کٓہٰیٰعٓصٓ ۟﴿ۚ۱﴾
کاف ۔ ہا ۔ یا ۔ عین ۔ ص ۔
Mary
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ ﴿١﴾
In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
کٓہٰیٰعٓصٓ ۟﴿ۚ۱﴾
کاف ۔ ہا ۔ یا ۔ عین ۔ ص ۔
ذِکۡرُ رَحۡمَتِ رَبِّکَ عَبۡدَہٗ زَکَرِیَّا ۖ﴿ۚ۲﴾
یہ ذکر ہے آپ کے رب کی رحمت کا جو اس نے اپنے بندے زکریا پر فرمائی ۔
اِذۡ نَادٰی رَبَّہٗ نِدَآءً خَفِیًّا ﴿۳﴾
جب اس نے پکارا اپنے رب کو چپکے چپکے ۔
قَالَ رَبِّ اِنِّیۡ وَہَنَ الۡعَظۡمُ مِنِّیۡ وَاشۡتَعَلَ الرَّاۡسُ شَیۡبًا وَّلَمۡ اَکُنۡۢ بِدُعَآئِکَ رَبِّ شَقِیًّا ﴿۴﴾
عرض کی اے میرے رب ! میری یہ ہے کہ و ہو گئی ہیں میری ہڈیاں اور بالکل سفید ہو گیا ہے ( میرا ) بڑھاپے کی وجہ سے اور اب تک ایسا نہیں کہ میں نے تجھے پکارا ہو اے میرے رب ! اور میں نامراد رہا ہوں ۔
وَاِنِّیۡ خِفۡتُ الۡمَوَالِیَ مِنۡ وَّرَآءِیۡ وَکَانَتِ امۡرَاَتِیۡ عَاقِرًا فَہَبۡ لِیۡ مِنۡ لَّدُنۡکَ وَلِیًّا ۙ﴿۵﴾
اور میں ڈرتا ہوں ( اپنے بے ) رشتہ داروں سے ( کہ وہ ) میرے بعد ( ضائع نہ کر دیں ) اور میری ہے پس بخش دے مجھے اپنے سے ایک وارث ۔
یَّرِثُنِیۡ وَیَرِثُ مِنۡ اٰلِ یَعۡقُوۡبَ ٭ۖ وَاجۡعَلۡہُ رَبِّ رَضِیًّا ﴿۶﴾
جو وارث بنے میرا اور وارث بنے یعقوب ( علیہ السلام ) کے کا اور بنا دے اسے اے رب ! پسندیدہ ( سیرت والا ) ۔
یٰزَکَرِیَّاۤ اِنَّا نُبَشِّرُکَ بِغُلٰمِ ۣ اسۡمُہٗ یَحۡیٰی ۙ لَمۡ نَجۡعَلۡ لَّہٗ مِنۡ قَبۡلُ سَمِیًّا ﴿۷﴾
اے زکریا ! ہم مژدہ دیتے ہیں تجھے ایک بچے ( کی ولادت ) کا ۔ اس کا یحییٰ ہو گا ۔ ہم نے نہیں بنایا اس کا کوئی ہم اس سے ۔
قَالَ رَبِّ اَنّٰی یَکُوۡنُ لِیۡ غُلٰمٌ وَّکَانَتِ امۡرَاَتِیۡ عَاقِرًا وَّقَدۡ بَلَغۡتُ مِنَ الۡکِبَرِ عِتِیًّا ﴿۸﴾
زکریا نے عرض کی میرے رب ! کیسے ہو سکتا ہے میرے ہاں حالانکہ میری ہے اور میں خود پہنچ گیا ہوں بڑھاپے کی انتہا کو ۔
قَالَ کَذٰلِکَ ۚ قَالَ رَبُّکَ ہُوَ عَلَیَّ ہَیِّنٌ وَّقَدۡ خَلَقۡتُکَ مِنۡ قَبۡلُ وَلَمۡ تَکُ شَیۡئًا ﴿۹﴾
فرمایا یونہی ہو گا تیرے رب نے فرمایا ہے کہ اس کبر سنی میں بچہ میرے لیے ہے اور ( دیکھو ) میں نے تمہیں بھی تو کیا تھا اس سے پیشتر حالانکہ تم کچھ بھی نہ تھے ۔
قَالَ رَبِّ اجۡعَلۡ لِّیۡۤ اٰیَۃً ؕ قَالَ اٰیَتُکَ اَلَّا تُکَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَ لَیَالٍ سَوِیًّا ﴿۱۰﴾
زکریا نے عرض کی اے میرے رب ٹھیراؤ میرے لیے کوئی علامت ملا تیری علامت یہ ہے کہ تو نہیں کر سکے گا لوگوں سے تین تک حالانکہ تو بالکل ہو گا ۔
فَخَرَجَ عَلٰی قَوۡمِہٖ مِنَ الۡمِحۡرَابِ فَاَوۡحٰۤی اِلَیۡہِمۡ اَنۡ سَبِّحُوۡا بُکۡرَۃً وَّعَشِیًّا ﴿۱۱﴾
پھر آپ نکل کر آئے اپنی قوم کے ( اپنے ) خانہ سے تو سے انھیں سمجھایا کہ تم پاکی کرو ( اپنے رب کی ) صبح و ۔
یٰیَحۡیٰی خُذِ الۡکِتٰبَ بِقُوَّۃٍ ؕ وَاٰتَیۡنٰہُ الۡحُکۡمَ صَبِیًّا ﴿ۙ۱۲﴾
اے یحییٰ پکڑ لو اس کو مضبوطی سے اور ہم نے عطا فرما دی ان کو دانائی جبکہ وہ بچے تھے ۔
