ۲۶﴾
وہ کہتے ہیں بنا لیا ہے رحمن نے ( اپنے لیے ) ۔ سبحان اللہ ! ( یہ کیونکر ہو سکتا ہے ) بلکہ وہ تو ( اسکے ) معزز بندے ہیں ۔
لَا یَسۡبِقُوۡنَہٗ بِالۡقَوۡلِ وَہُمۡ بِاَمۡرِہٖ یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۲۷﴾
نہیں سبقت کرتے اس سے کرنے میں اور وہ اسی کے پر کاربند ہیں ۔
یَعۡلَمُ مَابَیۡنَ اَیۡدِیۡہِمۡ وَمَا خَلۡفَہُمۡ وَلَا یَشۡفَعُوۡنَ ۙ اِلَّا لِمَنِ ارۡتَضٰی وَہُمۡ مِّنۡ خَشۡیَتِہٖ مُشۡفِقُوۡنَ ﴿۲۸﴾
اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے گزر چکا ہے اور وہ شفاعت نہیں کریں گے ۔ مگر اس کے لیے جسے وہ فرمائے اور وہ ( اس کی بے نیازی کے باعث ) اس کے خوف سے ڈر رہے ہیں ۔
وَمَنۡ یَّقُلۡ مِنۡہُمۡ اِنِّیۡۤ اِلٰہٌ مِّنۡ دُوۡنِہٖ فَذٰلِکَ نَجۡزِیۡہِ جَہَنَّمَ ؕ کَذٰلِکَ نَجۡزِی الظّٰلِمِیۡنَ ﴿٪۲۹﴾ 2
اور جو ان میں سے یہ کہے کہ میں خدا ہوں اللہ تعالیٰ کے سوا تو اسے ہم سزا دیں گے جہنم کی ۔ یونہی ہم سزا دیا کرتے ہیں ظالموں کو ۔
اَوَ لَمۡ یَرَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ کَانَتَا رَتۡقًا فَفَتَقۡنٰہُمَا ؕ وَجَعَلۡنَا مِنَ الۡمَآءِ کُلَّ شَیۡءٍ حَیٍّ ؕ اَفَلَا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۳۰﴾
کیا کبھی نہیں کیا کفر و کرنے والوں نے کہ اور آپس میں ملے ہوئے تھے پھر ہم نے الگ کر دیا انھیں اور ہم نے فرمائی سے ہر چیز کیا وہ اب بھی ایمان نہیں لاتے ۔
وَجَعَلۡنَا فِی الۡاَرۡضِ رَوَاسِیَ اَنۡ تَمِیۡدَ بِہِمۡ ۪ وَجَعَلۡنَا فِیۡہَا فِجَاجًا سُبُلًا لَّعَلَّہُمۡ یَہۡتَدُوۡنَ ﴿۳۱﴾
اور ہم نے بنا دیے میں بڑے بڑے تاکہ لرزتی نہ رہے ان کے ساتھ ۔ اور بنا دیں ہم نے ان پہاڑوں میں کشادہ راہیں تاکہ وہ ( اپنی منزل مقصود کا ) پا سکیں ۔
وَجَعَلۡنَا السَّمَآءَ سَقۡفًا مَّحۡفُوۡظًا ۚ ۖ وَّہُمۡ عَنۡ اٰیٰتِہَا مُعۡرِضُوۡنَ ﴿۳۲﴾
اور ہم نے بنایا کو ایک جو ( شکست و ریخت سے ) محفوظ ہے اور وہ لوگ ( اب بھی ) اس کی نشانیوں سے روگردانی کیے ہوئے ہیں ۔
وَہُوَ الَّذِیۡ خَلَقَ الَّیۡلَ وَالنَّہَارَ وَالشَّمۡسَ وَالۡقَمَرَ ؕ کُلٌّ فِیۡ فَلَکٍ یَّسۡبَحُوۡنَ ﴿۳۳﴾
اور وہی ہے جس نے فرمایا لیل و نہار کو اور و ماہ کو ۔ سب ( اپنے اپنے ) مدار میں رہے ہیں ۔
وَمَا جَعَلۡنَا لِبَشَرٍ مِّنۡ قَبۡلِکَ الۡخُلۡدَ ؕ اَفَا۠ئِنۡ مِّتَّ فَہُمُ الۡخٰلِدُوۡنَ ﴿۳۴﴾
اور نہیں مقدر کیا ہم نے کسی کے لیے جو آپ سے گزرا ( اس میں ) رہنا تو اگر آپ انتقال فرما جائیں تو کیا یہ لوگ ( یہاں ) رہنے والے ہیں ۔
کُلُّ نَفۡسٍ ذَآئِقَۃُ الۡمَوۡتِ ؕ وَنَبۡلُوۡکُمۡ بِالشَّرِّ وَالۡخَیۡرِ فِتۡنَۃً ؕ وَاِلَیۡنَا تُرۡجَعُوۡنَ ﴿۳۵﴾
ہر نفس موت ( کا مزہ ) چکھنے والا ہے ۔ اور ہم خوب آزماتے ہیں تمہیں برے اور اچھے حالات سے دوچار کر کے اور ( آخرکار ) تم سب کو ہماری طرف ہی لوٹ کر آنا ہے ۔
وَاِذَا رَاٰکَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِنۡ یَّتَّخِذُوۡنَکَ اِلَّا ہُزُوًا ؕ اَہٰذَا الَّذِیۡ یَذۡکُرُ اٰلِہَتَکُمۡ ۚ وَہُمۡ بِذِکۡرِ الرَّحۡمٰنِ ہُمۡ کٰفِرُوۡنَ ﴿۳۶﴾
