حٰمٓ ۚ﴿۱﴾
حا ۔ میم ۔
The Wind-Curved Sandhills
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ ﴿١﴾
In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
حٰمٓ ۚ﴿۱﴾
حا ۔ میم ۔
تَنۡزِیۡلُ الۡکِتٰبِ مِنَ اللّٰہِ الۡعَزِیۡزِ الۡحَکِیۡمِ ﴿۲﴾
اتاری گئی ہے یہ اللہ کی طرف سے جو سب پر ، بہت دانا ہے ۔
مَاخَلَقۡنَا السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ وَمَا بَیۡنَہُمَاۤ اِلَّا بِالۡحَقِّ وَاَجَلٍ مُّسَمًّی ؕ وَالَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا عَمَّاۤ اُنۡذِرُوۡا مُعۡرِضُوۡنَ ﴿۳﴾
نہیں فرمایا ہم نے آسمانوں اور کو اور جو کچھ ان کے ہے مگر حق کے ساتھ اور مقررہ تک اور کفار اس چیز سے جس سے انھیں ڈرایا جاتا ہے روگردانی کرنے والے ہیں ۔
قُلۡ اَرَءَیۡتُمۡ مَّا تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ اَرُوۡنِیۡ مَاذَا خَلَقُوۡا مِنَ الۡاَرۡضِ اَمۡ لَہُمۡ شِرۡکٌ فِی السَّمٰوٰتِ ؕ اِیۡتُوۡنِیۡ بِکِتٰبٍ مِّنۡ قَبۡلِ ہٰذَاۤ اَوۡ اَثٰرَۃٍ مِّنۡ عِلۡمٍ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۴﴾
فرمائیے ( اے کفار ! ) کبھی تم نے ( سے ) دیکھا ہے جنہیں تم اللہ کے سوا ( خدا سمجھ کر ) پکارتے ہو ( بھلا ) مجھے بھی تو دکھاؤ جو کیا ہے انھوں نے سے یا ان کا آسمانوں ( کی تخلیق ) میں کچھ ہے لاؤ میرے کوئی جو اس سے اتری ہو یا کوئی ( دوسرا ) علمی ثبوت اگر تم سچے ہو ۔
وَمَنۡ اَضَلُّ مِمَّنۡ یَّدۡعُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مَنۡ لَّا یَسۡتَجِیۡبُ لَہٗۤ اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ وَہُمۡ عَنۡ دُعَآئِہِمۡ غٰفِلُوۡنَ ﴿۵﴾
اور کون گمراہ ہے اس ( بدبخت ) سے جو پکارتا ہے اللہ کو چھوڑ کر ایسے معبود کو جو تک اس کی نہیں کر سکتا اور وہ ان کے پکارنے سے ہی ہیں ۔
وَاِذَا حُشِرَ النَّاسُ کَانُوۡا لَہُمۡ اَعۡدَآءً وَّکَانُوۡا بِعِبَادَتِہِمۡ کٰفِرِیۡنَ ﴿۶﴾
اور جب جمع کیے جائیں گے لوگ ( روز محشر ) تو وہ معبود ان کے ہوں گے اور ان کی کا کر دیں گے ۔
وَاِذَا تُتۡلٰی عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لِلۡحَقِّ لَمَّا جَآءَہُمۡ ۙ ہٰذَا سِحۡرٌ مُّبِیۡنٌ ؕ﴿۷﴾
اور جب پڑھی جاتی ہیں ان کے ہماری آیتیں جو روشن ہیں تو کہتے ہیں کفار حق کے بارے میں جب ان کے آیا کہ یہ کھلا جادو ہے ۔
اَمۡ یَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىہُ ؕ قُلۡ اِنِ افۡتَرَیۡتُہٗ فَلَا تَمۡلِکُوۡنَ لِیۡ مِنَ اللّٰہِ شَیۡئًا ؕ ہُوَ اَعۡلَمُ بِمَا تُفِیۡضُوۡنَ فِیۡہِ ؕ کَفٰی بِہٖ شَہِیۡدًۢا بَیۡنِیۡ وَبَیۡنَکُمۡ ؕ وَہُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِیۡمُ ﴿۸﴾