وَّحَنَانًا مِّنۡ لَّدُنَّا وَزَکٰوۃً ؕ وَکَانَ تَقِیًّا ﴿ۙ۱۳﴾
نیز عطا فرمائی کی نرمی اپنی جناب سے اور نفس کی اور وہ بڑے پرہیزگار تھے ۔
وَّبَرًّۢا بِوَالِدَیۡہِ وَلَمۡ یَکُنۡ جَبَّارًا عَصِیًّا ﴿۱۴﴾
اور وہ خدمت گزار تھے اپنے والدین کے اور وہ جابر ( اور ) سرکش نہ تھے ۔
وَسَلٰمٌ عَلَیۡہِ یَوۡمَ وُلِدَ وَیَوۡمَ یَمُوۡتُ وَیَوۡمَ یُبۡعَثُ حَیًّا ﴿٪۱۵﴾ 4
اور سلامتی ہو ان پر جس روز وہ ہوئے اور جس روز وہ انتقال کریں گے اور جس روز انھیں اٹھایا جائے گا کر کے ۔
وَاذۡکُرۡ فِی الۡکِتٰبِ مَرۡیَمَ ۘ اِذِ انۡتَبَذَتۡ مِنۡ اَہۡلِہَا مَکَانًا شَرۡقِیًّا ﴿ۙ۱۶﴾
اور ( اے حبیب ! ) کیجیے میں مریم ( کا حال ) جب وہ ہو گئی اپنے والوں سے ایک مکان میں جو مشرق کی تھا ۔
فَاتَّخَذَتۡ مِنۡ دُوۡنِہِمۡ حِجَابًا ۪۟ فَاَرۡسَلۡنَاۤ اِلَیۡہَا رُوۡحَنَا فَتَمَثَّلَ لَہَا بَشَرًا سَوِیًّا ﴿۱۷﴾
پس بنا لیا اس نے لوگوں کی طرف سے ایک ۔ پھر ہم نے بھیجا اس کی طرف اپنے جبرائیل کو پس وہ اس کے ایک کی میں ۔
قَالَتۡ اِنِّیۡۤ اَعُوۡذُ بِالرَّحۡمٰنِ مِنۡکَ اِنۡ کُنۡتَ تَقِیًّا ﴿۱۸﴾
مریم بولیں میں مانگتی ہوں رحمن کی تجھ سے اگر تو پرہیزگار ہے ۔
قَالَ اِنَّمَاۤ اَنَا رَسُوۡلُ رَبِّکِ ٭ۖ لِاَہَبَ لَکِ غُلٰمًا زَکِیًّا ﴿۱۹﴾
جبرائیل نے کہا میں تو تیرے رب کا بھیجا ہوں تاکہ میں عطا کروں تجھے ایک پاکیزہ فرزند ۔
قَالَتۡ اَنّٰی یَکُوۡنُ لِیۡ غُلٰمٌ وَّلَمۡ یَمۡسَسۡنِیۡ بَشَرٌ وَّلَمۡ اَکُ بَغِیًّا ﴿۲۰﴾ ٙ
مریم ( حیرت سے ) بولیں ( اے بندہ خدا ) کیونکر ہو سکتا ہے میرے ہاں بچہ حالانکہ نہیں چھوا مجھے کسی بشر نے اور نہ میں بدچلن ہوں ۔
قَالَ کَذٰلِکِ ۚ قَالَ رَبُّکِ ہُوَ عَلَیَّ ہَیِّنٌ ۚ وَلِنَجۡعَلَہٗۤ اٰیَۃً لِّلنَّاسِ وَرَحۡمَۃً مِّنَّا ۚ وَکَانَ اَمۡرًا مَّقۡضِیًّا ﴿۲۱﴾
جبرائیل نے کہا یہ ہے ( لیکن ) تیرے رب نے فرمایا یوں بچہ میرے لیے معمولی ہے اور ( مقصد یہ ہے کہ ) ہم بنائیں اسے اپنی ( قدرت کی ) لوگوں کے لیے اور سراپا رحمت اپنی طرف سے اور یہ ایسی ہے جس کا ہو چکا ہے ۔
فَحَمَلَتۡہُ فَانۡتَبَذَتۡ بِہٖ مَکَانًا قَصِیًّا ﴿۲۲﴾
پس وہ حاملہ ہو گئیں اس ( بچہ ) سے پھر وہ چلی گئیں اسے ( شکم میں ) لیے کسی ۔
فَاَجَآءَہَا الۡمَخَاضُ اِلٰی جِذۡعِ النَّخۡلَۃِ ۚ قَالَتۡ یٰلَیۡتَنِیۡ مِتُّ قَبۡلَ ہٰذَا وَکُنۡتُ نَسۡیًا مَّنۡسِیًّا ﴿۲۳﴾
پس لے آیا انھیں درد زہ ایک کے تنے کے ( بصد حسرت و یاس ) کہنے لگیں کاش ! میں مر گئی ہوتی اس سے اور بالکل فراموش کر دی گئی ہوتی ۔
فَنَادٰىہَا مِنۡ تَحۡتِہَاۤ اَلَّا تَحۡزَنِیۡ قَدۡ جَعَلَ رَبُّکِ تَحۡتَکِ سَرِیًّا ﴿۲۴﴾
پس پکارا اسے ایک نے اس کے سے ( اے مریم ) غمزدہ نہ ہو ، جاری کر دی ہے تیرے رب نے تیرے ایک ندی ۔
وَہُزِّیۡۤ اِلَیۡکِ بِجِذۡعِ النَّخۡلَۃِ تُسٰقِطۡ عَلَیۡکِ رُطَبًا جَنِیًّا ﴿۫۲۵﴾
اور ہلاؤ اپنی طرف کے تنے کو ، گرنے لگیں گی تم پر پکی ہوئی کھجوریں ۔
فَکُلِیۡ وَاشۡرَبِیۡ وَقَرِّیۡ عَیۡنًا ۚ فَاِمَّا تَرَیِنَّ مِنَ الۡبَشَرِ اَحَدًا ۙ فَقُوۡلِیۡۤ اِنِّیۡ نَذَرۡتُ لِلرَّحۡمٰنِ صَوۡمًا فَلَنۡ اُکَلِّمَ الۡیَوۡمَ اِنۡسِیًّا ﴿ۚ۲۶﴾