اور جب دیکھتے ہیں آپ کو وہ جنھوں نے کفر کیا ہے تو آپ سے بس تمسخر کرنے لگتے ہیں ( کہتے ہیں ) کیا یہی وہ صاحب ہیں جو ( سے ) ذکر کیا کرتے ہیں تمہارے خداؤں کا ۔ حالانکہ وہ ( کفار ) رحمن کے ذکر سے خود ( یکسر ) انکاری ہیں ۔
خُلِقَ الۡاِنۡسَانُ مِنۡ عَجَلٍ ؕ سَاُورِیۡکُمۡ اٰیٰتِیۡ فَلَا تَسۡتَعۡجِلُوۡنِ ﴿۳۷﴾
انسان کی سرشت میں ہی جلد بازی ہے میں عنقریب تمہیں ( خود ہی ) اپنی نشانیاں دکھاؤں گا ۔ سو تم مجھ سے کا مطالبہ نہ کرو ۔
وَیَقُوۡلُوۡنَ مَتٰی ہٰذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۳۸﴾
اور وہ کہتے ہیں کب پورا ہو گا یہ ( کا ) وعدہ ؟ ( بتاؤ نا ) اگر تم سچے ہو ۔
لَوۡ یَعۡلَمُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا حِیۡنَ لَا یَکُفُّوۡنَ عَنۡ وُّجُوۡہِہِمُ النَّارَ وَلَا عَنۡ ظُہُوۡرِہِمۡ وَلَا ہُمۡ یُنۡصَرُوۡنَ ﴿۳۹﴾
کاش ! جانتے کفار ( اس کو ) جب وہ نہ روک سکیں گے اپنے چہروں سے ( کے شعلوں ) کو اور نہ اپنی پشتوں سے اور نہ ان کی کی جائے گی ۔
بَلۡ تَاۡتِیۡہِمۡ بَغۡتَۃً فَتَبۡہَتُہُمۡ فَلَا یَسۡتَطِیۡعُوۡنَ رَدَّہَا وَلَا ہُمۡ یُنۡظَرُوۡنَ ﴿۴۰﴾
بلکہ وہ آئے گی ان کے ناگہاں سو انھیں بد حواس کر دے گی پھر وہ نہ اسے رد کر سکیں گے اور نہ ہی انھیں مزید دی جائے گی ۔
وَلَقَدِ اسۡتُہۡزِئَ بِرُسُلٍ مِّنۡ قَبۡلِکَ فَحَاقَ بِالَّذِیۡنَ سَخِرُوۡا مِنۡہُمۡ مَّا کَانُوۡا بِہٖ یَسۡتَہۡزِءُوۡنَ ﴿٪۴۱﴾ 3
اور بیشک اڑایا گیا ان رسولوں کا بھی جو آپ سے تشریف لائے تھے پس نازل ان لوگوں پر جو تمسخر کیا کرتے تھے ان میں سے وہ جس کا وہ اڑایا کرتے تھے ۔
قُلۡ مَنۡ یَّکۡلَؤُکُمۡ بِالَّیۡلِ وَالنَّہَارِ مِنَ الرَّحۡمٰنِ ؕ بَلۡ ہُمۡ عَنۡ ذِکۡرِ رَبِّہِمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ ﴿۴۲﴾
آپ پوچھیے ( اے منکرو ! ) کون ہے جو نگہبانی کر سکتا ہے تمہاری بھر اور بھر خدائے رحمن سے ( اگر وہ تمہیں چاہے ) مگر ( ان سے کیا ) یہ تو اپنے رب کے ذکر سے ہی روگرداں ہیں ۔
اَمۡ لَہُمۡ اٰلِہَۃٌ تَمۡنَعُہُمۡ مِّنۡ دُوۡنِنَا ؕ لَا یَسۡتَطِیۡعُوۡنَ نَصۡرَ اَنۡفُسِہِمۡ وَلَا ہُمۡ مِّنَّا یُصۡحَبُوۡنَ ﴿۴۳﴾
کیا ان کے اور خدا ہیں جو بچا سکتے ہیں انھیں ( سے ) ہمارے سوا وہ جھوٹے معبود تو خود اپنی بھی نہیں کر سکتے اور نہ انھیں ہماری تائید میسر ہو گی ۔
بَلۡ مَتَّعۡنَا ہٰۤؤُلَآءِ وَاٰبَآءَہُمۡ حَتّٰی طَالَ عَلَیۡہِمُ الۡعُمُرُ ؕ اَفَلَا یَرَوۡنَ اَنَّا نَاۡتِی الۡاَرۡضَ نَنۡقُصُہَا مِنۡ اَطۡرَافِہَا ؕ اَفَہُمُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴿۴۴﴾
بلکہ ہم نے ( عیش و کا ) دیا انھیں اور ان کے آباؤاجداد کو حتیٰ کہ ( اس عیش و میں ) ان پر لمبا عرصہ گزر گیا اور وہ سرکش ہو گئے کیا وہ ملاحظہ نہیں کر رہے کہ ہم ( کی وسعتوں ) کو گھٹاتے چلے جا رہے ہیں اس کی ( چاروں ) سمتوں سے کیا وہ ( ہماری تقدیر پر ) آ سکتے ہیں ؟
قُلۡ اِنَّمَاۤ اُنۡذِرُکُمۡ بِالۡوَحۡیِ ۫ ۖوَ لَا یَسۡمَعُ الصُّمُّ الدُّعَآءَ اِذَا مَایُنۡذَرُوۡنَ ﴿۴۵﴾
آپ فرمائیے میں تمہیں ڈراتا ہوں صرف وحی سے اور نہیں سنا کرتے بہرے پکارنے کو جب انھیں ( الہی سے ) ڈرایا جاتا ہے ۔