کیا وہ کہتے ہیں کہ نبی نے اس کو خود گھڑ لیا ہے ۔ فرمائیے اگر میں نے اس کو خود گھڑا ہے تو تم اس کے نہیں کہ مجھے اللہ سے چھڑا لو ۔ وہ خوب جانتا ہے باتوں میں تم ہو ۔ وہ ہے بطور گواہ میرے اور تمہارے اور وہ بہت بخشنے والا ، رحم فرمانے والا ہے ۔
قُلۡ مَاکُنۡتُ بِدۡعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَمَاۤ اَدۡرِیۡ مَایُفۡعَلُ بِیۡ وَلَا بِکُمۡ ؕ اِنۡ اَتَّبِعُ اِلَّا مَایُوۡحٰۤی اِلَیَّ وَمَاۤ اَنَا اِلَّا نَذِیۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۹﴾
آپ کہیے میں کوئی انوکھا رسول تو نہیں ہوں اور میں ( ازخود یہ ) نہیں جان سکتا کہ کیا کیا جائے گا میرے ساتھ اور کیا کیا جائے گا تمہارے ساتھ ۔ میں تو پیروی کرتا ہوں جو وحی میری طرف کی جاتی ہے اور میں نہیں ہوں مگر صاف ڈرانے والا ۔
قُلۡ اَرَءَیۡتُمۡ اِنۡ کَانَ مِنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ وَکَفَرۡتُمۡ بِہٖ وَشَہِدَ شَاہِدٌ مِّنۡۢ بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ عَلٰی مِثۡلِہٖ فَاٰمَنَ وَاسۡتَکۡبَرۡتُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿٪۱۰﴾ 1
فرمائیے کیا تم نے کبھی اس پر کیا کہ اگر یہ اللہ کی طرف سے ہو اور تم اس کا کر دو ( تو اس کا کیا ہو گا ؟ ) حالانکہ گواہی دے چکا ہے ایک گواہ بنی اسرائیل سے اس کی مثل پر اور وہ ایمان بھی لے آیا اور تم نے کیا بیشک اللہ تعالیٰ نہیں دیتا ظالم لوگوں کو ۔
وَقَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَوۡ کَانَ خَیۡرًا مَّا سَبَقُوۡنَاۤ اِلَیۡہِ ؕ وَاِذۡ لَمۡ یَہۡتَدُوۡا بِہٖ فَسَیَقُوۡلُوۡنَ ہٰذَاۤ اِفۡکٌ قَدِیۡمٌ ﴿۱۱﴾
اور کفار اہل ایمان کے بارے میں کہتے ہیں کہ اگر یہ ( اسلام ) کوئی بہتر چیز ہوتی تو یہ ہم سے سبقت نہ لے جاتے اس کی طرف اور کیونکہ انھیں نصیب نہیں ہوئی سے ، تو یہ اب ضرور کہیں گے کہ ( اجی ) یہ تو وہی ہے ۔
وَمِنۡ قَبۡلِہٖ کِتٰبُ مُوۡسٰۤی اِمَامًا وَّرَحۡمَۃً ؕ وَہٰذَا کِتٰبٌ مُّصَدِّقٌ لِّسَانًا عَرَبِیًّا لِّیُنۡذِرَ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا ٭ۖ وَبُشۡرٰی لِلۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿ۚ۱۲﴾
حالانکہ اس سے موسیٰ رہنما اور رحمت بن کر آ چکی ہے ۔ اور یہ ( ) تو اس کی تصدیق کرنے والی ہے عربی زبان میں ہے تاکہ بروقت خبردار کر دے ظالموں کو اور خبری ہے نیکوکاروں کے لیے ۔
اِنَّ الَّذِیۡنَ قَالُوۡا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسۡتَقَامُوۡا فَلَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَلَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ ﴿ۚ۱۳﴾
بیشک لوگوں نے کہا ہمارا پروردگار اللہ ہے پھر وہ اس پر رہے ، پس کوئی خوف نہیں انھیں اور نہ وہ غمگین ہوں گے ۔
اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ الۡجَنَّۃِ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ۚ جَزَآءًۢ بِمَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۴﴾