۔( میٹھے میٹھے خرمے ) کھاؤ اور ( ) پیو اور ( اپنے فرزند دلبند کو دیکھ کر ) آنکھیں ٹھنڈی کرو پھر اگر تم دیکھو کسی آدمی کو تو ( سے اسے ) کہو کہ میں نے نذر مانی ہوئی ہے رحمن کے لیے ( خاموشی کے ) روزہ کی ۔ پس میں آج کسی سے گفتگو نہیں کروں گی ۔
فَاَتَتۡ بِہٖ قَوۡمَہَا تَحۡمِلُہٗ ؕ قَالُوۡا یٰمَرۡیَمُ لَقَدۡ جِئۡتِ شَیۡئًا فَرِیًّا ﴿۲۷﴾
اس کے بعد وہ لے آئیں بچہ کو اپنی قوم کے ( میں ) اٹھائے ہوئے انھوں نے کہا اے مریم ! تم نے بہت ہی برا کیا ہے ۔
یٰۤاُخۡتَ ہٰرُوۡنَ مَاکَانَ اَبُوۡکِ امۡرَ اَسَوۡءٍ وَّمَا کَانَتۡ اُمُّکِ بَغِیًّا﴿۲۸﴾ۖ ۚ
اے ہارون کی بہن ! نہ تیرا برا آدمی تھا اور نہ ہی تیری بدچلن تھی ۔
فَاَشَارَتۡ اِلَیۡہِ ؕ قَالُوۡا کَیۡفَ نُکَلِّمُ مَنۡ کَانَ فِی الۡمَہۡدِ صَبِیًّا ﴿۲۹﴾
اس پر مریم نے بچہ کی طرف کیا لوگ کہنے لگے ہم کیسے کریں اس سے جو گہوارہ میں ( کمسن ) بچہ ہے ۔
قَالَ اِنِّیۡ عَبۡدُ اللّٰہِ ۟ ؕ اٰتٰنِیَ الۡکِتٰبَ وَجَعَلَنِیۡ نَبِیًّا ﴿ۙ۳۰﴾
۔( ) وہ بچہ بول پڑا کہ میں اللہ کا بندہ ہوں اس نے مجھے عطا کی ہے اور اس نے مجھے نبی بنایا ہے ۔
وَّجَعَلَنِیۡ مُبٰرَکًا اَیۡنَ مَاکُنۡتُ ۪ وَاَوۡصٰنِیۡ بِالصَّلٰوۃِ وَالزَّکٰوۃِ مَادُمۡتُ حَیًّا ﴿۪ۖ۳۱﴾
اور اسی نے مجھے کیا ہے جہاں کہیں بھی میں ہوں اور اسی نے مجھے دیا ہے نماز ادا کرنے کا اور زکوۃ دینے کا جب تک میں رہوں ۔
وَّبَرًّۢا بِوَالِدَتِیۡ ۫ وَلَمۡ یَجۡعَلۡنِیۡ جَبَّارًا شَقِیًّا ﴿۳۲﴾
اور مجھے خدمت گار بنایا ہے اپنی والدہ کا اور اس نے نہیں بنایا مجھے جابر ( اور ) بدبخت ۔
وَالسَّلٰمُ عَلَیَّ یَوۡمَ وُلِدۡتُّ وَیَوۡمَ اَمُوۡتُ وَیَوۡمَ اُبۡعَثُ حَیًّا ﴿۳۳﴾
اور سلامتی ہو مجھ پر جس روز میں اور جس میں مروں گا اور جس مجھے اٹھایا جائے گا کر کے ۔
ذٰلِکَ عِیۡسَی ابۡنُ مَرۡیَمَ ۚ قَوۡلَ الۡحَقِّ الَّذِیۡ فِیۡہِ یَمۡتَرُوۡنَ ﴿۳۴﴾
یہ ہے عیسیٰ بن مریم ( اور یہ ہے وہ ) سچی جس میں لوگ جھگڑ رہے ہیں ۔
مَاکَانَ لِلّٰہِ اَنۡ یَّتَّخِذَ مِنۡ وَّلَدٍ ۙ سُبۡحٰنَہٗ ؕ اِذَا قَضٰۤی اَمۡرًا فَاِنَّمَا یَقُوۡلُ لَہٗ کُنۡ فَیَکُوۡنُ ﴿ؕ۳۵﴾
یہ زیبا ہی نہیں اللہ تعالیٰ کو کہ وہ کسی کو اپنا بنائے ۔ وہ ہے ۔ جب وہ فرما دیتا ہے کسی کا تو بس صرف اتنا دیتا ہے اس کے لیے کہ ہو جا تو وہ ہو جاتا ہے ۔
وَاِنَّ اللّٰہَ رَبِّیۡ وَرَبُّکُمۡ فَاعۡبُدُوۡہُ ؕ ہٰذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِیۡمٌ ﴿۳۶﴾
اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ میرا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی ، سو اسی کی کیا کرو ، یہی ہے ۔
فَاخۡتَلَفَ الۡاَحۡزَابُ مِنۡۢ بَیۡنِہِمۡ ۚ فَوَیۡلٌ لِّلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ مَّشۡہَدِ یَوۡمٍ عَظِیۡمٍ ﴿۳۷﴾
پھر کئی گروہ آپس میں اختلاف کرنے لگے پس ہے کفار کے لیے اس کی حاضری سے جو بہت بڑا ہے ۔