وَلَئِنۡ مَّسَّتۡہُمۡ نَفۡحَۃٌ مِّنۡ عَذَابِ رَبِّکَ لَیَقُوۡلُنَّ یٰوَیۡلَنَاۤ اِنَّا کُنَّا ظٰلِمِیۡنَ ﴿۴۶﴾
اور اگر ( صرف ) چھو جائے انھیں ایک جھونکا تیرے رب کے کا تو ( سارا نشہ ہرن ہو جائے ) یوں کہنے لگیں صدحیف ! بیشک ہم ہی ظالم تھے ۔
وَنَضَعُ الۡمَوَازِیۡنَ الۡقِسۡطَ لِیَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ فَلَا تُظۡلَمُ نَفۡسٌ شَیۡئًا ؕ وَاِنۡ کَانَ مِثۡقَالَ حَبَّۃٍ مِّنۡ خَرۡدَلٍ اَتَیۡنَا بِہَا ؕ وَکَفٰی بِنَا حٰسِبِیۡنَ ﴿۴۷﴾
اور ہم رکھ دیں گے صحیح تولنے والے کے پس ظلم نہ کیا جائے گا کسی پر ذرہ بھر ۔ اور اگر ( کسی کا کوئی عمل ) رائی کے دانے کے بھی ہو گا تو ہم اسے بھی لا کریں گے اور ہم ہیں حساب کرنے والے ۔
وَلَقَدۡ اٰتَیۡنَا مُوۡسٰی وَہٰرُوۡنَ الۡفُرۡقَانَ وَضِیَآءً وَّذِکۡرًا لِّلۡمُتَّقِیۡنَ ﴿ۙ۴۸﴾
اور یقیناً ہم نے عطا فرمایا موسیٰ اور ہارون ( علیہ السلام ) کو فرقان اور اور ذکر پرہیزگاروں کے لیے ۔
الَّذِیۡنَ یَخۡشَوۡنَ رَبَّہُمۡ بِالۡغَیۡبِ وَہُمۡ مِّنَ السَّاعَۃِ مُشۡفِقُوۡنَ ﴿۴۹﴾
جو ڈرتے رہتے ہیں اپنے رب سے بن دیکھے ۔ نیز وہ سے بھی ترساں رہتے ہیں ۔
وَہٰذَا ذِکۡرٌ مُّبٰرَکٌ اَنۡزَلۡنٰہُ ؕ اَفَاَنۡتُمۡ لَہٗ مُنۡکِرُوۡنَ ﴿۵۰﴾٪ ٙ 4
اور یہ ہے بڑی ، ہم نے ( ہی ) اسے اتارا ہے تو کیا تم اس کو ماننے سے کرتے ہو ۔
وَلَقَدۡ اٰتَیۡنَاۤ اِبۡرٰہِیۡمَ رُشۡدَہٗ مِنۡ قَبۡلُ وَکُنَّا بِہٖ عٰلِمِیۡنَ ﴿ۚ۵۱﴾
اور یقیناً ہم نے مرحمت فرمائی تھی ابراہیم ( علیہ السلام ) کو ان کی دانائی اس سے اور ہم ان کو خوب جانتے تھے ۔
اِذۡ قَالَ لِاَبِیۡہِ وَقَوۡمِہٖ مَاہٰذِہِ التَّمَاثِیۡلُ الَّتِیۡۤ اَنۡتُمۡ لَہَا عٰکِفُوۡنَ ﴿۵۲﴾
یاد کرو جب آپ نے کہا اپنے اور اپنی قوم سے کہ یہ کیا مورتیاں ہیں کی پوچا پاٹ پر تم جمے بیٹھے ہو ۔
قَالُوۡا وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا لَہَا عٰبِدِیۡنَ ﴿۵۳﴾
وہ بولے پایا ہے ہم نے اپنے ( دادوں ) کو کہ وہ ان کے پجاری تھے ۔
قَالَ لَقَدۡ کُنۡتُمۡ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُکُمۡ فِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۵۴﴾
آپ نے فرمایا بلاشبہ مبتلا رہے ہو تم بھی اور تمہارے دادا بھی کھلی گمراہی میں ۔
قَالُوۡۤا اَجِئۡتَنَا بِالۡحَقِّ اَمۡ اَنۡتَ مِنَ اللّٰعِبِیۡنَ ﴿۵۵﴾
انھوں نے پوچھا کیا تم ہمارے کوئی سچی لے کر آئے ہو یا ( صرف ) لگی کر رہے ہو ۔
قَالَ بَلۡ رَّبُّکُمۡ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ الَّذِیۡ فَطَرَہُنَّ ۫ ۖوَ اَنَا عَلٰی ذٰلِکُمۡ مِّنَ الشّٰہِدِیۡنَ ﴿۵۶﴾
آپ نے فرمایا ( لگی نہیں کر رہا ) بلکہ تمہارا رب وہی ہے جو آسمانوں اور کا رب ہے جس نے ان سب کو فرمایا ہے اور میں اس ( صداقت ) پر گواہی دینے والوں سے ہوں ۔
وَتَاللّٰہِ لَاَکِیۡدَنَّ اَصۡنَامَکُمۡ بَعۡدَ اَنۡ تُوَلُّوۡا مُدۡبِرِیۡنَ ﴿۵۷﴾
اور بخدا ! میں بندوبست کروں گا تمہارے بتوں کا جب تم چلے جاؤ گے پیٹھ پھیرتے ہوئے ۔
فَجَعَلَہُمۡ جُذٰذًا اِلَّا کَبِیۡرًا لَّہُمۡ لَعَلَّہُمۡ اِلَیۡہِ یَرۡجِعُوۡنَ ﴿۵۸﴾
