اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا اِلٰی قَوۡمِہٖۤ اَنۡ اَنۡذِرۡ قَوۡمَکَ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ یَّاۡتِیَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۱﴾
بیشک ہم نے بھیجا نوح کو ان کی قوم کی طرف ( اور فرمایا اے نوح ! ) بروقت خبردار کرو اپنی قوم کو اس سے کہ نازل ہو جائے ان پر الیم ۔
Noah
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ ﴿١﴾
In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا اِلٰی قَوۡمِہٖۤ اَنۡ اَنۡذِرۡ قَوۡمَکَ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ یَّاۡتِیَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۱﴾
بیشک ہم نے بھیجا نوح کو ان کی قوم کی طرف ( اور فرمایا اے نوح ! ) بروقت خبردار کرو اپنی قوم کو اس سے کہ نازل ہو جائے ان پر الیم ۔
قَالَ یٰقَوۡمِ اِنِّیۡ لَکُمۡ نَذِیۡرٌ مُّبِیۡنٌ ۙ﴿۲﴾
آپ نے فرمایا اے میری قوم ! میں تمہیں صریح طور پر ڈرانے والا ہوں ۔
اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰہَ وَاتَّقُوۡہُ وَاَطِیۡعُوۡنِ ۙ﴿۳﴾
کہ کرو اللہ تعالیٰ کی اور اس سے ڈرو اور میری پیروی کرو ۔
یَغۡفِرۡ لَکُمۡ مِّنۡ ذُنُوۡبِکُمۡ وَیُؤَخِّرۡکُمۡ اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی ؕ اِنَّ اَجَلَ اللّٰہِ اِذَا جَآءَ لَا یُؤَخَّرُ ۘ لَوۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۴﴾
وہ بخش دے گا تمہارے لیے تمہارے اور دے گا تمہیں ایک مقررہ میعاد تک ۔ بلاشبہ اللہ کا مقررہ جب آ جاتا ہے تو اسے موخر نہیں کیا جا سکتا کاش ! تم ( حقیقت کو ) جان لیتے ۔
قَالَ رَبِّ اِنِّیۡ دَعَوۡتُ قَوۡمِیۡ لَیۡلًا وَّنَہَارًا ۙ﴿۵﴾
نوح نے عرض کی اے میرے رب ! میں نے دعوت دی اپنی قوم کو کے اور کے ۔
فَلَمۡ یَزِدۡہُمۡ دُعَآءِیۡۤ اِلَّا فِرَارًا ﴿۶﴾
لیکن میری دعوت کے باعث ان کے فرار ( و نفرت ) میں ہی اضافہ ۔
وَاِنِّیۡ کُلَّمَا دَعَوۡتُہُمۡ لِتَغۡفِرَ لَہُمۡ جَعَلُوۡۤا اَصَابِعَہُمۡ فِیۡۤ اٰذَانِہِمۡ وَاسۡتَغۡشَوۡا ثِیَابَہُمۡ وَاَصَرُّوۡا وَاسۡتَکۡبَرُوا اسۡتِکۡبَارًا ۚ﴿۷﴾
اور جب بھی میں نے انھیں بلایا تاکہ تو ان کو بخش دے ( تو ہر بار ) انھوں نے اپنی اپنے کانوں میں ٹھونس لیں اور اپنے اوپر لپیٹ لیے اپنے کپڑے اور اڑ گئے ( کفر پر ) اور پرلے درجہ کے متکبر بن گئے ۔
ثُمَّ اِنِّیۡ دَعَوۡتُہُمۡ جِہَارًا ۙ﴿۸﴾
پھر ( بھی ) میں نے ان کو سے دعوت دی ۔
ثُمَّ اِنِّیۡۤ اَعۡلَنۡتُ لَہُمۡ وَاَسۡرَرۡتُ لَہُمۡ اِسۡرَارًا ۙ﴿۹﴾
پھر انھیں کھلے بندوں بھی سمجھایا اور چپکے چپکے بھی انھیں ( تلقین ) کی ۔
فَقُلۡتُ اسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّکُمۡ ؕ اِنَّہٗ کَانَ غَفَّارًا ﴿ۙ۱۰﴾
پس میں نے کہا ( ابھی ہے ) معافی مانگ لو اپنے رب سے ۔ بیشک وہ بہت بخشنے والا ہے ۔
یُّرۡسِلِ السَّمَآءَ عَلَیۡکُمۡ مِّدۡرَارًا ﴿ۙ۱۱﴾
وہ برسائے گا سے تم پر موسلا دھار ،
وَّیُمۡدِدۡکُمۡ بِاَمۡوَالٍ وَّبَنِیۡنَ وَیَجۡعَلۡ لَّکُمۡ جَنّٰتٍ وَّیَجۡعَلۡ لَّکُمۡ اَنۡہٰرًا ﴿ؕ۱۲﴾
اور فرمائے گا تمہاری اموال اور فرزندوں سے اور بنا دے گا تمہارے لیے باغات اور بنا دے گا تمہارے لیے نہریں ۔