اَسۡمِعۡ بِہِمۡ وَاَبۡصِرۡ ۙ یَوۡمَ یَاۡتُوۡنَنَا لٰکِنِ الظّٰلِمُوۡنَ الۡیَوۡمَ فِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۳۸﴾
۔( اس ) یہ خوب سننے لگیں گے اور خوب دیکھنے لگیں گے جس آئیں گے ہمارے ۔ لیکن یہ ظالم آج تو کھلی گمراہی میں ہیں ۔
وَاَنۡذِرۡہُمۡ یَوۡمَ الۡحَسۡرَۃِ اِذۡ قُضِیَ الۡاَمۡرُ ۘ وَہُمۡ فِیۡ غَفۡلَۃٍ وَّہُمۡ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۳۹﴾
اور اے نبی کریم ! آپ ڈرائیے انھیں حسرت و ندامت کے سے جب ہر کا کر دیا جائے گا اور آج یہ لوگ غفلت میں ہیں اور یہ ایمان نہیں لاتے ۔
اِنَّا نَحۡنُ نَرِثُ الۡاَرۡضَ وَمَنۡ عَلَیۡہَا وَاِلَیۡنَا یُرۡجَعُوۡنَ ﴿۴۰﴾٪ 5
یقیناً ہم ہی وارث ہوں گے کے اور جو کچھ اس کے اوپر ہے اور ہماری طرف ہی سب لوٹائے جائیں گے ۔
وَاذۡکُرۡ فِی الۡکِتٰبِ اِبۡرٰہِیۡمَ ۬ ؕ اِنَّہٗ کَانَ صِدِّیۡقًا نَّبِیًّا ﴿۴۱﴾
اور ذکر کیجیے آپ میں ابراہیم ( علیہ السلام ) کا وہ بڑا راستباز نبی تھا ۔
اِذۡ قَالَ لِاَبِیۡہِ یٰۤاَبَتِ لِمَ تَعۡبُدُ مَالَا یَسۡمَعُ وَلَا یُبۡصِرُ وَلَا یُغۡنِیۡ عَنۡکَ شَیۡئًا ﴿۴۲﴾
جب انھوں نے کہا اپنے سے کہ اے میرے تو کیوں کرتا ہے اس کی جو نہ کچھ سنتا ہے اور نہ کچھ دیکھتا ہے اور نہ تجھے کوئی پہنچا سکتا ہے ۔
یٰۤاَبَتِ اِنِّیۡ قَدۡ جَآءَنِیۡ مِنَ الۡعِلۡمِ مَالَمۡ یَاۡتِکَ فَاتَّبِعۡنِیۡۤ اَہۡدِکَ صِرَاطًا سَوِیًّا ﴿۴۳﴾
اے میرے بیشک آیا ہے میرے وہ علم جو تیرے نہیں آیا اس لیے تو میری پیروی کر ۔ میں دکھاؤں گا تجھے ۔
یٰۤاَبَتِ لَا تَعۡبُدِ الشَّیۡطٰنَ ؕ اِنَّ الشَّیۡطٰنَ کَانَ لِلرَّحۡمٰنِ عَصِیًّا ﴿۴۴﴾
اے ! شیطان کی پوجا نہ کیا کر بیشک شیطان تو رحمن کا نافرمان ہے ۔
یٰۤاَبَتِ اِنِّیۡۤ اَخَافُ اَنۡ یَّمَسَّکَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحۡمٰنِ فَتَکُوۡنَ لِلشَّیۡطٰنِ وَلِیًّا ﴿۴۵﴾
اے ! میں ڈرتا ہوں کہ کہیں تجھے پہنچے ( خدائے ) رحمن کی طرف سے تو تو بن جائے شیطان کا ۔
قَالَ اَرَاغِبٌ اَنۡتَ عَنۡ اٰلِہَتِیۡ یٰۤـاِبۡرٰہِیۡمُ ۚ لَئِنۡ لَّمۡ تَنۡتَہِ لَاَرۡجُمَنَّکَ وَاہۡجُرۡنِیۡ مَلِیًّا ﴿۴۶﴾
باپ نے کہا کیا روگردانی کرنے والا ہے تو میرے خداؤں سے اے ابراہیم ؟ اگر تم نہ آئے تو میں تمہیں سنگسار کر دوں گا اور ہو جا میرے سے کچھ عرصہ ۔
قَالَ سَلٰمٌ عَلَیۡکَ ۚ سَاَسۡتَغۡفِرُ لَکَ رَبِّیۡ ؕ اِنَّہٗ کَانَ بِیۡ حَفِیًّا ﴿۴۷﴾
ابراہیم نے ( میں ) کہا سلام ہو تم پر میں مغفرت طلب کرونگا تیرے لیے اپنے رب سے ، بیشک وہ مجھ پر بیحد ہے ۔
وَاَعۡتَزِلُکُمۡ وَمَا تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ وَاَدۡعُوۡا رَبِّیۡ ۫ ۖعَسٰۤی اَلَّاۤ اَکُوۡنَ بِدُعَآءِ رَبِّیۡ شَقِیًّا ﴿۴۸﴾
اور میں ہو جاؤں گا تم سے اور ( ان سے بھی ) کی تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اور میں اپنے رب کی کرونگا ۔ مجھے ہے کہ میں اپنے رب کی کی برکت سے نامراد نہیں رہونگا ۔