پس آپ نے انھیں ریزہ کر ڈالا مگر ان کے بڑے کو کچھ نہ کہا تاکہ وہ لوگ ( اس افتاد کے بارے میں ) اس کی طرف کریں ۔
قَالُوۡا مَنۡ فَعَلَ ہٰذَا بِاٰلِہَتِنَاۤ اِنَّہٗ لَمِنَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۵۹﴾
وہ بولے کس نے یہ حال کیا ہے ہمارے بتوں کا بیشک وہ ظالموں میں سے ہے ۔
قَالُوۡا سَمِعۡنَا فَتًی یَّذۡکُرُہُمۡ یُقَالُ لَہٗۤ اِبۡرٰہِیۡمُ ﴿ؕ۶۰﴾
۔( چند آدمیوں نے ) کہا ہم نے ایک نوجوان کو سنا ہے کہ وہ ان کا ذکر ( سے ) کیا کرتا ہے ۔ اسے ابراہیم کہا جاتا ہے ۔
قَالُوۡا فَاۡتُوۡا بِہٖ عَلٰۤی اَعۡیُنِ النَّاسِ لَعَلَّہُمۡ یَشۡہَدُوۡنَ ﴿۶۱﴾
کہنے لگے تو پھر ( پکڑ کر ) لاؤ اسے سب لوگوں کے روبرو شاید وہ اس کے متعلق کوئی شہادت دیں ۔
قَالُوۡۤا ءَاَنۡتَ فَعَلۡتَ ہٰذَا بِاٰلِہَتِنَا یٰۤـاِبۡرٰہِیۡمُ ﴿ؕ۶۲﴾
۔( ابراہیم پکڑ کر لائے گئے تو ) لوگوں نے پوچھا اے ابراہیم ! کیا تو نے ہمارے خداؤں کے ساتھ یہ حرکت کی ہے ؟
قَالَ بَلۡ فَعَلَہٗ ٭ۖ کَبِیۡرُہُمۡ ہٰذَا فَسۡئَلُوۡہُمۡ اِنۡ کَانُوۡا یَنۡطِقُوۡنَ ﴿۶۳﴾
فرمایا بلکہ ان کے اس بڑے نے یہ حرکت کی ہو گی سو ان سے پوچھو اگر یہ گفتگو کی سکت رکھتے ہوں ۔
فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤی اَنۡفُسِہِمۡ فَقَالُوۡۤا اِنَّکُمۡ اَنۡتُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴿ۙ۶۴﴾
۔( لاجواب ہو کر ) اپنے دلوں میں کرنے لگے پھر بولے بلاشبہ تم ہی زیاں کار ستمگار ہو ۔
ثُمَّ نُکِسُوۡا عَلٰی رُءُوۡسِہِمۡ ۚ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَاہٰۤؤُلَآءِ یَنۡطِقُوۡنَ ﴿۶۵﴾
پھر وہ اوندھے ہو کر ( اپنی سابقہ گمراہی کی طرف ) پلٹ گئے اور کہنے لگے تم خوب جانتے ہو کہ یہ بولتے نہیں ۔
قَالَ اَفَتَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مَالَا یَنۡفَعُکُمۡ شَیۡئًا وَّلَا یَضُرُّکُمۡ ﴿ؕ۶۶﴾
آپ نے فرمایا ( نادانو ! ) کیا تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر ان ( بے بس بتوں ) کی جو نہ تمہیں کچھ پہنچا سکتے ہیں اور نہ تمہیں ضرر پہنچا سکتے ہیں ۔
اُفٍّ لَّکُمۡ وَلِمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۶۷﴾
تف ہے تم پر نیز ان بتوں پر کو تم پوجتے ہو اللہ تعالیٰ کے سوا ۔ کیا تم اتنا بھی نہیں سمجھتے ؟
قَالُوۡا حَرِّقُوۡہُ وَانۡصُرُوۡۤا اٰلِہَتَکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ فٰعِلِیۡنَ ﴿۶۸﴾
۔( سب یک زبان ہو کر ) بولے جلا ڈالو اس کو اور کرو اپنے خداؤں کی اگر تم کچھ کرنا چاہتے ہو ۔
قُلۡنَا یٰنَارُ کُوۡنِیۡ بَرۡدًا وَّسَلٰمًا عَلٰۤی اِبۡرٰہِیۡمَ ﴿ۙ۶۹﴾
۔( جب آپ کو آتش کدہ میں پھینکا گیا تو ) ہم نے دیا اے ٹھنڈی ہو جا اور سلامتی کا باعث بن جا ابراہیم کے لیے ۔
وَاَرَادُوۡا بِہٖ کَیۡدًا فَجَعَلۡنٰہُمُ الۡاَخۡسَرِیۡنَ ﴿ۚ۷۰﴾
انھوں نے تو ابراہیم کو گزند پہنچانے کا کیا لیکن ہم نے ان کو ناکام بنا دیا ۔
وَنَجَّیۡنٰہُ وَلُوۡطًا اِلَی الۡاَرۡضِ الَّتِیۡ بٰرَکۡنَا فِیۡہَا لِلۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۷۱﴾
اور ہم نے دی آپ کو اور لوط کو اس کی طرف ( ہجرت کا دیا ) جسے ہم نے بنایا تھا تمام جہان والوں کے لیے ۔
