وَالذّٰرِیٰتِ ذَرۡوًا ۙ﴿۱﴾
قسم ہے ان ہواؤں کی جو اڑا کر بکھیرنے والیاں ہیں ۔
The Winnowing Winds
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ ﴿١﴾
In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
وَالذّٰرِیٰتِ ذَرۡوًا ۙ﴿۱﴾
قسم ہے ان ہواؤں کی جو اڑا کر بکھیرنے والیاں ہیں ۔
فَالۡحٰمِلٰتِ وِقۡرًا ۙ﴿۲﴾
پھر ان بادلوں کی جو ( کا ) اٹھانے والے ہیں ۔
فَالۡجٰرِیٰتِ یُسۡرًا ۙ﴿۳﴾
پھر کشتیوں کی جو چلنے والیاں ہیں ۔
فَالۡمُقَسِّمٰتِ اَمۡرًا ۙ﴿۴﴾
پھر فرشتوں کی جو ( الہٰی ) سے بانٹنے والے ہیں ۔
اِنَّمَا تُوۡعَدُوۡنَ لَصَادِقٌ ۙ﴿۵﴾
بیشک جو وعدہ تم سے کیا گیا ہے وہ سچا ہے ۔
وَّاِنَّ الدِّیۡنَ لَوَاقِعٌ ؕ﴿۶﴾
اور یقیناً جزا و سزا کا ضرور آئے گا ۔
وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الۡحُبُکِ ۙ﴿۷﴾
قسم ہے کی جس میں راستے ہیں ۔
اِنَّکُمۡ لَفِیۡ قَوۡلٍ مُّخۡتَلِفٍ ۙ﴿۸﴾
بیشک تم ( بے ربط ) باتوں میں پڑے ہو ۔
یُّؤۡفَکُ عَنۡہُ مَنۡ اُفِکَ ﴿ؕ۹﴾
منہ پھیرے ہے اس ( ) سے جس کا ازل سے ہی پھیر دیا گیا ہے ۔
قُتِلَ الۡخَرّٰصُوۡنَ ﴿ۙ۱۰﴾
ستیاناس ہو اٹکل پچو باتیں بنانے والوں کا ۔
الَّذِیۡنَ ہُمۡ فِیۡ غَمۡرَۃٍ سَاہُوۡنَ ﴿ۙ۱۱﴾
جو غفلت ( کے نشہ ) میں بے سدھ پڑے ہیں ۔
یَسۡئَلُوۡنَ اَیَّانَ یَوۡمُ الدِّیۡنِ ﴿ؕ۱۲﴾
وہ پوچھتے ہیں روز جزا کب آئے گا ۔
یَوۡمَ ہُمۡ عَلَی النَّارِ یُفۡتَنُوۡنَ ﴿۱۳﴾
یہ اس ہو گا جب وہ پر تپائے جائیں گے ۔
ذُوۡقُوۡا فِتۡنَتَکُمۡ ؕ ہٰذَا الَّذِیۡ کُنۡتُمۡ بِہٖ تَسۡتَعۡجِلُوۡنَ ﴿۱۴﴾
اپنی سزا کا مزہ چکھو یہی ہے وہ جس کے لیے تم مچا رہے تھے ۔
اِنَّ الۡمُتَّقِیۡنَ فِیۡ جَنّٰتٍ وَّعُیُوۡنٍ ﴿ۙ۱۵﴾
البتہ اللہ سے ڈرنے والے ( اس روز ) باغات اور چشموں میں ہوں گے ۔
اٰخِذِیۡنَ مَاۤ اٰتٰہُمۡ رَبُّہُمۡ ؕ اِنَّہُمۡ کَانُوۡا قَبۡلَ ذٰلِکَ مُحۡسِنِیۡنَ ﴿ؕ۱۶﴾
۔( بصد شکر ) لے رہے ہوں گے جو ان کا رب انھیں بخشے گا بیشک یہ لوگ اس سے بھی نیکوکار تھے ۔
کَانُوۡا قَلِیۡلًا مِّنَ الَّیۡلِ مَایَہۡجَعُوۡنَ ﴿۱۷﴾
یہ لوگ کو بہت سویا کرتے تھے ۔
وَبِالۡاَسۡحَارِ ہُمۡ یَسۡتَغۡفِرُوۡنَ ﴿۱۸﴾
اور سحری کے ( اپنی خطاؤں کی ) بخشش طلب کرتے تھے ۔
وَفِیۡۤ اَمۡوَالِہِمۡ حَقٌّ لِّلسَّآئِلِ وَالۡمَحۡرُوۡمِ ﴿۱۹﴾
اور ان کے اموال میں حق تھا سائل کے لیے اور محروم کے لیے ۔
وَفِی الۡاَرۡضِ اٰیٰتٌ لِّلۡمُوۡقِنِیۡنَ ﴿ۙ۲۰﴾
اور میں ہماری قدرت کی نشانیاں ہیں اہل کے لیے ۔
وَفِیۡۤ اَنۡفُسِکُمۡ ؕ اَفَلَا تُبۡصِرُوۡنَ ﴿۲۱﴾