فَلَمَّا اعۡتَزَلَہُمۡ وَمَا یَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ ۙ وَہَبۡنَا لَہٗۤ اِسۡحٰقَ وَیَعۡقُوۡبَ ؕ وَکُلًّا جَعَلۡنَا نَبِیًّا ﴿۴۹﴾
پس جب وہ جدا ہو گیا ان سے اور کی وہ کیا کرتے تھے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر ، تو عطا فرمایا ہم نے ابراہیم کو اسحاق اور یعقوب اور سب کو ہم نے نبی بنایا ۔
وَوَہَبۡنَا لَہُمۡ مِّنۡ رَّحۡمَتِنَا وَجَعَلۡنَا لَہُمۡ لِسَانَ صِدۡقٍ عَلِیًّا ﴿۵۰﴾٪ 6
اور ہم نے عطا فرمائیں انھیں اپنی رحمت سے ( طرح طرح کی نعمتیں ) اور ہم نے ان کے لیے سچی اور دائمی کی کر دی ۔
وَاذۡکُرۡ فِی الۡکِتٰبِ مُوۡسٰۤی ۫ اِنَّہٗ کَانَ مُخۡلَصًا وَّکَانَ رَسُوۡلًا نَّبِیًّا ﴿۵۱﴾
اور ذکر فرمائیے میں موسیٰ کا ۔ بیشک وہ ( اللہ کے چنے ہوئے ) تھے اور رسول و نبی تھے ۔
وَنَادَیۡنٰہُ مِنۡ جَانِبِ الطُّوۡرِ الۡاَیۡمَنِ وَقَرَّبۡنٰہُ نَجِیًّا ﴿۵۲﴾
اور ہم نے انھیں پکارا طور کی دائیں سے اور ہم نے انھیں قریب کیا راز کی باتیں کرنے کے لیے ۔
وَوَہَبۡنَا لَہٗ مِنۡ رَّحۡمَتِنَاۤ اَخَاہُ ہٰرُوۡنَ نَبِیًّا ﴿۵۳﴾
اور ہم نے بخشا انھیں اپنی خاص رحمت سے ان کا ہارون جو نبی تھا ۔
وَاذۡکُرۡ فِی الۡکِتٰبِ اِسۡمٰعِیۡلَ ۫ اِنَّہٗ کَانَ صَادِقَ الۡوَعۡدِ وَکَانَ رَسُوۡلًا نَّبِیًّا ﴿ۚ۵۴﴾
اور ذکر کیجیے میں اسماعیل کو بیشک وہ وعدہ کے سچے تھے اور رسول ( اور ) نبی تھے ۔
وَکَانَ یَاۡمُرُ اَہۡلَہٗ بِالصَّلٰوۃِ وَالزَّکٰوۃِ ۪ وَکَانَ عِنۡدَ رَبِّہٖ مَرۡضِیًّا ﴿۵۵﴾
اور وہ دیا کرتے تھے اپنے والوں کو نماز پڑھنے اور زکوۃ ادا کرنے کا اور اپنے رب کے بڑے پسندیدہ تھے ۔
وَاذۡکُرۡ فِی الۡکِتٰبِ اِدۡرِیۡسَ ۫ اِنَّہٗ کَانَ صِدِّیۡقًا نَّبِیًّا ﴿٭ۙ۵۶﴾
اور ذکر فرمائیے میں ادریس ( علیہ السلام ) کا بیشک وہ بڑے راستباز تھے ( اور ) نبی تھے ۔
وَّرَفَعۡنٰہُ مَکَانًا عَلِیًّا ﴿۵۷﴾
اور ہم نے کیا تھا انھیں بڑے اونچے مقام تک ۔
اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمَ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ مِّنَ النَّبِیّٖنَ مِنۡ ذُرِّیَّۃِ اٰدَمَ ٭ وَمِمَّنۡ حَمَلۡنَا مَعَ نُوۡحٍ ۫ وَّمِنۡ ذُرِّیَّۃِ اِبۡرٰہِیۡمَ وَاِسۡرَآءِیۡلَ ۫ وَمِمَّنۡ ہَدَیۡنَا وَاجۡتَبَیۡنَا ؕ اِذَا تُتۡلٰی عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتُ الرَّحۡمٰنِ خَرُّوۡا سُجَّدًا وَّبُکِیًّا ﴿ٛ۵۸﴾
یہ وہ ( مُقدس ہستیاں ) ہیں پر انعام فرمایا اللہ تعالیٰ نے انبیاء ( کرام کے زمرہ ) سے یہ آدم کی سے تھے ۔ اور بعض ان کی کو ہم نے کیا تھا ( میں ) نوح کے ساتھ اور بعض ابراہیم اور یعقوب کی سے تھے اور ان میں سے جنھیں ہم نے دی اور لیا ۔ جب پڑھی جاتی ہیں ان کے رحمن کی آیتیں تو وہ گر پڑتے ہیں سجدہ کرتے ہوئے اور ( زار و قطار ) روتے ہوئے ۔
فَخَلَفَ مِنۡۢ بَعۡدِہِمۡ خَلۡفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوۃَ وَاتَّبَعُوا الشَّہَوٰتِ فَسَوۡفَ یَلۡقَوۡنَ غَیًّا ﴿ۙ۵۹﴾
پس جانشین بنے ان کے بعد وہ ناخلف جنھوں نے ضائع کیا نمازوں کو اور پیروی کی خواہشات ( نفسانی ) کی سو وہ دوچار ہوں گے اپنی ( کی سزا ) سے ۔