وَوَہَبۡنَا لَہٗۤ اِسۡحٰقَ ؕ وَیَعۡقُوۡبَ نَافِلَۃً ؕ وَکُلًّا جَعَلۡنَا صٰلِحِیۡنَ ﴿۷۲﴾
اور ہم نے عطا فرمایا انھیں اسحاق ( جیسا فرزند ) اور یعقوب ( جیسا ) پوتا ۔ اور سب کو ہم نے صالح بنا دیا ۔
وَجَعَلۡنٰہُمۡ اَئِمَّۃً یَّہۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا وَاَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡہِمۡ فِعۡلَ الۡخَیۡرٰتِ وَاِقَامَ الصَّلٰوۃِ وَاِیۡتَآءَ الزَّکٰوۃِ ۚ وَکَانُوۡا لَنَا عٰبِدِیۡنَ ﴿۷۳﴾ۚ ۙ
اور ہم نے بنا دیا انھیں پیشوا ( لوگوں کے لیے ) وہ راہ دکھاتے تھے ہمارے سے اور ہم نے وحی بھیجی ان کی طرف کہ وہ کریں اور نماز ادا کریں اور زکوۃ دیا کریں ۔ اور سب ہمارے گزار تھے ۔
وَلُوۡطًا اٰتَیۡنٰہُ حُکۡمًا وَّعِلۡمًا وَّنَجَّیۡنٰہُ مِنَ الۡقَرۡیَۃِ الَّتِیۡ کَانَتۡ تَّعۡمَلُ الۡخَبٰٓئِثَ ؕ اِنَّہُمۡ کَانُوۡا قَوۡمَ سَوۡءٍ فٰسِقِیۡنَ ﴿ۙ۷۴﴾
اور لوط کو ہم نے حکومت اور علم عطا فرمایا اور دی اسے اس گاؤں سے جس کے باشندے بہت رذیل کیا کرتے تھے بیشک وہ لوگ بڑے ناہنجار ( اور ) نافرمان تھے ۔
وَاَدۡخَلۡنٰہُ فِیۡ رَحۡمَتِنَا ؕ اِنَّہٗ مِنَ الصّٰلِحِیۡنَ ﴿۷۵﴾٪ 5
اور ہم نے اسے کر لیا اپنے ( حریم ) رحمت میں ۔ بیشک وہ نیکوکاروں میں سے تھا ۔
وَنُوۡحًا اِذۡ نَادٰی مِنۡ قَبۡلُ فَاسۡتَجَبۡنَا لَہٗ فَنَجَّیۡنٰہُ وَاَہۡلَہٗ مِنَ الۡکَرۡبِ الۡعَظِیۡمِ ﴿ۚ۷۶﴾
اور کرو نوح ( علیہ السلام ) کو جب انھوں نے ( ہمیں ) پکارا ازیں ، تو ہم نے فرمایا ان کی کو اور بچایا انھیں اور ان کے والوں کو مصیبت سے ۔
وَنَصَرۡنٰہُ مِنَ الۡقَوۡمِ الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا ؕ اِنَّہُمۡ کَانُوۡا قَوۡمَ سَوۡءٍ فَاَغۡرَقۡنٰہُمۡ اَجۡمَعِیۡنَ ﴿۷۷﴾
اور ہم نے ان کی حمایت کی اس قوم کے مقابلہ میں جنھوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا ۔ بیشک وہ بڑے ناہنجار لوگ تھے پس ہم نے غرق کر دیا ان سب کو ۔
وَدَاوٗدَ وَسُلَیۡمٰنَ اِذۡ یَحۡکُمٰنِ فِی الۡحَرۡثِ اِذۡ نَفَشَتۡ فِیۡہِ غَنَمُ الۡقَوۡمِ ۚ وَکُنَّا لِحُکۡمِہِمۡ شٰہِدِیۡنَ ﴿٭ۙ۷۸﴾
اور کرو داؤد و سلیمان ( علیہما السلام ) کو جب وہ کر رہے تھے ایک کھیتی کے جھگڑے کا جب کے چھوٹ گئیں اس میں ایک قوم کی بکریاں اور ہم ان کے کا مشاہدہ کر رہے تھے ۔
فَفَہَّمۡنٰہَا سُلَیۡمٰنَ ۚ وَکُلًّا اٰتَیۡنَا حُکۡمًا وَّعِلۡمًا ۫ وَّسَخَّرۡنَا مَعَ دَاوٗدَ الۡجِبَالَ یُسَبِّحۡنَ وَالطَّیۡرَ ؕ وَکُنَّا فٰعِلِیۡنَ ﴿۷۹﴾
سو ہم نے سمجھا دیا وہ معاملہ سلیمان ( علیہ السلام ) کو ۔ اور ان سب کو ہم نے بخشا تھا اور علم اور ہم نے فرمانبردار بنا دیا داؤد کا پہاڑوں اور پرندوں کو وہ سب ان کے ساتھ مل کر تسبیح کہا کرتے اور ( یہ شان ) ہم دینے والے تھے ۔
وَعَلَّمۡنٰہُ صَنۡعَۃَ لَبُوۡسٍ لَّکُمۡ لِتُحۡصِنَکُمۡ مِّنۡۢ بَاۡسِکُمۡ ۚ فَہَلۡ اَنۡتُمۡ شٰکِرُوۡنَ ﴿۸۰﴾
اور ہم نے سکھا دیا انھیں زرہ بنانے کا ہنر تمہارے کے لیے تاکہ وہ زرہ بچائے تمہیں تمہاری زد سے تو کیا تم ( اس کا ) شکریہ ادا کرنے والے ہو ۔
وَلِسُلَیۡمٰنَ الرِّیۡحَ عَاصِفَۃً تَجۡرِیۡ بِاَمۡرِہٖۤ اِلَی الۡاَرۡضِ الَّتِیۡ بٰرَکۡنَا فِیۡہَا ؕ وَکُنَّا بِکُلِّ شَیۡءٍ عٰلِمِیۡنَ ﴿۸۱﴾