اور تمہارے وجود میں بھی ( نشانیاں ہیں ) کیا تمہیں نظر نہیں آتیں ۔
وَفِی السَّمَآءِ رِزۡقُکُمۡ وَمَا تُوۡعَدُوۡنَ ﴿۲۲﴾
اور میں ہے تمہارا رزق اور ہر وہ چیز جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے ۔
فَوَ رَبِّ السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ اِنَّہٗ لَحَقٌّ مِّثۡلَ مَاۤ اَنَّکُمۡ تَنۡطِقُوۡنَ ﴿۲۳﴾٪ 18
پس ہے اور کے رب کی ، یہ حق ہے ( بعینہ اسی طرح ) جس طرح تم باتیں کر رہے ہو ۔
ہَلۡ اَتٰىکَ حَدِیۡثُ ضَیۡفِ اِبۡرٰہِیۡمَ الۡمُکۡرَمِیۡنَ ﴿ۘ۲۴﴾
۔( اے حبیب ! ) کیا پہنچی ہے آپ کو ابراہیم ( علیہ السلام ) کے معزز مہمانوں کی ۔
اِذۡ دَخَلُوۡا عَلَیۡہِ فَقَالُوۡا سَلٰمًا ؕ قَالَ سَلٰمٌ ۚ قَوۡمٌ مُّنۡکَرُوۡنَ ﴿ۚ۲۵﴾
جب وہ آپ کے آئے تو انھوں نے سلام عرض کیا ۔ آپ نے فرمایا تم پر بھی سلام ہو ( ہی میں سوچا ) بالکل انجان لوگ ہیں ۔
فَرَاغَ اِلٰۤی اَہۡلِہٖ فَجَآءَ بِعِجۡلٍ سَمِیۡنٍ ﴿ۙ۲۶﴾
پس چپکے سے اپنے اہل خانہ کی طرف گئے اور ایک ( بھنا ) موٹا بچھڑا لے آئے ۔
فَقَرَّبَہٗۤ اِلَیۡہِمۡ قَالَ اَلَا تَاۡکُلُوۡنَ ﴿۫۲۷﴾
لا کر ان کے قریب رکھ دیا ، فرمایا کھاتے کیوں نہیں ۔
فَاَوۡجَسَ مِنۡہُمۡ خِیۡفَۃً ؕ قَالُوۡا لَا تَخَفۡ ؕ وَبَشَّرُوۡہُ بِغُلٰمٍ عَلِیۡمٍ ﴿۲۸﴾
پس ہی میں ان سے خوف کرنے لگے ۔ وہ بولے ڈریے نہیں اور انھوں نے بشارت دی آپ کو ایک صاحب علم بیٹے کی ۔
فَاَقۡبَلَتِ امۡرَاَتُہٗ فِیۡ صَرَّۃٍ فَصَکَّتۡ وَجۡہَہَا وَقَالَتۡ عَجُوۡزٌ عَقِیۡمٌ ﴿۲۹﴾
پس آئی آپ کی چیں بجیں ہو کر اور ( فرط حیرت سے ) طمانچہ دے مارا اپنے چہرہ پر اور بولی ( میں ) بوڑھی ( میں ) ( کیا میرے ہاں بچہ ہو گا ! ) ۔
قَالُوۡا کَذٰلِکِ ۙ قَالَ رَبُّکِ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ الۡحَکِیۡمُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۳۰﴾
انھوں نے کہا ایسا ہی تیرے رب نے فرمایا ہے ۔ بیشک وہی بڑا دانا سب کچھ جاننے والا ہے ۔
قَالَ فَمَا خَطۡبُکُمۡ اَیُّہَا الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴿۳۱﴾
آپ نے پوچھا تمہارے آنے کا کیا مقصد ہے اے فرشتو ! ۔
قَالُوۡۤا اِنَّاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰی قَوۡمٍ مُّجۡرِمِیۡنَ ﴿ۙ۳۲﴾
وہ بولے ہم بھیجے گئے ہیں ایک قوم کی طرف جو جرائم پیشہ ہے ۔
لِنُرۡسِلَ عَلَیۡہِمۡ حِجَارَۃً مِّنۡ طِیۡنٍ ﴿ۙ۳۳﴾
تاکہ ہم برسائیں ان پر گارے کے بنے ہوئے ( کھنگر )
مُّسَوَّمَۃً عِنۡدَ رَبِّکَ لِلۡمُسۡرِفِیۡنَ ﴿۳۴﴾
جن پر لگے ہیں آپ کے رب کی طرف سے سے بڑھنے والوں کے لیے ۔