یہی لوگ جنتی ہیں رہیں گے اس میں ، یہ جزا ہے ان نیکیوں کی جو وہ کیا کرتے تھے ۔
وَوَصَّیۡنَا الۡاِنۡسَانَ بِوَالِدَیۡہِ اِحۡسٰنًا ؕ حَمَلَتۡہُ اُمُّہٗ کُرۡہًا وَّوَضَعَتۡہُ کُرۡہًا ؕ وَحَمۡلُہٗ وَفِصٰلُہٗ ثَلٰثُوۡنَ شَہۡرًا ؕ حَتّٰۤی اِذَا بَلَغَ اَشُدَّہٗ وَبَلَغَ اَرۡبَعِیۡنَ سَنَۃً ۙ قَالَ رَبِّ اَوۡزِعۡنِیۡۤ اَنۡ اَشۡکُرَ نِعۡمَتَکَ الَّتِیۡۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَیَّ وَعَلٰی وَالِدَیَّ وَاَنۡ اَعۡمَلَ صَالِحًا تَرۡضٰہُ وَاَصۡلِحۡ لِیۡ فِیۡ ذُرِّیَّتِیۡ ۚ ؕ اِنِّیۡ تُبۡتُ اِلَیۡکَ وَاِنِّیۡ مِنَ الۡمُسۡلِمِیۡنَ ﴿۱۵﴾
اور ہم نے دیا ہے کو کہ اپنے والدین کے ساتھ سلوک کرے ( اپنے شکم میں ) اٹھائے رکھا اس کو اس کی نے بڑی سے اور جنا اس کو بڑی سے ، اور اس کے حمل اور اس کے دودھ چھڑانے تک تیس لگ گئے یہاں تک کہ جب وہ اپنی پوری کو پہنچا اور چالیس برس کا ہو گیا تو اس نے عرض کی اے میرے رب ! مجھے والہانہ عطا فرما کہ میں شکر ادا کرتا رہوں تیری اس کا جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر فرمائی ، اور میں ایسے کروں کو تو فرمائے اور صلاح ( و رشد ) کو میرے لیے میری میں راسخ فرما دے ۔ بیشک میں توبہ کرتا ہوں تیری جناب میں اور میں تیرے کے جھکانے والوں میں سے ہوں ۔
اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ نَتَقَبَّلُ عَنۡہُمۡ اَحۡسَنَ مَاعَمِلُوۡا وَنَتَجَاوَزُ عَنۡ سَیِّاٰتِہِمۡ فِیۡۤ اَصۡحٰبِ الۡجَنَّۃِ ؕ وَعۡدَ الصِّدۡقِ الَّذِیۡ کَانُوۡا یُوۡعَدُوۡنَ ﴿۱۶﴾
یہی وہ ( نصیب ) ہیں کرتے ہیں ہم کے بہترین کو اور درگزر کرتے ہیں ہم کی برائیوں سے ، یہ جنتیوں میں سے ہوں گے ۔ یہ ( اللہ کا ) سچا وعدہ ہے جو ( اہل ایمان سے ) کیا گیا ہے ۔
وَالَّذِیۡ قَالَ لِوَالِدَیۡہِ اُفٍّ لَّکُمَاۤ اَتَعِدٰنِنِیۡۤ اَنۡ اُخۡرَجَ وَقَدۡ خَلَتِ الۡقُرُوۡنُ مِنۡ قَبۡلِیۡ ۚ وَہُمَا یَسۡتَغِیۡثٰنِ اللّٰہَ وَیۡلَکَ اٰمِنۡ ٭ۖ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰہِ حَقٌّ ۚ ۖ فَیَقُوۡلُ مَاہٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیۡرُ الۡاَوَّلِیۡنَ ﴿۱۷﴾
اور جس نے کہا اپنے والدین کو ہے تمہارے حال پر ، کیا تم مجھے دھمکی دیتے ہو اس کی کہ میں ( سے ) نکالا جاؤں گا حالانکہ گزر چکی ہیں کئی صدیاں مجھ سے ( ان میں سے تو کوئی اب تک نہ ) اور اس کے والدین بارگاہ الہی میں کرتے ہیں ( اور اسے کہتے ہیں ) تیرا خانہ ہو ایمان لے آ ۔ یقیناً اللہ کا وعدہ سچا ہے تو وہ ( جواباً ) کہتا ہے نہیں ہیں یہ دھمکیاں مگر لوگوں کی فرسودہ کہانیاں ۔
اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ حَقَّ عَلَیۡہِمُ الۡقَوۡلُ فِیۡۤ اُمَمٍ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ مِّنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ ؕ اِنَّہُمۡ کَانُوۡا خٰسِرِیۡنَ ﴿۱۸﴾