اور ہم نے سلیمان کے لیے تند و تیز کو فرمانبردار بنا دیا چلتی تھی وہ ان کے سے اس کی طرف جسے ہم نے بنا دیا تھا اور ہم ہر چیز کو جاننے والے تھے ۔
وَمِنَ الشَّیٰطِیۡنِ مَنۡ یَّغُوۡصُوۡنَ لَہٗ وَیَعۡمَلُوۡنَ عَمَلًا دُوۡنَ ذٰلِکَ ۚ وَکُنَّا لَہُمۡ حٰفِظِیۡنَ ﴿ۙ۸۲﴾
اور ہم نے کر دیے شیطانوں میں سے جو ( سمندروں میں ) غوطہ زنی کرتے ان کے لیے اور کیا کرتے طرح طرح کے اور اور ہم ہی ان کے تھے ۔
وَاَیُّوۡبَ اِذۡ نَادٰی رَبَّہٗۤ اَنِّیۡ مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰحِمِیۡنَ﴿ ۸۳﴾ۚ ۖ
اور کرو ایوب کو جب پکارا انھوں نے اپنے رب کو کہ مجھے پہنچی ہے اور تو ارحم الراحمین ہے ( میرے حال زار پر بھی رحم فرما ) ۔
فَاسۡتَجَبۡنَا لَہٗ فَکَشَفۡنَا مَابِہٖ مِنۡ ضُرٍّ وَّاٰتَیۡنٰہُ اَہۡلَہٗ وَمِثۡلَہُمۡ مَّعَہُمۡ رَحۡمَۃً مِّنۡ عِنۡدِنَا وَذِکۡرٰی لِلۡعٰبِدِیۡنَ ﴿۸۴﴾
تو ہم نے فرما لی اس کی اور ہم نے فرما دی جو انھیں پہنچ رہی تھی اور ہم نے عطا کیے اسے اس کے والے نیز اتنے اور ان کے ساتھ اپنی رحمت خاص سے اور یہ ہے گزاروں کے لیے ۔
وَاِسۡمٰعِیۡلَ وَاِدۡرِیۡسَ وَذَاالۡکِفۡلِ ؕ کُلٌّ مِّنَ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿۸۵﴾ۚ ۖ
اور کرو اسماعیل ، ادریس اور ذوالکفل ( علیہم السلام ) کو ، یہ سب صابروں کے گروہ سے تھے ۔
وَاَدۡخَلۡنٰہُمۡ فِیۡ رَحۡمَتِنَا ؕ اِنَّہُمۡ مِّنَ الصّٰلِحِیۡنَ ﴿۸۶﴾
اور ہم نے فرمایا انھیں اپنی خاص رحمت میں ۔ یقیناً وہ بندوں میں سے تھے ۔
وَذَاالنُّوۡنِ اِذۡ ذَّہَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنۡ لَّنۡ نَّقۡدِرَ عَلَیۡہِ فَنَادٰی فِی الظُّلُمٰتِ اَنۡ لَّاۤ اِلٰہَ اِلَّاۤ اَنۡتَ سُبۡحٰنَکَ ٭ۖ اِنِّیۡ کُنۡتُ مِنَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۸۷﴾ۚ ۖ
اور کرو ذوالنون کو جب وہ چل دیا غضبناک ہو کر اور یہ خیال کیا کہ ہم اس پر کوئی نہیں کریں گے پھر اس نے پکارا ( در ) اندھیروں میں کہ کوئی معبود نہیں سوا تیرے ، ہے تو ، بیشک میں ہی قصور واروں سے ہوں ۔
فَاسۡتَجَبۡنَا لَہٗ ۙ وَنَجَّیۡنٰہُ مِنَ الۡغَمِّ ؕ وَکَذٰلِکَ نُــۨۡجِي الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۸۸﴾
پس ہم نے ان کی پکار کو فرما لیا اور بخش دی انھیں ( واندوہ ) سے اور یونہی ہم دیا کرتے ہیں مومنوں کو ۔
وَزَکَرِیَّاۤ اِذۡ نَادٰی رَبَّہٗ رَبِّ لَا تَذَرۡنِیۡ فَرۡدًا وَّاَنۡتَ خَیۡرُ الۡوٰرِثِیۡنَ ﴿۸۹﴾ۚ ۖ
اور کرو زکریا ( علیہ السلام ) کو جب انھوں نے پکارا اپنے رب کو کہ اے میرے پروردگار ! مجھے نہ چھوڑ اور تو سب وارثوں سے بہتر ہے ۔
فَاسۡتَجَبۡنَا لَہٗ ۫ وَوَہَبۡنَا لَہٗ یَحۡیٰی وَاَصۡلَحۡنَا لَہٗ زَوۡجَہٗ ؕاِنَّہُمۡ کَانُوۡا یُسٰرِعُوۡنَ فِی الۡخَیۡرٰتِ وَیَدۡعُوۡنَنَا رَغَبًا وَّرَہَبًا ؕوَ کَانُوۡا لَنَا خٰشِعِیۡنَ ﴿۹۰﴾
تو ہم نے اس کی کو فرما لیا اور اسے یحییٰ ( جیسا فرزند ) عطا فرمایا اور ہم نے کر دیا ان کی خاطر ان کی اہلیہ کو ۔ بیشک وہ بہت سبک رو تھے نیکیاں کرنے میں اور پکارا کرتے تھے ہمیں بڑی اور خوف سے اور وہ ہمارے بڑا عجز و نیاز کرتے تھے ۔