اِلَّا مَنۡ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَاُولٰٓئِکَ یَدۡخُلُوۡنَ الۡجَنَّۃَ وَلَا یُظۡلَمُوۡنَ شَیۡئًا ﴿ۙ۶۰﴾
مگر جو تائب ہوئے اور ایمان لائے اور عمل کیے تو یہ لوگ میں ہوں گے اور ان پر ذرا ظلم نہیں کیا جائے گا ۔
جَنّٰتِ عَدۡنِ ۣ الَّتِیۡ وَعَدَ الرَّحۡمٰنُ عِبَادَہٗ بِالۡغَیۡبِ ؕ اِنَّہٗ کَانَ وَعۡدُہٗ مَاۡتِیًّا ﴿۶۱﴾
سدا بہار چمن کا وعدہ ( خداوند ) رحمن نے اپنے بندوں سے غیب میں کیا ہے ۔ یقیناً اس کا وعدہ پورا ہو کر رہنے والا ہے ۔
لَا یَسۡمَعُوۡنَ فِیۡہَا لَغۡوًا اِلَّا سَلٰمًا ؕ وَلَہُمۡ رِزۡقُہُمۡ فِیۡہَا بُکۡرَۃً وَّعَشِیًّا ﴿۶۲﴾
نہیں سنیں گے میں کوئی لغو بجز ’ سلامت رہو ‘ کی دعائیہ صدا ۔ اور انھیں ان کا رزق ملے گا وہاں ہر صبح و ۔
تِلۡکَ الۡجَنَّۃُ الَّتِیۡ نُوۡرِثُ مِنۡ عِبَادِنَا مَنۡ کَانَ تَقِیًّا ﴿۶۳﴾
یہ وہ ہے جس کا ہم وارث بنائیں گے اپنے بندوں سے ( صرف ) اس کو جو متقی ہو گا ۔
وَمَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمۡرِ رَبِّکَ ۚ لَہٗ مَابَیۡنَ اَیۡدِیۡنَا وَمَا خَلۡفَنَا وَمَا بَیۡنَ ذٰلِکَ ۚ وَمَا کَانَ رَبُّکَ نَسِیًّا ﴿ۚ۶۴﴾
اور ( جبرائیل ! میرے نبی سے کہو ) ہم نہیں اترتے مگر آپ کے رب کے سے اسی کا ہے جو ہمارے ہے اور جو ہمارے ہے اور جو کچھ اس کے ہے اور نہیں ہے آپ کا رب بھولنے والا ۔
رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَیۡنَہُمَا فَاعۡبُدۡہُ وَاصۡطَبِرۡ لِعِبَادَتِہٖ ؕ ہَلۡ تَعۡلَمُ لَہٗ سَمِیًّا ﴿٪۶۵﴾ 7
وہ پروردگار ہے آسمانوں اور کا اور جو کچھ ان کے ہے ۔ سو اس کی کرو اور رہو اس کی پر ۔ کیا تم جانتے ہو کہ اس کا کوئی ہم مثل ہے ۔
وَیَقُوۡلُ الۡاِنۡسَانُءَ اِذَا مَامِتُّ لَسَوۡفَ اُخۡرَجُ حَیًّا ﴿۶۶﴾
اور ( ازراہ ) کہتا ہے کہ کیا جب میں مر جاؤں گا تو مجھے پھر کر کے نکالا جائے گا ؟
اَوَ لَا یَذۡکُرُ الۡاِنۡسَانُ اَنَّا خَلَقۡنٰہُ مِنۡ قَبۡلُ وَلَمۡ یَکُ شَیۡئًا ﴿۶۷﴾
کیا نہ رہا کو کہ ہم نے ہی کیا اسے اس سے حالانکہ وہ کچھ بھی نہ تھا ۔
فَوَ رَبِّکَ لَنَحۡشُرَنَّہُمۡ وَالشَّیٰطِیۡنَ ثُمَّ لَنُحۡضِرَنَّہُمۡ حَوۡلَ جَہَنَّمَ جِثِیًّا ﴿ۚ۶۸﴾
سو ( اے محبوب ! ) تیرے رب کی ! ہم جمع کریں گے انھیں بھی اور شیطانوں کو بھی ، پھر کریں گے ان سب کو جہنم کے اردگرد کہ وہ گھٹنوں کے بل گرے ہوں گے ۔
ثُمَّ لَنَنۡزِعَنَّ مِنۡ کُلِّ شِیۡعَۃٍ اَیُّہُمۡ اَشَدُّ عَلَی الرَّحۡمٰنِ عِتِیًّا ﴿ۚ۶۹﴾
پھر ہم ( چُن چُن کر ) کر لینگے ہر گروہ سے ان لوگوں کو جو ( خداوند ) رحمن کے نافرمان تھے ۔
ثُمَّ لَنَحۡنُ اَعۡلَمُ بِالَّذِیۡنَ ہُمۡ اَوۡلٰی بِہَا صِلِیًّا ﴿۷۰﴾
پھر ہم ہی خوب جانتے ہیں ان لوگوں کو جو مستحق ہیں اس میں تپائے جانے کے ۔
وَاِنۡ مِّنۡکُمۡ اِلَّا وَارِدُہَا ۚ کَانَ عَلٰی رَبِّکَ حَتۡمًا مَّقۡضِیًّا ﴿ۚ۷۱﴾
اور تم سے کوئی ایسا نہیں مگر اس کا گزر پر ہو گا یہ آپ کے رب پر لازم ہے ( اور اس کا ) ہو چکا ہے ۔