یہی وہ ( بدبخت ) ہیں پر ہو چکا ہے کا فرمان ان گروہوں میں جو ان سے گزر چکے ہیں جنوں اور انسانوں میں سے بیشک وہ سراسر گھاٹے میں تھے ۔
وَلِکُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوۡا ۚ وَلِیُوَفِّیَہُمۡ اَعۡمَالَہُمۡ وَہُمۡ لَا یُظۡلَمُوۡنَ ﴿۱۹﴾
اور ہر ایک کے لیے مرتبے ہوں گے ان کے کے مطابق اور اللہ تعالیٰ پورا پورا دے گا انھیں ان کے کا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا ۔
وَیَوۡمَ یُعۡرَضُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا عَلَی النَّارِ ؕ اَذۡہَبۡتُمۡ طَیِّبٰتِکُمۡ فِیۡ حَیَاتِکُمُ الدُّنۡیَا وَاسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِہَا ۚ فَالۡیَوۡمَ تُجۡزَوۡنَ عَذَابَ الۡہُوۡنِ بِمَا کُنۡتُمۡ تَسۡتَکۡبِرُوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ بِغَیۡرِ الۡحَقِّ وَبِمَا کُنۡتُمۡ تَفۡسُقُوۡنَ ﴿٪۲۰﴾ 2
اور جس روز لا کر کر دیا جائے گا کفار کو کے ( تو انھیں کہا جائے گا ) تم نے کر دیا تھا اپنی نعمتوں کا اپنی دنیوی زندگی میں اور خوب لطف اٹھا لیا تھا تم نے ان سے آج تمہیں رسوائی کا دیا جائے گا بوجہ اس گھمنڈ کے جو تم میں ناحق کیا کرتے تھے اور بوجہ تمہاری نافرمانیوں کے ۔
وَاذۡکُرۡ اَخَا عَادٍ ؕ اِذۡ اَنۡذَرَ قَوۡمَہٗ بِالۡاَحۡقَافِ وَقَدۡ خَلَتِ النُّذُرُ مِنۡۢ بَیۡنِ یَدَیۡہِ وَمِنۡ خَلۡفِہٖۤ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰہَ ؕ اِنِّیۡۤ اَخَافُ عَلَیۡکُمۡ عَذَابَ یَوۡمٍ عَظِیۡمٍ ﴿۲۱﴾
۔( اے حبیب ! ) ذکر سنائیے انھیں قوم عاد کے ( ہود ) کا ۔ جب ڈرایا اس نے اپنی قوم کو احقاف میں اور گزر چکے تھے ڈرانے والے ان سے بھی اور ان کے بعد بھی کہ اللہ تعالیٰ کے بغیر کسی کی نہ کرو ( ورنہ ) مجھے اندیشہ ہے کہ تم پر بڑے کا نہ آ جائے ۔
قَالُوۡۤا اَجِئۡتَنَا لِتَاۡفِکَنَا عَنۡ اٰلِہَتِنَا ۚ فَاۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ کُنۡتَ مِنَ الصّٰدِقِیۡنَ ﴿۲۲﴾
وہ ( برا فروختہ ہو کر ) بولے ( اے ہود ) کیا تم اس لیے ہمارے آئے ہو کہ ہمیں ہمارے خداؤں سے برگشتہ کر دو لے آؤ ( وہ ) جس کی تم ہمیں دھمکیاں دیتے رہے ہو اگر تم سچے ہو ۔
قَالَ اِنَّمَا الۡعِلۡمُ عِنۡدَ اللّٰہِ ۫ ۖوَ اُبَلِّغُکُمۡ مَّاۤ اُرۡسِلۡتُ بِہٖ وَلٰکِنِّیۡۤ اَرٰىکُمۡ قَوۡمًا تَجۡہَلُوۡنَ ﴿۲۳﴾
ہود نے فرمایا کہ نزول کا علم تو اللہ کے ہے اور میں ( ) پہنچا رہا ہوں تمہیں وہ پیغام جو میں دے کر بھیجا گیا ہوں ، لیکن میں تمہیں دیکھتا ہوں کہ تم جاہل قوم ہو ۔
فَلَمَّا رَاَوۡہُ عَارِضًا مُّسۡتَقۡبِلَ اَوۡدِیَتِہِمۡ ۙ قَالُوۡا ہٰذَا عَارِضٌ مُّمۡطِرُنَا ؕ بَلۡ ہُوَ مَااسۡتَعۡجَلۡتُمۡ بِہٖ ؕ رِیۡحٌ فِیۡہَا عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿ۙ۲۴﴾
پس جب انھوں نے دیکھا کو کی میں کہ وہ ان کی وادیوں کی طرف آ رہا ہے تو بولے یہ ہے ہم پر برسنے والا ہے ( نہیں نہیں ! ) بلکہ یہ تو وہ ہے جس کے لیے تم مچا رہے تھے ۔ ( یہ تند ) ہے اس میں دردناک ہے ۔
تُدَمِّرُ کُلَّ شَیۡءٍ ۢ بِاَمۡرِ رَبِّہَا فَاَصۡبَحُوۡا لَا یُرٰۤی اِلَّا مَسٰکِنُہُمۡ ؕ کَذٰلِکَ نَجۡزِی الۡقَوۡمَ الۡمُجۡرِمِیۡنَ ﴿۲۵﴾
تہس نہس کر کے رکھ دے گی ہر چیز کو اپنے رب کے سے ۔ پس جب ان پر صبح ہوئی تو نہ دکھائی دی کوئی چیز بجز ان کے ( ویران ) مکانوں کے ۔ اسی طرح ہم سزا دیتے ہیں مجرموں کو ۔
وَلَقَدۡ مَکَّنّٰہُمۡ فِیۡمَاۤ اِنۡ مَّکَّنّٰکُمۡ فِیۡہِ وَجَعَلۡنَا لَہُمۡ سَمۡعًا وَّاَبۡصَارًا وَّاَفۡئِدَۃً ۫ ۖفَمَاۤ اَغۡنٰی عَنۡہُمۡ سَمۡعُہُمۡ وَلَاۤ اَبۡصَارُہُمۡ وَلَاۤ اَفۡئِدَتُہُمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ اِذۡ کَانُوۡا یَجۡحَدُوۡنَ ۙ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَحَاقَ بِہِمۡ مَّا کَانُوۡا بِہٖ یَسۡتَہۡزِءُوۡنَ ﴿۲۶﴾٪ 3
اور ہم نے ان کو وہ و بخشی تھی جو ہم نے تمہیں نہیں دی اور ہم نے عطا کیے تھے انھیں کان ، آنکھیں اور لیکن ان کے کسی نہ آئے ان کے کان ، نہ ان کی آنکھیں اور نہ ان کے ، کیونکہ وہ کیا کرتے تھے اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا اور احاطہ کر لیا ان کا اس ( ) نے جس کا وہ اڑایا کرتے تھے ۔
وَلَقَدۡ اَہۡلَکۡنَا مَاحَوۡلَکُمۡ مِّنَ الۡقُرٰی وَصَرَّفۡنَا الۡاٰیٰتِ لَعَلَّہُمۡ یَرۡجِعُوۡنَ ﴿۲۷﴾
اور ہم نے کر دیے وہ گاؤں جو تمہارے اردگرد ( ) تھے اور ہم نے انداز میں اپنی نشانیاں کیں شاید وہ ( حق کی طرف ) لوٹ آئیں ۔
فَلَوۡ لَا نَصَرَہُمُ الَّذِیۡنَ اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ قُرۡبَانًا اٰلِـہَۃً ؕ بَلۡ ضَلُّوۡا عَنۡہُمۡ ۚ وَذٰلِکَ اِفۡکُہُمۡ وَمَا کَانُوۡا یَفۡتَرُوۡنَ ﴿۲۸﴾
پس کیوں نہ کی ان کی ان معبودوں نے جنہیں اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر انھوں نے تقرب کے لیے ( اپنے ) خدا بنا رکھا تھا بلکہ وہ تو ان سے روپوش ہو گئے ۔ اور یہ محض ان کا ڈھونگ تھا اور جو وہ باندھتے تھے ۔
وَاِذۡ صَرَفۡنَاۤ اِلَیۡکَ نَفَرًا مِّنَ الۡجِنِّ یَسۡتَمِعُوۡنَ الۡقُرۡاٰنَ ۚ فَلَمَّا حَضَرُوۡہُ قَالُوۡۤا اَنۡصِتُوۡا ۚ فَلَمَّا قُضِیَ وَلَّوۡا اِلٰی قَوۡمِہِمۡ مُّنۡذِرِیۡنَ ﴿۲۹﴾
اور جس ہم نے متوجہ کیا آپ کی طرف جنات کی ایک کو کہ وہ سنیں تو جب آپ کی خدمت میں پہنچے تو بولے خاموش ہو کر سنو ۔ پھر جب تلاوت ہو چکی تو لوٹے اپنی قوم کی طرف ڈر سناتے ہوئے ۔
قَالُوۡا یٰقَوۡمَنَاۤ اِنَّا سَمِعۡنَا کِتٰبًا اُنۡزِلَ مِنۡۢ بَعۡدِ مُوۡسٰی مُصَدِّقًا لِّمَا بَیۡنَ یَدَیۡہِ یَہۡدِیۡۤ اِلَی الۡحَقِّ وَاِلٰی طَرِیۡقٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ﴿۳۰﴾