وَالَّتِیۡۤ اَحۡصَنَتۡ فَرۡجَہَا فَنَفَخۡنَا فِیۡہَا مِنۡ رُّوۡحِنَا وَجَعَلۡنٰہَا وَابۡنَہَاۤ اٰیَۃً لِّلۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۹۱﴾
اور کرو اس خاتون کو جس نے محفوظ رکھا اپنی عصمت کو پس ہم نے دیا اس میں اپنی روح سے اور ہم نے بنا دیا اسے اور اس کے بیٹے کو ( اپنی قدرت کی ) سارے جہان والوں کے لیے ۔
اِنَّ ہٰذِہٖۤ اُمَّتُکُمۡ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً ۫ ۖوَّ اَنَا رَبُّکُمۡ فَاعۡبُدُوۡنِ ﴿۹۲﴾
۔( اے ان انبیاء کو ماننے والو ! ) یہی ( توحید ) تمہارا ہے جو ایک ہے اور میں تمہارا پروردگار ہوں پس میری بندگی کیا کرو ۔
وَتَقَطَّعُوۡۤا اَمۡرَہُمۡ بَیۡنَہُمۡ ؕ کُلٌّ اِلَیۡنَا رٰجِعُوۡنَ ﴿۹۳﴾٪ 6
مگر لوگوں نے پارہ پارہ کر ڈالا اپنے کو آپس میں ( آخرکار ) سب ہماری طرف ہی لوٹنے والے ہیں ۔
فَمَنۡ یَّعۡمَلۡ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَہُوَ مُؤۡمِنٌ فَلَا کُفۡرَانَ لِسَعۡیِہٖ ۚ وَاِنَّا لَہٗ کٰتِبُوۡنَ ﴿۹۴﴾
پس جو شخص کرتا رہا کوئی بشرطیکہ وہ مومن ہو تو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا اس کی کو اور ہم اس کے لیے ( اس کے عملوں کو ) والے ہیں ۔
وَحَرٰمٌ عَلٰی قَرۡیَۃٍ اَہۡلَکۡنٰہَاۤ اَنَّہُمۡ لَا یَرۡجِعُوۡنَ ﴿۹۵﴾
اور ناممکن ہے اس کے لیے جس کو ہم نے کر دیا کہ اس کے باشندے پھر لوٹ کر آئیں ۔
حَتّٰۤی اِذَا فُتِحَتۡ یَاۡجُوۡجُ وَمَاۡجُوۡجُ وَہُمۡ مِّنۡ کُلِّ حَدَبٍ یَّنۡسِلُوۡنَ ﴿۹۶﴾
یہاں تک کہ جب کھول دیے جائیں گے یاجوج اور ماجوج اور وہ ہر بلندی سے بڑی تیزی کے ساتھ اترنے لگیں گے ۔
وَاقۡتَرَبَ الۡوَعۡدُ الۡحَقُّ فَاِذَا ہِیَ شَاخِصَۃٌ اَبۡصَارُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ؕ یٰوَیۡلَنَا قَدۡ کُنَّا فِیۡ غَفۡلَۃٍ مِّنۡ ہٰذَا بَلۡ کُنَّا ظٰلِمِیۡنَ ﴿۹۷﴾
۔( تب معلوم ہو گا کہ ) قریب آ گیا ہے سچا وعدہ تو اس تاڑے لگ جائیں گی نظریں ان لوگوں کی جنھوں نے کفر کیا تھا ( کہیں گے ) صد حیف ! ہم تو رہے اس امر سے بلکہ ہم تو ظالم تھے ۔
اِنَّکُمۡ وَمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ حَصَبُ جَہَنَّمَ ؕ اَنۡتُمۡ لَہَا وٰرِدُوۡنَ ﴿۹۸﴾
۔( اے مشرکو ! ) تم اور بتوں کی تم کیا کرتے ہو اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر ، سب جہنم کا ہوں گے ، تم اس میں ہونے والے ہو ۔
لَوۡ کَانَ ہٰۤؤُلَآءِ اٰلِہَۃً مَّا وَرَدُوۡہَا ؕ وَکُلٌّ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۹۹﴾
۔( سوچو ) اگر یہ خدا ہوتے تو نہ ہوتے جہنم میں ، اور ( جھوٹے خدا اور ان کے پجاری ) سب اس میں رہیں گے ۔
لَہُمۡ فِیۡہَا زَفِیۡرٌ وَّہُمۡ فِیۡہَا لَا یَسۡمَعُوۡنَ ﴿۱۰۰﴾
وہ جہنم میں ( شدت سے ) چیخیں گے اور وہ اس میں اور کچھ نہ سن سکیں گے ۔
اِنَّ الَّذِیۡنَ سَبَقَتۡ لَہُمۡ مِّنَّا الۡحُسۡنٰۤی ۙ اُولٰٓئِکَ عَنۡہَا مُبۡعَدُوۡنَ ﴿۱۰۱﴾ۙ
بلاشبہ وہ لوگ کے لیے مقدر ہو چکی ہے ہماری طرف سے بھلائی تو وہی اس جہنم سے رکھے جائیں گے ۔