مَالَکُمۡ لَا تَرۡجُوۡنَ لِلّٰہِ وَقَارًا ﴿ۚ۱۳﴾
تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم پروا نہیں کرتے اللہ کی عظمت و جلال کی ۔
وَقَدۡ خَلَقَکُمۡ اَطۡوَارًا ﴿۱۴﴾
حالانکہ اس نے تمہیں کئی مرحلوں سے گزار کر کیا ہے ۔
اَلَمۡ تَرَوۡا کَیۡفَ خَلَقَ اللّٰہُ سَبۡعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا ﴿ۙ۱۵﴾
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے کیسے کیا ہے سات آسمانوں کو بہ ۔
وَّجَعَلَ الۡقَمَرَ فِیۡہِنَّ نُوۡرًا وَّجَعَلَ الشَّمۡسَ سِرَاجًا ﴿۱۶﴾
اور بنایا ہے کو ان میں اور بنایا ہے سورج کو ( درخشاں ) ۔
وَاللّٰہُ اَنۡۢبَتَکُمۡ مِّنَ الۡاَرۡضِ نَبَاتًا ﴿ۙ۱۷﴾
اور اللہ نے تم کو سے عجب طرح اگایا ہے ۔
ثُمَّ یُعِیۡدُکُمۡ فِیۡہَا وَیُخۡرِجُکُمۡ اِخۡرَاجًا ﴿۱۸﴾
پھر لوٹا دے گا تمہیں اس میں اور ( اسی سے ) تمہیں دوبارہ نکالے گا ۔
وَاللّٰہُ جَعَلَ لَکُمُ الۡاَرۡضَ بِسَاطًا ﴿ۙ۱۹﴾
اور اللہ نے ہی کو تمہارے لیے فرش کی طرح بچھا دیا ہے ۔
لِّتَسۡلُکُوۡا مِنۡہَا سُبُلًا فِجَاجًا ﴿۲۰﴾٪ 9
تاکہ تم اس کے کھلے راستوں میں چلو ۔
قَالَ نُوۡحٌ رَّبِّ اِنَّہُمۡ عَصَوۡنِیۡ وَاتَّبَعُوۡا مَنۡ لَّمۡ یَزِدۡہُ مَالُہٗ وَوَلَدُہٗۤ اِلَّا خَسَارًا ﴿ۚ۲۱﴾
نوح نے عرض کی اے میرے پروردگار ! انہوں نے میری کی اور اس کی پیروی کرتے رہے جس کو نہ بڑھایا اس کے اور نے بجز خسارہ کے ۔
وَمَکَرُوۡا مَکۡرًا کُبَّارًا ﴿ۚ۲۲﴾
اور انھوں نے بڑے بڑے مکر و فریب کیے ۔
وَقَالُوۡا لَا تَذَرُنَّ اٰلِہَتَکُمۡ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّلَا سُوَاعًا ۬ ۙ وَّلَا یَغُوۡثَ وَیَعُوۡقَ وَنَسۡرًا ﴿ۚ۲۳﴾
اور رئیسوں نے کہا ( اے لوگو ! نوح کے کہنے پر ) ہرگز نہ اپنے خداؤں کو اور ( خاص طور پر ) ود اور سواع کو مت اور نہ یغوث ، یعوق اور نسر کو ۔
وَقَدۡ اَضَلُّوۡا کَثِیۡرًا ۬ ۚ وَلَا تَزِدِ الظّٰلِمِیۡنَ اِلَّا ضَلٰلًا ﴿۲۴﴾
اور انھوں نے گمراہ کر دیا بہت سے لوگوں کو ۔ ( الہی ! ) تو بھی ان کی گمراہی میں اضافہ کر دے ۔
مِمَّا خَطِیۡٓـئٰتِہِمۡ اُغۡرِقُوۡا فَاُدۡخِلُوۡا نَارًا ۬ ۙ فَلَمۡ یَجِدُوۡا لَہُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ اَنۡصَارًا ﴿۲۵﴾
اپنی خطاؤں کے باعث انھیں غرق کر دیا گیا پھر انھیں میں ڈال دیا گیا پھر انھوں نے نہ پایا اپنے لیے اللہ کے سوا کوئی ۔
وَقَالَ نُوۡحٌ رَّبِّ لَا تَذَرۡ عَلَی الۡاَرۡضِ مِنَ الۡکٰفِرِیۡنَ دَیَّارًا ﴿۲۶﴾
اور نوح نے عرض کی اے میرے رب ! نہ چھوڑ روئے پر کافروں میں سے کسی کو بستا ۔
اِنَّکَ اِنۡ تَذَرۡہُمۡ یُضِلُّوۡا عِبَادَکَ وَلَا یَلِدُوۡۤا اِلَّا فَاجِرًا کَفَّارًا ﴿۲۷﴾
اگر تو نے ان میں سے کسی کو چھوڑ دیا تو وہ گمراہ کر دیں گے تیرے بندوں کو اور نہ جنیں گے مگر ایسی جو بڑی بدکار ، ناشکر گزار ہو گی ۔
رَبِّ اغۡفِرۡ لِیۡ وَلِوَالِدَیَّ وَلِمَنۡ دَخَلَ بَیۡتِیَ مُؤۡمِنًا وَّلِلۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتِ ؕ وَلَا تَزِدِ الظّٰلِمِیۡنَ اِلَّا تَبَارًا ﴿۲۸﴾٪ ؒ 10
میرے رب ! بخش دے مجھے اور میرے والدین کو اور اسے بھی جو میرے میں ایمان کے ساتھ اور بخش دے سب مومن مردوں اور عورتوں کو اور کفار کی کسی چیز میں اضافہ نہ کر بجز و بربادی کے ۔