انھوں نے ( جا کر ) کہا اے ہماری قوم ! ہم نے ( آج ) ایک سنی ہے جو اتاری گئی ہے موسیٰ ( علیہ السلام ) کے بعد ، تصدیق کرنے والی ہے پہلی کتابوں کی ، رہنمائی کرتی ہے حق کی طرف اور راہ راست کی طرف ۔
یٰقَوۡمَنَاۤ اَجِیۡبُوۡا دَاعِیَ اللّٰہِ وَاٰمِنُوۡا بِہٖ یَغۡفِرۡ لَکُمۡ مِّنۡ ذُنُوۡبِکُمۡ وَیُجِرۡکُمۡ مِّنۡ عَذَابٍ اَلِیۡمٍ ﴿۳۱﴾
اے ہماری قوم ! کر لو اللہ کی طرف بلانے والے کی دعوت کو اور اس پر ایمان لے آؤ ۔ بخش دے گا تمہارے لیے تمہارے گناہوں کو اور بچا لے گا تمہیں دردناک سے ۔
وَمَنۡ لَّا یُجِبۡ دَاعِیَ اللّٰہِ فَلَیۡسَ بِمُعۡجِزٍ فِی الۡاَرۡضِ وَلَیۡسَ لَہٗ مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اَوۡلِیَآءُ ؕ اُولٰٓئِکَ فِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۳۲﴾
اور جو نہیں کرتا اللہ کی طرف بلانے والے کی دعوت کو تو وہ اللہ کو کرنے والا نہیں میں ( کہ اس سے کر بھاگ نکلے ) اور نہیں اس کے لیے اللہ کے سوا کوئی ۔ یہ ( منکر لوگ ) کھلی گمراہی میں ہیں ۔
اَوَ لَمۡ یَرَوۡا اَنَّ اللّٰہَ الَّذِیۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ وَلَمۡ یَعۡیَ بِخَلۡقِہِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰۤی اَنۡ یُّحۡیِۦَ الۡمَوۡتٰی ؕ بَلٰۤی اِنَّہٗ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۳۳﴾
کیا انھوں نے نہ جانا کہ وہ اللہ جس نے آسمانوں اور کو کیا اور ذرا تھکن محسوس نہ کی ان کے بنانے میں ، وہ ضرور اس پر قادر ہے کہ مردوں کو کر دے بلکہ وہ تو ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے ۔
وَیَوۡمَ یُعۡرَضُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا عَلَی النَّارِ ؕ اَلَیۡسَ ہٰذَا بِالۡحَقِّ ؕ قَالُوۡا بَلٰی وَرَبِّنَا ؕ قَالَ فَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ بِمَا کُنۡتُمۡ تَکۡفُرُوۡنَ ﴿۳۴﴾
اور جس روز کفار کے لائے جائیں گے ( ان سے کہا جائے گا ) کیا یہ حق نہیں ۔ کہیں گے ہمارے رب کی یہ حق ہے اللہ فرمائے گا اب چکھو کا مزہ اس کفر کے باعث جو تم کیا کرتے تھے ۔
فَاصۡبِرۡ کَمَا صَبَرَ اُولُوا الۡعَزۡمِ مِنَ الرُّسُلِ وَلَا تَسۡتَعۡجِلۡ لَّہُمۡ ؕ کَاَنَّہُمۡ یَوۡمَ یَرَوۡنَ مَایُوۡعَدُوۡنَ ۙ لَمۡ یَلۡبَثُوۡۤا اِلَّا سَاعَۃً مِّنۡ نَّہَارٍ ؕ بَلٰغٌ ۚ فَہَلۡ یُہۡلَکُ اِلَّا الۡقَوۡمُ الۡفٰسِقُوۡنَ ﴿٪۳۵﴾ ٙ 4
پس ( اے محبوب ! ) آپ کیجیے جس طرح اولوالعزم رسولوں نے کیا تھا اور ان کے لیے ( بد کرنے میں ) نہ کیجیے ۔ جس روز وہ اس کو دیکھیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے تو خیال کریں گے کہ وہ نہیں ٹھہرے تھے میں مگر کی فقط ایک ۔ یہ پیغام حق ہے ، پس کیا نافرمانوں کے علاوہ بھی کسی کو کیا جائے گا ۔