ثُمَّ نُنَجِّی الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا وَّنَذَرُ الظّٰلِمِیۡنَ فِیۡہَا جِثِیًّا ﴿۷۲﴾
پھر ہم دیں گے پرہیزگاروں کو اور رہنے دیں گے ظالموں کو میں کہ وہ گھٹنوں کے بل گرے ہوں گے ۔
وَاِذَا تُتۡلٰی عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا ۙ اَیُّ الۡفَرِیۡقَیۡنِ خَیۡرٌ مَّقَامًا وَّاَحۡسَنُ نَدِیًّا ﴿۷۳﴾
اور جب تلاوت کی جاتی ہیں ان کے ہماری آیتیں وضاحت سے ( تو ) کافر کہتے ہیں ایمان والوں سے کہ ( یہ تو بتاؤ ) ہم دونوں گروہوں میں سے کس کی رہائش گاہ دہ ہے اور کس کی نشست گاہ ہے ۔
وَکَمۡ اَہۡلَکۡنَا قَبۡلَہُمۡ مِّنۡ قَرۡنٍ ہُمۡ اَحۡسَنُ اَثَاثًا وَّرِءۡیًا ﴿۷۴﴾
اور ( ان احمقوں نے یہ نہ سوچا ) کہ کتنی قومیں ان سے تھیں جنکو ہم نے کر دیا ۔ وہ ساز و اور ظاہری سج دھج میں ( ان سے ) بہتر تھیں ۔
قُلۡ مَنۡ کَانَ فِی الضَّلٰلَۃِ فَلۡیَمۡدُدۡ لَہُ الرَّحۡمٰنُ مَدًّا ۬ ۚ حَتّٰۤی اِذَا رَاَوۡا مَایُوۡعَدُوۡنَ اِمَّا الۡعَذَابَ وَاِمَّا السَّاعَۃَ ؕ فَسَیَعۡلَمُوۡنَ مَنۡ ہُوَ شَرٌّ مَّکَانًا وَّاَضۡعَفُ جُنۡدًا ﴿۷۵﴾
آپ فرمائیے جو گمراہی میں ( مگن ) ہو تو ڈھیل دیے رکھتا ہے اسے رحمن لمبی ڈھیل ۔ یہاں تک کہ جب دیکھیں گے وہ چیز جس کا وعدہ کیا گیا ہے یعنی یا تو اس انھیں پتہ چلے گا کہ کون مکان کے سے برا اور کے اعتبار سے ہے ۔
وَیَزِیۡدُ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اہۡتَدَوۡا ہُدًی ؕ وَالۡبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیۡرٌ عِنۡدَ رَبِّکَ ثَوَابًا وَّخَیۡرٌ مَّرَدًّا ﴿۷۶﴾
اور کرتا رہتا ہے اللہ تعالیٰ یافتہ لوگوں ( کے نور ) کو اور رہنے والی نیکیاں بہتر ہیں آپ کے رب کے ثواب کے اعتبار سے اور انھیں کا ہے ۔
اَفَرَءَیۡتَ الَّذِیۡ کَفَرَ بِاٰیٰتِنَا وَقَالَ لَاُوۡتَیَنَّ مَالًا وَّوَلَدًا ﴿ؕ۷۷﴾
کیا آپ نے دیکھا اس کو جس نے کیا ہماری آیتوں کا اور کہنے لگا کہ مجھے ضرور ضرور دیا جائے گا اور ۔
اَطَّلَعَ الۡغَیۡبَ اَمِ اتَّخَذَ عِنۡدَ الرَّحۡمٰنِ عَہۡدًا ﴿ۙ۷۸﴾
۔( اس لاف زنی کی وجہ کیا ہے ) کیا وہ ہو گیا ہے غیب پر یا لے لیا ہے اس نے ( خداوند ) رحمن سے کوئی وعدہ ؟ ۔
کَلَّا ؕ سَنَکۡتُبُ مَایَقُوۡلُ وَنَمُدُّ لَہٗ مِنَ الۡعَذَابِ مَدًّا ﴿ۙ۷۹﴾
ہرگز ایسا نہیں ۔ ہم لکھ لیں گے جو یہ کہہ رہا ہے اور لمبا کر دیں گے اس کے لیے کو خوب لمبا کرنا ۔
وَّنَرِثُہٗ مَایَقُوۡلُ وَیَاۡتِیۡنَا فَرۡدًا ﴿۸۰﴾
اور ہم ہی وارث ہوں گے جو وہ کہتا ہے ( یعنی اس کے و کے ) اور وہ ہمارے تنہا آئے گا ۔
وَاتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ اٰلِہَۃً لِّیَکُوۡنُوۡا لَہُمۡ عِزًّا ﴿ۙ۸۱﴾
اور انھوں نے بنا لیے ہیں اللہ تعالیٰ کے سوا اور خدا کہ وہ ان کے لیے بنیں ۔
کَلَّا ؕ سَیَکۡفُرُوۡنَ بِعِبَادَتِہِمۡ وَیَکُوۡنُوۡنَ عَلَیۡہِمۡ ضِدًّا ﴿۸۲﴾٪ 8
ہرگز نہیں ۔ وہ جھوٹے خدا کر دیں گے ان کی کا اور وہ ( الٹے ) ان کے ہو جائیں گے ۔
اَلَمۡ تَرَ اَنَّـاۤ اَرۡسَلۡنَا الشَّیٰطِیۡنَ عَلَی الۡکٰفِرِیۡنَ تَؤُزُّہُمۡ اَزًّا ﴿ۙ۸۳﴾