فَاَخۡرَجۡنَا مَنۡ کَانَ فِیۡہَا مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿ۚ۳۵﴾
۔( نزول سے ) ہم نے نکال لیا وہاں کے تمام ایمانداروں کو ۔
فَمَا وَجَدۡنَا فِیۡہَا غَیۡرَ بَیۡتٍ مِّنَ الۡمُسۡلِمِیۡنَ ﴿ۚ۳۶﴾
پس نہ پایا ہم نے اس ( ساری ) میں بجز ایک مسلم کے ۔
وَتَرَکۡنَا فِیۡہَاۤ اٰیَۃً لِّلَّذِیۡنَ یَخَافُوۡنَ الۡعَذَابَ الۡاَلِیۡمَ ﴿ؕ۳۷﴾
اور ہم نے رہنے دی وہاں ایک ان لوگوں ( کی عبرت پذیری ) کے لیے جو دردناک سے ڈرتے ہیں ۔
وَفِیۡ مُوۡسٰۤی اِذۡ اَرۡسَلۡنٰہُ اِلٰی فِرۡعَوۡنَ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۳۸﴾
اور ( داستان ) موسیٰ میں بھی ہے جب ہم نے انھیں بھیجا فرعون کی طرف ایک روشن دے کر ۔
فَتَوَلّٰی بِرُکۡنِہٖ وَقَالَ سٰحِرٌ اَوۡ مَجۡنُوۡنٌ ﴿۳۹﴾
پس اس نے روگردانی کی اپنی کے بل بوتے پر اور کہنے لگا یہ شخص جادوگر ہے یا ۔
فَاَخَذۡنٰہُ وَجُنُوۡدَہٗ فَنَبَذۡنٰہُمۡ فِی الۡیَمِّ وَہُوَ مُلِیۡمٌ ﴿ؕ۴۰﴾
تو ہم نے اس کو اس کے سمیت پکڑا اور انھیں سمندر میں پھینک دیا اور وہ قابل ملامت بن گیا ۔
وَفِیۡ عَادٍ اِذۡ اَرۡسَلۡنَا عَلَیۡہِمُ الرِّیۡحَ الۡعَقِیۡمَ ﴿ۚ۴۱﴾
اور ( قصہ ) عاد میں بھی عبرت ہے جب ہم نے ان پر آندھی بھیجی جو خیر و برکت سے خالی تھی ۔
مَاتَذَرُ مِنۡ شَیۡءٍ اَتَتۡ عَلَیۡہِ اِلَّا جَعَلَتۡہُ کَالرَّمِیۡمِ ﴿ؕ۴۲﴾
نہیں چھوڑتی تھی کسی چیز کو جس پر گزرتی مگر اس کو ریزہ کر دیتی ۔
وَفِیۡ ثَمُوۡدَ اِذۡ قِیۡلَ لَہُمۡ تَمَتَّعُوۡا حَتّٰی حِیۡنٍ ﴿۴۳﴾
اور ( واقعہ ) ثمود میں بھی ہے جب انھیں کہہ دیا گیا کہ لطف اٹھا لو ایک تک ۔
فَعَتَوۡا عَنۡ اَمۡرِ رَبِّہِمۡ فَاَخَذَتۡہُمُ الصّٰعِقَۃُ وَہُمۡ یَنۡظُرُوۡنَ ﴿۴۴﴾
پس انھوں نے کی اپنے رب کے سے تو پکڑ لیا انھیں ایک خوفناک کڑک نے دراں حال کہ وہ دیکھ رہے تھے ۔
فَمَا اسۡتَطَاعُوۡا مِنۡ قِیَامٍ وَّمَا کَانُوۡا مُنۡتَصِرِیۡنَ ﴿ۙ۴۵﴾
پھر ان میں نہ اٹھنے کی رہی اور نہ وہ ( ہم سے ) انتقام لے سکے ۔
وَقَوۡمَ نُوۡحٍ مِّنۡ قَبۡلُ ؕ اِنَّہُمۡ کَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِیۡنَ ﴿۴۶﴾٪ 1
اور قوم نوح کا اس سے ( یہی حشر ) بیشک وہ لوگ بھی ( پرلے درجے کے ) نافرمان تھے ۔
وَالسَّمَآءَ بَنَیۡنٰہَا بِاَیۡىدٍ وَّاِنَّا لَمُوۡسِعُوۡنَ ﴿۴۷﴾
اور ہم نے کو ( قدرت کے ) ہاتھوں سے بنایا اور ہم نے ہی اس کو وسیع کر دیا ۔
وَالۡاَرۡضَ فَرَشۡنٰہَا فَنِعۡمَ الۡمٰہِدُوۡنَ ﴿۴۸﴾
اور کا ہم نے فرش بچھا دیا ، پس ہم کتنے اچھے ( فرش ) بچھانے والے ہیں ۔