لَا یَسۡمَعُوۡنَ حَسِیۡسَہَا ۚ وَہُمۡ فِیۡ مَااشۡتَہَتۡ اَنۡفُسُہُمۡ خٰلِدُوۡنَ ﴿۱۰۲﴾ۚ
وہ اس کی آہٹ بھی نہ سنیں گے اور وہ ان ( نعمتوں ) میں کی انھوں نے کی تھی رہیں گے ۔
لَا یَحۡزُنُہُمُ الۡفَزَعُ الۡاَکۡبَرُ وَتَتَلَقّٰہُمُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ ؕ ہٰذَا یَوۡمُکُمُ الَّذِیۡ کُنۡتُمۡ تُوۡعَدُوۡنَ ﴿۱۰۳﴾
نہ کرے گی انھیں وہ بڑی گھبراہٹ اور فرشتے ان کا استقبال کریں گے ( انھیں بتائیں گے ) یہی وہ تمہارا ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا ۔
یَوۡمَ نَطۡوِی السَّمَآءَ کَطَیِّ السِّجِلِّ لِلۡکُتُبِ ؕ کَمَا بَدَاۡنَاۤ اَوَّلَ خَلۡقٍ نُّعِیۡدُہٗ ؕ وَعۡدًا عَلَیۡنَا ؕ اِنَّا کُنَّا فٰعِلِیۡنَ ﴿۱۰۴﴾
یاد کرو جس ہم لپیٹ دیں گے کو جیسے لپیٹ دیے جاتے ہیں طومار میں کاغذات ۔ جیسے ہم نے آغاز کیا تھا ابتدائے آفرینش کا اسی طرح ہم اسے لوٹائیں گے ۔ یہ وعدہ ( پورا کرنا ) ہم پر لازم ہے یقیناً ہم ( ایسا ) کرنے والے ہیں ۔
وَلَقَدۡ کَتَبۡنَا فِی الزَّبُوۡرِ مِنۡۢ بَعۡدِ الذِّکۡرِ اَنَّ الۡاَرۡضَ یَرِثُہَا عِبَادِیَ الصّٰلِحُوۡنَ ﴿۱۰۵﴾
اور بیشک ہم نے لکھ دیا ہے زبور میں پند و موعظت کے ( کے ) بعد کہ بلاشبہ کے وارث تو میرے بندے ہوں گے ۔
اِنَّ فِیۡ ہٰذَا لَبَلٰغًا لِّقَوۡمٍ عٰبِدِیۡنَ ﴿۱۰۶﴾ؕ
یقیناً اس میں کفایت ہے اس قوم کی ( فلاح دارین ) کے لیے جو گزار ہے ۔
وَمَاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ اِلَّا رَحۡمَۃً لِّلۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۰۷﴾
اور نہیں بھیجا ہم نے آپ کو مگر سراپا رحمت بنا کر سارے جہانوں کے لیے ۔
قُلۡ اِنَّمَا یُوۡحٰۤی اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰـہُکُمۡ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ ۚ فَہَلۡ اَنۡتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ ﴿۱۰۸﴾
فرما دیجیے کہ میرے تو صرف یہ وحی آئی ہے کہ تمہارا خدا ( وہی ہے جو ) ایک خدا ہے پس کیا تم اسلام لانے کے لیے ہو ۔
فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَقُلۡ اٰذَنۡتُکُمۡ عَلٰی سَوَآءٍ ؕ وَاِنۡ اَدۡرِیۡۤ اَقَرِیۡبٌ اَمۡ بَعِیۡدٌ مَّا تُوۡعَدُوۡنَ ﴿۱۰۹﴾
اگر وہ پھر بھی روگردانی کریں تو آپ فرما دیجیے کہ میں نے کر دیا ہے تمہیں پوری طرح اور میں نہیں سمجھتا کہ قریب ہے یا بعید جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے ۔
اِنَّہٗ یَعۡلَمُ الۡجَہۡرَ مِنَ الۡقَوۡلِ وَیَعۡلَمُ مَاتَکۡتُمُوۡنَ ﴿۱۱۰﴾
بیشک اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو تم سے کہتے ہو اور جانتا ہے جو تم ( اپنے میں ) چھپاتے ہو ۔
وَاِنۡ اَدۡرِیۡ لَعَلَّہٗ فِتۡنَۃٌ لَّکُمۡ وَمَتَاعٌ اِلٰی حِیۡنٍ ﴿۱۱۱﴾
اور میں کیا جانوں ( اس ڈھیل سے ) شاید تمہارا امتحان لینا اور ایک تک تمہیں لطف اندوز کرنا مطلوب ہو ۔
قٰلَ رَبِّ احۡکُمۡ بِالۡحَقِّ ؕ وَرَبُّنَا الرَّحۡمٰنُ الۡمُسۡتَعَانُ عَلٰی مَاتَصِفُوۡنَ ﴿۱۱۲﴾٪ ؒ 7
آپ نے عرض کی میرے رب فرما دے ( ہمارے ) حق کے ساتھ اور ( اے کفار ! ) ہمارا رب وہ ہے جو رحمن ہے اسی سے طلب کی جاتی ہے ان باتوں پر جو تم کرتے ہو ۔