کیا آپ نے ملاحظہ نہیں کیا کہ ہم نے کر دیا ہے شیطانوں کو کفار پر ۔ وہ انھیں ( اسلام کے خلاف ) ہر اکساتے رہتے ہیں ۔
فَلَا تَعۡجَلۡ عَلَیۡہِمۡ ؕ اِنَّمَا نَعُدُّ لَہُمۡ عَدًّا ﴿ۚ۸۴﴾
پس عجلت نہ کیجیے ان پر ( نزول کے لیے ) ہم گن رہے ہیں ان کے ایام زندگی کو اچھی طرح ۔
یَوۡمَ نَحۡشُرُ الۡمُتَّقِیۡنَ اِلَی الرَّحۡمٰنِ وَفۡدًا ﴿ۙ۸۵﴾
وہ جب ہم کریں گے پرہیزگاروں کو رحمن کے حضور میں ( معزز و مکرم بنا کر ) ۔
وَّنَسُوۡقُ الۡمُجۡرِمِیۡنَ اِلٰی جَہَنَّمَ وِرۡدًا ﴿ۘ۸۶﴾
اور اس روز ہانک کر لائینگے مجرموں کو جہنم کی طرف پیاسے جانوروں کی طرح ۔
لَا یَمۡلِکُوۡنَ الشَّفَاعَۃَ اِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنۡدَ الرَّحۡمٰنِ عَہۡدًا ﴿ۘ۸۷﴾
انھیں کوئی نہیں ہو گا شفاعت کا ۔ بجز ان کے جنھوں نے خداوند رحمن سے کوئی وعدہ لے لیا ہے ۔
وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحۡمٰنُ وَلَدًا ﴿ؕ۸۸﴾
اور کفار کہتے ہیں بنا لیا ہے رحمن نے ( فلاں کو اپنا ) ۔
لَقَدۡ جِئۡتُمۡ شَیۡئًا اِدًّا ﴿ۙ۸۹﴾
۔( اے کافرو ! ) یقیناً تم نے ایسی کی ہے جو معیوب ہے ۔
تَکَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرۡنَ مِنۡہُ وَتَنۡشَقُّ الۡاَرۡضُ وَتَخِرُّ الۡجِبَالُ ہَدًّا ﴿ۙ۹۰﴾
قریب ہے شق ہو جائیں اس ( خرافات ) سے اور پھٹ جائے اور گر پڑیں لرزتے ہوئے ۔
اَنۡ دَعَوۡا لِلرَّحۡمٰنِ وَلَدًا ﴿ۚ۹۱﴾
کیونکہ وہ کہہ رہے ہیں کہ رحمن کا ایک ہے ۔
وَمَا یَنۡۢبَغِیۡ لِلرَّحۡمٰنِ اَنۡ یَّتَّخِذَ وَلَدًا ﴿ؕ۹۲﴾
اور نہیں جائز رحمن کے لیے کہ وہ بنائے کسی کو ( اپنا ) فرزند ۔
اِنۡ کُلُّ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ اِلَّاۤ اٰتِی الرَّحۡمٰنِ عَبۡدًا ﴿ؕ۹۳﴾
کوئی ایسی چیز نہیں جو آسمانوں اور میں ہے مگر وہ ہو گی رحمن کی بارگاہ میں بندہ بن کر ۔
لَقَدۡ اَحۡصٰہُمۡ وَعَدَّہُمۡ عَدًّا ﴿ؕ۹۴﴾
اللہ تعالیٰ نے ان سب کا شمار کر رکھا ہے اور انھیں گن لیا ہے اچھی طرح ۔
وَکُلُّہُمۡ اٰتِیۡہِ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ فَرۡدًا ﴿۹۵﴾
اور وہ سب ہوں گے اس کے کے تنہا ۔
اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَیَجۡعَلُ لَہُمُ الرَّحۡمٰنُ وُدًّا ﴿۹۶﴾
بلاشبہ جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے ، فرما دے گا خدائے ان کے لیے ( دلوں میں ) ۔
فَاِنَّمَا یَسَّرۡنٰہُ بِلِسَانِکَ لِتُبَشِّرَ بِہِ الۡمُتَّقِیۡنَ وَتُنۡذِرَ بِہٖ قَوۡمًا لُّدًّا ﴿۹۷﴾
صرف اس لیے ہم نے کر دیا ہے کو آپ کی زبان میں اتار کر تاکہ آپ مژدہ سنائیں اس سے پرہیزگاروں کو اور ڈرائیں اس کے اس قوم کو جو بڑی جھگڑالو ہے ۔
وَکَمۡ اَہۡلَکۡنَا قَبۡلَہُمۡ مِّنۡ قَرۡنٍ ؕ ہَلۡ تُحِسُّ مِنۡہُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ اَوۡ تَسۡمَعُ لَہُمۡ رِکۡزًا ﴿٪۹۸﴾ ؒ 9
اور کتنی قومیں تھیں کو ہم نے کر دیا ان سے ۔ کیا محسوس کرتے ہو ان میں سے کسی کو یا سنتے ہو ان کی کوئی آہٹ ۔