وَمِنۡ کُلِّ شَیۡءٍ خَلَقۡنَا زَوۡجَیۡنِ لَعَلَّکُمۡ تَذَکَّرُوۡنَ ﴿۴۹﴾
اور ہم نے ہر چیز کے جوڑے بنائے تاکہ تم و فکر کرو ۔
فَفِرُّوۡۤا اِلَی اللّٰہِ ؕ اِنِّیۡ لَکُمۡ مِّنۡہُ نَذِیۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿ۚ۵۰﴾
پر دوڑو اللہ کی طرف ( اور اس کی لے لو ) بیشک میں تمہیں اس ( کے غضب ) سے کھلا ڈرانے والا ہوں ۔
وَلَا تَجۡعَلُوۡا مَعَ اللّٰہِ اِلٰـہًا اٰخَرَ ؕ اِنِّیۡ لَکُمۡ مِّنۡہُ نَذِیۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿ۚ۵۱﴾
اور نہ بناؤ اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود بیشک میں تمہیں اس ( کے غضب ) سے کھلا ڈرانے والا ہوں ۔
کَذٰلِکَ مَاۤ اَتَی الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ مِّنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا قَالُوۡا سَاحِرٌ اَوۡ مَجۡنُوۡنٌ ﴿ۚ۵۲﴾
اسی طرح نہیں آیا ان سے لوگوں کے کوئی رسول مگر انھوں نے یہی کہا کہ یہ ساحر ہے یا ۔
اَتَوَاصَوۡا بِہٖ ۚ بَلۡ ہُمۡ قَوۡمٌ طَاغُوۡنَ ﴿ۚ۵۳﴾
کیا پہلوں نے پچھلوں کو یہی وصیت کی تھی ( نہیں ) بلکہ یہ لوگ سرکش ہیں ۔
فَتَوَلَّ عَنۡہُمۡ فَمَاۤ اَنۡتَ بِمَلُوۡمٍ ﴿٭۫۵۴﴾
پس آپ ان سے انور پھیر لیجئے آپ پر کوئی الزام نہیں ۔
وَّذَکِّرۡ فَاِنَّ الذِّکۡرٰی تَنۡفَعُ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۵۵﴾
اور آپ سمجھاتے رہیے یقیناً سمجھانا اہل ایمان کے لیے بخش ہے ۔
وَمَا خَلَقۡتُ الۡجِنَّ وَالۡاِنۡسَ اِلَّا لِیَعۡبُدُوۡنِ ﴿۵۶﴾
اور نہیں فرمایا میں نے و انس کو مگر اس لیے کہ وہ میری کریں ۔
مَاۤ اُرِیۡدُ مِنۡہُمۡ مِّنۡ رِّزۡقٍ وَّمَاۤ اُرِیۡدُ اَنۡ یُّطۡعِمُوۡنِ ﴿۵۷﴾
نہ طلب کرتا ہوں میں ان سے رزق اور نہ یہ طلب کرتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں ۔
اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الۡقُوَّۃِ الۡمَتِیۡنُ ﴿۵۸﴾
بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہی ( سب کو ) روزی دینے والا ، والا ( اور ) زور والا ہے ۔
فَاِنَّ لِلَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا ذَنُوۡبًا مِّثۡلَ ذَنُوۡبِ اَصۡحٰبِہِمۡ فَلَا یَسۡتَعۡجِلُوۡنِ ﴿۵۹﴾
پس ان ظالموں کے لیے کا ویسا ہی ہے جیسا ان کے ہم مشربوں کو ملا تھا ، پس یہ جلد بازی نہ کریں ۔
فَوَیۡلٌ لِّلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ یَّوۡمِہِمُ الَّذِیۡ یُوۡعَدُوۡنَ ﴿٪۶۰﴾ 2
پس تباہی ہے ان کے لیے جنہوں نے کفر کیا اس سے جس کا ( ان سے ) وعدہ کیا گیا ہے ۔